The Polytheism and Disbelief of the Christians
Allah says;
لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَألُواْ إِنَّ اللّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ
...
Surely, in disbelief are they who say that Allah is the Messiah, son of Maryam.
Allah states that the Christians are disbelievers because of their claim that `Isa, son of Maryam, one of Allah's servants and creatures, is Allah. Allah is holier than what they attribute to Him.
Allah then reminds them of His perfect ability over everything and that everything is under His complete control and power,
...
قُلْ فَمَن يَمْلِكُ مِنَ اللّهِ شَيْيًا إِنْ أَرَادَ أَن يُهْلِكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ وَمَن فِي الاَرْضِ جَمِيعًا
...
Say: "Who then has the least power against Allah, if He were to destroy the Messiah, son of Maryam, his mother, and all those who are on the earth together."
Therefore, if Allah wills to do that, who would be able to stop Him or prevent Him from doing it.
Allah then said,
...
وَلِلّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا يَخْلُقُ مَا يَشَاء
...
And to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth, and all that is between them. He creates what He wills.
All things in existence are Allah's property and creation and He is able to do everything. He is never asked about what He does with His power, domain, justice and greatness so this refutes the Christian creed, may Allah's continued curses be upon them until the Day of Resurrection.
...
وَاللّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
And Allah is able to do all things.
Refuting the People of the Book's Claim that they are Allah's Children
Allah then refutes the Christians' and Jews' false claims and lies,
اللہ وحدہ شریک ہے
اللہ تبارک و تعالیٰ عیسائیوں کے کفر کو بیان فرماتا ہے کہ انہوں نے اللہ کی مخلوق کو الوہیت کا درجہ دے رکھا ہے ۔ اللہ تعالیٰ شرک سے پاک ہے ، تمام چیزیں اس کی محکوم اور مقدور ہیں ، ہر چیز پر اس کی حکومت اور ملکیت ہے ۔ کوئی نہیں جو اسے کسی ارادے سے باز رکھ سکے ، کوئی نہیں جو اس کی مرضی کے خلاف لب کشائی کی جرأت کر سکے ۔ وہ اگر مسیح کو ، ان کی والدہ کو اور روئے زمین کی تمام مخلوق کا موجد و خالق وہی ہے ۔ سب کا مالک اور سب کا حکمراں وہی ہے ۔ جو چاہے کر گزرے کوئی چیز اس کے اختیار سے باہر نہیں ، اس سے کوئی باز پرس نہیں کر سکتا ، اس کی سلطنت و مملکت بہت وسیع ہے ، اس کی عظمت ، عزت بہت بلند ہے ، وہ عادل و غالب ہے ۔ جسے جس طرح چاہتا ہے بناتا بگاڑتا ہے ، اس کی قدرتوں کی کوئی انتہاء نہیں ۔ نصرانیوں کی تردید کے بعد اب یہودیوں اور نصرانیوں دونوں کی تردید ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ پر ایک جھوٹ یہ باندھا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں ، ہم انبیاء کی اولاد ہیں اور وہ اللہ کے لاڈلے فرزند ہیں ، اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسرائیل کو کہا ہے ( انت ابنی بکری ) پھر تاویلیں کر کے مطلب الٹ پلٹ کر کے کہتے کہ جب وہ اللہ کے بیٹے ہوئے تو ہم بھی اللہ کے بیٹے اور عزیز ہوئے حالانکہ خود ان ہی میں سے جو عقلمند اور صاحب دین تھے وہ انہیں سمجھاتے تھے کہ ان لفظوں سے صرف بزرگی ثابت ہوتی ہے ، قرابت داری نہیں ۔ اسی معنی کی آیت نصرانی اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ نے فرمایا ( انی ذاھب الی ابی وابیکم ) اس سے مراد بھی سگا باپ نہ تھا بلکہ ان کے اپنے محاورے میں اللہ کیلئے یہ لفظ بھی آتا تھا پس مطلب اس کا یہ ہے کہ میں اپنے اور تمہارے رب کی طرف جا رہا ہوں اور عبادت کا مفہوم واضح بتا رہا ہے کہ یہاں اس آیت میں جو نسبت حضرت عیسیٰ کی طرف سے ، وہی نسبت ان کی تمام امت کی طرف ہے لیکن وہ لوگ اپنے باطل عقیدے میں حضرت عیسیٰ کو اللہ سے جو نسبت دیتے ہیں ، اس نسبت کا اپنے اپنے اوپر اطلاق نہیں مانتے ۔ پس یہ لفظ صرف عزت و وقعت کیلئے تھا نہ کہ کچھ اور ۔ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے کہ اگر یہ صحیح ہے تو پھر تمہارے کفر و کذب ، بہتان و افتراء پر اللہ تمہیں سزا کیوں کرتا ہے؟ کسی صوفی نے کسی فقیہ سے دریافت فرمایا کہ کیا قرآن میں یہ بھی کہیں ہے کہ حبیب اپنے حبیب کو عذاب نہیں کرتا ؟ اس سے کوئی جواب بن نہ پڑا تو صوفی نے یہی آیت تلاوت فرما دی ، یہ قول نہایت عمدہ ہے اور اسی کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ راہ سے گزر رہے تھے ۔ ایک چھوٹا سا بچہ راستہ میں کھیل رہا تھا ، اس کی ماں نے جب دیکھا کہ اسی جماعت کی جماعت اسی راہ آ رہی ہے تو اسے ڈر لگا کہ بچہ روندا نہ جائے میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی ہوئی آئی اور جھٹ سے بچے کو گود میں اٹھا لیا اس پر صحابہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ عورت تو اپنے پیارے بچے کو کبھی بھی آگ میں نہیں ڈال سکتی آپ نے فرمایا ٹھیک ہے ، اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے بندوں کو ہرگز جہنم میں لے جائیگا ۔ یہودیوں کے جواب میں فرماتا ہے کہ تم بھی منجملہ اور مخلوق کے ایک انسان ہو تمہیں دوسروں پر کوئی فوقیت و فضیلت نہیں ، اللہ سبحان و تعالیٰ اپنے بندوں پر حاکم ہے اور وہی ان میں سچے فیصلے کرنے والا ہے ، وہ جسے چاہے بخشے جسے چاہے پکڑے ، وہ جو چاہے کر گزرتا ہے ، اس کا کوئی حاکم نہیں ، اسے کوئی رد نہیں کر سکتا ، وہ بہت جلد بندوں سے حساب لینے والا ہے ۔ زمین و آسان اور ان کے درمیان کی مخلوق سب اس کی ملکیت ہے اس کے زیر اثر ہے ، اس کی بادشاہت تلے ہے ، سب کا لوٹنا اس کی طرف ہے ، وہی بندوں کے فیصلے کریگا ، وہ ظالم نہیں عادل ہے ، نیکوں کو نیکی اور بدوں کو بدی دے گا ، نعمان بن آصا ، بحربن عمرو ، شاس بن عدی جو یہودیوں کے بڑے بھاری علماء تھے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے انہیں سمجھایا بجھایا ، آخرت کے عذاب سے ڈرایا تو کہنے لگے سنئے ، حضرت آپ ہمیں ڈرا رہے ہیں ، ہم تو اللہ کے بچے اور اس کے پیارے ہیں ، یہی نصرانی بھی کہتے تھے پس یہ آیت اتری ۔ ان لوگوں نے ایک بات یہ بھی گھڑ کر مشہور کر دی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسرائیل کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تیرا پہلو نٹھا بیٹا میری اولاد میں سے ہے ۔ اس کی اولاد چالیس دن تک جہنم میں رہے گی ، اس مدت میں آگ انہیں پاک کر دے گی اور ان کی خطاؤں کو کھا جائے گی ، پھر ایک فرشتہ منادی کرے گا کہ اسرائیل کی اولاد میں سے جو بھی ختنہ شدہ ہوں ، وہ نکل آئیں ، یہی معنی ہیں ان کے اس قول کے جو قرآن میں مروی ہے وہ کہتے ہیں ہمیں گنتی کے چند ہی دن جہنم میں رہنا پڑے گا ۔