Surat ul Maeeda

Surah: 5

Verse: 17

سورة المائدة

لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ ؕ قُلۡ فَمَنۡ یَّمۡلِکُ مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا اِنۡ اَرَادَ اَنۡ یُّہۡلِکَ الۡمَسِیۡحَ ابۡنَ مَرۡیَمَ وَ اُمَّہٗ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا ؕ وَ لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا ؕ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۷﴾

They have certainly disbelieved who say that Allah is Christ, the son of Mary. Say, "Then who could prevent Allah at all if He had intended to destroy Christ, the son of Mary, or his mother or everyone on the earth?" And to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth and whatever is between them. He creates what He wills, and Allah is over all things competent.

یقیناً وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہاکہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے ، آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اگر اللہ تعالٰی مسیح ابن مریم اور اس کی والدہ اور روئے زمین کے سب لوگوں کو ہلاک کر دینا چاہیے تو کون ہے جو اللہ پر کچھ بھی اختیار رکھتا ہو؟ آسمانوں و زمین اور دونوں کے درمیان کا کل ملک اللہ تعالٰی ہی کا ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور اللہ تعالٰی ہرچیز پر قادر ہے

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Polytheism and Disbelief of the Christians Allah says; لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَألُواْ إِنَّ اللّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ... Surely, in disbelief are they who say that Allah is the Messiah, son of Maryam. Allah states that the Christians are disbelievers because of their claim that `Isa, son of Maryam, one of Allah's servants and creatures, is Allah. Allah is holier than what they attribute to Him. Allah then reminds them of His perfect ability over everything and that everything is under His complete control and power, ... قُلْ فَمَن يَمْلِكُ مِنَ اللّهِ شَيْيًا إِنْ أَرَادَ أَن يُهْلِكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ وَمَن فِي الاَرْضِ جَمِيعًا ... Say: "Who then has the least power against Allah, if He were to destroy the Messiah, son of Maryam, his mother, and all those who are on the earth together." Therefore, if Allah wills to do that, who would be able to stop Him or prevent Him from doing it. Allah then said, ... وَلِلّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا يَخْلُقُ مَا يَشَاء ... And to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth, and all that is between them. He creates what He wills. All things in existence are Allah's property and creation and He is able to do everything. He is never asked about what He does with His power, domain, justice and greatness so this refutes the Christian creed, may Allah's continued curses be upon them until the Day of Resurrection. ... وَاللّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ And Allah is able to do all things. Refuting the People of the Book's Claim that they are Allah's Children Allah then refutes the Christians' and Jews' false claims and lies,

اللہ وحدہ شریک ہے اللہ تبارک و تعالیٰ عیسائیوں کے کفر کو بیان فرماتا ہے کہ انہوں نے اللہ کی مخلوق کو الوہیت کا درجہ دے رکھا ہے ۔ اللہ تعالیٰ شرک سے پاک ہے ، تمام چیزیں اس کی محکوم اور مقدور ہیں ، ہر چیز پر اس کی حکومت اور ملکیت ہے ۔ کوئی نہیں جو اسے کسی ارادے سے باز رکھ سکے ، کوئی نہیں جو اس کی مرضی کے خلاف لب کشائی کی جرأت کر سکے ۔ وہ اگر مسیح کو ، ان کی والدہ کو اور روئے زمین کی تمام مخلوق کا موجد و خالق وہی ہے ۔ سب کا مالک اور سب کا حکمراں وہی ہے ۔ جو چاہے کر گزرے کوئی چیز اس کے اختیار سے باہر نہیں ، اس سے کوئی باز پرس نہیں کر سکتا ، اس کی سلطنت و مملکت بہت وسیع ہے ، اس کی عظمت ، عزت بہت بلند ہے ، وہ عادل و غالب ہے ۔ جسے جس طرح چاہتا ہے بناتا بگاڑتا ہے ، اس کی قدرتوں کی کوئی انتہاء نہیں ۔ نصرانیوں کی تردید کے بعد اب یہودیوں اور نصرانیوں دونوں کی تردید ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ پر ایک جھوٹ یہ باندھا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں ، ہم انبیاء کی اولاد ہیں اور وہ اللہ کے لاڈلے فرزند ہیں ، اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسرائیل کو کہا ہے ( انت ابنی بکری ) پھر تاویلیں کر کے مطلب الٹ پلٹ کر کے کہتے کہ جب وہ اللہ کے بیٹے ہوئے تو ہم بھی اللہ کے بیٹے اور عزیز ہوئے حالانکہ خود ان ہی میں سے جو عقلمند اور صاحب دین تھے وہ انہیں سمجھاتے تھے کہ ان لفظوں سے صرف بزرگی ثابت ہوتی ہے ، قرابت داری نہیں ۔ اسی معنی کی آیت نصرانی اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ نے فرمایا ( انی ذاھب الی ابی وابیکم ) اس سے مراد بھی سگا باپ نہ تھا بلکہ ان کے اپنے محاورے میں اللہ کیلئے یہ لفظ بھی آتا تھا پس مطلب اس کا یہ ہے کہ میں اپنے اور تمہارے رب کی طرف جا رہا ہوں اور عبادت کا مفہوم واضح بتا رہا ہے کہ یہاں اس آیت میں جو نسبت حضرت عیسیٰ کی طرف سے ، وہی نسبت ان کی تمام امت کی طرف ہے لیکن وہ لوگ اپنے باطل عقیدے میں حضرت عیسیٰ کو اللہ سے جو نسبت دیتے ہیں ، اس نسبت کا اپنے اپنے اوپر اطلاق نہیں مانتے ۔ پس یہ لفظ صرف عزت و وقعت کیلئے تھا نہ کہ کچھ اور ۔ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے کہ اگر یہ صحیح ہے تو پھر تمہارے کفر و کذب ، بہتان و افتراء پر اللہ تمہیں سزا کیوں کرتا ہے؟ کسی صوفی نے کسی فقیہ سے دریافت فرمایا کہ کیا قرآن میں یہ بھی کہیں ہے کہ حبیب اپنے حبیب کو عذاب نہیں کرتا ؟ اس سے کوئی جواب بن نہ پڑا تو صوفی نے یہی آیت تلاوت فرما دی ، یہ قول نہایت عمدہ ہے اور اسی کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ راہ سے گزر رہے تھے ۔ ایک چھوٹا سا بچہ راستہ میں کھیل رہا تھا ، اس کی ماں نے جب دیکھا کہ اسی جماعت کی جماعت اسی راہ آ رہی ہے تو اسے ڈر لگا کہ بچہ روندا نہ جائے میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی ہوئی آئی اور جھٹ سے بچے کو گود میں اٹھا لیا اس پر صحابہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ عورت تو اپنے پیارے بچے کو کبھی بھی آگ میں نہیں ڈال سکتی آپ نے فرمایا ٹھیک ہے ، اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے بندوں کو ہرگز جہنم میں لے جائیگا ۔ یہودیوں کے جواب میں فرماتا ہے کہ تم بھی منجملہ اور مخلوق کے ایک انسان ہو تمہیں دوسروں پر کوئی فوقیت و فضیلت نہیں ، اللہ سبحان و تعالیٰ اپنے بندوں پر حاکم ہے اور وہی ان میں سچے فیصلے کرنے والا ہے ، وہ جسے چاہے بخشے جسے چاہے پکڑے ، وہ جو چاہے کر گزرتا ہے ، اس کا کوئی حاکم نہیں ، اسے کوئی رد نہیں کر سکتا ، وہ بہت جلد بندوں سے حساب لینے والا ہے ۔ زمین و آسان اور ان کے درمیان کی مخلوق سب اس کی ملکیت ہے اس کے زیر اثر ہے ، اس کی بادشاہت تلے ہے ، سب کا لوٹنا اس کی طرف ہے ، وہی بندوں کے فیصلے کریگا ، وہ ظالم نہیں عادل ہے ، نیکوں کو نیکی اور بدوں کو بدی دے گا ، نعمان بن آصا ، بحربن عمرو ، شاس بن عدی جو یہودیوں کے بڑے بھاری علماء تھے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے انہیں سمجھایا بجھایا ، آخرت کے عذاب سے ڈرایا تو کہنے لگے سنئے ، حضرت آپ ہمیں ڈرا رہے ہیں ، ہم تو اللہ کے بچے اور اس کے پیارے ہیں ، یہی نصرانی بھی کہتے تھے پس یہ آیت اتری ۔ ان لوگوں نے ایک بات یہ بھی گھڑ کر مشہور کر دی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسرائیل کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تیرا پہلو نٹھا بیٹا میری اولاد میں سے ہے ۔ اس کی اولاد چالیس دن تک جہنم میں رہے گی ، اس مدت میں آگ انہیں پاک کر دے گی اور ان کی خطاؤں کو کھا جائے گی ، پھر ایک فرشتہ منادی کرے گا کہ اسرائیل کی اولاد میں سے جو بھی ختنہ شدہ ہوں ، وہ نکل آئیں ، یہی معنی ہیں ان کے اس قول کے جو قرآن میں مروی ہے وہ کہتے ہیں ہمیں گنتی کے چند ہی دن جہنم میں رہنا پڑے گا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

17۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور ملکیت تامہ کا بیان فرمایا ہے۔ مقصد عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت مسیح کا رد وابطال ہے۔ حضرت عیسیٰ کے عین اللہ ہونے کے قائل پہلے تو کچھ ہی لوگ تھے یعنی ایک ہی فرقہ۔ یعقوبیہ کا یہ عقیدہ تھا لیکن اب تمام عیسائی الوہیت مسیح کے کسی نہ کسی انداز سے قائل ہیں۔ اس لئے مسیحیت میں اب عقیدہ تثلیث یا اقانیم ثلاثہ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ بہرحال قرآن نے اس مقام پر تصریح کردی کہ کسی پیغمبر اور رسول کو الٰہی صفات سے متصف قرار دینا کفر صریح ہے۔ اس کفر کا ارتکاب عیسائیوں نے، حضرت مسیح کو اللہ قرار دے کر کیا، اگر کوئی اور گروہ یا فرقہ کسی اور پیغمبر کو بشریت و رسالت کے مقام سے اٹھا کر الوہیت کے مقام پر فائز کرے گا تو وہ بھی اسی کفر کا ارتکاب کرے گا،

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٥] نصاریٰ کا قول کہ عیسیٰ ہی عین اللہ ہے اور اس کا رد :۔ یہ کافر لوگ عیسائی یا نصاریٰ ہیں جنہوں نے عیسیٰ کی بشریت میں الوہیت کو ضم کرنے کی کوشش کی۔ یہ انداز فکر چونکہ سراسر گمراہی اور شرک پر مبنی تھا۔ اس لیے گمراہی کی کئی راہیں پیدا ہوگئیں۔ ایک فرقے نے الوہیت کے پہلو کو نمایاں کیا تو کہا کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ کے جسم میں حلول کر گیا لہذا وہ اللہ تعالیٰ کا عین ہے یا عین اللہ تعالیٰ ہے اور جنہوں نے بشریت کے پہلو کو نمایاں کیا انہوں نے کہا کہ عیسیٰ عین اللہ تو نہیں البتہ ابن اللہ ضرور ہیں۔ اور جنہوں نے درمیانی تیسری گمراہی کی راہ اختیار کی انہوں نے کہا کہ اللہ ایک نہیں بلکہ تین ہیں اور تینوں ہی ازلی ابدی ہیں۔ ایک اللہ دوسرے عیسیٰ (علیہ السلام) اور تیسرے روح القدس پھر یہ تین مل کر بھی ایک الہ بنتا ہے۔ پھر مدتوں بعد سیدہ مریم کو بھی الوہیت میں شریک سمجھا جانے لگا (وغیرہ من الخرافات ) [٤٢] عیسائی حضرات عیسیٰ (علیہ السلام) اور سیدہ مریم دونوں کو الوہیت میں شریک بناتے ہیں جبکہ سیدنا عیسیٰ اپنے آپ کو (بقول نصاریٰ ) صلیب پر چڑھنے سے اور سیدہ مریم یہود کی تہمت سے اپنے آپ کو بچا نہ سکے تو پھر ان کی الوہیت کیسی تھی ؟ اور اگر اللہ ان دونوں کو اور ان کے علاوہ جتنے بھی انسان اس زمین پر موجود ہیں سب کو آن کی آن میں نیست و نابود کر دے تو کوئی ہے جو اس کا ہاتھ پکڑ سکے ؟ کیونکہ ان تمام چیزوں کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے اور مالک بھی وہی ہے۔ اور مالک کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی ملکیت کی چیز میں جیسے چاہے تصرف کرے۔ [٤٧] یعنی اس نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور حوا کو ماں کے بغیر اور سیدنا آدم کی وساطت سے پیدا کیا اور سیدنا آدم کو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا کیا اور چوتھی اور سب سے عام شکل یہ ہے کہ وہ مرد اور عورت کے ملاپ سے پیدا کرتا ہے اور وہ ہر طرح سے پیدا کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ [٤٨] یہود و نصاری کا یہ قول کہ ہم اللہ کے بیٹے اور چہیتے ہیں :۔ یعنی وہ سزا جو انہیں اس دنیا میں ہی مل رہی ہے اگر وہ فی الواقع اللہ کے محبوب ہیں تو یہ سزا اور رسوائی کیوں ہو رہی ہے۔ سابقہ ادوار میں دو دفعہ تمہیں تباہ و برباد کیا گیا اور آج تمہاری کیا حالت ہے ؟ کیا کوئی اپنے محبوب یا پیاروں کو بھی سزا دیتا اور رسوا کرتا ہے ؟ اس سے یہ معلوم ہوا کہ ان کا یہ دعویٰ بالکل باطل اور بےبنیاد ہے۔ دوسرا دعویٰ ان کا یہ تھا کہ ہم انبیاء کی اولاد ہیں اس لحاظ سے اللہ کے محبوب ہیں اور اخروی عذاب ہمیں نہیں ہوگا۔ اس دعویٰ کی تردید اللہ نے یوں فرمائی کہ اگر تم اپنے اس دعویٰ میں سچے ہو تو پھر تو تمہیں جلد از جلد مرنے کی آرزو کرنی چاہیے جس سے معلوم ہوا کہ صرف انسان کے اعمال ہی اس کی نجات اخروی کا ذریعہ بن سکتے ہیں حسب و نسب وہاں کچھ کام نہ آسکے گا۔ خ قیامت کے دن حسب ونسب کچھ کام نہ آئے گا :۔ چناچہ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا & جس شخص کو اس کے عمل نے پیچھے کردیا اس کا نسب اسے آگے نہ کرسکے گا (مسلم کتاب الذکر۔ باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن اور جب سورة شعراء کی آیت (وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ ٢١٤؀ۙ ) 26 ۔ الشعراء :214) نازل ہوئی تو آپ نے اپنے رشتہ داروں کو بلایا اور ان کے نام لے لے کر کہا مثلاً اے عباس بن عبدالمطلب ! میں تیرے کچھ کام نہ آسکوں گا۔ اے صفیہ ! ( رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپھی) میں آپ کے کچھ کام نہ آسکوں گا۔ اے فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے مال میں سے جو تم چاہو مجھ سے (دنیا میں) طلب کرلو۔ میں تمہارے کسی کام نہ آسکوں گا۔ & (بخاری۔ کتاب التفسیر سورة شعرائ۔ مسلم کتاب الایمان۔ باب۔ وانذر عشیر تک الاقربین )

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا ۔۔ : یعنی جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اور مسیح ایک ہی چیز ہیں اور ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ پرانے زمانے میں یہ صرف نصرانیوں کے ایک فرقے یعقوبیہ کا عقیدہ تھا، مگر اس زمانے میں نصرانیوں کے جو تین فرقے پروٹسٹنٹ، کیتھولک اور آرتھوڈیکس پائے جاتے ہیں وہ سب کے سب اگرچہ تثلیث کے قائل ہیں لیکن ان کا اصل مقصد مسیح (علیہ السلام) کو الٰہ ( خدا) ماننا ہے، گویا وہ سب کے سب خدا اور مسیح کے ایک چیز ہونے کے قائل ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان سب پر کافر ہونے کا فتویٰ لگایا ہے۔ (المنار) مسلمانوں میں الحمد للہ توحید الٰہی پر قائم لوگ کثرت سے موجود ہیں، مگر کئی ایسے گمراہ بھی ہیں جنھوں نے صاف کہہ دیا : وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفیٰ ہو کر یہ بعینہ اوپر مذکور شرکیہ عقیدہ ہے، اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو توحید الٰہی کا عقیدہ رکھنے کی ہدایت اور اس پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین ! قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــًٔـا۔۔ : یعنی وہ مالک کل اور مختار کل ہے اور سب چیزوں پر اسے قدرت اور برتری حاصل ہے، وہ چاہے تو سب کو آن کی آن میں فنا کرسکتا ہے، اگر مسیح (علیہ السلام) خدا ہوتے تو کم از کم خود کو اور اپنی والدہ کو تو بچا سکتے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی والدہ کو فوت کرلیا اور ان کو بھی مقرر وقت پر فوت کرے گا، وہ موت سے بچ نہیں سکیں گے، جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ نہ تو خدا ہیں اور نہ خدا کے بیٹے، بلکہ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ (کبیر، قرطبی) يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۭ: یعنی وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور جس کو جیسے چاہتا ہے بناتا ہے، آدم (علیہ السلام) کو اس نے ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا کیا تو عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا کردینا اس کے لیے کیا مشکل تھا، محض باپ کے بغیر پیدا ہونے سے کوئی بندہ خدا نہیں بن جاتا۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی جگہ انبیاء کے حق میں ایسی بات فرماتے ہیں تاکہ ان کی امت والے ان کو بندگی کی حد سے زیادہ نہ چڑھائیں۔ (موضح)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللہَ ہُوَالْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ۝ ٠ۭ قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ مِنَ اللہِ شَـيْـــًٔـا اِنْ اَرَادَ اَنْ يُّہْلِكَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّہٗ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا۝ ٠ۭ وَلِلہِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَہُمَا۝ ٠ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ۝ ٠ۭ وَاللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۝ ١٧ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ مریم مریم : اسم أعجميّ ، اسم أمّ عيسى عليه السلام» . ملك ( مالک) فالمُلْك ضبط الشیء المتصرّف فيه بالحکم، والمِلْكُ کالجنس للمُلْكِ ، فكلّ مُلْك مِلْك، ولیس کلّ مِلْك مُلْكا . قال : قُلِ اللَّهُمَّ مالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] ، وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلا نُشُوراً [ الفرقان/ 3] ، وقال : أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا[ الأعراف/ 188] وفي غيرها من الآیات ملک کے معنی زیر تصرف چیز پر بذیعہ حکم کنٹرول کرنے کے ہیں اور ملک بمنزلہ جنس کے ہیں لہذا ہر ملک کو ملک تو کہہ سکتے ہیں لیکن ہر ملک ملک نہیں کہہ سکتے قرآن میں ہے : ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلا نُشُوراً [ الفرقان/ 3] اور نہ نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ جینا اور نہ مر کر اٹھ کھڑے ہونا ۔ اور فرمایا : ۔ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] یا تمہارے کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا[ الأعراف/ 188] کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ اختیار نہیں رکھتا علی بذلقیاس بہت سی آیات ہیں شيء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . ( ش ی ء ) الشئی بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اس کے متعلق خبر دی جا سکے اور اکثر متکلمین کے نزدیک یہ اسم مشترکہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ماسواپر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور موجود ات اور معدہ سب کو شے کہہ دیتے ہیں ، رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ هلك الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه : افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] - وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام . والثالث : الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار : وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] . ( ھ ل ک ) الھلاک یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ایک یہ کہ کسی چیز کا اپنے پاس سے جاتے رہنا خواہ وہ دوسرے کے پاس موجود ہو جیسے فرمایا : هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] ہائے میری سلطنت خاک میں مل گئی ۔ دوسرے یہ کہ کسی چیز میں خرابی اور تغیر پیدا ہوجانا جیسا کہ طعام ( کھانا ) کے خراب ہونے پر ھلک الطعام بولا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] اور کھیتی کو بر باد اور انسانوں اور حیوانوں کی نسل کو نابود کردی ۔ موت کے معنی میں جیسے فرمایا : ۔ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] اگر کوئی ایسا مرد جائے ۔ أمّ الأُمُّ بإزاء الأب، وهي الوالدة القریبة التي ولدته، والبعیدة التي ولدت من ولدته . ولهذا قيل لحوّاء : هي أمنا، وإن کان بيننا وبینها وسائط . ويقال لکل ما کان أصلا لوجود شيء أو تربیته أو إصلاحه أو مبدئه أمّ ، قال الخلیل : كلّ شيء ضمّ إليه سائر ما يليه يسمّى أمّا قال تعالی: وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتابِ [ الزخرف/ 4] أي : اللوح المحفوظ وذلک لکون العلوم کلها منسوبة إليه ومتولّدة منه . وقیل لمكة أم القری، وذلک لما روي : (أنّ الدنیا دحیت من تحتها) وقال تعالی: لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرى وَمَنْ حَوْلَها [ الأنعام/ 92] ، وأمّ النجوم : المجرّة . قال : 23 ۔ بحیث اهتدت أمّ النجوم الشوابک وقیل : أم الأضياف وأم المساکين کقولهم : أبو الأضياف ويقال للرئيس : أمّ الجیش کقول الشاعر : وأمّ عيال قد شهدت نفوسهم وقیل لفاتحة الکتاب : أمّ الکتاب لکونها مبدأ الکتاب، وقوله تعالی: فَأُمُّهُ هاوِيَةٌ [ القارعة/ 9] أي : مثواه النار فجعلها أمّا له، قال : وهو نحو مَأْواكُمُ النَّارُ [ الحدید/ 15] ، وسمّى اللہ تعالیٰ أزواج النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أمهات المؤمنین فقال : وَأَزْواجُهُ أُمَّهاتُهُمْ [ الأحزاب/ 6] لما تقدّم في الأب، وقال : ابْنَ أُمَ [ طه/ 94] ولم يقل : ابن أب، ولا أمّ له يقال علی سبیل الذم، وعلی سبیل المدح، وکذا قوله : ويل أمّه وکذا : هوت أمّه والأمّ قيل : أصله : أمّهة، لقولهم جمعا : أمهات، وفي التصغیر : أميهة . وقیل : أصله من المضاعف لقولهم : أمّات وأميمة . قال بعضهم : أكثر ما يقال أمّات في البهائم ونحوها، وأمهات في الإنسان . ( ا م م ) الام یہ اب کا بالمقابل ہے اور ماں قریبی حقیقی ماں اور بعیدہ یعنی نانی پر نانی وغیرہ سب کو ام کہاجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ حضرت حواء کو امنا کہا گیا ہے اگرچہ ہمارا ان سے بہت دور کا تعلق ہے ۔ پھر ہر اس چیز کو ام کہا جاتا ہے ۔ جو کسی دوسری چیز کے وجود میں آنے یا اس کی اصلاح وتربیت کا سبب ہو یا اس کے آغاز کا مبداء بنے ۔ خلیل قول ہے کہ ہر وہ چیز جس کے اندر اس کے جملہ متعلقات منضم ہوجائیں یا سما جائیں ۔۔ وہ ان کی ام کہلاتی ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ } ( سورة الزخرف 4) اور یہ اصل نوشتہ ( یعنی لوح محفوظ ) میں ہے ۔ میں ام الکتاب سے مراد لوح محفوظ ہے کیونکہ وہ وہ تمام علوم کا منبع ہے اور اسی کی طرف تمام علوم منسوب ہوتے ہیں اور مکہ مکرمہ کو ام القریٰ کہا گیا ہے ( کیونکہ وہ خطبہ عرب کا مرکز تھا ) اور بموجب روایت تمام روئے زمین اس کے نیچے سے بچھائی گئی ہے ( اور یہ ساری دنیا کا دینی مرکز ہے ) قرآن میں ہے :۔ { لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا } ( سورة الشوری 7) تاکہ تو مکہ کے رہنے والوں کے انجام سے ڈرائے ۔ ام النجوم ۔ کہکشاں ۔ شاعر نے کہا ہے ( طویل ) (23) بحیث اھتدت ام النجوم الشو ایک یعنی جہان کہ کہکشاں راہ پاتی ہے ام الاضیاف ۔ مہمان نواز ۔ ام المساکین ۔ مسکین نواز ۔ مسکینوں کا سہارا ۔ ایسے ہی جیسے بہت زیادہ مہمان نواز کو ، ، ابوالاضیاف کہا جاتا ہے اور رئیس جیش کو ام الجیش ۔ شاعر نے کہا ہے ( طویل ) (24) وام عیال قدشھدت تقوتھم ، ، اور وہ اپنی قوم کے لئے بمنزلہ ام عیال ہے جو ان کو رزق دیتا ہے ۔ ام الکتاب ۔ سورة فاتحہ کا نام ہے ۔ کیونکہ وہ قرآن کے لئے بمنزلہ اور مقدمہ ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ { فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ } ( سورة القارعة 9) مثویٰ یعنی رہنے کی جگہ کے ہیں ۔ جیسے دوسری جگہ دوزخ کے متعلق { وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ } ( سورة العنْکبوت 25) فرمایا ہے ( اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امہ ھاویۃ ایک محاورہ ہو ) جس طرح کہ ویل امہ وھوت امہ ہے یعنی اس کیلئے ہلاکت ہو ۔ اور اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ :۔ { وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ } ( سورة الأحزاب 6) میں ازواج مطہرات کو امہات المومنین قرار دیا ہے ۔ جس کی وجہ بحث اب میں گزرچکی ہے ۔ نیز فرمایا ۔ { يَا ابْنَ أُمَّ } ( سورة طه 94) کہ بھائی ۔ ام ۔ ( کی اصل میں اختلاف پایا جاتا ہے ) بعض نے کہا ہے کہ ام اصل میں امھۃ ہے کیونکہ اس کی جمع امھات اور تصغیر امیھۃ ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اصل میں مضاعف ہی ہے کیونکہ اس کی جمع امات اور تصغیر امیمۃ آتی ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ عام طور پر حیونات وغیرہ کے لئے امات اور انسان کے لئے امھات کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے قَدِيرُ : هو الفاعل لما يشاء علی قَدْرِ ما تقتضي الحکمة، لا زائدا عليه ولا ناقصا عنه، ولذلک لا يصحّ أن يوصف به إلا اللہ تعالی، قال : إِنَّ اللَّهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ [ البقرة/ 20] . والمُقْتَدِرُ يقاربه نحو : عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55] ، لکن قد يوصف به البشر، وإذا استعمل في اللہ تعالیٰ فمعناه القَدِيرُ ، وإذا استعمل في البشر فمعناه : المتکلّف والمکتسب للقدرة، يقال : قَدَرْتُ علی كذا قُدْرَةً. قال تعالی: لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] . القدیر اسے کہتے ہیں جو اقتضائے حکمت کے مطابق جو چاہے کرسکے اور اس میں کمی بیشی نہ ہونے دے ۔ لہذا اللہ کے سوا کسی کو قدیر نہیں کہہ سکتے ۔ قرآن میں ہے : اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر ۔۔۔۔ قادر ہے ۔ اور یہی معنی تقریبا مقتقدر کے ہیں جیسے فرمایا : عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55] ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بار گاہ میں ۔ فَإِنَّا عَلَيْهِمْ مُقْتَدِرُونَ [ الزخرف/ 42] ہم ان پر قابو رکھتے ہیں ۔ لیکن مقتدر کے ساتھ کبھی انسان بھی متصف ہوجاتا ہے ۔ اور جب اللہ تعالیٰ کے متعلق مقتدر کا لفظ استعمال ہو تو یہ قدیر کے ہم معنی ہوتا ہے اور جب انسان کا وصف واقع ہو تو اس کے معنی تکلیف سے قدرت حاصل کرنے والا کے ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قدرت علی کذا قدرۃ کہ میں نے فلاں چیز پر قدرت حاصل کرلی ۔ قرآن میں ہے : ( اسی طرح ) یہ ریا کار ) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ نہیں لے سکیں گے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

کفر کی تشریح قول باری ہے (لقد کفوالذین قالوا ان اللہ ھو المسیح بن مریم قل فمن یملک من اللہ شیئا ان اراد ان یھلک المسیح ابن مریم، یقیناً کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ مسیح ابن مریم ہی خدا ہے، اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان سے کہو کہ اگر خدا مسیح ابن مریم کو ہلاک کردینا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ اس کو اس ارادے سے باز رکھ سکے) ۔ ان لوگوں کو کفر کا نشان اس لئے لگ گیا کہ انہوں نے یہ بات اس بنا پر کہی تھی کہ وہ اسے اپنا دین سمجھتے تھے، انہیں اس کا اعتقاد تھا اور اس کی صحت کا اقرار کرتے تھے۔ اس لئے کہ اگر وہ یہ بات دوسرے لوگوں کے عقیدے کی حکایت کے طور پر کہتے اور خود اس کا انکار کرتے تو کافر قرار نہ دیئے جاتے۔ کفر چھپا لینے اور پردہ ڈال دینے کو کہتے ہیں۔ ہم نے ان کی جو بات نقل کی ہے اس میں دو وجوہ سے ڈھانپ لینے اور چھپا لینے کے معنی پائے جاتے ہیں۔ ایک تو نعمت کا انکار کر کے کفران نعمت کرنا نعمت عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے لیکن اس نعمت کو کسی اور کی طرف منسوب کردینا جس کی الوہیت کے یہ دعوے دار تھے۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے جاہل ہونے کی بنا پر اس کا انکار کردینا۔ اللہ کی ذات سے جاہل کافر ہوتا ہے، اس لئے کہ وہ اس جہل کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا حق ضائع کردیتا ہے اور اس طرح اس کی حیثیت اس شخص کی طرح ہوجاتی ہے جو ان نعمتوں کی نسبت غیر اللہ کی طرف کرتا ہے۔ کفر کی تشریح قول باری ہے (لقد کفوالذین قالوا ان اللہ ھو المسیح بن مریم قل فمن یملک من اللہ شیئا ان اراد ان یھلک المسیح ابن مریم، یقیناً کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ مسیح ابن مریم ہی خدا ہے، اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان سے کہو کہ اگر خدا مسیح ابن مریم کو ہلاک کردینا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ اس کو اس ارادے سے باز رکھ سکے) ۔ ان لوگوں کو کفر کا نشان اس لئے لگ گیا کہ انہوں نے یہ بات اس بنا پر کہی تھی کہ وہ اسے اپنا دین سمجھتے تھے، انہیں اس کا اعتقاد تھا اور اس کی صحت کا اقرار کرتے تھے۔ اس لئے کہ اگر وہ یہ بات دوسرے لوگوں کے عقیدے کی حکایت کے طور پر کہتے اور خود اس کا انکار کرتے تو کافر قرار نہ دیئے جاتے۔ کفر چھپا لینے اور پردہ ڈال دینے کو کہتے ہیں۔ ہم نے ان کی جو بات نقل کی ہے اس میں دو وجوہ سے ڈھانپ لینے اور چھپا لینے کے معنی پائے جاتے ہیں۔ ایک تو نعمت کا انکار کر کے کفران نعمت کرنا نعمت عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے لیکن اس نعمت کو کسی اور کی طرف منسوب کردینا جس کی الوہیت کے یہ دعوے دار تھے۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے جاہل ہونے کی بنا پر اس کا انکار کردینا۔ اللہ کی ذات سے جاہل کافر ہوتا ہے، اس لئے کہ وہ اس جہل کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا حق ضائع کردیتا ہے اور اس طرح اس کی حیثیت اس شخص کی طرح ہوجاتی ہے جو ان نعمتوں کی نسبت غیر اللہ کی طرف کرتا ہے۔ قول باری (فمن یملک من اللہ شیئا ان اراد ان یھلک المسیح ابن مریم) کے معنی ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم اور ان کی ماں کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرلیتا تو اللہ کو اپنے اس ارادے سے باز رکھنے کی مجال کس کو ہوتی۔ یہ قول حضرت مسیح (علیہ السلام) کے الہ نہ ہونے کی واضح ترین اور بین ترین دلیل ہے اس لئے کہ اگر حضرت مسیح (علیہ السلام) الہ ہوتے تو وہ اللہ کو اس ارادے سے باز رکھ سکتے لیکن جب حضرت مسیح (علیہ السلام) اور دوسری تمام مخلوقات اس لحاظ سے یکساں ہیں کہ سب پر موت اور ہلاکت کا درود ممکن ہے تو یہ بات درست ہوگئی کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) الہ نہیں ہیں کیونکہ تمام لوگ الہ نہیں ہیں اور حضرت مسیح (علیہ السلام) فنا، موت اور ہلاکت کے جواز کے لحاظ سے دوسرے لوگوں کی طرح ہیں۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧ (لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْآ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ ط) حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بارے میں عیسائیوں کے ہاں جودو عقیدے رہے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ ہی مسیح ( علیہ السلام) ہے۔ اس عقیدے کی بنیاد اس نظریہ پر قائم ہے کہ خدا خود ہی انسانی شکل میں ظہور کرلیتا ہے۔ اس عقیدے کو God Incarnate کہا جاتا ہے ‘ یعنی اوتار کا عقیدہ جو ہندوؤں میں بھی ہے۔ جیسے رام چندر جی ‘ کرشن جی مہاراج ان کے ہاں خدا کے اوتار مانے جاتے ہیں۔ چناچہ عیسائیوں کا فرقہ Jacobites خاص طور پر God Incarnate کے عقیدے کا سختی سے قائل رہا ہے ‘ کہ اصل میں اللہ ہی نے حضرت مسیح ( علیہ السلام) کی شکل میں دنیا میں ظہور فرمایا۔ جیسے ہمارے ہاں بھی بعض لوگ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت و عقیدت اور عظمت کے اظہار میں غلو سے کام لے کر حد سے تجاوز کرتے ہوئے یہاں تک کہہ جاتے ہیں : ؂ وہی جو مستوئ عرش تھا خدا ہو کر اُتر پڑا وہ مدینے میں مصطفیٰ ہو کر عیسائیوں کے اسی عقیدے کا ابطال اس آیت میں کیا گیا ہے۔ (وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ) ۔ وہ جو چاہتا ہے ‘ جیسے چاہتا ہے ‘ تخلیق فرماتا ہے۔ اس نے آدم ‘ عیسیٰ اور یحییٰ (f) کو تخلیق فرمایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اعجاز تخلیق کی مختلف مثالیں ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

39. The original mistake committed by the Christians in declaring Jesus to be a combination of human and divine essences turned Jesus into a mystery for them, and the more the Christian scholars tried to solve this mystery by resorting to conjecture and rhetorical extravagance the more involved the whole matter became. Those who were more impressed by the humanity of Jesus stressed his being the son of God and considered him to be one of the three gods. Those who were more impressed by the divinity of Jesus considered him to be none other than God, stressing that he was the human incarnation of God, and worshipped him as God. Those who tried to strike a middle path spent all their efforts hammering out subtle verbal formulations of the Trinity that would allow people to consider the Messiah to be God and man at one and the same time, to affirm that God and the Messiah are independent and simultaneously constitute an inseparable whole (see Surah 4, nn. 212, 213, 215 above). 40. This statement hints at the childishness of those who have been misled into believing that the Messiah himself is God either because of his miraculous birth or because of his flawless moral character or because of the miracles which he performed. The Messiah is merely a sign of the innumerable wonders of God's creation; a sign which somehow dazzled the eyes of those superficial people. Had their perception been wider they would have been able to see that there are even more inspiring examples of His creation and infinite power. If anything their attitude was indicative of the intellectual puerility of those who were so overawed by the excellence of a creature as to mistake him for the Creator. Those whose intelligence penetrates through the excellence of creatures, who look upon them merely as signs of the magnificent power of God, and who are led by such observations to a reinforcement of faith in the Creator are truly wise.

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :39 عیسائیوں نے ابتداءً مسیح علیہ السلام کی شخصیت کو انسانیت اور الوہیت کا مرکب قرار دے کر جو غلطی کی تھی ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے لیے مسیح علیہ السلام کی حقیقت ایک معما بن کر رہ گئی جسے ان کے علماء نے لفاظی اور قیاس آرائی کی مدد سے حل کرنے کی جتنی کوشش کی اتنے ہی زیادہ الجھتے چلے گئے ۔ ان میں سے جس کے ذہن پر اس مرکب شخصیت کے جزو انسانی نے غلبہ کیا اس نے مسیح علیہ السلام کے ابن اللہ ہونے اور تین مستقل خداؤں میں سے ایک ہونے پر زور دیا ۔ اور جس کے ذہن پر جزو الوہیت کا اثر زیادہ غالب ہوا اس نے مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا جسمانی ظہور قرار دے کر عین اللہ بنا دیا اور اللہ ہونے کی حیثیت ہی سے مسیح علیہ السلام کی عبادت کی ۔ ان کے درمیان بیچ کی راہ جنہوں نے نکالنی چاہی انہوں نے سارا زور ایسی لفظی تعبیریں فراہم کرنے پر صرف کر دیا جن سے مسیح علیہ السلام کو انسان بھی کہا جاتا رہے اور اس کے ساتھ خدا بھی سمجھا جا سکے ، خدا اور مسیح علیہ السلام الگ الگ بھی ہوں اور پھر ایک بھی رہیں ۔ ( ملاحظہ ہو سورہ نساء ، حاشیہ نمبر ۲۱۲ ، ۲۱۳ و ۲۱۵ ) ۔ سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :40 اس فقرے میں ایک لطیف اشارہ ہے اس طرف کہ محض مسیح علیہ السلام کی اعجازی پیدائش اور ان کے اخلاقی کمالات اور محسوس معجزات کو دیکھ کر جو لوگ اس دھوکہ میں پڑ گئے کہ مسیح علیہ السلام ہی خدا ہے وہ درحقیقت نہایت نادان ہیں ۔ مسیح علیہ السلام تو اللہ کے بے شمار عجائب تخلیق میں سے محض ایک نمونہ ہے جسے دیکھ کر ان ضعیف البصر لوگوں کی نگاہیں چوندھیا گئیں ۔ اگر ان لوگوں کی نگاہ کچھ وسیع ہوتی تو انہیں نظر آتا کہ اللہ نے اپنی تخلیق کے اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز نمونے پیش کیے ہیں اور اس کی قدرت کسی حد کے اندر محدود نہیں ہے ۔ پس یہ بڑی بے دانشی ہے کہ مخلوق کے کمالات کو دیکھ کر اسی پر خالق ہونے کا گمان کر لیا جائے ۔ دانشمند وہ ہیں جو مخلوق کے کمالات میں خالق کی عظیم الشان قدرت کے نشانات دیکھتے ہیں اور ان سے ایمان کا نور حاصل کرتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

اوپر گزرچکا ہے کہ نصاریٰ کے چند فرقے ہیں ان میں سے فرقہ یعقوبیہ وغیرہ کا اعتقاد ہے کہ گیہوں کے کھانے سے آدم (علیہ السلام) نے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اس کے اثر سے اولاد آدم ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہنے کی سزا وار ہوگئی اس لئے عیسیٰ (علیہ السلام) کی شباہت میں اللہ تعالیٰ آسمان سے زمین پر آیا اور یہود کے ہاتھوں سے سولی پر چڑھا تاکہ بنی آدم کے گناہوں کا کفارہ اس قتل کی سزا سے ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لوگوں کے اس اعتقاد کو یوں غلط ٹھہرا کہ یہود کی کیا حقیقت ہے جو وہ اللہ کے ساتھ گستاخی کرسکیں وہ تو صاحب قدرت ہے۔ کہ یہود اور تمام دنیا کی مخلوقات کو ایک دم میں چاہے تو ہلاک کر دیوے اور کسی کو اتنی تاب نہ ہو کہ اس کے ارادہ کو روک سکے۔ رہی یہ بات کہ بنی آدم کے گناہ معاف ہوجانے کے ارادہ سے خود اللہ تعالیٰ نے یہ کفارہ کی صورت نکالی۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے آیت میں یہ دیا کہ اللہ کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے اس کو اس خلاف عقل کفارہ کی صورت نکالنے کیا ضرورت تھی وہ جس طرح چاہتا اپنے گنہگار بندوں کے گناہ معاف کردیتا اس سے کون پوچھ سکتا تھا کہ بغیر سزا اور بغیر کفارہ کے یہ گناہ کیوں معاف کردیئے گئے کیا یہ گناہ نعوذ باللہ من ذلک کسی دوسرے خدا کے تھے جو ان لوگوں کے اعتقاد کے موافق بغیر کفارہ کے وہ دوسرا خدا ان گناہوں کو معاف نہ کرتا اور اس انجیل کے نازل کرنے والے خدا کو اپنے خون کا کفارہ دے کر اس دوسرے خدا کو راضی اور گناہوں کی معافی پر آمادہ کرنا پڑتا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بغیر باپ کے دنیا میں پیدا ہوجانے سے جو یہ لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں یہ بھی شیطان کا بہکاوا ہے ورنہ جس صاحب قدرت نے آدم ( علیہ السلام) کو بغیر ماں باپ کے اور حوا ( علیہ السلام) کو بغیر ماں کے پیدا کردیا اس کی قدرت سے یہ کیا بعید ہے کہ اس نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا کردیا جس کو اللہ کی اس قدرت کا انکار ہے اللہ قسم کھا کر یہ خبر دیتا ہے کہ ایسا شخص بلا شک کافر ہے۔ فرقہ پر وتسٹنٹ نے اس کفا رہ کے مسئلہ کی زیادہ بحث اپنے ترجموں میں نہیں کی کیونکہ وہ فرقہ انجیل میں ہے اور انجیل میں اس مسئلہ کا صاف طور پر کہیں ذکر نہیں ہے بلکہ متی کی انجیل کے تیسرے اور چوتھے باب میں جو قصہ ہے جس میں شیطان نے عیسیٰ (علیہ السلام) کہ بہکا کر اپنے آپ کو عیسیٰ (علیہ السلام) سے سجدہ کرانا چاہا ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس ملعون کو جواب دیا ہے کہ قابل عبادت وہی ایک معبود ہے جس کی سب عبادت کرتے ہیں اس کے سوا نہ کسی کو سجدہ ہے نہ کسی کی عبادت ہے۔ اس قصہ سے اور اس قصہ کے علاوہ انجیل مرقس اور انجیل متی میں اسی قسم کی اور جو عبادتیں ہیں ان سے یہ مسئلہ بالکل غلط قرار پاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی خدا اور مسیح ( علیہ السلام) ایک چیز ہیں اور ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے زمانہ قدیم میں یہ صرف عیسائیوں کے ایک فرقے یعقوب کا عقیدہ تھا مگر اس زمانہ میں عیسائیوں کے جو تین فرقے پرر ٹسٹنٹ کیتھو لک اور آرتھو ڈیکس پائے جاتے ہیں وہ سب کے سب کے سب اگرچہ ثلیث کے قائل ہیں لیکن ان کا اصل مقصد مسیح لوہیت ہے گویا وہ سب کے سب خدا اور مسیح ( علیہ السلام) کے ایک چیز ہونے کے کر قائل ہیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان سب پر کافر ہونے کا حکم لگایا ہے (المنار)5 وہ مالک کل ارمختار ہے اور سب چیزوں پر اے قدرت اور تفوق حاصل ہے وہ چاہے تو سب کی آن کی آن میں فنا کرسکتا ہے اگر مسیح ( علیہ السلام) خدا ہوتے کم از کم اپنی والدہ کو تو بچاسکتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی والدہ کو فوت کرلیا اور ان کو بھی وقت مقرر پر فوت کرے گا تو یہ بچ نہیں سکیں گے جس سے صاف ظاہرہ کہ وہ تو خدا ہیں اور نہ خدا کے بیٹے ہیں بلکہ اس کے بندے اور رسول ( علیہ السلام) ہیں۔ (کبیر۔ قرطبی)6 اور جس کو جیسے چاہتا ہے بناتا ہے آدم ( علیہ السلام) کو اس نے ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا کیا تو عیسیٰ ( علیہ السلام) کو بغیر ماں کے پیدا کردینا اس کے لیے کیا مشکل تھا محض باپ کے بغیر باپ کے پیدا ہونے سے کوئی بندہ خدا نہیں بن جاتا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی جگہ نبیوں کے حق میں ایسی بات فرماتے ہیں تاکہ ان کی امت والے ان کو بندگی کی حد سے زیادہ چڑھائیں واللہ نبی اس لائق کا ہے کو میں ، (موضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ اوپر یہود و نصاری کے بعض بعض قبائح مذکور تھے آگے ان میں سے ایک امر مشترک کا مع اس کے ابطال کے بیان ہے یعنی دونوں فریق باوجود کفر و معصیت کے اپنے مقرب اور مقبول عنداللہ ہونے کے مدعی تھے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : یکے بعد دیگرے یہود و نصاریٰ کو مخاطب کیا جا رہا ہے۔ درمیان میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری اور کتاب مبین کا مقصد بیان کرنے کے بعد اب پھر عیسائیوں کے عقیدہ کی کمزوری کی نشاندہی کی گئی ہے۔ قرآن مجید یہ حقیقت منکشف کرتا ہے کہ جب کوئی فرد یا قوم شرک میں مبتلا ہوجاتی ہے تو وہ اس قدر ژود نگاہی اور کج فکری کا شکار ہوتی ہے کہ اسے خبر نہیں ہوتی کہ اس کے نظریات میں کس قدر تضاد اور الجھاؤ پایا جاتا ہے۔ ایسی ہی صورت حال میں عیسائی مبتلا ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت مریم، حضرت عیسیٰ اور اللہ تعالیٰ کو ملا کر خدا مکمل ہوتا ہے غور فرمائیں کہ عیسائی ایک طرف اللہ تعالیٰ کی وحدت کا دعویٰ کرتے ہیں اور اسی زبان سے تثلیث پر بھی اصرار کیے جا رہے ہیں۔ جس چیز کو بنیاد بنا کر عیسائی تثلیث کا مغالطہ دیتے ہیں وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا بن باپ پیدا ہونا ہے جن کے بارے میں ایک چھوٹے سے گروہ کو چھوڑ کر عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ وہ ہمارے گناہ معاف کروانے کی خاطر سولی پر لٹک چکے ہیں۔ یہ تو قرآن مجید کا عیسائیت پر احسان ہے کہ اس نے یہ وضاحت فرمائی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نہ سولی چڑھائے گئے اور نہ ہی انھیں قتل کیا گیا ہے۔ تاہم قرآن مجید انھیں یہ باور کرا رہا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ عیسیٰ اور اس کی والدہ کو ہلاک اور زمین و آسمان کو نیست و نابود کرنا چاہے تو دنیا کی کون سی طاقت ہے جو انھیں بچا اور تحفظ دے سکے گی ؟ کیونکہ زمینوں، آسمانوں اور جو کچھ ان میں ہے سب کا سب اللہ کی ملکیت اور اس کے اختیار میں ہے۔ اسی کے اختیار کا یہ مظہر ہے کہ اس نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا کیا جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے جس طرح چاہے اس کو پیدا فرماتا ہے کیونکہ وہ ہر چیز پر قدرت وسطوت رکھنے والا ہے۔ عیسائیوں پر تعجب ہے کہ ایک طرف عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف انھیں مصلوب بھی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ جو اپنی موت وحیات پر اختیار نہیں رکھتا وہ اللہ یا اس کا شریک کس طرح ہوسکتا ہے، کیا فنا ہونے والا اور باقی رہنے والا یا با اختیار اور بےاختیار دونوں برابر یا ایک دوسرے کے شریک ہوسکتے ہیں۔ مسائل ١۔ کسی کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دینا کفر ہے۔ ٢۔ حضرت عیسیٰ ابن مریم ( علیہ السلام) اللہ کا بیٹا نہیں۔ ٣۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ ٥۔ جس کو اللہ تعالیٰ نقصان پہنچانا چاہے اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچا سکتی۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی خالق ہے : ١۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں اور زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ (البقرۃ : ٢٢) ٢۔ اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ (الروم : ٢٠) ٣۔ اللہ ہی نے انسان کو بڑی اچھی شکل و صورت میں پیدا فرمایا۔ (التین : ٤) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک نطفے سے پیدا کیا۔ (الدھر : ٢) ٥۔ اللہ نے ایک ہی جان سے سب انسانوں کو پیدا کیا۔ (الاعراف : ١٨٩) ٦۔ اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے اور اس کا ہی حکم چلنا چاہیے۔ (الاعراف : ٥٤) ٧۔ لوگو اس رب سے ڈر جاؤ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ (النساء : ١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” لقد کفرا لذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم ، (قل فمن یملک من اللہ شیئا ان اراد ان یھلک المسیح ابن مریم وامہ ومن فی الارض جمیعا وللہ ملک السموت والارض وما بینھما یخلق ما یشآء واللہ علی کل شیء قدیر (١٧) ” یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ مسیح ابن مریم خدا ہے ۔ اے نبی ! ان سے کہو کہ اگر خدا مسیح ابن مریم کو اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو ہلاک کردینا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ اس کو اس ارادے سے باز رکھ سکے ؟ اللہ تو زمین اور آسمانوں کا اور ان سب چیزوں کا مالک ہے جو زمین اور آسمان کے درمیان پائی جاتی ہے ۔ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی طرف سے جو عقیدہ لے کر آئے تھے وہ وہی عقیدہ توحید تھا جسے ہر رسول لے کر آیا ۔ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کرنا وہ اقرار ہے جو ہر رسول نے کیا ہے لیکن اس صاف اور ممتاز عقیدے کے اندر تحریفات کرلی گئیں ۔ یہ تحرفات اس وقت ہوئیں جب عیسائیت کے اندر بت پرستی داخل ہوئی اور عیسائیوں نے بت پرستی کے غلط مواد کو لا کر عقیدہ توحید کا جزء بنا دیا اور اس کو اس کے اندر اس قدر گڈ مڈ کردیا کہ عیسائیوں کے عقیدہ توحید کا اصلی جوہر نکالنا ممکن ہی نہ رہا ۔ عیسائیت کے اندر یہ انحرافات اچانک ایک ہی دفعہ نہیں آگئے ۔ یہ شرکیہ عقائد آہستہ آہستہ عیسائیت کے اندر داخل ہوتے رہے ۔ ایک ایک کرکے عیسائیوں کی مذہبی مجالس نے انکو دین میں داخل کیا جو یکے بعد دیگرے منعقد ہوتی رہیں ۔ عیسائیوں کے عقائد عجیب و غریب شکل اختیار کر گئے جن میں دیو مالائی کہانیاں داخل ہوگئیں ‘ جن کو سن کر انسان حیرت زدہ ہوجاتا ہے ۔ یہاں تک کہ خود عیسائیوں میں سے اہل ایمان لوگوں کے لئے اس عقیدے کی تشریح مشکل ہوگئی ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اٹھالئے جانے کے بعد کچھ عرصے تک آپ کے شاگردوں اور متبعین کے اندر عقیدہ توحید رائم رہا ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حالات کے بارے میں جو اناجیل لکھی گئیں ان میں سے ایک اہم انجیل ‘ انجیل برناباس ہے ۔ یہ انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہ کہتی ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے رسول تھے ۔ اس کے بعد ان کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے ۔ بعض نے یہ کہا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تمام رسولوں کی طرح ایک رسول تھے ، بعض نے کہا کہ ٹھیک ہے وہ رسول ہیں لیکن ان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے ۔ بعض لوگ کہتے تھے کہ وہ اللہ کے بیٹھے ہیں اس لئے کہ وہ بن باپ کے پیدا ہوئے ہیں ۔ لیکن اس قول کے مطابق وہ اللہ کی مخلوق ہیں ۔ بعض کا قول یہ تھا کہ وہ اللہ کے بیٹے تھے مگر مخلوق نہ تھے ‘ بلکہ وہ باپ کی طرح قدیم تھے ۔ ان اختلافات کو ختم کرنے کے لئے ٣٢٥ ء میں بمقام نیقیا ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ٤٨ ہزار مذہبی لیڈر اور علماء شامل ہوئے ۔ انکے بارے میں ایک مذہبی لیڈر جو تاریخ عیسائیت کے مشہور ماہر ہیں ، کہتے ہیں : یہ لوگ آراء و مذاہب میں مختلف تھے بعض یہ کہتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انکی ماں اللہ کے علاوہ دو خدا ہیں۔ ان کو بربری کہا جاتا تھا اور عام طور پر ریمنین کے نام سے مشہور تھے ۔ بعض یہ کہتے تھے کہ مسیح باپ سے اس طرح پیدا ہوئے جس طرح آگ کے ایک شعلے سے دوسرا شعلہ پیدا ہوتا ہے ۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اصل شعلہ دوسرے جدا ہونے والے شعلے کی وجہ سے کم ہوگیا ہے ۔ یہ قول سابلیوس اور اس کے متبعین نے اختیار کیا ہے ۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ مریم حاملہ نہیں ہوئی یعنی دس ماہ تک ۔ حضرت عیسیٰ آپ کے پیٹ سے اس طرح ہوکر نکل آئے جس طرح پانی پرنالے سے نکل آتا ہے ۔ اس لئے کہ کلمہ آپ کے کان میں داخل ہوا اور وہاں سے نکلا جہا سے بچہ پیدا ہوتا ہے اور یہ عمل فورا ہوا ۔ یہ قول الیان اور اس کے ساتھیوں کا ہے ۔ ان میں سے بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ انسان تھے اور وہ انسانی جوہری سے پیدا ہوئے تھے ۔ ان کے ساتھ اللہ کی رحمت شامل ہوگئی اور اپنی مرضی سے اس میں حلول کرگئی اور اسی وجہ سے ابن اللہ کا لقب انہیں نے پایا ۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ جوہر قدیم ہے اور ایک ہے ۔ وہ ایک اقنوم ہے جس کے تین نام ہیں ۔ یہ لوگ کلمہ ‘ روح القدس پر ایمان نہیں لاتے ۔ یہ پولس شمشاطی کا قول ہے ۔ یہ الطاکیہ کا پیٹر تھا ۔ اور ان لوگوں کو بولیقانیوں کہا جاتا ہے ۔ ان میں سے بعض یہ کہتے تھے کہ یہ تین خدا تھے اور اب بھی ہیں ۔ ایک صالح ‘ ایک طالح اور ایک عادل ۔ یہ قول لعین مرقیون اور اس کے ساتھیوں کا ہے ۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ مرقیون حواریوں کا صدر تھا ۔ یہ لوگ پطرس کو نہیں مانتے ۔ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو حضرت مسیح کو خدا سمجھتے تھے اور یہ پطرس کا عقیدہ تھا جسے پیغام بر کہا جاتا ہے ۔ یہی عقیدہ تین سوا سی اسقفوں نے اختیار کیا تھا “۔ (محاضرات فی النصرانیہ شیخ ابو زہرہ) شہنشاہ قسطنطین نے یہ آخری عقیدہ اپنا لیا جو حال ہی میں عیسائی بنا تھا اور عیسائیت کے بارے میں زیادہ علم نہ رکھتا تھا ۔ اس نے اپنی فوجوں کو مخالفین کے خلاف چھوڑ دیا ، یہ لوگ جلاوطن کردیئے گئے ، خصوصا ان لوگوں پر بےپناہ مظالم ڈھائے گئے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی الوہیت کے قائل نہ تھے ، وہ صرف باپ کو الہ سمجھتے تھے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مخلوق اور ناسوتی سمجھتے تھے ۔ تاریخ اقوام قبط کے مصنف اس فیصلے کے متن کے بارے میں لکھتے ہیں : ” یہ مقدس مجلس اور رسول کا کنیسہ ہر اس عقیدے کو حرام قرار دیتا جس میں یہ تسلیم کیا گیا ہو کہ کہ ایک ایسا زمانہ تھا جس میں ابن اللہ موجود نہ تھا ۔ اور یہ کہ ولادت سے پہلے وہ موجود نہ تھا ۔ یہ کہ وہ عدم سے وجود میں آیا ۔ یا یہ بیٹا ایسے مادے اور جوہر سے پیدا کیا گیا جو باپ سے الگ تھا۔ پھر یہ عقیدہ کہ اسے پیدا کیا گیا یا یہ کہ وہ تغیر پذیر ہے اور اس پر سایہ گردس طاری ہوتا ہے ۔ “ لیکن یہ مجلس عیسائیوں میں اہل توحید کو ختم نہ کرسکی اور ان میں سے آریوس کی شاخ قائم رہی ۔ یہ شاخ قسطنطینہ افطاکیہ ‘ بابل اور اسکندریہ اور پورے مصر پر قابض ہوگئی ۔ اس کے بعد روح القدس کے بارے میں اختلافات شروع ہوگئے ۔ بعض نے کہا کہ وہ بھی الہ ہے ۔ بعض نے کہا کہ وہ الہ نہیں ہے ۔ اس پر قسطنطنیہ کی پہلی مجلس ٣٨١ میں منعقد ہوئی تاکہ ان اختلافات کو ختم کرے ۔ اس مجلس میں اسکندریہ کے اسقف نے مقالہ پڑھا اور اس کے مطابق یہ فیصلہ دؤیموثاوس بطریق اسکندریہ کہتے ہیں ۔ ہمارے نزدیک روح القدس اللہ کی روح کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ اور اللہ کی روح ‘ اس کی زندگی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ اگر ہم کہیں کہ روح القدس مخلوق ہے تو ہمارا قول یہ ہوگا کہ اللہ کی روح مخلوق ہے اور جب ہم اس کے قائل ہوگئے کہ اللہ کی روح مخلوق ہے تو ہم اس کے قائل ہوجائیں گے کہ اللہ کی زندگی مخلوق ہے اور جب ہم نے کہا کہ اللہ کی زندگی مخلوق ہے تو سارا عقیدہ یہ ہوجائے گا کہ اللہ زندہ نہیں ہے ۔ جب ہم نے یہ عقیدہ اختیار کرلیا کہ اللہ زندہ نہیں ہے تو ہم نے کفر اختیار کرلیا۔ اور جو کافر ہوجائے اس پر لعنت واجب ہے ۔ “ یوں اس مجلس میں حضرت مسیح کی الوہیت کے بارے میں قطعی فیصلہ کردیا گیا ‘ جس طرح نیقیا کی مجلس میں اس بارے میں فیصلہ ہوا تھا ۔ اس طرح باپ ‘ بیٹے اور روح القدس پر مشتمل تثلیث ثابت ہوگئے ، اس کے بعد ایک اور اختلاف شروع ہوا ۔ یہ اختلاف یہ تھا کہ طیبعت الہیہ اور طبیعت انسانی کے درمیان امتزاج کیسے ہوگیا یا لاہوت اور ناسوت کے اندر امتزاج کیسے ہوگیا ؟ قسطنطنیہ کے پادری نسطور کی رائے یہ تھی کہ ایک اقنوم ہے اور ایک طبیعت ہے ۔ اقنوم کی الوہیت باپ سے ہے اور اس کی نسبت باپ کی طرف ہوگی اور انسانی طبیعت مریم سے ولادت میں منتقل ہوئی اور مریم الہ نہ تھی اس لئے کہ وہ ایک انسان کی والدہ تھی وہ الہ کی والدہ نہ تھی ۔۔۔۔۔ کے بیٹے لکھتے ہیں کہ مسیح جو لوگوں کے اندر آیا اور اس نے لوگوں کے ساتھ بات چیت کی : ” یہ انسان جو کہتا ہے کہ وہ مسیح ہے اور محبت کے ساتھ بیٹے سے متحد سے اور کہا جاتا ہے وہ اللہ اور ابن اللہ ہے ۔ یہ حقیقت میں نہیں ہے بلکہ یہ وہبی ہے ۔ “ پھر کہتا ہے : ” نسطور کا عقیدہ یہ تھا کہ ہمارا رب یسوع المسیح الہ نہ تھا ۔ یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے بلکہ ‘ وہ انسان تھا جو برکت اور نعمت سے پر تھا یا وہ سہم من اللہ تھا تو اس نے کوئی غلطی نہیں کی ہے اور نہ اس نے کفریہ بات کی ہے ۔ “ اسقف روم نے اس کی رائے کی مخالفت کی ‘ اسی طرح اسکندریہ کے صدر پادری نے اور انطاکیہ کے اسقفوں نے بھی مخالفت کی اس لئے انہوں نے ایک چوتھی مجلس پر اتفاق کیا ۔ یہ مجلس انس میں ٤١٣ ء میں منعقد ہوئی اس مجلس نے فیصلہ کیا جس طرح ابن بطریق کہتے ہیں : ” مریم اللہ کی والدہ ہیں اور حضرت مسیح سچے الہ اور انساں ہیں اور وہ دو طبیعتوں کے ساتھ مشہور ہیں اور یہ دونوں ایک ہی اقنوم میں ایک ہوگئی ہیں ۔ “ اس مجلس نے نسطور پر لعنت بھیجی ۔ اس کے بعد اسکندریہ کے کنیسہ نے ایک نئی رائے اختیار کی ۔ اس کے لئے پھر افس میں ایک دوسری مجلس منعقد ہوئی اور اس نے فیصلہ کیا : ” مسیح ایک ہی طبیعت ہے جس میں لاہوت اور ناسوت جمع ہوگئے ہیں “ لیکن اس رائے کو تسلیم نہ کیا گیا اور اس بارے میں شدید اختلاف جاری رہے ۔ اس پر طلقدونیہ کی مجلس ٤٥١ ء میں منعقد ہوئی اس نے فیصلہ کیا : کہ مسیح کی دو طبیعتیں ہیں ‘ ایک نہیں ہے ۔ لاہوت ایک طبیعت ہے جو علیحدہ ہے اور ناسوت ایک جدا طیبعت ہے ۔ اور دونوں کا النقاء مسیح کی ذات میں ہوگیا ہے ۔ “ ان لوگوں نے افس کی مجلس دوئم پر لعن طعن کیا۔ لیکن مصریوں نے اس مجلس کے فیصلوں کو تسلیم نہ کیا ۔ اس کے نتیجے میں مصر کے مذہب متوفییہ اور ساہی مذہب جو قیصر روم کی حکومت کا پروردہ تھا ‘ کے درمیان خونریز اختلافات ہوئے جس کے بارے میں اس سے پہلے ہم آرنولڈ کے مقالے کا حوالہ دے چکے ہیں ۔ دیکھئے اس کی کتاب ” دعوت اسلامی “ ۔ آغاز سورة آل عمران میں۔ ہمارا خیال ہے کہ الوہیت مسیح کے بارے میں اس قدر افکار باطلہ کے حوالے کافی ہیں کہ اس غلط عقیدے کی وجہ سے کس قدر خونریز فسادات ہوتے رہے اور کس قدر طویل عداوتیں ہوئیں اور کس قدر فرقے وجود میں آئے جو آج تک موجود ہیں ۔ اس کے بعد آخری رسالت آتی ہے تاکہ وہ اس مسئلے کا سچائی کے ساتھ فیصلہ کر دے اور فیصلہ کے ساتھ ناقابل تردید بات کرے ۔ چناچہ آخری رسول آتا ہے اور وہ اہل کتاب کو صحیح عقیدے کی تلقین یوں کرتا ہے ” وہ لوگ بھی کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ مسیح ابن مریم ہیں۔ “ اور ” وہ لوگ بھی کافر ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ تینوں کا ایک ہے “ (تفصیلات آگے آرہی ہیں) اللہ تعالیٰ ان کو متوجہ کرتے ہیں کہ ذرا عقل سے تو کام لو اور ذرا واقعی صورت حالات پر بھی غور کرو (ان سے کہو کہ اگر خدا مسیح ابن مریم کو اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو ہلاک کردینا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ اس کو اس ارادے سے باز رکھ سکے ؟ ) اس طرح اللہ کی ذات ‘ اس کی طبیعت ‘ اس کی مشیت ‘ اس کی قوت اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات کے اندر مکمل طور پر جدائی کردی جاتی ہے ۔ اسی طرح اس کی والدہ کی ذات اور تمام دوسری ذاتوں کو اللہ سے علیحدہ کردیا جاتا ہے ۔ نہایت ہی قطعیت اور نہایت ہی وضاحت کے ساتھ ۔ یوں کہ اللہ کی ذات وحدہ لاشریک ہے ۔ اس کی مشیت بےقید ہے ۔ اس کی حکومت صرف اس کی ہے۔ کوئی بھی اس کی مشیت کو رد نہیں کرسکتا نہ اس کے احکام کو رد کرسکتا ہے ۔ وہ مسیح ابن مریم ‘ اس کی والدہ اور تمام باشندگان زمین کو ہلاک کرسکتا ہے ۔ وہ ہر چیز کا مالک ہے ۔ وہ ہر چیز کا خالق ہے اور خالق لازما مخلوق سے جدا ہوتا ہے اور ہر چیز اس کی مخلوق ہے۔ (آیت) ” وللہ ملک السموت والارض وما بینھما یخلق ما یشآء واللہ علی کل شیء قدیر “۔ اللہ تو زمین اور آسمانوں کا اور ان سب چیزوں کا مالک ہے جو زمین اور آسمان کے درمیان پائی جاتی ہے ۔ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے ۔ یوں اسلامی عقیدہ صاف ہوکر خالص ہوجاتا ہے ۔ نہایت ہی واضح اور نہایت ہی سادہ اور وہ بےراہ روی ‘ افکار پریشاں ‘ بےحقیقت داستانوں اور بت پرستوں کے مقابلے میں جو اہل کتاب کے ایک گروہ کے عقائد کے ساتھ شامل تھے ‘ ان کے تہ بہ تہ ڈھیروں کے مقابلے میں بالکل صاف اور معقول بن جاتا ہے اور اسلامی عقیدے اور نظریے کا پہلا خاصہ یعنی یہ کہ الوہیت اور حاکمیت صرف اللہ کے لئیی ہے اور بندگی صرف اللہ کی ہوگی ‘ بلاکسی شبہ ‘ بلاکسی پیچیدگی اور بغیر کسی گردوغبار کے دونوں حقیقتوں کے درمیان فیصلہ کن اور واضح فرق ہوجاتا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

نصاریٰ کا کفر جنہوں نے مسیح ابن مریم کو معبود بنایا اس کے بعد نصاری کی گمراہی بیان فرمائی ان میں سے ایک فریق کہتا تھا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہے ان کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا بتاؤ اگر اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم کو اور اس کی ماں کو اور روئے زمین کے تمام افراد کو ہلاک کرنا چاہئے تو انہیں کون بچا سکتا ہے چونکہ وہ لوگ حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ (علیہما السلام) کی موت کے قائل تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ ان کو اللہ نے موت دی ہے اس لئے ان سے سوال کر کے خود ان پر حجت قائم کی گئی جسے موت آجائے وہ کیسے خدا ہوسکتا ہے۔ (اور لفظ اِنْ اَرَدَ اس لیے فرمایا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) ابھی تک زندہ ہیں (اگرچہ یہود و نصاریٰ ان کی موت کے قائل ہیں ) ۔ پھر فرمایا (وَ لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَھُمَا) کہ اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، جو مملوک ہو وہ کیسے معبود ہوسکتا ہے اور اپنے خالق کے ساتھ الوہیت میں کیسے شریک ہوسکتا ہے) اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے وہ جو چاہے پیدا فرمائے اس نے مریم کو بھی پیدا فرمایا اور مریم کے بیٹے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو بھی پیدا فرمایا چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش عادت معروفہ کے مطابق نہ تھی اس لئے وہ ان کو خدا کا بیٹا کہنے لگے۔ مخلوق معبود نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کا وجود اس کے خالق کا دیا ہوا ہے۔ خالق جل مجدہ، نے جس طرح بھی وجود دیا ہو بہرحال مخلوق ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا فرما کر اپنی قدرت دکھا دی اس سے یہ کیسے لازم آیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) عین خدایا مستقل معبود ہوجائیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نور بھی تھے اور بشر بھی آیت بالا میں جو (قَدْ جَآءَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبٍیْنٌ) فرمایا ہے اس میں نور سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی مراد ہے۔ نور روشنی کو کہتے ہیں آپ کی تشریف آوری سے پہلے سارا عالم کفر و شرک کی تاریکیوں سے بھرا ہوا تھا توحید کے ماننے والے خال خال ہی دنیا کے کسی گوشہ میں اکا دکا پائے جاتے تھے، خاتم النبیین شمس الرسالتہ سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے تو آپ نے توحید کی دعوت دی اور اس بارے میں بہت زیادہ محنت اور بڑی مشقتیں اٹھائیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے سارا عالم جگمگا اٹھا کفرو شرک کی ظلمتیں چھٹ گئیں اور ایمان و یقین کے نور سے قلوب منور ہوگئے۔ بَلَغَ الْعُلٰی بِکَمَالِہٖ کَشَفَ الدُّ جٰی بِجَمَالِہٖ حَسُنَتْ جَمِیْعُ خِصَالِہٌ صَلُّوْا عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ بہت سے لوگ نور ہونے کا یہ مطلب سمجھتے ہیں کہ آپ بشر نہیں تھے ان کی جاہلانہ بات سے قرآن کریم کی یہ آیت (قَلْ سُبَحَانَ رَبِّیْ ھَلْ کُنْتُ الاَّ بَشَرًا رَّسُوْلاً ) (آپ فرما دیجئے کہ میں اپنے رب کی پاکی بیان کرتا ہوں میں نہیں ہو مگر بشر رسول) کا انکار لازم آتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ فرما دیں کہ میں بشر ہوں رسول ہوں۔ لیکن محبت کے دعویدار کہتے ہیں کہ بشر نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کو جھٹلاتے ہیں پھر بھی اسلام کے دعودے دار ہیں اللہ تعالیٰ ہدایت دے۔ فائد : یہ جو فرمایا (یَّھْدِیْ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِ ) اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا طالب ہوگا اللہ تعالیٰ اسے ضرور ہدایت عطا فرمائے گا جو لوگ اسلام کے مخالف ہیں اور جو لوگ مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں (لیکن ضروریات دین کے منکر ہیں) انہیں علماء اسلام متنبہ کرتے ہیں کہ تمہارے عقائد کفریہ ہیں لیکن انہوں نے ضد اور عنا پر کمر باندھ رکھی ہے ھداھم اللہ تعالیٰ ۔ فائدہ : جنت میں لے جانے والے اعتقادات اور اعمال کو (سُبُلَ السَّلٰمِ ) فرمایا اور جنت کو دارالسلام فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کا نام اسلام رکھا اور اللہ تعالیٰ کے ناموں میں ایک نام السلام بھی ہے اور جب مسلمانوں میں آپس میں ملاقات ہو اس کے لئے سلام کو مشروع فرمایا اور فرض نمازوں کے بعد دعا (اَللَّھُمَّ اَنْتَ السَّلاَمُ وَ مِنْکَ السَّلَامُ ) (اخیرتک) تعلیم فرمائی درحقیقت اللہ کے دین میں سلامتی ہی سلامتی ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

42 لَقَدْ کَفَرَ الخ یہ یَا اَھْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَاءَکُمْ رَسُوْلُنَا الخ سے متعلق ہے۔ اے اہل کتاب ہمارا آخری رسول تمہارے پاس آچکا ہے۔ جو ان سچی باتوں کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے جنہیں تم چھپاتے تھے۔ من جملہ ان کے ایک بات یہ تھی کہ جو لوگ غیر خدا مثلاً حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں یہ عقیدہ رکھیں کہ وہ عین خدا ہے اور اللہ تعالیٰ حضرت مسیح میں حلول کیے ہوئے ہے یا اللہ تعالیٰ بشکل مسیح دنیا میں آیا ہے (شاہ عبد القادر) ایسے لوگ یقینا بلا شبہ کافر ہیں۔ یہ ان عیسائیوں کے خیال کا رد ہے جو حضرت مسیح میں اللہ تعالیٰ کے حلول کے قائل ہیں۔ یعنی یعقوبی فرقہ (روح جلد 6 ص 98) لیکن حضرت شیخ فرماتے ہیں اس سے اتحاد ذات مراد نہیں بلکہ اتحاد صفات مراد ہے یعنی عیسائیوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو صفات ِ کارسازی (صفات ربوبیت) میں خدائے تعالیٰ کا شریک سمجھ رکھا تھا۔ وہ حضرت مسیح کو غیب دان، مافوق الاسباب متصرف و مختار مانتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت سے خدائی اختیارات دے رکھے ہیں اور وہ حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے غائبانہ طور پر ان کو پکارتے تھے۔ یہ عقیدہ اور فعل صریح شرک تھا اس لیے ایسے لوگوں کے کافر ہونے کا تاکید سے اعلان فرمایا۔ اس آیت کا مابعد حضرت شیخ قدس سرہ کے بیان کردہ مفہوم کی تائید کرتا ہے اس آیت کا ماقبل سے ربط یہ ہے کہ مسلمانوں سے فرمایا۔ یہود و نصاریٰ سے مت ڈرو جن کو ہم نے ذلیل کردیا ہے اور جن کے درمیان ہم نے عداوت ڈال دی ہے بلکہ ان سے صاف کہہ دو کہ تم کافر و مشرک ہو۔ 43 قُلْ فَمَنْ یَّمْلِکُ الخ یہ نصاریٰ کے مذکورہ بالا کفریہ عقیدہ کے بطلان پر عقلی دلیل ہے۔ یعنی الہ (معبود) تو صرف وہی ہوسکتا ہے۔ جس کی قدرت کامل ہو اور جس کے اختیارات ہر چیز پر حاوی ہوں۔ حضرت مسیح اور حضرت مریم (علیہما السلام) جن کو عیسائی معبود مانتے ہیں وہ خدا کے سامنے بالکل عاجز اور بےبس ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان دونوں کو اور ان کے ساتھ ساری مخلوق کو ہلاک کرنا چاہے اور انہیں موت کی نیند سلا دینا چاہے تو وہ خود تو کیا دنیا کی کوئی طاقت انہیں موت سے نہیں بچا سکتی۔ جو خود اس قدر بےبس ہیں کہ اپنی ذات سے بھی کوئی تکلیف دور نہیں کرسکتے وہ دوسروں کی کیا کارسازی کریں گے۔ بعض مفسرین نے اس آیت سے حیات مسیح (علیہ السلام) پر استدلال کیا ہے کیونکہ اِنْ اَرَادَ میں اِنْ واقع ہے جو مستقبل میں وقوع جزا پر دلالت کرتا ہے لیکن اس پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اس سے تو حضرت مریم کی حیات بھی ثابت ہوجائے گی تو اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے وَاُمَّہٗ سے پہلے وَ قَدْ اَھْلَکَ مقدر ہے لیکن یہ تمام تکلفات باردہ ہیں۔ حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری فرمایا کرتے تھے کہ اس آیت کا حیات و ممات حضرت مسیح سے کوئی تعلق نہیں۔ اس آیت کا موضوع مسیح اور ان کی والدہ کی الوہیت کی نفی ہے۔ اور وَاُمَّہٗ میں واو عاطفہ نہیں بلکہ بمعنی مع ہے اور اُمَّہٗ مفعول معہ ہے عطف کی صورت میں فعل کا تعلق معطوف علیہ اور معطوف دونوں سے مستقل طور پر ہوتا ہے مگر مفعول معہ کی صورت میں مفعول بہ اور مفعول معہ دونوں کے مجموعے سے فعل متعلق ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ فعل دونوں سے فرداً فرداً بھی متعلق ہے یا نہیں تو اس ترکیب کو اس سے بحث نہیں ہوتی۔ یہ چیز خارجی قرائن اور دلائل سے ثابت ہوگی۔ اسی طرح یہاں اہلاک کا تعلق مسیح اور امہ اور مَنْ فِی الْاَرضِ کے مجموعے سے ہے۔ رہی یہ بات کہ اہلاک تینوں سے فرداً فرداً خاج میں متعلق ہے یا نہیں تو اس کی یہاں بحث نہیں ہے۔ یہ حضرت شیخ انور کے خصوصی جواہر پاروں میں سے ہے۔ 44 وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ الخ مبتداء پر جزا کی تقدیم افادہ حصر کے لیے ہے۔ یعنی آسمانوں اور زمین کے تمام اختیارا صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں وہی ہر چیز کا مالک ہے نہ کہ حضرت مسیح اور ان کی والدہ اور مشرکین کے دوسرے مزعومہ معبودین۔ یَخْلُقُ مَا یَشَاءُ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ حضرت مسیح اور ان کی والدہ میں یہ صفت موجود نہیں۔ وَاللہُ عَلیٰ کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٌ ہر چیز پر قدرت بھی اللہ ہی کو ہے حضرت مسیح اور ان کی والدہ کو نہیں تو پھر وہ معبود کیسے بن سکتے ہیں۔ چونکہ ابتداء کلام میں حصر ہے اس لیے باقی دو حصوں میں بھی حصر ہوگا۔ تفصیل کے لیے مقدمہ تفسیر جواہر القرآن ص 11 ملاحظہ کیجئے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 بلاشبہ وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے یوں کہا کہ مسیح ابن مریم عین خدا ہے اور اللہ تعالیٰ تو وہی عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم ہے اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان سے فرمائیے اگر یہ بات ہے جو تم کہتے ہو تو اچھا بتائو اگر اللہ تعالیٰ حضرت مسیح ابن مریم کو جن کو تم عین خدا کہتے ہو اور ان کی والدہ کو اور ان سب لوگوں کو روئے زمین پر آباد ہیں ہلاک کرنا چاہے تو وہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو اس کے ارادے سے روک سکے اور کیا کوئی ایسا شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے ان کو ذرا بھی بچا سکے اور کیا اللہ تعالیٰ کے سامنے کس کا کچھ بس چل سکتا ہے۔ ہم نے عرض کیا تھا کہ نصاریٰ کے بیشمار فرقے ہیں انہی فرقوں میں سے کسی فرقے کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح ابن مریم ہی خدا ہے یعنی دونوں میں اتحاد اور حلول کے قائل ہیں ہوسکتا ہے کہ یہ عقیدہ فرقہ یعقوبیہ کا ہو اور ہوسکتا ہے کہ فرقہ للکانیہ کا ہو اور ہوسکتا ہے کہ دونوں کا ہو اس عقیدے کے قائلین کا دعویٰ یہ ہے کہ حضرت مسیح اور اللہ تعالیٰ دو چیزیں نہیں ہیں بلکہ جس کو مسیح ابن مریم کہا جاتا ہے وہی تو اللہ تعالیٰ ہے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں مسیح کی شکل اختیار کرلی تھی یا مسیح میں اللہ تعالیٰ نے حلول فرما لیا تھا او چونکہ اس عقیدے میں توحید کا انکار ہے اس لئے کفر لازم آگیا۔ اسی لئے فرمایا ایسا کہنے والے اور مسیح ابن مریم کو عین خدا بتانے والے لوگ کافر ہیں ان کے کفر کا اظہار کرنے کے بعد پھر اس غلط عقیدے کا ابطال فرمایا اور ارشاد ہوا کہ اے پیغمبر ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے دریافت کیجیے کہ جس اللہ تعالیٰ کو یہ قدرت حاصل ہے کہ اگر وہ مسیح ابن مریم اور اس کی ماں بلکہ تمام روئے زمین کی تمام مخلوق کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرما لے اور ان کو موت بھیج دے اور یہ مرجائیں تو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کوئی ذرا بھی یہ حق نہیں رکھتا کہ ان پر سے دفع کرسکے اور اللہ تعالیٰ کے ارادے اور اس کی مشیت میں دخل دے سکے تو جو مخلوق حضرت حق تعالیٰ کے ارادے اور اس کے حکم سے ہلاک ہوجائے اور مرجائے وہ خدا تعالیٰ کے عین اور اس کی شریک کس طرح ہوسکتی ہے اگرچہ ا ن کے کفر کا ابطال صرف مسیح ابن مریم کی موت کا تجت القدرت ہونے میں بھی ہوسکتا تھا لیکن حق تعالیٰ نے ان کی ماں کا ذکر بھی فرمایا تاکہ یہ بات معلوم ہو سکے کہ تم جس کو عین خدا سمجھ رہے ہو وہ تو ایک عورت سے پیدا ہوا ہے۔ نیز اس لئے کہ خود حضرت مسیح میں اس قدر استطاعت نہیں ہے کہ وہ اپنے کو یا اپنی ماں کو جن کے بڑے فرماں بردار اور اطاعت گذار تھے اللہ تعالیٰ کے ہلاکت آفریں ارادے سے محفوظ رکھ سکیں اور روئے زمین کی مخلوق کا ذکر اس لئے فرمایا کہ یہ بات ظاہر ہوجائے کہ مسیح ابن مریم بھی روئے زمین کی مخلوق کی طرح ہیں اور ان کی موت زیست بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت میں اسی طرح ہے جس طرح تمام مخلوق کی موت وحیات اس کے قبضہ میں ہے جب تک چاہے کسی کو زندہ رکھے اور جب چاہے کسی کو فنا اور ہلاک کر دے ہم نے تسہیل میں جو تشریح کی ہے وہ ہلاک کے دونوں معنی کے لحاظ سے کی ہے کیوں کہ ہلاک کے معنی موت کے بھی ہیں۔ جیسا کہ عام طور سے مفسرین بیان کرتے یں اور قرآن و حدیث میں بکثرت یہ لفظ موت کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور ہلاک و اہلاک فنا کردینے اور معدوم کردینے کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے خواہ کوئی معنی کئے جائیں۔ ہر تقدیر پر ان عیسائیوں کے کفر یہ عقیدے کا ابطال مقصود ہے۔ آگے ایک دوسرے طریقہ سے اسی باطل عقیدے کا رد فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل) ف 3 اور اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی خاص سلطنت ہے آسمانوں پر اور زمین پر اور جتنی چیزیں ان دونوں میں موجود ہیں ان سب پر ہے وہ جو چیز چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے۔ (تیسیر) آیت کے اس آخری حصہ کی تقریریوں ہے کہ ان کی تمام مخلوق ان کی محکوم و مملوک ہے پھر ان کے ساتھ شریک یا ان کا عین کس طرح ہوسکتی ہے اور یہ جو فرمایا کہ جو چیز جس طرح چاہتا ہے پیدا کرتا ہے یہ بھی توحید کا ایک استدلال ہے کہ کسی مخلوق کو مجال دم زدن نہیں وہ جس طرح چاہے پیدا کرے اور نیز اس شبہ کا جواب ہے کہ مسیح ابن مریم بن باپ کے پیدا ہوئے ہیں اس لئے اس خصوصیت کے باعث ان کو خدا سمجھا جائے یا اس کی ربوبیت میں شریک ٹھہرایا جائے تو یہ فرمایا کہ کسی خصوصیت کے باعث و مخلوق اور محکوم ہونے سے نہیں نکل سکتے وہ اپنی مخلوق کو جس طرح چاہتا ہے پیدا کرتا ہے خواہ کسی کو بن ماں باپ کے پیدا کر دے خواہ کسی کو بن ماں کے پیدا کرے خواہ کسی کو بن باپ کے پیدا کرے اور خواہ کسی کو ماں اور باپ دونوں سے پیدا کرے اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا اور ہر مخلوق اللہ تعالیٰ کی محکوم و مملوک ہی رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر نہیں ہوجاتی۔ ہر چند کہ اس آیت میں ایک خاص فرقہ کے عقائد با طلہ کا رد فرمایا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ مسیح کے متعلق عیسائیوں کے … مختلف فرقوں کے اور ہر قسم کے کفر و شرک کا رد ہوگیا اور یہ بات ثابت ہوگئی کہ تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کے سامنے بےبس عاجز اور مجبور ہے اور مخلوقات میں سے کوئی فرد اس کی اہلیت نہیں رکھتا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی حیثیت سے بھی اس کو شریک ٹھہرایا جاسکے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اللہ صاحب کسی جگہ نبیوں کے حق میں ایسی بات فرماتے ہیں تاکہ ان کی امت ان کو بندگی کی حد سے زیادہ نہ چڑھا دیں والد نبی اس لائق کا ہے کو ہیں ۔ (موضح القرآن) اب آگے اہل کتاب کے بعض اور عقائد فاسدہ کا ابطال فرماتا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)