Surat ul Maeeda

Surah: 5

Verse: 60

سورة المائدة

قُلۡ ہَلۡ اُنَبِّئُکُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِکَ مَثُوۡبَۃً عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ مَنۡ لَّعَنَہُ اللّٰہُ وَ غَضِبَ عَلَیۡہِ وَ جَعَلَ مِنۡہُمُ الۡقِرَدَۃَ وَ الۡخَنَازِیۡرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوۡتَ ؕ اُولٰٓئِکَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّ اَضَلُّ عَنۡ سَوَآءِ السَّبِیۡلِ ﴿۶۰﴾

Say, "Shall I inform you of [what is] worse than that as penalty from Allah ? [It is that of] those whom Allah has cursed and with whom He became angry and made of them apes and pigs and slaves of Taghut. Those are worse in position and further astray from the sound way."

کہہ دیجئے کہ کیا میں تمہیں بتاؤں؟ کہ اس سے بھی زیادہ برے اجر پانے والا اللہ تعالٰی کے نزدیک کون ہے؟ وہ جس پر اللہ تعالٰی نے لعنت کی اور اس پر وہ غصہ ہو اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنا دیا اور جنہوں نے معبودان باطل کی پرستش کی ، یہی لوگ بدتر درجے والے ہیں اور یہی راہ راست سے بہت زیادہ بھٹکنے والے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قُلْ هَلْ أُنَبِّيُكُم بِشَرٍّ مِّن ذَلِكَ مَثُوبَةً عِندَ اللّهِ ... Say: "Shall I inform you of something worse than that, regarding the recompense from Allah!" The Ayah commands the Prophet to say: Shall I inform you about a worse people with Allah on the Day of Resurrection than what you think of us! They are you, with these characteristics, ... مَن لَّعَنَهُ اللّهُ ... those who incurred the curse of Allah, were expelled from His mercy, ... وَغَضِبَ عَلَيْهِ ... and who incurred His wrath, and anger, after which He will never be pleased with them, ... وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ ... those of whom He transformed into monkeys and swine, as we mentioned in Surah Al-Baqarah and as we will mention in Surah Al-A`raf. Sufyan Ath-Thawri narrated that Ibn Mas`ud said, "Allah's Messenger was asked if the current monkeys and swine were those whom Allah transformed. He said, إنَّ اللهَ لَمْ يُهْلِكْ قَوْمًا أَوْ لَمْ يَمْسَخْ قَوْمًا فَيَجْعَلَ لَهُمْ نَسْلً وَلاَ عَقِبًا وَإِنَّ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ كَانَتْ قَبْلَ ذلِك Allah never destroyed a people by transforming them and making offspring or descendants for them. The monkeys and swine existed before that." This was also recorded by Muslim. Allah said, ... وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ ... Those who worshipped Taghut..., and served them, becoming their servants. The meaning of this Ayah is: you, O People of the Scriptures, who mock our religion, which consists of Allah's Tawhid, and singling Him out in worship without others, how can you mock us while these are your characteristics! This is why Allah said, ... أُوْلَـيِكَ شَرٌّ مَّكَاناً ... such are worse in rank..., than what you -- People of the Scriptures -- think of us Muslims, ... وَأَضَلُّ عَن سَوَاء السَّبِيلِ and far more astray from the straight path. `More' in the Ayah does not mean that the other party is `less' astray, but it means that the People of the Scriptures are far astray. In another Ayah, Allah said, أَصْحَـبُ الْجَنَّةِ يَوْمَيِذٍ خَيْرٌ مُّسْتَقَرّاً وَأَحْسَنُ مَقِيلً The dwellers of Paradise will, on that Day, have the best abode, and have the fairest of places for repose. (25:24) The Hypocrites Pretend to be Believers but Hide their Kufr Allah said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

60۔ 1 یعنی تم تو (اے اہل کتاب ! ) ہم سے یوں ناراض ہو جب کہ ہمارا قصور اس کے سوا کوئی نہیں کہ ہم اللہ پر اور قرآن کریم اور اس سے قبل اتاری گئی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں، کیا یہ بھی کوئی قصور یا عیب ہے ؟ یعنی یہ عیب اور مذمت والی بات نہیں جیسا کہ تم نے سمجھ لیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ استشناء منقطع ہے۔ البتہ ہم تمہیں بتلاتے ہیں کہ یہ بدترین لوگ ہیں اور گمراہ ترین لوگ، جو نفرت اور مذمت کے قابل ہیں، کون ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور اس کا غضب ہوا جن میں سے بعض اللہ تعالیٰ نے بندر اور سور بنادیا اور جنہوں نے طاغوت کی پوجا کی۔ اور اس آئینے میں تم اپنا چہرا اور کردار دیکھ لو ! کہ یہ کن کی تاریخ ہے اور کون لوگ ہیں ؟ کیا یہ تم ہی نہیں ہو ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٢] یہود جو بندر اور سور بنائے گئے :۔ یعنی تمہارے اسلاف تم سے بھی گئے گزرے تھے۔ بارہا انہوں نے اللہ کی نافرمانیاں کیں جن کی وجہ سے اللہ کا غضب نازل ہوچکا ہے پھر کچھ ایسے بدکردار بھی تھے جنہیں بندر اور سور بنادیا گیا تھا اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے اللہ کے بجائے اللہ کی نافرمان طاقتوں کی فرمانبرداری کی اور ان کی وجہ سے بڑے بڑے جرائم کے مرتکب ہوئے تھے حتیٰ کہ انبیاء کو ناحق قتل کرتے اور کراتے رہے یعنی تمہاری اپنی بداعمالیوں کی تو حد نہیں اس پر مزید ڈھٹائی یہ کر رہے ہو کہ اگر کوئی دوسرا فریق اللہ پر ایمان لا کر سچی دینداری اور اچھے کردار ادا کرتا ہے تو ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑجاتے ہو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ : یعنی تمہارے گمان میں ہم برے ہیں، اس لیے تم ہم پر عیب لگاتے ہو اور انتقام لینے کی کوشش کرتے ہو، لیکن ذرا اپنی تاریخ پر بھی غور کرو اور اپنے ان پہلوں کے بارے میں بھی کچھ کہنے کی جرأت کرو جن کا انجام اللہ کے ہاں اس سے بھی کہیں بدتر ہوا اور ہونے والا ہے، جس کا تم ہمارے بارے میں دعویٰ کرتے ہو۔ یہ لوگ تمہارے ہی آباء و اجداد تھے جو دین کا مذاق اڑانے اور مختلف جرائم کے مرتکب ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی لعنت اور اس کے غضب میں مبتلا ہوئے، ان میں سے بہت سوں ( اصحاب سبت) کی صورتیں مسخ کر کے انھیں بندر اور خنزیر بنادیا گیا اور جو شیطان کی اطاعت میں اس حد تک نکل گئے کہ انھوں نے طاغوت کی عبادت شروع کردی، جیسے سامری کا بنایا ہوا بچھڑا، جو دراصل شیطان ہی کی پوجا تھی۔ اُولٰۗىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْل : یعنی تم ہمیں کتنا ہی گمراہ کہہ لو، لیکن یہ بات مانے بغیر چارہ نہیں کہ تمہارے باپ دادا یقیناً گمراہ تھے اور ان کا انجام اللہ کے ہاں بہت برا ہوگا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Consideration of the Addressee : A Principle of Da&wah The condition of a people who were under the curse and wrath of Allah has been introduced through a similitude in the next verse (60) which begins with: قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُم[ Should I (not) tell you...]. In fact, this condition applied to these very addressees. The occasion demanded that they should have been the ones to be directly charged with the blame. But, the Qur&an has changed the mode of direct address into the form of a similitude (to show consideration). This shows us a distinctive method of Da&wah (Call) as used by prophets, that is, never say things in a manner which makes the addressees angry.

تبلیغ و دعوت میں مخاطب کی رعایت یہاں قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ میں جو حال ایک مثال کے انداز میں ایسے لوگوں کا بیان کیا ہے جن پر اللہ کی لعنت و غضب ہے اس کے مصداق در حقیقت خود یہی مخاطب تھے۔ مقام اس کا تھا کہ ان پر ہی یہ الزام عائد کیا جاتا کہ تم ایسے ہو، مگر قرآن کریم نے طرز بیان بدل کر اس کو ایک مثال کی صورت دیدی۔ جس میں پیغمبرانہ دعوت کا ایک خاص اسلوب بتلایا گیا کہ عنوان بیان ایسا اختیار کرنا چاہئے جس سے مخاطب کو اشتعال پیدا نہ ہو۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ ہَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَۃً عِنْدَ اللہِ۝ ٠ۭ مَنْ لَّعَنَہُ اللہُ وَغَضِبَ عَلَيْہِ وَجَعَلَ مِنْہُمُ الْقِرَدَۃَ وَالْخَـنَازِيْرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوْتَ۝ ٠ۭ اُولٰۗىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ۝ ٦٠ نبأ خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ، ( ن ب ء ) النبا ء کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں موجود نہ ہوں ۔ یعنی نہایت مفید ہونا اور اس سے علم یا غلبہ ظن کا حاصل ہونا اور نبا صرف اس خبر کو کہا جاتا ہے جس میں کذب کا احتمال نہ ہو ۔ جیسے خبر متواتر خبر الہیٰ اور خبر نبوی جیسے فرمایا : ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] کہہ دو کہ یہ ایک بڑی ( ہولناک چیز کی ) خبر ہے جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے شر الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ، وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ( ش ر ر ) الشر وہ چیز ہے جس سے ہر ایک کراہت کرتا ہو جیسا کہ خیر اسے کہتے ہیں ۔ جو ہر ایک کو مرغوب ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] کہ مکان کس کا برا ہے ۔ ثوب أصل الثَّوْب : رجوع الشیء إلى حالته الأولی التي کان عليها، أو إلى الحالة المقدّرة المقصودة بالفکرة، وهي الحالة المشار إليها بقولهم : أوّل الفکرة آخر العمل . فمن الرجوع إلى الحالة الأولی قولهم : ثَابَ فلان إلى داره، وثَابَتْ إِلَيَّ نفسي، وسمّي مکان المستسقي علی فم البئر مَثَابَة، ومن الرجوع إلى الحالة المقدرة المقصود بالفکرة الثوب، سمّي بذلک لرجوع الغزل إلى الحالة التي قدّرت له، وکذا ثواب العمل، وجمع الثوب أَثْوَاب وثِيَاب، وقوله تعالی: وَثِيابَكَ فَطَهِّرْ [ المدثر/ 4] ( ث و ب ) ثوب کا اصل معنی کسی چیز کے اپنی اصلی جو حالت مقدمہ اور مقصود ہوتی ہے اس تک پہنچ جانا کے ہیں ۔ چناچہ حکماء کے اس قول اول الفکرۃ اٰخرالعمل میں اسی حالت کی طرف اشارہ ہے یعنی آغاز فکر ہی انجام عمل بنتا ہے ۔ چناچہ اول معنی کے لحاظ سے کہا جاتا ہے ۔ شاب فلان الی درہ ۔ فلاں اپنے گھر کو لوٹ آیا ثابت الی نفسی میری سانس میری طرف ہوئی ۔ اور کنوئیں کے منہ پر جو پانی پلانے کی جگہ بنائی جاتی ہے اسے مثابۃ کہا جاتا ہے اور غور و فکر سے حالت مقدرہ مقصود تک پہنچ جانے کے اعتبار سے کپڑے کو ثوب کہاجاتا ہے کیونکہ سوت کاتنے سے عرض کپڑا بننا ہوتا ہے لہذا کپڑا بن جانے پر گویا سوت اپنی حالت مقصود ہ کی طرف لوٹ آتا ہے یہی معنی ثواب العمل کا ہے ۔ اور ثوب کی جمع اثواب وثیاب آتی ہے اور آیت کریمہ ؛۔ وَثِيابَكَ فَطَهِّرْ [ المدثر/ 4] اپنے کپڑوں کو پاک رکھو ۔ لعن اللَّعْنُ : الطّرد والإبعاد علی سبیل السّخط، وذلک من اللہ تعالیٰ في الآخرة عقوبة، وفي الدّنيا انقطاع من قبول رحمته وتوفیقه، ومن الإنسان دعاء علی غيره . قال تعالی: أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] ( ل ع ن ) اللعن ۔ کسی کو ناراضگی کی بنا پر اپنے سے دور کردینا اور دھتکار دینا ۔ خدا کی طرف سے کسی شخص پر لعنت سے مراد ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں تو اللہ کی رحمت اور توفیق سے اثر پذیر ہونے محروم ہوجائے اور آخرت عقوبت کا مستحق قرار پائے اور انسان کی طرف سے کسی پر لعنت بھیجنے کے معنی بد دعا کے ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] سن رکھو کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے ۔ قرد القِرْدُ جمعه قِرَدَةٌ. قال تعالی: كُونُوا قِرَدَةً خاسِئِينَ [ البقرة/ 65] ، وقال : وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنازِيرَ [ المائدة/ 60] ، قيل : جعل صورهم المشاهدة کصور القردة . وقیل : بل جعل أخلاقهم كأخلاقها وإن لم تکن صورتهم کصورتها . والقُرَادُ جمعه : قِرْدَانٌ ، والصّوف القَرِدُ : المتداخل بعضه في بعض، ومنه قيل : سحاب قَرِدٌ ، أي : متلبّد، وأَقْرَدَ ، أي : لصق بالأرض لصوق القراد، وقَرَدَ : سکن سکونه، وقَرَّدْتُ البعیر : أزلت قراده، نحو : قذّيت ومرّضت، ويستعار ذلک للمداراة المتوصّل بها إلى خدیعة، فيقال : فلان يُقَرِّدُ فلانا، وسمّي حلمة الثّدي قرادا کما تسمّى حلمة تشبيها بها في الهيئة . ( ق ر د ) القردۃ بندر اس کی جمع قرود وقردۃ ہے اور آیات کریمہ : ۔ كُونُوا قِرَدَةً خاسِئِينَ [ البقرة/ 65] ذلیل و خوار بندر ہوجاؤ ۔ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنازِيرَ [ المائدة/ 60] اور جن کو ان میں سے بندر ۔۔۔۔ بنا دیا ۔ کو بعض نے ظاہر ی معنی پر حمل کیا ہے یعنی انہیں سچ مچ بندر بنا دیا گیا تھا بعض نے کہا ہے کہ انکے اخلاق واطور بندروں ایسے ہوگئے تھے ۔ نہ کہ وہ سچ مچ بندر بنا دیئے گئے تھے ۔ القراد چیچڑی ۔ جمع قردان ۔ صرف قرد الجھی ہوئی اون ( جو کاتی نہ جاسکے ) اسی سے تہ بر تہ چھائے ہوئے بادل کو سحاب قردۃُ کہا جاتا ہے ۔ اقر د چیچڑی کی طرح زمین کے ساتھ چمٹ جانا قرد چیچڑی کی طرح ساکن ہوجانا اور قر دت الابل کے معنی اونٹ سے چیچڑ دور کرنے کے ہیں مخذ جیسے قذبت ومرضت کا محاورہ ہے اور استعار کے طور پر قرد کے معنی چاپلوسی کے ذریعہ کیس کو دھوکا دینا بھی آتے ہیں چناچہ محاورہ ہے ۔ فلاں مدارات سے اسے فریب دے رہا ہے اور پستان کے سر سے کو قراد کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی شکلی بھی چیچڑی جیسی ہوتی ہے ۔ خنزیر قوله تعالی: وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنازِيرَ [ المائدة/ 60] ، قيل : عنی الحیوان المخصوص، وقیل : عنی من أخلاقه وأفعاله مشابهة لأخلاقها، لا من خلقته خلقتها، والأمران مرادان بالآية، فقد روي «أنّ قوما مسخوا خلقة» «1» ، وکذا أيضا في الناس قوم إذا اعتبرت أخلاقهم وجدوا کالقردة والخنازیر، وإن کانت صورهم صور الناس . ( خ ن ز ر ) الخنزیر ۔ کے معنی سور کے ہیں ۔ اور آیت کریمہ :۔ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنازِيرَ [ المائدة/ 60] اور ( جن کو ) ان میں سے بندر اور سور بنادیا ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ خاص کر سور ہی مراد ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ خاص کر سور ہی مراد ہیں اور بعض کے نزدیک اس سے وہ لوگ مراد ہیں َ جن کے افعال و عادات بندر اور سور جیسے ہوگئے تھے ۔ نہ کہ وہ بلحاظ صورت کے بندر اور سور بن گئے تھے ۔ مگر زیر بحث آیت میں دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں کیونکہ مروی ہے کہ ایک قوم کی صورتیں مسخ ہوگئی تھیں اور وہ بندر سور بن گئے تھے ۔ اسی طرح انسانوں میں ایسے لوگوں بھی موجود ہیں جو شکل و صورت کے لحاظ سے گو انسان نظر آتے ہیں ۔ لیکن اخلاق و عادات کے اعتبار سے بندر اور سور بنے ہوئے ہیں ۔ عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] ، عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] ، إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] ، كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] ، إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ، وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] ، وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ، فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65] . وعَبْدٌ للدّنيا وأعراضها، وهو المعتکف علی خدمتها ومراعاتها، وإيّاه قصد النّبي عليه الصلاة والسلام بقوله : «تعس عَبْدُ الدّرهمِ ، تعس عَبْدُ الدّينار» وعلی هذا النحو يصحّ أن يقال : ليس كلّ إنسان عَبْداً لله، فإنّ العَبْدَ علی هذا بمعنی العَابِدِ ، لکن العَبْدَ أبلغ من العابِدِ ، والناس کلّهم عِبَادُ اللہ بل الأشياء کلّها كذلك، لکن بعضها بالتّسخیر وبعضها بالاختیار، وجمع العَبْدِ الذي هو مُسترَقٌّ: عَبِيدٌ ، وقیل : عِبِدَّى وجمع العَبْدِ الذي هو العَابِدُ عِبَادٌ ، فالعَبِيدُ إذا أضيف إلى اللہ أعمّ من العِبَادِ. ولهذا قال : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] ، فنبّه أنه لا يظلم من يختصّ بِعِبَادَتِهِ ومن انتسب إلى غيره من الّذين تسمّوا بِعَبْدِ الشمس وعَبْدِ اللّات ونحو ذلك . ويقال : طریق مُعَبَّدٌ ، أي : مذلّل بالوطء، وبعیر مُعَبَّدٌ: مذلّل بالقطران، وعَبَّدتُ فلاناً : إذا ذلّلته، وإذا اتّخذته عَبْداً. قال تعالی: أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] . العبد بمعنی غلام کا لفظ چار معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1 ) العبد بمعنی غلام یعنی وہ انسان جس کی خریدنا اور فروخت کرنا شرعا جائز ہو چناچہ آیات کریمہ : ۔ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] اور غلام کے بدلے غلام عَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] ایک غلام ہے جو بالکل دوسرے کے اختیار میں ہے ۔ میں عبد کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ( 2 ) العبد بالایجاد یعنی وہ بندے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے اس معنی میں عبودیۃ اللہ کے ساتھ مختص ہے کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] تمام شخص جو آسمان اور زمین میں ہیں خدا کے روبرو بندے ہوکر آئیں گے ۔ میں اسی معنی کی طرح اشارہ ہے ۔ ( 3 ) عبد وہ ہے جو عبارت اور خدمت کی بدولت عبودیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے اس لحاظ سے جن پر عبد کا لفظ بولا گیا ہے وہ دوقسم پر ہیں ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے بن جاتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا : ۔ وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو ۔ إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] بیشک نوح (علیہ السلام) ہمارے شکر گزار بندے تھے نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] جس نے اپنے بندے پر قرآن پاک میں نازل فرمایا : ۔ عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] جس نے اپنی بندے ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) پر یہ کتاب نازل کی ۔ إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں ۔ كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] کہ میری بندے ہوجاؤ ۔ إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔ وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ ۔ فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65]( وہاں ) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا ۔ ( 2 ) دوسرے اس کی پر ستش میں لگے رہتے ہیں ۔ اور اسی کی طرف مائل رہتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق ہی آنحضرت نے فرمایا ہے تعس عبد الدرھم تعس عبد الدینا ر ) درہم دینار کا بندہ ہلاک ہو ) عبد کے ان معانی کے پیش نظر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان اللہ کا بندہ نہیں ہے یعنی بندہ مخلص نہیں ہے لہذا یہاں عبد کے معنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہیں لیکن عبد عابد سے زیادہ بلیغ ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں : ۔ کہ تمام لوگ اللہ کے ہیں یعنی اللہ ہی نے سب کو پیدا کیا ہے بلکہ تمام اشیاء کا یہی حکم ہے ۔ بعض بعض عبد بالتسخیر ہیں اور بعض عبد بالا اختیار اور جب عبد کا لفظ غلام کے معنی میں استعمال ہو تو اس کی جمع عبید یا عبد آتی ہے اور جب عبد بمعنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہو تو اس کی جمع عباد آئے گی لہذا جب عبید کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو یہ عباد سے زیادہ عام ہوگا یہی وجہ ہے کہ آیت : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے میں عبید سے ظلم کی نفی کر کے تنبیہ کی ہے وہ کسی بندے پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا خواہ وہ خدا کی پرستش کرتا ہو اور خواہ عبدالشمس یا عبد اللات ہونے کا مدعی ہو ۔ ہموار راستہ ہموار راستہ جس پر لوگ آسانی سے چل سکیں ۔ بعیر معبد جس پر تار کول مل کر اسے خوب بد صورت کردیا گیا ہو عبدت فلان میں نے اسے مطیع کرلیا محکوم بنالیا قرآن میں ہے : ۔ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] کہ تم نے بنی اسرائیل کو محکوم بنا رکھا ہے ۔ طَّاغُوتُ والطَّاغُوتُ عبارةٌ عن کلِّ متعدٍّ ، وكلِّ معبود من دون الله، ويستعمل في الواحد والجمع . قال تعالی: فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ [ البقرة/ 256] ، وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ [ الزمر/ 17] ، أَوْلِياؤُهُمُ الطَّاغُوتُ [ البقرة/ 257] ، يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ [ النساء/ 60] ، فعبارة عن کلّ متعدّ ، ولما تقدّم سمّي السّاحر، والکاهن، والمارد من الجنّ ، والصارف عن طریق الخیر طاغوتا، ووزنه فيما قيل : فعلوت، نحو : جبروت وملکوت، وقیل : أصله : طَغَوُوتُ ، ولکن قلب لام الفعل نحو صاعقة وصاقعة، ثم قلب الواو ألفا لتحرّكه وانفتاح ما قبله . الطاغوت : سے مراد ہر وہ شخص ہے جو حدود شکن ہوا اور ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا پرستش کی جائے اسے طاغوت کہاجاتا ہے اور یہ واحد جمع دونوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ [ البقرة/ 256] جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے ۔ وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ [ الزمر/ 17] اور جنہوں نے بتوں کی پوجا۔۔ اجتناب کیا ۔ أَوْلِياؤُهُمُ الطَّاغُوتُ [ البقرة/ 257] ان کے دوست شیطان ہیں ۔ اور آیت کریمہ : يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ [ النساء/ 60] اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ ایک سرکش کے پاس لے جاکر فیصلہ کرائیں ۔ میں طاغوت سے حدود شکن مراد ہے اور نافرمانی میں حد سے تجاوز کی بنا پر ساحر، کا ہن ، سرکش جن اور ہر وہ چیز طریق حق سے پھیرنے والی ہوا سے طاغوت کہاجاتا ہے بعض کے نزدیکی فعلوت کے وزن پر ہے جیسے جبروت ومنکوت اور بعض کے نزدیک اس کی اصل طاغوت ہے ۔ پھر صاعقۃ اور صاقعۃ کی طرح پہلے لام کلمہ میں قلب کیا گیا اور پھر واؤ کے متحرک اور ماقبل کے مفتوح ہونے کہ وجہ سے الف سے تبدیل کیا گیا ۔ «مَكَانُ»( استکان) قيل أصله من : كَانَ يَكُونُ ، فلمّا كثر في کلامهم توهّمت المیم أصليّة فقیل : تمكّن كما قيل في المسکين : تمسکن، واسْتَكانَ فلان : تضرّع وكأنه سکن وترک الدّعة لضراعته . قال تعالی: فَمَا اسْتَكانُوا لِرَبِّهِمْ [ المؤمنون/ 76] . المکان ۔ بعض کے نزدیک یہ دراصل کان یکون ( ک و ن ) سے ہے مگر کثرت استعمال کے سبب میم کو اصلی تصور کر کے اس سے تملن وغیرہ مشتقات استعمال ہونے لگے ہیں جیسا کہ مسکین سے تمسکن بنا لیتے ہیں حالانکہ یہ ( ص ک ن ) سے ہے ۔ استکان فلان فلاں نے عاجز ی کا اظہار کیا ۔ گو یا وہ ٹہھر گیا اور ذلت کی وجہ سے سکون وطما نینت کو چھوڑدیا قرآن میں ہے : ۔ فَمَا اسْتَكانُوا لِرَبِّهِمْ [ المؤمنون/ 76] تو بھی انہوں نے خدا کے آگے عاجزی نہ کی ۔ ( ضل)إِضْلَالُ والإِضْلَالُ ضربان : أحدهما : أن يكون سببه الضَّلَالُ ، وذلک علی وجهين : إمّا بأن يَضِلَّ عنک الشیءُ کقولک : أَضْلَلْتُ البعیرَ ، أي : ضَلَّ عنّي، وإمّا أن تحکم بِضَلَالِهِ ، والضَّلَالُ في هذين سبب الإِضْلَالِ. والضّرب الثاني : أن يكون الإِضْلَالُ سببا لِلضَّلَالِ ، وهو أن يزيّن للإنسان الباطل ليضلّ کقوله : لَهَمَّتْ طائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَما يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ [ النساء/ 113] ، أي يتحرّون أفعالا يقصدون بها أن تَضِلَّ ، فلا يحصل من فعلهم ذلك إلّا ما فيه ضَلَالُ أنفسِهِم، وقال عن الشیطان : وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] ، وقال في الشّيطان : وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيراً [يس/ 62] ، وَيُرِيدُ الشَّيْطانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالًا بَعِيداً [ النساء/ 60] ، وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [ ص/ 26] ، وإِضْلَالُ اللهِ تعالیٰ للإنسان علی أحد وجهين : أحدهما أن يكون سببُهُ الضَّلَالَ ، وهو أن يَضِلَّ الإنسانُ فيحكم اللہ عليه بذلک في الدّنيا، ويعدل به عن طریق الجنّة إلى النار في الآخرة، وذلک إِضْلَالٌ هو حقٌّ وعدلٌ ، فالحکم علی الضَّالِّ بضَلَالِهِ والعدول به عن طریق الجنّة إلى النار عدل وحقّ. والثاني من إِضْلَالِ اللهِ : هو أنّ اللہ تعالیٰ وضع جبلّة الإنسان علی هيئة إذا راعی طریقا، محمودا کان أو مذموما، ألفه واستطابه ولزمه، وتعذّر صرفه وانصرافه عنه، ويصير ذلک کالطّبع الذي يأبى علی الناقل، ولذلک قيل : العادة طبع ثان «2» . وهذه القوّة في الإنسان فعل إلهيّ ، وإذا کان کذلک۔ وقد ذکر في غير هذا الموضع أنّ كلّ شيء يكون سببا في وقوع فعل۔ صحّ نسبة ذلک الفعل إليه، فصحّ أن ينسب ضلال العبد إلى اللہ من هذا الوجه، فيقال : أَضَلَّهُ اللهُ لا علی الوجه الذي يتصوّره الجهلة، ولما قلناه جعل الإِضْلَالَ المنسوب إلى نفسه للکافر والفاسق دون المؤمن، بل نفی عن نفسه إِضْلَالَ المؤمنِ فقال : وَما کانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ إِذْ هَداهُمْ [ التوبة/ 115] ، فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ [ محمد/ 4- 5] ، وقال في الکافروالفاسق : فَتَعْساً لَهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمالَهُمْ [ محمد/ 8] ، وما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفاسِقِينَ [ البقرة/ 26] ، كَذلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكافِرِينَ [ غافر/ 74] ، وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ [إبراهيم/ 27] ، وعلی هذا النّحو تقلیب الأفئدة في قوله : وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ [ الأنعام/ 110] ، والختم علی القلب في قوله : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وزیادة المرض في قوله : فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً [ البقرة/ 10] . الاضلال ( یعنی دوسرے کو گمراہ کرنے ) کی دوصورتیں ہوسکتی ہیں ۔ ایک یہ کہ اس کا سبب خود اپنی ضلالت ہو یہ دو قسم پر ہے ۔ (1) ایک یہ کہ کوئی چیز ضائع ہوجائے مثلا کہاجاتا ہے اضللت البعیر ۔ میرا اونٹ کھو گیا ۔ (2) دوم کہ دوسرے پر ضلالت کا حکم لگانا ان دونوں صورتوں میں اضلال کا سبب ضلالۃ ہی ہوتی ہے ۔ دوسری صورت اضلال کا سبب ضلالۃ ہی ہوتی ہے ۔ دوسری صورت اضلال کی پہلی کے برعکس ہے یعنی اضلال بذاتہ ضلالۃ کا سبب بنے اسی طرح پر کہ کسی انسان کو گمراہ کرنے کے لئے باطل اس کے سامنے پر فریب اور جاذب انداز میں پیش کیا جائے جیسے فرمایا : لَهَمَّتْ طائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَما يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ [ النساء/ 113] ، ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کرچکی تھی اور یہ اپنے سوا کسی کو بہکا نہیں سکتے۔ یعنی وہ اپنے اعمال سے تجھے گمراہ کرنے کی کوشش میں ہیں مگر وہ اپنے اس کردار سے خود ہی گمراہ ہو رہے ہیں ۔ اور شیطان کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا : وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] اور ان کو گمراہ کرتا اور امیدیں دلاتا رہوں گا ۔ اور شیطان کے بارے میں فرمایا : ۔ وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيراً [يس/ 62] اور اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کردیا تھا ۔ وَيُرِيدُ الشَّيْطانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالًا بَعِيداً [ النساء/ 60] اور شیطان تو چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر رستے سے دور ڈال دے ۔ وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [ ص/ 26] اور خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں خدا کے رستے سے بھٹکادے گی ۔ اللہ تعالیٰ کے انسان کو گمراہ کرنے کی دو صورتیں ہی ہوسکتی ہیں ( 1 ) ایک یہ کہ اس کا سبب انسان کی خود اپنی ضلالت ہو اس صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف اضلال کی نسبت کے یہ معنی ہوں گے کہ جب انسان از خود گمرہ ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں اس پر گمراہی کا حکم ثبت ہوجاتا ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آخرت کے دن اسے جنت کے راستہ سے ہٹا کر دوزخ کے راستہ پر ڈال دیا جائے گا ۔ ( 2 ) اور اللہ تعالٰ کی طرف اضلال کی نسببت کے دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ باری تعالیٰ نے انسان کی جبلت ہی کچھ اس قسم کی بنائی ہے کہ جب انسان کسی اچھے یا برے راستہ کو اختیار کرلیتا ہے تو اس سے مانوس ہوجاتا ہے اور اسے اچھا سمجھنے لگتا ہے اور آخر کا اس پر اتنی مضبوطی سے جم جاتا ہے کہ اس راہ سے ہٹا نایا اس کا خود اسے چھوڑ دینا دشوار ہوجاتا ہے اور وہ اعمال اس کی طبیعت ثانیہ بن جاتے ہیں اسی اعتبار سے کہا گیا ہے کہ عادت طبعہ ثانیہ ہے ۔ پھر جب انسان کی اس قسم کی فطرت اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہے اور دوسرے مقام پر ہم بیان کرچکے ہیں کہ فعل کی نسبت اس کے سبب کی طرف بھی ہوسکتی ہے لہذا اضلال کی نسبت اللہ تعالیٰ کیطرف بھی ہوسکتی ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے گمراہکر دیا ور نہ باری تعالیٰ کے گمراہ کر نیکے وہ معنی نہیں ہیں جو عوام جہلاء سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اللہ تعالیٰ کی طرف گمراہ کرنے کینسبت اسی جگہ کی ہے جہاں کافر اور فاسق لوگ مراد ہیں نہ کہ مومن بلکہ حق تعالیٰ نے مومنین کو گمراہ کرنے کی اپنی ذات سے نفی فرمائی ہے چناچہ ارشاد ہے ۔ وَما کانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ إِذْ هَداهُمْ [ التوبة/ 115] اور خدا ایسا نہیں ہے کہ کسی قومکو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کردے ۔ فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ [ محمد/ 4- 5] ان کے عملوں کر ہر گز ضائع نہ کریگا بلکہ ان کو سیدھے رستے پر چلائے گا ۔ اور کافر اور فاسق لوگوں کے متعلق فرمایا : فَتَعْساً لَهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمالَهُمْ [ محمد/ 8] ان کے لئے ہلاکت ہے اور وہ ان کے اعمال کو برباد کردیگا : وما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفاسِقِينَ [ البقرة/ 26] اور گمراہ بھی کرتا ہے تو نافرمانوں ہی کو ۔ كَذلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكافِرِينَ [ غافر/ 74] اسی طرح خدا کافررں کو گمراہ کرتا ہے ۔ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ [إبراهيم/ 27] اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کردیتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ [ الأنعام/ 110] اور ہم ان کے دلوں کو الٹ دیں گے ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے انکے دلوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً [ البقرة/ 10] ان کے دلوں میں ( کفر کا ) مرض تھا خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کردیا ۔ میں دلوں کے پھیر دینے اور ان پر مہر لگا دینے اور ان کی مرض میں اضافہ کردینے سے بھی یہی معنی مراد ہیں ۔ سواء ومکان سُوىً ، وسَوَاءٌ: وسط . ويقال : سَوَاءٌ ، وسِوىً ، وسُوىً أي : يستوي طرفاه، ويستعمل ذلک وصفا وظرفا، وأصل ذلک مصدر، وقال : فِي سَواءِ الْجَحِيمِ [ الصافات/ 55] ، وسَواءَ السَّبِيلِ [ القصص/ 22] ، فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلى سَواءٍ [ الأنفال/ 58] ، أي : عدل من الحکم، وکذا قوله : إِلى كَلِمَةٍ سَواءٍ بَيْنَنا وَبَيْنَكُمْ [ آل عمران/ 64] ، وقوله : سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ [ البقرة/ 6] ، سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ [ المنافقون/ 6] ، ( س و ی ) المسا واۃ مکان سوی وسواء کے معنی وسط کے ہیں اور سواء وسوی وسوی اسے کہا جاتا ہے جس کی نسبت دونوں طرف مساوی ہوں اور یہ یعنی سواء وصف بن کر بھی استعمال ہوتا ہے اور ظرف بھی لیکن اصل میں یہ مصدر ہے قرآن میں ہے ۔ فِي سَواءِ الْجَحِيمِ [ الصافات/ 55] تو اس کو ) وسط دوزخ میں ۔ وسَواءَ السَّبِيلِ [ القصص/ 22] تو وہ ) سیدھے راستے سے ۔ فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلى سَواءٍ [ الأنفال/ 58] تو ان کا عہد ) انہیں کی طرف پھینک دو اور برابر کا جواب دو ۔ تو یہاں علی سواء سے عاولا نہ حکم مراد ہے جیسے فرمایا : ۔ إِلى كَلِمَةٍ سَواءٍ بَيْنَنا وَبَيْنَكُمْ [ آل عمران/ 64] اے اہل کتاب ) جو بات ہمارے اور تمہارے دونوں کے درمیان یکساں ( تسلیم کی گئی ) ہے اس کی طرف آؤ ۔ اور آیات : ۔ سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ [ البقرة/ 6] انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے ۔ سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ [ المنافقون/ 6] تم ان کے لئے مغفرت مانگو یا نہ مانگوں ان کے حق میں برابر ہے ۔ سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٠) اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے جواب میں آپ ان یہودیوں سے کہیے کہ ایسا طریقہ میں تمہیں بتلاؤں جو اللہ کے یہاں سزا ملنے میں اس سے بھی زیادہ ہو وہ ان لوگوں کا طریقہ ہے، جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ناراضگی اور جزیہ کا عذاب مسلط کردیا ہے۔ اور داؤد کے زمانہ میں ان کو بندر اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں اہل مائدہ کو کفران مائدہ (آسمانی دسترخوان کی ناقدری کی وجہ سے) سور اور کاہن اور شیاطین بنادیا، یا انھوں نے شیاطین بتوں اور کاہنوں کی پوجا کی ہو، یہ لوگ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی راہ حق سے دور ہوجانے کی وجہ سے بہت برے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

91. This alludes to the Jews whose history shows that they were subjected, over and over again, to the wrath and scourge of God. When they desecrated the law of the Sabbath the faces of many of them were distorted, and subsequently their degeneration reached such a low point that they took to worshipping Satan quite openly. The purpose of saying all this is to draw attention to their criminal boldness while they had sunk to the lowest level of evil, transgression and moral decadence, they vigorously opposed all those who, thanks to their faith, lived a truly pious and righteous life.

سوْرَةُ الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :91 لطیف اشارہ ہے خود یہودیوں کی طرف ، جن کی اپنی تاریخ یہ کہہ رہی ہے کہ بارہا وہ خدا کے غضب اور اس کی لعنت میں مبتلا ہوئے ، سَبْت کا قانون توڑنے پر ان کی قوم کے بہت سے لوگوں کی صورتیں مسخ ہوئیں ، حتٰی کہ وہ تنزل کی اس انتہا کو پہنچے کہ طاغوت کی بندگی تک انہیں نصیب ہوئی ۔ پس کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آخر تمہاری بے حیائی اور مجرمانہ بے باکی کی کوئی حد بھی ہے کہ خود فسق و فجور اور انتہائی اخلاقی تنزل میں مبتلا ہو اور اگر کوئی دوسرا گروہ خدا پر ایمان لا کر سچی دینداری کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتے ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(60 ۔ 62) ۔ یہود نے نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ جو کہا تھا کہ اگر عیسیٰ بن مریم کو بھی نبی مانتے ہیں تو آپ کے دین سے بڑھ کر اور کوئی برا دین دنیا میں نہیں اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اللہ کے حکم سے میں تم لوگوں کو جتلائے دیتا ہو کہ سزا کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بگڑا ہوا اور برا دین یہ ہے جس کی سزا میں تم لوگوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور تم اس کے غصہ اور خفگی میں ایسے گرفتار ہو کہ کچھ لوگ تم میں کے آدمی سے بندر اور سور ہوگئے اور چھ الہ کتاب ہو کر بت پرست کہلائے۔ باوجود مناہی کے یہود میں کے جن لوگوں نے ہفتہ کے دن مچھلیوں کا شکار کھیلا تھا وہ بندر اور سور ہوگئے تھے زیادہ تفصیل اس قصہ کی سورة اعراف میں آوے گی حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کے قول کے موافق ان لوگوں میں کے جوان تو بندر ہوگئے تھے اور بڈھے سور ہوگئے تھے۔ یہود بت پرست ایک تو بچھڑے کے پوجنے سے کہلائے جس کا قصہ سورة اعراف میں آوے اور دوسرے کعب بن اشرف یہودی نے قریش کے بتوں کی جو تعظیم کی تھی جس کا قصہ سورة النساء میں آیت { اَلَمْ اِلٰی الَّذِیْنَ اُوْتُوْ ا نَصِیْبًا مِنَ الْکِتَابِ یُوْمِنُوْنَ بِالْجَبْتِ وَالطاَّغُوْتِ } (٤: ٥١) کی تفسیر میں گذر چکا ہے۔ اب آگے فرمایا کہ دنیا میں ایسے لوگ راہ راست سے دور پڑے ہوئے ہیں اس لئے عقبیٰ میں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ ان میں کے منافقین کا یہ ذکر یوں فرمایا کہ یہ لوگ اپنے دل کی باتوں کو چھپا کر یہ جانتے ہیں کہ ان کے دل کا حال کسی کو معلوم نہیں لیکن اللہ تعالیٰ غیب دان ہے اس کو ان کے دل کا حال خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کی مجلسوں میں دشمن اسلام بن کر گھستے ہیں اسی طرح ان مجلسوں سے نکل جاتے ہیں تو مسلمانوں کو بہکانے کے لئے کچھ زبانی باتیں جو اسلام کی صداقت کے باب میں بناتے ہیں ان اوپر باتوں کا کچھ اعتبار نہیں پھر اپنے رسول کو مخاطب ٹھیرا کر فرمایا کہ ان میں کے اکثر لوگوں کا یہ حال دیکھنے کے قابل ہے کہ گناہوں میں پش قدمی کرنے میں انہیں یہاں تک جرات ہے کہ بےباک ہو کر کتاب آسمانی کے لفظ اور معنی بدلتے ہیں اور سرکشی ان میں اس قدر ہے کہ تورات کے محافظ انبیاء کو شہید کر ڈالا۔ غلط مسئلے بتا کر رشوت کا لینا یہ تو ان کا ہر وقت کا مشغلہ ہے آخر کو فرمایا ان لوگوں کے یہ سب کام ان کے حق میں جس برے ہیں عقبیٰ میں ان کا حال ان کو خود معلوم ہوجائے گا معتبر سند کی شداد بن اوس (رض) کی حدیث ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے اوپر گزرچکی ہے ١ ؎۔ جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص عمر بھر دنیا میں برے کام کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے عقبیٰ میں راحت کی توقع رکھتا ہے وہ بڑا کم عقل ہے ٢ ؎ یہود کا حال بالکل حدیث کے اس ٹکڑے کے موافق ہے کس لئے کہ عمر بھر کے کام تو ان کے وہ ہیں جن کا ذکر اوپر گذرا اور عقبیٰ کی راحت کی توقع ان کو یہاں تک ہے کہ اپنے سوا کسی کو جنت میں جانے کے قابل نہیں کہتے چناچہ سورة بقر میں اس کا ذکر گذر چکا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(5:60) انبئکم۔ میں تم کو بتاؤں۔ تبنئۃ سے مضارع واحد متکلم ۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر مفعول ۔ مثوبۃ۔ بدلہ۔ جزا۔ ثواب۔ مثوبۃ باعتبار جزاء و سزا یا ثواب کے۔ بطور ثواب کے۔ بحیثیت ثواب کے لغوی حیثیت سے ثواب اچھے اور برے دونوں قسم کے اعمال کی جزاء کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن عرف عام میں زیادہ تر نیک اعمال کی جزاء کے لئے مستعمل ہے۔ ہل أنبئکم ۔۔ عند اللہ۔ اللہ کے نزدیک جزاء یا سزا پانے کے لحاظ سے ان میں سے کون برا ہے۔ ذلک کا اشارہ کس کی طرف ہے اس میں مختلف بیانات ہیں : صاحب تفہیم القرآن نے اس کا مشار الیہ فاسقون لیا ہے اور ترجمہ کیا ہے کہ کیا میں ان لوگوں کی نشاندہی کروں جن کا انجام خدا کے ہاں فاسقوں کے انجام سے بھی بدتر ہے۔ ابن کثیر نے ذلک سے مراد فاسقین کا یہ گمان لیا ہے جو وہ اہل ایمان کے متعلق رکھتے تھے کہ غلط راستہ پر ہیں اور ترجمہ یوں کیا ہے : ” تم جو ہماری نسبت گمان رکھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ خدا کے پاس بدلہ پانے میں کون بدتر ہیں “۔ قریب قریب یہی معنی صاحب مدارک التنزیل نے لئے ہیں فرماتے ہیں : ” ذلک اشارۃ الی الایمان ای بشر مما نقمتم من ای ماننا ثوابا۔ یعنی ہمارے ایمان پر جو سزا مترتب ہونے کا تم گمان کرتے ہو “۔ من لعنۃ اللہ ۔۔ السبیل یہ ہل أنبئکم کی وضاحت میں ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 (ای فی زعمکم) یعنی تم تو ہم میں عیب نکالتے ہو اور کہتے ہو کہ ہمارا دین برا ہے لیکن ذرا اپنی تاریخ پر بھی غور کرو اور اپنے ان اسلاف کے بارے میں بھی کچھ کہنے کی جرات کرو جن کا انجام اللہ کے ہاں اس سے بھی کہیں بدتر ہونے والا ہے جس کا تم ہمارے بارے میں دعوی ٗ کرتے ہو (ماخوذ از کبیر)7 یعنی یہ لوگ تمہارے ہی آباو اجداد تھے جو دین کا مذاق اڑانے اور مختلف جرائم کے مرتکب ہونے کی وجہ سے اللہ کی لعنت اور اس کے غضب میں مبتلا ہوئے ہیں ان میں سے بہت سوں (اصحاب سبت) کی صورتیں مسخ کردی گئیں اور وہ شیطان کے بہکانے سے تھی دواصل شیطان کی عبادت تھی۔8 یعنی تم ہمیں کتنا ہی گمراہ کہہ لو لیکن یہ بات مانے بغیر چارہ نہیں کہ تمہارے باپ دادا گمراہ تھے اور ان کا انجام اللہ کے ہاں ہم سے کہیں بدتر ہوگا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ جن سے دوستی کرنے کی اوپرممانعت فرمائی ان میں بعض منافق تھے جو اوپر بھی لفظ الکفار میں یا عموم لفظ یہود میں داخل ہوکرمذکور ہیں آگے ان کی ایک خاص حالت بیان فرماتے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب کی دنیا میں سزا اور آخرت میں بدترین انجام۔ اہل کتاب کی اکثریت ماضی کے جرائم اور اپنے آباؤاجداد کے کردار سے عبرت حاصل کرنے کی بجائے ان کے گھناؤنے کردار پر فخر کرتی ہے۔ جس وجہ سے قرآن مجید ہر دور کے اہل کتاب کو انہی میں شمار کرتا ہے چناچہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد ہوا کہ آپ ان سے استفسار فرمائیں کہ کیا تمہیں ان لوگوں کے انجام سے آگاہ نہ کیا جائے جو اپنے کردار کی وجہ سے اللہ کے ہاں اس حد تک بدترین ٹھہرے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب اور پھٹکار ہوئی۔ جس کے نتیجہ میں انہیں بندر، خنزیر اور شیطان کے بندے بنادیا گیا۔ یہ لوگ دنیا میں صراط مستقیم سے بھٹک چکے اور آخرت میں ان کا بدترین اور عبرت ناک انجام ہوگا۔ امام رازی (رح) نے مختلف ذرائع سے لکھا ہے کہ یہودیوں میں ہفتہ کے روز زیادتی کرنے والوں کو ذلیل بندر بنادیا گیا اور عیسائیوں میں جن لوگوں نے آسمانی دسترخوان کا مطالبہ کیا پھر نافرمانیوں میں آگے بڑھتے چلے گئے۔ انہیں خنزیر بنادیا گیا تھا حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرمایا کرتے تھے کہ امت محمدیہ کے لوگ خنزیر اور بندر تو نہیں بنائے جائیں گے لیکن ان کا ذہن بندروں کی طرح شریر اور ان کا کردار خنزیروں کی طرح بےحمیت ہوجائے گا۔ یہ بات سورة البقرہ آیت نمبر ٦٥، ٦٦ میں بیان ہوچکی ہے کہ جس قوم کی اللہ تعالیٰ شکلیں مسخ کرتا ہے وہ تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رہا کرتے۔ اس لیے جن لوگوں نے بندر اور خنزیر کی نسل کو یہود و نصاریٰ کے ساتھ وابستہ کرنے کی کوشش کی ہے ان کا نقطۂ نگاہ کسی اعتبار سے پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتا۔ مسائل ١۔ طاغوت کی عبادت کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور پھٹکارپڑتی ہے۔ ٢۔ طاغوت کی عبادت کرنے والوں میں سے اللہ تعالیٰ نے بعض کو بندر اور بعض کو خنزیر بنادیا۔ ٣۔ طاغوت کی عبادت کرنے والے سب سے بدتر اور سیدھی راہ سے بھٹکے ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ کے راستے سے گمراہ لوگ : ١۔ جو ایمان کو کفر کے ساتھ بدل دے وہ سیدھے راستہ سے گمراہ ہوگیا۔ (البقرۃ : ١٠٨) ٢۔ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (النساء : ١١٦) ٣۔ جو اللہ کے ساتھ کفر کرے وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ (النساء : ١٣٦) ٤۔ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے والاگمراہ ہوگیا۔ (الاحزاب : ٣٦) ٥۔ جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ (الرعد : ٣٣) ٦۔ اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ مثال کے ساتھ فاسق ہی گمراہ ہوتے ہیں۔ ( البقرۃ : ٢٦) ٧۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پامال کرنے والا سیدھے راستہ سے بھٹک جاتا ہے۔ (المائدۃ : ١٢) ٨۔ کفار سے دوستی کرنے والا سیدھی راہ سے دور چلا جاتا ہے۔ (الممتحنۃ : ١) ٩۔ دین کے معاملات میں غلو کرنے والا سیدھی راہ سے گمراہ ہوجاتا ہے۔ (المائدۃ : ٧٧) ١٠۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانے والا سیدھے راستہ سے بھٹک گیا۔ (ابراہیم : ٣٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ٦٠۔ یہاں ہمیں اب یہودیون کی تاریخ کا مطالعہ کرایا جاتا ہے ۔ یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہوئی اور ان پر اللہ غضب ہوا اور ان کی شکلیں بگاڑ کر ‘ ان سے بندر اور خنزیر بنائے گئے اور پھر بھی ان لوگوں نے طاغوت ہی کی بندگی اختیار کی ۔ ان کے ملعون ہونے اور ان پر اللہ کا غضب آنے کے قصے ‘ قرآن کریم میں بار بار ذکر ہوئے ہیں ۔ نیز قرآن کریم میں ان کے وہ واقعات بھی مذکور ہیں کہ ان میں سے کچھ لوگوں کو بندر اور خنزیر کی شکل میں مسخ کیا گیا ۔ لیکن یہاں ان پر بندگی طاغوت کی جو فرد جرم عائد کی گئی ہے ‘ اس سورة کے مضامین کے زاویے سے اس کی بڑی اہمیت ہے ۔ اس کی ہم قدرے تفصیلات دیں گے کیونکہ یہ لفظ نہایت اہم اور خاص معنی کے لئے استعمال ہوا ہے ۔ طاغوت کا لفظ ہر اس اقتدار کے لئے استعمال ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات سے ماخوذ نہ ہو ‘ ہر حکم ‘ حکم طاغوت ہے اور ہر وہ کام طاغوت ہے جو شریعت اسلامی سے ماخوذ نہ ہو ۔ ہر وہ ظلم طاغوت ہے جو برحق نہ ہو ‘ نیز اللہ کی حاکمیت ‘ اللہ کی الوہیت اور اس کے قانون سازی پر دست درازی کرنا طاغوت کی سب سے بڑی قسم ہے اور جو لفظ اور معنا طاغوت پر صادق آتی ہے ۔ کی عبادت کرتے تھے ‘ بات نہ تھی کہ وہ ان کی عبادت کرتے تھے ۔ حقیقت یہ تھی انہوں نے ارباب اور رہبان کی بنائی ہوئی شریعت کو اپنا لیا تھا اور اللہ کی بھیجی ہوئی شریعت کو چھوڑ دیا تھا۔ اس لئے اللہ نے یہ کہا کہ انہوں نے ارباب و رہبان کی بندگی شروع کردی ہے اور یہ لوگ مشرک ہوگئے ہیں ۔ لفظ طاغوت میں یہ گہرا مفہوم شامل ہیں ہے ۔ یعنی وہ اس حکومت کے مطیع تھے جو شریعت پر مبنی نہ تھی اور سرکش تھی ۔ حقیقت واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ اس حکومت یا ارباب و رہبان کے سامنے سجدے نہ بجا لاتے تھے بلکہ وہ عبادت اس طرح کرتے تھے کہ وہ ان کی اطاعت کرتے تھے ۔ طاغوت کی جب کوئی اطاعت کرتا ہے تو وہ اللہ کے دین اور اللہ کی اطاعت کے دائرے سے خارج ہوجاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرف متوجہ فرمایا ہے کہ آپ اہل کتاب کا مقابلہ ان کی اس تاریخ کو پیش نظر رکھ کر کریں اور یہ کہ وہ اسی جزا کے مستحق ہیں جو انہیں ان کی تاریخ میں ملی ۔ گویا یہ یہودی نسلا بعدنسل وہی قوم ہیں اس لئے کہ ان کی جبلت ایک ہے اور ان کا یہی انجام ہونا چاہتے تھا ۔ (آیت) ” قل ھل انبئکم بشر من ذلک مثوبۃ عند اللہ “۔ (٥ : ٦٠) ” پھر کہو کیا میں ان لوگوں کی نشاندہی کروں جو انجام کار خدا کے ہاں فاسقوں کے انجام سے بھی بدتر ہے ۔ “ یعنی اہل کتاب کی جانب سے اہل اسلام کی دشمنی سے بھی زیادہ خطرناک ‘ وہ اسلام کے خلاف جو سازشیں کرتے ہیں اور اہل ایمان کو محض ایمان کی وجہ سے سزا اور اذیت دیتے ہیں “ اس سے بھی زیادہ بری بات ہے اور وہ ہے خدا کی دشمنی اور خدا کا عذاب ۔ بندے کی دشمنی سے خدا کی دشمنی اور عذاب بہت ہی خطرناک ہے ۔ اور اس کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ شرپسند ہیں ‘ گمراہ ہیں اور صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے ہیں ۔ (آیت) ” اولئک شرمکانا واضل عن سوآء السبیل “۔ (٥ : ٦٠) ” ان کا درجہ اور بھی زیادہ برا ہے اور وہ سواء السبیل سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ “ یہاں قرآن کریم ان کی نشانیوں کی صفات کا ذکر کرکے ان کے ساتھ دوستی کرنے اور تعلق موالات قائم کرنے سے مسلمانوں کو متنفر فرماتے ہیں ۔ جبکہ اس سے قبل ان کے تاریخی کردار اور انکے برے انجام کا ذکر ہوا ۔ اب مسلمانوں کو ‘ ان کے بعض راز افشاء کر کے ‘ ان سے ڈرایا جاتا ہے اور اس تصویر کشی میں یہودیوں کو زیادہ نمایاں کیا جاتا ہے اس لئے کہ بات اس وقت کے حالات کے بارے میں چل رہی تھی اور اس وقت سب سے بڑا فتنہ یہودی فتنہ ہی تھا ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل کتاب کی شقاوت اور ہلاکت پھر فرمایا (قُلْ ھَلْ اُنَبِّءُکُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِکَ مَثُوْبَۃً عِنْدَ اللّٰہِ ) اے اہل کتاب تم ہم سے اس لئے ناراض ہو کہ ہم لوگ اللہ پر اور اس کی کتابوں پر ایمان لائے ہوئے ہیں یہ تو کوئی ناراضگی کی بات نہیں ہے لیکن تم اپنی حماقت و شرارت اور سرکشی کیوجہ سے اسے برا سمجھتے ہو۔ بالفرض اگر یہ اچھی چیز نہیں ہے تو میں تمہیں اس سے بڑھ کر بری چیز بتاتا ہوں جس میں تمہاری شقاوت اور ہلاکت ہے اور وہ سزا کے اعتبار سے بہت بری ہے غور کرو گے تو تمہاری سمجھ میں آجائے گا کہ جس راہ پر تم ہو وہ راہ بہت بری ہے اور اللہ کے نزدیک اس کا بدلہ بہت برا ہے یہ بری چیز کیا ہے ؟ ان لوگوں کے اعمال ہیں جن پر اللہ نے لعنت کردی اور اپنی رحمت سے محروم کر کے مرد ود قرار دیدیا اور ان پر غصہ فرمایا اور ان کو بندر اور سور بنادیا، اور انہوں نے شیطان کی پرستش کی، ان لوگوں کا یہ طریقہ اس طریقہ سے برا ہے جو ہمارا طریقہ ہے۔ ہمارے طریقہ میں توحید ہے ایمان ہے اللہ کی کتابوں پر ایمان ہے اور اس کے نبیوں کی تصدیق ہے جو سراسر خیر اور حق ہے اور تمہارے اندر کفر ہے نبیوں کا انکار ہے اللہ کی کتابوں کی تکذیب ہے اللہ کی نافرمانی ہے اور اس کا نتیجہ تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے آباؤ اجداد میں سے جنہوں نے نافرمانی کی ان کو بندر اور سور بنا دیا گیا، جس کا تمہیں اقرا رہے۔ ایسے لوگ اللہ کے یہاں بہت برا بدلہ پائیں گے یہ آخرت میں بدترین لوگ ہوں گے ان کی جگہ دوزخ ہے جو بہت بری جگہ ہے اور یہ لوگ دنیا میں سیدھے راستہ سے بہت دور ہیں اس میں اہل کتاب کو تنبیہ ہے کہ تم مسلمانوں پر ہنستے ہو اور ان کی اذان کا مذاق بناتے ہو۔ ہمارے طریقہ میں تو کوئی بات استہز اء اور مذاق اور گمراہی کی نہیں ہے ہاں تمہارا طریقہ نافرمانی کفر و فسوق کا ہے تمہارے آباؤ اجداد بھی ایسے ہی تھے جنہوں نے کفر یہ عقائد اختیار کئے۔ گائے کے بچھڑے کو پوجا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بنایا، سینچر کے دن کی جو تعظیم لازم کی گئی تھی اس کی خلاف ورزی کی جس کی وجہ سے بندر بنادیئے گئے، بعض مفسرین نے لکھا ہے جن لوگوں نے سینچر کے دن کے بارے میں حکم عدولی کی تھی ان میں جوانوں کو بندر اور بوڑھوں کو خنزیر بنا دیا گیا تھا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

104 یہود نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ عیاذاً باللہ) تمہارے دین سے بد تر دین ہم نے نہیں دیکھا تو اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ھذا جواب للیھود لما قالوا ما نعرف دینا شرا من دینکم۔ (خازن ج 2 ص 57) یعنی آپ یہود سے فرما دیں کہ ہمارے دین کو تم اپنے زعم میں سب سے برا سمجھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤ کے سب سے برا دین کس کا ہے اور خدا کے یہاں کس دین والے کو بد ترین جزا ملے گی۔ مَنْ لَّعَنَہُ اللہُ اس سے پہلے مضاف محذوف ہے۔ ای دین من لعنہ اللہ (مدارک ج 1 ص 225) ۔ یعنی سب سے برا دین تو ان لوگوں کا ہے جو بارگاہ خداوندی سے ملعون و مرود ہے اور جن پر خدا کا غضب ہوا اور جن کو اللہ تعالیٰ نے بطور سزا مسخ کر کے بندر اور خنزیر بنا دیا اور جنہوں نے شیطان کی عبادت کی۔ الطَّاغُوْت کے دو معنی ہیں۔ 1۔ شیطان اور۔ 2 ۔ ہر معبود غیر خدا یہاں دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں۔ والطاغوت ھو الشیطان و قیل ھو العجل وقیل ھو الکھان والاحبار وجملتہ ان کل من اطاع احدا فی معصیۃ اللہ فقد عبدہ وھو الطاغوت (خازن ج 2 ص 57) مذکور بالا تمام باتیں یہود میں پائی جاتی ہیں لہذا معلوم ہوا کہ ان کا دین ہی سب سے برا دین ہے۔ یعنی من الیھود من لعنہ اللہ و غضب علیہ ومنھم من جعلھم قردۃ وخنازیر (خازن) ۔ 105 اُولئِکَ سے اشارہ مذکورہ بالا ملعونین، مغضوبین، ممسوخین اور عباد شیطان کی طرف ہے وہ لوگ ہے جن کے حالات یہ ہیں یعنی یہود ہی خدا کے یہاں سب سے برے ہیں اور سیدھی راہ سے بہت دور ہیں اور جہنم میں ان کا ٹھکانا بہت برا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 اے پیغمبر ! آپ ان اہل کتاب سے فرمائیے کہ اے اہل کتاب بجز اس کے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس کتاب پر ایمان لائے جو ہماری ہدایت کے لئے نازل کی گئی اور ان کتب سماویہ پر بھی ایمان لائے جو ہم سے پہلے نازل کی گئیں اور وہ کونسا ہمارا طریقہ کار ہے اور وہ کونسا ہمارا طرز عمل ہے جس کی بنا پر تم ہم سے پرخاش رکھتے ہو اور ہم پر عیب لگاتے ہو حالانکہ تم میں کے اکثر ایمان سے خارج ہیں اور کافرانہ طریقہ اختیار کئے ہوئے ہیں اے پیغمبر آپ ان سے کہئے بھلا میں تم کو ان لوگوں کا حال بتائوں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں جزا کے اعتبار سے واقعی طور پر ان سے برے اور بدتر ہیں جن کو تم اپنی ناقص رائے اور مفروضہ خیال میں برا سمجھ رہے ہو وہ لوگ وہ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی اور ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا اور ان میں سے بعض کو بندر اور بعض کو سئور بنادیا اور وہ ہیں جنہوں نے شیطان پرستی کا شیوہ اختیار کیا یہ مذکور ہ لوگ وہ ہیں جو مکان کے اعتبار سے بدتر اور سیدھی راہ سے بہت بھٹکے ہوئے ہیں۔ (تیسیر) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا مسلک اس خوبی کے ساتھ بیان فرمایا جس سے مخالفین اسلام کا بطلان خود بخود ظاہر ہوگیا اور حق و باطل میں جو فرق ہے وہ نمایاں نظر آنے لگا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اے اہل کتاب تمہاری حالت یہ ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ تو استہزاء اور سوقیانہ برتائو کرتے ہو اور ان کی عیب جوئی کرتے ہو جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور توریت و انجیل اور قرآن کریم کو مانتے ہیں اور خود تمہاری حالت یہ ہے کہ کوئی توریت کو نہیں مانتا اور کوئی انجیل کا منکر ہے اور کوئی نبی آخر الزماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل شدہ قرآن کریم کو نہیں مانتا حالانکہ آسمانی کتب کا انکار کفر ہے۔ لہٰذا اس طریقہ کار سے تم خود تو کفر کے مرتکب ہو اور ہم خدا کی سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں پھر بھی ہم کو قابل استہزاء سمجھتے ہو اور ہماری اذان و نماز کا مذاق اڑاتے ہو تو اب بتائو اسلام قابل استہزا ہے یا انکار اس قابل ہے کہ اس کی تذلیل کی جائے اسلام اور انکار کا فرق بیان فرمانے کے بعد دوسری آیت میں اسی کی توضیح ہے کہ جن مسلمانوں کے مسلک کو تم اپنے زعم باطل میں برا اور قابل تذلیل سمجھتے ہو ان سے بدتر تو وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی لعنت نازل ہوئی اور ان پر خدا کا غضب اترا اور وہ سئور اور بندر بنا دیئے گئے اور انہوں نے شیطان پرستی کو تو اصل میں یہ لوگ مکان کے اعتبار سے برے اور سیدھی راہ کے لحاظ سے گم کردئہ راہ ہیں۔ مکان کی برائی یہ کہ وہ جہنم ہے اور گمراہی کا مطلب یہ کہ کافر ہو طاغوت سے مراد یا تو شیطان کی اتباع اور نفس پرستی ہے اور ہوسکتا ہے کہ کعب بن اشرف کی طرف اشارہ ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ گئو سالہ پرستی کی جانب اشارہ ہو۔ بندر اور سئور کی صورتوں میں مسخ ہونا جیسا کہ ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑنے کی سزا ملی اور عیسائیوں کو مائدہ کی ناشکری کا بدلہ دیا گیا۔ لعنت اور غضب کی تفصیل پہلے اور چوتھے پارے میں گذر چکی ہے کہتے ہیں کہ یہود کے بعض رئوسا اور علماء نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آپ کا مسلک دریافت کیا تو آپ نے وہی بتایا جو پہلے پارے کے آخر میں گذرا ہے یعنی ہم اللہ تعالیٰ کے تمام پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں۔ انبیاء کے تذکرے میں آپ نے ابراہیم (علیہ السلام) اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحق اور موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) وغیرہ ہم کے نام لئے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نام سنتے ہی چراغ پا ہوگئے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو برا بھلا کہنے لگے۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں جن کا خلاصہ مذکور ہوا یعنی اپنی حالت پر تو غور نہیں کرتے کہ خود کفر میں مبتلا ہیں اور مسلمان جو صحیح مسلک رکھتے ہیں ان سے پرخاش اور عناد اور ان کی عیب جوئی اب آگے انہی یہود کے بعض اور مذموم کردار مثلاً رشوت ستانی اور نفاق اور سرکشی کا بیان ہے جیسا کہ ارشاد ہے۔ (تسہیل)