Surat ul Maeeda

Surah: 5

Verse: 18

سورة المائدة

وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ وَ النَّصٰرٰی نَحۡنُ اَبۡنٰٓؤُا اللّٰہِ وَ اَحِبَّآؤُہٗ ؕ قُلۡ فَلِمَ یُعَذِّبُکُمۡ بِذُنُوۡبِکُمۡ ؕ بَلۡ اَنۡتُمۡ بَشَرٌ مِّمَّنۡ خَلَقَ ؕ یَغۡفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا ۫ وَ اِلَیۡہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۸﴾

But the Jews and the Christians say, "We are the children of Allah and His beloved." Say, "Then why does He punish you for your sins?" Rather, you are human beings from among those He has created. He forgives whom He wills, and He punishes whom He wills. And to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth and whatever is between them, and to Him is the [final] destination.

یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں ، آپ کہہ دیجئے کہ پھر تمہیں تمہارے گناہوں کے باعث اللہ کیوں سزا دیتا ہے ؟ نہیں بلکہ تم بھی اس کی مخلوق میں سے ایک انسان ہو وہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب کرتا ہے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہرچیز اللہ تعالٰی کی ملکیت ہے اور اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى نَحْنُ أَبْنَاء اللّهِ وَأَحِبَّاوُهُ ... And the Jews and the Christians say, "We are the children of Allah and His loved ones." They claim: "We are the followers of Allah's Prophets, who are His children, whom He takes care of. He also loves us." The People of the Book claim in their Book that Allah said to His servant Israil, "You are my firstborn." But they explained this statement in an improper manner and altered its meaning. Some of the People of the Book who later became Muslims refuted this false statement saying, "This statement only indicates honor and respect, as is common in their speech at that time." The Christians claim that `Isa said to them, "I will go back to my father and your father," meaning, my Lord and your Lord. It is a fact that the Christians did not claim that they too are Allah's sons as they claimed about `Isa. Rather this statement by `Isa only meant to indicate closeness with Allah. This is why when they said that they are Allah's children and loved ones, Allah refuted their claim, ... قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُم ... Say, "Why then does He punish you for your sins!" meaning, if you were truly as you claim, Allah's children and loved ones, then why did He prepare the Fire because of your disbelief, lies and false claims! ... بَلْ أَنتُم بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ... Nay, you are but human beings, of those He has created, Allah states: you are just like the rest of the children of Adam, and Allah is the Lord of all His creation. ... يَغْفِرُ لِمَن يَشَاء وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاء ... He forgives whom He wills and punishes whom He wills. Allah does what He wills, there is none who can escape His judgment, and He is swift in reckoning. ... وَلِلّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ... And to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth and all that is between them; Therefore, everything is Allah's property and under His power and control. ... وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ and to Him is the return. In the end, the return will be to Allah and He will judge between His servants as He will, and He is the Most Just Who is never wrong in His judgment.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

18۔ 1 یہودیوں نے حضرت عزیر کو اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ابن اللہ کہا اور اپنے آپ کو بھی ابناء اللہ (اللہ کے بیٹے) اور اس کا محبوب قرار دے لیا۔ بعض کہتے ہیں یہاں ایک لفظ محذوف ہے یعنی اتباع ابناء اللہ ہم اللہ کے بیٹوں (عزیر و مسیح) کے پیروکار ہیں (دونوں مفہوموں میں سے کوئی سا بھی مفہوم مراد لیا جائے۔ اس سے ان کے تفاخر اور اللہ کے بارے میں بےجا اعتماد اظہار ہوتا ہے۔ جس کی اللہ کے ہاں کوئی حیثیت نہیں۔ 18۔ 2 اس میں ان کے مذکورہ تفاخر کا بےبنیاد ہونا واضح کردیا گیا ہے کہ اگر تم واقعی اللہ کے محبوب اور چہیتے ہوتے یا محبوب ہونے کا مطلب یہ ہے تم جو چاہو کرو اللہ تم سے باز پرس نہیں کرے گا تو پھر اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے گناہوں کی پادش میں سزا کیوں دیتا رہا ہے ؟ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ اللہ کی بارگاہ میں دعو وں کی بنیاد پر نہیں ہوتا نہ قیامت والے دن ہوگا بلکہ وہ تو ایمان وتقویٰ اور عمل دیکھتا ہے اور دنیا میں بھی اسی کی روشنی میں فیصلہ فرماتا ہے اور قیامت والے دن بھی اسی اصول پر فیصلہ ہوگا۔ 18۔ 3 تاہم یہ عذاب یا مغفرت کا فیصلہ اسی سنت اللہ کے مطابق ہوگا، جس کی اس نے وضاحت فرما دی ہے کہ اہل ایمان کے لئے مغفرت اور اہل کفر و فسق کے لئے عذاب، تمام انسانوں کا فیصلہ اسی کے مطابق ہوگا۔ اے اہل کتاب ! تم بھی اسی کی پیدا کردہ مخلوق یعنی انسان ہو۔ تمہاری بابت فیصلہ دیگر انسانی مخلوق سے مختلف کیونکر ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٩] یعنی تم کوئی بالاتر مخلوق نہیں بلکہ عام انسانوں کی طرح ہی ہو۔ تمہاری بھی اللہ کے حضور ویسے ہی باز پرس ہوگی جیسے دوسرے لوگوں کی ہوگی پھر اللہ جسے چاہے گا معاف کر دے گا اور جسے چاہے گا اس کے گناہوں کے عوض اسے دھر لے گا اور جو کچھ وہ کرے وہ مختار کل ہے۔ کیونکہ وہ کائنات کی ہر چیز کا مالک ہے کوئی چیز اس کے آگے دم نہیں مار سکتی اور اس کے حضور سب کو پیش ہونا پڑے گا اور یہ ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی مفر نہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ وَالنَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ ۔۔ : اس آیت کریمہ میں یہود و نصاریٰ کی ایک اور گمراہی بیان کی گئی ہے کہ ہم تو اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور محبوب لوگ ہیں، چناچہ بائبل میں آج تک اس قسم کے حوالے موجود ہیں : ” خداوند نے یوں فرمایا ہے کہ اسرائیل میرا بیٹا بلکہ میرا پلوٹھا ہے۔ “ (خروج : ٤: ٢٢) ” تم خداوند اپنے خدا کے فرزند ہو۔ “ (استثناء : ١٤ : ٢٢ ) اور انجیل میں ہے کہ مسیح (علیہ السلام) نے نصاریٰ سے کہا : ” میں اپنے اور تمہارے باپ کے پاس جاتا ہوں۔ “ اگرچہ بعض یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ بیٹے سے مراد پیارا اور محبوب ہے، مگر پھر بھی ان کا یہ فخر اور دوسروں پر برتری کا اظہار کہ ہم خاص حق کے مقرب اور اونچے طبقے کے لوگ ہیں، جیسے برہمن وغیرہ کہتے ہیں، بالکل غلط ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی اور کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر اللہ تمہارے گناہوں کی وجہ سے تمہیں عذاب کیوں دے گا ! کہیں کوئی محب اپنے حبیب کو عذاب دیتا ہے ؟ حالانکہ تم خود اپنی زبان سے اعتراف کرتے ہو کہ ہمیں صرف گنتی کے دن آگ میں ڈالا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا یہ گمان، جس کے سہارے تم جی رہے ہو، سراسر باطل ہے۔ تم تو انسان ہو، اللہ کا تم سے تعلق بس وہی ہے جو خالق کا مخلوق سے اور مالک کا غلام سے ہوتا ہے، وہ جسے چاہے بخش دے، جسے چاہے عذاب دے۔ کوئی کتنا بھی مقرب ہو یا سید یا برہمن یا پیر و مرشد ہو، اگر اللہ تعالیٰ نہ چاہے تو نہ خود عذاب سے بچ سکتا ہے نہ کسی کو بچا سکتا ہے۔ یہ سب تو خود اس کے حضور پیش ہوں گے اور لرز رہے ہوں گے کہ ہمارا کیا فیصلہ ہوتا ہے، تم اپنی جھوٹی امیدوں سے کیوں اپنی بربادی کر رہے ہو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ وَالنَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللہِ وَاَحِبَّاۗؤُہٗ۝ ٠ۭ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ۝ ٠ۭ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ۝ ٠ۭ يَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ۝ ٠ۭ وَلِلہِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَہُمَا۝ ٠ۡوَاِلَيْہِ الْمَصِيْرُ۝ ١٨ هَادَ ( یہودی) فلان : إذا تحرّى طریقة الْيَهُودِ في الدّين، قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا [ البقرة/ 62] والاسم العلم قد يتصوّر منه معنی ما يتعاطاه المسمّى به . أي : المنسوب إليه، ثم يشتقّ منه . نحو : قولهم تفرعن فلان، وتطفّل : إذا فعل فعل فرعون في الجور، وفعل طفیل في إتيان الدّعوات من غير استدعاء، وتَهَوَّدَ في مشيه : إذا مشی مشیا رفیقا تشبيها باليهود في حركتهم عند القراءة، وکذا : هَوَّدَ الرّائض الدابّة : سيّرها برفق، وهُودٌ في الأصل جمع هَائِدٍ. أي : تائب وهو اسم نبيّ عليه السلام . الھود کے معنی نر می کے ساتھ رجوع کرنا کے ہیں اور اسی سے التھدید ( تفعیل ) ہے جسکے معنی رینگنے کے ہیں لیکن عرف میں ھو د بمعنی تو بۃ استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا[ البقرة/ 62] ہم تیری طرف رجوع ہوچکے بعض نے کہا ہے لفظ یہود بھی سے ماخوذ ہے یہ اصل میں ان کا تعریفی لقب تھا لیکن ان کی شریعت کے منسوخ ہونے کے بعد ان پر بطور علم جنس کے بولا جاتا ہے نہ کہ تعریف کے لئے جیسا کہ لفظ نصارٰی اصل میں سے ماخوذ ہے پھر ان کی شریعت کے منسوخ ہونے کے بعد انہیں اسی نام سے اب تک پکارا جاتا ہے ھاد فلان کے معنی یہودی ہوجانے کے ہیں قرآن پاک میں ہے : ۔ عَلى شَفا جُرُفٍ هارٍ فَانْهارَ بِهِ فِي نارِ جَهَنَّمَ [ التوبة/ 109] جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی کیونکہ کبھی اسم علم سے بھی مسمی ٰ کے اخلاق و عادات کا لحاظ کر کے فعل کا اشتقاق کرلیتے ہیں مثلا ایک شخص فرعون کی طرح ظلم وتعدی کرتا ہے تو اس کے کے متعلق تفر عن فلان کہ فلان فرعون بنا ہوا ہے کا محاورہ استعمال ہوتا ہے اسہ طرح تطفل فلان کے معنی طفیلی یعنی طفیل نامی شخص کی طرح بن بلائے کسی کا مہمان بننے کے ہیں ۔ تھودا فی مشیہ کے معنی نرم رفتاری سے چلنے کے ہیں اور یہود کے تو راۃ کی تلاوت کے وقت آہستہ آہستہ جھومنے سے یہ معنی لئے کئے ہیں ۔ ھو دا لرائض الدبۃ رائض کا سواری کو نر می سے چلانا ھود اصل میں ھائد کی جمع ہے جس کے معنی تائب کے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے ایک پیغمبر کا نام ہے ۔ نَّصَارَى وَالنَّصَارَى قيل : سُمُّوا بذلک لقوله : كُونُوا أَنْصارَ اللَّهِ كَما قالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوارِيِّينَ مَنْ أَنْصارِي إِلَى اللَّهِ قالَ الْحَوارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصارُ اللَّهِ [ الصف/ 14] ، وقیل : سُمُّوا بذلک انتسابا إلى قرية يقال لها : نَصْرَانَةُ ، فيقال : نَصْرَانِيٌّ ، وجمْعُه نَصَارَى، قال : وَقالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصاری الآية [ البقرة/ 113] ، ونُصِرَ أرضُ بني فلان . أي : مُطِرَ «1» ، وذلک أنَّ المطَرَ هو نصرةُ الأرضِ ، ونَصَرْتُ فلاناً : أعطیتُه، إمّا مُسْتعارٌ من نَصْرِ الأرض، أو من العَوْن . اور بعض کے نزدیک عیسائیوں کو بھی نصاری اس لئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے نحن انصار اللہ کا نعرہ لگا دیا تھا ۔ چناچہ قران میں ہے : ۔ كُونُوا أَنْصارَ اللَّهِ كَما قالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوارِيِّينَ مَنْ أَنْصارِي إِلَى اللَّهِ قالَ الْحَوارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصارُ اللَّهِ [ الصف/ 14] جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) بن مر یم نے حواریوں سے کہا بھلا کون ہے جو خدا کی طرف بلانے میں میرے مددگار ہوں تو حوراریوں نے کہا ہم خدا کے مددگار ہیں ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ نصرانی کی جمع ہے جو نصران ( قریہ کا نام ) کی طرف منسوب ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَقالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصاریالآية [ البقرة/ 113] یہود کہتے ہیں کہ عیسائی رستے پر نہیں ۔ نصر ارض بنی فلان کے معنی بارش بر سنے کے ہیں کیونکہ بارش سے بھی زمین کی مدد ہوتی ہے اور نصرت فلانا جس کے معنی کسی کو کچھ دینے کے ہیں یہ یا تو نصر الارض سے مشتق ہے اور یا نصر بمعنی عون سے ۔ حب والمحبَّة : إرادة ما تراه أو تظنّه خيرا، وهي علی ثلاثة أوجه : - محبّة للّذة، کمحبّة الرجل المرأة، ومنه : وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] . - ومحبّة للنفع، کمحبة شيء ينتفع به، ومنه : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] . - ومحبّة للفضل، کمحبّة أهل العلم بعضهم لبعض لأجل العلم . ( ح ب ب ) الحب والحبۃ المحبۃ کے معنی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر اس کا ارادہ کرنے اور چاہنے کے ہیں اور محبت تین قسم پر ہے : ۔ ( 1) محض لذت اندوزی کے لئے جیسے مرد کسی عورت سے محبت کرتا ہے ۔ چناچہ آیت : ۔ وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] میں اسی نوع کی محبت کی طرف اشارہ ہے ۔ ( 2 ) محبت نفع اندوزی کی خاطر جیسا کہ انسان کسی نفع بخش اور مفید شے سے محبت کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13 اور ایک چیز کو تم بہت چاہتے ہو یعنی تمہیں خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح حاصل ہوگی ۔ ( 3 ) کبھی یہ محبت یہ محض فضل وشرف کی وجہ سے ہوتی ہے جیسا کہ اہل علم وفضل آپس میں ایک دوسرے سے محض علم کی خاطر محبت کرتے ہیں ۔ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا ذنب والذَّنْبُ في الأصل : الأخذ بذنب الشیء، يقال : ذَنَبْتُهُ : أصبت ذنبه، ويستعمل في كلّ فعل يستوخم عقباه اعتبارا بذنب الشیء، ولهذا يسمّى الذَّنْبُ تبعة، اعتبارا لما يحصل من عاقبته، وجمع الذّنب ذُنُوب، قال تعالی: فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] ، الذنب ( ض ) کے اصل معنی کسی چیز کی دم پکڑنا کے ہیں کہا جاتا ہے ذنبتہ میں نے اس کی دم پر مارا دم کے اعتبار ست ہر اس فعل کو جس کا انجام برا ہوا سے ذنب کہہ دیتے ہیں اسی بناء پر انجام کے اعتباڑ سے گناہ کو تبعتہ بھی کہا جاتا ہے ۔ ذنب کی جمع ذنوب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ( عذاب میں ) پکڑلیا تھا۔ بشر وخصّ في القرآن کلّ موضع اعتبر من الإنسان جثته وظاهره بلفظ البشر، نحو : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] ، ( ب ش ر ) البشر اور قرآن میں جہاں کہیں انسان کی جسمانی بناوٹ اور ظاہری جسم کا لحاظ کیا ہے تو ایسے موقع پر خاص کر اسے بشر کہا گیا ہے جیسے فرمایا : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] اور وہی تو ہے جس نے پانی سے آدمی پیدا کیا ۔ إِنِّي خالِقٌ بَشَراً مِنْ طِينٍ [ ص/ 71] کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں ۔ غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ صير الصِّيرُ : الشِّقُّ ، وهو المصدرُ ، ومنه قرئ : فَصُرْهُنَّ وصَارَ إلى كذا : انتهى إليه، ومنه : صِيرُ البابِ لِمَصِيرِهِ الذي ينتهي إليه في تنقّله وتحرّكه، قال : وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ [ الشوری/ 15] . و «صَارَ» عبارةٌ عن التّنقل من حال إلى حال . ( ص ی ر ) الصیر کے معنی ایک جانب یا طرف کے ہیں دراصل یہ صار ( ض) کا مصدر ہے ۔ اور اسی سے آیت فصوھن ہیں ایک قرآت فصرھن ہے ۔ صار الی کذا کے معنی کسی خاص مقام تک پہنچ جانا کے ہیں اسی سے صیر الباب ہے جس کے معنی درداڑہ میں شگاف اور جھروکا کے ہیں اور اسے صیر اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ نقل و حرکت کا منتہی ہوتا ہے اور صار کا لفظ ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہونے پر بولا جاتا ہے ۔ اسی سے المصیر اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی چیز نقل نہ حرکت کے بعد پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ [ الشوری/ 15] یعنی اللہ تعالیٰ ہی لوٹنے کی جگہ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (وقالت ایھود و النصاری نحن ابناء اللہ واحباء ہ) یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں) حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ یہ بات یہودیوں کی ایک جماعت نے کہی تھی جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں اللہ کی سزائوں سے ڈرایا تھا، انہوں نے جواب میں کہا تھا کہ آپ ہمیں نہ ڈرائیں کیونکہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ سدی کا قول ہے کہ یہودیوں کا یہ خیال تھا کہ لالہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب کو یہ وحی بھیجی تھی کہ تمہارا بیٹا درحقیقت وہی ہوگا جو سب سے پہلے پیدا ہوگا یعنی وہ تمہاری طرح ہوگا اور تم سب سے قریب ہوگا۔ حسن کہتے ہیں کہ یہودیوں نے آیت میں مذکورہ اس معنی کی بنا پر کہی تھی کہ بیٹا باپ سے قریب ہوتا ہے یعنی یہود کا خیال یہ تھا کہ وہ لوگ اللہ سے قریب ہیں۔ نصاریٰ کے متعلق کہا گیا ہے کہ انجیل کے مطابق جب حضرت مسیح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ میں اپنے اور تمہارے باپ کی طرف جا رہا ہوں تو انہوں نے اس سے یہ مفہوم اخذ کرلیا کہ وہ سب کے سب اللہ کے بیٹے ہیں۔ ایک قول یہ ہے عیسائیوں نے جب یہ کہا کہ مسیح (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں تو انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیں یعنی ان میں سے کسی نے یہ کہا کہ دوسرے لوگ بھی اس کے ہم زبان بن گئے، اس تاویل کی بنا پر آیت نقل کردہ ان کے قول کا مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ کا بیٹا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) ہم میں سے ہے۔ ان کا یہ قول اہل عرب کے اس محاورے کے مطابق ہے کہ ” ھذیل شعرا “ (قبیلہ ہذیل شاعر ہے) اس کا مفہوم یہ ہے کہ قبیلہ ہذیل میں سے شعراء ہیں۔ یا یہ جملہ کہ ” فی رھط مسلیمہ وہ مسلیمہ کے گروہ میں ہے) قول باری ہے (قل فلم یعذبکم بذنوبکم۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کہہ دیں کہ وہ پھر تمہیں تمہارے گناہوں پر سزائیں کیوں دیتا ہے) آیت میں ان کے مذکورہ بالا دعوے کی تردید اور ان کی زبان سے ہی اس کی تکذیب ہے۔ اس لئے کہ انہیں اس بات کا کہ گناہوں پر انہیں سزائیں ملتی ہیں۔ اور یہ بات واضح ہے کہ مشفق باپ اپنے بیٹے کو کبھی سزا نہیں دیتا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٨) مدینہ منورہ کے یہودی اور نجران کے عیسائی کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے دین پر ایسے قائم ہیں جیسا کہ اس کے بیٹے اور محبوب یا ہم مثل اولاد اور معشوقوں کے مقبول ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اولاد انبیاء ہیں۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان یہودیوں سے دریافت کیجیے کہ تم نے چالیس دن تک جو بچھڑے کی پوجا کرکے خدا کی نافرمانی کی جس کی خدا نے تمہیں سزا دی، اگر تم خدا کے بیٹے ہو تو پھر خدا نے کیوں تمہیں یہ سزا دی، کیا باپ اپنے بیٹے کو آگ میں جلا سکتا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم خدا کی مخلوق اور اس کے بندے ہو، یہودیت اور نصرانیت سے جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمانے والے ہیں اور جو اسی پر مرتا ہے، اسے عذاب دیتا ہے، مومن ہو یا کافر سب کو اسی طرف لوٹ کرجانا ہے۔ شان نزول : (آیت) ” وقالت الیہود والنصری “۔ (الخ) ابن اسحاق نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں نعمان بن قصی، بحربن عمر اور شاس بن عدی آئے، سب نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گفتگو کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے گفتگو کی اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا اور اس کے عذاب سے ڈرایا۔ تو وہ کہنے لگے ہم نہیں ڈرتے اور نصاری کی طرح کہنے لگے اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا کی قسم ہم اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی یہود اور نصاری دعوے کرتے ہیں، الخ۔ نیز ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہود کو اسلام کی دعوت دی اور اس کی طرف رغبت دلائی تو انہوں نے انکار کیا، اس پر حضرت معاذ بن جبل (رض) اور سعد بن عبادہ (رض) بولے، اے گروہ یہود، اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اللہ کی قسم تم یہ حقیقت اچھی طرح جانتے ہو کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، آپ کی بعثت سے قبل تم ہی لوگ ہم سے آپ کا ذکر کیا کرتے تھے اور آپ کے اوصاف بیان کرتے تھے۔ اس پر رافع بن حریملہ اور وہب بن یہود بولے کہ ہم نے تم سے یہ بیان نہیں کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے نہ کوئی کتاب نازل کی اور نہ کسی بشیر اور نذیر کو بھیجا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔”۔ یا اھل الکتاب “۔ (الخ) اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارے یہ رسول، الخ۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٨ (وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ وَالنَّصٰرٰی نَحْنُ اَبْنآؤُا اللّٰہِ وَاَحِبَّآؤُہٗ ط) یعنی بیٹوں کی مانند ہیں ‘ بڑے لاڈلے اور پیارے ہیں۔ (قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُکُمْ بِذُنُوْبِکُمْ ط) اگر تم اللہ کی اولاد ہو ‘ اس کے بڑے چہیتے ہو ‘ تو کیا اسی لیے بخت نصر (Nebukadnezar) کے ہاتھوں اس نے تمہیں پٹوایا ‘ تمہارے چھ لاکھ افراد قتل کر وا دیے ‘ چھ لاکھ قیدی بنے ‘ تمہارا ہیکل اوّل بھی شہید کردیا گیا۔ پھر آشوریوں نے تمہاری سلطنت اسرائیل کو روند ڈالا۔ پھر یونانیوں کے ہاتھوں تمہارا استحاصل ہوا۔ پھر رومیوں نے تمہارے اوپر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے اور رومن جنرل طیطس (Titus) نے تمہارا دوسرا ہیکل بھی مسمار کردیا۔ کیا ایسے ہی لاڈلے ہوتے ہیں اللہ کے ؟ کیا اللہ اتنا ہی لاچار اور عاجز ہے کہ اپنے لاڈلوں کو ذلت و خواری اور ظلم و ستم سے بچا نہیں سکتا ؟ (بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ط) (نہیں) بلکہ تم بھی انسان ہو جیسے دوسرے انسان اس نے پیدا کیے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

18: یہ بات یہود ونصاری بھی مانتے تھے کہ وہ محتلف مواقع پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نشانہ بنے ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگ اس بات کے بھی قائل تھے کہ آخرت میں بھی کچھ عرصے کے لئے وہ دوزخ میں جائیں گے، لہذا بتانا یہ منظور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسان ایک جیسے پیدا فرمائے ہیں، ان میں کسی خاص نسل کے بارے میں یہ دعوی کرنا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی لاڈلی قوم ہے اور اس کے قوانین سے لازمی طور پر مستثنی ہے بالکل غلط دعوی ہے، اللہ تعالیٰ کے قوانین سب کے لئے برابر ہیں، اس نے کوئی خاص نسل اپنی رحمت کے لئے مخصوص نہیں کی ہے، البتہ وہ اپنی حکمت کے تحت جس کو چاہتا ہے بخش بھی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اپنے قانون عدل کے تحت سزا بھی دیتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

ابن جریر ابی حاتم اور ابن اسحاق نے حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ ایک روز اہل کتاب کے کچھ علماء آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے آپ نے ان کو طرح طرح کی نصیحت کی اور عذاب آخرت سے ڈرایا انہوں نے جواب دیا کہ عام لوگوں کی طرح ہم کو عذاب آخرت سے کیا ڈراتے ہو عام لوگوں اور ہم میں بڑا فرق ہے ہم عام مخلوقات کی طرح نہیں ہیں بلکہ خدا کے بیٹے اور پیارے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ١ ؎۔ اور ان کے جواب کو یوں جھٹلایا کہ دنیا میں تو تم کو عام مخلوقات کی طرح تمہارے گناہوں کی سزا مل رہی ہے۔ بہت لوگ تم نافرمانی سے سور اور بندر ہوگئے۔ تمام قوم کی بادشاہت نیست و نابود ہوگئی دن بدن ذلت و خواری بڑھتی جاتی ہے پھر تم کو آخرت کا حال کیونکر معلوم ہوگیا کہ تمہیں آخرت میں خلائق کی طرح عذاب نہ ہوگا۔ یہود حضرت عزیز ( علیہ السلام) کو اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) خدا کا بیٹے کہتے ہیں اور بیٹے کے اولاد دراولاد بیٹے کی برابر ہوتی ہے۔ اس لئے حضرت عزیر ( علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی اولاد ہونے کی مناسب سے یہ لوگ اپنے آپ کو خدا کا بیٹا پیارا اور عام مخلوق سے بالا تر گنتے ہیں۔ آگے فرمایا کہ قیامت کے دن کی بخشش اور پرستش اللہ کی مرضی پر منحصر ہے جسے وہ چاہے گا بخشے گا اور جس سے اسے مؤاخذہ منظور ہوگا اس سے مؤاخذہ کرے گا۔ کسی کا بیٹا پوتا ہونا اس دن بغیر مرضی اس مالک الملک کے کچھ کام نہ آوے گا۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے پوتوں کی اس دن بڑی خرابی ہے جو اپنے بڑوں کو خدا کا بیٹا اور شریک ٹھیرا ویں کیونکہ وہ وحدہٗ لاشریک شرک سے بیزار ہے زمین و آسان کی بادشاہت میں نہ اس کا شریک ہے نہ ولی عہد بلکہ ادنیٰ رعایا کی طرح اس دن سب کو اس کے روبرو کھڑا ہونا پڑے گا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(5:18) المصیر ۔ صار یصیر (ضرب) سے اسم ظرف مکان۔ لوٹنے کی جگہ۔ ٹھکانا ، قرار گاہ۔ المصیر مصدر بھی ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہود کی ایک جماعت کو اسلام کی طرفک دعوت دی اور ان کو عذاب الہیٰ سے ڈارایا اس پر ہو کہنے لگے کہ تم ہمیں اللہ کے عذاب سے کیسے ڈراتے ہو ہم تو اللہ تعالیٰ ٰٗ کے بیٹ اور اس کے محبوب ہیں، چناچہ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انجیل میں ہے کہ حضرت مسیح ( علیہ السلام) نے نصاری ٰ سے کہا میں اپنے اور تمہارے باپ کے پاس جاتا ہوں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دونوں گروہ اللہ تعالیٰ کے ابنا اور احبا ہونے کے مدعی تھے بعض نے یہاں مضاف محذوف مانا ہے ای نحن ابنا رسل اللہ واحباہ، حاصل یہ ہے کہ اہل کتاب اپنے آپ کو دوسروں سے فائق سمجھتے ہیں اور ان کا دعویٰ تھا کہ ہمارے اسلاف کی وجہ سے ہمیں عذاب نہیں ہوگا۔ قرآن نے ان کی تردید کی (قرطبی، کبیر)8 یعنی یہ قانون ہے کہ گناہ کریگا اسے سزا ملے گی اور جس کے عمل نیک ہوں گے اسے انعام ملے گا جس طرح دوسرے لوگوں پر نافذ ہوگا تم پر بھی نافذ ہوگا پھر تمہاری ایسی کونسی خصوصیت ہے جس کی بنا پر تم اپنے آپ کو اس کے بیٹے اور چہتیے کہتے ہو (ابن کثیر، قرطبی)9 اس میں یہود یوں کے لیے تبنہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے آخرکار تمہیں اس کے حضور میں پیش ہونا ہے وہاں تمہاری جو بھی سزا ہوگی تمہیں مل کر رہے گی لہذ اتم اب بھی اپنی بداعمالی سے باز آجاو (ابن کثیر، شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم کو بوجہ اس کے کہ انبیاء کی اولاد واشیاع ہیں بہ نسبت دوسرے لوگوں کے گواہ ہمارے ہی مذہب کے کیوں نہ ہوں اللہ کے ساتھ یہ خصوصیت ہے کہ ہم سے باوجود عصیان کے بھی اوروں کے برابر ناخوش نہیں ہوتے جیسے باپ کے ساتھ اولاد کو خصوصیت ہوتی ہے کہ اگر وہ نافرمانی بھی کرے تب بھی اس کے قلب پر وہ اثر نہیں ہوتا جیسا کہ کسی غیر آدمی کے اس کی نافرمانی کرنے سے ہوتا ہے اللہ اس کا رد فرماتے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اب عیسائیوں اور یہودیوں کو مشترکہ خطاب ہوتا ہے۔ قرآن مجید کا فرمان ہے کہ جب کوئی فرد یا قوم شرک میں مبتلا ہوتی ہے تو اس کی گمراہی کی کوئی حد نہیں رہتی۔ جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (النساء : ١١٦) جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا گو یا وہ آسمان سے گرا اور پر ندوں نے اسے نوچ ڈالا یا وہ تیز ہواؤں نے اسے کسی گہری کھڈ میں دے مارا۔ (الحج : ٣١) یہ شرک کی نحوست کا نتیجہ ہے کہ یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا ٹھہرایا۔ اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا جزء قرار دیا پھر آگے چل کر مذہبی تقدس کی دھاک بٹھانے اور سیاسی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے بزعم خود اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہونے کا اعلان کیا۔ اور یہ بھی باور کرو ایا کہ ہم اس کے ایسے بیٹے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ بڑی محبت کرتا ہے۔ اس کے جواب میں ان پر اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ اگر تم واقعی اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور اس کے پسند یدہ لوگ ہو تو پھر اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب اور ذلت میں کیوں مبتلا کرتا رہا اور کرتا ہے۔ کوہ طور کے دامن میں موسیٰ (علیہ السلام) کی موجودگی کے باوجود تمہارے ستر زعما کا ہلاک ہونا۔ جنھیں موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے بدلے میں حیات نو سے نوازا گیا۔ اصحاب سبت پر پھٹکارکا نازل ہونا جس کے بدلے میں انھیں ذلیل بندر بنا دیا گیا۔ تمہارے سروں پر کوہ طورکا منڈلایا جانا۔ اس طرح دیگر عذابوں کا نازل ہونا اگر تم واقعی اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور اس کے پسندیدہ لوگ ہو تو یہ عذاب تم پر کیوں نازل ہوئے ؟ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ کوئی مشفق اور مہر بان باپ اپنی محبوب اور تابع فرمان اولاد کو اپنے ہاتھوں سے پر یشانیوں اور عذاب میں مبتلا کرے ؟ تم تو انسانوں کی طرح ہی انسان ہو جیسے اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو پیدا کیا ہے۔ ایسے ہی اس نے تمہیں پیدا فرمایا۔ وہ جس کی چاہے خطاؤں کو معاف فرما دے اور جسے چاہے اس کی بد اعمالیوں کی سزا دے۔ زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ اللہ کی ملک ہے اور ہر کسی نے اس کے ہاں پلٹ کر جانا ہے مسائل ١۔ یہود و نصاریٰ اللہ کے محبوب اور اس کے بیٹے نہیں ہیں۔ ٢۔ سزا و جزا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ٣۔ زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے۔ ٤۔ سب کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہ جسے چاہے معاف فرمائے گا اور جسے چاہے عذاب کرے گا۔ تفسیر بالقرآن زمین اور آسمان اللہ ہی کی ملکیت ہیں : ١۔ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے زمین و آسمان کی ملکیت ہے۔ (البقرۃ : ١٠٧) ٢۔ مالک الملک اللہ تعالیٰ ہے۔ (آل عمران : ٢٦) ٣۔ اللہ جسے چاہتا ہے اسے حکومت دیتا ہے۔ (آل عمران : ٢٦) ٤۔ اللہ جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے۔ (آل عمران : ٢٦) ٥۔ اللہ ہی کے لیے زمین و آسمان کی بادشاہی ہے۔ (الشوریٰ : ٤٩) ٦۔ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔ (الملک : ١) ٧۔ اللہ ہی کے لیے زمین و آسمان کی ملکیت ہے وہ جسے چاہے معاف کرے گا۔ (الفتح : ١٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہودی اور عیسائی کہتے تھے کہ وہ اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں۔ (آیت) ” وقالت الیھود والنصری نحن ابنوا اللہ واحبآؤہ “۔ (٥ : ١٨) (یہود اور نصاری کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں) انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے ابوت (والد ہونا) کا عقیدہ اپنایا ‘ اگرچہ اس ابوت کے لئے وہ کئی تصورات کے قائل ہوں ‘ اس کا پر تو عقیدہ توحید پر بہرحال پڑتا ہے اور اللہ کی الوہیت اور مسیح کی عبدیت کے درمیان فیصلہ کن فرق کمزور پڑجاتا ہے اور جب تک اللہ اور بندوں کے درمیان واضح فرق نہ ہو اس وقت تک نہ عقائد درست ہو سکتے ہیں اور نہ زندگی درست راہ پر استوار ہو سکتی ہے ۔ یہ ضروری ہے کہ وہ سمت متعین ہوجائے جس کی طرف تمام بندوں کا رخ ہو اور وہ اس ایک ہی سمت کی بندگی کریں اور اس قبلے اور ماخذ کا بھی تعین ہوجائے جس سے انسان اپنے لئے قانون اور تمدن کے اصول اخذ کریں ۔ اور اس سے وہ اقدار حیات اور حسن وقبح کے پیمانے اخذ کریں ۔ بغیر اس کے کہ ان جہات میں کوئی التباس اور باہم تداخل ہو یا بندے اور خدا کے اوصاف باہم گڈمڈ ہوں اور بندے اور خدا کے درمیان امتزاج کا کوئی تصور پیدا ہو ۔ لہذا شرک صرف نظریاتی مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ شرکیہ عقائد کے نتیجے میں پوری زندگی کے اندر ٹیڑھ پیدا ہوجاتی ہے ۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے جب یہ دعوے کیے کہ وہ اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں تو پھر ان تصورات کے لازمی نتیجے کے طور پر یہ عقیدہ بھی وہ رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے گناہوں پر کوئی عذاب نہ دے گا ‘ اگرچہ وہ گناہ کریں ۔ وہ آگ میں داخل نہ ہوں گے اور اگر داخل بھی ہوں تو وہ صرف چند دن آگ میں رہیں گے ۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ کا انصاف صحیح طرح کام نہ کرے گا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے بعض کے ساتھ خصوصی دوستانہ تعلق رکھتا ہے ‘ اس لئے وہ ان کو کھلا چھوڑتا ہے کہ وہ اس زمین میں جو فساد چاہیں پھیلاتے پھیریں ۔ اور ان کو دوسرے مفسدوں کی طرح سزا نہ دی جائے گی ۔ ہر انسان سوچ سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے تو اس کی وجہ سے کسی سوسائٹی میں کیا کیا فسادات ہوں گے اور یہ غلط نظریہ حیات کسی سوسائٹی میں کیسے کیسے اضطراب پیدا کرے گا ۔ یہاں اسلام اس غلط تصور پر ایک فیصلہ کن وار کرکے اس کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا ہے ۔ اور ان تمام فسادات کا دروازہ بند کردیتا ہے جس سے یہ فسادات کسی معاشرے میں داخل ہو سکتے تھے اور فیصلہ کرتا ہے کہ اللہ کے عدل میں کوئی رورعایت نہیں ہے اور بجائے خود یہ عقیدہ بھی غلط ہے ۔ (آیت) ” قل فلم یعذبکم بذنوبکم بل انتم بشر ممن خلق یغفر لمن یشاء ویعذب من یشآء “۔ (٥ : ١٨) (ان سے پوچھو پھر وہ تمہارے گناہوں پر تمہیں سزا کیوں دیتا ہے ؟ درحقیقت تم بھی ویسے ہی انسان ہو جیسے اور انسان خدا نے پیدا کئے ہیں ۔ وہ جسے چاہتا ہے معاف کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ‘ سزا دیتا ہے ۔ اس کے ذریعے عقیدے اور ایمان کے زاوے سے ایک فیصلہ کن حقیقت سامنے آجاتی ہے ۔ یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ ابن ہونے کا دعوی سرے سے باطل ہے بلکہ انبیاء اسی طرح کے مخلوق بندے ہیں جس طرح اور لوگ ہیں اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں عدالت اور انصاف اور سزا وجزاء اور مغفرت صرف ایک اصول کے مطابق ہے ۔ اس میدان میں اللہ نے ڈبل معیار نہیں رکھے ۔ یہ اللہ کی مشیت کا کام ہے جس میں سزا بھی کچھ اسباب اور اصول کے مطابق ہوتی ہے اور خرابی کے لئے بھی اسباب اور اصول ہیں۔ یہ جزاء اور سزا نہ تو ذاتی تعلقات کے اصول پر ہو گی اور نہ ابن ہونے کی کوئی حقیقت ہے ۔ اس کے بعد اس بات کو تکرار لایا جاتا ہے کہ اللہ ہی ہر چیز کا مالک ہے اور تمام چیزوں کو اس کی طرف لوٹنا ہے ۔ (آیت) ” وللہ ملک السموت والارض وما بینھما والیہ المصیر (٥ : ١٨) (زمین اور آسمان اللہ کی ساری موجودات اس کی ملک ہیں ‘ اور اس کی طرف سب کو جانا ہے ۔ یقینا مالک اپنے غلام سے علیحدہ ہوتا ہے ۔ ودیوں کی ذات میں فرق ہوتا ہے ۔ اس کی مشیت جدا ہوتی ہے ۔ اور تمام لوگ مالک کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ اب یہ بیان اپنے اختتام کو پہنچتا ہے اور اہل کتاب کو ایک بار پھر دعوت دی جاتی ہے تاکہ ان پر حجت تمام ہو ‘ ان کے لئے معذرت کا کوئی موقع نہ ہو ۔ اہل کتاب کو ان کے انجام کے بالکل سامنے لاکھڑا کردیا جاتا ہے بغیر کسی میل و غبار کے اور بغیر کسی پیچیدگی کے ۔ ان کا انجام روشن ہوکر سامنے آجاتا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہود و نصاریٰ کی گمراہی جنہوں نے کہا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اسکے پیارے ہیں ان آیات میں اول تو یہود و نصاریٰ کا ایک دعویٰ باطلہ نقل فرمایا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے محبوب اور پیارے ہیں (والعیاذ اللہ) یہ بھی ان کے اپنے تراشیدہ باطل دعوؤں میں سے ایک دعویٰ ہے۔ شیطان انسان کے پیچھے پڑا رہتا ہے ایمان اور اعمال صالحہ سے روکنے اور باز رکھنے کے لئے طرح طرح کی باتیں سمجھاتا ہے انہیں باتوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے یہود و نصاریٰ کو یہ سمجھایا کہ تم تو اللہ کی اولاد ہو اور اس کے محبوب ہو، تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ کیسے ہی اعمال کرو تمہارا سب کچھ معاف ہے۔ ان لوگوں نے شیطان کی اس بات کو مان لیا اور اپنے بارے میں عقیدہ رکھ لیا کہ ہم اللہ کی اولاد اور اس کے پیارے ہیں اسی لئے ہم کو عذاب نہیں ہوگا۔ دروغ گوراحافظہ نہ باشند۔ تفسیر قرطبی ص ٢٠ ج ٦ میں لکھا ہے کہ آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہود کے پاس تشریف لائے اور ان کو دعوت دی کہ اللہ تعالیٰ کو ماننے کی طرح مانیں اور اس کے عذاب سے ڈریں۔ یہ سن کر کہنے لگے کہ اے محمد ! ہمیں کیا ڈراتے ہو ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے محبوب ہیں۔ نصاریٰ نے یہ بات کہی تھی کہ یہود بھی کہنے لگے، اس پر اللہ جل شانہ نے آیت (وَ قَالَتِ الْیَھُوْدُ وَ النَّصٰرٰی نَحْنُ اَبْنآؤُا اللّٰہِ وَ اَحِبَّآؤُہٗ ) نازل فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا قول نقل فرما کر ان کی تردید فرمائی جو الزامی جواب کے پیرا یہ میں بھی ہے اور وہ یہ کہ (فَلِمَ یُعَذِّبُکُمْ بِذُنُوْبِکُمْ ) (آپ ان سے فرما دیجئے کہ پھر وہ تمہیں تمہارے گناہوں کے سبب کیوں عذاب دیگا) جب تم اس کے بیٹے اور محبوب ہو تو عذاب سے کیوں ڈرتے ہو۔ عذاب کے اقراری بھی ہو کیونکہ تم (لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَۃً ) بھی کہتے ہو۔ کوئی شخص اپنے بیٹے یا محبوب کو ایک منٹ کیلئے بھی دنیا والی آگ میں ڈالنے کو تیار نہیں اور تم کہتے ہو کہ ہم چند دن کے لئے آخرت کے عذاب میں ڈالے جائیں گے۔ جھوٹے کو کچھ خیال نہیں رہتا کہ میں نے پہلے کیا کہا تھا۔ نصاریٰ کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے تنبیہ فرمائی تھی کہ (اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَ مَأْوٰہُ النَّارُ ) (بلا شبہ جو شخص شرک کرے اللہ کے ساتھ تو اللہ اس پر جنت کو حرام فرما دیگا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے) شرک بھی کرلیا اللہ کی اولاد بھی تجویز کردی جو حسب تصریح سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) دوزخ میں داخل ہونے کا ذریعہ ہیں اور دعویٰ یہ ہے کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور محبوب ہیں ہمیں عذاب نہیں ہوگا اللہ کے نبی نے یہ فرمایا کہ مشرک دوزخ میں داخل ہوگا اور نبی کافر مانا برحق ہے اور تم یہ کہتے ہو کہ ہمیں عذاب نہ ہوگا نبی کی تکذیب کفر ہے اور باعث دخول نار ہے۔ ١ ؂ اس کے بعد فرمایا (بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ) کہ تم بھی اللہ کی مخلوق میں سے ہو۔ بشر ہو آدمی ہو جیسے دوسرے انسان ہیں ایسے ہی تم ہو جیسے دوسروں سے اللہ کا کوئی رشتہ ناطہ نہیں ہے تم سے بھی نہیں اس کا بیٹا تو کوئی ہو نہیں سکتا۔ رہا محبوب ہونا تو محبوبیت کا تعلق ایمان اور اعمال صالحہ سے ہے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کر کے کافر بنے ہوئے ہو پھر بھی محبوب ہونے کا دعویٰ ہے یہ بہت بڑی گمراہی ہے (یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ ) (اللہ تعالیٰ جس کو چاہے مغفرت فرمائے اور ١ ؂ علامہ قرطبی اپنے تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بعض حضرات نے یُعَذِّبُکُمْ کو عَذَّبَکُمْ کے معنی میں لیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اگر تم اپنے دعویٰ کے اعتبار سے اللہ کے بیٹے ہو اور محبوب ہو تو تمہیں مسخ کر کے بندر اور خنزیر کیوں بنا دیا اور تم سے پہلے جو یہود و نصاریٰ گزرے ہیں تمہارے ہی جیسے تھے انہیں اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کے عذابوں میں کیوں مبتلا فرمایا۔ (تفسیر القرطبی ص ١٢١ جلد ٢) جسے چاہے عذاب دے) کوئی شخص بھی اس سے زبردستی بخشش نہیں کرو اسکتا۔ (وَ لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَھُمَا وَ اِلَیْہِ الْمَصِیْرُ ) اور اللہ ہی کے لئے ہے ملک آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اس کا قانون ہے کہ مشرک اور کافر کی بخشش نہ ہوگی۔ اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے وہاں جھوٹے دعوے جھوٹی باتیں سب سامنے آجائیں گی اور ان پر عذاب ہوگا۔ یوم الحساب کو سامنے رکھو اور جھوٹ اور افتراء پر دازی سے باز آجاؤ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت ایسے وقت میں ہوئی جبکہ رسولوں کی آمد کا سلسلہ کئی سو سال سے منقطع تھا

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

45 وَ قَالَتِ الْیَھُوْدُ وَالنَّصٰرٰی الخ یہ یہود و نصاری کے ان علماء اور درویشوں پر شکوہ ہے جو خود بھی مشرک تھے اور عوام کو بھی شرک سکھاتے تھے۔ ایک طرف تو وہ حضرت عزیر، حضرت مسیح اور حضرت مریم (علیہم السلام) کو خدا کے شریک ٹھہراتے ہیں دوسری طرف عوام اور جہلائے قوم کے دلوں پر اپنے تقدس کا سکہ بٹھانے کے لیے کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ وہ لوگ حضرت عزیر، اور حضرت مسیح (علیہما السلام) کو الوہیت کا درجہ دیکر اپنے لیے بھی وہی مقام حاصل کرنا چاہتے تھے جیسا کہ آج کل کے گدی نشین اور پیر حضرت نبی علیہ الصلوۃ والسلام، شیخ عبدالقادر اور دیگر اولیاء کو اولہیت کا درجہ دے کر خود بھی وہی مقام حاصل کرنے کے یہود و نصاریٰ کے مشرک احبارو رہبان کی طرح بےسرو پا دعوے کرتے ہیں۔ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُکُمْ الخ یہ شکوہ کا جواب ہے اور یہود و نصاریٰ کے دعویٰ کے غلط اور جھوٹا ہونے پر برہان قاطع ہے۔ فرمایا اگر واقعی تم اللہ کے پیارے اور محبوب ہو تو وہ تمہیں آخرت میں تمہارے گناہوں کی سزا کیوں دیگا۔ جیسا کہ تمہارا اپنا اقرار ہے۔ لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلّا اَیَّاماً مَّعْدُوْدَۃً اگر تم اللہ کے محبوب ہوتے تو وہ تمہیں عذاب نہ دیتا کیونکہ محب اپنے محبوب کو عذاب نہیں دیتا۔ 46 بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ الخ بلکہ تم بھی اللہ کی دوسری مخلوق کی طرح ہو جس طرح دوسرے انسانوں پر اللہ کا قانون جزاء وسزا لاگو ہے اسی طرح تم پر بھی ہے، وہ جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے سزا دے۔ اس کا قانون یہ ہے کہ وہ مومنوں کو معاف کریگا اور کفار و مشرکین کو سزا دیگا۔ یہ دونوں فریق خواہ کسی خاندان اور قبیلے سے تعلق رکھتے ہوں وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ الخ یہ یہود و نصاریٰ کے قول باطل کے رد کا اعادہ اور اس کا تتمہ ہے۔ یعنی زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کی ملک میں ہے اور تمام اختیارات بھی اسی کے ہیں نہ کہ حضرت مسیح اور ان کی والدہ اور احبارو رہبان کے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 4 اور یہود و نصاریٰ دونوں اس امر کا دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور اس کے محبوب اور پیارے ہیں اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان سے دریافت کے لئے کہ ایسا ہے تو اچھا یہ تو بتائو کہ تم کو تمہارے گناہوں پر عذاب کیوں کرتا ہے ؟ اور تم کو قیامت میں تمہارے گناہوں کے عوض سزا کیوں دے گا ؟ جو کچھ تم کہتے ہو یہ بات نہیں ہے بلکہ تم بھی ان عام آدمیوں میں سے جن کو وہ پیدا کرتا ہے ایک معمولی آدمی ہو اللہ تعالیٰ جس کو چاہے بخش دے اور وہ جس کو چاہے سزا دے اور خاص اللہ تعالیٰ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں پر بھی اور زمین پر بھی اور ان چیزوں پر بھی اور جو ان دونوں آسمان و زمین کے مابین ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے۔ (تیسیر) اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کے ساتھ جو تعلق ہے اور خالق کو اپنی مخلوق کے ساتھ جو نسبت ہے اس کا تصور ہر زمانہ کے پیغمبر نے اپنی اپنی قوم کے روبرو پیش کیا ہے نبی آخر الزماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں یہ مسئلہ بالکل صاف اور واضح کردیا گیا ہے اور یہ بتادیا گیا ہے کہ ایک جانب انتہائی ربوبیت ہے جو ہر قسم کی محبت آمیز ترقی کی ضامن ہے اور دوسری طرف انتہائی عبودیت اور تذلل و عاجزی ہے جو ہر قسم کی فرماں برداری اور اطاعت شعاری کی ذمہ دار ہے اسی نظریہ کو مختلف پہلوئوں سے ہر نبی نے سمجھانے کی کوشش کی ہے لیکن ہر نبی نے اس محبت آمیز ربوبیت کو اپنی قوم کے ذہن اور فہم کا لحاظ رکھتے ہوئے سمجھایا ہے جیسا کہ کتب سماویہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہیں اس نسبت کو باپ اور بیٹے کی تمثیل کے ساتھ بیان کیا ہے اور کہیں اس نسبت کو ایک عاشق اور معشوق کے تعلق کے ساتھ ذہن نشین کرایا ہے اور یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے اور اس کو پانے بندے بہت پیارے ہیں اور تمام انسان اس کی اولاد ہیں اللہ تعالیٰ کے متعلق یہی وہ تصورات اور خیالات ہیں جنہوں نے لوگوں کے قلوب میں ایک خاص شکل اختیار کر رکھی تھی اور بنی اسرائیل نے مختلف خیال اور مختلف نظریئے قائم کر رکھے تھے اور انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیم کو اپنے نظریوں کے سانچوں میں ڈھال رکھا تھا اگر ایک گروہ اپنے کو اللہ کی اولاد سمجھتا تھا تو دوسرا فریق اپنے کو اللہ تعالیٰ کا محبوب اور پیارا تصور کرتا تھا اور بعض لوگ وہ تھے جو اپنے کو انبیاء (علیہم السلام) کی اولاد ہونے کی وجہ سے اللہ کے ساتھ اپنے خصوصی تعلقات کے مدعی تھے۔ جس طرح ہمارے زمانے کے بعض پیر زادے اور بزرگ زادے اس قسم کی گمراہی میں مبتلا ہیں یہی وہ احمقانہ تخیلات تھے جن کے بھروسہ پر باوجود بےعملی کے یہ سمجھتے تھے کہ ہم خدا کی اولاد ہیں خدا کے محبوب ہیں اور خدا کے برگزیدہ لوگ ہمارے بزرگ تھے اس لئے ہم اللہ تعالیٰ سے خصوصی تعلق رکھتے ہیں اور اس کے مقرب میں اور چونکہ یہ مراتب ہم کو حاصل ہیں اس لئے ہم اگر نافرمانی بھی کریں تو ہم سے اللہ تعالیٰ عام مجرموں اور گناہگاروں کی طرح مواخذہ نہ کرے گا بلکہ معمولی سی تنبیہہ اور تادیب کردی جائے گی اور وہی سلوک ہوگا جیسے کوئی حاکم اور فرماں روا اپنوں کے ساتھ کیا کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس گمراہی اور باطل ادعا کا رد فرمایا اور ارشاد ہوا کہ اے پیغمبر ! آپ ان سے فرمائیے اگر ایسا ہے تو اچھا پھر اللہ تعالیٰ تم پر عذاب کیوں کرتا ہے دنیا میں تو قتل اور قید کئے جاتے ہو اور مختلف سزائوں میں مبتلا ہوتے ہو اور آخرت میں تعذیب کا تم خود بھی اقرار کرتے ہو کہ لن تمسنا النار الا ٓ ایاماً معدودۃ اور انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وما واہ النار۔ جب کہ حضرت مسیح کا قول ہے اور جب تعذیب محقق ہے اور مختلف سزائوں میں مبتلا ہونا مشاہد ہے تو معلوم ہوا نحن ابناء اللہ واحباء کا دعویٰ غلط اور بلا دلیل ہے اور قیامت کے عذاب میں تو تنبیہہ اور تادیب کا احتمال بھی نہیں اس لئے کہ تنبیہہ اور تادیب تو اس لئے ہوتی ہے کہ آئندہ احتیاط کی جائے اور قیامت میں جو تعذیب ہے وہ واقعی تعذیب اور جرم کی سزا ہے کیوں کہ وہاں آئندہ کرنے نہ کرنے کا احتمال ہی نہیں اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ تم کو اللہ تعالیٰ سے کوئی خصوصی تقرب اور تعلق حاصل نہیں تو تم بھی منجملہ انسانوں کے ایک انسان ہو بشیر اصل میں انسانی جلد کو کہتے ہیں لیکن تھوڑی سی مناسبت سے بشر کے معنی آدمی کے ہیں اور جب تم ایک معمولی آدمی ہو تو عام آدمیوں کی طرح تم کو بھی برائی اور بھلائی کا بدلہ ملنا ہے کیوں کہ جب تم عوام میں داخل ہو تو اسی عام قاعدے اور قانون کی زد میں تم بھی آتے ہو کہ وہ جس کی چاہے مغفرت فرما دے اور جس کو چاہے اپنے عدل و انصاف سے عذاب کرے۔ مغفرت اس کا فضل ہے اور سزا دینا اس کا عدل ہے اور چیز آسمانی قانون میں واضح ہوچکی ہے کہ مغفرت کی شرط ایمان ہے اور کفر کی سزا دائمی تعذیب ہے اور تمہارا کفر ظاہر ہی ہے کہ تم نبی آخر الزماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے منکر ہو لہٰذا تم دائمی عذاب کے مستحق ہو اور اس کو اس کارروائی سے روک بھی کون سکتا ہے کیونکہ آسمان و زمین پر اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس سب پر اسی کی حکومت ہے اور سب کی بازگشت اسی کی جانب ہے اس لئے نہ اس سے کوئی شخص بھاگ کر پناہ لے سکتا ہے نہ اس کے ہاتھ سے کوئی چھڑا سکتا ہے نہ اس پر کسی کا دبائو ہے سبحان اللہ ! کیا ترتیب ہے اور کیا دلائل ہر جملہ ایک دوسرے کی دلیل بنتا چلا جاتا ہے اور اس کا لطف وہی لوگ حاصل کرسکتے ہیں جن کو علم سے بہرہ نصیب ہوا ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے دوست اور چاہتے اور اس کے پیغمبروں کی اولاد ہیں اور ہم سے دوستوں اور پیاروں کا سا معاملہ ہوگا۔ اے پیغمبر ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے دریافت کیجیے اگر یہ بات ہے تو پھر اللہ تعالیٰ تم کو دنیا میں مختلف سزائیں کیوں دیتا ہے اور آخرت میں تم کو عذاب کیوں کرے گا جس کا تم کو خود بھی اقرار ہے۔ نہیں ! تم نہ اس کے بیٹے ہو، نہ اس کے دوست اور پیارے ہو اور نہ صرف بڑوں کی اولاد ہونے کی وجہ سے تم کو کوئی تقرب حاصل ہے بلکہ تم منجملہ اور آدمیوں کے ایک معمولی آدمی ہو اور تم پر بھی الہل تعالیٰ کا یہ قانون نافذ ہے کہ وہ جس گناہ گار کو چاہے بخشدے بشرطیکہ وہ کفر کا مرتکب نہ ہو اور جس گناہگار کو چاہے عذاب کرے اور اس کو ایسا کرنے سے کوئی مانع نہیں کیونکہ تمام آسمانوں پر اور زمین پر اور جو موجودات ان دونوں کے مابین ہیں اس سب پر اسی کی حکومت ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے اور سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے اب آگے پھر اہل کتاب کو خطاب اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت ہے ۔ چناچہ ارشاد ہتا ہے۔ (تسہیل)