Surat ul Hujraat

Surah: 49

Verse: 4

سورة الحجرات

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُنَادُوۡنَکَ مِنۡ وَّرَآءِ الۡحُجُرٰتِ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۴﴾

Indeed, those who call you, [O Muhammad], from behind the chambers - most of them do not use reason.

جو لوگ آپ کو حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان میں سےاکثر ( بالکل ) بے عقل ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Admonishing Those Who call the Prophet from behind Dwellings Allah says, إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَاء الْحُجُرَاتِ ... Verily, those who call you from behind the dwellings, Allah the Exalted and Most Blessed admonished those, such as the uncivilized Bedouins, who used to call to the Prophet from behind the dwellings which belong to his wives, ... أَكْثَرُهُمْ لاَ يَعْقِلُونَ most of them have no sense. Allah the Exalted and Most Honored then ordains the better behavior in this regard,

آداب خطاب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت بیان کرتا ہے جو آپ کے مکانوں کے پیچھے سے آپ کو آوازیں دیتے اور پکارتے ہیں جس طرح اعراب میں دستور تھا تو فرمایا کہ ان میں سے اکثر بےعقل ہیں پھر اس کی بابت ادب سکھاتے ہوئے فرماتا ہے کہ چاہیے تھا کہ آپ کے انتظار میں ٹھہر جاتے اور جب آپ مکان سے باہر نکلتے تو آپ سے جو کہنا ہوتا کہتے ۔ نہ کہ آوازیں دے کر باہر سے پکارتے ۔ دنیا اور دین کی مصلحت اور بہتری اسی میں تھی پھر حکم دیتا ہے کہ ایسے لوگوں کو توبہ استغفار کرنا چاہیے کیونکہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ یہ آیت حضرت اقرع بن حابس تمیمی کے بارے میں نازل ہوئی ہے مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آپ کا نام لے کر پکارا یا محمد ! یا محمد! آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا تو اس نے کہا سنئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا تعریف کرنا بڑائی کا سبب ہے اور میرا مذمت کرنا ذلت کا سبب ہے آپ نے فرمایا ایسی ذات محض اللہ تعالیٰ کی ہی ہے ۔ بشر بن غالب نے حجاج کے سامنے بشر بن عطارد وغیرہ سے کہا کہ تیری قوم بنو تمیم کے بارے میں یہ آیت اتری ہے ۔ جب حضرت سعید بن جبیر سے اس کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا اگر وہ عالم ہوتے تو اس کے بعد کی آیت ( يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا ۭ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَيَّ اِسْلَامَكُمْ ۚ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 17؀ ) 49- الحجرات:17 ) پڑھ دیتے وہ کہتے کہ ہم اسلام لائے اور بنو اسد نے آپ کو تسلیم کرنے میں کچھ دیر نہیں کی حضرت زید بن ارقم فرماتے ہیں کہ کچھ عرب جمع ہوئے اور کہنے لگے ہمیں اس شخص کے پاس لے چلو اگر وہ سچا نبی ہے تو سب سے زیادہ اس سے سعادت حاصل کرنے کے مستحق ہم ہیں اور اگر وہ بادشاہ ہے تو ہم اس کے پروں تلے پل جائیں گے میں نے آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا پھر وہ لوگ آئے اور حجرے کے پیچھے سے آپ کا نام لے کر آپ کو پکارنے لگے اس پر یہ آیت اتری حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کان پکڑ کر فرمایا اللہ تعالیٰ نے تیری بات سچی کر دی اللہ تعالیٰ نے تیری بات سچی کر دی ، ( ابن جریر )

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

4۔ 1 یہ آیت قبیلہ بنو تمیم کے بعض اعرابیوں (گنوار قسم کے لوگوں) کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے ایک روز دوپہر کے وقت، جو کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قیلولے کا وقت تھا، حجرے سے باہر کھڑے ہو کر عامیانہ انداز میں یا محمد یا محمد کی آوازیں لگائیں تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر تشریف لے آئیں (مسند احمد 84۔ 318) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کی اکثریت بےعقل ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اداب و احترام کے تقاضوں کا خیال نہ رکھنا، بےعقلی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) ان الذین ینادونک من ورآء الحجرت :” حجرۃ “ زمین کا وہ قطعہ جس کے گرد دیوار بنی ہوئی ہو، گھر کے صحن کی چار دیواری۔ طبری نے فرمایا :” حجرۃ “ کی جمع ” حجر “ ہے اور اس کی جمع ” حجرات “ ہے۔ “ روح المعانی میں ان حجرات کی کیفیت بیان کی گئی ہے :” یہ نو حجرے تھے، ہر بیوی کے پاس ایک حجرہ تھا اور جیسا کہ ابن سعد نے عطاء خراسانی سے روایت کی ہے، یہ کھجور کی ٹہنیوں سے بنے ہوئے تھے، ان کے دروازوں پر سیاہ بالوں کے ٹاٹ کے پردے تھے۔ بخاری نے ” الادب المفرد “ میں اور ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے داؤد بن قیس سے بیان کیا ہے، انہوں نے فرمایا :” میں نے وہ حجرے دیکھے ہیں، کھجور کی ٹہنیوں سے بنے ہوئے تھے، جنہیں باہر کی جانب سے بالوں کے ٹاٹوں سے ڈھانپا ہوا تھا اور میرا گمان ہے کہ صحن کے دروازے سے کمرے کے دروازے تک چھ یا سات ہاتھ (نو یا ساڑھے دس فٹ) کا فاصلہ تھا اور کمرے کا اندرونی حصہ دس ہاتھ (پندرہ فٹ) تھا اور میرا گمان ہے کہ گھر کی چوڑائی سات آٹھ ہاتھ (ساڑھے دس بارہ فٹ) کے درمیان تھی۔ “ اور حسن سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا :” میں عثمان بن عفان (رض) کی خلافت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کے کمروں میں جایا کرتا تھا تو ان کی چھت کو ہاتھ لگا لیتا تھا۔ ولید بن عبدالملک (رح) کے عہد میں ان کے حکم سے ان گھروں کو مسجد نبوی میں شامل کرلیا گیا جس پر لوگ بہت روئے۔ “ اورس عید بن مسیب نے فرمایا :” اللہ کی قسم ! مجھے پسند تھا کہ ان حجروں کو ان کی حالت پر رہنے دیا جاتا، تاکہ اہل مدینہ کے بچے بڑے ہوتے اور تمام دنیا سے آنے والے آتے تو دیکھتے کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زندگی میں کیسے گھروں پر اکتفا کیا ہے۔ اس سے ان کے دلوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی حرص اور اس پر فخر کے بجائے زہد اور دنیا سے بےرغبتی پیدا ہوتی ہے۔ “ اور ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے بھی ایسی ہی بات فرمائی۔ “ (روح المعانی) گزشتہ آیات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں آپ کے ادب کا بیان تھا، ان آیات میں اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ادب کو ملحوظ رکھنے کا بیان ہے جب آپ گھر میں ہوں۔ آیت کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ کچھ اعرابی لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھروں کی چار دیواری کے باہر کھڑے ہو کر آپ کو بلانے کے لئے آوازیں دیں، تو اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو ” لایعقلون “ قرار دیا۔” لایعقلون “ قرار دینے سے مقصود انہیں ڈانٹنا اور تمام مسلمانوں کو آپ کے ادب کی تعلیم دینا ہے۔ (٢) اکثرھم لایعقلون : ابن جزی (صاحب التسہیل) نے فرمایا :” اس میں دو وجہیں ہیں، ایک یہ کہ ان میں کچھ لوگ عقل رکھنے والے بھی تھے، اس لئے ان کے اکثر کو ” لایعقلون “ فرمایا، سب کو نہیں۔ دوسری یہ کہ مراد سب ہی کو ” لایعقلون “ قرار دینا ہے، عقل والوں کو کم قرار دینے سے مراد ان کی نفی ہے۔ الفاظ کے مطابق پہلی وجہ زیادہ ظاہر ہے، دوسری میں زیادہ بلیغ طریقے سے سب کی مذمت کا بیان ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَ‌اءِ الْحُجُرَ‌اتِ أَكْثَرُ‌هُمْ لَا يَعْقِلُونَ (As for those who call you from behind the apartments, most of them lack understanding. - 49:4) In this verse, Allah Ta’ ala has mentioned a third etiquette about dealing with the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . It is directed that when he is at home, one should not call him from outside. Particularly calling him by his name is an unmannered attitude. Reasonable persons would not do it. The term hujurat (translated above as &apartments& ) is the plural of hujrah. Lexically, it refers to a four-walled apartment or dwelling, comprising a courtyard and a roofed building. In Madinah, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had nine wives. Each one of them had a separate apartment, where on different days, he used to stay in succession. The Apartments of the Mothers of the Faithful Ibn Sa&d on the authority of ` Ata& Al-Khurasani gives a description of these dwellings. He writes that these apartments were built of palm branches and their doors were covered with thick black woolen curtains. Imam Bukhari (رض) in Al-&Adab-ul- Mufrad and Baihaqi in his collection record that Dawud Ibn Qais reports that he had visited these |"apartments|" and estimated that from the door of the |"apartment|" to the roofed part of the building, it must be about seven cubits, the room about ten cubits and the height of the roof about eight cubits1. These apartments of the Mothers of the faithful were included in the Holy Prophet’ s (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) mosque during the reign of Walid Ibn ` Abd-ul-Malik at his own command. On that day in Madinah, people were lamenting and bewailing. (1) One Cubit= about 18 inches Occasion of Revelation Imam Baghawi, on the authority of Qatadah (رح) reports that the delegation of Banu Tamim arrived in Madinah in the afternoon and came up to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) when he was resting in one of his apartments. These bedouins were not acquainted with the social manners and etiquette of a civil society. They stood outside the apartment and called out: 0 Muhammad, come out to us! On this occasion, verse [ 4] was revealed (Musnad of Ahmad, Tirmidhi, and others record similar reports in differential wordings as quoted by Mazhari). Additional Notes The noble Companions (رض) and their followers showed the same respect and courtesy to their scholars and spiritual masters as enjoined by the Qur&an for the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . It is recorded in Bukhari and other collections that when Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) wanted to inquire about any Prophetic Tradition from any knowledgeable Companion, he would go to his house and sit at the threshold without calling him or knocking at the door. He would wait there until the Companion himself comes out. When he came out on his own, he would ask him about the Tradition. However, the scholar himself would say to Sayyidna Ibn ` Abbas: |"0 cousin of Allah&s Messenger, why did you not knock at the door and inform me about your arrival?|" Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) would reply: |"A scholar in his community is like a prophet, and Allah has directed us that we should wait until he comes out on his own. Sayyidna Abu ` Ubaidah says, |"I never knock on the door of any scholar at any time, but I wait until he himself has emerged and then meet him (Ruh-ul-Ma’ ani). Ruling In the clause of verse حَتَّىٰ تَخْرُ‌جَ إِلَيْهِمْ |"...until you come out to them...49:5|", the prepositional phrase ilaihim |"to them|" is a restrictive phrase, and it implies that people must wait until the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) emerges to talk to them, but if he has emerged for some other reason or purpose, even in this case it is not appropriate to talk to him. The speakers should wait until a suitable situation or occasion arises for them to speak: that is, they should speak about their particular issue when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) turns his attention to them for that purpose.

(آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَاۗءِ الْحُـجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ ، اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک تیسرا ادب سکھلایا گیا ہے کہ جس وقت آپ اپنے مکان اور آرام گاہ میں تشریف فرما ہوں اس وقت باہر کھڑے ہو کر آپ کو پکارنا خصوصاً گنوارپن کے ساتھ کہ نام لے کر پکارا جائے یہ بےادبی ہے عقل والوں کے لیے یہ کام نہیں۔ حجرات، حجرہ کی جمع ہے اصل لغت میں حجرہ ایک چار دیواری سے گھرے ہوئے مکان کو کہتے ہیں جس میں کچھ صحن ہو کچھ مسقف عمارت ہو۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات مدینہ طیبہ میں نو تھیں ان میں سے ہر ایک کے لئے ایک حجرہ الگ الگ تھا جن میں آپ باری باری تشریف فرما ہوتے تھے۔ حجرات امہات المومنین : ابن سعد نے بروایت عطا خراسانی لکھا ہے کہ یہ حجرات کھجور کی شاخوں سے بنے ہوئے تھے اور ان کے دروازوں پر موٹے سیاہ اون کے پردے پڑے ہوئے تھے۔ امام بخاری نے ادب المفرد میں اور بیہقی نے داؤد بن قیس سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان حجرات کی زیارت کی ہے میرا گمان یہ ہے کہ حجرہ کے دروازہ سے مسقف بیت تک چھ سات ہاتھ ہوگا اور بیت (کمرہ) دس ہاتھ اور چھت کی اونچائی سات آٹھ ہاتھ ہوگی۔ یہ حجرات امہات المومنین ولید بن عبدالملک کی حکومت میں ان کے حکم سے مسجد نبوی میں شامل کردیئے گئے۔ مدینہ میں اس روز لوگوں پر گریہ و وبکا طاری تھی۔ سبب نزول : امام بغوی نے بروایت قتادہ ذکر کیا ہے کہ قبیلہ بنو تمیم کے لوگ جو آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے جن کا ذکر اوپر آیا ہے۔ یہ دوپہر کے وقت مدینہ میں پہنچے جبکہ آپ کسی حجرہ میں آرام فرما رہے تھے۔ یہ لوگ اعراب آداب معاشرت سے ناواقف تھے۔ انہوں نے حجرات کے باہر ہی سے پکارنا شروع کردیا، اخرج الینا یا محمد اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں اس طرح پکارنے کی ممانعت اور انتظار کرنے کا حکم دیا گیا۔ مسند احمد۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ روایت مختلف الفاظ سے آئی ہے (مظہری) تنبیہ : صحابہ وتابعین نے اپنے علماء و مشائخ کے ساتھ بھی اسی ادب کا استعمال کیا ہے۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ جب میں کسی عالم صحابی سے کوئی حدیث دریافت کرنا چاہتا تھا تو ان کے مکان پر پہنچ کر ان کو آواز یا دروازہ پر دستک دینے سے پرہیز کرتا اور دروازہ کے باہر بیٹھ جاتا تھا کہ جب وہ خود ہی باہر تشریف لاویں گے اس وقت ان سے دریافت کروں گا، وہ مجھے دیکھ کر فرماتے کہ اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا زاد بھائی، آپ نے دروازہ پر دستک دے کر کیوں نہ اطلاع کردی تو ابن عباس نے فرمایا کہ عالم اپنی قوم میں مثل نبی کے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے نبی کی شان میں یہ ہدایت فرمائی ہے کہ ان کے باہر آنے کا انتظار کیا جائے۔ حضرت ابوعبیدہ نے فرمایا کہ میں نے کبھی کسی عالم کے دروازہ پر جا کر دستک نہیں دی بلکہ اس کا انتظار کیا کہ وہ خود ہی جب باہر تشریف لاویں گے اس وقت ملاقات کروں گا (روح المعانی) مسئلہ : آیت مذکورہ میں حتی تخرج الیہم میں الیہم کی قید بڑھانے سے یہ ثابت ہوا کہ صبر و انتظار اس وقت تک کرنا ہے جب تک کہ آپ لوگوں سے ملاقات و گفتگو کے لئے باہر تشریف لائیں، اس سے معلوم ہوا کہ آپ کا باہر تشریف لانا کسی دوسری ضرورت سے ہو اس وقت بھی آپ سے اپنے مطلب کی بات کرنا مناسب نہیں بلکہ اس کا انتظار کریں کہ جب آپ ان کی طرف متوجہ ہوں اس وقت بات کریں

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَاۗءِ الْحُـجُرٰتِ اَكْثَرُہُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ۝ ٤ ندا النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] ونِدَاءُ الصلاة مخصوصٌ في الشَّرع بالألفاظ المعروفة، وقوله : أُولئِكَ يُنادَوْنَمِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] فاستعمال النّداء فيهم تنبيها علی بُعْدهم عن الحقّ في قوله : وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ [ ق/ 41] ، وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] ، وقال : فَلَمَّا جاءَها نُودِيَ [ النمل/ 8] ، وقوله : إِذْ نادی رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا [ مریم/ 3] فإنه أشار بِالنِّدَاء إلى اللہ تعالی، لأنّه تَصَوَّرَ نفسَهُ بعیدا منه بذنوبه، وأحواله السَّيِّئة كما يكون حال من يَخاف عذابَه، وقوله : رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادِي لِلْإِيمانِ [ آل عمران/ 193] فالإشارة بالمنادي إلى العقل، والکتاب المنزَّل، والرّسول المُرْسَل، وسائر الآیات الدَّالَّة علی وجوب الإيمان بالله تعالی. وجعله منادیا إلى الإيمان لظهوره ظهورَ النّداء، وحثّه علی ذلك كحثّ المنادي . وأصل النِّداء من النَّدَى. أي : الرُّطُوبة، يقال : صوت نَدِيٌّ رفیع، واستعارة النِّداء للصَّوْت من حيث إنّ من يَكْثُرُ رطوبةُ فَمِهِ حَسُنَ کلامُه، ولهذا يُوصَفُ الفصیح بکثرة الرِّيق، ويقال : نَدًى وأَنْدَاءٌ وأَنْدِيَةٌ ، ويسمّى الشَّجَر نَدًى لکونه منه، وذلک لتسمية المسبَّب باسم سببِهِ وقول الشاعر : 435- كَالْكَرْمِ إذ نَادَى مِنَ الكَافُورِ «1» أي : ظهر ظهورَ صوتِ المُنادي، وعُبِّرَ عن المجالسة بالنِّدَاء حتی قيل للمجلس : النَّادِي، والْمُنْتَدَى، والنَّدِيُّ ، وقیل ذلک للجلیس، قال تعالی: فَلْيَدْعُ نادِيَهُ [ العلق/ 17] ومنه سمّيت دار النَّدْوَة بمكَّةَ ، وهو المکان الذي کانوا يجتمعون فيه . ويُعَبَّر عن السَّخاء بالنَّدَى، فيقال : فلان أَنْدَى كفّاً من فلان، وهو يَتَنَدَّى علی أصحابه . أي : يَتَسَخَّى، وما نَدِيتُ بشیءٍ من فلان أي : ما نِلْتُ منه نَدًى، ومُنْدِيَاتُ الكَلِم : المُخْزِيَات التي تُعْرَف . ( ن د ی ) الندآ ء کے معنی آواز بلند کرنے کے ہیں اور کبھی نفس آواز پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ میں اندر سے مراد آواز و پکار ہے یعنی وہ چو پائے صرف آواز کو سنتے ہیں اور اس کلام سے جو مفہوم مستناد ہوتا ہے اسے ہر گز نہیں سمجھتے ۔ اور کبھی اس کلام کو جس سے کوئی معنی مفہوم ہوتا ہو اسے ندآء کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے ۔ وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] اور جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] اور جب تم لوگ نماز کے لئے اذان دیتے ہو ۔ میں نماز کے لئے اذان دینا مراد ہے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : ۔ إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] جب جمعے کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے ۔ میں بھی نداء کے معنی نماز کی اذان دینے کے ہیں اور شریعت میں ند اء الصلوۃ ( اذان ) کے لئے مخصوص اور مشہور کلمات ہیں اور آیت کریمہ : ۔ أُولئِكَ يُنادَوْنَ مِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] ان کو گویا دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے : ۔ میں ان کے متعلق نداء کا لفظ استعمال کر کے متنبہ کیا ہے کہ وہ حق سے بہت دور جا چکے ہیں ۔ نیز فرمایا ۔ وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ [ ق/ 41] اور سنو جس دن پکارنے والا نزدیک کی جگہ سے پکارے گا ۔ وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] اور ہم نے ان کو طور کے ذہنی جانب سے پکارا فَلَمَّا جاءَها نُودِيَ [ النمل/ 8] جب موسیٰ ان ان کے پاس آئے تو ندار آئی ۔ ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِذْ نادی رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا [ مریم/ 3] جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دبی آواز سے پکارا میں اللہ تعالیٰ کے متعلق نادی کا لفظ استعمال کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زکریا (علیہ السلام) نے اپنے گناہ اور احوال سینہ کے باعث اس وقت اپنے آپ کو حق اللہ تعالیٰ سے تصور کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے والے کی حالت ہوتی ہے اور آیت کریمہ ؛ ۔ رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادِي لِلْإِيمانِ [ آل عمران/ 193] اے پروردگار ہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا ۔ جو ایمان کے لئے پکاررہا تھا ۔ میں منادیٰ کا لفظ عقل کتاب منزل رسول مرسل اور ان آیات الہیہ کو شامل ہے جو ایمان باللہ کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں اور ان چیزوں کو منادی للا یمان اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ ندا کی طرح ظاہر ہوتی ہیں اور وہ پکارنے والے کی طرح ایمان لانے کی طرف دعوت دے رہی ہیں ۔ اصل میں نداء ندی سے ہے جس کے معنی رطوبت نمی کے ہیں اور صوت ندی کے معنی بلند آواز کے ہیں ۔ اور آواز کے لئے نداء کا استعارہ اس بنا پر ہے کہ جس کے منہ میں رطوبت زیادہ ہوگی اس کی آواز بھی بلند اور حسین ہوگی اسی سے فصیح شخص کو کثرت ریق کے ساتھ متصف کرتے ہیں اور ندی کے معنی مجلس کے بھی آتے ہیں اس کی جمع انداء واندید آتی ہے ۔ اور در خت کو بھی ندی کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ وہ نمی سے پیدا ہوتا ہے اور یہ تسمیۃ المسبب با سم السبب کے قبیل سے ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( 420 ) کالکرم اذا نادٰی من الکافور جیسا کہ انگور کا خوشہ غلاف ( پردہ ) سے ظاہر ہوتا ہے ۔ جیسا کہ منادی کرنے والے کی آواز ہوتی ہے ۔ کبھی نداء سے مراد مجالست بھی ہوتی ہے ۔ اس لئے مجلس کو النادی والمسدیوالندی کہا جاتا ہے اور نادیٰ کے معنی ہم مجلس کے بھی آتے ہیں قرآن پاک میں ہے : ۔ فَلْيَدْعُ نادِيَهُ [ العلق/ 17] تو وہ اپنے یاران مجلس کو بلالے ۔ اور اسی سے شہر میں ایک مقام کا نام درا لندوۃ ہے ۔ کیونکہ اس میں مکہ کے لوگ جمع ہو کر باہم مشورہ کیا کرتے تھے ۔ اور کبھی ندی سے مراد مخاوت بھی ہوتی ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے : ۔ فلان اندیٰ کفا من فلان وپ فلاں سے زیادہ سخی ہے ۔ ھو یتندٰی علیٰ اصحابہ ۔ وہ اپنے ساتھیوں پر بڑا فیاض ہے ۔ ما ندیت بشئی من فلان میں نے فلاں سے کچھ سخاوت حاصل نہ کی ۔ مندیات الکلم رسوا کن باتیں مشہور ہوجائیں ۔ وراء ( وَرَاءُ ) إذا قيل : وَرَاءُ زيدٍ كذا، فإنه يقال لمن خلفه . نحو قوله تعالی: وَمِنْ وَراءِ إِسْحاقَ يَعْقُوبَ [هود/ 71] ، ( و ر ی ) واریت الورآء کے معنی خلف یعنی پچھلی جانب کے ہیں مثلا جو زہد کے پیچھے یا بعد میں آئے اس کے متعلق ورآء زید کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ وَراءِ إِسْحاقَ يَعْقُوبَ [هود/ 71] اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی ۔ حجر الحَجَر : الجوهر الصلب المعروف، وجمعه : أحجار وحِجَارَة، وقوله تعالی: وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجارَةُ [ البقرة/ 24] ( ح ج ر ) الحجر سخت پتھر کو کہتے ہیں اس کی جمع احجار وحجارۃ آتی ہے اور آیت کریمہ : وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجارَةُ [ البقرة/ 24] جس کا اندھن آدمی اور پتھر ہوں گے ۔ كثر الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة المنفصلة كالأعداد قال تعالی: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] ( ک ث ر ) کثرت اور قلت کمیت منفصل یعنی اعداد میں استعمال ہوتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر اور بڑ ھیگا ۔ عقل العَقْل يقال للقوّة المتهيّئة لقبول العلم، ويقال للعلم الذي يستفیده الإنسان بتلک القوّة عَقْلٌ ، وهذا العقل هو المعنيّ بقوله : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] ، ( ع ق ل ) العقل اس قوت کو کہتے ہیں جو قبول علم کے لئے تیار رہتی ہے اور وہ علم جو اس قوت کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی عقل کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] اور سے توا ہل دانش ہی سمجھتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

جو لوگ ازواج مطہرات کے حجروں کے باہر سے آپ کو پکارتے ہیں وہ حکم الہی اور توحید الہی اور رسول اکرم کے احترام کو نہیں سمجھتے۔ شان نزول : اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ (الخ) امام طبرانی نے اور ابو یعلی نے سند حسن کے ساتھ زید بن ارقم سے روایت کیا کہ عربوں میں سے کچھ لوگ رسول اکرم کے حجروں پر آئے اور آکر یا محمد یا محمد کہہ کر پکارنے لگے، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور عبدالرزاق نے بواسطہ معمر قتادہ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے محمد میری تعریف شاندار ہے اور میری مذمت بری ہے، آپ نے فرمایا یہ شان اللہ تعالیٰ کی ہے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی، یہ روایت مرسل ہے اور اس کے ترمذی میں بغیر ذکر نزول آیت براء بن عازب وغیرہ کی روایت سے بہت سے مرفوع شواہد موجود ہیں۔ اور ابن جریر نے حسن سے اسی طرح روایت کی ہے۔ اور امام احمد نے سند صحیح کے ساتھ اقرع بن حابس سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے حجروں کے باہر سے رسول اکرم کو پکارا آپ نے کچھ جواب نہیں دیا تب بولے اے محمد میری مدح قابل ستائش ہے اور میری مذمت بہت بری ہے تب آپ نے فرمایا یہ شان صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اور ابن جریر نے اقرع سے روایت کیا ہے کہ وہ رسول اکرم کی خدمت میں آئے اور بولے اے محمد ہماری طرف آیے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤ { اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَکَ مِنْ وَّرَآئِ الْحُجُرٰتِ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ } ” بیشک وہ لوگ جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پکارتے ہیں حجروں کے پیچھے سے ان میں سے اکثر وہ ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔ “ بعض اوقات جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے حجرہ مبارک میں تشریف فرما ہوتے تو بدو ّقسم کے لوگ باہر کھڑے ہو کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آوازیں دینا شروع کردیتے : ” یَا مُحَمَّد اُخْرُجْ اِلَیْنَا “۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر تشریف لے جانے ‘ آرام فرمانے اور گھر سے باہر رونق افروز ہونے کے اپنے معمولات تھے۔ لہٰذا یہاں دو ٹوک انداز میں بتادیا گیا کہ وقت بےوقت گھر سے باہر کھڑے ہو کر لوگوں کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بےباکانہ انداز میں آوازیں دینے کا یہ طرز عمل اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔ کسی کو گھر سے باہر بلانے کا یہ انداز اور طریقہ عام معاشرتی آداب کے بھی خلاف ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: تمیم کے جس وفد کا ابھی ذکر کیا گیا، وہ دوپہر کے وقت مدینہ منورہ پہنچا تھا جبکہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آرام فرما رہے تھے۔ یہ لوگ آداب سے واقف نہیں تھے، اس لیے ان میں سے کچھ لوگوں نے آپ کے گھر کے باہر ہی سے آپ کو پکارنا شروع کردیا۔ اس پر اس آیت میں تنبیہ فرمائی گئی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤۔ ٥۔ صحیح سند سے مسند ٢ ؎ امام احمد طبرانی میں اقرع (رض) بن حابس تمیمی سے روایت ہے کہ اسلام لانے سے پہلے اقرع (رض) بن حابس اپنی قوم بنی تمیم کے کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ یہ لوگ مدینہ میں ایسے وقت پہنچے کہ وہ وقت اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آرام کا تھا ان لوگوں نے یہ انتظار نہیں کیا کہ آپ زنانہ حجروں میں سے باہر آئیں حجروں کی دیوار کے پیچھے سے آپ کا نام پکارنا شروع کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ان آیتوں کی شان نزول کی ہی حدیث براء بن العازب کی روایت سے ترمذی ١ ؎ میں معتبر سند سے ہے لیکن اس میں اقرع (رض) بن حابس کا نام نہیں ہے حاصل مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ گاؤں کے رہنے والے لوگ اکثر کم عقل ہوتے ہیں اس لئے اپنی ناسمجھی سے یہ لوگ دیوار کے پیچھے سے پکارنے لگے اگر ان میں کچھ سمجھ ہوتی اور حجرہ سے باہر نکلنے تک اللہ کے رسول کا انتظار کرتے تو ان کے حق میں بہتر تھا کیونکہ اللہ کے رسول کی بےتوقیری کے الزام سے یہ لوگ بچ جاتے اب انہوں نے جو کچھ کیا اگر یہ لوگ نادم ہوں گے تو اللہ غفور الرحیم ہے ان کے اس الزام کو معاف کرے گا۔ (٢ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٢٠٨ ج ٤۔ ) (١ ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الجحرات ص ١٨٢ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(49:4) ان الذین ینادونک من وراء الحجرات اکثرہم لا یعقلون : ان حرف مشبہ بالفعل الذین اسم موصول ینادونک من وراء الحجرات صلہ۔ موصول الذین اسم ان ۔ اکثرہم لا یعقلون خبر ان۔ ینادون مضارع جمع مذکر غائب مناداۃ (مفاعلۃ) مصدر ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ تم کو پکارتے ہیں۔ من ابتدائیہ وراء اصل میں مصدر ہے جس کو بطور ظرف استعمال کیا جاتا ہے۔ آڑ، حد فاصل ۔ کسی چیز کا آگے ہونا۔ پیچھے ہونا۔ چاروں طرف ہونا۔ علاوہ اور سوا ہونا۔ یہاں آیت ہذا میں بمعنی باہر ہے اور مضاف ہے۔ الحجرات مضاف الیہ۔ الحجرات بروزن فعلۃ حجرۃ کی جمع ہے جیسے ظلمات جمع ہے ظلمۃ کی اور غرفت جمع ہے غرفۃ کی۔ حجرہ۔ گھر، خلوت خانہ جس کی چار دیواری ہو ۔ ترجمہ ہوگا :۔ بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر ناسمجھ ہیں ۔ فائدہ : صاحب تفسیر ضیاء القرآن لکھتے ہیں :۔ اسلام سے پہلے خطہ عرب جہالت وناشائستگی کا گہوارہ تھا۔ مکہ جیسے مرکزی شہر میں گنتی کے چند آدمیوں کے سوا ساری آبادی نوشت وخواند سے قاصر تھی۔ تہذیب و معاشرت کے آداب سے یہ لوگ بالکل کورے تھے۔ صحراء نشین بدئووں کی حالت اور بھی نا گفتہ بہ تھی۔ اس آیت کریمہ میں بھی وہ آداب سکھائے جا رہے ہیں جن کا بارگاہ رسالت میں ملحوظ رکھنا از حد ضروری ہے۔ ایک دفعہ بنی تمیم کا وف جو ستر اسی نفوس پر مستمل تھا مدینہ طیبہ آیا۔ اس وفد میں زبر قان بن بدر، عطارد بن حاجب اور قیس بن عاصم ان کے سردار بھی تھے۔ دوپہر کا وقت تھا۔ سرور عالم اپنے حجرہ مبارکہ میں قیلولہ فرما رہے تھے۔ ان لوگوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد تک انتظار کو اپنی شان کے خلاف سمجھا اور باہر کھڑے ہو کر آوازیں دینے لگے یا محمد اخرج علینا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام نامی لے کر کہنے لگے کہ ہمارے پاس باہر آئیے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے تو ان لوگوں نے شیخی بگھارتے ہوئے کہا۔ یا محمد ان مدحنا زین وان شتمنا شین ونحن اکرم العرب۔ یعنی ہم جس کی مدح کرتے ہیں اسے مزین کردیتے ہیں اور جس کی مذمت کرتے ہیں اس کو معیوب بنا دیتے ہیں۔ ہم تمام عربوں سے اشرف ہیں۔ سچے نبی نے فرمایا :۔ کذبتم بل مدح اللہ تعالیٰ زین وشتمہ شین واکرم منکم یوسف بن یعقوب ابن اسحاق بن ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام ) اے بنی تمیم تم نے غلط بیانی سے کام لیا بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدح باعث زینت ہے۔ اور اس کی ہی مذمت باعث تحقیر ہے اور تم سے اشرف اور معزز حضرت یوسف ہیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہم مفاخرت کے لئے آئے ہیں۔ چناچہ پہلے ان کا خطیب عطارد بن حاجب کھرا ہوا اور اپنے قبیلے کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دئیے۔ اور اپنی فصاحت و بلاغت کا مظاہر ہ کیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت ثابت بن قیس کو اس کا جواب دینے کا حکم دیا ۔ مکتب نبوت کا یہ تلمیذ ارشد جب لب کشا ہوا تو ان کے چھکے چھوٹ گئے اور وہ سہم کر رہ گئے۔ اس کے بعد ان کا شاعر زیرقان بن بدر کھڑا ہوا۔ اور اپنی قوم کی مدح میں ایک قصیدہ پڑ ھ ڈالا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسان (رض) کو اشارہ فرمایا۔ حضرت حسان نے فی البدیہہ ان کے مفاخر کی دھجیاں بکھیر دیں۔ اور اسلام کی صداقت اور حضور کی عظمت کو اس انداز میں بیان فرمایا کہ ان کافروں کا غرور خاک میں مل گیا اور اقرع کو تسلیم کرنا پڑا کہ نہ ہمارا خطیب حضور کے خطیب کا ہم پلہ ہے اور نہ ہمارا شاعر دربار دسالت کے شاعر سے کوئی مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر خصوصی کرم فرمایا اور ان کے دلوں کو اسلام کے لئے کشادہ کردیا۔ اور وہ سارے کے سارے مشرف بہ اسلام ہوگئے ۔ رحمت عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انعام و اکرام سے انہیں مالا مال کردیا۔ اقرع بن حابس اور عینیہ بن حصین اس وفد کے سردار تھے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قبیلہ بنی تمیم کے کچھل وگ تھے جو ایک روز عین دوپہر کے وقت آپ کے حجرے پر آئے اور آپ کا نام لے کرچلانے لگے۔ ” اے محمد باہر نکلو، دیکھو ہماریتعریف موجب زینت اور ہماری مذمت موجب عیب ہے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ادب سکھانے کے لئے یہ اور اس سے اگلی آیت نازل فرمائی۔ ابن کثیر

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیات میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ادب و احترام سکھلایا گیا ہے اور اب ان لوگوں کی سرزنش کی گئی ہے جنہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احترام کے منافی حرکت کی تھی۔ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقام اور احترام سے جو لوگ واقف نہیں تھے یا جن کے دلوں میں منافقت اور اپنے بڑے پن کا خنّاس تھا۔ وہ جب آپ کی خدمت میں آتے تو آپ سے اس طرح مخاطب ہوتے جس طرح اپنے جیسے یا اپنے سے چھوٹے آدمی کے ساتھ مخاطب ہوا جاتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی رائے پر اصرار بھی کیا کرتے تھے۔ اسی قبیل کے لوگوں سے قبیلہ بنوتمیم کے کچھ لوگ تھے۔ جب وہ آپ کی ملاقات کے لیے مدینہ آئے تو آپ دوپہر کے وقت اپنے گھر میں آرام فرما تھے۔ اخلاق اور احترام کا تقاضا تھا کہ یہ لوگ انتظار کرتے کہ آپ کب اپنے گھر سے مسجد تشریف لاتے ہیں، اور یہ لوگ آپ سے ملاقات کرتے لیکن ان کے دلوں میں جہالت یا بڑے پن کا خناس تھا اس لیے انہوں نے انتظار کیے بغیر آپ کو ان الفاظ میں آوازیں دینا شروع کیں۔ ” یَا مُحَمَّدُ اُخْرُجْ اِلَیْنَا “ اے محمد ! ہمارے لیے باہر آؤ۔ رب ذوالجلال نے ان کے گستاخانہ انداز کی گرفت کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ آپ کے حجروں سے باہر آپ کو آوازیں دے رہے تھے ان میں اکثر بےسمجھ لوگ ہیں۔ اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ خود باہر تشریف لاتے تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ” خَیْرًا لَّہُمْ “ کے الفاظ استعمال فرما کر تمام لوگوں کو یہ بات سمجھائی ہے کہ دانائی اور احترام کا تقاضا یہی تھا اور ہے کہ سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود تشریف لاتے اور یہ لوگ آپ سے ملاقات کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اکثریت کو بےسمجھ قرار دیا ہے۔ اشارہ فرمایا ہے کہ اگر تم آئندہ کے لیے باز آجاؤ تو اللہ تعالیٰ تمہاری اس حرکت کو معاف فرمانے والا ہے۔ (عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ (رض) قَالَ اَتَانَا اَبُوْمُوْسٰی (رض) قَالَ اِنَّ عُمَرَ اَرْسَلَ اِلَیَّ اَنْ اٰتِیَہٗ فَاَتَیْتُ بَابَہٗ فَسَلَّمْتُ ثَلاَ ثا فَلَمْ یَرُدّ َ عَلَیَّ فَرَجَعْتُ فَقَالَ مَامَنَعَکَ اَنْ تَاْتِیَنَا فَقُلْتُ اِنِّیْ اٰتَیْتُ فَسَلَّمْتُ عَلٰی بَابِکَ ثَلَاثًا فَلَمْ تَرُدَّ عَلَیَّ فَرَجَعْتُ وَقَدْ قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اِذَا اسْتَأْذَنَ اَحَدُکُمْ ثَلاَ ثا فَلَمْ یُؤْذَنْ لَہٗ فَلْیَرْجِعْ فَقَالَ عُمَرُ (رض) اَقِمْ عَلَیْہِ الْبَیِّنَۃَ قَالَ اَبُوْ سَعِیْدٍ (رض) فَقُمْتُ مَعَہٗ فَذَھَبْتُ اِلٰی عُمَرَ (رض) فَشَھِدْتُّ ) (صحیح البخاری : باب الاستئذان) ” ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری ہمارے پاس آئے انہوں نے بتایا کہ حضرت عمر (رض) نے میری طرف پیغام بھیجا کہ میں ان کے ہاں پہنچوں۔ جب میں امیرالمؤمنین کے دروازے پر گیا، تو میں نے تین مرتبہ السلام علیکم کہا۔ انہوں نے جواب نہ دیا، تو میں واپس آگیا۔ بعدازاں عمر (رض) نے مجھ سے نہ آنے کے بارے میں پوچھا۔ میں نے بتایا کہ میں حاضر ہوا اور آپ کے دروازے پر تین دفعہ سلام کہا لیکن آپ کا جواب نہ پاکر میں واپس آگیا۔ کیونکہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ جب کسی کو تین بار اجازت طلب کرنے کے باوجود اجازت نہ ملے تو وہ واپس چلا آئے۔ عمر (رض) نے فرمایا : اس حدیث پر گواہ پیش کرو۔ حضرت ابوسعید (رض) کہتے ہیں کہ میں ابوموسیٰ کے ساتھ کھڑا ہوا اور ہم حضرت عمر (رض) کے پاس گئے اور میں نے گواہی دی کہ ابو موسیٰ ٹھیک کہتے ہیں۔ “ ” حضرت عبداللہ بن بسر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی کے دروازے پر جاتے تو دروازے کے سامنے کھڑے ہونے کی بجائے دروازے کی دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے اور سلام کہتے اس دور میں گھروں کے دروازوں پر پردے نہیں ہوتے تھے۔ “ (رواہ ابوداؤد : باب الاستیذان، البانی ہذا حدیث صحیح) (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ عَلَیْکَ بِغَیْرِ إِذْنٍ ، فَخَذَفْتَہُ بِعَصَاۃٍ ، فَفَقَأْتَ عَیْنَہُ ، لَمْ یَکُنْ عَلَیْکَ جُنَاحٌ) (رواہ البخاری : باب مَنْ أَخَذَ حَقَّہُ أَوِ اقْتَصَّ دُون السُّلْطَانِ ) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر کوئی بندہ اجازت طلب کیے بغیر کسی کے گھر میں جھانکے اور گھر والا کسی نوک دار چیز کے ساتھ اس کی آنکھ پھوڑ دے تو آنکھ پھوڑنے والے پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ “ مسائل ١۔ جن لوگوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر کے باہر آپ کو آوازیں دیں ان کی اکثریت بےعقل تھی۔ ٢۔ نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دور سے آواز دینے والے لوگ بیوقوف ہوتے ہیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان الذین ینادونک ۔۔۔۔۔۔۔ لا یعقلون (٤٩ : ٤) ولو انھم ۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم (٤٩ : ٥) “ اے نبی ؐ جو لوگ تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں۔ اگر وہ تمہارے برآمد ہونے تک صبر کرتے تو انہی کے لئے بہتر تھا۔ اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ اللہ نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ ان میں سے اکثر عقلمند نہیں ہیں ۔ اور ان کی اس حرکت کو ان کے لئے مکروہ کردیا کیونکہ وہ اسلامی آداب کے خلاف تھی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اور آپ کے مقام کے ساتھ جس قدر احترام کا تعلق ہونا چاہئے تھا ، یہ اس کے خلاف تھا ۔ آپ مسلمانوں کے قائد اور مربی تھے اور خدا کے نبی تھے۔ اس لیے ان سے کہا گیا کہ ان کے لئے مناسب تھا کہ صبر کرتے اور انتظار کرتے تا آنکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے معمول کے مطابق باہر نکل آتے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو توبہ و استغفار کرنے اور اللہ کی طرف رجوع کی ترغیب دی ۔ مسلمانوں نے ان آداب کو خوب سمجھا۔ انہوں نے رسول اللہ کی شخصیت سے آگے بڑھ کر ہر استاد اور ہر عالم دین کے ساتھ یہی سلوک روا رکھا۔ ایسی شخصیات کو انہوں نے گھروں کے اندر پریشان نہ کیا۔ اور ان کے نکلنے کا انتظار کیا۔ کبھی اساتذہ کے گھروں کے اندر گھسنے کی کوشش نہ کی۔ ایک اور مشہور راوی اور عالم ابو عبید کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ کہتے تھے کہ میں نے کسی عالم کا دروازہ کبھی نہیں کھٹکھٹایا ۔ ہمیشہ انتظار کیا کہ وہ نکل آئیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

5:۔ ” ان الذین ینادونک “ یہ دیہاتیوں کی ایک جماعت پر زجر ہے۔ بنی تمیم کے اعرابیوں کا ایک وفد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوا۔ جب وہ لوگ مسجد نبوی میں پہنچے اس وقت آپ اپنے کسی حجرے میں تشریف فرما تھے انہوں نے آپ کی حجرہ شریفہ سے باہر تشریف آوری کا انتظار کیے بغیر ہی باہر سے یا محمد اخرج الینا کہنا شروع کردیا۔ یعنی اے محمد ! آپ باہر آئیں۔ ان کی تنبیہہ کیلئے یہ آیتیں نازل ہوئیں (روح) جو لوگ حجروں سے باہر کھڑے ہو کر آوازیں دیتے ہیں ان میں اکثر نادان ہیں اور آداب نبوت سے بیخبر ہیں۔ اگر وہ ذرا صبر و تحمل سے کام لیتے اور آپ کی باہر تشریف آوری کا انتظار کرتے تو یہ ان کے لیے بہت بہتر بات تھی جس کی وجہ سے ان کا وقار اور ان کی عزت بھی قائم رہتی اور وہ ثواب کے مستحق بھی ہوتے۔ لیکن بیخبر ی اور نادانی میں جب کسی سے کوئی گناہ ہوجائے اور علم کے بعد انسان اس سے اجتناب کرے، تو اللہ تعالیٰ پہلے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ یہ اس کی انتہائی رحمت اور مہربانی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(4) بلا شبہ جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر ایسے ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔