Surat ul Maeeda

Surah: 5

Verse: 105

سورة المائدة

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَیۡکُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ ۚ لَا یَضُرُّکُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اہۡتَدَیۡتُمۡ ؕ اِلَی اللّٰہِ مَرۡجِعُکُمۡ جَمِیۡعًا فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾

O you who have believed, upon you is [responsibility for] yourselves. Those who have gone astray will not harm you when you have been guided. To Allah is you return all together; then He will inform you of what you used to do.

اے ایمان والو! اپنی فکر کرو ، جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ رہے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں اللہ ہی کے پاس تم سب کو جانا ہے پھر وہ تم سب کو بتلا دے گا جو کچھ تم سب کرتے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

One is Required to Reform Himself First Allah says; يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ لاَ يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ إِلَى اللّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّيُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ O you who believe! Take care of yourselves. If you follow the right guidance, no hurt can come to you from those who are in error. The return of you all is to Allah, then He will inform you about (all) that you used to do. Allah commands His believing servants to reform themselves and to do as many righteous deeds as possible. He also informs them that whoever reforms himself, he would not be affected by the wickedness of the wicked, whether they were his relatives or otherwise. Imam Ahmad recorded that Qays said, "Abu Bakr As-Siddiq stood up, thanked Allah and praised Him and then said, `O people! You read this Ayah, يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ لاَ يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ (O you who believe! Take care of yourselves. If you follow the right guidance, no hurt can come to you from those who are in error). You explain it the wrong way. I heard the Messenger of Allah say, إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الْمُنْكَرَ وَلاَ يُغَيِّرُونَهُ يُوشِكُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَعُمَّهُمْ بِعِقَابِه If the people witness evil and do not change it, then Allah is about to send His punishment to encompass them. I (Qays) also heard Abu Bakr say, `O people! Beware of lying, for lying contradicts faith."'

اپنی اصلاح آپ کرو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ خود اپنی اصلاح کریں اور اپنی طاقت کے مطابق نیکیوں میں مشغول رہیں ، جب وہ خود ٹھیک ٹھاک ہو جائیں گے تو برے لوگوں کا ان پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا خواہ وہ رشتے دار اور قریبی ہوں خواہ اجنبی اور دور کے ہوں ۔ حضرت ابن عباس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عامل ہو جائے برائیوں سے بچ جائے تو اس پر گنہگار لوگوں کے گناہ کا کوئی بوجھ بار نہیں ۔ مقاتل سے مروی ہے کہ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ ملتا ہے بروں کو سزا اچھوں کو جزا ، اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اچھی بات کا حکم اور بری باتوں سے منع بھی نہ کرے ، کیونکہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے خطبے میں فرمایا لوگو تم اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کا مطلب غلط لیتے ہو سنو! میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ لوگ جب بری باتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں نہیں روکیں گے تو بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی عام عذاب آ جائے ، امیر المومنین کا یہ فرمان بھی ہے کہ جھوٹ سے بچو جھوٹ ایمان کی ضد ( سننن اربعہ ) حضرت ابو ثعلبہ خشنی سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تم بھلائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرتے رہو یہاں تک کہ بخیلی کی پیروی اور خواہش نفس کی اتباع اور دنیا کی پسندیدگی اور ہر شخص کا اپنی رائے پر پھولنا عام نہ ہو جائے اس وقت تم صرف اپنی اصلاح میں مشغول ہو جاؤ اور عام لوگوں کو چھوڑ دو ، یاد رکھو تمہارے پیچھے صبر کے دن آ رہے ہیں اس وقت دین اسلام پر جما رہنے والا ایسا ہو گا جیسے کوئی انگارے کو مٹھی میں لئے ہوئے ہو اس وقت عمل کرنے والے کو مثل پچاس شخصوں کے عمل کا اجر ملے گا جو بھی اچھے اعمال کرے گا ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ مثل پچاس شخصوں کے ان میں سے یا ہم میں سے؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تم میں سے ( ترمذی ) حضرت ابن مسعود سے بھی جب اس آیت کا مطلب دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ وہ وقت نہیں آج تو تمہاری باتیں مان لی جاتی ہیں لیکن ہاں ایک زمانہ ایسا بھی آنے والا ہے کہ نیک باتیں کہنے اور بھلائی کا حکم کرنے والوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی جائے گی اور اس کی بات قبول نہ کی جائے گی اس وقت تم صرف اپنے نفس کی اصلاح میں لگ جانا ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مجلس میں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے دو شخصوں میں کچھ جھگڑا ہو گیا اور وہ آمنے سامنے کھڑے ہو گئے تو ایک نے کہا میں اٹھتا ہوں اور انہیں نیکی کا حکم کرتا ہوں اور برائی سے روکتا ہوں تو دوسرے نے کہا مجھے کیا پڑی؟ تو اپنی اصلاح میں لگا رہ ، پھر یہی آیت تلاوت کی اسے سن کر حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا چپ رہ اس آیت کے عمل کا یہ وقت نہیں قرآن میں کئی طرح کی آیتیں ہیں بعض تو وہ ہیں جن کے مضامین گزر چکے بعض وہ ہیں جن کے واقعات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہو گئے ، بعض کے واقعات حضور کے بعد ہوئے بعض قیامت کے دن ہوں گے مثلاً جنت دوزخ وغیرہ ، سنو جب تک تمہارے دل نہ پھٹیں تمہارا مقصود ایک ہی ہو تم میں پھوٹ نہ پڑی ہو تم میں لڑائی دنگے شروع نہ ہوئے ہوں تم اچھی باتوں کی ہدایت کرتے رہو اور بری باتوں سے روکتے رہو ۔ ہاں جب دلوں میں جدائی ہو جائے ۔ آپ میں اختلاف پڑ جائیں لڑائیاں شروع ہو جائیں اس وقت صرف اپنے تیئس پابند شریعت رکھنا کافی ہے اور وہی وقت ہے اس آیت کے عمل کا ( ابن جریر ) حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا کہ ان دنوں تو آپ اگر اپنی زبان روک لیں تو اچھا ہو آپ کو کیا پڑی کوئی کچھ ہی کرے آپ نہ کسی کو روکیں نہ کچھ کہیں دیکھئے قرآن میں بھی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم اپنے تئیں سنبھا لو گمراہوں کی گمراہی کا وبال تم پر نہیں جبکہ تم خود راہ راست پر ہو ۔ تو حضرت ابن عمر نے کہا یہ حکم میرے اور میرے ساتھیوں کیلئے نہیں اس لئے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے خبردار ہر موجود شخص غیر موجود لوگوں کو پہنچا دے ۔ پس ہم موجود تھے اور تم غیر موجود تھے ۔ یہ آیت تو ان لوگوں کے حق میں ہے جو بعد میں آئیں گے وہ لوگوں کو نیک باتیں کہیں گے لیکن ان کی بات قبول نہ کی جائے گی ( ابن جریر ) حضرت ابن عمر کی مجلس میں ایک صاحب آئے بڑے غصیل اور تیز زبان ، کہنے لگے سنیئے جناب چھ شخص ہیں سب قرآن پڑھے ہوئے جاننے بوجھنے والے مجہتد سمجھدار لیکن ہر ایک دوسرے کو مشرک بتلاتا ہے ، اس نے کہا میں تم سے نہیں پوچھتا میں تو حضرت ابن عمر سے سوال کرتا ہوں اور پھر وہی بات دوہرا دی تو حضرت عبداللہ نے فرمایا شاید تو یہ چاہتا ہے کہ میں تجھے یہ کہدوں کہ جا انہی قتل کر ڈال نہیں میں کہتا ہوں جا انہیں نصیحت کر انہیں برائی سے روک نہ مانیں تو اپنی راہ لگ ، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت کی ، خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں حضرت ابن مازن مدینے میں آتے ہیں یہاں مسلمانوں کا ایک مجمع جمع تھا جس میں سے ایک شخص نے اسی آیت کی تلاوت کی تو اکثر لوگوں نے کہا اس کے عمل کا وقت ابھی تک نہیں آیا ۔ حضرت جبیر بن نفیر کہتے ہیں میں ایک مجلس میں تھا جس میں بہت سے صحابہ کرام موجود تھے یہی ذکر ہو رہا تھا کہ اچھی باتوں کا حکم کرنا چاہیے اور بری باتوں سے روکنا چاہیے میں اس مجلس میں سب سے چھوٹی عمر کا تھا لیکن جرات کر کے یہ آیت پڑھ دی اور کہا کہ پھر اس کا کیا مطلب ہو گا ؟ تو سب نے ایک زبان ہو کر مجھے جواب دیا کہ اس کا صحیح مطلب تمہیں معلوم نہیں اور جو مطلب تم لے رہے ہو بالکل غلط ہے مجھے بڑا افسوس ہوا ، پھر وہ اپنی باتوں میں مشغول ہو گئے جب اٹھنے کا وقت آیا تو مجھ سے فرمایا تم ابھی بچے ہو بےموقعہ آیت پڑھ دیتے ہو اصلی مطلب تک نہیں پہنچتے بہت ممکن ہے کہ تم اس آیت کے زمانے کو پالو یہ حکم اس وقت ہے جب بخیلی کا دور دورہ ہو خواہش پرستی عام ہو ہر شخص اپنی سمجھ پر نازاں ہو اس وقت انسان خود نیکیوں اور بھلائیوں میں مشغول رہے گمراہوں کی گمراہی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی ۔ حضرت حسن نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا اس پر بھی اللہ کا شکر ہے اگلے اور پچھلے مومنوں کے ساتھ منافق ضرور رہے جو ان کے اعمال سے بیزار ہی رہے ، حضرت سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب تم نے اچھی بات کی نصیحت کر دی اور بری بات سے روک دیا پھر بھی کسی نے برائیاں کیں نیکیاں چھوڑیں تو تمہیں کوئی نقصان نہیں ۔ حضرت حذیفہ بھی یہی فرمائے ہیں حضرت کعب فرماتے ہیں اس کا وقت وہ ہے جب مسجد دمشق کا کلیسا ڈھا دیا جائے اور تعصب بڑھ جائے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

105۔ 1 بعض لوگوں کے ذہن میں ظاہری الفاظ سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ اپنی اصلاح اگر کرلی جائے تو کافی ہے۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ضروری نہیں ہے۔ لیکن یہ مطلب صحیح نہیں ہے کیونکہ امر بالمعروف کا فریضہ بھی نہایت اہم ہے۔ اگر ایک مسلمان یہ فریضہ ہی ترک کر دے گا تو اسکا تارک ہدایت پر قائم رہنے والا کب رہے گا ؟ جب کہ قرآن نے (جب تم خود ہی ہدایت پر چل رہے ہو) کی شرط عائد کی ہے۔ اس لئے جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے علم میں یہ بات آئی تو انہوں نے فرمایا ' لوگو ! تم آیت کو غلط جگہ استعمال کر رہے ہو، میں نے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ، جب لوگ برائی ہوتے ہوئے دیکھ لیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے عذاب کی گرفت میں لے لے۔ اس لئے آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ تمہارے سمجھانے کے باوجود اگر لوگ نیکی کا راستہ اختیار نہ کریں یا برائی سے باز نہ آئیں تو تمہارے لئے یہ نقصان دہ نہیں ہے جب کہ تم خود نیکی پر قائم اور برائی سے مجتنب ہو۔ البتہ ایک صورت میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا ترک جائز ہے کہ جب کوئی شخص اپنے اندر اس کی طاقت نہ پائے اور اس سے اس کی جان کو خطرہ ہے اس صورت میں فان لم یستطع فبقلبہ وذلک اضعف الایمان کے تحت اس کی گنجائش ہے آیت بھی اس صورت کی متحمل ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٥٣] سب سے پہلے اپنی اصلاح ضروری ہے :۔ یعنی تمہیں سب سے پہلے اپنے نفس کی اصلاح کرنی چاہیے۔ یہ نہ دیکھنا چاہیے کہ دوسرا کیا کر رہا ہے۔ بلکہ اپنے عقائد، اپنے کردار، اخلاق و اعمال کی اصلاح کتاب و سنت کی روشنی میں کرنی چاہیے۔ دوسروں کی کجروی اور گمراہی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ یعنی سب سے پہلے تمہیں اپنی دینی بنیادیں اس قدر مضبوط بنانا چاہئیں کہ دوسرے لوگوں کی ضلالت تم پر کسی طرح اثر انداز نہ ہو سکے۔ پھر اس کے بعد تمہیں بگڑے ہوئے دوسرے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنا چاہیے۔ یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دوسرے جو کچھ بھی کرتے رہیں، تمہیں ان سے بےنیاز ہو کر بس اپنی ہی فکر کرنا چاہئے۔ کیونکہ (اَمَرْ بالْمَعْرُوْفِ ) اور (نَھَی عَنِ الْمُنْکَرِ ) کا فریضہ اس قدر اہم ہے کہ بعض علماء کے نزدیک یہ فرض عین ہے۔ اور ہر شخص کو اپنی قوت، اپنے علم، اپنی استعداد کے مطابق اپنے حلقہ اثر میں یہ فرض ضرور سر انجام دینا چاہیے۔ پھر بھی اگر کوئی شخص روکنے کے باوجود باز نہ آئے۔ تو روکنے والے پر کچھ الزام نہ ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚ۔۔ : یعنی توحید اور شریعت کے احکام کی اس قدر وضاحت اور بار بار ترغیب دلانے اور اللہ کے احکام کی نافرمانی اور اس کے عذاب سے ڈرانے کے باوجود اگر یہ لوگ اپنی جہالت پر اصرار کریں تو تم ان کی گمراہی اور جہالت کی پروا نہ کرو، خود سیدھے راستے پر رہو گے تو ان لوگوں کی جہالت کا تم پر کوئی وبال نہیں ہوگا۔ یعنی اپنی اصلاح کی سب سے پہلے فکر کرو، ایسا نہ ہو کہ دوسروں کی غلطیوں اور عیوب کی فکر میں لگ کر اپنی اصلاح کو بھول ہی جاؤ۔ اگر تم سیدھے راستے پر ہو گے تو گمراہ لوگ تمہارا کچھ نقصان نہیں کرسکیں گے۔ خود سیدھے راستے اور ہدایت پر رہنے میں یہ بھی شامل ہے کہ نیکی کا حکم دیتے رہو گے اور برائی سے منع کرتے رہو گے تو ان کی گمراہی قطعاً تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ سمجھ لیا ہے کہ انسان بس اپنی نجات کی فکر کرے، دوسروں کی اصلاح ضروری نہیں۔ چناچہ اس غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے ابوبکر صدیق (رض) نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا : ” لوگو ! تم اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کا غلط مطلب لیتے ہو، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کہتے سنا ہے : ” جب لوگ ظالم کو دیکھیں، پھر اس کا ہاتھ نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب پر عذاب لے آئے۔ “ اسی حدیث میں ہے : ” کوئی قوم ایسی نہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں پر عمل کیا جاتا ہو، پھر وہ طاقت رکھتے ہوں کہ اسے بدل دیں، مگر وہ نہ بدلیں مگر قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ان سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لے۔ “ [ أبو داوٗد، الملاحم، باب الأمر والنہی : ٤٣٣٨ ] ” َ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ “ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ باوجود تمہارے امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکے لوگ باز نہ آئیں تو امر بالمعروف کرنے والوں پر کچھ بوجھ نہیں ہوگا۔ (ابن کثیر)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Criterion of Leadership This sentence of the Qur&an gives two clear criterions of choosing a leader. These are having Knowledge (` Ilm) and Guidance (Ihtida& ). Knowledge means the knowing of the desired purpose or destination and the knowing of the methods to reach it, while having Guidance means moving towards the chosen objective. Combined together, it would mean constant effort based on sound knowledge. To explain, it can be said that it is necessary to first find out - before making the choice of a leader - if he is fully conversant with the objectives and methods chosen to be followed. Then, it has to be seen whether he himself is traveling on the same path and in the same di¬rection. And then, it has to be determined whether or not his conduct is in accordance with his knowledge. So, in order to take someone as a leader to be followed, it is necessary to test him on the anvil of sound knowledge and steady conduct. None of the other options based on an¬cestry and lineage, or being in the lead followed by masses of people, or being wealthy through money or property, or being in power and authority, not one of them is worthy of being considered as the criteri¬on of leadership in the real sense. An Effective Method of Criticism At this place, the Qur&an has pointed out to the error of people who are used to following their ancestral customs blindly. However, right along with it, it has told us about an effective method which can be used when needed to identify the error of the other person, so that the addressee is not hurt or provoked. It will be noticed that the comment made in the text is not direct. It does not say that their forefathers were ignorant or astray. Instead of that, it employs a subtle interroga¬tive style in asking if the practice of following one&s forefathers could be reasonable in a situation when they did not have either knowledge or guidance. Comfort for the Reformers of People In the second verse (105), Muslims who sacrificed a great deal in their concern for reforming people have been comforted by saying that they had done their best to spread the call of truth and they had done their duty of conveying to people what was good for them. Now, if there were people who chose to stick by their error, that was not for them to worry about for their going astray will bring no loss to them. It was said: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ ۖ لَا يَضُرُّ‌كُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۚ 0 those who believe, take care of your own selves. Those who have gone astray cannot harm you, if you are on the right path. These words of the verse, if looked at outwardly, sometimes are taken in the sense that it is enough for one to only take care of one&s own conduct, and just correct it when necessary. This would leave out the others who may keep doing what they do - there was no need to think about that. Such thinking is contrary to a great many very clear statements of the Qur&an where Bidding the Fair (al-amr bil-ma` ruf) and Forbidding the Unfair (al-nahy &anil-munkar) has been declared to be an important duty in Islam and a singular distinction of the Mus¬lim community. When this verse was revealed, some people faced doubts. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) clarified by saying that the verse was not contradictory to the injunctions regarding the Bidding of the Fair. If they were to leave the mission of Bidding the Fair, they will be answerable for that. Therefore, Sayyidna Said ibn Jubayr (رض) has, in his Tafsir of the Verse as reported in Al-Bahr Al-Muhit, said: Keep doing what your religion obligates you with, which includes Jihad and Al-amr bil-ma` ruf (Bidding the Fair). If, even after doing all this, those who remain astray could bring no loss on you. A little deliberation in the words: إِذَا اهْتَدَيْتُمْ (if you are on the right path) of the Qur&an itself makes this explanation all the more clear as the converse of it shows that one who has abandoned the duty of Bidding the Fair is obviously not on the right path. Reported in Tafsir Al-Durr Al-Manthur, is an event relating to Sayyidna ` Abdullah ibn ` Umar (رض) . Someone mentioned before him a serious dispute between certain people he named who were call¬ing each other Mushriks (polytheists). Sayyidna Ibn ` Umar (رض) said: Do you think I am going to tell you to go and fight them? Never! Go, talk to them softly. If they listen, fine. If not, stop worrying about them. Get busy taking care of your own selves. After having said that, it was this very verse that he recited as the confirmation of his answer to their statement. Sayyidna Abu-Bakr رضی اللہ تعالیٰ عنہ on Checking of Sins Sensing the doubt generated by a surface view of the words of the verse, Sayyidna Abu-Bakr (رض) said in a Khutbah (address): You people recite this verse and use it out of context - that Al-amr bil-Ma` ruf (Bidding the Fair) is not required. Understand it very clearly that I have myself heard the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say that people who see a sin being committed and do not try to stop it (to the best of their ability) then, it is likely that they too are seized by the divine punishment along with the actual sinners. This narration is there in Tirmidhi and Ibn Majah. However, the words in Abu Dawud appear as follows: those who see an oppressor oppressing and do not stop him from his oppression (to the best of their ability), then, Allah Ta` ala will seize everyone in punishment. The Meaning of Ma` ruf مَعرُوف and Munkar مُنکَر From the details given earlier, we know that it is the duty of a Muslim that he should do what he can to check what is not permissi¬ble, or, at the least, show his dislike for it. Let us now find out what is Ma` ruf and Munkar. The word, Ma` ruf is from Ma` rifah and the word, Munkar is from In¬kar. Ma` rifah means to know, and to understand and recognize something after deliberation. In contrast, there is Inkar which means not to know, and not to understand and recognize something. These words are taken to be antonyms. The Holy Qur&an says: يَعْرِ‌فُونَ نِعْمَتَ اللَّـهِ ثُمَّ يُنكِرُ‌ونَهَا (16:83). It means that they recognize the blessings of Allah by seeing the manifestations of His perfect power, but thereafter they deny them as if they do not know them. This tells us that, lexically, Ma` ruf signi¬fies something well-recognized while Munkar refers to something un¬recognized. Keeping this congruity in view, Imam a1-Raghib al-Isfahan has, in his Mufradat al-Qur&an, given the meaning of Ma‘ruf and Munk¬ar as used in the terminology of the Shari’ ah. According to him, Ma` ruf refers to what is known to be good in the light of reason (` Aql) and revelation (Shar`). And Munkar means what is strange and unrecognized, that is, what is taken as bad. Therefore, Al-Amr bil Ma` ruf comes to mean bidding toward the Fair, while, Nahy &anil-Munkar signifies forbidding from the Unfair. There is nothing Legally Unfair in the sayings of the Mujtahid Imams But here, the use of the words, Ma` ruf and Munkar, in place of sin and reward or obedience and disobedience, may perhaps be indicating towards the possibility that there can be two opinions in matters which are deep and in problems which require Ijtihad due to brevity or ambiguity left in the Qur&an and Sunnah - the basis on which sayings of Muslim jurists (fuqaha& ) differ - therefore, they are excluded from this scope. The brilliance of Ijtihad done by the great Mujtahid Imams is an accepted fact among scholars and jurists of Muslim Ummah. If two views are different about a religious problem, none of them can be considered to be censurable in Shari` ah1 (al-munkar ash-Shar` i). In fact, both the sides are included under Ma` ruf. In such problems, a person who considers one opinion weightier does not have the right to reject and censure the other in the manner it is done in the case of sin. This is the reason why, despite many differences in matters of Ijtihad and opposing opinions, it has not been reported anywhere that the no¬ble Saba-bah and Tabi` in ever called each other sinners. Debates, dia¬logues, and polemics - they had all that. They presented their point of view, explained the reasons for their preference and did not hesitate in questioning what others had to say. But, nobody took anyone to be a sinner just because of this difference of opinion. 1. It must be noted here that the author is referring to the views expressed by the competent mujtahids who are equipped with deep knowledge of the Holy Qur&an and Sunnah and have expressed their bona fide view after doing their best to reach the truth. Conversely, if an incompetent person, Iacking the standard of knowledge required for ijtihad, declares a view based on his whims and conjectures, his view cannot be taken as a view based on ijtihad, therefore, he cannot claim immunity from &Nahy anil munkar&. (Muhammad Taqi Usmani) To put it briefly, it can be said that on occasions where Ijtihadi dif¬ference exists, every knowledgeable person (having the optimum sub¬ject knowledge) has the choice to take a side which is weightier in his sight. This much he can do. But, no one has the right to reject and censure what someone else has done by taking it as Munkar (evil and sinful). From here we learn that all those writings which spread mutual hatred and hostility in Ijtihadi problems and issues are not in¬cluded under the purview of Al-Amr bil-Ma’ ruf or Nahy &anil-Munkar (Bidding the Fair and Forbidding the Unfair). Opening a war front on the basis of such religious issues can only be because of unawareness or ignorance.

اصلاح خلق کی فکر کرنے والوں کو ایک تسلی دوسری آیت میں اصلاح خلق کی فکر میں سب کچھ قربان کرنے والے مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ جب تم نے حق کی تبلیغ وتعلیم میں مقدوربھر کوشش کرلی، اور نصیحت و خیر خواہی کا حق ادا کردیا، تو پھر بھی اگر کوئی گمراہی پر جما رہے تو تم اس کی فکر میں نہ پڑو، اس حالت میں دوسروں کی گمراہی یا غلط کاری سے تمہارا کوئی نقصان نہ ہوگا، ارشاد فرمایا : يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ، یعنی اے مسلمانوں تم اپنی فکر کرو، جب تم راہ پر چل رہے تو جو شخص گمراہ رہے تو اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔ اس آیت کے ظاہری الفاظ سے چونکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہر انسان کو صرف اپنے عمل اور اپنی اصلاح کی فکر کافی ہے، دوسرے کچھ بھی کرتے رہیں اس پر دھیان دینے کی ضرورت نہیں، اور یہ بات قرآن کریم کی بیشمار تصریحات کے خلاف ہے، جن میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اسلام کا اہم فریضہ اور اس امت کی امتیازی خصوصیات قرار دیا ہے، اسی لئے اس آیت کے نازل ہونے پر کچھ لوگوں کو شبہات پیش آئے، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوالات کئے گئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے توضیع فرمائی، کہ یہ آیت احکام امر بالمعروف کے منافی نہیں، امر بالمعروف کو چھوڑ دو گے تو مجروموں کے ساتھ تم بھی ماخوذ ہوگے، اسی لئے تفسیر بحر محیط میں حضرت سعید ابن جبیر رحمة اللہ علیہ سے آیت کی یہ تفسیر نقل کی ہے کہ تم اپنے واجبات شرعیہ کو ادا کرتے رہو جن میں جہاد اور امر بالمعروف بھی داخل ہے، یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی جو لوگ گمراہ رہیں تو تم پر کوئی نقصان نہیں، قرآن کریم کے الفاظ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ میں غور کریں، تو یہ تفسیر خود واضح ہوجاتی ہے، کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب تم راہ پر چل رہے ہو تو دوسروں کی گمراہی تمہارے لئے مضر نہیں، اور ظاہر ہے کہ جو شخص امر بالمعروف کے فریضہ کو ترک کردے وہ راہ پر نہیں چل رہا ہے۔ تفسیر درمنثور میں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کا واقعہ نقل کیا ہے کہ ان کے سامنے کسی نے یہ سوال کیا کہ فلاں فلاں حضرات میں باہمی سخت جھگڑا ہے، ایک دوسرے کو مشرک کہتے ہیں، تو ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ کیا تمہارا خیال ہے کہ تمہیں کہہ دوں گا کہ جاؤ ان لوگوں سے قتال کرو، ہرگز نہیں، جاؤ ان کو نرمی کے ساتھ سمجھاؤ، قبول کریں تو بہتر اور نہ کریں تو ان کی فکر چھوڑ کر اپنی فکر میں لگ جاؤ، پھر یہی آیت آپ نے جواب کی شہادت میں تلاوت فرمائی۔ گناہوں کی روک تھام کے بارے میں حضرت صدیق اکبر (رض) کا ایک خطبہ آیت کے ظاہری الفاظ سے سرسری نظر میں جو شبہ ہوسکتا تھا اس کے پیش نظر حضرت صدیق اکبر (رض) نے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کو بےموقع استعمال کرتے ہو، کہ امر بالمعروف کی ضرورت نہیں خوب سمجھ لو کہ میں نے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ جو لوگ کوئی گناہ ہوتا ہوا دیکھیں اور (مقدوربھر) اس کو روکنے کی کوشش نہ کریں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرموں کے ساتھ ان دوسرے لوگوں کو بھی عذاب میں پکڑلے۔ یہ روایت ترمذی، ابن ماجہ میں موجود ہے اور ابوداؤد کے الفاظ میں اس طرح ہے کہ جو لوگ کسی ظالم کو ظلم کرتے ہوئے دیکھیں اور اس کو ظلم سے (اپنی قدرت کے موافق) نہ روکیں تو اللہ تعالیٰ سب کو عذاب میں پکڑ لیں گے۔ معروف اور منکر کے معنی گزشتہ تفصیل سے یہ بات معلوم ہوچکی کہ ہر مسلمان پر یہ لازم ہے کہ وہ منکر یعنی ناجائز امور کی روک تھام کرے یا کم از کم ان سے اظہار نفرت کرے، اب یہ معلوم کیجئے کہ معروف اور منکر کس کو کہتے ہیں۔ لفظ معروف، معرفہ سے اور منکر انکار سے ماخوذ ہے، معرفہ کہتے ہیں کسی چیز کو غور وفکر کرکے سمجھنے یا پہچاننے کو، اس کے بالمقابل انکار کہتے ہیں نہ سمجھنے یا نہ پہچاننے کو، یہ دونوں لفظ متقابل سمجھے جاتے ہیں، قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد ہے : (آیت) یعرفون نعمت اللّٰہ ثم ینکرونھا، یعنی اللہ کی قدرت کاملہ کے مظاہر دیکھ کر اس کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں مگر پھر ازروئے عناد انکار کرتے ہیں، گویا ان نعمتوں کو جانتے نہیں، اس سے معلوم ہوا کہ لغوی معنی کے اعتبار سے معروف و منکر کے یہ معنی بیان فرمائے ہیں کہ معروف ہر اس فعل کو کہا جاتا ہے جس کا مستحسن یعنی اچھا ہونا عقل یا شرع سے پہچانا ہوا ہو، اور منکر ہر اس فعل کا نام ہے جو ازروئے عقل و شرع اوپر اور نہ پہچانا ہوا ہو، یعنی برا سمجھا جاتا ہو، اس لئے امر بالمعروف کے معنی اچھے کام کی طرف بلانے کے اور نہی عن المنکر کے معنی برے کام سے روکنے کے ہوگئے۔ ائمہ مجتہدین کے مختلف اقوال میں کوئی منکر شرعی نہیں ہوتا لیکن اس جگہ گناہ وثواب یا اطاعت و معصیت کے بجائے معروف و منکر کا لفظ استعمال کرنے میں شاید اس طرف اشارہ ہو کہ وہ دقیق اور اجتہادی مسائل جن میں قرآن و سنت کے اجمال یا ابہام کی وجہ سے دو رائیں ہو سکتی ہیں، اور اسی بناء پر ان میں فقہاء امت کے اقوال مختلف ہیں، وہ اس دائرہ سے خارج ہیں، ائمہ مجتہدین جن کی شان اجتہاد علماء امت میں مسلم ہے، اگر کسی مسئلہ میں ان کے دو مختلف قول ہوں تو ان میں سے کسی کو بھی منکر شرعی نہیں کہا جاسکتا۔ بلکہ اس کی دونوں جانبیں معروف میں داخل ہیں، ایسے مسائل میں ایک رائے کو راجح سمجھنے والے کے لئے یہ حق نہیں ہے کہ دوسرے پر ایسا انکار کرے جیسا کہ گناہ پر کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ صحابہ وتابعین میں بہت سے اجتہادی اختلافات اور متضاد اقوال کے باوجود یہ کہیں منقول نہیں کہ وہ ایک دوسرے پر ایسا انکار کرے جیسا کہ کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ صحابہ وتابعین میں بہت سے اجتہادی اختلافات اور متضاد اقوال کے باوجود یہ کہیں منقول نہیں کہ وہ ایک دوسرے پر فاسق یا گنہگار ہونے کا فتویٰ لگاتے ہوں، بحث و تمحیص اور مناظرے و مکالمے سب کچھ ہوتے تھے، اور ہر ایک اپنی رائے کی ترجیح کی وجوہ بیان کرتا اور دوسرے پر اعتراض کرتا تھا۔ لیکن کوئی کسی کو اس اختلاف کی وجہ سے گنہگار نہ سمجھتا تھا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اجتہادی اختلاف کے موقع پر یہ تو ہر ذی علم کو اختیار ہے کہ جس جانب کو راجح سمجھے اسے اختیار کرے، لیکن دوسرے کے فعل کو منکر سمجھ کر اس پر انکار کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے، اس سے واضح ہوا کہ اجتہادی مسائل میں جنگ و جدل یا منافرت پھیلانے والے مقالات و مضامین امر بالمعروف یا نہی عن المنکر میں داخل نہیں اس مسائل کو محاذ جنگ بنانا صرف ناواقفیت یا جہالت ہی کی وجہ سے ہوتا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ۝ ٠ۚ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اہْتَدَيْتُمْ۝ ٠ۭ اِلَى اللہِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝ ١٠٥ نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( ن ف س ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے ضر الضُّرُّ : سوءُ الحال، إمّا في نفسه لقلّة العلم والفضل والعفّة، وإمّا في بدنه لعدم جارحة ونقص، وإمّا في حالة ظاهرة من قلّة مال وجاه، وقوله : فَكَشَفْنا ما بِهِ مِنْ ضُرٍّ [ الأنبیاء/ 84] ، فهو محتمل لثلاثتها، ( ض ر ر) الضر کے معنی بدحالی کے ہیں خواہ اس کا تعلق انسان کے نفس سے ہو جیسے علم وفضل اور عفت کی کمی اور خواہ بدن سے ہو جیسے کسی عضو کا ناقص ہونا یا قلت مال وجاہ کے سبب ظاہری حالت کا برا ہونا ۔ اور آیت کریمہ : فَكَشَفْنا ما بِهِ مِنْ ضُرٍّ [ الأنبیاء/ 84] اور جوان کو تکلیف تھی وہ دورکردی ۔ میں لفظ ضر سے تینوں معنی مراد ہوسکتے ہیں ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ويقال الضَّلَالُ لكلّ عدولٍ عن المنهج، عمدا کان أو سهوا، يسيرا کان أو كثيرا، فإنّ الطّريق المستقیم الذي هو المرتضی صعب جدا، قال النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : «استقیموا ولن تُحْصُوا» ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ اور ضلال کا لفظ ہر قسم کی گمراہی پر بولا جاتا ہے یعنی وہ گمراہی قصدا یا سہوا معمول ہو یا زیادہ کیونکہ طریق مستقیم ۔ جو پسندیدہ راہ ہے ۔۔ پر چلنا نہایت دشوار امر ہے ۔ جیسا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(11) استقیموا ولن تحصوا کہ استقامت اختیار کرو اور تم پورے طور پر اس کی نگہداشت نہیں کرسکوگے ۔ رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے نبأ خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ، ( ن ب ء ) النبا ء کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں موجود نہ ہوں ۔ یعنی نہایت مفید ہونا اور اس سے علم یا غلبہ ظن کا حاصل ہونا اور نبا صرف اس خبر کو کہا جاتا ہے جس میں کذب کا احتمال نہ ہو ۔ جیسے خبر متواتر خبر الہیٰ اور خبر نبوی جیسے فرمایا : ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] کہہ دو کہ یہ ایک بڑی ( ہولناک چیز کی ) خبر ہے جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٥) اپنے نفسوں کی فکر کرو کیوں کہ جب تم ایمان پر قائم ہوگے تو کسی گمراہ کی گمراہی جب تم ان سے اس گمراہی کو بیان کر دو گے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی، مرنے کے بعد وہ رب کریم تمہاری نیکیاں اور سب تمہیں جتلا دیں گے، یہ آیت مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جس وقت اہل کتاب نے جزیہ دینا قبول کرلیا تھا اور ان لوگوں نے نہیں قبول کیا تھا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠٥ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ ج) (لاَ یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اہْتَدَیْتُمْ ط) ( اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) یہ آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس کا ایک غلط مطلب اور مفہوم دور صحابہ (رض) میں ہی بعض لوگوں نے نکال لیا تھا۔ وہ یہ کہ دعوت و تبلیغ کی کوئی ذمہ داری ہم پر نہیں ہے ‘ ہر ایک پر اپنی ذات کی ذمہ داری ہے ‘ کوئی کیا کرتا ہے اس سے کسی دوسرے کو کچھ غرض نہیں ہونی چاہیے۔ قرآن جو کہہ رہا ہے کہ تم پر ذمہ داری صرف اپنی جانوں کی ہے۔ اگر تم ہدایت پر ہو تو جو گمراہ ہوا وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑے گا۔ لہٰذا ہر کسی کو بس اپنا عمل درست رکھنا چاہیے ‘ کوئی دوسرا شخص اگر غلط کام کرتا ہے تو اسے خواہ مخواہ روکنے ٹوکنے ‘ اس کی ناراضگی مول لینے ‘ اَمر با لمعروف اور نہی عن المنکر کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس طرح کی باتیں جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے علم میں آئیں تو آپ (رض) نے باقاعدہ ایک خطبہ دیا کہ لوگو میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اس آیت کا مطلب غلط سمجھ رہے ہو۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ تمہاری ساری تبلیغ ‘ کوشش ‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے باوجود اگر کوئی شخص گمراہ رہتا ہے تو اس کا تم پر کوئی وبال نہیں۔ سورة البقرۃ میں ہم پڑھ چکے ہیں : (وَّلاَ تُسْءَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ ۔ ) (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) آپ سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی جہنمیوں کے بارے میں۔ یعنی ہم یہ نہیں پوچھیں گے کہ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا تھا اور پھر بھی یہ لوگ جہنّم میں کیوں چلے گئے ؟ لیکن جہاں تک دعوت و تبلیغ ‘ نصیحت و موعظت ‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا تعلق ہے ‘ یہ تو فرائض میں سے ہیں۔ اس آیت کی رو سے یہ فرائض ساقط نہیں ہوتے۔ بلکہ اس کا درست مفہوم یہ ہے کہ تمہاری ساری کوشش کے باوجود اگر کوئی شخص نہیں مانتا تو اب تمہاری ذمہ داری پوری ہوگئی۔ فرض کیجیے کہ کسی کا بچہ آوارہ ہوگیا ہے ‘ والد اپنی امکانی حد تک کوشش کیے جارہا ہے مگر بچہ راہ راست پر نہیں آ رہا ‘ تو ظاہر بات ہے کہ اگر اس نے بچے کی تربیت اور اصلاح میں کوئی کوتاہی نہیں چھوڑی تو اللہ کی طرف سے اس کی گمراہی کا وبال والد پر نہیں آئے گا۔ لیکن اپنا فرض ادا کرنا بہر حال لازم ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

119. What is stressed here is that rather than occupying himself unduly with examining faults in the belief and conduct of others, a man should pay greater attention to a critical examination of his own conduct. His primary concern should be with his own faith and conduct. If a man is himself obedient to God, observes his duties to Him and to His creatures including his duty to promote what is good and forbid what is evil, and lives according to the dictates of righteousness and honesty, he has fulfilled his obligation and if others persist either in false beliefs or in moral corruption their errors cannot harm him. This verse in no way means that a man should care only for his own salvation and should remain unconcerned with the reform of others. Abu Bakr removed this misconception in one of his sermons when he remarked: 'You recite this verse but interpret it erroneously. I have heard the Messenger of Allah (peace be on him) say that when people see corruption but do not try to change it; and when they see a wrong-doer commit wrong but do not prevent him from doing so, it is not unlikely that God's chastisement will seize them all. By God, it is incumbent upon you that you bid what is good and forbid what is evil or else God will grant domination upon you to those who are the worst among you. They will greatly chastise you and then when your righteous ones pray to God, their prayers will not be answered.'

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :119 یعنی بجائے اس کے کہ آدمی ہر وقت یہ دیکھتا رہے کہ فلاں کیا کر رہا ہے اور فلاں کے عقیدے میں کیا خرابی ہے اور فلاں کے اعمال میں کیا برائی ہے ، اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ خود کیا کر رہا ہے ۔ اسے فکر اپنے خیالات کی ، اپنے اخلاق اور اعمال کی ہونی چاہیے کہ وہ کہیں خراب نہ ہوں ۔ اگر آدمی خود اللہ کی اطاعت کر رہا ہے ، خدا اور بندوں کے جو حقوق اس پر عائد ہوتے ہیں انہیں ادا کر رہا ہے ، اور راست روی و راست بازی کے مقتضیات پورے کر رہا ہے ، جن میں لازماً امر بالمعروف و نہی عن المنکر بھی شامل ہے ، تو یقیناً کسی شخص کی گمراہی و کج روی اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہوسکتی ۔ اس آیت کا یہ منشاء ہرگز نہیں ہے کہ آدمی بس اپنی نجات کی فکر کرے ، دوسروں کی اصلاح کی فکر نہ کرے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس غلط فہمی کی تردید کرتے ہوئے اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں: ”لوگو! تم اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کی غلط تاویل کرتے ہو ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب لوگوں کا حال یہ ہوجائے کہ وہ برائی کو دیکھیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں ، ظالم کو ظلم کرتے ہوئے پائیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں ، تو بعید نہیں کہ اللہ اپنے عذاب میں سب کو لپیٹ لے ۔ خدا کی قسم تم کو لازم ہے کہ بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو ، ورنہ اللہ تم پر ایسے لوگوں کو مسلط کر دے گا جو تم میں سب سے بدتر ہوں گے اور وہ تم کو سخت تکلیفیں پہنچائیں گے ، پھر تمہارے نیک لوگ خدا سے دعائیں مانگیں گے مگر وہ قبول نہ ہوں گی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

72: کفار کی جوگمراہیاں پیچھے بیان ہوئی ہیں، ان کی وجہ سے مسلمانوں کو صدمہ ہوتا تھا کہ اپنی ان گمراہیوں کے خلاف واضح دلائل آجانے کے بعد اور آنحضرتﷺ کی طرف سے بار بار سمجھانے کے باوجود یہ لوگ اپنی گمراہیوں پر جمے ہوئے ہیں، اس آیت نے ان حضرات کو تسلی دی ہے کہ تبلیغ کا حق ادا کرنے کے بعد تمہیں ان کی گمراہیوں پر زیادہ صدمہ کرنے کی ضرورت نہیں، اور اب زیادہ فکر خود اپنی اصلاح کی کرنی چاہئے۔ لیکن جس بلیغ انداز میں یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے، اس میں ایک تو ان لوگوں کے لئے ہدایت کا بڑا سامان ہے جو ہر وقت دوسروں پر تنقید کرنے اور ان کے عیب تلاش کرنے میں تو بڑے شوق سے مشغول رہتے ہیں، مگر خود اپنے گریبان میں منہ ڈالنے کی زحمت نہیں اٹھاتے۔ ان کو دوسروں کا تو چھوٹے سے چھوٹا عیب آسانی سے نظر آجاتا ہے مگر خود اپنی بڑی سے بڑی بُرائی کا احساس نہیں ہوتا۔ ہدایت یہ دی گئی ہے کہ اگر بالفرض تمہاری تنقید صحیح بھی ہو، اور دوسرے لوگ گمراہ بھی ہوں تب بھی تمہیں تو اپنے اعمال کا جواب دینا ہے، اس لئے اپنی فکر کرو اور دوسروں پر تنقید کی فکر میں نہ پڑو۔ اس کے علاوہ جب معاشرے میں بد عملی کا چلن عام ہوجائے، تو اس وقت اصلاح کی طرف لوٹنے کا بھی بہترین نسخہ یہی ہے کہ ہر شخص دوسروں کے طرز عمل کو دیکھنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکر میں لگ جائے۔ جب افراد میں اپنی اصلاح کی فکر پیدا ہوگی تو چراغ سے چراغ جلے گا، اور رفتہ رفتہ معاشرہ بھی اصلاح کی طرف لوٹے گا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

اوپر ذکر تھا کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ جو باوجود وعظ و نصیحت کے بھی راہ راست پر نہیں آتے اس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ جو لوگ اپنی ذات سے حلال و حرام کے پابند ہیں اور اپنے بس کے موافق دوسرے کو وعظ و نصیحت بھی کرتے رہتے ہیں تو ایسے لوگوں کو بد لوگوں کی بدی سے کچھ ضرر نہیں پہنچ سکتا ہاں جو علماء اور نیک لوگ بدکار لوگوں سے میل پیدا کر کے وعظ و نصیحت بالکل چھوڑ بیٹھیں گے ان سے اس بات کی پرستش ہوگی کہ انہوں نے و عظ و نصیحت کے احکام کی تعمیل میں بےپروائی کیوں کی معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی وابن ماجہ میں حذیفہ بن الیمان (رض) کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جس بستی کے تمام علماء وعظ و نصیحت کو بالکل چھوڑ دیں گے تو اس بستی کے سب لوگوں پر کوئی آفت دینی یا دنیوی ضرور آوے گی۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ خلاف شریعت بات کی اصلاح ایمان کی نشانی ہے مسند امام احمد و سنن اربعہ صحیح ابن حبان وغیرہ میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا قصہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے منبر پر کھڑے ہو کر سب لوگوں کو یہ بات سمجھائی کہ اس آیت کی تفسیر میں وعظ و نصیحت کا حکم بھی شامل ہے یہ معنی آیت کے ہرگز نہیں ہیں کہ ایک بستی کے تمام علماء اپنی ذات سے حلال و حرام کے پابند رہیں اور وعظ و نصیحت کی بالکل پرواہ نہ کریں ترمذی نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے اس قصہ کی روایت کو صحیح کہا ہے ٣ ؎ حاصل کلام یہ ہے کہ ان صحیح حدیثوں کی بنا پر صحیح تفسیر آیت کی یہی ہے کہ آیت کے ٹکڑے اذاھتدیم کے معنی میں وعظ نصیحت بھی شریک ہے اور مطلب آیت کا وہی ہے جو حضرت ابوبکر (رض) نے منبر پر چڑھ کر لوگوں کو سمجھایا ہے اور سب صحابہ نے اس مطلب کو تسلیم کیا ہے سلف میں سے جن علماء کا قول اس مطلب صدیقی کے بر خلاف ہے ظاہراً انکا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ وعظ و نصیحت فرض کفایہ ہے بستی کے ہر ایک عالم پر اس کی پابندی ضروری نہیں ہے بلکہ بستی کے بعض عالموں کے اس پر عمل کرنے سے باقی عالم بری الذمہ ہوجاویں گے یہ منشا تو مطلب صدیق کے برخلاف نہیں ہے لیکن اس کے علاوہ آیت کی تفسیر کسی اور ڈھنگ سے کی جاوے گی تو وہ تفسیر ان آیتوں اور حدیث کے برخلاف ٹھہرے گی جن میں وعظ نصحتی کی تاکید ہے انہی وجوہات سے حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اور تفسیروں پر اس تفسیر کو ترجیح دی ہے جو مطلب صدیقی کے موافق ہے ١ ؎۔ آخر آیت میں وعظ نصیحت کرنے والوں اور وعظ نصیحت کے نہ ماننے والوں سب کو یہ تنبیہ فرمائی کہ تم سب کو ایک دن اپنے علموں کی جواب دہی اور جزا سزا کے لئے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑا ہونا پڑے گا اس کا خیال ہر ایک کو رکھنا چاہیے تاکہ عین وقت پر پچھتانا نہ پڑے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(5:105) علیکم انفسکم۔ اپنے نفسوں کی حفاظت کرو۔ تم پر اپنی جانوں کا فکر لازمی ہے ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی شرائع و احکام کی اس قدر و ضاحت اور باربار ترغیب و ترہیب کے باوجود اگر یہ لوگ جہالت پر اصرار کریں تو تم ان کی گمراہی اور جہالت کی پروا نہ کرو خود کو ٹھیک رکھو تو ان لوگوں کی جہا لت کا تم پر کوئی وبال نہ ہوگا۔ (کبیر) بعض نے اس آیت سے یہ سمجھ لیا ہے کہ انسان بس اپنی نجات کی فکر کروے دوسروں کی اصلاح ضرورت نہیں ہے چناچہ اس غلظ فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے حضرت ابوبکر (رض) صدیق نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا لوگو ! تم اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کا غلط مطلب لتیے ہو میں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے سنا ہے کہ لوگ برائی کو دیکھیں ارا سے بدلنے کی کوشش نہ کریں تو بصید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے عذاب میں سب کو گرفتار کرلے، (کبیر، ابن کثیر) بس آیت کا مطلب یہ ہے کہ باوجود امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے لوگ باز نہ آئیں تو ایسی صورت میں ان لوگوں (امر بامعروف کرنے واولں) پر کچھ بوجھ نہیں ہوگا ( ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ایک مخلص داعی دلائل کے ساتھ جب کسی شخص کو ہدایت کی دعوت دیتا ہے۔ اور سامع اس کے مقابلے میں بوسیدہ نظریات پیش کرتے ہوئے اپنی جہالت پر اصرار کرے۔ تو داعی کا اس پر دل گرفتہ ہونا فطری بات ہے اسی کیفیت سے صحابہ کرام (رض) دو چار ہوا کرتے تھے جس پر انھیں تسلی دی گئی ہے۔ صحابہ کرام (رض) اپنے اخلاص اور جدوجہد کے مقابلے میں کفار اور اہل کتاب کی ہٹ دھرمی دیکھتے تو انھیں اس بات پر سخت رنج پہنچتا۔ دل گرفتگی کے عالم میں بار بار سوچتے کہ یہ لوگ کس قدر نا عاقبت اندیش ہیں کہ ہم ان کی دنیا وآخرت کی بھلائی کی بات کرتے ہیں اور یہ اسے قبول کرنے کے بجائے ہماری جان کے درپے ہوچکے ہیں۔ اس صورتحال پر مسلمانوں کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ تمہیں دل گرفتہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ تمہارا کام حق بات پہنچانا ہے ہدایت دینا نہیں۔ اگر تم ہدایت پر قائم ہو تو گمراہ لوگ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ بالآخر تم سب نے اپنے اللہ کی طرف لوٹ کرجانا ہے وہ ہر کسی کو اس کے اچھے برے عمل اور اس کے انجام سے آگاہ فرمادے گا۔ ہدایت ایسا گراں قدر سرمایہ ہے جو چاہت اور محنت کے بغیر حاصل نہیں ہوا کرتا۔ اگر یہ لوگ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے کے لیے تیار نہیں تو ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب سب کے سب بےچون و چراں رب کبریا کی بارگاہ میں حاضر کیے جائیں گے۔ وہ انھیں ایک ایک پل کی خبر اور ہر برے عمل کی سزا دے گا۔ وہاں انھیں نہ بزرگ بچا سکیں گے اور نہ ہی ان کے آباؤ اجداد چھڑا سکیں گے۔ بعض لوگ اس آیت سے غلط استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آدمی کو کسی دوسرے کی فکر کرنے کے بجائے اپنا خیال اور اپنے کام کی طرف دھیان رکھنا چاہیے۔ اس کی بلا سے کوئی جو چاہے کرتا رہے۔ ایسے نام نہاد دانشور تمام احکامات کو جان بوجھ کر فراموش کردیتے ہیں جن میں ہر شخص کو اپنے متعلقین کا مسؤل بنایا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ اس امت کے وجود کی ہی نفی کردیتے ہیں حالانکہ اس امت کا مقصد اپنی اور لوگوں کی اصلاح کرنا ہے۔ (کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ للنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَلَوْٓ اٰمَنَ أَہْلُ الْکِتَابِ لَکَانَ خَیْرًا لَّہُمْ مِنْہُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَکْثَرُہُمُ الْفَاسِقُونَ )[ آل عمران : ١١٠] ”(اے مسلمانو ! ) تم بہترین امت ہو جنہیں لوگوں (کی اصلاح وہدایت) کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ تم لوگوں کو بھلے کاموں کا حکم دیتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا۔ ان میں سے کچھ لوگ مومن ہیں مگر ان کی اکثریت فاسق ہے۔ “ (عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَاب (رض) سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ مَنْ رَأٰی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ وَذٰلِکَ أَضْعَفُ الْإِیمَانِ )[ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب کون النھی عن المنکر من الایمان وان الایمان۔۔ الخ ] ” حضرت طارق بن شھاب (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو کوئی تم میں سے برائی دیکھے اسے چاہیے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے اگر اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو زبان کے ساتھ روکے اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ دل سے برا جانے۔ یہ ضعیف ایمان کی نشانی ہے۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ (رض) یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْءُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجمعۃ، باب جمعۃ فی القری والمدن ] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے ہر کوئی ذمہ دار ہے اور وہ اپنی ذمہ داری کا جواب دہ ہے۔ “ مسائل ١۔ دوسروں کے بجائے اپنی فکر مقدم ہونی چاہیے۔ ٢۔ حقیقی ہدایت یافتہ لوگوں کو کوئی بھی گمراہ نہیں کرسکتا۔ ٣۔ تمام لوگوں کو اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ ٤۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر کسی کو اس کے اچھے برے اعمال کی جزا اور سزادے گا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر : ١٠٥۔ یہ اہل ایمان اور ان کے مخالف کیمپ کے درمیان ایک مکمل جدائی ہے اور ان کے اپنے درمیان باہم کفالت اور ضمانت ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہمدردی اور یہ کہ وہ ایک امت اور ایک جماعت ہیں ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ عَلَیْْکُمْ أَنفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُم مَّن ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْْتُمْ (٥ : ١٠٥) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اپنی فکر کرو ‘ کسی دوسرے کی گمراہی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا “۔ تم ایک اکائی ہو اور تم دوسروں سے علیحدہ اور ممتاز ہو ۔ تم باہم متضامن اور متکافل ہو ‘ اس لئے تم اپنے محور کے گرد جمے رہو۔ اپنے آپ کو پاک رکھو۔ اپنا تزکیہ کرو ‘ اپنی جماعت اور اپنی جمعیت کی فکر کرو ‘ اگر تم راہ ہدایت پر جمے رہے تو کسی کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہ دے سکے گی ۔ اس لئے کہ تم ایک علیحدہ جمعیت ہو اور دوسروں سے الگ ہو ۔ تم ایک دوسرے کے دوست ہمدرد اور باہم کفیل ہو۔ تمہاری دوسری امتوں کے ساتھ دوستی نہیں ہے اور نہ ان کے ساتھ دلی ربط ہے ۔ یہ ایک آیت ہی واضح کردیتی ہے کہ اس امت اور دوسری امم کے باہم ربط وتعلق کے اصول کیا ہوں گے ؟ اور دوسری اقوام کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی ۔ امت مسلمہ اللہ کی پارٹی ہے اور امت کی علاوہ جو بھی امتیں ہیں وہ شیطان کی پارٹیاں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ اور دوسری امتوں کے درمیان دوستی اور باہم تضامن قائم نہیں ہو سکتا اس لئے امت مسلمہ اور دوسری امم کے درمیان کوئی نظریاتی اشتراک نہیں ہے ۔ نہ مقاصد کا اشتراک ہے اور نہ وسائل ومقاصد میں ان کے درمیان یگانگت ہے ۔ نہ ذمہ داریوں اور نہ انکی جزاء میں اتحاد ہے ۔ امت مسلمہ کا فرض یہ ہے کہ وہ باہم متضامن اور کفیل ہوں اور اس کے افراد ایک دورے کے ہمدرد اور مخلص ہوں ۔ وہ اللہ کی ہدایت پر چلتے رہیں اس لئے کہ اللہ ہی نے تو انہیں ایک علیحدہ امت قرار دیا ہے ۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو دنیا کی کوئی قوت انہیں نقصان نہ پہنچا سکے گی اگرچہ ان کے اردگرد تمام لوگ گمراہی کو اختیار کرلیں ۔ لیکن یہ اصول اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک امت ہدایت پر ہو اور قائم ہو ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امت مسلمہ فریضہ دعوت دین سے ہاتھ کھینچ لے ۔ اس کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کو دین اور ہدایت کی طرف بلائے کیونکہ لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف بلانا ہی ہمارا دین ہے ۔ یہی ہمارا نظام ہے ۔ جب امت اس کرہ ارض پر کہیں اپنا نظام قائم کرلے تو پھر اس کا فرض ہے کہ وہ تمام انسانوں کو اس دین کی طرف دعوت دے ۔ اور پھر انہیں ہدایت دینے کی سعی کرے ۔ یہ فرض اس پر بہرحال رہتا ہے کہ وہ انہیں عدل و انصاف کی راہ پر چلائے ۔ عدل کی نگرانی کرے اور انسانوں کو مزید گمراہی کے راستے پر چلنے سے بچائے ۔ انہیں اس جاہلیت میں داخل ہونے کی اجازت نہ دے جس سے اللہ نے انہیں نکالا ۔ یہ بات کہ امت اپنے نفس ہی کی ذمہ دار ہے اور اگر وہ ہدایت پر ہو تو دوسروں کی گمراہی سے اس کو کوئی نہ ہوگا ۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اگر وہ امر بالعروف اور نہی عن المنکر میں کوتاہی کرے تو اس سے کوئی محاسبہ نہ ہوگا اس پر یہ فرض ہے کہ پہلے امت کی صفوں کے اندر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرے اور اس کے بعد پورے کرہ ارض پر یہ فریضہ ادا کرے ۔ یہاں سب سے پہلا اور اہم معروف یہ ہے کہ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کیا جائے اور اللہ کی شریعت کو قانون تسلیم کیا جائے ۔ سب سے بڑا منکر جاہلیت اور اللہ کے حق حاکمیت پر دست درازی ہے ۔ جاہلیت کا حکم بھی طاغوت کا حکم ہے اور طاغوت کی حکومت ہونی ہی وہ ہے جس میں اللہ کے سوا کسی اور کی حکمرانی ہو جبکہ امت مسلمہ پہلے خود اپنے اوپر قوام ہے اور پھر پوری انسانیت پر قوام ہے ۔ اس آیت کا مفہوم و مراد وہ نہیں ہے جس طرح بعض قدیم مفسرین نے سمجھا ہے اور جس طرح بعض جدید لوگ سمجھتے ہیں یعنی یہ کہ ایک فرد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مکلف نہیں ہے بشرطیکہ وہ خود درست طرز عمل اختیار کئے ہوئے ہو ۔ نہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ امت مسلمہ بھی اس کرہ ارض پر اللہ کی شریعت کے قیام کی مکلف نہیں ہے ۔ بشرطیکہ وہ بذات خود راہ راست پر ہو اگرچہ اس کے اردگرد لوگ گمراہ ہوں ۔ یہ آیت نہ ایک مومن کو اور نہ پوری امت کو دنیا میں پائے جانے والی برائی کے مقابلے سے بری الذمہ قرار دیتی ہے ۔ ضلالت اور نافرمانی کا مقابلہ فرض ہے اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ سب سے بڑی گمراہی یہ ہے کہ کوئی اللہ کے حق حاکمیت پر دست درازی کرے اور اللہ کا حق قانون سازی غصب کرے ۔ یہ ایک ایسا منکر ہے جس سے نہ کسی فرد کو فائدہ ہوتا ہے اور نہ امت کو اور جب تک یہ منکر قائم رہے کوئی امت فلاح نہیں پا سکتی ۔ اصحاب سنن نے یہ روایت کی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے ایک بار تقریر فرمائی اور کہا : ” لوگو ! تم یہ آیت پڑھتے ہو ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ عَلَیْْکُمْ أَنفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُم مَّن ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْْتُمْ إِلَی اللّہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعاً فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ (105) اس آیت کا اطلاق تم ایسی صورت حال پر کرتے ہو جو اس کی مراد نہیں ہے میں نے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ لوگ جب برائی کو دیکھیں اور اسے روکنے کی کوشش نہ کریں تو ممکن ہے کہ اللہ سب کو عذاب میں مبتلا کردے ۔ “ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے نہایت ہی وقت پر اس غلط فہمی کا ازالہ فرمایا ۔ یہ غلط فہمی ان کے دور میں بعض لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوگئی تھی ۔ آج ہم تو اس نصیحت کے بہت ہی محتاج ہیں ۔ کیونکہ آج منکر کو دور کرنے کے فرائض بہت ہی مشکل ہوگئے ہیں اس لئے ہم جیسے ضعیف لوگ اس آیت کے اس مفہوم کی طرف بہت جلد مائل ہو سکتے ہیں ۔ اس طرح وہ جہاد کی مشقت اور مشکلات سے نجات پالیں گے اور ان کو جہاد فی سبیل اللہ کی مشکلات کو برداشت نہ کرنا پڑے گا ۔ ہر گز یہ مفہوم مراد نہیں ہو سکتا ‘ اس لئے کہ یہ فریضہ صرف جدوجہد اور جہاد ہی کے ذریعہ قائم ہو سکتا ہے اس لئے دین کے لئے کچھ ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو عوام کو اس دین کی طرف دعوت دیں ۔ لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکلا کر اللہ کی غلامی میں داخل کریں اور دنیا میں اللہ کی حاکمیت کو قائم کریں ۔ اللہ کا حق حاکمیت جن لوگوں نے چھین لیا ہے ‘ ان سے وہ حق چھین لیں ۔ لوگوں کی زندگیوں پر اللہ کی شریعت نافذ کریں اور انہیں شریعت پر استوار کریں ۔ اس مقصد کے لئے جدوجہد لازمی ہے تاکہ گمراہ افراد تک نیکی اور روشنی پہنچانے کی جدوجہد کی جائے ۔ اگر کوئی قوت لوگوں کو راہ ہدایت پر آنے سے روک رہی ہو تو اس کا مقابلہ قوت سے کیا جائے ۔ اس قوت کے اثرات کو ختم کیا جائے جو دین اسلام کو معطل رکھتی ہے اور اسلامی نظام اور اسلامی شریعت کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے ۔ اسلام کی راہ میں آڑے آنے والی اس رکاوٹ کو دور کرنے کے بعد اہل ایمان کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے اور تب ہی گمراہ اپنی سزا خود بھگتیں گے جب وہ اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے ۔ (آیت) ”إِلَی اللّہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعاً فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ (105) اگر تم خود راہ راست پر ہو ‘ اللہ کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے ‘ پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرے رہے ہو ۔ “ اب ان احکام شرعیہ میں سے آخری حکم بیان کیا جاتا ہے ‘ جو اس سورة میں ذکر ہیں اور اس حکم کا تعلق اسلامی معاشرے کے بعض اجتماعی امور سے ہے ۔ یہ حکم اس بارے میں ہے کہ اگر کوئی سفر میں وصیت کر رہا ہوں تو اس پر دو منصف اور عادل قسم کے گواہ ٹھہرائے ‘ ایسے حالات میں کہ جب وہ اپنے معاشرے اور خاندان سے دور ہو ۔ یہ گواہی اس لئے قائم کی جاتی ہے تاکہ حق حقدار تک پہنچ سکے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اپنے نفسوں کی اصلاح کرو اس آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا کہ اپنی جانوں کی فکر کریں اعمال صالحہ میں لگے رہیں اور گناہ سے بچتے رہیں۔ اگر خود ہدایت پر ہوں گے تو دوسرا کوئی شخص جو گمراہ ہوگا وہ ضرر نہ پہنچا سکے گا۔ الفاظ کے عموم سے یہ ابہام ہوتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ضروری نہیں، لیکن حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اس وہم کو دور فرما دیا اور فرمایا کہ تم لوگ یہ آیت (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ ) پڑھتے ہو اور اس کا مطلب غلط لیتے ہو کہ نہی عن المنکر ضروری نہیں تمہارا یہ سمجھنا صحیح نہیں۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ لوگ جب منکر کو دیکھیں اور اس کی تغییر نہ کریں (یعنی اسے دور نہ کریں) تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب پر عام عذاب بھیج دے گا۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ١٠٩ ازمسند احمد) مفسر ابن کثیر نے بحوالہ عبدالرزاق نقل کیا ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) سے ایک شخص نے آیتہ شریفہ (عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّ کُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ ) کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا کہ یہ وہ زمانہ نہیں ہے (جس میں اپنی ذات کو لے کر بیٹھ جاؤ اور نہی عن المنکر نہ کرو) آج تو بات مانی جاتی ہے۔ (یعنی تبلیغ کا اثر لیا جاتا ہے) ہاں عنقریب ایسازمانہ آئے گا کہ تم امر بالمعروف کروگے تو تمہارے ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے گا۔ یا یوں فرمایا کہ اس وقت تمہاری بات قبول نہ کی جائے گی۔ اس وقت آیت پر عمل کرنے کا موقع ہوگا۔ سنن ترمذی میں ابو امیہ شعبانی کا بیان نقل کیا ہے کہ میں حضرت ابو ثعلبہ خشنی (رض) کے پاس آیا اور میں نے کہا اس آیت کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اس آیت کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا تھا آپ نے فرمایا کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرتے رہو یہاں تک جب تم دیکھو کہ کنجوسی کا اتباع کیا جاتا ہے اور خواہشات کا اتباع کیا جاتا ہے اور ہر رائے والا اپنی رائے کو پسند کرتا ہے تو اس وقت اپنی جان کی حفاظت کرلینا اور عوام کو چھوڑ دینا۔ کیونکہ تمہارے پیچھے ایسے دن آنے والے ہیں کہ ان میں دین پر جمنے والا ایساہو گا جیسے اس نے ہاتھ میں آگ کے انگارے پکڑ لئے ہوں۔ ان دونوں میں عمل کرنے والے کو ایسے پچاس آدمیوں کا ثواب ملے گا جو تمہارا جیسا عمل کرے۔ (قال الترمذی ہذا حدیث حسن) ان روایات سے معلوم ہوا کہ آیت میں یہ نہیں بتایا کہ ہر شخص ابھی سے اپنی اپنی جان کو لیکر بیٹھ جائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کرے۔ اپنی جان کی صلاح واصلاح کے ساتھ لے کر بیٹھنے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر چھوڑ دینے کا وقت اس وقت آئیگا جب کوئی کسی کی نہ سنے گا۔ اور جو شخص امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام انجام دے گا اس کو لوگوں کی طرف سے ایسی مصیبتوں اور تکلیفوں میں مبتلا ہونا پڑے گا۔ جیسے کوئی شخص ہاتھ میں چنگاری لے لے۔ البتہ اپنے اعمال ذاتیہ اور اپنی اصلاح کی خبر رکھنا ہر حال میں ضروری ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

170 اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کو اپنی جان کی فکر کرنی چاہئے اور دوسروں کو اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہئے حالانکہ قرآن وسنت سے ثابت ہے کہ ہر شخص اپنی بساط اور اپنے علم کے مطابق تبلیغ فرض ہے۔ یہ الجھن اس وقت پیش آتی ہے جب انفسکم سے ہر آدمی کی اپنی جان مراد لی جائے۔ لیکن محقق مفسرین کی رائے یہ ہے۔ کہ یہاں انفسکم سے تمام اہل اسلام مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اے ایمان والو تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے تمام اہل اسلام کو ہلاکت اور اللہ کے عذاب سے بچاؤ۔ جب تم سب ہدایت یافتہ ہوجاؤ گے اور تمہارا ایمان و عمل درست ہوجائے گا تو کفار و مشرکین تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ چناچہ حضرت صدیق اکبر (رض) کا قول اس پر دال ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں واصح التاویلا تعندنا بتاویل ھذہ الایۃ ما روی عن ابی بکر الصدیق فیھا وھو یا ایہا الذین امنوا علیکم انفسکم الزموا العمل بطاعۃ اللہ و بما امرکم بہ وانتھوا عما نھاکم اللہ عنہ لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم یقول فانہ لا یضرکم ضلال من ضل اذا انتم دمتم العمل بطاعۃ اللہ و ادیتم فیمن ضل من الناس ما الزمکم اللہ بہ فیہ من فرض الامر بالمعروف والنہی عن المنکر الذی ترکبہ او تحاول رکوبہ والاخذ علی یدیہ اذا دام ظلماً (ابن جریر ج 8 ص 60) ۔ اور حضرت عبداللہ بن مبارک سے منقول ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں یہ آیت سب سے زیادہ تاکید کر رہی ہے قال عبداللہ بن المبارک ھذہ اوکد ایۃ فی وجوب الامر بالمعروف والنہی عن المنکر فانہ قال علیکم انفسکم یعنی علیکم اھل دینکم۔ یعنی بان یعظ بعضکم بعضا و یرغب بعضکم بعضا فی الخیرات و ینفرہ عن القبائح والسیئات الخ (کبیر ج 3 ص 681) اب اس آیت کا ماقبل سے ربط یہ ہوا کہ تحریمات غیر اللہ کے مضمون کا اعادہ کرنے کے بعد تمام اہل ایمان کو تاکید فرمائی کہ وہ ایک دوسرے کو توحید پر قائم رہنے اور دیگر نیک اعمال بجا لانے کی تلقین کریں اور شرک اور دیگر برائیوں سے ان کو روکیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

105 اے اہل ایمان تم اپنی اصلاح کو لازم پکڑو اور اپنی جانوں کا فکر تم کو ضروری ہے اگر کوئی شخص باوجود تمہارے سمجھانے اور امر با لا معروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو ادا کرنے کے بعد بھی نصیحت نہیں قبول کرتا اور گمراہی پر جما رہتا ہے تو تم کو اس کی گمراہی سے کوئی نقصان نہیں پہونچ سکتا جب کہ تم ہدایت پر قائم رہوتم سب لوگوں کی بازگشت اور تم سب کی واپسی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے سو وہ تم کو ان تمام اعمال سے آگاہ اور باخبر کر دے گا جو تم یہاں کیا کرتے تھے یعنی ہدایت پر قائم رہنے والوں کو ان کا پھل ملے گا اور باوجود سمجھانے کے نہ ماننے والوں کو ان کے کئے کا بدلہ ملے گا۔