Surat ul Maeeda

Surah: 5

Verse: 37

سورة المائدة

یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنَ النَّارِ وَ مَا ہُمۡ بِخٰرِجِیۡنَ مِنۡہَا ۫ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ ﴿۳۷﴾

They will wish to get out of the Fire, but never are they to emerge therefrom, and for them is an enduring punishment.

یہ چاہیں گے کہ دوزخ میں سے نکل جائیں لیکن یہ ہرگز اس میں سے نہ نکل سکیں گے ، ان کے لئے تو دوامی عذاب ہیں

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

They will long to get out of the Fire, but never will they get out therefrom, and theirs will be a lasting torment. In another Ayah, Allah said, كُلَّمَا أَرَادُوا أَن يَخْرُجُوا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا فِيهَا Every time they seek to get away therefrom, in anguish, they will be driven back therein. (22:22) Therefore, they will still long to leave the torment because of the severity and the pain it causes. They will have no way of escaping it. The more the flames lift them to the upper part of Hell, the more the angels of punishment will strike them with iron bars and they will fall down to its depths, ... وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيمٌ And theirs will be a lasting torment. meaning, eternal and everlasting, and they will never be able to depart from it or avoid it. Anas bin Malik said that the Messenger of Allah said, يُوْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَيُقَالُ لَهُ يَا ابْنَ ادَمَ كَيْفَ وَجَدْتَ مَضْجَعَكَ A man from the people of the Fire will be brought forth and will be asked, `O son of Adam! How did you find your dwelling!' فَيَقُولُ شَرَّ مَضْجَعٍ He will say, `The worst dwelling.' فَيُقَالُ هَلْ تَفْتَدِي بِقُرَابِ الاَْرْضِ ذَهَبًا He will be told, `Would you ransom yourself with the earth's fill of gold!' فَيَقُولُ نَعَمْ يَارَبِّ He will say, `Yes, O Lord!' فَيَقُولُ اللهُ كَذَبْتَ قَدْ سَأَلْتُكَ أَقَلَّ مِنْ ذلِكَ فَلَمْ تَفْعَلْ فَيُوْمَرُ بِهِ إِلَى النَّار Allah will say to him, `You have lied. I asked you for what is less than that and you did not do it,' and he will be ordered to the Fire. Muslim and An-Nasa'i recorded it.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

37۔ 1 یہ آیت کافروں کے حق میں ہے، کیونکہ مومنوں کو بالاخر سزا کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧١] یہ معاملہ تو کافروں سے ہوگا مگر بہت سے گنہگار مسلمان بھی دوزخ میں جائیں گے جو اپنے اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر اور گناہوں سے پاک صاف ہو کر مختلف اوقات میں جنت میں داخل ہوتے رہیں گے۔ بلکہ بعض علماء کا خیال ہے کہ کافروں کو بھی کبھی نہ کبھی دوزخ سے نجات مل جا ئیگی۔ صرف مشرکین ہی وہ لوگ ہو نگے جنہیں کبھی بھی دوزخ سے نجات حاصل نہ ہوگی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْهَا ۡ: یہ آیت کفار کے بارے میں ہے، جیسا کہ اوپر کی آیت میں ان کا صاف ذکر کیا گیا ہے، رہے گناہ گار مسلمان تو صحیح احادیث میں ہے کہ انھیں گناہوں کی سزا بھگت لینے کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ سورة حج کی آیت (٢٢) اس کی ہم معنی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

That this punishment would be everlasting for disbelievers has been made clear through the third verse (37).

تیسری آیت میں یہ بھی واضح کردیا کہ کفار کا یہ عذاب دائمی ہوگا، جس سے وہ کبھی نجات نہ پائیں گے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا ہُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْہَا۝ ٠ۡوَلَہُمْ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ۝ ٣٧ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ مُقَامةُ : مقیم الإقامة، قال : الَّذِي أَحَلَّنا دارَ الْمُقامَةِ مِنْ فَضْلِهِ [ فاطر/ 35] نحو : دارُ الْخُلْدِ [ فصلت/ 28] ، وجَنَّاتِ عَدْنٍ [ التوبة/ 72] وقوله : لا مقام لَكُمْ فَارْجِعُوا[ الأحزاب/ 13] ، من قام، أي : لا مستقرّ لكم، وقد قرئ : لا مقام لَكُمْ من : أَقَامَ. ويعبّر بالإقامة عن الدوام . نحو : عَذابٌ مُقِيمٌ [هود/ 39] ، وقرئ : إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقامٍ أَمِينٍ «2» [ الدخان/ 51] ، أي : في مکان تدوم إقامتهم فيه، وتَقْوِيمُ الشیء : تثقیفه، قال : لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ [ التین/ 4] وذلک إشارة إلى ما خصّ به الإنسان من بين الحیوان من العقل والفهم، وانتصاب القامة الدّالّة علی استیلائه علی كلّ ما في هذا العالم، المقام : یہ مصدر میمی ، ظرف ، مکان ظرف زمان اور اسم مفعول کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ لیکن قرآن پاک میں صرف مصدر میمی کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنَّها ساءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقاماً [ الفرقان/ 66] اور دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے ۔ اور مقامتہ ( بضم الیم ) معنی اقامتہ ہے جیسے فرمایا : الَّذِي أَحَلَّنا دارَ الْمُقامَةِ مِنْ فَضْلِهِ [ فاطر/ 35] جس نے ہم کو اپنے فضل سے ہمیشہ کے رہنے کے گھر میں اتارا یہاں جنت کو دارالمقامتہ کہا ہے جس طرح کہ اسے دارالخلد اور جنات عمدن کہا ہے ۔ اور آیت کریمہ : لا مقام لَكُمْ فَارْجِعُوا[ الأحزاب/ 13] یہاں تمہارے لئے ( ٹھہرنے کا ) مقام نہیں ہے تو لوٹ چلو ۔ میں مقام کا لفظ قیام سے ہے یعنی تمہارا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اور ایک قرات میں مقام ( بضم المیم ) اقام سے ہے اور کبھی اقامتہ سے معنی دوام مراد لیا جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ عَذابٌ مُقِيمٌ [هود/ 39] ہمیشہ کا عذاب ۔ اور ایک قرات میں آیت کریمہ : ۔ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقامٍ أَمِينٍ [ الدخان/ 51] بیشک پرہیزگار لوگ امن کے مقام میں ہوں گے ۔ مقام بضمہ میم ہے ۔ یعنی ایسی جگہ جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ تقویم الشی کے معنی کسی چیز کو سیدھا کرنے کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ [ التین/ 4] کہ ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ۔ اس میں انسان کے عقل وفہم قدوقامت کی راستی اور دیگر صفات کی طرف اشارہ ہے جن کے ذریعہ انسان دوسرے حیوانات سے ممتاز ہوتا ہے اور وہ اس کے تمام عالم پر مستولی اور غالب ہونے کی دلیل بنتی ہیں ۔ تقویم السلعۃ : سامان کی قیمت لگانا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٧ ( یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا ہُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْہَاز) (وَلَہُمْ عَذَابٌ مُّقِیْم ) یعنی ان کو مسلسل دائم اور قائم رہنے والا عذاب دیا جائے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یہ آیت کفارکے حق میں ہے جیسا کہ اوپر کی آیت میں انا بصراحت ذکر کیا گیا ہے را ہے گنہگار مسلمان تو صحیح احادیث میں ہے کہ ان کو گناہوں کی سزا بھگت لینے کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ (ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُ جُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا ھُمْ بِخَارِ جِیْنَ مِنْھَا) کہ وہ دوزخ سے نکلنا چاہیں گے لیکن وہ اس سے نکلنے والے نہیں، سورة الم سجدہ میں فرمایا (کُلَّمَا اَرَادُوْٓا اَنْ یَّخْرُ جُوْا مِنْھَآ اُعِیْدُوْا فِیْھَا) (کہ جب بھی اس میں سے نکلنے کا ارادہ کریں گے اس میں واپس لوٹا دیے جائیں گے) پھر فرمایا (وَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ) اور ان کے لئے عذاب ہے جو ہمیشہ رہے گا۔ اوپر ڈاکہ زنی کی دنیا میں سزا بیان فرمائی اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ یہ ان کی دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے پھر چند آیات کے بعد چوروں کی سزا بیان فرمائی (جوا گلی آیت میں آرہی ہے) ان دونوں کے درمیان ایک تو اللہ سے ڈرنے کا حکم دیا دوسرے اللہ کی نزدیکی تلاش کرنے کا حکم دیا تیسرے جہاد فی سبیل اللہ کا حکم دیا چوتھے کافروں کا عذاب بیان کیا اور یہ بتایا کہ جب وہ عذاب میں داخل ہونگے تو اگر یہ دنیا اور اس قدر اور بھی کچھ ان کے پاس ہو تو یہ سب جان چھڑانے کے لئے خرچ کرنے کو تیار ہوجائیں گے، پہلے جو دو حکم ہیں یعنی تقویٰ اختیار کرنا اور اللہ کا قرب تلاش کرنا ان دنوں میں چوری ڈاکہ زنی سے بچنا بھی داخل ہے اور یہ حکم تمام فرائض واجبات اور مستحبات کی ادائیگی کو بھی شامل ہے تیسرا حکم یعنی جہاد فی سبیل اللہ کا جو حکم دیا اس میں یہ بتادیا کہ فساد فی الارض اور چیز ہے اور جہاد فی سبیل اللہ دوسری چیز ہے جہاد فساد فی الارض کو دبانے کے لئے ہے اگر اس سلسلہ میں قتل و خون ہوجائے کافر و مشرک مارے جائیں ڈاکوؤں کا خون ہوجائے تو یہ فساد فی الارض نہیں ہے اس سے تو اللہ کی رضا اور اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے جو لوگ ڈاکہ زنی یا چوری کرتے ہیں وہ مال جمع کرنے کے لئے یہ کام کرتے ہیں ان کو بتادیا کہ جو مال اور دولت لوٹ مار کے اور چوری اور ڈکیتی کے ذریعہ جمع کرو گے وہ آل اولاد اور دنیا کی مثل اور کچھ بھی مل جائے تو اس سب کو جان چھڑانے کے لئے خرچ کرنے کو تیار ہوجاؤ گے مگر وہاں مال موجود نہ ہوگا عذاب بھگتنا ہوگا اپنی ذات کو عذاب میں داخل کرنا ہوگا اور لوگوں کو تکلیف دیکر حرام مال جمع کرنا اور اولاد کے لئے چھوڑجانا اور آخرت میں عذاب میں گرفتار ہونا یہ تو اپنے اوپر سراسر ظلم ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

64 یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا الخ وہ جہنم سے نکلنے کی خواہش کریں گے مگر انہیں کبھی اس سے نکلنا نصیب نہیں ہوگا اور وہ جہنم کے دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 بلاشبہ جو لوگ کافر ہیں اور اپنے کفر پر قائم ہیں فرض کرو اگر ان میں سے ہر ایک کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور دنیا بھر کی تمام چیزیں ان کے پاس موجود ہوں اور دنیا کی تمام چیزوں اور مال و متاع ہی پر کیا موقوف ہے بلکہ دنیا کی تمام چیزوں کے ساتھ اتنی ہی چیزیں اور بھی ہوں اور یہ سب سامان اس لئے ہو کہ وہ اس کو فدیہ میں دیکر قیامت کے عذاب سے بچ جائیں تب بھی یہ چیزیں اور یہ سب مال و متاع ہرگز ان سے قول نہ کیا جائے گا بلکہ ان کو درد ناک عذاب ہو کر رہے گا عذاب میں ان کی حالت یہ ہوگی کہ وہ اس امر کی خواہش کریں گے اور چاہیں گے کہ وہ آگ سے کسی طرح نکل جائیں حالانکہ ا ن کو اس آگ سے کبھی نکلنا نصیب نہ ہوگا او وہ اس آگ سے کبھی نہ نکلیں گے اور ان کو ایسا عذاب ہوگا جو دائمی اور ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ مرتے دم تک کفر ہی پر قائم رہتے ہیں اور ان کا خاتمہ کفر ہی پر ہوتا ہے ایسے لوگ ہمیشہ ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہیں گے اگر بالفرض اس قسم کے کافروں کے پاس تمام روئے زمین کا مال و متاع ہو اور تمام حزائن اور دفینے ہوں اور ان اموال و خزائن کے ساتھ اور بھی اسی قدر اموال و خزائن ہوں اور ان کافروں میں سے ہر ایک کافر یہ چاہے کہ یہ ساز و سامان قیامت کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنی چھڑوائی میں دیدے اور اس قدر چھڑوائی اور فدیہ دے کر عذاب سے چھٹکارا حاصل کرلے تب بھی اس سے مال و دولت قبول نہ کیا جائے گا اور اس کو درد ناک عذاب میں مبتلا رکھا جائے اور اس عذاب میں ان کا حال یہ ہوگا کہ اس سے نکل بھاگنے کی تمنا کریں گے اور یہ خواہش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جہنم کی آگ سے نکل جائیں لیکن یہ تمنا اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکے گی اور وہ اس آگ میں سے نکل نہ سکیں گے اور دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے ۔ اوپر کی آیتوں میں راہزنی اور ڈکیتی کی سزائوں کا ذکر فرمایا تھا پھر ڈکیتی اور جہاد کے فرق کی جانب اشارہ فرمایا اور اعمال صالحہ کی ترغیب اور معاصی سے بچنے کی ہدایت فرمائی اور کفر پر قائم رہنے والوں کا انجام بتایا، اب آگے ان لوگوں کی سزا کا بیان ہے جو چھپ کر کسی کا مال چرا لیتے ہیں اور مال بھی وہ مال جو محفوظ طریقے پر رکھا گیا ہو ڈکیتی کو سرقہ کبریٰ کہا جاتا ہے اور چوری کو سرقہ صغریٰ کہا جاتا ہے چناچہ چور کی سزا کے سلسلے میں ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)