Surat ul Maeeda

Surah: 5

Verse: 72

سورة المائدة

لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ ؕ وَ قَالَ الۡمَسِیۡحُ یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اعۡبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبَّکُمۡ ؕ اِنَّہٗ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ الۡجَنَّۃَ وَ مَاۡوٰىہُ النَّارُ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴿۷۲﴾

They have certainly disbelieved who say, " Allah is the Messiah, the son of Mary" while the Messiah has said, "O Children of Israel, worship Allah , my Lord and your Lord." Indeed, he who associates others with Allah - Allah has forbidden him Paradise, and his refuge is the Fire. And there are not for the wrongdoers any helpers.

بیشک وہ لوگ کافر ہوگئے جن کا قول ہے کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے حالانکہ خود مسیح نے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے ، یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالٰی نے اس پر جنت حرام کر دی ہے ، اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Disbelief of the Christians; `Isa Only called to Tawhid Allah says; لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ... Surely, they have disbelieved who say: "Allah is the Messiah (`Isa), son of Maryam." Allah states that the Christians such sects as Monarchite, Jacobite and Nestorite are disbelievers, those among them who say that `Isa is Allah. Allah is far holier than what they attribute to Him. They made this claim in spite of the fact that `Isa made it known that he was the servant of Allah and His Messenger. The first words that `Isa uttered when he was still a baby in the cradle were, "I am Abdullah (the servant of Allah)." He did not say, "I am Allah," or, "I am the son of Allah." Rather, he said, إِنِّى عَبْدُ اللَّهِ ءَاتَانِىَ الْكِتَـبَ وَجَعَلَنِى نَبِيّاً Verily, I am a servant of Allah, He has given me the Scripture and made me a Prophet. (19:30) until he said, وَإِنَّ اللَّهَ رَبِّى وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هَـذَا صِرَطٌ مُّسْتَقِيمٌ "And verily Allah is my Lord and your Lord. So worship Him (Alone). That is the straight path." (19:36) He also proclaimed to them when he was a man, after he was sent as a Prophet, commanding them to worship his Lord and their Lord, alone without partners, ... وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَايِيلَ اعْبُدُواْ اللّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللّهِ ... But the Messiah said, "O Children of Israel! worship Allah, my Lord and your Lord." Verily, whosoever sets up partners with Allah..., in worship; ... فَقَدْ حَرَّمَ اللّهُ عَلَيهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ... ...then Allah has forbidden Paradise for him, and the Fire will be his abode. as He will send him to the Fire and forbid Paradise for him. Allah also said; إِنَّ اللَّهَ لاَ يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَأءُ Verily, Allah forgives not that partners should be set up with Him (in worship), but He forgives except that (anything else) to whom He wills. (4:48) and, وَنَادَى أَصْحَـبُ النَّارِ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُواْ عَلَيْنَا مِنَ الْمَأءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ قَالُواْ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَـفِرِينَ And the dwellers of the Fire will call to the dwellers of Paradise; "Pour on us some water or anything that Allah has provide you with." They will say: "Allah has forbidden both to the disbelievers." (7:50) It is recorded in the Sahih that the Prophet had someone proclaim to the people, إِنَّ الْجَنَّةَ لاَ يَدْخُلُهَا إِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَة Only a Muslim soul shall enter Paradise. In another narration, مُوْمِنَة Only a believing soul... This is why Allah said that `Isa said to the Children of Israel, ... إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّهُ عَلَيهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ Verily, whosoever sets up partners with Allah, then Allah has forbidden Paradise for him, and the Fire will be his abode. And there are no helpers for the wrongdoers. There is no help from Allah, nor anyone who will support or protect them from the state they will be in. Allah's statement,

خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ ، یعقوبیہ ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں ۔ اللہ ان کے قول سے پاک ، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ ( انی عبداللہ ) میں اللہ کا غلام ہوں ۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کرنے والے یہ جنت حرام ہے اور اس کیلئے جہنم واجب ہے ۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا ۔ جہنمی جب جنتیوں سے کھانا پانی مانگیں گے تو اہل جنت کا یہی جواب ہوگا کہ یہ دونوں چیزیں کفار پر حرام ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ منادی کے مسلمانوں میں آواز لگوائی تھی کہ جنت میں فقط ایمان و اسلام والے ہی جائیں گے ۔ سورہ نساء کی آیت ( اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا ) 4 ۔ النسآء:48 ) کی تفسیر میں وہ حدیث بھی بیان کر دی گئی ہے جس میں ہے کہ گناہ کے تین دیوان ہیں جس میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ نے کبھی نہیں بخشا اور وہ اللہ کے ساتھ شرک کا ہے ۔ حضرت مسیح نے بھی اپنی قوم میں یہی وعظ بیان کیا اور فرما دیا کہ ایسے ناانصاف مشرکین کا کوئی مددگار بھی کھڑا نہ ہوگا ۔ اب ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ کو تین میں سے ایک مانتے تھے یہودی حضرت عزیر کو اور نصرانی حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور اللہ تین میں کا ایک مانتے تھے پھر ان تینوں کے مقرر کرنے میں بھی بہت بڑا اختلاف تھا اور ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہتا تھا اور حق تو یہ ہے کہ سبھی سب کافر تھے حضرت عیسیٰ سے فرمائے گا کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو بھی اللہ مانو ، وہ اس سے صاف انکار کریں گے اور اپنی لاعلمی اور بےگناہی ظاہر کریں گے ۔ زیادہ ظاہر قول بھی یہی ہے واللہ اعلم ۔ دراصل لائق عبادت سوائے اس ذات واحد کے اور کوئی نہیں تمام کائنات اور کل موجودات کا معبود برحق وہی ہے ۔ اگر یہ اپنے اس کافرانہ نظریہ سے باز نہ آئے تو یقینا یہ المناک عذابوں کا شکار ہوں گے ۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم وجود کو ، بخشش و انعام اور لطف و رحمت کو بیان فرما رہا ہے اور باوجود ان کے اس قدر سخت جرم ، اتنی اشد بےحیائی اور کذب و افتراء کے انہیں اپنی رحمت کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اب بھی میری طرف جھک جاؤ ابھی سب معاف فرما دوں گا اور دامن رحمت تلے لے لوں گا ۔ حضرت مسیح اللہ کے بندے اور رسول ہی تھے ۔ ان جیسے رسول ان سے پہلے بھی ہوئے ہیں جیسے فرمایا ( ان ھو الاعبد ) الخ ، وہ ہمارے ایک غلام ہی تھے ہاں ہم نے ان پر رحمت نازل فرمائی تھی اور بنی اسرائیل کیلئے قدرت کی ایک نشائی بنائی ۔ والدہ عیسیٰ مومنہ اور سچ کہنے والی تھیں اس لئے معلوم ہوا کہ نبیہ نہ تھیں کیونکہ یہ مقام وصف ہے تو بہترین وصف جو آپ کا تھا وہ بیان کر دیا اگر نبوت والی ہوتیں تو اس موقعہ پر اس کا بیان نہایت ضروری تھا ۔ ابن حرم وغیرہ کا خیال ہے کہ ام اسحاق اور ام موسیٰ اور ام عیسیٰ نبیہ تھیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ فرشتوں نے حضرت سارہ اور حضرت مریم سے خطاب اور کلام کیا اور والدہ موسیٰ کی نسبت فرمان ہے آیت ( وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى اَنْ اَرْضِعِيْهِ ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَاَلْقِيْهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِيْ وَلَا تَحْـزَنِيْ ۚ اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ ) 28 ۔ القصص:7 ) ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی کی کہ تو انہیں دودھ پلا ۔ لیکن جمہور کا مذہب اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نبوت مردوں میں ہی رہی ۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے آیت ( وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ) 21 ۔ الانبیآء:7 ) تجھ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں سے مردوں ہی کی طرف رسالت انعام فرمائی ہے شیخ ابو الحسن اشعری نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے ۔ پھر فرماتا ہے کہ ماں بیٹا تو دونوں کھانے پینے کے محتاج تھے اور ظاہر ہے کہ جو اندر جائے گا وہ باہر بھی آئے گا پس ثابت ہوا کہ وہ بھی مثل اوروں کے بندے ہی تھے اللہ کی صفات ان میں نہ تھیں دیکھ تو ہم کس طرح کھول کھول کر ان کے سامنے اپنی حجتیں پیش کر رہے ہیں؟ پھر یہ بھی دیکھ کہ باوجود اس کے یہ کس طرح ادھر ادھر بھٹکتے اور بھاگتے پھرتے ہیں؟ کیسے گمراہ مذہب قبول کر رہے ہیں؟ اور کیسے ردی اور بےدلیل اقوال کو گرہ میں باندھے ہوئے ہیں؟

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

72۔ 1 یہی مضمون آیت نمبر 17 میں بھی گزر چکا ہے۔ یہاں اہل کتاب کی گمراہیوں کے ذکر میں اس کا پھر ذکر فرمایا۔ اس میں ان کے اس فرقے کے کفر کا اظہار ہے جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کے عین اللہ ہونے کے قائل ہیں۔ 72۔ 2 چناچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یعنی مسیح ابن مریم نے عالم شیر خوارگی میں سب سے پہلے اپنی زبان سے اپنی عبودیت ہی کا اظہار فرمایا، " انی عبد اللہ اٰتنی الکتاب وجعلنی نبیا " (میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں مجھے اس نے کتاب بھی عطا کی ہے) حضرت مسیح (علیہ السلام) نے یہ نہیں کہا میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں۔ صرف یہ کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور عمر کہولت میں بھی انہوں نے یہی دعوت دی " ان اللہ ربی وربکم فاعبدوہ ھذا صراط مستقیم " یہ وہی الفاظ ہیں جو ماں کی گود میں بھی کہے تھے (ملاحظہ ہو سورة مریم، آیت 36) اور جب قیامت کے قریب ان کا آسمان سے نزول ہوگا، جس کی خبر صحیح احادیث میں دی گئی ہے اور جس پر اہل سنت کا اجماع ہے، تب بھی وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات کے مطابق لوگوں کو اللہ کی توحید اور اس کی اطاعت کی طرف ہی بلائیں گے، نہ کہ اپنی عبادت کی طرف۔ 72۔ 3 حضرت مسیح (علیہ السلام) نے اپنی بندگی اور رسالت کا اظہار اللہ کے حکم اور مشیت سے اس وقت بھی فرمایا تھا جب وہ ماں کی گود میں یعنی شیر خوارگی کی حالت میں تھے۔ پھر سن کہولت میں یہ اعلان فرمایا۔ اور ساتھ ہی شرک کی شناعت و قباحت بھی بیان فرما دی کہ مشرک پر جنت حرام ہے اور اس کا کوئی مددگار بھی نہیں ہوگا جو اسے جہنم سے نکال لائے جیسا کہ مشرکین سمجھتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١٩] الوہیت مسیح اور سیدنا عیسیٰ کی تعلیم :۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق عیسائیوں کے مختلف فرقوں کے مختلف عقائد ہیں۔ کچھ انہیں عقیدہ تثلیث کا جزو یا تین خداؤں میں کا ایک مانتے ہیں۔ کچھ انہیں اللہ کا بیٹا مانتے ہیں اور کچھ انہیں اللہ ہی سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے جسم میں اللہ نے حلول کیا اور وہ اللہ ہی کا مظہر تھے۔ ان تینوں اقوال میں جو چیز قدر مشترک ہے وہ الوہیت مسیح کا عقیدہ ہے۔ یعنی سب فرقے انہیں کسی نہ کسی رنگ میں الٰہ مانتے ہیں اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) تو خود کہتے تھے کہ && صرف اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے && یعنی وہ خود اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ && میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں اور اس کا بندہ ہوں && اب جو شخص کسی کا بندہ ہو، وہ اس کا شریک نہیں ہوسکتا اور جو شریک ہو وہ اس کا بندہ نہیں ہوسکتا۔ لہذا عقل کے ناخن لو اور انہیں اللہ کا شریک بنانے سے باز آجاؤ۔ کیونکہ جو شخص بھی کسی کو اللہ کا شریک بنائے گا اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جلنا پڑے گا۔ پھر انہیں وہاں نہ عیسیٰ (علیہ السلام) بچا سکیں گے اور نہ ہی کوئی دوسرا شخص ان کی کسی طرح سے مدد کرسکے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ : اس آیت کی وضاحت کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (١٧) ۔ یہود کے بعد اب نصاریٰ کی گمراہیوں کا بیان اور انھیں سزا سے ڈرانے کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ (کبیر) ان لوگوں سے نصرانیوں کا وہ فرقہ مراد ہے جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم ہی تو ہے۔ اللہ اور مسیح (علیہ السلام) کو ایک کہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے نہایت تاکیدی الفاظ ” لقد “ (بلاشبہ، یقینا) کے ساتھ کافر قرار دیا۔ مسلمان کہلانے والوں میں بھی کئی لوگ یہ کہنے والے ہیں کہ ” احد “ اور ” احمد “ میں کوئی فرق نہیں، دونوں ایک ہیں، اللہ تعالیٰ بشری جامہ پہن کر آگیا، پھر کئی اپنے بزرگوں کے متعلق عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ عبادت کرتے کرتے اللہ میں فنا ہو کر ایک ہوگئے اور بعض ان کے متعلق کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان میں اتر آیا۔ پہلا عقیدہ اتحاد اور دوسرا حلول کہلاتا ہے۔ اگر مسیح کو عین اللہ تعالیٰ ، یعنی مسیح (علیہ السلام) اور اللہ تعالیٰ کو ایک کہنے والے کافر ہیں تو یہ نام نہاد مسلمان کیوں کافر نہیں ؟ معلوم ہوا حلول اور اتحاد کا عقیدہ واضح کفر ہے، جسے بعض ملحد لوگوں نے تصوف کے پردے میں معرفت قرار دے رکھا ہے۔ وَقَالَ الْمَسِيْحُ يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ حالانکہ مسیح (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو ہمیشہ اللہ کا بندہ کہا، جب پیدا ہوئے تو دنیا میں آنے کے بعد بچپن ہی میں ان کی زبان سے یہی نکلا : ( اِنِّىْ عَبْدُ اللّٰهِ ) [ مریم : ٣٠ ] ” یقیناً میں اللہ کا بندہ ہوں۔ “ اور لوگوں کو بھی اسی وقت فرمایا : (وَاِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ۭ ) [ مریم : ٣٦ ] ” یقیناً اللہ ہی میرا رب اور تمہارا رب ہے، سو اسی کی عبادت کرو۔ “ جوانی میں بھی یہی فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّيْ وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ۭ ) [ الزخرف : ٦٤ ] ” بیشک اللہ ہی میرا رب اور تمہارا رب ہے، پس اس کی عبادت کرو۔ “ نیز مسیح (علیہ السلام) کا یہ قول آج بھی انجیل یوحنا، باب (٧) میں موجود ہے : ” یہی ہمیشہ رہنے والی زندگی ہے کہ وہ تجھ حقیقی الٰہ کو اور اس یسوع مسیح کو پہچانیں جسے تونے رسول بنا کر بھیجا۔ “ (المنار) اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ ۔۔ : یعنی اتحاد، حلول یا شرک کی کسی قسم کا عقیدہ و عمل رکھنے والوں پر جنت حرام اور جہنم واجب ہے۔ ” مِنْ اَنْصَارٍ “ میں ” انصار “ جمع اس لیے لائے ہیں کہ مشرک لوگوں نے کئی ہستیوں کے متعلق گمان کر رکھا ہے کہ وہ ہمیں جہنم سے بچا لیں گی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر بیشک وہ لوگ کافر ہوچکے جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ عین مسیح بن مریم ہے (یعنی دونوں میں اتحاد ہے) حالانکہ (حضرت) مسیح نے خود فرمایا تھا کہ اے بنی اسرائیل تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے (اور اس قول میں اپنے مربوب اور بندہ ہونے کی تصریح ہے، پھر ان کو الٓہ کہنا وہی بات ہے کہ مدعی سست گواہ چست) بیشک جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ (خدائی میں یا خدائی خصوصیات میں) شریک قرار دے گا سو اس پر اللہ تعالیٰ جنت کو حرام کر دے گا، اور اس کا ٹھکانا (ہمیشہ کے لئے) دوزخ ہے، اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا (کہ دوزخ سے بچا کر جنت میں پہنچا سکے، اور جیسے عقیدہ اتحاد کفر ہے اسی طرح عقیدہ تثلیث بھی کفر ہے پس) بلا شبہ وہ لوگ بھی کافر ہیں، جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین (معبودوں) میں کا ایک ہے۔ حالانکہ بجز ایک معبود (حق) کے اور کوئی معبود (حق) نہیں (نہ دو اور نہ تین۔ جب یہ عقیدہ بھی کفر و شرک ہے تو اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ الخ میں جو سزا مذکور ہے وہ اس پر بھی مرتب ہوگی) اور اگر یہ (دونوں عقیدہ کے) لوگ اپنے اقوال (کفریہ) سے باز نہ آئے تو (سمجھ رکھیں کہ) جو لوگ ان میں کافر رہیں گے ان پر (آخرت میں) دردناک عذاب واقع ہوگا کیا (ان مضامین توحید و وعید کو سنکر) پھر بھی (اپنے ان عقائد و اقوال سے) خدا تعالیٰ کے سامنے توبہ نہیں کرتے اور اس سے معافی نہیں چاہتے، حالانکہ اللہ تعالیٰ (جب کوئی توبہ کرتا ہے تو) بڑی مغفرت کرنے والے (اور) بڑی رحمت فرمانے والے ہیں (حضرت) مسیح ابن مریم (عین خدا یا جزِو خدا) کچھ بھی نہیں صرف ایک پیغمبر ہیں جس سے پہلے اور بھی پیغمبر (اہل معجزات) گزر چکے ہیں (جن کو عیسائی خدا نہیں مانتے۔ پس اگر پیغمبری یا خرق عادت دلیل اُلوہیت ہے تو سب کو الٓہ (خدا) ماننا چاہیئے۔ اور اگر دلیل الو ہیت نہیں ہے تو حضرت مسیح کو کیوں الٓہ کہا جاوے۔ غرض جب اوروں کو الٓہ نہیں کہتے تو عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی مت کہو) اور (اسی طرح) ان کی والدہ (بھی الٓہ یا جزو الٓہ نہیں بلکہ وہ) ایک ولی بی بی ہیں (جیسی اور بیبیاں بھی ولی ہوچکی ہیں، اور دونوں حضرات کے الٓہ نہ ہونے کے دلائل میں سے ایک سہل دلیل یہ ہے کہ) دونوں (حضرات) کھانا کھایا کرتے تھے (اور جو شخص کھانا کھاتا ہے وہ اس کا محتاج ہوتا ہے اور کھانا کھانا خواص مادیات سے ہے۔ اور احتیاج اور مادیت خاصہ ممکن الوجود کا ہے، جس کا وجود ضروری نہ ہو، اور ممکن یعنی جس کا وجود ہی ضروری نہ ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا) دیکھئے تو (سہی) ہم کیونکر صاف صاف دلائل ان سے بیان کر رہے ہیں۔ پھر دیکھئے وہ الٹے کدھر جا رہے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان سے) فرمائیے کیا خدا کے سوا ایسی (مخلوق) کی عبادت کرتے ہو جو نہ تم کو کوئی ضرر پہنچانے کا اختیار رکھتا ہو اور نہ نفع پہنچانے کا (اختیار رکھتا ہو اور عاجز ہونا خود خدائی کے منافی ہے) حالانکہ اللہ تعالیٰ سب سنتے ہیں جانتے ہیں (پھر بھی خدا سے نہیں ڈرتے اور اپنے کفر و شرک سے باز نہیں آتے) ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللہَ ہُوَالْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ۝ ٠ۭ وَقَالَ الْمَسِيْحُ يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اعْبُدُوا اللہَ رَبِّيْ وَرَبَّكُمْ۝ ٠ۭ اِنَّہٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللہُ عَلَيْہِ الْجَنَّۃَ وَمَاْوٰىہُ النَّارُ۝ ٠ۭ وَمَا لِلظّٰلِــمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ۝ ٧٢ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ مریم مریم : اسم أعجميّ ، اسم أمّ عيسى عليه السلام» . عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔ شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے ۔ حرم الحرام : الممنوع منه إمّا بتسخیر إلهي وإمّا بشريّ ، وإما بمنع قهريّ ، وإمّا بمنع من جهة العقل أو من جهة الشرع، أو من جهة من يرتسم أمره، فقوله تعالی: وَحَرَّمْنا عَلَيْهِ الْمَراضِعَ [ القصص/ 12] ، فذلک تحریم بتسخیر، وقد حمل علی ذلك : وَحَرامٌ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها [ الأنبیاء/ 95] ، وقوله تعالی: فَإِنَّها مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ المائدة/ 26] ، وقیل : بل کان حراما عليهم من جهة القهر لا بالتسخیر الإلهي، وقوله تعالی: إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ [ المائدة/ 72] ، فهذا من جهة القهر بالمنع، وکذلک قوله تعالی: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُما عَلَى الْكافِرِينَ [ الأعراف/ 50] ، والمُحرَّم بالشرع : کتحریم بيع الطعام بالطعام متفاضلا، وقوله عزّ وجلّ : وَإِنْ يَأْتُوكُمْ أُساری تُفادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْراجُهُمْ [ البقرة/ 85] ، فهذا کان محرّما عليهم بحکم شرعهم، ونحو قوله تعالی: قُلْ : لا أَجِدُ فِي ما أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّماً عَلى طاعِمٍ يَطْعَمُهُ ... الآية [ الأنعام/ 145] ، وَعَلَى الَّذِينَ هادُوا حَرَّمْنا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ [ الأنعام/ 146] ، وسوط مُحَرَّم : لم يدبغ جلده، كأنه لم يحلّ بالدباغ الذي اقتضاه قول النبي صلّى اللہ عليه وسلم : «أيّما إهاب دبغ فقد طهر» . وقیل : بل المحرّم الذي لم يليّن، والحَرَمُ : سمّي بذلک لتحریم اللہ تعالیٰ فيه كثيرا مما ليس بمحرّم في غيره من المواضع وکذلک الشهر الحرام، وقیل : رجل حَرَام و حلال، ومحلّ ومُحْرِم، قال اللہ تعالی: يا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ ما أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضاتَ أَزْواجِكَ [ التحریم/ 1] ، أي : لم تحکم بتحریم ذلک ؟ وكلّ تحریم ليس من قبل اللہ تعالیٰ فلیس بشیء، نحو : وَأَنْعامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُها [ الأنعام/ 138] ، وقوله تعالی: بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ [ الواقعة/ 67] ، أي : ممنوعون من جهة الجدّ ، وقوله : لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ [ الذاریات/ 19] ، أي : الذي لم يوسّع عليه الرزق کما وسّع علی غيره . ومن قال : أراد به الکلب فلم يعن أنّ ذلک اسم الکلب کما ظنّه بعض من ردّ عليه، وإنما ذلک منه ضرب مثال بشیء، لأنّ الکلب کثيرا ما يحرمه الناس، أي : يمنعونه . والمَحْرَمَة والمَحْرُمَة والحُرْمَة، واستحرمت الماعز کناية عن إرادتها الفحل . ( ح ر م ) الحرام ( ح ر م ) الحرام وہ ہے جس سے روک دیا گیا ہو خواہ یہ ممانعت تسخیری یا جبری ، یا عقل کی رو س ہو اور یا پھر شرع کی جانب سے ہو اور یا اس شخص کی جانب سے ہو جو حکم شرع کو بجالاتا ہے پس آیت کریمہ ؛۔ وَحَرَّمْنا عَلَيْهِ الْمَراضِعَ [ القصص/ 12] اور ہم نے پہلے ہی سے اس پر ( دوائیوں کے ) دودھ حرام کردیتے تھے ۔ میں حرمت تسخیری مراد ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ وَحَرامٌ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها [ الأنبیاء/ 95] اور جس بستی ( والوں ) کو ہم نے ہلاک کردیا محال ہے کہ ( وہ دنیا کی طرف رجوع کریں ۔ کو بھی اسی معنی پر حمل کیا گیا ہے اور بعض کے نزدیک آیت کریمہ ؛فَإِنَّها مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ المائدة/ 26] کہ وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لئے حرام کردیا گیا ۔ میں بھی تحریم تسخیری مراد ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ منع جبری پر محمول ہے اور آیت کریمہ :۔ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ [ المائدة/ 72] جو شخص خدا کے ساتھ شرگ کریگا ۔ خدا اس پر بہشت کو حرام کردے گا ۔ میں بھی حرمت جبری مراد ہے اسی طرح آیت :۔ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُما عَلَى الْكافِرِينَ [ الأعراف/ 50] کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کا فروں پر حرام کردیا ہے ۔ میں تحریم بواسطہ منع جبری ہے اور حرمت شرعی جیسے (77) آنحضرت نے طعام کی طعام کے ساتھ بیع میں تفاضل کو حرام قرار دیا ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛ وَإِنْ يَأْتُوكُمْ أُساری تُفادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْراجُهُمْ [ البقرة/ 85] اور اگر وہ تمہارے پاس قید ہوکر آئیں تو بدلادے کر ان کو چھڑی ابھی لیتے ہو حالانکہ ان کے نکال دینا ہی تم پر حرام تھا ۔ میں بھی تحریم شرعی مراد ہے کیونکہ ان کی شریعت میں یہ چیزیں ان پر حرام کردی گئی ۔ تھیں ۔ نیز تحریم شرعی کے متعلق فرمایا ۔ قُلْ : لا أَجِدُ فِي ما أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّماً عَلى طاعِمٍ يَطْعَمُهُ ... الآية [ الأنعام/ 145] الآیۃ کہو کہ ج و احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان کو کوئی چیز جسے کھانے والا حرام نہیں پاتا ۔ وَعَلَى الَّذِينَ هادُوا حَرَّمْنا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ [ الأنعام/ 146] اور یہودیوں پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیئے ۔ سوط محرم بےدباغت چمڑے کا گوڑا ۔ گویا دباغت سے وہ حلال نہیں ہوا جو کہ حدیث کل اھاب دبغ فقد طھر کا مقتضی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ محرم اس کوڑے کو کہتے ہیں ۔ جو نرم نہ کیا گیا ہو ۔ الحرم کو حرام اس لئے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے اس کے اندر بہت سی چیزیں حرام کردی ہیں جو دوسری جگہ حرام نہیں ہیں اور یہی معنی الشہر الحرام کے ہیں یعنی وہ شخص جو حالت احرام میں ہو اس کے بالمقابل رجل حلال ومحل ہے اور آیت کریمہ : يا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ ما أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضاتَ أَزْواجِكَ [ التحریم/ 1] کے معنی یہ ہیں کہ تم اس چیز کی تحریم کا حکم کیون لگاتے ہو جو اللہ نے حرام نہیں کی کیونکہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے حرام نہ کی ہو وہ کسی کے حرام کرنے سے حرام نہیں ہوجاتی جیسا کہ آیت : ۔ وَأَنْعامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُها [ الأنعام/ 138] اور ( بعض ) چار پائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹھ پر چڑھنا حرام کردیا گیا ہے ۔ میں مذکور ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ [ الواقعة/ 67] بلکہ ہم ( برکشتہ نصیب ) بےنصیب ہیں ان کے محروم ہونے سے بد نصیبی مراد ہے ۔ اور آیت کریمہ : لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ [ الذاریات/ 19] مانگنے والے اور نہ مانگنے ( دونوں ) میں محروم سے مراد وہ شخص ہے جو خوشحالی اور وسعت رزق سے محروم ہو اور بعض نے کہا ہے المحروم سے کتا مراد ہے تو اس کے معنی نہیں ہیں کہ محروم کتے کو کہتے ہیں جیسا ان کی تردید کرنے والوں نے سمجھا ہے بلکہ انہوں نے کتے کو بطور مثال ذکر کیا ہے کیونکہ عام طور پر کتے کو لوگ دور ہٹاتے ہیں اور اسے کچھ نہیں دیتے ۔ المحرمۃ والمحرمۃ کے معنی حرمت کے ہیں ۔ استحرمت الما ر عذ بکری نے نر کی خواہش کی دیہ حرمۃ سے ہے جس کے معنی بکری کی جنس خواہش کے ہیں ۔ أوى المَأْوَى مصدر أَوَى يَأْوِي أَوِيّاً ومَأْوًى، تقول : أوى إلى كذا : انضمّ إليه يأوي أويّا ومأوى، وآوَاهُ غيره يُؤْوِيهِ إِيوَاءً. قال عزّ وجلّ : إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ [ الكهف/ 10] ، وقال : سَآوِي إِلى جَبَلٍ [هود/ 43] ( ا و ی ) الماویٰ ۔ ( یہ اوی ٰ ( ض) اویا و ماوی کا مصدر ہے ( جس کے معنی کسی جگہ پر نزول کرنے یا پناہ حاصل کرنا کے ہیں اور اویٰ الیٰ کذا ۔ کے معنی ہیں کسی کے ساتھ مل جانا اور منضم ہوجانا اور آواہ ( افعال ) ایواء کے معنی ہیں کسی کو جگہ دینا قرآن میں ہے { إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ } ( سورة الكهف 10) جب وہ اس غار میں جار ہے { قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ } ( سورة هود 43) اس نے کہا کہ میں ( ابھی ) پہاڑ سے جا لگوں گا ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی سب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٢) ” اللہ عین مسیح ہیں “ یہ نسطوریہ فرقہ کا قول ہے، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے توحید خداوندی کی طرف بلایا اور فرمایا جو کفر پر مرجائے، اس کا جنت میں داخلہ حرام ہے اور مشرکین کا کوئی حمایتی نہیں ہوگا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٢ (لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَا لُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَم ط) یہ وہی بات ہے جو اس سے پہلے اسی سورة کی آیت ١٧ میں آچکی ہے ‘ یعنی اللہ ہی نے مسیح (علیہ السلام) کی شخصیت کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ ( اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ ) (وَمَاْوٰٹہ النَّارُط وَمَا للظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ) اب عیسائیوں کے شرک کی ایک دوسری شکل کا ذکر ہو رہا ہے۔ ان کا ایک عقیدہ تو God incarnate کا تھا۔ یہ ان میں سے ایک فرقے Jacobites کا عقیدہ تھا کہ خود اللہ تعالیٰ ہی نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کی شکل میں انسانی روپ دھار لیا ہے۔ اوپر اسی عقیدے کا ذکر ہوا ہے ‘ لیکن عیسائیوں کے ہاں ایک عقیدہ تثلیث کا بھی ہے ‘ اور اس عقیدہ کی بھی ان کے ہاں دو شکلیں ہیں۔ ابتدا میں جو تثلیث تھی اس میں اللہ ‘ حضرت مریم اور حضرت مسیح شامل تھے۔ یعنی God the Father , God the Mother and God the Son. دراصل یہ تثلیث مصر میں فراعنہ کے زمانے سے چلی آرہی تھی۔ اسی کے اندر انہوں نے عیسائیت کو ڈھال دیا ‘ تاکہ مصر کے لوگ آسانی سے عیسائیت قبول کرلیں۔ اس کے بعد حضرت مریم کو اس تثلیث میں سے نکال دیا گیا اور Holy Ghost یا Holy Spirit (روح القدس) کو ان کی جگہ شامل کرلیا گیا اور اس طرح |"God the father , God the Son and God the Holy Ghost|" پر مشتمل تثلیث وجود میں آئی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(72 ۔ 75) ۔ اوپر کی آیتوں میں یہود و نصاریٰ دونوں کو ملا کر یہ نصیحت فرمائی تھی کہ جب تک یہ لوگ تورات و انجیل پر پورے قائم نہ ہوں گے تو گویا یہ کسی دین پر بھی قائم نہیں اس کے بعد یہود نے تورات کی پابندی میں جو خرابیاں ڈال رکھی تھیں ان کا ذکر فرمایا اب ان آیتوں میں انجیل کے احکام کی پابند میں جو خرابیاں تھیں ان کا ذکر ہے۔ لیکن ان آیتوں کی تفسیر ذرا قصہ طلب ہے۔ اسلامی اور عیسائی تاریخ کی کتابوں میں یہ قصہ جو لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جب عیسائیوں کی تعداد بڑھنے لگی تو یہود کو اس پر حسد ہوا اور اس حسد کے سبب سے یہود کا ایک بادشاہ جس کا نام بولس تھا اس وقت کے عیسائیوں کے مقابلہ میں کھڑا ہوگیا یہاں تک لڑائی ہوئی کہ عیسائیوں کو ملک شام چھوڑنا پڑا۔ اس کے بعد یہ بولس یہودی فریب سے نصرانی ہوگیا اس وقت کے عیسائی بولس کے فریب میں آگئے اور بولس کو مثل حواریوں کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نائب سمجھنے لگے اس کی عبادت کے لئے ایک عبادت خانہ بنوایا۔ بولس اس عبادت خانہ کا دروازہ بند کر کے اس میں رہتا تھا اور دوسرے تیسرے دن اس عبادت خانہ کا دروازہ کھول کر باہر نکلتا اور تورات اور انحیل کے برخلاف اس طرح کی خوش بیانی سے کچھ باتیں بیان کرتا کہ اس وقت کے عیسائی ان باتوں کو آسمانی الہام خیال کرتے کیونکہ اس نے اپنی خوش بیانی سے اس وقت کے عیسائیوں کے دل میں یہ بات اچھی طرح جما دی تھی کہ وہ تیسرے آسمان تک پہنچتا ہے۔ ایک دن بولس اپنے عبادت خانہ کا دروازہ کھول کر باہر نکلا اور اس وقت کے عیسائیوں سے اس نے کہا کیا تم نے کسی انسان کو دیکھا کہ وہ مادرزاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرسکے یا مردے کو زندہ کرسکے انہوں نے جواب دیا کہ نہیں اس پر بولس نے ان سے کہا کہ اسی واسطے میرا آج کا الہام یہ ہے کہ نعوذ باللہ من ذلک عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) خود خدا تھے جو دنیا میں آئے اور ان میں یہ سب قدرتیں تھیں۔ اس وقت کے عیسائیوں میں کا ایک گروہ تو بولس کے اس الہام کا قائل ہوگیا اور انہوں نے حضرت عیسیٰ کو خدا کہنا شروع کیا۔ کچھ لوگوں نے اس الہام کے یہ معنی سمجھے کہ بغیر باپ کے پیدا ہونے سے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) خدا کے بیٹے تھے اور باپ بیٹا اور روح القدس یہ تینوں مل کر خدا ہیں اس فرقہ کے لوگ روح القدس کے معنی حیات ابدی کے کرتے ہیں اور کبھی کچھ معنی کرتے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس الٰہام کا یہ مطلب سمجھا کہ اللہ تعالیٰ ۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) ۔ حضرت مریم ( علیہ السلام) یہ تینوں مل کر خدا ہیں یہ لوگ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) ۔ حضرت مریم ( علیہ السلام) کی تصویریں اپنے عبادت خانوں میں رکھتے ہیں اور ان تصویروں کو سجدہ کرتے ہیں۔ ان لوگوں نے حضرت مریم ( علیہ السلام) کے نام کی ایک نماز بھی ٹھیرا رکھی ہے۔ جس کو یہ لوگ پڑھا کرتے ہیں یہ آخر کے دونوں فرقے تثلیثی فرقے کہلاتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ تین خدا کے ماننے والے یہ فرقے ہیں۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر ان تینوں کا ذکر فرما کر ان کو کئی طرح قائل کیا ہے۔ (١) جبکہ تورات کے حوالہ سے ان لوگوں کا اعتقاد یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے جو توحید تعالیٰ کی ہدایت سے پائی تھی وہی توحید موروثی طور پر عیسیٰ ( علیہ السلام) بن مریم تک آئی۔ اس اعتقاد کی بنا پر یہ لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا پابند بتلاتے ہیں تو پھر عیسیٰ ( علیہ السلام) بن مریم کو اللہ ٹھیرانے کی صورت میں وہ ابراہیمی توحید کیونکر ان لوگوں میں باقی رہ سکتی ہے۔ وما من الا الا الہ واحد سے اسی مطلب کا ادا فرمایا گیا ہے۔ (٢) جب اللہ کے رسول عیسیٰ ( علیہ السلام) ٰ بن مریم نے اللہ تعالیٰ کے وحدہٗ لا شریک ہونے اور اپنے رسول کی ان لوگوں کو صاف ہدایت کی تو پھر ان لوگوں نے اپنے رسول کی ہدایت کے برخلاف یہ شریک کی باتیں کہاں سے نکالی ہیں کیا ان کو عیسیٰ بن مریم کی یہ نصیحت یاد نہیں کہ مشرک کا ٹھکانہ دوزخ اور جنت اس پر حرام ہے { وَقَالَ الْمَسِیْحُ یَبَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ اعْبُدُوْااللّٰہَ رَبِّی وَ رَبَّکُمْ مِنْ یُشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَا وَاہُ النَّارُط وَ مَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ } سے یہی مطلب ادا فرمایا گیا ہے۔ اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے انجیل کے ترجموں میں اگرچہ سینکڑوں تبدل و تغیر ہوگئے۔ لیکن انجیل یوحنا کے سترھویں باب میں اس آیت قرآن کی پوری صداقت اب بھی موجود ہے۔ اسی طرح انجیل متی کا تیسرا اور چوتھا باب بھی دیکھنے کے قابل ہے جس میں مسیح (علیہ السلام) نے شیطان سے فرمایا کہ اللہ وحدہ لا شریک کے سوا کسی کو سجدہ کرنا یا کسی کی عبادت جائز نہیں ہے۔ (٣) عیسیٰ ( علیہ السلام) ٰ بن مریم اور ان کی ماں کھانا کھایا کرتے تھے۔ جس کی زندگی کا مدار کھانا کھانے پر ہو۔ جس کی ذات میں یہ تغیر ہو کر روز کی غذا کے سبب سے اس کا خون گوشت سب کچھ بڑھتا رہے تو یہ سب نشانیاں مخلوقات کی شان کی ہیں وہ پاک ذات ان سب باتوں سے پاک ہے چناچہ سورة انعام میں آوے گا { وَھُوَ یَطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ } (٦: ١٤) جس کا مطلب یہ ہے کہ سب کو کھلاتا ہے اور خود کھانے سے پاک ہے۔ پھر ایسی موٹی باتوں کو بھول کر کس عقل سے یہ لوگ عیسیٰ ( علیہ السلام) ٰ بن مریم اور ان کی ماں کو اللہ کا شریک ٹھیراتے ہیں۔ { کَانَا یَا کُلَانِ الطَّعَامَ اُنْظُرْ کَیْفَ نَبَیِّنُ لھمُ الْاٰیَاتِ ثُمَّ اُنْظَرْ اَنّٰی یَؤْفَکُوْنَ } سے یہی مطلب بیان کیا گیا ہے۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جن لوگوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کہا یا ان کو اور ان کی ماں کو اللہ ٹھیرایا وہ لوگ عیسیٰ ( علیہ السلام) بن مریم ( علیہ السلام) کے طریقہ کے بالکل مخالف اور منکر ہیں کیونکہ عیسیٰ ( علیہ السلام) ٰ بن مریم ( علیہ السلام) نے ان لوگوں کو توحید سکھائی یہ شرک کی باتیں ہرگز نہیں سکھائیں۔ باوجود اس کے پھر جو کوئی ان شرک کی باتوں میں گرفتار رہے گا اس پر جنت حرام اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے کس لئے کہ اس نے ایسی باتوں میں گرفتار رہ کر اپنے نفس پر یہ ظلم کیا کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے پیروؤں کو اللہ کا شریک اور اپنا معبود ٹھیرایا اس لئے ایسے ظالم لوگ اپنے شرک کی باتوں سے جب تک باز آن کر اللہ کی جناب میں توبہ و استغفار نہ کریں گے تو قیامت کے دن وہ سخت عذاب میں پکڑے جاویں گے اور اللہ کے عذاب سے چھڑانے میں ان کا کوئی حامی و مددگار نہ ہو۔ اور ان لوگوں کا یہ خیال کہ عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) مثلاً مردہ کو زندہ کرتے تھے اس واسطے خدا تھے بالکل یہ خیال غلط ہے۔ عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) کی مانند اور رسول بھی صاحب معجزہ ہوئے ہیں۔ جن کو یہ لوگ خدا نہیں کہتے۔ مثلاً موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے سے لکڑی کا سانپ بن جاتا مردہ کو زندہ کرنے سے کچھ کم نہیں ہے۔ ان لوگوں کو اتنی بات سمجھ لینی چاہیے کہ جب عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) اور ان کی ماں غذا کے حاجت مند تھے تو ایسا حاجت مند شخص خدا کیونکر ہوسکتا ہے۔ کفروشرک یہ ہے کہ ثَالِثُ ثَلٰثَۃ کو یوں سمجھے کہ اللہ تعالیٰ تین معبودوں میں کا ایک ہے اگر دو بندوں میں اللہ تعالیٰ کو تیسرا حاضر و ناظر سمجھا جاوے تو یہ عین ایمان ہے۔ چناچہ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے فرمایا کہ ہم ایسے دو ہیں جن کا تیسرا اللہ ہے ١ ؎۔ پھر اسی کی مدد پر بھروسا کرنا چاہیے یہ اس وقت کی حدیث ہے کہ ہجرت کے ارادہ سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابو بکرصدیق (رض) مکہ سے نکل کر جبل ثور کے غار میں ٹھیرے ہوئے تھے اور مکہ کے مشرک لوگ اس پہاڑ کے اردگرد آپ کی تلاش میں اس طرح پھر رہے تھے کہ اس غار میں مشرکوں کے پاؤں نظر آتے تھے۔ صدیق کے معنی سورة النسا میں گزرچکے ہیں کہ صدیق کے دل میں وحی کے احکام کی صداقت زیادہ ہوتی ہے۔ حضرت مریم ( علیہ السلام) کے دل میں تورات اور انجیل کے احکام کی صداقت بہت تھی اس واسطے آپ کا لقب صدیقہ ہے۔ اس سے علماء نے یہ بات نکالی ہے کہ حضرت مریم ( علیہ السلام) نبی نہیں تھیں کیونکہ صدیق کا مرتبہ نبی کے بعد ہے۔ سورة الانبیاء کی آیت { وَمَا اَرْسَلْنَا قَبْلِکَ اِلَّا رِجْالاً نُوْحِی اِلَیْہِمْ } (٢١: ٧) سے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی سب مرد ہی ہوتے ہیں۔ تثلیث کے مسئلہ کے باب میں ایک یہ بات بھی ذکر کرنے کے قابل ہے کہ اس مسئلہ کے انجیل میں ہونے کے سبب سے نصاری میں کے پروٹسٹنٹ فرقہ کے لوگ اپنی کتابوں میں اس کا ذکر نہیں کرتے۔ یہ فرقہ انجیلی کہلاتا ہے ان لوگوں کا اعتقاد یہ ہے کہ علماء سلف کا جو قول آسمانی کتاب کے مخالف ہو وہ داخل دین نہیں ہے اس لئے ان لوگوں نے اس مسئلہ کو انجیل کے ما بعد کا مسئلہ قرار دے کر اس کا ذکر اپنی کتابوں میں چھوڑ دیا ہے۔ تثلیثی فرقہ کا یہ اعتقاد ہے کہ ہر شخص کی نجات تثلیث کے مسئلہ پر منحصر ہے۔ جب اس فرقہ کے مخالف لوگوں نے اس فرقہ پر یہ اعتراض کیا کہ اگر یہ مسئلہ ایسا ضروری تھا جس پر مسیحی لوگوں کی نجات منحصر تھی اور مسیح (علیہ السلام) لوگوں کو نجات کا طریقہ بتلانے کے لئے دنیا میں آئے تھے تو خود مسیح (علیہ السلام) نے یہ مسئلہ لوگوں کو صاف طور پر کیوں نہیں بتلایا تثلیثی فرقہ کے لوگوں نے اس اعتراض کا جواب دو طرح سے دیا ہے ایک تو یہ کہ تثلیث کا مسئلہ ایسا دقیق تھا کہ مسیح (علیہ السلام) کے آسمان پر چلے جانے سے پہلے صحیح طور پر یہ مسئلہ کسی کی سمجھ میں نہیں آسکتا تھا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہود کے خوف سے مسیح (علیہ السلام) نے یہ مسئلہ حواریوں کے روبرو بیان نہیں کیا۔ فرقہ تثلثی کے مخالف لوگوں نے پہلے جواب کو تو اس طرح غلط قرار دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے آسمان پر چلے جانے کے بعد کوئی دقیق مسئلہ طے نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ خود یوحنا حواری نے جبکہ اپنے رسالہ کے چوتھے باب میں اپنے زمانہ کا حال یہ لکھا ہے کہ اس زمانے میں بہت سے جھوٹے نائب مسیح (علیہ السلام) کے پیدا ہوگئے ہیں اور آدم کلارک نے اپنی شرح میں یوحنا کے اس قول کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کے بعد بہت سے لوگ الہام کا دعویٰ کرنے والے پیدا ہوگئے تھے جن کے الہا ام جھوٹے تھے اور خاص کر ان میں فریبی یہودی اکثر تھے۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ بولس یہودی کا زمانہ بھی وہی ہے اور اس وقت کے تاریخ والوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ شخص عیسائی دین میں رخنہ ڈالنے کی نیت سے بطور فریب کے عیسائی ہوا تھا۔ اور یہ تو اوپر بیان ہوچکا ہے کہ بولس کا الہام تورات انجیل مسیح (علیہ السلام) کی نصیحت سب کے برخلاف ہے۔ تو پھر ایسے الہام کو آسمانی الہام کیونکر کر کہا جاسکتا ہے اور اس طرح کے مشکوک الہام کی بنا پر تثلیث کے مسئلہ کے باب میں آسمانی کتاب کس طرح بدل سکتی ہے۔ دوسرے جواب کو یوں غلط ٹھیرایا گیا ہے کہ انجیل کی اکثر آیتوں کے موافق مسیح (علیہ السلام) نے چھوٹے چھوٹے مسئلے بنی اسرائیل کو بلا خوف و خطر بڑی سختی سے سمجھائے ہیں اس حالت میں مسیح (علیہ السلام) پر یہ تہمت ہے کہ انہوں نے اتنا بڑا ضروری مسئلہ لوگوں کے خوف سے بغیر بیان کے چھوڑ دیا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(5:72) لقد کفر کا فاعل الذین قالوا ان اللہ ۔۔ ابن مریم ہے یعنی جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی تو ہے وہ کافر ہوگئے

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 سلسلئہ بیان کے لیے دیکھئے آیت 17، یہود کے بعد اب نصاری ٰ کی گمراہیوں کا بیان اوان پر تہدید شروع ہورہی ہے (کبیر) ان لوگوں سے عیسائیوں کا کوئی خاصک فرقہ نہیں بلکہ سب کے سب عیسائی مراد ہیں کیونکہ وہ سب تثلیث کے قائل ہیں گو تعبیر و تشریح میں ان کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے اس لیے صحیح یہ ہے کہ سب کافر ہیں (ابن کثیر، ابن جریر)2 حضرت مسیح ( علیہ السلام) کا یہ بیان نصاریٰ کے عقیدہ کی تردید میں حجت قطعی کی حیثیت رکھتا ہے (کبیر) اور انجیل یوحنا باب 7 آیت 3 میں حضرت مسیح ( علیہ السلام) کا یہ قول آج بھی موجود ہے یہی ہمیشہ رہنے والی زندگی ہے کہ وہ تجھ حقیقی الہٰ کو اور اس یسو ( علیہ السلام) مسیح ( علیہ السلام) کو پہچانیں جسے تو نے رسول بنا کر بھیجا ( المنار)3 یہ وعید ہے یعنی عذاب سے کسی طور پر بھی نجات نہیں پاسکیں گے (کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیت نمبر 72 تا 75 لغات القرآن : اعبدوا (تم عبادت و بندگی کرو) ۔ من یشرک (جو بھی شرک کرے گا) ۔ حرم (حرام کردیا) ۔ ماوی (ٹھکانہ) ۔ ثالث ثلاثۃ (تین میں کا تیسرا) ۔ لم ینتھوا (وہ نہ رکے۔ باز نہ آئے) ۔ لیمسن (البتہ ضرور پہنچے گا) ۔ لایتوبون (وہ توبہ نہ کریں گے) ۔ یستغفرون (وہ گناہ بخشواتے ہیں) ۔ قد خلت (یقیناً گزرگئے) ۔ امہ (اس کی ماں) ۔ صدیقۃ (سچی۔ پاکباز عورت) ۔ کانا یا کلان (وہ دونوں کھاتے تھے) ۔ الطعام (کھانا) ۔ انظروا (دیکھو) ۔ نبی ن (ہم بیان کرتے ہیں۔ کھولتے ہیں) ۔ انی (کہاں ؟ ) ۔ یؤفکون (وہ الٹے چلے جا رہے ہیں) ۔ تشریح : ” اللہ ھو المیسح ابن مریم “ اس کے دو معنی ہیں۔ (1) اللہ دنیا میں مسیح ابن مریم کی شکل میں آیا (نعوذ باللہ) ۔ (2) مسیح ابن مریم آگے چل کر معبود بن گئے (نعوذ باللہ) بات ایک ہی ہے۔ ان دو عقیدوں میں سے عیسائیوں کا ہر فرقہ کوئی نہ کوئی عقیدہ رکھتا ہے۔ اور ان میں سے ہر عقیدہ شرک اور کفر ہے۔ اس کی واضح تردید میں اللہ تعالیٰ خود حضرت مسیح (علیہ السلام) کی وہ نصیحت پیش کرتے ہیں جو انہوں نے بنی اسرائیل کی قوم کو برسر عام کی تھی۔ اس نصیحت میں تین باتیں ہیں۔ چونکہ یہ تینوں باتیں ایک ہی آیت میں ہیں اس لئے سارے کا سارا حضرت مسیح کا قول ہے انہوں نے فرمایا تھا کہ۔ (1) اللہ میرا بھی مالک و خالق ہے اور تمہارا بھی۔ (2) مزید یہ بھی وضاحت کردی کہ جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا وہ کافر و مشرک ہوا۔ اس پر اللہ نے جنت حرام کردی اور وہ دوزخ ہی میں ڈال دیا جائے گا۔ (3) مزید یہ بھی تصریح کردی کہ مسیح سمیت کوئی بھی ایسے خطاکاروں کا مددگار نہیں۔ دوسرے الفاظ میں اگر مسیح میں الوہیت کے اختیارات ہوتے تو وہ اپنے پوجنے والوں کو دوزخ سے بچا لیتے۔ مگر وہ ان کی کوئی مد نہ کرسکتے ہیں اور نہ کریں گے۔ اب عیسائیوں کے ایک تیسرے فرقے کا ذکر ہو رہا ہے جو کفر میں زیادہ شدید ہے جس کا عقیدہ یہ ہے کہ صفات باری میں تین تین شریک ہیں۔ ایک تو خود اللہ تعالیٰ ، دوسرے حضرت مسیح (علیہ السلام) تیسرے ان کی والدہ حضرت مریم یا روح القدس۔ جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح اور ان کی والدہ۔ ان کی حیثیت انسان سے زیادہ نہ تھی۔ حضرت مسیح عام انسان کی طرح پیدا ہوئے تھے اگرچہ بلا باپ پیدا ہوئے تھے وہ عام انسانوں کی طرح چھوٹے سے بڑے ہوئے۔ حضرت مریم ایک عام انسان ماں کی طرح پیدا کرنے والی تھیں اگرچہ کنواری تھیں۔ کیا پیدا ہونے والا اور پیدا کرنے والی انسان کے سوا کچھ اور ہیں۔ عام انسانوں کی طرح دونوں جسمانی اور دیگر ضرورت کے محتاج تھے۔ کھانا ہضم کرنا ، سونا، جاگنا، بولنا ، ہنسنا سب ان کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ کیا یہ انسان کی کیفیت ہے یا معبود کی ؟ اور پھر حضرت مریم کا انتقال ہوگیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آسمانوں پر اٹھالئے گئے ۔ لیکن وہ بھی دنیا میں واپس آکر عام انسانوں کی طرح انتقال کرنے والے ہیں ۔ کیا موت انسان کی شان ہے یا اللہ کی۔ وہ کیسے معبود ہوسکتا ہے جو پیدائش اور موت، سانس اور دوسری ضروری حاجتوں کا محتاج ہو ؟ حضرت مریم کے لئے صدیقہ کا لفظ آیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ولی تھیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ کسی خاتون کا ولی ہونا یا کسی مرد کا ولی یا نبی ہونا کمال عبدیت کی دلیل ہے۔ وہ عبد معبود کیسے ہوسکتا ہے یہ صریح عقل کے بھی خلاف ہے کہ ایک ہی ہستی عبد بھی ہو اور معبود بھی۔ اتنے عظیم ثبوت کے باوجود یہ اہل تثلیث کتنے بےعقل اور بےنصیب ہیں کہ الٹے پھرے جاتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ زیادہ سے زیادہ صرف ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے پیغمبر آئے اور گئے۔ کوئی باقی رہنے والا نہیں آیا۔ حضرت عیسیٰ بھی باقی رہنے کو نہیں آئے تھے ان کو بھی قیامت کے قریب موت آئے گی۔ اللہ تعالیٰ کی رحمانیت اور رحیمیت کی شان ہے کہ ایسے بد عقیدہ کافروں اور مشرکوں کے لئے بھی توبہ کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا ہے۔ اگر اب بھی وہ توبہ کرلیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیں تو اللہ تعالیٰ کو غفور الرحیم پائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ اس قول میں مربوب اور بندہ ہونے کی تصریح ہے پھر ان کو الہ کہنا وہی بات ہے کہ مدعی سست گواہ چست۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : یہود کے بعد عیسائیوں کے عقائد اور کردار کابیان۔ یہ حقیقت پہلے بھی بیان ہوچکی ہے کہ یہودی انبیاء ( علیہ السلام) کی تکذیب اور ان کو قتل کرنے کی وجہ سے گمراہ ہوئے جبکہ عیسائی عیسیٰ (علیہ السلام) کی محبت اور ان کی والدہ کے احترام میں غلو کی وجہ سے صراط مستقیم سے ہٹ گئے۔ عیسائیوں کی گمراہی کے دو اسباب ہیں ان میں کچھ لوگ تو اس غلط فہمی کا شکار ہوئے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنا کلمہ قرار دیا ہے جس کا منطقی مفہوم یہ بنتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا جزو یعنی اس کی ذات کا حصہ ہے۔ عیسائیوں کے دوسرے گروہ نے جان بوجھ کر عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور اس کی والدہ حضرت مریم کو خدا کی بیوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تینوں کو ملا کر خدا کی ذات مکمل ہوتی ہے۔ کچھ عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہی خدا ہیں۔ اس طرح یہ لوگ ایک گورکھ دھندے میں پھنسے ہوئے ہیں جو علم کی دنیا میں ایک مذاق کے سوا کچھ بھی نہیں۔ پھر عیسائیوں نے یہ عقیدہ گھڑا کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کو تختہ دار پر لٹکا کر اپنے بیٹے کی قربانی پیش کی تاکہ ہمارے گناہوں کا کفارہ بن سکے حالانکہ عیسیٰ (علیہ السلام) نہ سولی پر لٹکائے گئے اور نہ انہوں نے شرک کی تائید کی وہ تو باربار فرماتے رہے کہ اے بنی اسرائیل صرف ایک اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے۔ یاد رکھو جس نے اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات میں شرک کیا اللہ تعالیٰ نے اس پر ہمیشہ کے لیے جنت کو حرام قرار دیا ہے۔ اس کا ٹھکانہ آگ ہے۔ ایسے ظالموں کے لیے قیامت کے دن کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ یاد رہے سب سے بڑا ظلم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے افسوس پاکستانی مسلمانوں کی اکثریت یہود و نصاریٰ کو مات دیتے ہوئے کہتی ہے۔ یا عبدالقادر شیأً للّٰہِ ! وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر اتر پڑا مدینے میں مصطفٰی ہو کر مسائل ١۔ انبیاء ( علیہ السلام) کی شان میں گستاخی کرنے سے انسان کافر ہوجاتا ہے ٢۔ انبیاء (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیتے تھے۔ ٣۔ مشرک پر جنت حرام ہے۔ ٤۔ مشرک کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ ٥۔ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ تفسیر بالقرآن شرک کی مذمت : ١۔ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ (لقمان : ١٣) ٢۔ شرک بہت بڑی گمراہی ہے۔ (النساء : ١١٦) ٣۔ شرک بہت بڑی ذلت اور گراوٹ ہے۔ (الحج : ٣١) ٤۔ شرک سے تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ (الزمر : ٦٥) ٥۔ اللہ تعالیٰ شرک معاف نہیں کرتاز کیونکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ (النساء : ٤٨) ٦۔ اللہ تعالیٰ شرک کے سوا جس کے چاہے گا گناہ معاف فرمادے گا۔ (النساء : ١١٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ٧٢ تا ٧٦۔ اس سے پہلے ہم بیان کرچکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بیان کردہ عقیدہ توحید کے اندر یہ شرکیہ عقائد کب اور کس کانفرس کے ذریعہ داخل ہوئے ۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا عقیدہ وہی تھا جو اس کے دوسرے بھائی رسولوں کا تھا ‘ جو خالص توحید کے داعی تھے اور اس میں شمہ بھر شرک نہ تھا ۔ اس لئے کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد تمام رسالتوں کی بعثت کا مقصد توحید کی تبلیغ اور شرک کی تردید ہی تھا ۔ یہاں مختصرا ہم وہ عقیدہ درج کرتے ہیں جس تک یہ کانفرنسیں بالاتفاق پہنچیں اور اس کے بعد ان کے اوپر جو اختلافات مرتب ہوئے انکی تفصیلات پہلے گزر گئی ہیں ۔ نوفل ابن نعمت اللہ ابن جرجیس نصرانی کی کتاب ” سوسنہ سلیمان “ میں ہے کہ عیسائیوں کا وہ عقیدہ جس میں کسی کنیسہ کو اختلاف نہیں ہے اور جسے نیقیا کی مجلس نے بطور اصل عقیدہ طے کیا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ الہ صرف ایک ہے ‘ اب باپ الہ ہے جو سب پر کنڑول کرنے والے ہے ۔ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے ‘ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے ‘ جو چیز نظرآئے یا نہ آئے اس کا پیدا کرنے والا ہے ۔ پھر ایک رب واحد یسوع پر ایمان لانا ہے جو اکلوتا بیٹا ہے اور ایک باپ سے ہے اور یہ زمانوں سے پہلے نور سے پیدا ہوا ہے ۔ یہ بھی الہ ہے ‘ الہ حق سے ہے ‘ مولود ہے ‘ مولود ہے اور غیر مخلوق ہے ‘ اپنے جوہر میں باپ کے برابر ہے ‘ جس سے تمام مخلوقات پیدا ہوئی اور جس کی وجہ سے ہم انسان پیدا ہوئے اور یہ باپ ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے آسمان سے نازل ہوا۔ روح القدس کو اس کا درجہ ملا ۔ اور بیلاطس کے عہد میں کنواری مریم سے اس کا تولد ہوا ۔ انسان کی شکل میں آیا ۔ عہد بیلاطس میں سولی پر چڑھا ۔ دیکھ پہنچا ‘ قبر میں دفن ہوا اور مردوں سے تیسرے دن اٹھ کھڑا ہوا جیسا کہ کتابوں میں ہے ۔ آسمان کی طرف اٹھا اور رب کے دائیں طرف بیٹھا اور عنقریب اس کا نزول عزت ہوگا اور تمام زندوں کو دین میں داخل کرے گا ۔ اس کی بات ختم نہ ہوگی ۔ روح القدس اور باپ سے نکلنے والے خدا پر ایمان لانا ضروری ہے جو خدا کے ساتھ موجود ہے اور ان دونوں کے لئے سجدہ ہوتا ہے اور جو انبیاء کے ساتھ باتیں کرتا ہے ۔ “۔ ڈاکٹر پوسٹ اپنی کتاب تاریخ کنیسہ میں کہتے ہیں کہ ذات باری تین اقانیم سے عبارت ہے جو مساوی ہیں ۔ اللہ باپ ‘ اللہ بیٹا ‘ اللہ روح القدس ۔ بیٹے کے ذریعے لوگ باپ سے منسوب ہیں کہ وہ مخلوق ہیں ‘ بیٹے نے قربانی دی اور روح القدس پاک ہے ۔ “ اب یہ تصور کس قدر دشوار ہے کہ تین ایک بھی ہیں اور توحید اور تثلیث کا ایک ساتھ تصور کس قدر مشکل ہے ۔ نصاری کے لاہوتی مصنفین نے یہ تجویز کیا ہے کہ اس عقیدے کے عقلی پہلو پر غور وخوض کو ملتوی رکھا جائے ‘ اس لئے کہ عقل تو اسے سنتے ہی مسترد کردیتی ہے ۔ ان میں سے ایک پادری بوطر اپنے رسالہ ” اصول و فروع “ میں لکھتے ہیں ” ہم نے اپنی عقل کی طاقت کے مطابق اسے یوں سمجھا ہے اور آئندہ اسے ہم واضح طور پر سمجھ سکیں گے جب اللہ آسمانوں اور زمینوں کے رازوں سے پردہ اٹھا لے گا ۔ فی الحال اس قدر کافی ہے ۔ “ اللہ کا کہنا ہے کہ یہ تمام معقولات کفر ہیں ۔ اس لئے کہ ان تمام میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کو الہ مانا گیا ہے نیز تینوں میں سے ایک کہنا بھی کفر ہے ۔ لہذا اللہ کی بات کے بات کے بعد کوئی اور بات نہیں ہے ۔ اللہ کا فرمان واضح ہے ۔ (آیت) ” لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُواْ إِنَّ اللّہَ ہُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ وَقَالَ الْمَسِیْحُ یَا بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ اعْبُدُواْ اللّہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ إِنَّہُ مَن یُشْرِکْ بِاللّہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَأْوَاہُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ أَنصَارٍ (72) ” یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے حالانکہ مسیح نے کہا تھا کہ ” اے بنی اسرائیل ‘ اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ۔ “ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اس پر اللہ نے جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے اسی طرح انہیں صاف صاف ڈرایا تھا مگر وہ باز نہ آئے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد وہ اسی غلطی میں پڑگئے تھے جس سے آپ نے انہیں متنبہ کردیا تھا ۔ حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صاف صاف بتایا تھا کہ اگر انہوں نے عقیدہ توحید کو چھوڑ کر شرک اختیار کیا تو وہ جنت سے محروم ہو کر جہنم کی آگ کے مستحق ہوجائیں گے ۔ انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے اس قول کو بھلا دیا ” اے بنی اسرائیل صرف اللہ کی بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ۔ “ اس قول کے مطابق آپ نے انہیں کہا تھا کہ اللہ کے سامنے میں اور تم برابر کے بندے ہیں اور اللہ جو سب کا رب ہے اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے ۔ یہاں قرآن کریم ان کے تمام کفریہ معقولات کا ذکر کرتا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

نصاریٰ کے کفر و شرک اور غلو کا بیان ان آیات میں نصاریٰ کی گمراہی اور ان کا کفر و شرک اور غلو بیان فرمایا ہے، نصاریٰ کے کئی فرقے تھے ان میں سے ایک فرقہ یہ کہتا تھا کہ اللہ اور مسیح ابن مریم ایک ہی ہیں یعنی وہ حلول کے قائل تھے یہ بھی سراسر کفر ہے خالق کا مخلوق میں حلول ماننا اور اتحاد کا قائل ہونا بہت بڑی گمراہی ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ اسی شخصیت کو خدا بتا رہے ہیں جس نے واضح طریقہ پر بنی اسرائیل کو فرما دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے وہ تو فرما رہے ہیں کہ اللہ میرا اور تمہارا رب ہے اور ان سے عقیدت کا اظہار کرنے والے ان کو عین خدا بتا رہے ہیں، نیز حضرت مسیح ابن مریم (علیہ السلام) کو عین خدا بنا کر ان کے لئے خدائی خصوصیات تجویز کردیں اور ان کو معبود ماننے لگے۔ شرک ظلم عظیم ہے ظالموں کے لئے قیامت کے دن کوئی مددگار نہ ہوگا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

129 یہ دوسرا مسئلہ ہے جو بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ میں داخل ہے یعنی آپ اس مسئلہ کی بھی تبلیغ اور اشاعت فرما دیں کہ جو لوگ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی صفات مختصہ سے موصوف کرتے ہیں مثلاً ان کو متصرف فی الامور اور مختار سمجھتے ہیں وہ بلاشبہ کافر ہیں شاہ عبدالقادر دہلوی فرماتے ہیں نصاریٰ میں دو قول ہیں بعضے کہتے ہیں اللہ یہی تھا جو صورت مسیح میں آیا اور بعضے کہتے ہیں تین حصہ ہوگیا، ایک اللہ رہا ایک روح القدس ایک مسیح یہ دونوں باتیں صریح کفر ہیں۔ فائدہ : حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا یہاں اتحاد سے اتحاد صفات مراد ہے۔ یعنی نصاریٰ کا عقیدہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اختیارات دیدئیے تھے اور وہ متصرف فی الامور تھے۔ بہر حال لفظ اللہ سے وصف مشہور مراد ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے لکل فرعون موسیٰ ای لکل مبطل محق۔ 130 عیسائیوں کے پیر اور پادری کہتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے آباء و اجداد کو یہی تعلیم دے گئے تھے کہ وہ ان کو متصرف و مختار سمجھ کر ان کو پکارا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب فرمائی اور اپنے پیغمبر حضرت مسیح (علیہ السلام) کی طرف سے صفائی پیش کی کہ انہوں نے تو بنی اسرائیل کو یہی تعلیم دی تھی کہ وہ صرف اللہ ہی کو متصرف و کارساز سمجھیں۔ اسی کو پکاریں، اسکی نذریں منتیں دیں اور ہر طرح کی عبادت اسی کے لیے بجا لائیں اور شرک نہ کریں بلکہ شرک سے کوسوں دور بھاگیں۔ کیونکہ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے اس پر جنت حرام ہے۔ اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ قیامت کے دن اس کا کوئی یار و مددگار نہیں ہوگا جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکے اور نہ اس کے حق میں کسی پیر و پیغمبر کی سفارش قبول ہوگی۔ وی ومالہ عند اللہ ناصر ولا معین ولا مقذ مما ھو فیہ (ابن کثیر ص 81 ج 2) ای مالھم من احد ینصرھم بانقاذھم من النار و ادخالھم الجنۃ اما بطریق المبالغۃ او بطریق الشفاعۃ (روح ج 6 ص 207) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi