The Disbelief of the Christians; `Isa Only called to Tawhid
Allah says;
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ
...
Surely, they have disbelieved who say: "Allah is the Messiah (`Isa), son of Maryam."
Allah states that the Christians such sects as Monarchite, Jacobite and Nestorite are disbelievers, those among them who say that `Isa is Allah. Allah is far holier than what they attribute to Him. They made this claim in spite of the fact that `Isa made it known that he was the servant of Allah and His Messenger.
The first words that `Isa uttered when he was still a baby in the cradle were, "I am Abdullah (the servant of Allah)." He did not say, "I am Allah," or, "I am the son of Allah." Rather, he said,
إِنِّى عَبْدُ اللَّهِ ءَاتَانِىَ الْكِتَـبَ وَجَعَلَنِى نَبِيّاً
Verily, I am a servant of Allah, He has given me the Scripture and made me a Prophet. (19:30) until he said,
وَإِنَّ اللَّهَ رَبِّى وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هَـذَا صِرَطٌ مُّسْتَقِيمٌ
"And verily Allah is my Lord and your Lord. So worship Him (Alone). That is the straight path." (19:36)
He also proclaimed to them when he was a man, after he was sent as a Prophet, commanding them to worship his Lord and their Lord, alone without partners,
...
وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَايِيلَ اعْبُدُواْ اللّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللّهِ
...
But the Messiah said, "O Children of Israel! worship Allah, my Lord and your Lord." Verily, whosoever sets up partners with Allah...,
in worship;
...
فَقَدْ حَرَّمَ اللّهُ عَلَيهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ
...
...then Allah has forbidden Paradise for him, and the Fire will be his abode.
as He will send him to the Fire and forbid Paradise for him.
Allah also said;
إِنَّ اللَّهَ لاَ يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَأءُ
Verily, Allah forgives not that partners should be set up with Him (in worship), but He forgives except that (anything else) to whom He wills. (4:48)
and,
وَنَادَى أَصْحَـبُ النَّارِ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُواْ عَلَيْنَا مِنَ الْمَأءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ قَالُواْ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَـفِرِينَ
And the dwellers of the Fire will call to the dwellers of Paradise; "Pour on us some water or anything that Allah has provide you with." They will say: "Allah has forbidden both to the disbelievers." (7:50)
It is recorded in the Sahih that the Prophet had someone proclaim to the people,
إِنَّ الْجَنَّةَ لاَ يَدْخُلُهَا إِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَة
Only a Muslim soul shall enter Paradise.
In another narration,
مُوْمِنَة
Only a believing soul...
This is why Allah said that `Isa said to the Children of Israel,
...
إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللّهِ
فَقَدْ حَرَّمَ اللّهُ عَلَيهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ
Verily, whosoever sets up partners with Allah, then Allah has forbidden Paradise for him, and the Fire will be his abode. And there are no helpers for the wrongdoers.
There is no help from Allah, nor anyone who will support or protect them from the state they will be in.
Allah's statement,
خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے
نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ ، یعقوبیہ ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں ۔ اللہ ان کے قول سے پاک ، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ ( انی عبداللہ ) میں اللہ کا غلام ہوں ۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کرنے والے یہ جنت حرام ہے اور اس کیلئے جہنم واجب ہے ۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا ۔ جہنمی جب جنتیوں سے کھانا پانی مانگیں گے تو اہل جنت کا یہی جواب ہوگا کہ یہ دونوں چیزیں کفار پر حرام ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ منادی کے مسلمانوں میں آواز لگوائی تھی کہ جنت میں فقط ایمان و اسلام والے ہی جائیں گے ۔ سورہ نساء کی آیت ( اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا ) 4 ۔ النسآء:48 ) کی تفسیر میں وہ حدیث بھی بیان کر دی گئی ہے جس میں ہے کہ گناہ کے تین دیوان ہیں جس میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ نے کبھی نہیں بخشا اور وہ اللہ کے ساتھ شرک کا ہے ۔ حضرت مسیح نے بھی اپنی قوم میں یہی وعظ بیان کیا اور فرما دیا کہ ایسے ناانصاف مشرکین کا کوئی مددگار بھی کھڑا نہ ہوگا ۔ اب ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ کو تین میں سے ایک مانتے تھے یہودی حضرت عزیر کو اور نصرانی حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور اللہ تین میں کا ایک مانتے تھے پھر ان تینوں کے مقرر کرنے میں بھی بہت بڑا اختلاف تھا اور ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہتا تھا اور حق تو یہ ہے کہ سبھی سب کافر تھے حضرت عیسیٰ سے فرمائے گا کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو بھی اللہ مانو ، وہ اس سے صاف انکار کریں گے اور اپنی لاعلمی اور بےگناہی ظاہر کریں گے ۔ زیادہ ظاہر قول بھی یہی ہے واللہ اعلم ۔ دراصل لائق عبادت سوائے اس ذات واحد کے اور کوئی نہیں تمام کائنات اور کل موجودات کا معبود برحق وہی ہے ۔ اگر یہ اپنے اس کافرانہ نظریہ سے باز نہ آئے تو یقینا یہ المناک عذابوں کا شکار ہوں گے ۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم وجود کو ، بخشش و انعام اور لطف و رحمت کو بیان فرما رہا ہے اور باوجود ان کے اس قدر سخت جرم ، اتنی اشد بےحیائی اور کذب و افتراء کے انہیں اپنی رحمت کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اب بھی میری طرف جھک جاؤ ابھی سب معاف فرما دوں گا اور دامن رحمت تلے لے لوں گا ۔ حضرت مسیح اللہ کے بندے اور رسول ہی تھے ۔ ان جیسے رسول ان سے پہلے بھی ہوئے ہیں جیسے فرمایا ( ان ھو الاعبد ) الخ ، وہ ہمارے ایک غلام ہی تھے ہاں ہم نے ان پر رحمت نازل فرمائی تھی اور بنی اسرائیل کیلئے قدرت کی ایک نشائی بنائی ۔ والدہ عیسیٰ مومنہ اور سچ کہنے والی تھیں اس لئے معلوم ہوا کہ نبیہ نہ تھیں کیونکہ یہ مقام وصف ہے تو بہترین وصف جو آپ کا تھا وہ بیان کر دیا اگر نبوت والی ہوتیں تو اس موقعہ پر اس کا بیان نہایت ضروری تھا ۔ ابن حرم وغیرہ کا خیال ہے کہ ام اسحاق اور ام موسیٰ اور ام عیسیٰ نبیہ تھیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ فرشتوں نے حضرت سارہ اور حضرت مریم سے خطاب اور کلام کیا اور والدہ موسیٰ کی نسبت فرمان ہے آیت ( وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى اَنْ اَرْضِعِيْهِ ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَاَلْقِيْهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِيْ وَلَا تَحْـزَنِيْ ۚ اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ ) 28 ۔ القصص:7 ) ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی کی کہ تو انہیں دودھ پلا ۔ لیکن جمہور کا مذہب اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نبوت مردوں میں ہی رہی ۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے آیت ( وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ) 21 ۔ الانبیآء:7 ) تجھ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں سے مردوں ہی کی طرف رسالت انعام فرمائی ہے شیخ ابو الحسن اشعری نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے ۔ پھر فرماتا ہے کہ ماں بیٹا تو دونوں کھانے پینے کے محتاج تھے اور ظاہر ہے کہ جو اندر جائے گا وہ باہر بھی آئے گا پس ثابت ہوا کہ وہ بھی مثل اوروں کے بندے ہی تھے اللہ کی صفات ان میں نہ تھیں دیکھ تو ہم کس طرح کھول کھول کر ان کے سامنے اپنی حجتیں پیش کر رہے ہیں؟ پھر یہ بھی دیکھ کہ باوجود اس کے یہ کس طرح ادھر ادھر بھٹکتے اور بھاگتے پھرتے ہیں؟ کیسے گمراہ مذہب قبول کر رہے ہیں؟ اور کیسے ردی اور بےدلیل اقوال کو گرہ میں باندھے ہوئے ہیں؟