Surat ul Maeeda

Surah: 5

Verse: 79

سورة المائدة

کَانُوۡا لَا یَتَنَاہَوۡنَ عَنۡ مُّنۡکَرٍ فَعَلُوۡہُ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۷۹﴾

They used not to prevent one another from wrongdoing that they did. How wretched was that which they were doing.

آپس میں ایک دوسرے کو برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے روکتے نہ تھے جو کچھ بھی یہ کرتے تھے یقیناً وہ بہت برا تھا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

كَانُواْ لاَ يَتَنَاهَوْنَ عَن مُّنكَرٍ فَعَلُوهُ ... They used not to forbid one another from the evil they committed. They did not forbid each other from committing sins and the prohibitions. Allah chastised them for this behavior, so that their behavior would not be imitated. Allah said, ... لَبِيْسَ مَا كَانُواْ يَفْعَلُونَ Vile indeed was what they used to do. Hadiths that Order Enjoining Righteousness and Forbidding Evil There are many Hadiths that order enjoining righteousness and forbidding evil. Imam Ahmad recorded that Hudhayfah bin Al-Yaman said that the Prophet said, وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابًا مِنْ عِنْدِهِ ثُمَّ لَتَدْعُنَّهُ فَلَا يَسْتَجِيبَ لَكُم By He in Whose Hand is my soul! You will enjoin righteousness and forbid evil, or Allah will send a punishment on you from Him. Then, you will supplicate to Him, but He will not accept your supplication. At-Tirmidhi also recorded it and said, "This Hadith is Hasan." Muslim recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said that the Messenger of Allah said, مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذلِكَ أَضْعَفُ الاِْيمَان He among you who witnesses an evil, let him change it with his hand, if he cannot do that, then by his tongue, if he cannot do even that, then with his heart, and this is the weakest faith. Abu Dawud said that Al-Urs, (meaning Ibn Amirah), said that the Prophet said, إِذَا عُمِلَتِ الْخَطِييَةُ فِي الاَْرْضِ كَانَ مَنْ شَهِدَهَا فَكَرِهَهَا وَقَالَ مَرَّةً فَأَنْكَرَهَا كَانَ كَمَنْ غَابَ عَنْهَا وَمَنْ غَابَ عَنْهَا فَرَضِيَهَا كَانَ كَمَنْ شَهِدَهَا When sin is committed on the earth, then whoever witnesses it and hates - (once he said): forbids it, will be like those who did not witness it. Whoever was absent from it, but agreed with it, will be like those who witness it. Only Abu Dawud recorded this Hadith. Abu Dawud recorded that one of the Companions said that the Prophet said, لَنْ يَهْلِكَ النَّاسُ حَتَّى يَعْذِرُوا أَوْ يُعْذِرُوا مِنْ أَنْفُسِهِم The people will not perish until they do not leave -or- have any excuse for themselves. Ibn Majah recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said that the Messenger of Allah gave a speech once and said, أَلاَ لاَ يَمْنَعَنَّ رَجُلً هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ الْحَقَّ إِذَا عَلِمَه Behold! Fear from people should not prevent one from saying the truth if he knows it. Abu Sa`id then cried and said, "By Allah! We have seen some errors, but we feared (the people)." Another Hadith that Abu Sa`id narrated states that the Messenger of Allah said, أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ حَقَ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَايِر The best Jihad is a word of truth proclaimed before an unjust ruler. Recorded by Abu Dawud, At-Tirmidhi, and Ibn Majah. At-Tirmidhi said, "Hasan Gharib from this route of narration." Imam Ahmad recorded that Hudhayfah said that the Prophet said, لاَا يَنْبَغِي لِمُسْلِمٍ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَه It is not required of the Muslim that he humiliate himself. They said, `How does one humiliate himself?" he said; يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَءِ لِمَا لاَ يُطِيق He takes on trials that he is not capable of enduring. This was recorded by At-Tirmidhi and Ibn Majah, and At-Tirmidhi said, "This Hadith is Hasan Sahih Gharib." Censuring the Hypocrites Allah said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

79۔ 1 وہ ایک دوسرے کو برائی سے روکتے نہیں تھے جو بجائے خود ایک بہت بڑا جرم ہے۔ بعض مفسرین نے اسی ترک نہی کو عصیان اور اعتدا قرار دیا ہے جو لعنت کا سبب بنا۔ بہرحال دونوں صورتوں میں برائی کو دیکھتے ہوئے برائی سے نہ روکنا، بہت بڑا جرم اور لعنت غضب الہی کا سبب ہے۔ حدیث میں بھی اس جرم پر بڑی سخت وعیدیں بیان فرمائی گئی ہیں۔ ایک حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا " سب سے پہلا نقص جو بنی اسرائیل میں داخل ہوا یہ تھا کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو برائی کرتے ہوئے دیکھتا تو کہتا، اللہ سے ڈر اور یہ برائی چھوڑ دے، یہ تیرے لیے جائز نہیں۔ لیکن دوسرے روز پھر اسی کے ساتھ اسے کھانے پینے اور اٹھنے بیٹھنے میں کوئی عار یا شرم محسوس نہ ہوتی، (یعنی اس کا ہم نوالہ وہ ہم پیالہ وہم نشین بن جاتا) درآں حالیکہ ایمان کا تقاضا اس سے نفرت اور ترک تعلق تھا۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان آپس میں عداوت ڈال دی اور وہ لعنت الہی کے مستحق قرار پائے۔ پھر فرمایا کہ " اللہ کی قسم ! تم ضرور لوگوں کو نیکی کا حکم دیا کرو اور برائی سے روکا کرو " ظالم کا ہاتھ پکڑ لیا کرو " (ورنہ تمہارا بھی یہی حال ہوگا۔ ایک دوسری روایت میں اس فریضے کے ترک پر یہ وعید سنائی گئی ہے کہ تم عذاب الہی کے مستحق بن جاؤ گے۔ پھر تم اللہ سے دعائیں بھی مانگو گے تو قبول نہیں ہوں گی۔ (مسند احمد جلد 5۔ ص 388)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢٥] برائی سے منع نہ کرنے والوں پر لعنت :۔ کسی معاشرہ میں جب کوئی برائی رواج پاتی ہے تو ابتدائ ً چند ہی لوگ اس کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اگر ایسے لوگوں کا بروقت اور سختی سے محاسبہ کیا جائے تو وہ برائی رک بھی جاتی ہے لیکن اگر اس سلسلہ میں نرم گوشہ اختیار کیا جائے تو اس بدی کا ارتکاب کرنے والوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور ایک وقت ایسا بھی آجاتا ہے کہ اس بدی سے بچنے والے لوگ نہ صرف یہ کہ بدی کرنے والوں کو روکتے نہیں، بلکہ ان سے میل ملاپ رکھنے اور شیر و شکر بن کر رہنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے اور بدی عام پھیل جاتی ہے یہی وہ وقت ہوتا ہے جب عذاب الٰہی نازل ہوتا ہے پھر اس عذاب سے نہ بدی کرنے والے بچتے ہیں اور نہ اس بدی سے اجتناب کرنے والے۔ اس آیت میں بتایا یہ گیا ہے کہ جس طرح بدی کا ارتکاب کرنا جرم ہے اسی طرح بدی سے نہ روکنا بھی جرم ہے اور جرم کے لحاظ سے دونوں برابر ہوتے ہیں اور اللہ کی لعنت یا عذاب الٰہی کا اثر اور نقصان دونوں کو یکساں پہنچتا ہے۔ خ برائی سے منع نہ کرنے والوں کی مثال :۔ ایسے تباہ ہونے والے معاشرہ کی مثال رسول اللہ نے یہ بیان فرمائی جیسے && کچھ لوگوں نے جہاز میں سوار ہونے کے لیے قرعہ ڈالا اور قرعہ کی رو سے کچھ لوگ نچلی منزل میں بیٹھے اور کچھ اوپر والی منزل میں۔ نچلی منزل والوں کو پانی اوپر کی منزل سے حاصل کرنا پڑتا تھا جس سے اوپر کی منزل والے تنگ پڑتے تھے۔ اب نچلی منزل والوں نے اس کا حل یہ سوچا کہ کیوں نہ جہاز کے نچلے تختہ میں سوراخ کر کے پانی نیچے سمندر سے حاصل کرلیا جائے۔ پھر اگر نچلی منزل والے اور اوپر کی منزل والے دونوں مل کر ان سوراخ کرنے والوں کا ہاتھ نہ روکیں گے تو نچلے اور اوپر والے سب غرق ہوجائیں گے۔ (بخاری۔ کتاب المظالم۔ ابو اب الشرکۃ ھل یقرع فی القسمۃ) اس حدیث کی رو سے بدی سے نہ روکنے والوں کا جرم بدی کرنے والے سے بھی زیادہ ثابت ہوتا ہے۔ نیز سیدنا ابوبکر صدیق (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ && جب لوگ ظالم کو دیکھیں اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پر عام عذاب نازل ہو۔ && (ترمذی۔ ابو اب التفسیر۔ زیر آیت ٥ : ١٠١)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَر ” لَا يَتَنَاهَوْنَ “ باب تفاعل سے ہے، اس کا معنی باز آنا بھی ہے اور ایک دوسرے کو منع کرنا بھی۔ یہاں پچھلی آیت میں مذکور ان کی نافرمانی اور حد سے گزرنے کی تفسیر ہے کہ ایک تو وہ جب کوئی برا کام کرتے اس پر ڈٹ جاتے، باز ہی نہیں آتے تھے، یعنی گناہ پر ندامت کے بجائے اس پر اصرار کرتے تھے۔ دوسرا یہ کہ وہ ایک دوسرے کو برائی سے منع نہیں کرتے تھے، ان کے نیک لوگ یہ سمجھنے لگے کہ اگر کچھ لوگ برے کام کر رہے ہیں تو کرتے رہیں، ان کا وبال خود ان پر ہوگا، ہم تو اپنی جگہ نیک ہیں، حالانکہ اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ ہو اور دل سے نفرت بھی نہ ہو تو ایمان کا آخری درجہ، یعنی کمزور ترین ایمان بھی نہیں رہتا۔ ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم میں سے جو شخص برائی دیکھے تو اسے ہاتھ سے بدل دے، اگر یہ طاقت نہ رکھے تو اپنی زبان کے ساتھ، اگر یہ بھی نہ ہو تو دل کے ساتھ اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔ “ [ مسلم، الإیمان، باب کون النہی عن المنکر عن الایمان۔۔ : ٤٩ ] حذیفہ بن یمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم ضرور نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے، یا پھر قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنے ہاں سے عذاب بھیج دے، پھر تم اس سے دعا کرو گے تو وہ تمہاری دعا قبول نہیں کرے گا۔ “ [ أحمد : ٥؍٣٨٨، ح : ٢٣٣٦٣۔ ترمذی، : ٢١٦٩، وحسنہ الترمذی والألبانی ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كَانُوْا لَا يَتَنَاہَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْہُ۝ ٠ۭ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ۝ ٧٩ نهى النهي : الزّجر عن الشیء . قال تعالی: أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] ( ن ھ ی ) النهي کسی چیز سے منع کردینا ۔ قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] بھلاتم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے ( یعنی ) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے ۔ مُنْكَرُ والمُنْكَرُ : كلُّ فِعْلٍ تحكُم العقولُ الصحیحةُ بقُبْحِهِ ، أو تتوقَّفُ في استقباحِهِ واستحسانه العقولُ ، فتحکم بقبحه الشّريعة، وإلى ذلک قصد بقوله : الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ [ التوبة/ 112] اور المنکر ہر اس فعل کو کہتے ہیں جسے عقول سلیمہ قبیح خیال کریں یا عقل کو اس کے حسن وقبیح میں تو قف ہو مگر شریعت نے اس کے قبیح ہونے کا حکم دیا ہو ۔ چناچہ آیات : ۔ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ [ التوبة/ 112] نیک کاموں کا امر کرنے والے اور بری باتوں سے منع کرنے والے ۔ بِئْسَ و «بِئْسَ» كلمة تستعمل في جمیع المذام، كما أنّ نعم تستعمل في جمیع الممادح، ويرفعان ما فيه الألف واللام، أو مضافا إلى ما فيه الألف واللام، نحو : بئس الرجل زيد، وبئس غلام الرجل زيد . وينصبان النکرة نحو : بئس رجلا، ولَبِئْسَ ما کانوا يَفْعَلُونَ [ المائدة/ 79] ، أي : شيئا يفعلونه، ( ب ء س) البؤس والباس بئس ۔ فعل ذم ہے اور ہر قسم کی مذمت کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسا کہ نعم ہر قسم کی مدح کے لئے استعمال ہوتا ہے ان کا اسم اگر معرف بالللام ہو یا معرف باللام کی طرف مضاف ہو تو اسے رفع دیتے ہیں جیسے بئس الرجل زید وبئس غلام الرجل زید ۔ اور اسم نکرہ کو نصب دیتے ہیں جیسے قرآن میں ہے ؛ ۔ { بِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ } ( سورة المائدة 79) یعنی بلا شبہ وہ برا کرتے تھے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے کانوا لا یتناھون عن منکر فعلوہ انہوں نے ایک دوسرے کو برے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا یعنی وہ ایک دوسرے کو منکرات کے ارتکاب سے روکتے نہیں تھے۔ ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی ہے ، انہیں ابو دائود نے ، انہیں عبد اللہ بن محمد نفیلی نے ، انہیں یونس بن راشد نے علی بن بذیمہ سے ، انہوں نے ابو عبیدہ سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ۔ بنی اسرائیل کے اندر سب سے پہلے جس خرابی نے جڑ پکڑ لی وہ تھی کہ ایک شخص کسی دوسرے شخص سے ملتا اور اسے کسی برائی میں مبتلا دیکھ کر اس سے کہتا کہ اللہ سے ڈر اور یہ برا کام مت کر اس لیے کہ یہ کام تیرے لیے جائز نہیں ہے۔ پھر وہی شخص دوسری صبح اس برے انسان سے ملتا اور اس کی برائی کو نظر انداز کر کے اس کے ساتھ بیٹھ کر کھاتا، پیتا اور مجلس آرائی کرتا ، یہ جب بات عام ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر ایک دوسرے کے ذریعے مہر لگا دی پھر بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا تھا، ان پر دائود اور عیسیٰ کی زبان سے لعنت بھیجی (آپ نے اس موقع پر آیت لعن الذین کفروا تافاسقون تک کی تلاوت کی پھر فرمایا :” خدا کی قسم تم لوگ بھی ضرور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو اور ظالم کا ہاتھ پکڑکر اسے ظلم کرنے سے روکتے رہو ، اسے حق کی طرف موڑ کر جھکاتے رہو ، یا کم از کم اسے حق کے اندر پابند کرتے رہو۔ ابو دائود نے کہا کہ ہمیں خلف بن ہشا م نے روایت بیان کی ، انہیں ابو شہاب الحناط نے علاء بن المسیب سے ، انہوں نے عمرو بن مرہ سے انہوں نے سالم ، انہوں نے ابو عیدہ سے ، انہوں نے حضرت ابن مسعود (رض) سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ اس روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے ۔ ورنہ اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کے ذریعے تمہارے دلوں پر مہر لگا دے گا اور تم پر بھی اسی طرح لعنت بھیجے گا جس طرح اس نے بنی اسرائیل پر لعنت بھیجی ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں آیت زیر بحث اور اس کی تاویل میں مذکورہ احادیث میں یہ دلالت موجود ہے کہ جو لوگ کھلے بندوں منکرات کا ارتکاب کرتے ہیں انکی مجالست کی ممانعت ہے نیز منکرات کی تردید کے لیے صرف اتنی بات کافی نہیں ہوگی ان پر ٹوکا جائے اور ان سے روکا جائے لیکن ان کے مرتکبین کی مجالست ترک نہ کی جائے

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٩ (کَانُوْا لاَ یَتَنَاہَوْنَ عَنْ مُّنْکَرٍ فَعَلُوْہُ ط) ۔ جس معاشرے سے نہی عن المنکر ختم ہوجائے گا ‘ وہ پورا معاشرہ سنڈاس بن جائے گا۔ یہ تو گویا انتظام صفائی ہے۔ ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اپنے ارد گرد نگاہ رکھے ‘ ایک دوسرے کو روکتا رہے کہ یہ کام غلط ہے ‘ یہ مت کرو ! جس معاشرے سے یہ تنقید اور احتساب ختم ہوجائے گا ‘ اس کے اندر لازماً خرابی پیدا ہوجائے گی ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

102. The corruption of any nation begins with that of a few individuals. If the collective conscience of that nation is alive, the pressure of public opinion keeps those persons in check and prevents the nation as a whole from becoming corrupted. But if instead of censuring such individuals, the nation leaves them free to behave corruptly, the corruption originally confined to a few continues to spread till it engulfs the whole nation. It was this which ultimately caused the degeneration of Israel. (For the curse against Israel in the words of David and Jesus see Psalms 10, 50 and Matthew 23.)

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :102 ہر قوم کا بگاڑ ابتداءً چند افراد سے شروع ہوتا ہے ۔ اگر قوم کا اجتماعی ضمیر زندہ ہوتا ہے تو رائے عام ان بگڑے ہوئے افراد کو دبائے رکھتی ہے اور قوم بحیثیت مجموعی بگڑنے نہیں پاتی ۔ لیکن اگر قوم ان افراد کے معاملہ میں تساہل شروع کر دیتی ہے اور غلط کار لوگوں کو ملامت کرنے کے بجائے انہیں سوسائیٹی میں غلط کاری کے لیے آزاد چھوڑ دیتی ہے ، تو پھر رفتہ رفتہ وہی خرابی جو پہلے چند افراد تک محدود تھی ، پوری قوم میں پھیل کر رہتی ہے ۔ یہی چیز تھی جو آخر کار بنی اسرائیل کے بگاڑ کی موجب ہوئی ۔ حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے جو لعنت بنی اسرائیل پر کی گئی اس کے لیے ملاحظہ ہو زبور ۱۰ و ۵۰ اور متی ۲۳ ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(5:79) کانوا لا یتناھون۔ وہ ایک دوسرے کو منع نہیں کیا کرتے تھے۔ ماضی استمراری نہی۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” کَانُواْ لاَ یَتَنَاہَوْنَ عَن مُّنکَرٍ فَعَلُوہُ لَبِئْسَ مَا کَانُواْ یَفْعَلُونَ (79 ” انہوں نے ایک دوسرے کو برے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا ‘ برا طرز عمل تھا جو انہوں نے اختیار کیا تھا۔ سرکشی اور ظلم ہر معاشرے میں ہوتے رہتے ہیں اس لئے کہ ہر معاشرے میں شریر ‘ مفسد اور منحرف لوگ ہوتے ہیں ، یہ زمین کسی بھی وقت شروفساد سے خالی نہیں رہ سکتی ۔ معاشرے کے اندر ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی روش نرالی ہوتی ہے لیکن معاشرے کا اجتماعی مزاج شر اور منکر کو برداشت نہیں کرتا اور سرکشی اور ظلم کو معاشرے کے مسلمات قرار پانے کی اجازت نہیں دیتا ۔ اس لئے سرکشی اور ظلم کا ارتکاب کسی بیدار معاشرے کے اندر بڑا مشکل ہوتا ہے ۔ اسی طرح زندہ معاشروں کے اندر برائی کا ارتکاب مشکل ہوتا ہے اور معاشرہ اجتماعی طور پر شر کے خلاف رد عمل ظاہر کم ہوجاتے ہیں معاشرے کے اجتماعی بندھن مضبوط ہوتے ہیں اور برائی چند افراد کے اندر محدود ہوتی ہے ۔ معاشرہ ان کا پیچھا کر رہا ہوتا ہے اور انہیں جمنے نہیں دیتا ۔ ایسے حالات میں فحاشی اور منکر شائع نہیں ہوتے ۔ پھیلتے نہیں بلکہ سکڑتے ہیں اور یہ معاشرے کے اجتماعی ضمیر اور مزاج کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ بنی اسرائیل کے اس اجتماعی منظر کو یہاں اس مکروہ شکل میں پیش کرکے اور اس پر تنقید کرکے قرآن ‘ اسلامی نظام جماعت کو یہ مشورہ دیتا ہے کہ اس کا ایک مضبوط اجتماعی وجود ہونا چاہئے اور اس وجود کے اندر اس قدر قوت دفاع ہونی چاہئے کہ وہ سرکشی اور ظلم کو برداشت ہی نہ کرے ‘ چہ جائیکہ وہ معاشرے کی ایک عام روش ہوجائے ۔ اسلامی معاشرے کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ اسے بڑی سختی سے سچائی پر قائم ہونا چاہئے اور باطل کے بارے میں سخت حساس ہونا چاہئے ۔ دین کے ذمہ داران کو چاہئے کہ وہ اس امانت کی حفاظت کریں جس کے وہ امین اور محافظ ہیں ۔ اور شر فساد سرکشی اور ظلم کی راہ روکیں اور اس معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں ۔ چاہے یہ شر ایسے حکام کی جانب سے ہو جن کا حکومت پر تسلط ہو یا ایسے سرمایہ داروں کی طرف سے ہو جنہوں نے دولت جمع کر کے اثر ورسوخ حاصل کرلیا ہو یا ایسے شرپسندوں کی طرف سے ہو جن کو معاشرے میں ایذا رسانی کی قوت حاصل ہو یا ایسے عوام کی جانب سے ہو جو بےراہ رو ہیں ۔ اسلامی نظام بہرحال خدائی نظام ہے اور اس کے خلاف اٹھنے والے بااثر ہوں یا بےاثر ہوں وہ سب باغی تصور ہوں گے ۔ اسلام اس فرض کی ادائیگی پر بہت ہی زور دیتا ہے ۔ اگر معاشرے کا اجتماعی وجود کسی شر کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا تو اسلام پورے معاشرے کو مجرم گردانتا ہے ۔ جس طرح ایک ایک فرد ذمہ دار ہے اسی طرح برائی کے خلاف اٹھنے کی ذمہ داری بھی پورے معاشرے پر عائد ہوتی ہے ۔ امام احمد (رح) نے حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کی یہ روایت نقل فرمائی ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” جب بنی اسرائیل نے برائیوں کا ارتکاب شروع کیا تو انکے علماء نے انہیں منع کیا ۔ وہ منع نہ ہوئے ‘ ان علماء نے بھی ان معصیت پیشہ لوگوں کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا اور انکے ساتھ کھانا پینا شروع کردیا ۔ اللہ نے سب کو باہم ملا دیا ۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ ان پر لعنت کی اس لئے کہ یہ لوگ سرکشی کرتے تھے اور ظلم کرتے تھے ۔ یہ بات کرتے وقت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو تکیہ سے ٹیک لگا کر لیٹے ہوئے تھے ‘ اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا :” نہیں ‘ خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ان کو حق پر سختی سے مجبور کرو گے ۔ “ ابو داؤد نے حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کی روایت نقل کی ہے ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” بنی اسرائیل میں جو پہلا نقص داخل ہوا وہ یہ تھا کہ ایک آدمی دوسرے سے ملتا تو کہتا : اے فلاں اللہ سے ڈرو اور جو کچھ تم کر رہے ہو ‘ اسے چھوڑ دو اس لئے کہ یہ جائز نہیں ہے ۔ پھر دوسرے دن اسے ملتا تو اس کی یہ بری بات اسے اس بات سے نہ روکتی کہ وہ اس کا ہم نوالہ اور ہم پیالہ بنے اور اس کا ہمنشین ہو ‘ جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے سب کو باہم ملا دیا۔ “ اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” ملعون کردیا اللہ نے ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا ۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے ۔ “ لعن سے فاسقون تک ۔ اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” ہرگز نہیں تمہیں امر بالمعروف کرنا ہوگا اور نہی عن المنکر کرنا ہوگا اور تمہیں ظالم کا ہاتھ پکڑنا ہوگا اور تمہیں ان کو حق پر کھڑا کرنا ہوگا یا تمہیں انہیں سچائی پر مجبور کرنا ہوگا ۔ “ ‘ صرف امر اور نہی سے مسئلہ ختم نہیں ہوجاتا بلکہ اصرار کرنا ہوگا کہ ظالم باز آجائیں ۔ ان کے ساتھ مقاطعہ کرنا ہوگا اور شر کو قوت سے مٹانا ہوگا ۔ فساد معصیت اور زیاتیوں کی راہ روکنی ہوگی ۔ امام مسلم نے اپنی سند کے ساتھ ابو سعید خدری (رض) کی حدیث نقل کی ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” تم میں سے جس نے بھی منکر کو دیکھا ‘ اسے چاہئے کہ وہ ہاتھ سے اسے روکے ‘ اگر طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اور اگر طاقت نہ ہو تو دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا ضعیف ترین درجہ ہے۔ “ امام احمد (رح) نے اپنی سند کے ساتھ عدی ابن عمیرہ سے نقل کیا ہے ۔ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ” اللہ خاص گناہگاروں کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب میں مبتلا نہیں کرتا ۔ ہاں جب وہ اپنے درمیان برائی کو دیکھیں اور وہ اس کے خلاف اجتجاج کرسکتے ہوں مگر نہ کریں۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو اللہ خاص مجرموں کی وجہ سے عام لوگوں کو بھی مبتلائے عذاب کرتے ہیں ۔ “ امام ترمذی نے ابو سعید سے نقل کیا ہے :” حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ! بہترین جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق ہے ۔ ‘ قرآن وسنت کی نصوص اس مفہوم میں بکثرت وارد ہیں ۔ اسلامی معاشرہ ایسا ہونا چاہئے کہ اس میں صورت یہ نہ ہو کہ ایک شخص برائی دیکھے اور کہے مجھے اس سے کیا واسطہ ؟ بلکہ اسلامی معاشرے کے اندر برائی کے خلاف اٹھ کھڑا ہو ۔ وہ حدود شریعت کے حق میں اٹھ کھڑا ہو اور یہی وہ جذبہ ہوتا ہے جس پر ایک اسلامی جماعت کی اساس ہے ‘ اس کے سوا ایک مسلم معاشرے کے وجود کا تصور ہی نہ ہوگا ۔ یہ حمیت اور جذبہ قلب میں تب پیدا ہوگا جب انسان میں اللہ کے اوپر پختہ یقین پیدا ہوجائے اور اسے یہ شعور ہو کہ اس ایمان کے تقاضے کیا ہیں ۔ پھر اسے اسلامی نظام زندگی کا صحیح فہم حاصل ہو اور اسے یہ احساس ہو کہ اسلامی نظام زندگی ایک مکمل نظام ہے وہ اس نظریے کو سنجیدگی کے ساتھ لے اور اس کے قیام کے لئے جدوجہد شروع کردے ۔ اسلامی معاشرہ ہوتا ہی وہ ہے جس میں قانون کا ماخذ شریعت الہی ہو ۔ اس کی اٹھان اسلامی منہاج پر ہو ‘ اور یہ معاشرہ ایک مسلمان کو اس بات کا موقع دیتا ہو کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرسکے ۔ یہ اس کا انفرادی علم نہ ہو کہ وہ اصلاح کی لہریں اٹھائے اور سمندر کے اندر گم ہوجائیں ۔ حالات ایسے نہ ہوں کہ ایک مسلمان سرے سے اصلاح کر ہی نہ سکے ‘ جیسا کہ آج کل عالم اسلام کے اکثر اوطان میں صورت حال ایسی ہے کہ انفرادی طور پر بھی کوئی امر بالعروف کا فریضہ ادا نہیں کرسکتا کیونکہ عالم اسلام کا اجتماعی نظام اس اصول پر قائم ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کے معاملات میں دخل ہی نہیں دے سکتا اور اسامی معاشروں میں فسق وفجور اور اللہ کی معصیت کو لوگوں کے شخصی معاملات سمجھتا ہے ۔ کوئی کسی کے کام میں دخل نہیں دے سکتا بلکہ اسلامی معاشروں میں ظلم ‘ مار دھاڑ ‘ سرکشی اور زیادتی اور اس قدر طاقتور ہیں کہ ڈر کے مارے لوگوں کے منہ بالکل بند ہیں۔ زبانوں پر تالے لگے ہوئے ہیں اور جو شخص بھی برائی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اس پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں ۔ حقیقی جدوجہد اور بھاری قربانیاں اس امر کے لئے دینی چاہئیں کہ ایک فلاحی اور خیر پسند معاشرہ قائم ہو اور فلاح اور خیر پر مشتمل معاشرہ صرف اسلامی نظام کے زیر سایہ ہی قائم ہو سکتا ہے اور یہ نیک معاشرہ دوسری جزوی اصلاحات اور شخصی بھلائی کے معاملات سے بھی پہلے بذریعہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر قائم ہونا چاہئے ۔ اگر پورا معاشرہ گندہ ہو تو کسی فرد کو ستھرا نہیں کہا جاسکتا ۔ جبکہ جاہلیت کی سرکشی غالب ہو اور معاشرے کا اجتماعی ڈھانچہ جاہلیت پر قائم ہو ۔ اس میں قانون شریعت نافذ نہ ہو ‘ تو ایسے حالات میں ابتدائی کام شروع کرنا چاہئے اور نیکی کو جڑوں سے اٹھنا چاہئے اور وہ اس طرح ممکن ہے کہ کسی خطے میں اسلامی سلطنت قائم ہو اور جب یہ اقتدار قائم ہوجائے تو پھر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام بنیاد سے شروع ہوگا۔ یہ تمام امور پختہ ایمان کے متقاضی ہیں اور اس بات کے محتاج ہیں کہ نظام زندگی کی تبدیلی میں عزم ویقین کا کام شروع کیا جائے ۔ جب ایمان کامل ہوگا تو اللہ پر اعتماد ہوگا ۔ اور جب اللہ پر اعتماد ہوگا تو راستہ جس قدر طویل ہو ‘ پروانہ ہوگا اور انسان اپنے اجر کا امیدوار اللہ سے ہوگا ۔ پھر یہ مومن اس شخص کا انتظار نہیں کرتا جو اس دنیا میں بھی کچھ چاہتا ہے ۔ نہ مومن گمراہ معاشرے کو خاطر میں لاتا ہوگا ۔ پھر یہ مومن اس شخص کا انتظار نہیں کرتا جو اس دنیا میں بھی کچھ چاہتا ہے ۔ نہ مومن گمراہ معاشرے کو خاطر میں لاتا ہے اور نہ وہ اہل جاہلیت سے کوئی نصرت طلب کرتا ہے ۔ وہ تمام نصوص قرآنی اور احادیث نبوی جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں وارد ہیں وہ ایک اسلامی معاشرے میں ایک مسلم کے فرائض کا تعین کرتی ہیں ۔ وہ معاشرہ جس نے اللہ کے اقتدار اعلی کے اصول کو تسلیم کر لیا ہوتا ہے جس میں اللہ کی شریعت نافذ ہوچکی ہوتی ہے اگرچہ اس میں حکومت ظالمانہ ہو ‘ اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ گناہ پھیل جاتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” افضل جہاد ظالم سلطان کے سامنے کلمہ حق ہے ۔ امام جائز بہرحال امام ہوتا ہے اور جب تک یہ ظالم بادشاہ بھی اللہ کی حاکمیت کو تسلیم نہ کرے وہ امام بن ہی نہیں سکتا ۔ جب تک وہ شریعت قائم نہ کرے وہ امام نہیں ہے ۔ وہ تو کچھ اور ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ۔ (آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون) ” جس نے اس قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں ۔ جاہلی معاشروں کے اندر ہونے والا بڑا منکر ‘ جس سے تمام منکرات پیدا ہوتے ہیں وہ یہی منکر ہے جس کی رو سے اللہ کے حق حاکمیت کو مسترد کیا ہوا ہوتا ہے اور اللہ کی شریعت کے قانون کو نافذ نہیں کیا جاتا ۔ اب اگر ایسے معاشرے سے واسطہ ہے تو اہل ایمان کو سب سے پہلے اس عظیم منکر کا قلع قمع کرنا چاہئے کیونکہ یہ ایک بنیادی منکر ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ اس کے خلاف نکیر کریں اور دوسرے جزوی منکرات میں وقت ضائع نہ کریں جو اس بڑے منکر کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں ۔ وہ تو اس کے فروعات ہیں اور ان کا وجود ہی اس بڑے منکر کا مرہون منت ہے ۔ اس میں کوئی فائدہ نہ ہوگا کہ ہم اپنی قوتیں ان جزوی منکرات کے خلاف جدوجہد میں ضائع کریں ۔ بہت سے نیک فطرت اور صالح لوگ ان جزوی منکرات کے خلاف جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں حالانکہ یہ منکرات اس منکر اکبر کی پیداوار ہیں ۔ وہ منکر یہ ہے کہ لوگ اللہ کے حقوق پر دست درازی کرکے اللہ کے حق حاکمیت کو سلب کرتے ہیں ‘ اور اللہ کی شریعت کا انکار کرتے ہیں ۔ اس لئے ہمیں اپنی قوتیں ان جزوی منکرات کے ازالے میں ضائع نہیں کرنا چاہئیں ‘ جو اس منکراول یعنی طاغوتی اقتدار اعلی کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں ۔ اس میں کوئی شک اور بحث نہیں ہے کہ یہ اسی کا نتیجہ ہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایک طاغوتی معاشرے میں جب ہم لوگوں کو نہی عن المنکر کرتے ہوئے کہیں کہ یہ برا کام ہے ایسا مت کرو ‘ تو ہمارے سامنے معیار اور پیمانہ کیا ہوگا ۔ مثلا ایک اسلامی آدمی کہے کہ یہ منکر ہے اور ادھر ادھر سے دس افراد اٹھ کھڑے ہوجائیں گے اور کہیں گے ہر گز نہیں ‘ یہ تو برا کام نہیں ہے ۔ ہاں پرانے زمانے کی باتیں کرتے ہوئے ‘ یہ بات کبھی ایسی تھی ۔ اب دنیا بدل گئی ہے ۔ معاشرہ ترقی کر گیا ہے اور اب اقدار بدل گئی ہیں ۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ ایک پیمانہ ہو اور تمام لوگ اچھائی اور برائی کو اس کے مطابق جانچیں ۔ اب یہ پیمانہ اور یہ اقدار ہم کہاں سے اخذ کریں ۔ یہ میزان اور معیار کہاں سے لائیں ؟ کیا لوگوں کے اندازے ‘ لوگ کے رواج ‘ ان کی خواہشات پیمانہ حسن وقبح قرار پائیں ۔ یہ چیزیں تو بدلتی رہتی ہیں ۔ اس طرح تو ہم ایک ایسے صحرا میں داخل ہوجائیں گے جس میں کوئی راہنما نہ ہوگا اور ایسے سمندر میں داخل ہوں گے جو بےکنار ہوگا ۔ لہذا میزان عدل کا قیام پہلے ضروری ہے ۔ اس میزان اور پیمانے کو مستقل ہونا چاہئے جو لوگوں کی خواہشات کے مطابق بدلتا ہوا نہ ہو ۔ اور یہ ہے اللہ کا ترازو ‘ مستقل اور دائمی ۔ اب اگر کوئی معاشرہ سرے سے اللہ کے میزان ہی کو تسلیم نہیں کرتا تو ۔۔۔۔۔ جب لوگ اپنے فیصلے شریعت کے مطابق ہی نہیں کرتے تو ۔۔۔۔ بلکہ صورت یہ ہو کہ جو شخص اسلامی نظام کا داعی ہو ‘ اس پر ظلم ہو رہا ہو ‘ اس سے انتقام لیا جا رہا ہو ‘ اس کے ساتھ تمسخر اور مزاح ہو رہا ہو تو ۔۔۔۔۔ کیا ایسے حالات میں جزوی اصلاح کی جدوجہد ضائع نہ ہوگی محض مذاق ہو کر نہ رہ جائے گی ‘ کیا فائدہ ہوگا کہ تم ایسے معاشرے میں اٹھو اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو اور بعض جزئیات کی اصلاح کے لئے انجمن بنا کر جدوجہد شروع کر دو جن کے تولنے کے بارے میں لوگوں کے پیمانے اور میزان مختلف ہوں جن کے اندر مختلف الرائے ہوں ‘ ہر شخص اپنی خواہشات کے مطابق رہ لینے میں آزاد ہو ۔ لہذا ضروری ہے کہ اصولا ایک جج پر اتفاق ہو ‘ ایک پیمانے پر اتفاق ہو ‘ ایک مقتدر اعلی اور حاکم پر اتفاق ہو ‘ اس فورم پر اتفاق ہو جو فیصلہ کرے گا اور اختلاف رائے کی صورت میں اس کا جو فیصلہ ہو اور اسے تسلیم کیا جائے ۔ یہ ضروری ہے کہ سب سے پہلے معروف اکبر کو قائم کیا جائے اور معروف اکبر یہ ہے کہ اللہ کے حق حاکمیت کو تسلیم کرایا جائے اور اسلامی نظام حیات کے نفاذ کی جدوجہد کی جائے ، سب سے پہلے نہی عن المنکر الاکبر کیا جائے اور منکر اکبر یہ ہے کہ اللہ کے اقتدار اعلی کا انکار ہو رہا ہو ۔ اللہ کی شریعت متروک ہو ۔ اس اساس کو استوار کر کے ہی صالح معاشرے کی تعمیر ممکن ہے ۔ اس کے بعد پھر ہر طرف سے اصلاح معاشرہ کی کوششیں شروع کی جاسکتی ہیں ۔ لیکن اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام کوششوں کو مجتمع کرلیا جائے ‘ ان ایک سمت میں لگا دیا جائے اور اس اساس کو قائم کیا جائے یعنی اسلامی نظام حکومت ۔ بعض اوقات انسان دیکھتا ہے کہ بہت ہی اچھے لوگ ‘ نہایت ہی عظیم جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں اور وہ امر بالعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہیں ۔ لیکن فروعی منکرات میں ۔ جبکہ وہ اساس جس پر اسلامی معاشرہ کی تعمیر ہوتی ہے اور جس کے اوپر امر بالمعروف ونہی عن المنکر قائم ہوتا ہے وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے ۔ کیا فائدہ ہوگا کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں لوگوں کو زنا سے روکیں جو زنا کو سرے سے جرم ہی تصور نہیں کرتا ۔ صرف جبری مباشرت کو جرم تصور کرتا ہے ‘ اور جبری مباشرت میں بھی شریعت کے مطابق سزا نہیں دیتا اس لئے کہ وہ اللہ کی حاکمیت کو تسلیم ہی نہیں کرتا ۔ نہ وہ شریعت کو نظام زندگی تسلیم کرتا ہے ۔ کیا فائدہ ہے کہ ہم لوگوں کو اسلام کے خلاف لعن طعن کرنے سے روکیں ایک ایسے معاشرے میں جس میں اللہ کی حکومت کا اعتراف نہ ہو ‘ جس میں اللہ کی بندگی نہ ہوتی ہو ‘ بلکہ اس میں انسانوں کو رب بنایا گیا ہو ۔ انسان لوگوں کے لئے پارلیمنٹ سے قانون نازل کرتے ہوں ‘ لوگوں کے لئے نظام زندگی اور زندگی کے طور طریقے وضع کرتے ہوں ‘ ان کے لئے اقدار حیات اور حسن وقبیح کے پیمانے وضع کرتے ہوں اور گالیاں دینے والا جسے گالیاں دی جارہی ہیں وہ دونوں اللہ کے دین سے خارج ہوں ۔ حالات میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فائدہ کیا ہوگا ؟ صغائر تو صغائر میں کہتا ہوں ان کبائر سے روکنے کا فائدہ کیا ہوگا ؟ جبکہ اکبر الکبائر سے کوئی کسی کو نہ روکتا ہو ‘ کفر عام ہو اور اللہ کی شریعت اور نظام زندگی متروک ہو ۔ یہ معاملہ اس سے بہت برا اور بہت اہم ہے ۔ یہ نیک لوگ جو سعی اور جہد کر رہے ہیں اس سے یہ بہت ہی بڑا ہے ۔ یہ ایسا مرحلہ نہیں ہے جس کے اندر ہم فروعی معاملات اور جزوی اصلاحات کے اندر اپنی قوتیں ضائع کریں ۔ میں کہتا ہوں کہ اگر جزوی معاملات نہ ہوں بڑے معاملات نہ ہوں اور جزوی اصلاحات کے اندر اپنی قوتیں ضائع کریں ۔ میں کہتا ہوں کہ اگر جزوی معاملات نہ ہوں بڑے معاملات ہوں بلکہ حدود اللہ کیوں نہ ہوں لیکن حدود اللہ بھی تب قائم ہوں گی کہ ہم اللہ کی حاکمیت اور اقتدار اعلی کا اعتراف کرلیں اور یہ مسئلہ طے ہوجائے کہ اقتدار اعلی اللہ کا ہوگا ۔ اللہ کے سوا کسی کو حق حاکمیت حاصل نہ ہوگا ۔ جب تک یہ اعتراف حقیقت واقعیہ نہیں بن جاتا ‘ جب تک شریعت کو ماخذ قانون قرار نہیں دے دیا جاتا ‘ جب تک اللہ کی ربوبیت اور اللہ کی حاکمیت حکومت اور قوت کے ماخذ نہ بن جائیں تو فروعات کے اندر تمام کوششیں اور تمام انفرادی مساعی ضائع ہوں گی اور ہوتی رہیں گی ۔ مناسب یہی ہے کہ ہم سب سے پہلے منکراکبر کے خلاف جہدوجہد شروع کردیں اور تمام دوسرے منکرات کو بعد میں لیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان یہ ہے کہ جو بھی تم میں سے کسی منکر کو پائے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے ہاتھ سے روکے اگر طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اور اس کی بھی طاقت نہ ہو ‘ دل سے برا جانے اور یہ ضعیف الایمان کا درجہ ہے ۔ اہل دین پر ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ منکر کو ہاتھ سے نہیں روک سکتے ۔ وہ زبان وقلم سے بھی منکر کے خلاف کوئی کام نہیں کرسکتے ۔ اس کے بعد اضعف الایمان کا درجہ ہی رہ جاتا ہے ۔ دل سے برا جاننا ۔ دل کی دنیا میں تو کوئی مداخلت کر ہی نہیں سکتا ۔ اس لئے دل کی دنیا والے ہمیشہ اضعف الایمان کے درجے میں ہوئے ہیں ‘ یعنی برائی کو دل سے برا جاننا ۔ اگر وہ سچے مسلمان ہوں اور دل سے برائی کو برا سمجھتے ہیں۔ یہ کوئی منفی موقف نہیں ہے جو کوئی برائی کے خلاف اختیار کرے گا ۔ جیسا کہ بظاہر نظر آتا ہے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو انداز بیان اختیار کیا ہے وہ مثبت انداز ہے ۔ مثلا دل سے برائی کو برا سمجھتا ہی دل کی جانب سے ایک مثبت کام ہے ۔ مثلا دل اسے برا سمجھتا ہے ‘ اس سے نفرت کرتا ہے اور منکر کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالتا ۔ اور دل و دماغ ایسی صورت حال کو جائز قانونی صورت نہیں سمجھتے ۔ اور جب دل و دماغ کسی صورت حال کو تسلیم نہیں کرتے تو یہ بھی درحقیقت اس صورت حالات کو ختم کرنے کی طرف ایک مثبت اقدام ہوتا ہے ۔ دل میں یہ عزم ہوتا ہے کہ جب بھی فرص ملے گی اس منکر صورت حال کی جگہ معروف صورت حال کو قائم کردیا جائے اور ایسا شخص انتظار میں بیٹھا ہوگا کہ کس وقت وہ منکر پر حملہ آور ہو اور یہ تمام کام ایجابی اور مثبت کام ہیں اگرچہ یہ ایک ضعیف درجہ ہے ۔ کسی برے وقت میں ایک مسلمان کے لئے یہ بھی کیا کم ہے کہ وہ اس درجے پر قائم رہے ۔ کم ازکم وہ منکر کے سامنے ہتھیار تو نہیں ڈالتا کہ منکر ایک واقعہ ہے اسے مان ہی لو۔ اور بعض اوقات جب احساس زیاں ختم ہوجاتا ہے تو انسا اضعف الایمان کے مقام سے بھی گر جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور پھر کیا ہوتا ہے ؟ یہ کہ بنی اسرائیل کی طرح پورا معاشرہ لعنت کا مستحق ہوجاتا ہے اور اللہ کا یہ قول ان پر صادق آتا ہے ۔ ” بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ان پر داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی کیونکہ وہ سرکش ہوگئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے ۔ انہوں نے ایک دوسرے کو برے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا ۔ اب اس سے آگے بھی بات بنی اسرائیل ہی کی چلتی ہے اور اس پر ہمارے اس پارے کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ان کے جو شب وروز تھے وہ بتائے جاتے ہیں ۔ کم وبیش ہر دور میں ان کے حالات ایسے ہی رہے ہیں ۔ ان لوگوں نے ہمیشہ اہل اسلام اور جماعت مسلمہ کے خلاف کفار اور بت پرستوں کے ساتھ ایکا کیا اور اس کا سبب یہ ہے ‘ باوجود اس کے کہ وہ اہل کتاب ہیں ‘ وہ اللہ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہیں لائے ۔ چونکہ وہ اس آخری دین میں داخل نہیں ہوئے وہ مومن نہیں ہیں ۔ اگر یہ مومن ہوتے تو کافروں کے ساتھ تعلق موالات قائم نہ کرتے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

امت محمدیہ میں نہی عن المنکر کا فقدان یہ نقص جو بنی اسرائیل میں تھا دور حاضر کے مسلمانوں میں بھی ہے گناہوں سے روکنے کی قدرت ہوتے ہوئے گناہوں پر نہیں ٹوکتے، گناہگاروں سے ملتے جلتے ہیں ان سے تعلق رکھتے ہیں اور تعلقات کشیدہ ہونے کے ڈر سے ان کو گناہ سے نہیں روکتے، خالق مالک جل مجدہ، کی ناراضگی کا خیال نہیں کرتے مخلوق کی ناراضگی کا خیال کرتے ہیں کہ اسے گناہ سے روک دیا تو یہ ناراض ہوجائیگا۔ بنی اسرائیل کے اسی طرز کو بیان فرما کر ارشاد فرمایا (لَبِءْسَ مَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ ) کہ برا ہے وہ عمل جو وہ کرتے تھے۔ بنی اسرائیل والے طریقے مدعیان اسلام نے بھی اپنا لئے اسی لئے دنیا میں عام عذاب اور عقاب میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

139 یہ ان ملعونین کی نافرمانی اور تجاوز عن الحد کی تفصیل ہے۔ یعنی جو برے افعال اور بد اعمالیاں ان کی قوم میں رائج تھیں اور جن کا وہ ارتکاب کرتے تھے ان سے وہ ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کافرانہ روش اختیار کی تھی وہ لوگ دائود اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے ملعون قرار دیئے گئے یعنی زبور اور انجیل میں ان پر لعنت کی گئی یہ لعنت اس لئے کی گئی کہ وہ نافرمانی کرنے کے عادی تھے اور شریعت الٰہی کی مخالفت کیا کرتے تھے اور اس نافرمانی میں حد سے بہت دور نکل جاتے تھے انہوں نے جو برے کا م اختیار کر رکھے تھے اس سے آپس میں ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے اور اس برے کام سے باز نہ آتے تھے واقعی ان کا یہ فعل جس کے وہ مرتکب تھے بہت برا تھا۔ (تیسیرا) خلاصہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر اور بد اعمالی کو اپنا شیوہ بنا لیا تھا ان پر زبور اور انجیل میں لعنت کی گئی اور چونکہ یہ دونوں کتابیں حضرت دائود (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کی زبان سے ظاہر ہوئیں اس لئے لعنت کا ظہور بھی انہی کی زبان سے ہوا اس لعنت کا سبب بھی بتادیا کہ آسمانی دین کی مخالفت کے خوگر ہوگئے تھے اور حد سے بہت دور نکل گئے تھے عقائد کی خرابی کو کفر فرمایا پر اس کفر میں بھی بہت سخت تھے اور حد سے بہت تجاوز کر گئے تھے اور جس برے کام کے وہ مرتکب تھے اس سے آپس میں ایک دوسرے کو منع بھی نہیں کرتے تھے اور یہ بات بہت ہی بری تھی جو وہ کر رہے تھے کہ برائی سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ کانوا الایتناھون کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ باز نہ آتے تھے ہم نے تیسیر میں دونوں معنی کردیئے ہیں۔ ذلک بما عصراوکانوایعتدون کا ایک مطلب تو یہی ہے جو ہم نے اختیار کیا ہے اور بعض مفسرین نے دوسری طرح کیا ہے ینی وہ نافرمانتھیا ور حدود شرعیہ سے تجاوز کر گئے تھے ۔ (واللہ اعلم) اب آگے پھر ان یہود کی مشرکین سے دوستی کا ذکر فرمایا تاکہ ان کی مخالفت مزید واضح ہوجائے اور ان کی نافرمانی اور ان کے اعتدا پر دلیل ہو سکے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)