Surat ul Maeeda

Surah: 5

Verse: 77

سورة المائدة

قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ غَیۡرَ الۡحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوۡۤا اَہۡوَآءَ قَوۡمٍ قَدۡ ضَلُّوۡا مِنۡ قَبۡلُ وَ اَضَلُّوۡا کَثِیۡرًا وَّ ضَلُّوۡا عَنۡ سَوَآءِ السَّبِیۡلِ ﴿٪۷۷﴾  14

Say, "O People of the Scripture, do not exceed limits in your religion beyond the truth and do not follow the inclinations of a people who had gone astray before and misled many and have strayed from the soundness of the way."

کہہ دیجئے اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو اور زیادتی نہ کرو اور ان لوگوں کی نفسانی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جو پہلے سے بہک چکے ہیں اور بہتوں کو بہکا بھی چکے ہیں اور سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لاَ تَغْلُواْ فِي دِينِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ ... Say: "O People of the Scripture! Exceed not the limits in your religion beyond the truth, Meaning: Do not exceed the limits concerning the truth and exaggeration in praising whom you were commanded to honor. You exaggerated in his case and elevated him from the rank of Prophet to the rank of a god. You did this with `Isa, who was a Prophet, yet you claimed that he is god besides Allah. ... وَلاَ تَتَّبِعُواْ أَهْوَاء قَوْمٍ قَدْ ضَلُّواْ مِن قَبْلُ ... and do not follow the vain desires of people who went astray before... This error occurred because you followed your teachers, the advocates of misguidance who came before your time and who, ... وَأَضَلُّواْ كَثِيرًا وَضَلُّواْ عَن سَوَاء السَّبِيلِ ...and who misled many, and strayed (themselves) from the right path. deviated from the straight path, to the path of misguidance and deviation.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

77۔ 1 یعنی اتباع حق میں حد سے تجاوز نہ کرو اور جن کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے، اس میں مبالغہ کر کے انہیں منصب نبوت سے اٹھا کر مقام الویت پر فائز مت کرو، جیسے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے معاملے میں تم نے کیا۔ غلو ہر دور میں شرک اور گمرہی کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ انسان کو جس سے عقیدت اور محبت ہوتی ہے، وہ اس کی شان میں خوب مبالغہ کرتا ہے۔ وہ امام اور دینی قائد ہے تو اس کو پیغمبر کی طرح معصوم سمجھنا اور پیغمبر کو خدائی صفات سے متصف ماننا عام بات ہے، بدقسمتی سے مسلمان بھی اس غلو سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ انہوں نے بعض ائمہ کی شان میں بھی غلو کیا اور ان کی رائے اور قول، حتٰی کہ ان کی طرف منسوب فتویٰ اور فقہ کو بھی حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلے میں ترجیح دے دی۔ 77۔ 2 یعنی اپنے سے پہلے لوگوں کے پیچھے مت لگو جو ایک نبی کو اللہ بنا کر خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢٣] فلسفہ گمراہی ؟ یہ لوگ وہی یونانی فلاسفر ہیں جن کے افکار و نظریات سے متاثر ہو کر عیسائیوں کے علماء و مشائخ نے چوتھی صدی عیسوی میں تثلیث کا عقیدہ ایجاد کیا۔ پھر حکومت کی سرپرستی کی بنا پر اس عقیدہ کو فروغ حاصل ہوگیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فلاسفر قسم کے لوگ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بھی بنتے ہیں۔ مسلمانوں میں غلو کی مثالوں کے لیے (دیکھئے سورة فرقان کا حاشیہ نمبر ٢) اور سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : بال کی کھال اتارنے والے (فرقہ پرستی کی بنا پر) تباہ ہوئے۔ آپ نے یہ بات تین بار فرمائی۔ (مسلم۔ کتاب العلم۔ باب النہی عن اتباع متشابہ القرآن)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ ۔۔ : یہود و نصاریٰ کی الگ الگ تردید کے بعد اب دونوں کو مخاطب فرمایا ہے۔ (کبیر) نصاریٰ نے مسیح (علیہ السلام) کے معاملہ میں غلو کیا اور ایک بشر جسے اللہ تعالیٰ نے نبوت بخشی تھی اور اسے اپنی قدرت کاملہ کی نشانی قرار دیا تھا (دیکھیے زخرف : ٥٩۔ مومنون : (٥٠) اسے معبود کے مقام پر کھڑا کردیا۔ دوسری طرف یہودیوں نے انھیں جھوٹا قرار دیا، ان سے انتہائی توہین آمیز سلوک کیا، ان پر اور ان کی والدہ پر تہمت طرازی کی اور ان کے قتل کے درپے ہوئے، بلکہ بقول یہود و نصاریٰ یہود نے مسیح (علیہ السلام) کو سولی دے دی اور ان کی پسلیوں کو ریزہ ریزہ کر ڈالا۔ (کبیر، ابن کثیر) حقیقت یہ ہے کہ دین میں جو بھی خرابی آئی ہے وہ اسی غلو (راہ اعتدال کو چھوڑنے) کی وجہ سے آئی ہے، اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو بار بار نصیحت فرمائی : ” مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھانا جس طرح نصاریٰ نے مسیح ابن مریم ( علیہ السلام) کو حد سے بڑھا دیا تھا، میں تو صرف اس کا بندہ ہوں، اس لیے تم مجھے اس کا بندہ اور رسول ہی کہو۔ “ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب : ( واذکر فی الکتاب مریم ۔۔ ) : ٣٤٤٥ ] مگر مسلمانوں نے بھی اس قدر غلو کیا کہ اپنے ائمہ کو نبی کا درجہ دے کر ان کی بےدلیل بات پر عمل کو بھی واجب قرار دیا اور جو ایسا نہ کرے اسے لامذہب قرار دیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اللہ تعالیٰ والی صفات ہونے کا عقیدہ اپنا لیا کہ وہ بھی ہر بات سنتے اور جانتے ہیں اور کائنات میں ان کا حکم بھی چلتا ہے۔ بعض نے اللہ اور رسول کو ایک ہی ذات قرار دیا، اگر کوئی ان کی تردید کرے تو کہتے ہیں کہ یہ اولیاء کو، نبی کو اور اللہ تعالیٰ کو نہیں مانتے، حالانکہ ہم اللہ کو اپنا معبود اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنا رسول اور اولیاء کو اللہ کے مقرب بندے مانتے ہیں، مگر اولیاء کو نبی نہیں مانتے اور رسول کو اللہ تعالیٰ نہیں مانتے۔ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ ۔۔ : پہلے فرمایا : ( قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ ) (اس سے پہلے گمراہ ہوچکے) آخر میں پھر فرمایا : (وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ ) (اور وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے) گو یہ دونوں جملے بظاہر ایک ہی ہیں، مگر علماء نے لکھا ہے کہ اول سے مراد یہ ہے کہ وہ گمراہ ہوئے اور دوسرے ” ضلوا “ سے مراد یہ ہے کہ وہ اب تک اس گمراہی پر جمے ہوئے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلی گمراہی سے مراد عقیدہ کی گمراہی اور دوسری سے مراد عمل کی گمراہی ہو۔ یعنی اپنے سے پہلے لوگوں کے پیچھے مت چلو جنھوں نے کسی نبی (مثلاً عزیر یا عیسیٰ (علیہ السلام ) کو الٰہ بنایا، کسی نبی (مثلاً داؤد، مسیح، ان کی والدہ اور لوط ) پر زنا وغیرہ کی تہمتیں لگائیں اور کسی کو قتل کردیا، ان کاموں کے ساتھ وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا اور آخر وقت تک سیدھے راستے پر نہیں آئے۔ ” ان کے پیچھے مت چلو “ سے معلوم ہوا کہ یہ گمراہیاں ان میں پہلے لوگوں کی تقلید کی وجہ سے آئی تھیں، تم یہ کام مت کرنا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The Crookedness of Bani Isra&il : Yet Another Aspect It will be recalled that, in previous verses, mentioned there was the contumacy of Bani Isra&il along with their tyranny and injustice with reference to what they did to their benefactors, the prophets sent by Allah who had come to show them the way to succeed in this life and in the life to come. But, they mistreated them, by falsifying some and killing others: فَرِ‌يقًا كَذَّبُوا وَفَرِ‌يقًا يَقْتُلُونَ (70) The present verses expose another aspect of the crooked ways of Bani Isra&il. So astray were they that they, not content with one ex¬treme mentioned above, reached for another when they committed excess in showing reverence for messengers of Allah by making them nothing short of God: لَّقَدْ كَفَرَ‌ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ. It means that the section of people from the Bani Isra&il who said that Allah is exactly Je¬sus the son of Mary had become disbelievers. Mentioned this far is the saying of the Christians only. Elsewhere, the Jews too have been cen¬sured for the same kind of excess and error: قَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ‌ ابْنُ اللَّـهِ وَقَالَتِ النَّصَارَ‌ى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّـهِ (And the Jews said, |"Uzair (Ezra) is the son of Allah|" and the Christians said, |"Masih (the Christ) is the son of Allah.|" The word |"Ghuluww|" used at the beginning of verse 5:77 قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ (Say, |"0 people of the Book, be not excessive in your faith|" ) means to cross limits. |"Ghuluww|" or excess in religion refers to the crossing of limits drawn by religion in matters of belief and deed. For example, there is a limit to paying homage to prophets. The farthest one can go is to take them as the best among God&s creation. That is the limit. Going over and beyond this limit, calling those very proph¬ets God or son of God is excess in matters of belief. Bani Isra&il : Their Cycle of Excess and Deficiency The behaviour of the people of the Bani Isra&il towards prophets and messengers of Allah had been a mixture of opposites. They could become as neglectful and irreverent as to falsify or even kill them while it would be they themselves who would stretch the limits of their exaggerated reverence for them by calling them God or son of God. This syndrome of excess and deficiency in group behaviour is a sign of ingrained brutality. There is a well-known saying among Arabs: اَلجاھِلُ امَّا مفرِط اَو مُفَرِّطُ which means that an ignorant person never stays on modera¬tion. He would either go for اِفرَاط ` Ifrat& (excess) or for تَفریط ` Tafrit (deficiency). Ifrat means to cross the limit while Tafrit means to fall short in doing one&s duty. These actions on two extremes may have come from two different groups of the Bani Isra&il, or it is also possible that one single group acted in two different ways with different prophets whereby some were subjected to their falsification, even killing, while some oth¬ers were equated with God. Addressing the people of the Book in this verse, the guidance given to them and their generations to come right through the Last Day, has the status of a basic principle to be kept in sight while following a re¬ligion for the slightest deviation from it makes one be lost forever. Therefore, let us first explain a few basic things about it. The Method of Knowing and Reaching Allah The most significant truth of our life is that Allah جَلَّ شَانَہُ Jalla Sha&nuhu is the Creator and Master of all universes of existence and whatever they contain. He is One. To Him belongs all there is and for Him is to command. It is He alone man must obey. But man, the lump of clay come alive, is still wrapped up in layers and layers of materialism. How can he reach out to the One so pure and pristine? Or, how could he get an access to sources of His will and guidance? For this, Allah جَلَّ شَانَہُ Jalla Sha&nuhu has, in His grace, appointed two sources of knowledge through which man can get to know what is liked and disliked by Al¬lah Almighty and what it is that man must do and what is it that man must avoid. The first source is that of the Books of Allah which have the status of Law and Guidance for all human beings. Then, as the second source, there are those special and welcome servants of Allah whom Allah Almighty has chosen from among human beings, and He has sent them to people as the practical models of His likes and dis¬likes and the practical keys to His Books. In religious terminology, they are called |"Rasul|" (messenger) or ` Nabiy& (prophet). This is because a book, no matter how exhaustive, can never be sufficient for the complete grooming of man. The fact is that it takes a man to be the natural groomer and nurturer of another man. There-fore, it has been the practice of Allah that He has allowed two orders to flourish in the mission of reforming and training men in the art of living. These are: (a) The Book of Allah, and (b) The Men of Allah - in¬cluded wherein are the blessed prophets, then their deputies, the ` Ulama and the Mashaikh. About this order of ` Rijalullah& (men of Al¬lah), people have been victims of excess and deficiency since ancient times. Particularly, the different sects that mushroomed in religions were all products of this error of approach through which somewhere they were inflated beyond the required limit hitting the outer frontiers of the worship of such men. At other places, they were totally ignored and bypassed by saying: &For us, the Book of Allah is enough& (حَسبُنَا کِتاب اللہ), apparently a true declaration, but by misinterpreting it to negate the importance of prophets they made it as their motto. At one ex¬treme a Messenger of Allah, a Rasul - even Pirs and Faqirs - were taken to be the knowers of the unknown and seers of the unseen, as if they were (God forbid) the very possessors of God&s own attributes. People started with worshipping live Pirs and landed into the worship of their graves as well. Then, there was that other extreme when even a Rasul of Allah was given the status of what would be a mere courier or postman. Thus, the essential message of the verses under reference is that the offenders against the honour of prophets are no less in their disbe¬lief than are those who raise them far above the limits set for honour¬ing them and go about saying that they were equal to Allah. Verse 77 which says, |"do not be excessive in your faith,|" is a preface to this very subject. It makes it very clear that دین Din is, in reality, the name of a few limits and restrictions. The way it is a crime to remain deficient or negligent within those limits, so it is a crime to cross and exceed them. The way it is a grave sin to reject and insult the messengers of Allah and their deputies, in the same way, it is a much graver sin to take them to be the owners of Allah&s own attributes or their equal sharers with Him. Justified Intellectual Research is no Excess In verse 77, the word: (unjustly) appears along with the statement: (Do not be excessive in your faith). According to in¬vestigative scholars of Tafsir, this word has been used here for empha¬sis because an excess in religion is always unjust. The probability of its being just does not simply exist. ` Allamah al-Zamakhshari and oth¬ers have identified two kinds of Ghuluww or excess at this particular place: (1) The unjust and false which has been prohibited here; (2) The just and permissible, as an example of which, he has named deep in¬tellectual research - or as it has been the way of the scholastic theolo¬gians (Mutakallimin) of Islam in matters relating to articles of faith, or that of Muslim jurists in matters relating to juristic rulings. Accord¬ing to him, even this is, though, Ghuluww (excess) but, an excess which is just and permissible - while, the considered position of the majority of scholars is that it simply does not fall within the definition of Ghuluww (excess). Finally, we can say that deep insight and de-tailed investigation in questions relating to the Qur&an and Sunnah should remain within the limits as proved from the Holy Prophet HHHHH and from the Sahabah and Tabi` in - if so, that is not Ghuluww (excess). And what reaches the limits of Ghuluww is blameworthy here too. Bani Isra&i1 Asked to Follow the Path of Moderation Addressing the Bani Isra&il at the end of the verse (77), it was said: وَلَا تَتَّبِعُوا أَهْوَاءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا مِن قَبْلُ وَأَضَلُّوا كَثِيرً‌ا that is, they should not follow the de-sires and whims of a people who had themselves gone astray before them, and had made others go astray as well. The reason why they fell into that error was given immediately after by saying: وَضَلُّوا عَن سَوَاءِ السَّبِيلِ that is, these people, by moving away from the right path, had lost it. This straight path was the path of moderation between the two extremes of excess and deficiency. Thus, two things have been accom¬plished in this verse: It points out to the fatal error made by crossing over the norm, or lagging far behind it, and stresses upon the need to stay firm on the straight path, the ideal path of moderation.

خلاصہ تفسیر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان نصاریٰ سے) فرمائیے کہ اے اہل کتاب تم اپنے دین (کے معاملہ) میں ناحق کا غلو (اور افراط) مت کرو اور اس (افراط کے باب) میں ان لوگوں کے خیالات (یعنی بےسند باتوں) پر مت چلو جو (اس وقت سے) پہلے خود بھی غلطی میں پڑچکے ہیں اور (اپنے ساتھ) اور بہتوں کو (لے کر ڈوبے ہیں اور) غلطی میں ڈال چکے ہیں اور (وہ ان کی غلطی اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ حق مفقود ہوگیا ہو اس کا پتہ نہ لگتا ہو بلکہ) وہ لوگ راہ راست (کے ہوتے ہوئے قصداً اس) سے دور (اور علیحدہ) ہوگئے تھے (یعنی جب ان کی غلطی دلائل سے ثابت ہوگئی پھر ان کا اتباع کیوں نہیں چھوڑتے) بنی اسرائیل میں جو لوگ کافر تھے ان پر (اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت) لعنت کی گئی تھی (زبور اور انجیل میں جس کا ظہور حضرت) داود (علیہ السلام) اور (حضرت) عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی زبان سے (ہوا یعنی زبور اور انجیل میں کافروں پر لعنت لکھی تھی، جیسے قرآن مجید میں بھی ہے (آیت) فلعنة اللہ علیہ الکفرین، چونکہ یہ کتابیں حضرت داود اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر نازل ہوئیں، اس لئے یہ مضمون ان کی زبان سے ظاہر ہوا اور) یہ لعنت اس سبب سے ہوئی کہ انہوں نے حکم کی (اعتقادی) مخالفت کی (جو کہ کفر ہے) اور (اس مخالفت میں) حد سے (بہت دور) نکل گئے (یعنی کفر بھی شدید تھا، پھر شدید کے ساتھ مدید بھی تھا۔ یعنی اس پر استمرار رکھا، چنانچہ) جو برا کام (یعنی کفر) انہوں نے (اختیار) کر رکھا تھا اس سے (آئندہ کو) باز نہ آتے تھے (بلکہ اس پر مصر تھے، پس ان کے کفر شدید اور مدید کے سبب ان پر شدید لعنت ہوئی) واقعی ان کا (یہ) فعل (مذکور یعنی کفر پھر وہ بھی شدید اور مدید) بیشک برا تھا (کہ اس پر یہ سزا مرتب ہوئی) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان (یہود) میں بہت سے آدمی دیکھیں گے کہ (مشرک) کافروں سے دوستی کرتے ہیں (چنانچہ یہود مدینہ اور مشرکین مکہ میں مسلمانوں کی عداوت کے علاقہ سے جس کا منشاء اتحاد فی الکفر تھا باہم خوب سازگاری تھی) جو کام انہوں نے آگے (بھگتنے) کے لئے کیا ہے (یعنی کفر جو سبب تھا دوستی کفار اور عداوت مؤمنین کا) وہ بیشک برا ہے کہ (اس کے سبب) اللہ تعالیٰ ان پر (ہمیشہ کے لئے) ناخوش ہوا اور (اس ناخوشی دائمی کا ثمرہ یہ ہوگا کہ) یہ لوگ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے، اور اگر یہ (یہودی) لوگ اللہ پر ایمان رکھتے اور پیغمبر (یعنی موسیٰ علیہ السلام) پر (ایمان رکھتے جس کا ان کو دعویٰ ہے) اور اس کتاب پر (ایمان رکھتے) جو ان (پیغمبر) کے پاس بھیجی گئی تھی (یعنی تورات) تو ان (مشرکین) کو دوست نہ بناتے، لیکن ان میں زیادہ لوگ (دائرہ) ایمان سے خارج ہی ہیں (اس لئے کافروں کے ساتھ ان کا اتحاد اور دوستی ہوگئی) ۔ معارف و مسائل بنی اسرائیل کی کجروی کا ایک دوسرا پہلو (قولہ تعالیٰ ) قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ پچھلی آیات میں بنی اسرائیل کی سرکشی اور ان کے ظلم کو بیان کیا گیا تھا، کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول جو ان کے لئے حیات جاودانی کا پیغام اور ان کی دنیا و آخرت سنوارنے کا دستور العمل لے کر آئے تھے ان کی قدر ومنزلت پہچاننے اور تعظیم و تکریم کرنے کے بجائے انہوں نے ان کے ساتھ برا سلوک کیا کہ، (آیت) فریقا کذبوا وفریقا یقتلون، یعنی بعض انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلایا اور بعض کو قتل کر ڈالا۔ مذکورہ آیات سے انھیں بنی اسرائیل کی کجروی کا دوسرا رخ بتلایا گیا ہے کہ یہ جاہل یا تو سرکشی اور نافرمانی کے اس کنارے پر تھے کہ اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا، اور بعض کو قتل کر ڈالا، اور یا گمراہی اور کجروی کے اس کنارے پر پہنچ گئے کہ رسولوں کی تعظیم میں غلو کرکے ان کو خدا ہی بنادیا، (آیت) لقد کفر الذین قالو ان اللہ ھو المسیح ابن مریم۔ یعنی وہ بنی اسرائیل کافر ہوگئے، جنہوں نے کہا کہ اللہ تو عیسیٰ ابن مریم ہی کا نام ہے۔ یہاں تو یہ قول صرف نصاریٰ کا مذکور ہے۔ دوسری جگہ یہی غلو اور گمراہی یہود کی بھی بیان فرمائی گئی ہے : (آیت) وقالت الیھود عزیر ابن اللہ وقالت النصریٰ المسیح ابن اللہ، یعنی یہود نے تو یہ کہہ دیا کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ نے یہ کہہ دیا کہ عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں۔ غلو کے معنی حد سے نکل جانے کے ہیں۔ دین میں غلو کا مطلب یہ ہے کہ اعتقاد و عمل میں دین نے جو حدود مقرر کی ہیں ان سے آگے بڑھ جائیں مثلاً انبیاء کی تعظیم کی حد یہ ہے کہ ان کو خلق خدا میں سب سے افضل جانے۔ اس حد سے آگے بڑھ کر انہی کو خدا یا خدا کا بیٹا کہہ دینا اعتقادی غلو ہے۔ بنی اسرائیل کی افراط و تفریط انبیاء اور رسل کے معاملہ میں بنی اسرائیل کے یہ دو متضاد عمل کہ یا تو ان کو جھوٹا کہیں اور قتل تک سے دریغ نہ کریں، اور یا یہ زیادتی کہ ان کو خود ہی خدا یا خدا کا بیٹا قرار دیدیں، یہ وہی افراط وتفریط ہے جو جہالت کے لوازم سے ہے، عرب کا مشہور مقولہ الجاہل اما مفرط اومفرط یعنی جاہل آدمی کبھی اعتدال اور میانہ روی پر نہیں رہتا، بلکہ یا افراط میں مبتلا ہوتا ہے یا تفریط میں۔ افراط کے معنی حد سے آگے بڑھنے کے ہیں اور تفریط کے معنی ہیں فرض کی ادائیگی میں کوتاہی اور کمی کرنے کے اور یہ افراط وتفریط یہ بھی ممکن ہے کہ بنی اسرائیل کی دو مختلف جماعتوں کی طرف سے عمل میں آئی ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک ہی جماعت کے یہ دو مختلف عمل مختلف انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ہوئے ہوں کہ بعض کی تکذیب و قتل تک نوبت پہنچ جائے اور بعض کو خدا کے برابر بنادیا جائے۔ ان آیات میں اہل کتاب کو مخاطب کر کے جو ہدایت ان کو اور قیامت تک آنے والی نسلوں کو دی گئی ہیں وہ دین و مذہب اور اس کی پیروی میں ایک بنیادی اصول کی حیثیت رکھتی ہیں کہ اس سے ذرا ادھر ادھر ہونا انسان کو گمراہیوں کے غار میں دھکیل دیتا ہے اس لئے اس کی تشریح سمجھ لیجئے۔ اللہ جل شانہ تک رسائی کا طریقہ حقیقت یہ ہے کہ سارے جہان اور اس کی موجودات کا خالق ومالک صرف ایک اللہ جل شانہ ہے۔ اسی کا ملک ہے اور اسی کا حکم ہے، اسی کی اطاعت ہر انسان پر لازم ہے۔ لیکن بیچارہ خاکی نژاد انسان اپنی مادی ظلمتوں اور پستیوں میں گھرا ہوا ہے۔ اس کی ساری رسائی اس ذات قدوس تک یا اس کے احکام و ہدایات معلوم کرنے تک کس طرح ہو، اللہ جل شانہ نے اپنے فضل سے اس کے لئے دو واسطے مقرر کردیئے جن کے ذریعے انسان کو حق تعالیٰ کی پسند و ناپسند اور مامورات و منہیات کا علم ہو سکے، ایک اپنی کتابیں جو انسان کے لئے قانون اور ہدایت نامہ کی حیثیت رکھتی ہیں، دوسرے اپنے ایسے مخصوص و مقبول بندے جن کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں سے چن لیا ہے اور ان کو اپنی پسند و ناپسند کا عمل نمونہ اور اپنی کتاب کی عملی شرح بنا کر بھیجا ہے، جن کو دینی اصطلاح میں رسول یا نبی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ تجربہ شاہد ہے کہ کوئی کتاب خواہ کتنی ہی جامع اور مفصل کیوں نہ ہو کسی انسان کی اصلاح و تربیت کے لئے کافی نہیں ہوتی، بلکہ فطری طور پر انسان کا مربی و مصلح صرف انسان ہی ہوسکتا ہے۔ اس لئے حق تعالیٰ نے انسان کی اصلاح و تربیت کے لئے دو سلسلے رکھے، ایک کتاب اللہ اور دوسرے رجال اللہ، جن میں انبیاء (علیہم السلام) اور پھر ان کے نائبین علماء و مشائخ سب داخل ہیں۔ رجال اللہ کے اس سلسلہ کے متعلق زمانہ قدیم سے دنیا افراط وتفریط کی غلطیوں میں مبتلا رہی ہے اور مذاہب میں جتنے مختلف فرقے پیدا ہوئے وہ سب اسی ایک غلطی کی پیداوار ہیں کہ کہیں ان کو حد سے بڑھا کر رجال پرستی تک نوبت پہنچا دی گئی اور کہیں ان سے بالکل قطع نظر کرکے حسبنا کتاب اللّٰہ کو غلط معنٰے پہنا کر اپنا شعار بنا لیا گیا۔ ایک طرف رسول کو بلکہ پیروں کو بھی عالم الغیب اور خاص خدائی صفات کا مالک سمجھ لیا گیا اور پیر پرستی بلکہ قبر پرستی تک پہنچ گئے۔ دوسری طرف اللہ کے رسول کو بھی محض ایک قاصد اور چٹھی رساں کی حیثیت دے دیگئی۔ آیات متذکرہ میں رسولوں کی توہین کرنے والوں کو بھی کافر قرار دیا گیا۔ اور ان کو حد سے بڑھا کر خدا تعالیٰ کے برابر کہنے والوں کو بھی کافر قرار دیا گیا۔ آیت لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ اسی مضمون کی تمہید ہے، جس نے واضح کردیا کہ دین اصل میں چند حدود وقیود ہی کا نام ہے۔ اس حدود کے اندر کوتاہی کرنا اور کمی کرنا جس طرح حرام ہے اسی طرح ان سے آگے بڑھنا اور زیادتی کرنا بھی جرم ہے، جس طرح رسولوں اور ان کے نائبوں کی بات نہ ماننا ان کی توہین کرنا گناہ عظیم ہے اسی طرح ان کو اللہ تعالیٰ کی صفات مخصوصہ کا مالک یا مساوی سمجھنا اس سے زیادہ گناہ عظیم ہے۔ علمی تحقیق و تدقیق غلو نہیں آیت مذکورہ میں لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ کے ساتھ لفظ غیر الحق لایا گیا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ ناحق کا غلو مت کرو، یہ لفظ محققین اہل تفسیر کے نزدیک تاکید کیلئے استعمال ہوا ہے، کیونکہ غلو فی الدین ہمیشہ ناحق ہوتا ہے۔ اس میں حق ہونے کا احتمال ہی نہیں اور علامہ زمحشری وغیرہ نے اس جگہ غلو کی دو قسمیں قرار دی ہیں، ایک ناحق اور باطل جس کی ممانعت اس جگہ کی گئی ہے۔ دوسرے حق اور جائز جس کی مثال ہیں انہوں نے علمی تحقیق و تدفیق کو پیش کیا ہے۔ جیسا کہ عقائد کے مسائل میں حضرات متکلمین کا اور فقی مسائل میں فقہاء رحمہم اللہ کا طریقہ رہا ہے، ان کے نزدیک یہ بھی اگرچہ غلو ہے۔ مگر غلو حق اور جائز ہے، اور جمہور کی تحقیق یہ ہے کہ یہ غلو کی تعریف میں داخل ہی نہیں، قرآن و سنت کے مسائل میں گہری نظر اور موشگافی جس حد تک رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ وتابعین سے ثابت ہے وہ غلو نہیں اور جو غلو کی حد تک پہنچے وہ اس میں بھی مذموم ہے۔ بنی اسرائیل کو معتدل راہ کی ہدایت مذکورہ آیت کے آخر میں موجود وہ بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا : وَلَا تَتَّبِعُوْٓا اَهْوَاۗءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَاَضَلُّوْا كَثِيْرًا وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ ۔ یعنی اس قوم کے خیالات کا اتباع نہ کرو جو تم سے پہلے خود بھی گمراہ ہوچکے تھے۔ اور دوسروں کو بھی انہوں نے گمراہ کر رکھا ہے، اس کے بعد ان کی گمراہی کی حقیقت اور وجہ کو ان الفاظ سے بیان فرمایا وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ یعنی یہ لوگ صراط مستقیم سے ہٹ گئے تھے جو افراط وتفریط کے درمیان معتدل راہ تھی۔ اسی طرح اس آیت میں غلو اور افراط وتفریط کی مہلک غلطی کا بیان بھی آگیا۔ اور درمیانی راہ صراط مستقیم پر قائم رہنے کا بھی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ يٰٓاَہْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوْٓا اَہْوَاۗءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَاَضَلُّوْا كَثِيْرًا وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ۝ ٧٧ۧ غلا الغُلُوُّ : تجاوز الحدّ ، يقال ذلک إذا کان في السّعر غَلَاءٌ ، وإذا کان في القدر والمنزلة غُلُوٌّ وفي السّهم : غَلْوٌ ، وأفعالها جمیعا : غَلَا يَغْلُو قال تعالی: لا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ [ النساء/ 171] . وَالغَلْيُ والغَلَيَانُ يقال في القدر إذا طفحت، ومنه استعیر قوله : طَعامُ الْأَثِيمِ كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ كَغَلْيِ الْحَمِيمِ [ الدخان/ 44- 46] ، وبه شبّه غلیان الغضب والحرب، وتَغَالَى النّبت يصحّ أن يكون من الغلي، وأن يكون من الغلوّ. والغَلْوَاءُ : تجاوز الحدّ في الجماح، وبه شبّه غَلْوَاءُ الشّباب . ( غ ل و) الغلو کے معنی کسی چیز کے حد سے تجاوز کرنے کے ہیں اگر یہ ( حد سے تجاوز) اشیاء کے رخ میں ہو تو اسے علاء ( گرانی ) کہاجاتا ہے اور قدرومنزلت میں ہو تو اسے غلو کہتے ہیں اور اگر تیر اپنی حدود سے تجاوز کرجائے تو غلو مگر ان ہر سہ اشیاء کے متعلق فعل غلا یغلو ( ن) ہی استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : لا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ [ النساء/ 171] اپنے دین میں حد سے نہ بڑھو ۔ اور ہانڈی کے ابال اور جو ش کھانے کو غلی و غلیان ( باب ضرب ) کہتے ہیں ۔ اسی سے بطور استعارہ ارشاد ہے ۔ طَعامُ الْأَثِيمِ كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ كَغَلْيِ الْحَمِيمِ [ الدخان/ 44- 46] گنہگار کا کھانا ہے جیسے پگھلا ہوا تانبا پیٹوں میں اس طرح کھولے گا جس طرح گرم پانی کھولتا ہے ۔ اور تشتبیہ کے طور پر غصہ اور لڑائی کے بھڑک اٹھنے کو بھی غلیان کہہ دیتے ہیں تغالی النبت گھاس کا زیادہ ہونا اور بڑھ جانا ) غلی اور غلم یعنی وادی اور یائی دونوں سے آتا ہے اور غلواء کے معنی خودسری میں حد سے تجاوز کرنے کے ہیں اور اسی سے بطور تشبیہ جو ش جوانی کو غلواء الشباب کہاجاتا ہے ۔ دين والدِّينُ يقال للطاعة والجزاء، واستعیر للشریعة، والدِّينُ کالملّة، لكنّه يقال اعتبارا بالطاعة والانقیاد للشریعة، قال إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] ( د ی ن ) دين الدین کے معنی طاعت اور جزا کے کے آتے ہیں اور دین ملت کی طرح ہے لیکن شریعت کی طاعت اور فرمانبردار ی کے لحاظ سے اسے دین کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے هوى الْهَوَى: ميل النفس إلى الشهوة . ويقال ذلک للنّفس المائلة إلى الشّهوة، وقیل : سمّي بذلک لأنّه يَهْوِي بصاحبه في الدّنيا إلى كلّ داهية، وفي الآخرة إلى الهَاوِيَةِ ، وَالْهُوِيُّ : سقوط من علو إلى سفل، وقوله عزّ وجلّ : فَأُمُّهُ هاوِيَةٌ [ القارعة/ 9] قيل : هو مثل قولهم : هَوَتْ أمّه أي : ثکلت . وقیل : معناه مقرّه النار، والْهَاوِيَةُ : هي النار، وقیل : وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] أي : خالية کقوله : وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] وقد عظّم اللہ تعالیٰ ذمّ اتّباع الهوى، فقال تعالی: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلهَهُ هَواهُ [ الجاثية/ 23] ، وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى[ ص/ 26] ، وَاتَّبَعَ هَواهُ [ الأعراف/ 176] وقوله : وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْواءَهُمْ [ البقرة/ 120] فإنما قاله بلفظ الجمع تنبيها علی أنّ لكلّ واحد هوى غير هوى الآخر، ثم هوى كلّ واحد لا يتناهى، فإذا اتّباع أهوائهم نهاية الضّلال والحیرة، وقال عزّ وجلّ : وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] ، كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّياطِينُ [ الأنعام/ 71] أي : حملته علی اتّباع الهوى. ( ھ و ی ) الھوی ( س ) اس کے معنی خواہشات نفسانی کی طرف مائل ہونے کے ہیں اور جو نفساتی خواہشات میں مبتلا ہو اسے بھی ھوی کہدیتے ہیں کیونکہ خواہشات نفسانی انسان کو اس کے شرف ومنزلت سے گرا کر مصائب میں مبتلا کردیتی ہیں اور آخر ت میں اسے ھاویۃ دوزخ میں لے جاکر ڈال دیں گی ۔ الھوی ( ض ) کے معنی اوپر سے نیچے گر نے کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ فَأُمُّهُ هاوِيَةٌ [ القارعة/ 9] اسکا مرجع ہاویہ ہے : ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ ھوت انہ کیطرف ایک محاورہ ہے اور بعض کے نزدیک دوزخ کے ایک طبقے کا نام ہے اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ اسکا ٹھکانا جہنم ہے اور بعض نے آیت وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] اور ان کے دل مارے خوف کے ( ہوا ہو رہے ہوں گے ۔ میں ھواء کے معنی خالی یعنی بےقرار کئے ہیں جیسے دوسری جگہ فرمایا : ۔ وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] موسیٰ کی ماں کا دل بےقرار ہوگیا ۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خواہشات انسانی کی اتباع کی سخت مذمت کی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلهَهُ هَواهُ [ الجاثية/ 23] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے ولا تَتَّبِعِ الْهَوى[ ص/ 26] اور خواہش کی پیروی نہ کرنا ۔ وَاتَّبَعَ هَواهُ [ الأعراف/ 176] اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے ۔ اور آیت : ۔ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْواءَهُمْ [ البقرة/ 120] اگر تم ان کی خواہشوں پر چلو گے ۔ میں اھواء جمع لاکر بات پت تنبیہ کی ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی خواہش دوسرے سے مختلف اور جدا ہے اور ایہ ایک کی خواہش غیر متنا ہی ہونے میں اھواء کا حکم رکھتی ہے لہذا ایسی خواہشات کی پیروی کرنا سراسر ضلالت اور اپنے آپ کو درطہ حیرت میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔ نیز فرمایا : ۔ وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] اور نادانوں کی خواہش کے پیچھے نہ چلنا ۔ وَلا تَتَّبِعُوا أَهْواءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا [ المائدة/ 77] اور اس قوم کی خواہشوں پر مت چلو ( جو تم سے پہلے ) گمراہ ہوچکے ہیں ۔ قُلْ لا أَتَّبِعُ أَهْواءَكُمْ قَدْ ضَلَلْتُ [ الأنعام/ 56] ( ان لوگوں سے ) کہدو کہ میں تمہاری خواہشوں پر نہیں چلتا ۔ ایسا کروں میں گمراہ ہوچکا ہوں گا ۔ وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَهُمْ وَقُلْ آمَنْتُ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ [ الشوری/ 15] اور ان ( یہود ونصاریٰ کی کو اہشوں پر مت چلو اور ان سے صاف کہدو کہ میرا تو اس پر ایمان ہے ۔ جو خدا نے اتارا ۔ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ وہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے ۔ الھوی ( بفتح الہا ) کے معنی پستی کی طرف اترنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل ھوی ( بھم الہا ) کے معنی بلندی پر چڑھنے کے ہیں ۔ شاعر نے کہا ہے ( الکامل ) ( 457 ) یھوی مکار مھا ھوی الاجمال اس کی تنگ گھائیوں میں صفرہ کیطرح تیز چاہتا ہے ۔ الھواء آسمان و زمین فضا کو کہتے ہیں اور بعض نے آیت : ۔ وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] اور ان کے دل مارے خوف کے ہوا ہور رہے ہوں گے ۔ کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے یعنی بےقرار ہوتے ہیں ھواء کی طرح ہوں گے ۔ تھا ویٰ ( تفاعل ) کے معنی ایک دوسرے کے پیچھے مھروۃ یعنی گڑھے میں گرنے کے ہیں ۔ اھواء اسے فضا میں لے جا کر پیچھے دے مارا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوى [ النجم/ 53] اور اسی نے الٹی بستیوں کو دے پئکا ۔ استھوٰی کے معنی عقل کو لے اڑنے اور پھسلا دینے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّياطِينُ [ الأنعام/ 71] جیسے کسی کی شیاطین ( جنات ) نے ۔۔۔۔۔۔۔ بھلا دیا ہو ۔ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ويقال الضَّلَالُ لكلّ عدولٍ عن المنهج، عمدا کان أو سهوا، يسيرا کان أو كثيرا، فإنّ الطّريق المستقیم الذي هو المرتضی صعب جدا، قال النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : «استقیموا ولن تُحْصُوا» ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ اور ضلال کا لفظ ہر قسم کی گمراہی پر بولا جاتا ہے یعنی وہ گمراہی قصدا یا سہوا معمول ہو یا زیادہ کیونکہ طریق مستقیم ۔ جو پسندیدہ راہ ہے ۔۔ پر چلنا نہایت دشوار امر ہے ۔ جیسا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(11) استقیموا ولن تحصوا کہ استقامت اختیار کرو اور تم پورے طور پر اس کی نگہداشت نہیں کرسکوگے ۔ ( ضل)إِضْلَالُ والإِضْلَالُ ضربان : أحدهما : أن يكون سببه الضَّلَالُ ، وذلک علی وجهين : إمّا بأن يَضِلَّ عنک الشیءُ کقولک : أَضْلَلْتُ البعیرَ ، أي : ضَلَّ عنّي، وإمّا أن تحکم بِضَلَالِهِ ، والضَّلَالُ في هذين سبب الإِضْلَالِ. والضّرب الثاني : أن يكون الإِضْلَالُ سببا لِلضَّلَالِ ، وهو أن يزيّن للإنسان الباطل ليضلّ کقوله : لَهَمَّتْ طائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَما يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ [ النساء/ 113] ، أي يتحرّون أفعالا يقصدون بها أن تَضِلَّ ، فلا يحصل من فعلهم ذلك إلّا ما فيه ضَلَالُ أنفسِهِم، وقال عن الشیطان : وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] ، وقال في الشّيطان : وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيراً [يس/ 62] ، وَيُرِيدُ الشَّيْطانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالًا بَعِيداً [ النساء/ 60] ، وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [ ص/ 26] ، وإِضْلَالُ اللهِ تعالیٰ للإنسان علی أحد وجهين : أحدهما أن يكون سببُهُ الضَّلَالَ ، وهو أن يَضِلَّ الإنسانُ فيحكم اللہ عليه بذلک في الدّنيا، ويعدل به عن طریق الجنّة إلى النار في الآخرة، وذلک إِضْلَالٌ هو حقٌّ وعدلٌ ، فالحکم علی الضَّالِّ بضَلَالِهِ والعدول به عن طریق الجنّة إلى النار عدل وحقّ. والثاني من إِضْلَالِ اللهِ : هو أنّ اللہ تعالیٰ وضع جبلّة الإنسان علی هيئة إذا راعی طریقا، محمودا کان أو مذموما، ألفه واستطابه ولزمه، وتعذّر صرفه وانصرافه عنه، ويصير ذلک کالطّبع الذي يأبى علی الناقل، ولذلک قيل : العادة طبع ثان «2» . وهذه القوّة في الإنسان فعل إلهيّ ، وإذا کان کذلک۔ وقد ذکر في غير هذا الموضع أنّ كلّ شيء يكون سببا في وقوع فعل۔ صحّ نسبة ذلک الفعل إليه، فصحّ أن ينسب ضلال العبد إلى اللہ من هذا الوجه، فيقال : أَضَلَّهُ اللهُ لا علی الوجه الذي يتصوّره الجهلة، ولما قلناه جعل الإِضْلَالَ المنسوب إلى نفسه للکافر والفاسق دون المؤمن، بل نفی عن نفسه إِضْلَالَ المؤمنِ فقال : وَما کانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ إِذْ هَداهُمْ [ التوبة/ 115] ، فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ [ محمد/ 4- 5] ، وقال في الکافروالفاسق : فَتَعْساً لَهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمالَهُمْ [ محمد/ 8] ، وما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفاسِقِينَ [ البقرة/ 26] ، كَذلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكافِرِينَ [ غافر/ 74] ، وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ [إبراهيم/ 27] ، وعلی هذا النّحو تقلیب الأفئدة في قوله : وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ [ الأنعام/ 110] ، والختم علی القلب في قوله : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وزیادة المرض في قوله : فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً [ البقرة/ 10] . الاضلال ( یعنی دوسرے کو گمراہ کرنے ) کی دوصورتیں ہوسکتی ہیں ۔ ایک یہ کہ اس کا سبب خود اپنی ضلالت ہو یہ دو قسم پر ہے ۔ (1) ایک یہ کہ کوئی چیز ضائع ہوجائے مثلا کہاجاتا ہے اضللت البعیر ۔ میرا اونٹ کھو گیا ۔ (2) دوم کہ دوسرے پر ضلالت کا حکم لگانا ان دونوں صورتوں میں اضلال کا سبب ضلالۃ ہی ہوتی ہے ۔ دوسری صورت اضلال کا سبب ضلالۃ ہی ہوتی ہے ۔ دوسری صورت اضلال کی پہلی کے برعکس ہے یعنی اضلال بذاتہ ضلالۃ کا سبب بنے اسی طرح پر کہ کسی انسان کو گمراہ کرنے کے لئے باطل اس کے سامنے پر فریب اور جاذب انداز میں پیش کیا جائے جیسے فرمایا : لَهَمَّتْ طائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَما يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ [ النساء/ 113] ، ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کرچکی تھی اور یہ اپنے سوا کسی کو بہکا نہیں سکتے۔ یعنی وہ اپنے اعمال سے تجھے گمراہ کرنے کی کوشش میں ہیں مگر وہ اپنے اس کردار سے خود ہی گمراہ ہو رہے ہیں ۔ اور شیطان کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا : وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] اور ان کو گمراہ کرتا اور امیدیں دلاتا رہوں گا ۔ اور شیطان کے بارے میں فرمایا : ۔ وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيراً [يس/ 62] اور اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کردیا تھا ۔ وَيُرِيدُ الشَّيْطانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالًا بَعِيداً [ النساء/ 60] اور شیطان تو چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر رستے سے دور ڈال دے ۔ وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [ ص/ 26] اور خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں خدا کے رستے سے بھٹکادے گی ۔ اللہ تعالیٰ کے انسان کو گمراہ کرنے کی دو صورتیں ہی ہوسکتی ہیں ( 1 ) ایک یہ کہ اس کا سبب انسان کی خود اپنی ضلالت ہو اس صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف اضلال کی نسبت کے یہ معنی ہوں گے کہ جب انسان از خود گمرہ ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں اس پر گمراہی کا حکم ثبت ہوجاتا ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آخرت کے دن اسے جنت کے راستہ سے ہٹا کر دوزخ کے راستہ پر ڈال دیا جائے گا ۔ ( 2 ) اور اللہ تعالٰ کی طرف اضلال کی نسببت کے دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ باری تعالیٰ نے انسان کی جبلت ہی کچھ اس قسم کی بنائی ہے کہ جب انسان کسی اچھے یا برے راستہ کو اختیار کرلیتا ہے تو اس سے مانوس ہوجاتا ہے اور اسے اچھا سمجھنے لگتا ہے اور آخر کا اس پر اتنی مضبوطی سے جم جاتا ہے کہ اس راہ سے ہٹا نایا اس کا خود اسے چھوڑ دینا دشوار ہوجاتا ہے اور وہ اعمال اس کی طبیعت ثانیہ بن جاتے ہیں اسی اعتبار سے کہا گیا ہے کہ عادت طبعہ ثانیہ ہے ۔ پھر جب انسان کی اس قسم کی فطرت اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہے اور دوسرے مقام پر ہم بیان کرچکے ہیں کہ فعل کی نسبت اس کے سبب کی طرف بھی ہوسکتی ہے لہذا اضلال کی نسبت اللہ تعالیٰ کیطرف بھی ہوسکتی ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے گمراہکر دیا ور نہ باری تعالیٰ کے گمراہ کر نیکے وہ معنی نہیں ہیں جو عوام جہلاء سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اللہ تعالیٰ کی طرف گمراہ کرنے کینسبت اسی جگہ کی ہے جہاں کافر اور فاسق لوگ مراد ہیں نہ کہ مومن بلکہ حق تعالیٰ نے مومنین کو گمراہ کرنے کی اپنی ذات سے نفی فرمائی ہے چناچہ ارشاد ہے ۔ وَما کانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ إِذْ هَداهُمْ [ التوبة/ 115] اور خدا ایسا نہیں ہے کہ کسی قومکو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کردے ۔ فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ [ محمد/ 4- 5] ان کے عملوں کر ہر گز ضائع نہ کریگا بلکہ ان کو سیدھے رستے پر چلائے گا ۔ اور کافر اور فاسق لوگوں کے متعلق فرمایا : فَتَعْساً لَهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمالَهُمْ [ محمد/ 8] ان کے لئے ہلاکت ہے اور وہ ان کے اعمال کو برباد کردیگا : وما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفاسِقِينَ [ البقرة/ 26] اور گمراہ بھی کرتا ہے تو نافرمانوں ہی کو ۔ كَذلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكافِرِينَ [ غافر/ 74] اسی طرح خدا کافررں کو گمراہ کرتا ہے ۔ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ [إبراهيم/ 27] اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کردیتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ [ الأنعام/ 110] اور ہم ان کے دلوں کو الٹ دیں گے ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے انکے دلوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً [ البقرة/ 10] ان کے دلوں میں ( کفر کا ) مرض تھا خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کردیا ۔ میں دلوں کے پھیر دینے اور ان پر مہر لگا دینے اور ان کی مرض میں اضافہ کردینے سے بھی یہی معنی مراد ہیں ۔ سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٧) نصاری اہل نجران دین میں ناحق غلو مت کرو اور ایسی قوم کے دین اور ان کی باتوں پر مت چلو جو خود تم سے پہلے ہدایت سے بےراہ ہیں اور وہ قوم کے سردار اور رؤساء ہیں جنہوں نے بہت سے لوگوں کو بےراہ کردیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٧ (قُلْ یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ غَیْرَ الْحَقِّ ) یہ تم نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو محبت اور عقیدت کی وجہ سے جو کچھ بنا دیا ہے ‘ وہ سراسر مبالغہ ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں بھی مبالغہ آرائی اگر لوگ کرتے ہیں تو محبت کی وجہ سے کرتے ہیں ‘ عشق رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام پر کرتے ہیں ‘ عقیدت کے غلو کی وجہ سے کرتے ہیں۔ تو غلو (مبالغہ) درحقیقت انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ چناچہ اس سے منع کیا جا رہا ہے۔ َ (وَلاَ تَتَّبِعُوْٓا اَہْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ ) جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے ‘ یہ تثلیث مصر میں زمانۂ قدیم سے موجود تھی ‘ اسی کو انہوں نے اختیار کیا

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

101. This refers to those misguided nations from whom the Christians derived their false beliefs and ways, particularly to the Hellenistic philosophers under the spell of whose ideas the Christians had veered from the straight way they had originally followed. The beliefs of the early followers of the Messiah were mainly in conformity with the reality they had witnessed, and conformed to the teachings they had received from their guide and mentor. But they later resorted to an exaggerated veneration of Jesus, and interpreted their own beliefs in the light of the philosophical doctrines and superstitious ideas of the neighbouring nations. Thus they invented an altogether new religion not even remotely related to the original teachings of the Messiah. In this connection the observations of a Christian theologian, the Reverend Charles Anderson Scott are significant. In a lengthy article entitled 'Jesus' Christ', published in the fourteenth edition of Encyclopaedia Britannica, he writes: . . . there is nothing in these three Gospels to suggest that their writers thought of Jesus as other than human, a human being specially endowed with the Spirit of God and standing in an unbroken relation to God which justified His being spoken of as the 'Son of God'. Even Matthew refers to Him as the carpenter's son and records that after Peter had acknowleged Him as Messiah he 'took Him aside and began to rebuke Him' (Matthew, xvi. 22). And in Luke the two disciples on the way to Emmaus can still speak of Him as 'a prophet mighty in deed and word before God and all the people' (Luke, xxiv. 19). It is very singular that in spite of the fact that before Mark was composed 'the Lord' had become the description of Jesus common among Christians, He is never so described in the second Gospel (nor yet in the first, though the word is freely used to refer to God). All three relate the Passion of Jesus with a fullness and emphasis of its great significance; but except the 'ransom' passage (Mark, x. 45) and certain words at the Last Supper there is no indication of the meaning which was afterwards attached to it. It is not even suggested that the death of Jesus had any relation to sin or forgiveness. A little further on he writes: That He ranked Himself as a prophet appears from a few passages such as 'It cannot be that a prophet perish out of Jerusalem'. He frequently referred to Himself as the Son of Man; but while this must be maintained in face of influential opinions to the contrary, the result for our purpose is less important than we might expect, for the possible meanings of the phrase are as numerous as the sources from which it may possibly have been derived. They range from simple 'man' through 'man in his human weakness' and the representative 'Man' to the supernatural man from heaven foreshadowed in Daniel. If we had to postulate one source and one meaning for the phrase as used by Jesus of Himself, it would probably be found in Psalm Ixxx., where the poignant appeal to God for the redemption of Israel runs out on the hope of a 'son of man whom thou madest strong for thyself. The same author adds: Certain words of Peter spoken at the time of Pentecost, 'A man approved of God', described Jesus as He was known and regarded by His contemporaries. He was 'found in fashion as a man', that is, in all particulars which presented themselves to outward observation He Appeared and behaved as one of the human race. He 'was made man'. The Gospels leave no room for doubt as to the completeness with which these statements are to be accepted. From them we learn that Jesus passed through the natural stages of development, physical and mental, that He hungered, thirsted, was weary and slept, that He could be surprised and require information, that He suffered pain and died. He not only made no claim to omniscience, He distinctly waived it. This is not to deny that He had insight such as no other ever had, into human nature, into the hearts of men and the purposes and methods of God. But there is no reason to suppose that He thought of the earth as other than the centre of the solar system, of any other than David as the author of the Psalms, or did not share the belief of His age that demons were the cause of disease. Indeed, any claim to omniscience would be not only inconsistent with the whole impression created by the Gospels, it could not be reconciled with the cardinal experiences of the Temptation, of Gethsemane and of Calvary. Unless such experiences were to be utterly unreal, Jesus must have entered into them and passed through them under the ordinary limitations of human knowledge, subject only to such modifications of human knowledge as might be due to prophetic insight or the sure vision of God. There is still less reason to predicate omnipotence of Jesus. There is no indication that He ever acted independently of God, or as an independent God. Rather does He acknowledge dependence upon God, by His habit of prayer and in such words as 'this kind goeth not forth save by prayer'. He even repudiates the ascription to Himself of goodness in the absolute sense in which it belongs to God alone. It is a remarkable testimony to the truly historical character of these Gospels that though they were not finally set down until the Christian Church had begun to look up to the risen Christ as to a Divine Being, the records on the one hand preserve all the evidence of His true humanity and on the other nowhere suggest that He thought of Himself as God. The same author also observes that: He proclaimed that at and through the Resurrection Jesus had been publicly installed as Son of God with power; and if the phrase has not wholly lost its official Messianic connotation, it certainly includes a reference to the personal Sonship, which Paul elsewhere makes clear by speaking of Him as God's 'own Son' . . . It may not be possible to decide whether it was the primitive community or Paul himself who first put full religious content into the title 'Lord' as used of Christ. Probably it was the former. But the Apostle undoubtedly adopted the title in its full meaning, and did much to make that meaning clear by transferring to 'the Lord Jesus Christ' many of the ideas and phrases which in the Old Testament had been specifically assigned to the Lord Jehovah. God 'gave unto Him that name that is above every name - the name of "Lord"'. At the same time by equating Christ with the Wisdom of God and with the Glory of God, as well as ascribing to Him Sonship in an absolute sense, Paul claimed for Jesus Christ a relation to God which was inherent and unique, ethical and personal, eternal. While, however, Paul in many ways and in many aspects, equated Christ with God, he definitely stopped short of speaking of him as 'God'. In another article in Encyclopaedia Britannica (xiv edition), under the title 'Christianity', the Reverend George William Knox writes as follows about the fundamental beliefs of the Church: Its moulds of thought are those of Greek philosophy, and into these were run the Jewish teachings. We have thus a peculiar combination - the religious doctrines of the Bible, as culminating in the person of Jesus, run through the forms of an alien philosophy. The Doctrine of the Trinity. The Jewish sources furnished the terms Father, Son and Spirit. Jesus seldom employed the last term and Paul's use of it is not altogether clear. Already in Jewish literature it had been all but personified (Cf. the Wisdom of Solomon). Thus the material is Jewish, though already doubtless modified by Greek influence: but the problem is Greek; it is not primarily ethical nor even religious, but it is metaphysical. What is the ontological relationship between these three factors? The answer of the Church is given in the Nicene formula, which is characteristically Greek, . . . Also significant in this connection are the following passages of another article in Encyclopaedia Britannica (xiv edition), entitled 'Church History': The recognition of Christ as the incarnation of the Logos was practically universal before the close of the 3rd century, but His deity was still widely denied, and the Arian controversy which distracted the Church of the 4th century concerned the latter question. At the Council of Nicaea in 325 the deity of Christ received official sanction and was given formulation in the original Nicene Creed. Controversy continued for some time, but finally the Nicene decision was recognised both in East and West as the only orthodox faith. The deity of the Son was believed to carry with it that of the Spirit, who was associated with Father and Son in the baptismal formula and in the current symbols, and so the victory of the Nicene Christology meant the recognition of the doctrine of Trinity as part of the orthodox faith. The assertion of the deity of the Son incarnate in Christ raised another problem which constituted the subject of dispute in the Christological controversies of the 4th and following centuries. What is the relation of the divine and human natures in Christ? At the Council of Chalcedon in 451 it was declared that in the person of Christ are united two complete natures, divine and human, which retain after the union all their properties unchanged. This was supplemented at the 3rd Council of Constantinople in 680 by the statement that each of the natures contains a will, so that Christ possesses two wills. The Western Church accepted the decisions of Nicaea, Chalcedon and Constantinople, and so the doctrines of the Trinity and of the two natures in Christ were handed down as orthodox dogma in West as well as East. Meanwhile in the Western Church the subject of sin and grace, and the relation of divine and human activity in salvation, received special attention; and finally, at the 2nd Council of Orange in 529, after both Pelagianism and semi-Pelagianism had been epudiated, a moderate form of Augustinianism was adopted, involving the theory that every man as a result of the Fall is in such a condition that he can take no steps in the direction of salvation until he has been renewed by the divine grace given in baptism, and that he cannot continue in the good thus begun except by the constant assistance of that grace, which is mediated only by the Catholic Church. It is evident from these statements of Christian scholars that it was exaggerated love and veneration of Christ which led the early Christians astray. This exaggeration and the use of expressions such as 'Lord' and 'Son of God' led to Jesus being invested with divine attributes and to the peculiar Christian notion of redemption, even though these could not be accommodated into the body of the teachings of Christ. When the Christians came to be infected with philosophical doctrines, they did not abandon the original error into which they had fallen, but tried to accommodate the errors of their predecessors through apologetics and rational explanations. Thus, instead of returning to the true teachings of Christ, they used logic and philosophy to fabricate one false doctrine after another. It is to this error that the Qur'an calls the Christians' attention in these verses.

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :101 اشارہ ہے ان گمراہ قوموں کی طرف جن سے عیسائیوں نے غلط عقیدہ اور باطل طریقے اخذ کیے ۔ خصوصاً فلاسفہ یونان کی طرف ، جن کے تخیلات سے متاثر ہو کر عیسائی اس صراط مستقیم سے ہٹ گئے جس کی طرف ابتداءً ان کی رہنمائی کی گئی تھی ۔ مسیح کے ابتدائی پیرو جو عقائد رکھتے تھے وہ بڑی حد تک اس حقیقت کے مطابق تھے جس کا مشاہدہ انہوں نے خود کیا تھا اور جس کی تعلیم ان کے ہادی و رہنما نے ان کو دی تھی ۔ مگر بعد کے عیسائیوں نے ایک طرف مسیح کی عقیدت اور تعظیم میں غلو کر کے ، اور دوسری طرف ہمسایہ قوموں کے اوہام اور فلسفوں سے متاثر ہو کر ، اپنے عقائد کی مبالغہ آمیز فلسفیانہ تعبیریں شروع کر دیں اور ایک بالکل ہی نیا مذہب تیار کر لیا جس کو مسیح کی اصل تعلیمات سے دور کا واسطہ بھی نہ رہا ۔ اس باب میں خود ایک مسیحی عالم دینیات ( ریورینڈ چارلس اینڈرسن اسکاٹ ) کا بیان قابل ملاحظہ ہے ۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے چودھویں ایڈیشن میں”یسوع مسیح“ ( Jesus Christ ) کے عنوان پر اس نے جو طویل مضمون لکھا ہے اس میں وہ کہتا ہے: ”پہلی تین انجیلوں ( متی ، مرقس ، لوقا ) میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس سے یہ گمان کیا جا سکتا ہو کہ ان انجیلوں کے لکھنے والے یسوع کو انسان کے سوا کچھ اور سمجھتے تھے ۔ ان کی نگاہ میں وہ ایک انسان تھا ، ایسا انسان جو خاص طور پر خدا کی روح سے فیض یاب ہوا تھا اور خدا کے ساتھ ایک ایسا غیر منقطع تعلق رکھتا تھا جس کی وجہ سے اگر اس کو خدا کا بیٹا کہا جائے تو حق بجانب ہے ۔ خود متی اس کا ذکر بڑھئی کے بیٹے کی حیثیت سے کرتا ہے اور ایک جگہ بیان کرتا ہے کہ پطرس نے اس کو ”مسیح“ تسلیم کرنے کے بعد” الگ ایک طرف لے جا کر اسے ملامت کی“ ( متی ۲۲ ، ۱٦ ) ۔ لوقا میں ہم دیکھتے ہیں کہ واقعہ صلیب کے بعد یسوع کے دو شاگرد اماؤس کی طرف جاتے ہوئے اس کا ذکر اس حیثیت میں کرتے ہیں کہ” وہ خدا اور ساری امت کے نزدیک کام اور کلام میں قدرت والا نبی تھا“ ( لوقا ۱۹ ، ۲٤ ) ۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ اگرچہ”مرقس“ کی تصنیف سے پہلے مسیحیوں میں یسوع کے لیے لفظ”خداوند“ کا استعمال عام طور پر چل پڑا تھا ، لیکن نہ مرقس کی انجیل میں یسوع کو کہیں اس لفظ سے یاد کیا گیا ہے اور نہ متی کی انجیل میں ۔ بخلاف اس کے دونوں کتابوں میں یہ لفظ اللہ کے لیے بکثرت استعمال کیا گیا ہے ۔ یسوع کے ابتلاء کا ذکر تینوں انجیلیں پورے زور کے ساتھ کرتی ہیں جیسا کہ اس واقعہ کے شایان شان ہے ، مگر مرقس کی ” فدیہ“ والی عبارت ( مرقس ٤۵ ، ۱۰ ) اور آخری فسح کے موقع پر چند الفاظ کو مستثنیٰ کر کے ان کتابوں میں کہیں اس واقعہ کو وہ معنی نہیں پہنائے گئے ہیں جو بعد میں پہنائے گئے ۔ حتٰی کہ اس بات کی طرف کہیں اشارہ تک نہیں کیا گیا کہ یسوع کی موت کا انسان کے گناہ اور اس کے کفارہ سے کوئی تعلق تھا“ ۔ آگے چل کر وہ پھر لکھتا ہے: ”یہ بات کہ یسوع خود اپنے آپ کو ایک نبی کی حیثیت سے پیش کرتا تھا اناجیل کی متعدد عبارتوں سے ظاہر ہوتی ہے ۔ مثلاً یہ کہ”مجھے آج اور کل اور پرسوں اپنی راہ پر چلنا ضرور ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ نبی یروشلم سے باہر ہلاک ہو“ ( لوقا ۲۳ ، ۱۳ ) ۔ وہ اکثر اپنا ذکر” ابن آدم“ کے نام سے کرتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یسوع کہیں اپنے آپ کو” ابن اللہ“ نہیں کہتا ۔ اس کے دوسرے ہم عصر جب اس کے متعلق یہ لفظ استعمال کرتے ہیں تو غالباً ان کا مطلب بھی اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ وہ اس کو خدا کا ممسوع سمجھتے ہیں ۔ البتہ وہ اپنے آپ کو مطلقاً ” بیٹے“ کے لفظ سے تعبیر کرتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مزید برآں وہ خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو بیان کرنے کے لیے بھی” باپ“ کا لفظ اسی اطلاقی شان میں استعمال کرتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس تعلق کے بارے میں وہ اپنے آپ کو منفرد نہیں سمجھتا تھا ، بلکہ ابتدائی دور میں دوسرے انسانوں کو بھی خدا کے ساتھ اس خاص گہرے تعلق میں اپنا ساتھی سمجھتا تھا ۔ البتہ بعد کے تجربے اور انسانی طبائع کے عمیق مطالعہ نے اسے یہ سمجھنے پر مجبور کر دیا کہ اس معاملہ میں وہ اکیلا ہے ۔ “ پھر یہی مصنف لکھتا ہے: ”عید پُنْتِکُسْت کے موقع پر پطرس کے یہ الفاظ کہ”ایک انسان جو خدا کی طرف سے تھا“ یسوع کو اس حیثیت میں پیش کرتے ہیں جس میں اس کے ہم عصر اس کو جانتے اور سمجھتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انجیلوں سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ یسوع بچپن سے جوانی تک بالکل فطری طور پر جسمانی و ذہنی نشو و نما کے مدارج سے گزرا ۔ اس کو بھوک پیاس لگتی تھی ، وہ تھکتا اور سوتا تھا ، وہ حیرت میں مبتلا ہو سکتا تھا اور دریافت احوال کا محتاج تھا ، اس نے دکھ اٹھایا اور مرا ۔ اس نے صرف یہی نہیں کہ سمیع و بصیر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ صریحاً اس سے انکار کیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ درحقیقت اس کے حاضر و ناظر ہونے کا اگر دعویٰ کیا جائے تو یہ اس پورے تصور کے بالکل خلاف ہوگا جو ہمیں انجیلوں سے حاصل ہوتا ہے ۔ بلکہ اس دعوے کے ساتھ آزمائش کے واقعہ کو اور گِتَسمْنی اور کھوپڑی کے مقام پر جو واردات گزریں ان میں سے کسی کو بھی مطابقت نہیں دی جا سکتی ۔ تاوقتیکہ ان واقعات کو بالکل غیر حقیقی قرار نہ دے دیا جائے ، یہ ماننا پڑے گا کہ مسیح جب ان سارے حالات سے گزرا تو وہ انسانی علم کی عام محدودیت اپنے ساتھ لیے ہوئے تھا اور اس محدودیت میں اگر کوئی استثناء تھا تو وہ صرف اسی حد تک جس حد تک پیغمبرانہ بصیرت اور خدا کے یقینی شہود کی بنا پر ہو سکتا ہے ۔ پھر مسیح کو قادر مطلق سمجھنے کی گنجائش تو انجیلوں میں اور بھی کم ہے ۔ کہیں اس بات کا اشارہ تک نہیں ملتا کہ وہ خدا سے بےنیاز ہو کر خود مختارانہ کام کرتا تھا ۔ اس کے برعکس وہ بار بار دعا مانگنے کی عادت سے اور اس قسم کے الفاظ سے کہ” یہ چیز دعا کے سوا کسی اور ذریعہ سے نہیں ٹل سکتی“ ، اس بات کا صاف اقرار کرتا ہے کہ اس کی ذات بالکل خدا پر منحصر ہے ۔ فی الواقع یہ بات ان انجیلوں کے تاریخی حیثیت سے معتبر ہونے کی ایک اہم شہادت ہے کہ اگرچہ ان کی تصنیف و ترتیب اس زمانہ سے پہلے مکمل نہ ہوئی تھی کہ مسیحی کلیسا نے مسیح کو الٰہ سمجھنا شروع کر دیا تھا ، پھر بھی ان دستاویزوں میں ایک طرف مسیح کے فی الحقیقت انسان ہونے کی شہادت محفوظ ہے اور دوسری طرف ان کے اندر کوئی شہادت اس امر کی موجود نہیں ہے کہ مسیح اپنے آپ کو خدا سمجھتا تھا“ ۔ اس کے بعد یہ مصنف پھر لکھتا ہے: ”وہ سینٹ پال تھا جس نے اعلان کیا کہ واقعہ رفع کے وقت اسی فعل رفع کے ذریعہ سے یسوع پورے اختیارات کے ساتھ”ابن اللہ“ کے مرتبہ پر علانیہ فائز کیا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ”ابن اللہ“ کا لفظ یقینی طور پر ذانی ابنیت کی طرف ایک اشارہ اپنے اندر رکھتا ہے جسے پال نے دوسری جگہ یسوع کو”خدا کا اپنا بیٹا“ کہہ کر صاف کر دیا ہے ۔ اس امر کا فیصلہ اب نہیں کیا جا سکتا کہ آیا وہ ابتدائی عیسائیوں کا گروہ تھا یا پال جس نے مسیح کے لیے ” خداوند“ کا خطاب اصل مذہبی معنی میں استعمال کیا ۔ شاید یہ فعل مقدم الذکر گروہ ہی کا ہو ۔ لیکن بلاشبہ وہ پال تھا جس نے اس خطاب کو پورے معنی میں بولنا شروع کیا ، پھر اپنے مدعا کو اس طرح اور بھی زیادہ واضح کر دیا کہ ”خداوند یسوع مسیح“ کی طرف بہت سے وہ تصورات اور اصطلاحی الفاظ منتقل کر دیے جو قدیم کتب مقدسہ میں خداوند یَہُوَہ ( اللہ تعالیٰ ) کے لیے مخصوص تھے ۔ اس کے ساتھ ہی اس نے مسیح کو خدا کی دانش اور خدا کی عظمت کے مساوی قرار دیا اور اسے مطلق معنی میں خدا کا بیٹا ٹھیرایا ۔ تاہم متعدد حیثیات اور پہلوؤں سے مسیح کو خدا کے برابر کر دینے کے باوجود پال اس کو قطعی طور پر اللہ کہنے سے بار رہا“ ۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے ایک دوسرے مضمون ”میسحیت ( Christianity ) میں رورنڈ جارج ولیم ناکس مسیحی کلیسا کے بنیادی عقیدے پر بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”عقیدہ تثلیث کا فکری سانچہ یونانی ہے اور یہودی تعلیمات اس میں ڈھالی گئی ہیں ۔ اس لحاظ سے یہ ہمارے لیے ایک عجیب قسم کا مرکب ہے ، مذہبی خیالات بائیبل کے اور ڈھلے ہوئے ایک اجنبی فلسفے کی صورتوں میں ۔ باپ ، بیٹا اور روح القدس کی اصطلاحیں یہودی ذرائع کی بہم پہنچائی ہوئی ہیں ۔ آخری اصطلاح اگرچہ خود یسوع نے شاذ و نادر ہی کبھی استعمال کی تھی ، اور پال نے بھی جو اس کو استعمال کیا اس کا مفہوم بالکل غیر واضح تھا ، تاہم یہودی لٹریچر میں یہ لفظ شخصیت اختیار کرنے کے قریب پہنچ چکا تھا ۔ پس اس عقیدہ کا مواد یہودی ہے ( اگرچہ اس مرکب میں شامل ہونے سے پہلے وہ بھی یونانی اثرات سے مغلوب ہو چکا تھا ) اور مسئلہ خالص یونانی ۔ اصل سوال جس پر یہ عقیدہ بنا ، وہ نہ کوئی اخلاقی سوال تھا نہ مذہبی ، بلکہ وہ سراسر ایک فلسفیانہ سوال تھا ، یعنی یہ کہ ان تینوں اقانیم ( باپ ، بیٹے اور روح ) کے درمیان تعلق کی حیثیت کیا ہے؟ کلیسا نے اس کا جو جواب دیا وہ اس عقیدے میں درج ہے جو نیقیا کی کونسل میں مقرر کیا گیا تھا ، اور اسے دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی تمام خصوصیات میں بالکل یونانی فکر کا نمونہ ہے“ ۔ اسی سلسلہ میں انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے ایک اور مضمون تاریخ کلیسا ( Church History ) کی یہ عبارت بھی قابل ملاحظہ ہے: ”تیسری صدی عیسوی کے خاتمہ سے پہلے مسیح کو عام طور پر ”کلام“ کا جسدی ظہور تو مان لیا گیا تھا تاہم بکثرت عیسائی ایسے تھے جو مسیح کی الوہیت کے قائل نہ تھے ۔ چوتھی صدی میں اس مسئلہ پر سخت بحثیں چھڑی ہوئی تھیں جن سے کلیسا کی بنیادیں ہل گئی تھیں ۔ آخر کار سن ۳۲۵ میں نیقیا کی کونسل نے الوہیت مسیح کو باضابطہ سرکاری طور پر اصل مسیحی عقیدہ قرار دیا اور مخصوص الفاظ میں اسے مرتب کر دیا ۔ اگرچہ اس کے بعد بھی کچھ مدت تک جھگڑا چلتا رہا لیکن آخری فتح نیقیا ہی کے فیصلے کی ہوئی جسے مشرق اور مغرب میں اس حیثیت سے تسلیم کر لیا گیا کہ صحیح العقیدہ عیسائیوں کا ایمان اسی پر ہونا چاہیے ۔ بیٹے کی الوہیت کے ساتھ روح کی الوہیت بھی تسلیم کی گئی اور اسے اصطباغ کے کلمہ اور رائج الوقت شعائر میں باپ اور بیٹے کے ساتھ جگہ دی گئی ۔ اس طرح نیقیا میں مسیح کا جو تصور قائم کیا گیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عقیدہ تثلیث اصل مسیحی مذہب کا ایک جزء لاینفک قرار پا گیا ۔ پھر اس دعوے پر کہ ”بیٹے کی الوہیت مسیح کی ذات میں مجسم ہوئی تھی “ ایک دوسرا مسئلہ پیدا ہوا جس پر چوتھی صدی میں اور اس کے بعد بھی مدتوں تک بحث و مناظرہ کا سلسلہ جاری رہا ۔ مسئلہ یہ تھا کہ مسیح کی شخصیت میں الوہیت اور انسانیت کے درمیان کیا تعلق ہے؟ سن ٤۵۱ میں کالسیڈن کی کونسل نے اس کا یہ تصفیہ کیا کہ مسیح کی ذات میں دو مکمل طبیعتیں مجتمع ہیں ، ایک الہٰی طبیعت ، دوسری انسانی طبیعت ، اور دونوں متحد ہوجانے کے بعد بھی اپنی جداگانہ خصوصیات بلا کسی تغیر و تبدل کے برقرار رکھے ہوئے ہیں ۔ تیسری کونسل میں جو سن ٦۸۰ میں بمقام قسطنطنیہ منعقد ہوئی ، اس پر اتنا اضافہ اور کیا گیا کہ یہ دونوں طبیعتیں اپنی الگ الگ مشیتیں بھی رکھتی ہیں ، یعنی مسیح بیک وقت دو مختلف مشیتوں کا حامل ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس دوران میں مغربی کلیسا نے گناہ اور فضل کے مسئلہ پر بھی خاص توجہ کی اور یہ سوال مدتوں زیر بحث رہا کہ نجات کے معاملہ میں خدا کا کام کیا ہے اور بندے کا کام کیا ۔ آخر کار سن ۵۲۹ میں اور ینج کی دوسری کونسل میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ نظریہ اختیار کیا گیا کہ ہبُوطِ آدم کی وجہ سے ہر انسان اس حالت میں مبتلا ہے کہ وہ نجات کی طرف کوئی قدم نہیں بڑھا سکتا جب تک وہ اس فضل خداوندی سے ، جو اصطباغ میں عطا کیا جاتا ہے ، نئی زندگی نہ حاصل کر لے ۔ اور یہ نئی زندگی شروع کرنے کے بعد بھی اسے حالت خیر میں استمرار نصیب نہیں ہو سکتا جب تک وہ فضل خداوندی دائماً اس کا مددگار نہ رہے ۔ اور فضل خداوندی کی یہ دائمی اعانت اسے صرف کیتھولک کلیسا ہی کے توسط سے حاصل رہ سکتی ہے“ ۔ مسیحی علماء کے ان بیانات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ابتداءً جس چیز نے مسیحیوں کو گمراہ کیا وہ عقیدت اور محبت کا غلو تھا ۔ اسی غلو کی بنا پر مسیح علیہ السلام کے لیے خداوند اور ابن اللہ کے الفاظ استعمال کیے گئے ، خدائی صفات ان کی طرف منسوب کی گئیں ، اور کفارہ کا عقیدہ ایجاد کیا گیا ، حالانکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیمات میں ان باتوں کے لیے قطعاً کوئی گنجائش موجود نہ تھی ۔ پھر جب فلسفہ کی ہوا مسیحیوں کو لگی تو بجائے اس کے کہ یہ لوگ اس ابتدائی گمراہی کو سمجھ کر اس سے بچنے کی سعی کرتے ، انہوں نے اپنے گزشتہ پیشواؤں کی غلطیوں کو نباہنے کے لیے ان کی توجیہات شروع کردیں اور مسیح کی اصل تعلیمات کی طرف رجوع کیے بغیر محض منطق اور فلسفہ کی مدد سے عقیدے پر عقیدہ ایجاد کرتے چلے گئے ۔ یہی وہ ضلالت ہے جس پر قرآن نے ان آیات میں مسیحیوں کو متنبہ فرمایا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

53: ’’ غلو‘‘ کا مطلب ہے کسی کام میں اس کی معقول حدود سے آگے بڑھ جانا۔ عیسائیوں کا غلو یہ تھا کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعظیم میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ انہیں خدا قرار دے دیا، اور یہودیوں کا غلو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے محبت کا جو اظہار کیا تھا اس کی بنا پر یہ سمجھ بیٹھے کہ دنیا کے دوسرے لوگوں کو چھوڑ کر بس وہی اللہ کے چہیتے ہیں اور اس وجہ سے وہ جو چاہیں کریں، اللہ تعالیٰ ان سے ناراض نہیں ہوگا، نیز ان میں سے بعض نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا قرار دے لیا تھا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(5:77) لا تغلوا تم مبالغہ نہ کرو۔ تم زیادتی نہ کرو۔ تم غلو مت کرو۔ غلو (نصر) کے معنی ہیں حد سے گزرنا۔ مضارع نہی جمع مذکر حاضر ضلوا۔ فعل لازم ۔ وہ گمراہ ہوگئے۔ وہ گمراہ ہوئے۔ اضلوا۔ فعل متعدی ۔ انہوں نے (دوسروں کو) گمراہ کیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 یہود و نصاری کی الگ الگ تردید کے بعد اب دونوں کو مظاطب فرمایا ہے (کبیر) نصاری نے حضرت مسیح ( علیہ السلام) کے معاملہ میں غلو کیا ہے اور ایک بشر جسے اللہ تعالیٰ نے نبوت بخشی تھی اور اسے اپنی قدرت کا ملعہ کی نشانی دے دی اور ان کی پسلیوں کو ریزہ ریزہ کرڈالا (کبیر، ابن کثیر) یہ حقیقت ہے کہ دین جو بھی خرابی آئی ہے وہ اسی غلو (یعنی راہ اعتدال کو چھوڑنے) کی وجہ سے آتی ہے اسی لیے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو باربار نصیحت فرمائی کہ میرے معاملہ میں حد سے نہ بڑھنا اور مجھے بشریت کے مقام سے اٹھاکر خدائی کے مرتبہ تک نہ پہنچا دینا ( ماخوذ از وحیدی) 1 پہلے فرمایا کہ گمراہ ہوئے پھر فرمایا کہ سیدھی راہ سے بہک گئے گویہ دو نو بظاہر ایک ہی ہیں مگر علما نے لکھا ہے کہ اول سے مراد ی ہے کہ وہ گمراہ ہوئے اور دوسرے ضلو سے مراد یہ ہے کہ وہ اب تک اس گمراہی پر جمے ہوئے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلی گمراہی سے مراد عقیدہ کی گمراہی ہو اور ادوسری سے عمل کی گمرہی مراد ہو (کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ٧٧۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم میں غلو کرنے کی وجہ سے نصاری کے عقائد کے اندر خرافات داخل ہوئے اور اس کے بعد جب سلطنت روما کے حکمران عیسائیت میں داخل ہوئے تو انہوں نے اپنی بت پرستی کو عیسائیت کے اندر داخل کردیا ۔ اس کے مسائل کو حل کرنے کے لیے جو کانفرنسیں منعقد ہوئیں ان کے مندوبین نے بھی اللہ کے دین میں یہ غلط معقولات شامل کردیئے حالانکہ حضرت مسیح کو اللہ نے جو دین دے کر بھیجا تھا اور جس کی تبلیغ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمائی تھی وہ بالکل صاف تھا ۔ قرآن مجید میں ہے ” اے بنی اسرائیل اللہ کی بندگی کرو جو میرا اور تمہار سب کا رب ہے ‘ بیشک جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو اللہ نے اس پر جنت کا داخلہ حرام کردیا ہے ۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہے ‘ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا ۔ “ یہ پکار بنی اسرائیل کو بچانے کی آخری کوشش ہے تاکہ وہ اختلافات ‘ انحرافات ‘ خواہشات نفس کے اتھاہ سمندر سے نکل آئیں ‘ جس کے اندر وہ لوگ گر گئے جو ان سے پہلے گزرے تھے ‘ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی راہ حق سے بھٹکایا ۔ مندرجہ بالا آیات کا یہ حصہ جو یہاں ختم ہوا اس پر ذرا دوبارہ غور کریں ۔ اس کے تین حقائق ہمارے سامنے آتے ہیں ۔ یہاں اجمالا ان کا تذکرہ ضروری ہے ۔ (١) ۔ یہاں حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نظام زندگی کے اندر اعتقادی تصورات کی درستی کے لئے کس قدر عظیم جدوجہد کی گئی ہے اور تمام اعتقادات کو خالص نظریہ توحید کی اساس پر استوار کیا گیا ہے ۔ اس کو بت پرستی کی تمام ملاوٹوں سے پاک کیا گیا ہے ۔ شرک کی ہوا بھی اسے لگنے نہیں دی ‘ جس طرح اہل کتاب کے عقائد کے اندر شرک داخل ہوگیا تھا ۔ اسلام نے لوگوں کو ذات باری کی حقیقت اچھی طرح سمجھائی ۔ اللہ کو اپنی ذات اور اپنی صفات میں منفرد قرار دیا گیا ‘ اور اس بات کی سختی سے نفی کی گئی کہ اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات میں کوئی اس کا شریک ہو سکتا ہے ۔ اعتقادی تصورات کی تصحیح کے اس شاندار اہتمام سے اور عقیدہ توحید کے فیصلہ کن بیان اور توضیح سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں صحیح عقائد کی کس قدر اہمیت ہے ‘ اور یہ کہ انسانی زندگی کی اصلاح میں درست عقائد کا کس قدر گہرا اثر ہوتا ہے ۔ نیز اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اسلام نے تمام اعمال کو صحیح اعتقادات پر موقوف کیا ہے اور تمام انسانی تعلقات کو عقائد سے مربوط کردیا گیا ہے ۔ (٢) ۔ دوسری یہ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ قرآن نے ان لوگوں کے کفر کی تصریح کردی ہے جن کا عقیدہ یہ ہے کہ مسیح ابن مریم اللہ ہے یا جن کا عقیدہ یہ ہے کہ مسیح ابن مریم ‘ تین خداؤں میں سے ایک ہے ۔ اس تصریح کے بعد کسی مسلمان کے لئے جواز باقی ہی نہیں رہتا کہ وہ اہل کتاب کو دین پر سمجھے اس لئے کہ یہ لوگ ان عقاید کی وجہ سے خود اپنے دین کے بھی منکر ہوگئے ہیں ۔ اسلام اگر لوگوں کو اس بات پر مجبور نہیں کرتا کہ وہ جس دین پر ہیں اسے چھوڑ دیں تو اسلام یہ بھی نہیں کرتا کہ کسی ایسے شخص کو جو دین سے خارج ہوچکا ہو ‘ محض اسے خوش کرنے کے لئے یہ کہہ دے کہ وہ دین پر ہے اور یہ کہ اس کا دین اللہ کو مقبول ہے ‘ بلکہ اسلام ایسے لوگوں کے دین پر کفر کا اطلاق کرتا ہے اور کفر کبھی اللہ کا دین نہیں ہو سکتا ۔ (٣) ۔ تیسری حقیقت جو پہلی دونوں حقیقتوں پر بطور لازمی نتیجہ مرتب ہوتی ہے یہ ہے کہ ان عقائد کے حاملین اہل کتاب اور اسلام کے بیان کردہ عقیدہ توحید کو تسلیم کرنے والے اہل اسلام کے درمیان کوئی تعلق موالات قائم نہیں ہو سکتا اس لئے کہ ایک مسلمان کا عقیدہ یہ ہے کہ اب دین صرف وہی ہے جس کی تعلیم حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ بات کہ تمام ادیان کے پیروکاروں کو اتحاد کرکے کفر اور الحاد کا مقابلہ کرنا چاہئے ایک لغو بات ہوگی ۔ اسلامی زاویے سے اس بات کے اندر کوئی وزن نہ ہوگا ۔ جب اعتقادات کے اندر اس قدر فیصلہ کن جدائی اور دوری ہو تو دونوں فریقوں کا کسی بات پر متحد ہونا ممکن نہیں ہے اس لئے کہ دنیا میں ہر چیز کا قیام نظریات پر ہوتا ہے اور اسلام اس کا داعی ہے ۔ ا صل چیز نظریہ اور عقیدہ وہی ہوتا ہے ۔ آخر میں یہ بتایا جاتا ہے کہ انبیاء بنی اسرائیل کا موقف کفار بنی اسرائیل کے سلسلے میں کیا رہا ہے ؟ انکی تاریخ کی ایک دوسری فصل ۔ بتایا جاتا ہے کہ ذرا حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا تبصرہ بنی اسرائیل کے بارے میں کیا تھا ۔ اور اللہ نے بنی اسرائیل کی سرکشی اور نافرمانی کی وجہ سے ان کے اس موقف کو تسلیم کرلیا ۔ مزید یہ کہ ان کے اجتماعی فساد کی وجہ سے اور ان کی جانب سے اس اجتماعی فساد اور پکار پر مکمل سکوت اختیار کرنے کی وجہ سے اور پھر اس وجہ سے کہ یہ لوگ کفار کے ساتھ دوستی اور موالات کرتے تھے ‘ اللہ نے انہیں ملعون قرار دے دیا اور یہ فیصلہ کردیا کہ یہ لوگ جہنم میں رہیں گے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل کتاب کو غلو کرنے کی ممانعت اس کے بعد اہل کتاب کو غلو فی الدین سے بچنے کا حکم دیا، ارشاد ہے (قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ غَیْرَ الْحَقِّ ) (آپ فرما دیجئے اے اہل کتاب ! تم اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو) اہل کتاب نے اپنے دین میں غلو کر رکھا تھا، حد سے زیادہ بڑھ جانے کو غلو کہتے ہیں اور یہ غلو ناحق ہوتا ہے کیونکہ حق کی حد کے اندر رہنا ہی حق ہے، نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اتنا آگے بڑھایا کہ خدا اور خدا کا بیٹا بنا دیا اور ان کی والدہ کو بھی معبود مان لیا۔ اور یہود نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بنا دیا حالانکہ خالق اور مخلوق میں رشتہ نہیں ہوسکتا اور کوئی مخلوق معبود بھی نہیں ہوسکتی ان لوگوں نے دین میں غلو کردیا اور وہ باتیں دین میں داخل کردیں جو اس دین میں نہ تھیں، جو دین اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واسطہ سے ان کے پاس آیا تھا چونکہ دین میں غلو اپنی ذاتی خواہشوں سے ہوتا ہے اس لیے فرمایا (وَ لَا تَتَّبِعُوْٓا اَھْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ ) (اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو پہلے سے گمراہ ہوچکے ہیں) انہوں نے اپنی خواہشات کو سامنے رکھا اور دین میں غلو کیا تم ان کی پیروی نہ کرو اور دین میں غلو نہ کرو۔ آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے یہود و نصاریٰ کے اکابر نے اپنی ذاتی خواہشوں اور رایوں کے مطابق اپنے دین کو بدل دیا تھا اور اس میں عقائد باطلہ تک شامل کردیئے تھے خود بھی گمراہ ہوئے (وَ اَضَلُّوْا کَثِیْرًا) (اور بہت سوں کو گمراہ کیا) پھر خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد بھی حق واضح ہوتے ہوئے گمراہی پر جمے رہے (وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآء السَّبِیْلِ ) (اور سیدھے رستے سے بھٹک گئے ) ۔ امت محمدیہ کو غلو کرنے کی ممانعت دین میں غلو کرنا امتوں کا پرانا مرض ہے آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطرہ تھا کہ کہیں آپ کی امت بھی اس مرض مہلک میں مبتلا نہ ہوجائے، آپ نے فرمایا لاتطرونی کما اطرت النصاریٰ ابن مریم فانما انا عبدہ فقولوا عبداللّٰہ و رسولہ۔ یعنی میری تعریف میں مبالغہ نہ کرنا جیسے نصاریٰ نے ابن مریم کی تعریف میں مبالغہ کیا، میں تو بس اللہ کا بندہ ہو، میرے بارے میں یوں کہو عبد اللہ و رسولہ (کہ اللہ بندہ اور رسول ہیں) (رواہ البخاری ج ١ ص ٤٩٠) آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تنبیہ کو دیکھیں اور پھر ان لوگوں کو دیکھ لین جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمام خدائی اختیارت سونپ دیئے جانے کا عقیدہ رکھتے ہیں اور قرآن کی تصریحات کے باوجود آپ کی بشریت کے منکر ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اس عقیدہ کی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت بڑی محبت کرنے والے بن گئے سورة الاسراء میں فرمایا ہے۔ (قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ھَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا) (آپ فرما دیجئے کہ میرا رب پاک ہے میں نہیں ہوں مگر ایک بشررسول) ایک عالم نما جاہل نے تو غضب ہی کردیا سورة کہف کی آیت (قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ ) کے بارے میں کہہ دیا کہ اس میں مانافیہ ہے اپنے خیال میں بہت دور کی کوڑی لائے لیکن انہیں یہ بھی پتہ نہیں کہ اِنَّ جملہ مثبتہ کی تحقیق کے لئے آتا ہے جملہ منفیہ کے لئے نہیں آتا۔ صحیح بخاری ص ١٠٦٥ میں ہے کہ آپ نے فرمایا اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌکہ میں ایک بشر ہی ہوں، اللہ جل شانہ، تو آپ سے فرمائیں کہ اپنے بارے میں اعلان کردیں کہ میں تمہارا جیسا بشر ہوں لیکن محبت کے دعویدار کہتے ہیں کہ نہیں آپ بشر نہیں تھے یہ عجب قسم کی محبت ہے ان میں بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ آیت کا یہ مطلب ہے کہ میں ظاہر میں بشر ہوں یہ لفظ ظاہراً اپنی طرف سے بڑھایا گیا ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک قرآن میں تحریف ہوجائے تو کچھ حرج نہیں مگر ان کی بات پچ باقی رہے (العیاذ باللہ) قرآن مجید میں فرمایا ہے (یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرْسٰھَا قُلْ اِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ رَبِّیْ لَا یُجَلِّیْھَا لِوَقْتِھَآاِلاَّ ھُوَ ) (وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کب ہوگی ؟ اس کے جواب میں کہہ دیجئے اس کی خبر تو میرے رب ہی کے پاس ہے اس کے وقت پر وہی اسے ظاہر فرمائے گا) اس میں بات کی تصریح ہے کہ قیامت کے آنے کا وقت صرف اللہ ہی کے علم میں ہے۔ لیکن حب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دعویدار کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو متعین طریقہ پر قیامت کے وقت کا بھی علم تھا۔ یہ عجیب محبت ہے جو قرآن کی تصریحات کے خلاف عقیدہ رکھنے پر آمادہ کر دے۔ ملا علی قاری (رح) اپنی کتاب الموضاعات الکبیر میں لکھتے ہیں : وقد جاھر بالکذب بعض من یدعی فی زماننا العلم وھو متشبع بمالم یعط ان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کان یعلم متی تقوم الساعۃ (یعنی ہمارے زمانے میں بعض ایسے لوگ جو علم کے دعویدار ہیں حالانکہ ان کے پاس علم نہیں ہے انہوں نے صاف صریح جھوٹ بولا اور یہ کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم تھا کہ قیامت کب قائم ہوگی) ۔ جس طرح عقائد میں محبت کے دعویداروں نے غلو کیا ہے اسی طرح سے مرنے جینے سے متعلق بہت سی رسمیں اپنی طرف سے تجویز کر کے دین میں داخل کردیں اپنی رسموں اور بدعتوں کو جاری رکھنے کے لئے اپنی طرف سے حد یثیں بھی تراش لیتے ہیں اور خالص شرکیہ افعال کو دین کا جزو بنائے ہوتے ہیں۔ اَعَاذَنَا اللّٰہُ من خرافاتِھِم

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

137 یہ اہل کتاب کے لیے زجر ہے۔ دین میں غلو سے اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرنا مراد ہے مثلاً حضرت مسیح اور ان کی والدہ کو اور حضرت عزیر (علیہم السلام) کو الوہیت کا درجہ دینا اور ان کو حاجات میں غائبانہ طور پر پکارنا وغیرہ۔ غَیْرَ الْحَقِّ ، اٰخِذِیْنَ مقدر کا مقو لہ ہے جو اَلَا تَغْلُوْا کے فاعل سے حال ہے۔ اَھْوَاءَ قَوْمٍ میں قوم سے یہود و نصاریٰ کے اسلاف اور ان کے آباء وا جداد مراد ہیں۔ فرمایا تم اپنے ان گذشتہ عالموں اور پیروں اور اپنے باپ دادا کی پیروی میں حق کا انکار نہ کرو۔ جو خود گمراہ تھے اور جنہوں نے ہزاروں لاکھوں بندگانِ خدا کو توحید اور صراط مستقیم سے گمراہ کیا ای اسلافکم وائمتکم الذین کانوا علی الضلال قبل مبعث النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (مدارک ج 1 ص 230) جو لوگ خود گمراہ اور بےدین ہوں ان کی پیروی کسی طرح جائز نہیں ان کی پیروی سے حرمان و خسران کے سوا کچھ حاصل نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 سوائے اس کے کچھ نہیں کہ مسیح مریم کے بیٹے ایک رسول ہیں بلاشبہ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول ہوچکے ہیں اور ان کی ماں بہت راست باز عورت تھی یہ دونوں ماں بیٹے کھانا کھایا کرتے تھے اور جو کھانا کھائے وہ خدا کس طرح ہوسکتا ہے ۔ اے پیغمبر ذرا دیکھیے ہم کس طرح ان کے لئے اپنے دلائل صاف اور واضح طور پر بیان کرتے ہیں اور باوجود توضیح دلائل کے پھر ان کو ملاحظہ کیجیے کہ یہ لوگ کدھر الٹے پھرے جا رہے ہیں آپ ان سے دریافت کیجیے کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے نقصان کی مالک ہیں اور نہ تمہارے نفع کا کچھ اختیار رکھتی ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ اے پیغمبر آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اے اہل کتاب تم اپنے دین میں ناحق کے غلو اور مبالغہ آمیزی اور افراط سے کام نہ لو اور ان لوگوں کی نفسانی خواہشات پر نہ چلو جو گزشتہ دور میں خود بھی گمراہ ہوئے اور اپنے اثر سے اور بھی بہت سوں کو انہوں نے گمراہ کیا اور آج بھی جبکہ اسلام آگیا وہ سیدھی راہ سے بہکے ہوئے ہیں۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ مسیح ابن مریم جس کو تم نے الوہیت یا خواص الوہیت میں شریک کر رکھا ہے وہ تو محض ایک پیغمبر ہیں اور ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر گذر چکے ہیں اور ظاہر ہے کہ پیغمبری کو خدائی کا درجہ نہیں دیا جاسکتا پھر ان کی ماں بھی تھیں جو بڑی راست باز اور صدیقیت کے مرتبہ پر فائز تھیں اور جب وہ ماں سے پیدا ہوئے تھے تو خدا کے ہمسر کس طرح ہوسکتے ہیں خدا تو لم یلد ولم یولد ہے مزید برآں یہ دونوں عام انسانوں کی طرح کھانا بھی کھاتے تھے اور کھانا کھانے والے دوسرے حوائج بشریہ کے بھی محتاج ہوتے ہیں یہ تو ہو نہیں سکتا کہ کھانا کھائیں پانی پئیں اور دوسرے حوائج کی ان کو ضرورت نہ ہو یہی دلائل ان کی الوہیت کے ابطال کے لئے کافی ہیں چناچہ فرمایا کہ اے پیغمبر ! دیکھو ہم کس طرح ان کے لئے صاف طور پر دلائل بیان کرتے ہیں اور پھر ان کو دیکھو کہ یہ کہاں لوٹے جا رہے ہیں اور گمراہی کی طرف پھرے جا رہے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اس سے زیادہ کیا نشانی کہ جو شخص کھانا کھاوے اسے سب حاجت بشری لگے اللہ کی ذات پاک اس لائق کب ہے ۔ (موضح القرآن) اس کے بعد پھر ابطال الوہیت مسیح پر ایک اور دلیل فرمائی کہ ان سے دریافت کیجیے کیا تم ایسی چیز کی اور ایسے اشخاص کی عبادت اور بندگی کرتے ہو جو تمہارے ضرر اور تمہارے نفع کا کچھ اختیار نہیں رکھتے اور جو اپنے ہی نقصان یا نفع کا مالک نہ ہو اور ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کا محتاج ہو وہ کسی کو کیا نقصان یا فائدہ پہنچا سکتا ہے اور اللہ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے۔ سمیع علیم کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ کسی کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر مانگنے والے کی سنتا ہو اور ہر شخص کی حالت کو جانتا ہو یہ سماعت و علم کا کمال بجز اللہ تعالیٰ کے کسی دوسرے کو حاصل نہیں لہٰذا معبود ہونے کے اس کے سوا کوئی قابل نہیں اور اس کے سوا کوئی عبادت کے مستحق نہیں اور سمیع علیم کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری ان مشر کانہ باتوں کو سنتا بھی ہے اور تمہاری ان مشرکانہ حرکات کو جانتا بھی ہے لہٰذا تم کو اس شرک کی سخت سزا دے گا۔ اس کے بعد تیسری ایٓت میں پھر پیغمبر سے فرمایا کہ ان سے کہہ دیجیے کہ تم اپنے دین میں ناحق کی مبالغہ آمیزی سے کام نہ لو اور ان لوگوں کی خواہشات پر نہ چلو جو گزشتہ دور میں حضرت مسیح کے متعلق گمراہانہ عقیدے پھیلا گئے اور تمہارے دین میں نئی نئی باتیں جاری کر گئے وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی انہوں نے گمراہ بنایا اور اسیطرح ان لوگوں کی خواہشات پر نہ چلو جو آج بھی اسلام اور قرآن کریم کے آجانے کے بعد سیدھی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور پرانی لکیر کے فقیر بنے ہوئے ہیں اور جو گمراہی ان کے بڑے پھیلا گئے ہیں اسی گمراہی پر اڑے ہوئے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ضلواعن سواء السبیل قوم قد ضلوا ہی کی وضاحت ہو جیسا کہ بعض نے اسی طرح تفسیر کی ہے۔ (واللہ اعلم) اب آگے ان لوگوں کے متعلق جو دین میں نافرمانی اور زیادتی کرتے تھے حضرت دائود اور حضرت مسیح ابن مریم کے دور میں لعنت کا تذکرہ ہے۔ (تسہیل)