Surat ul Hujraat

Surah: 49

Verse: 8

سورة الحجرات

فَضۡلًا مِّنَ اللّٰہِ وَ نِعۡمَۃً ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۸﴾

[It is] as bounty from Allah and favor. And Allah is Knowing and Wise.

اللہ کے احسان و انعام سے اور اللہ دانا اور با حکمت ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَضْلً مِّنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً ... (This is) a grace from Allah and His favor. meaning, this favor that He has bestowed on you is a favor and a bounty from Him to you, ... وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ And Allah is All-Knowing, All-Wise. All-Knower in those who deserve guidance and those who deserve misguidance, All-Wise in His statements, actions, legislation and the destiny He appoints.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

8۔ 1 یہ آیت میں بھی صحابہ کرام کی فضیلت، ان کے ایمان اور ان کے رشد و ہدایت پر ہونے کی واضح دلیل ہے ولو کرہ الکافرون۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) فضلاً من اللہ ونعمۃ : یہ ” الرشدون “ کا مفعول لہ ہے، یعنی یہ لوگ اللہ کے فضل اور اس کی نعمت کی وجہ سے کامل ہدایت والے ہیں۔ یہ ” حبب “ اور ” کرہ “ کا مفعول لہ بھی ہوسکتا ہے۔ (٢) واللہ علیکم حکیم : یعنی اللہ تعالیٰ نے اندھا دھند نہیں بلکہ اپنے کمال علم و حکمت کی بنا پر انہیں اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت کے لئے منتخب فرمایا۔ ان کے دلوں میں ایمان کو محبوب و مزین کردیا، کفر و فسوق اور عصیان کو ناپسندیدہ بنادیا اور انہیں راہ راست پر گامزن فرما دیا، کیونکہ وہ ان کی استعداد و اہلیت پوری طرح جانتا تھا اور سا کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ انہیں اس مقام پر فائز فرمائے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَضْلًا مِّنَ اللہِ وَنِعْمَۃً۝ ٠ ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۝ ٨ فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر . فالأوّلان جوهريّان لا سبیل للناقص فيهما أن يزيل نقصه وأن يستفید الفضل، کالفرس والحمار لا يمكنهما أن يکتسبا الفضیلة التي خصّ بها الإنسان، والفضل الثالث قد يكون عرضيّا فيوجد السّبيل علی اکتسابه، ومن هذا النّوع التّفضیل المذکور في قوله : وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] ، لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] ، يعني : المال وما يکتسب، ( ف ض ل ) الفضل کے منعی کسی چیز کے اقتضا ( متوسط درجہ سے زیادہ ہونا کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے محمود جیسے علم وحلم وغیرہ کی زیادتی مذموم جیسے غصہ کا حد سے بڑھ جانا لیکن عام طور الفضل اچھی باتوں پر بولا جاتا ہے اور الفضول بری باتوں میں اور جب فضل کے منعی ایک چیز کے دوسری پر زیادتی کے ہوتے ہیں تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں ( ۔ ) بر تری بلحاظ جنس کے جیسے جنس حیوان کا جنس نباتات سے افضل ہونا ۔ ( 2 ) بر تری بلحاظ نوع کے جیسے نوع انسان کا دوسرے حیوانات سے بر تر ہونا جیسے فرمایا : ۔ وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ۔ ( 3 ) فضیلت بلحاظ ذات مثلا ایک شخص کا دوسرے شخص سے بر تر ہونا اول الذکر دونوں قسم کی فضیلت بلحاظ جو ہر ہوتی ہے ۔ جن میں ادنیٰ ترقی کر کے اپنے سے اعلٰی کے درجہ کو حاصل نہیں کرسکتا مثلا گھوڑا اور گدھا کہ یہ دونوں انسان کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے ۔ البتہ تیسری قسم کی فضیلت من حیث الذات چونکہ کبھی عارضی ہوتی ہے اس لئے اس کا اکتساب عین ممکن ہے چناچہ آیات کریمہ : ۔ وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] اور خدا نے رزق ( دولت ) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔ لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل ( یعنی روزی تلاش کرو ۔ میں یہی تیسری قسم کی فضیلت مراد ہے جسے محنت اور سعی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش کے ہیں اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو مرۃ ہے جو مرۃ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے : ۔ ضر بۃ وشتمۃ اور نعمۃ کا لفظ اسم جنس ہے جو قلیل وکثیر کیلئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو ۔ حكيم والحِكْمَةُ : إصابة الحق بالعلم والعقل، فالحکمة من اللہ تعالی: معرفة الأشياء وإيجادها علی غاية الإحكام، ومن الإنسان : معرفة الموجودات وفعل الخیرات . وهذا هو الذي وصف به لقمان في قوله عزّ وجلّ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] ، ونبّه علی جملتها بما وصفه بها، فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم «2» ، فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره، ومن هذا الوجه قال اللہ تعالی: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، وإذا وصف به القرآن فلتضمنه الحکمة، نحو : الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] ( ح ک م ) الحکمتہ کے معنی علم وعقل کے ذریعہ حق بات دریافت کرلینے کے ہیں ۔ لہذا حکمت الہی کے معنی اشیاء کی معرفت اور پھر نہایت احکام کے ساتھ انکو موجود کرتا ہیں اور انسانی حکمت موجودات کی معرفت اور اچھے کو موں کو سرانجام دینے کا نام ہے چناچہ آیت کریمہ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی ۔ میں حکمت کے یہی معنی مراد ہیں جو کہ حضرت لقمان کو عطا کی گئی تھی ۔ لهذا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

ایسے ہی صفات والے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے انعام سے سیدھے راستے پر ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی بزرگی کو جاننے والا اور حکمت والا ہے کہ اس نے ایمان کامل تمہیں عطا کیا اور کفر و فسوق اور عصیان سے تمہارے دلوں میں نفرت پیدا کردی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨ { فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَنِعْمَۃً } ” اللہ کی طرف سے بہت بڑے فضل اور انعام کی بنا پر۔ “ { وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ} ” اور اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ‘ کمال حکمت والا ہے۔ “ اس کے بعد اب دوسرا حکم دیا جا رہا ہے :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

10 It means this: The whole community of the believers has not committed the error that was committed by those few people who wanted the Holy Prophet to act as they counseled, and the believing community s remaining steadfast on the right path was due to the reason that Allah by His bounty and grace had endeared to them the path of the Faith and made unbelief, wrongdoing and disobedience abhorrent to them. The addressees in the two parts of this verse are two separate groups. The sentence beginning with lau yuti'ukum is not addressed to the entire class of the Companions but only to those particular Companions who were insisting that the Bani al-Mustaliq should be attacked at once, and the sentence beginning with wa lakin-naIlaha . . , is addressed to the general class of the Companions who would never dare insist on their own opinion and view before the Holy Messenger of Allah, but had full faith in his leadership and remained steadfast on the path of obedience, which is, and should he, the demand of true Faith. From this it cannot be concluded that those who had insisted on their own opinion were devoid of the love of the Faith, but what becomes obvious from this is that they had become forgetful of this demand of the Faith because of which they made the error of insisting on their own opinion in the presence of the Holy Prophet. Therefore, Allah first warned them of their error, then of its evil consequences, and finally stated that the right attitude for a believer was the one that had been adopted by the generality of the Companions. 11 That is, "Allah does not bestow His bounty and favour blindly, but He grants this great blessing to whomever He grants on the basis of wisdom and His knowledge that he is worthy of it. "

سورة الْحُجُرٰت حاشیہ نمبر :10 مطلب یہ ہے کہ پوری جماعت مومنین اس غلطی کی مرتکب نہیں ہوئی جس کا صدور ان چند لوگوں سے ہوا جو اپنی خام رائے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چلانا چاہتے تھے ۔ اور جماعت مومنین کے راہ راست پر قائم رہنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے اپنے فضل و احسان سے ایمان کی روش کو ان کے لیے محبوب و دل پسند بنا دیا ہے اور کفر و فسق اور نافرمانی کی روش سے انہیں متنفر کر دیا ہے ۔ اس آیت کے دو حصوں میں روئے سخن دو الگ الگ گرہوں کی طرف ہے ۔ لَوْ یُطِیْعُکُمْ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ کا خطاب پوری جماعت صحابہ سے نہیں بلکہ ان خاص اصحاب سے ہے جو بنی المصطلق پر چڑھائی کر دینے کے لیے اصرار کر رہے تھے ۔ اور وَلٰکِنَّ اللہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمْ کا خطاب عام صحابہ سے ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی رائے پر اصرار کرنے کی جسارت کبھی نہ کرتے تھے ، بلکہ آپ کی رہنمائی پر اعتماد کرتے ہوئے ہمیشہ اطاعت کی روش پر قائم رہتے تھے جو ایمان کا تقاضا ہے ۔ اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ جنہوں نے اپنی رائے پر اصرار کیا تھا وہ ایمان کی محبت سے خالی تھے ۔ بلکہ اس سے جو بات مترشح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ایمان کے اس تقاضے کی طرف سے ان کو ذہول ہو گیا تھا جس کے باعث انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اپنی رائے پر اصرار کرنے کی غلطی کی ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے ان کو اس غلطی پر ، اور اس کے برے نتائج پر متنبہ فرمایا ، اور پھر یہ بتایا کہ صحیح ایمانی روش وہ ہے جس پر صحابہ کی عام جماعت قائم ہے ۔ سورة الْحُجُرٰت حاشیہ نمبر :11 یعنی اللہ کا یہ فضل و احسان کوئی اندھی بانٹ نہیں ہے ۔ یہ نعمت عظمیٰ جس کو بھی وہ دیتا ہے حکمت کی بنا پر اور اس علم کی بنا پر دیتا ہے کہ وہ اس کا مستحق ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(49:8) فضلا من اللّٰہ ونعمۃ : فضلا و نعمۃ مفعول لہ ہیں حبب، زین ، کرہ کے۔ یعنی اللہ کی طرف سے تجیب، تزئین، تکریہہ ، اس کے فضل اور نعمت کے لئے تھی۔ یعنی فضل و نعمت کی وجہ سے تھی۔ بیضاوی لکھتے ہیں :۔ فضلا من اللّٰہ ونعمۃ تعلیل لکرہ او حبب وما بینھما اعتراض۔ فضلا من اللّٰہ ونعمتۃ تعلیل ہے کرہ کی یا حبب کی اور دونوں کے مابین جملہ معترضہ ہے۔ واللّٰہ علیہ حکیم : اور اللہ مؤمنین کے احوال کو خوب جانتا ہے اور حکیم مسلمانوں پر فضل و انعام (کا مصلحت شناس ہے) بتوفیق اسباب کرتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(8) یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے انعام و احسان کی وجہ سے ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔ ولید بن عتبہ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بنی مصطلق روانہ کیا۔ سوء اتفاق سے ولید میں اور بنی مصطلق میں زمانہ جاہلیت سے ایک خون کے متعلق عداوت چلی آتی تھی بنی مصطلق کے مسلمان ان کے استقبال کو نکلے یہ سمجھے کہ میرے قتل کو نکلے یہ ڈر کر بھاگ آئے یہاں آکر انہوں نے اطلاع دی کہ وہ قوم تو مرتد ہوگئی۔ زکوٰۃ سے انکار کیا اور انہوں نے میرے قتل کا ارادہ کیا یہ خبر سن کر بعض لوگ مشتعل ہوئے اور انہوں نے مشورہ دیا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر فوج کشی کریں اور ان کو سزا دیں لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہایت احتیاط سے کام لیا اور خالد بن ولید کو ایک چھوٹے سے لشکر کے ہمراہ خفیہ طور سے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ معاملہ کی خوب تحقیق کرو اگر واقعی وہ مرتد ہوگئے ہیں اور تم پر حملہ کریں تو تم ان کا مقابلہ کرو ورنہ زکوٰۃ لے کر چلے آئو۔ چنانچہ خالد بن ولید (رض) گئے اور زکوٰۃ لے کر چلے آئے۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بنی المصطلق کے لوگ خود آئے اور زکوٰۃ پیش کی اور سارا ماجرا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنایا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اور یہ حکم دیا گیا کہ اگر کوئی شریر اور گنہگار آدمی کوئی خبر لائے اور تم کو سنائے پہلے اس کی تحقیق کرلو اس خوف سے کہ کہیں بغیر تحقیق کے کسی قوم کو تمہارے ہاتھوں سے گزند نہ پہنچ جائے پھر تم کل کو پشیمان اور نادم ہو اور جو کچھ تم نے کیا اس پر تم کو پشیمان ہونا پڑے ۔ پھر فرمایا تم میں اللہ تعالیٰ کا رسول موجود ہے اگر یہ بہت سے کاموں میں تمہارے مشوروں کو قبول کرلیں اور ان پر عمل کرنے لگیں تو تم مشقت میں پڑجائو اور تم کو سخت مضرت پہنچے لیکن وہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا احسان ہے کہ اپنے فضل و احسان کے سبب اس نے تمہارے دلوں میں ایمان کامل کو محبوب بنادیا اور کمال ایمان کی تحصیل کو تمہارے قلوب کے لئے مرغوب اور خوش منظر کردیا اور اسی کے ساتھ کفر کی اور فسق کی یعنی کبیرہ گناہوں کی اور عصیان یعنی صغیرہ گناہوں کی نفرت پیدا کردی کہ تم کو یہ سب باتیں بری لگتی ہیں چونکہ ان لوگوں کی رائے صائب تھی جنہوں نے لشکر کشی سے پہلے تحقیق کا مشورہ دیا۔ اس لئے ان کو اولئک ھم الراشدون۔ فرمایا یعنی یہ لوگ راہ حق پر مستقیم رہنے والے ہیں جو پہاڑ کی طرح صحیح بات پر جمے رہتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کی وجہ سے ہوا۔ ایمان کامل کی محبت اور گناہوں سے نفرت یہ ان کے فضل اور احسان کی نوازش سے ہی ہوسکتا ہے وہ علیم بھی ہے ہر شخص کی حالت سے واقف ہے اور ہر ایک کو اپنی حکمت سے عطا کرنے والا ہے کیونکہ وہ بڑی حکمت والا ہے جس پر چاہتا ہے انعام کرتا ہے اور جس کو اس کی مصلحت کا تقاضا ہوتا ہے اس کو فضیلت دیتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک شخص کو حضرت نے بھیجا ایک قوم پر زکوٰۃ لینے کو وہ نکلے اس کے استقبال کو اسلام سے پہلے اس قوم میں اور اس کی قوم میں بیر تھا ڈرا کر میرے مارنے کو نکلے الٹا بھاگا مدینے میں آکر مشہور کردیا کہ فلانی قوم مرتد ہوئی حضرت ان پر فوج بھجیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ شہادت فاسق کی قبول نہیں، فاسق جس پر بےشرع کام عیاں ہوں۔ اور فرمایا یعنی تمہارا مشورہ قبول نہ ہو تو برا نہ مانو رسول عمل کرتا ہے اللہ کے حکم پر اسی میں تمہارا بھلا ہے اگر تمہاری بات مانا کرے تو ہر کوئی اپنے بھلے کی کہے کس کس کی بات پر چلے۔