Surat ul Maeeda

Surah: 5

Verse: 81

سورة المائدة

وَ لَوۡ کَانُوۡا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مَا اتَّخَذُوۡہُمۡ اَوۡلِیَآءَ وَ لٰکِنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۸۱﴾

And if they had believed in Allah and the Prophet and in what was revealed to him, they would not have taken them as allies; but many of them are defiantly disobedient.

اگر انہیں اللہ تعالٰی پر اور نبی پر اور جو نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان ہوتا تو یہ کفار سے دوستیاں نہ کرتے ، لیکن ان میں کے اکژ لوگ فاسق ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلَوْ كَانُوا يُوْمِنُونَ بِالله والنَّبِيِّ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَاء ... And had they believed in Allah, and in the Prophet and in what has been revealed to him, never would they have taken them as friends. meaning, had they sincerely believed in Allah, His Messenger and the Qur'an, they would not have committed the evil act of supporting the disbelievers in secret and being enemies with those who believe in Allah, the Prophet and what was revealed to him, ... وَلَـكِنَّ كَثِيرًا مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ but many of them are rebellious. disobedient to Allah and His Messenger and defiant of the Ayat of His revelation that He sent down.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

81۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے اندر صحیح معنوں میں ایمان ہوگا، وہ کافروں سے کبھی دوستی نہیں کرے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢٧] انہیں چاہیے تو یہ تھا کہ وہ کسی اہل کتاب سے ہی دوستی لگاتے۔ تاکہ کسی نہ کسی حد تک ان میں عقائد کی ہم آہنگی ہوتی جو ان کی دوستی کی بنیاد بن سکتی لیکن وہ اسلام دشمنی میں اتنے اندھے ہوگئے ہیں کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں مشرکین کو دوستی کے لیے چنتے ہیں اور زبانی بھی مشرکوں سے کہتے ہیں کہ دین کے لحاظ سے تم مسلمانوں سے اچھے ہو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَوْ كَانُوْا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ ۔ : یعنی اگر وہ واقعی اللہ تعالیٰ پر اور اپنے نبی (موسیٰ و عیسیٰ (علیہ السلام ) پر اور ان پر نازل شدہ کتاب (تورات و انجیل) پر ایمان رکھتے تو کبھی مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستی قائم نہ کرتے، کیونکہ تورات میں اس کام کو حرام کہا گیا ہے، یا یہ کہ اگر وہ کفار صدق دل سے ایمان لائے ہوتے، نفاق کے مریض نہ ہوتے تو پھر یہ کبھی ان سے دوستی پیدا نہ کرتے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَوْ كَانُوْا يُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالنَّبِيِّ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْہِ مَا اتَّخَذُوْہُمْ اَوْلِيَاۗءَ وَلٰكِنَّ كَثِيْرًا مِّنْہُمْ فٰسِقُوْنَ۝ ٨١ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ نبی النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر والمحلِّ ، ولذلک قال عليه الصلاة والسلام لمن قال : يا نَبِيءَ اللہ فقال : «لَسْتُ بِنَبِيءِ اللہ ولكنْ نَبِيُّ اللهِ» لمّا رأى أنّ الرّجل خاطبه بالهمز ليَغُضَّ منه . والنَّبْوَة والنَّبَاوَة : الارتفاع، ومنه قيل : نَبَا بفلان مکانُهُ ، کقولهم : قَضَّ عليه مضجعه، ونَبَا السیفُ عن الضَّرِيبة : إذا ارتدَّ عنه ولم يمض فيه، ونَبَا بصرُهُ عن کذا تشبيهاً بذلک . ( ن ب و ) النبی بدون ہمزہ کے متعلق بعض علمائے نحو نے کہا ہے کہ یہ اصل میں مہموز ہے لیکن اس میں ہمزہ متروک ہوچکا ہے اور اس پر وہ مسلیمۃ بنی سوء کے محاورہ سے استدلال کرتے ہیں ۔ مگر بعض علما نے کہا ہے کہ یہ نبوۃ بمعنی رفعت سے مشتق ہے اور نبی کو نبی اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے اندر معزز اور بلند اقداد کا حامل ہوتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ :۔ وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] اور ہم نے ان کو بلند در جات سے نوازا کے مفہوم سے سمجھاتا ہے پس معلوم ہوا کہ نبی بدوں ہمزہ ( مہموز ) سے ابلغ ہے کیونکہ ہر منبا لوگوں میں بلند قدر اور صاحب مرتبہ نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ جب ایک شخص نے آنحضرت کو ارہ بغض ا نبی اللہ کہہ کر کر پکارا تو آپ نے فرمایا لست ینبی اللہ ولکن نبی اللہ کہ میں نبی اللہ نہیں ہوں بلکہ نبی اللہ ہوں ۔ النبوۃ والنباوۃ کے معنی بلندی کے ہیں اسی سے محاورہ ہے ۔ نبا بفلان مکا نہ کہ اسے یہ جگہ راس نہ آئی جیسا کہ قض علیہ مضجعۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی بےچینی سے کروٹیں لینے کے ہیں نبا السیف عن لضربیۃ تلوار کا اچٹ جانا پھر اس کے ساتھ تشبیہ دے کر نبا بصر ہ عن کذا کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے کرا ہت کرنے کے ہیں ۔ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ فسق فَسَقَ فلان : خرج عن حجر الشّرع، وذلک من قولهم : فَسَقَ الرُّطَبُ ، إذا خرج عن قشره وهو أعمّ من الکفر . والفِسْقُ يقع بالقلیل من الذّنوب وبالکثير، لکن تعورف فيما کان کثيرا، وأكثر ما يقال الفَاسِقُ لمن التزم حکم الشّرع وأقرّ به، ( ف س ق ) فسق فسق فلان کے معنی کسی شخص کے دائر ہ شریعت سے نکل جانے کے ہیں یہ فسق الرطب کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی گدری کھجور کے اپنے چھلکے سے باہر نکل آنا کے ہیں ( شرعا فسق کا مفہوم کفر سے اعم ہے کیونکہ فسق کا لفظ چھوٹے اور بڑے ہر قسم کے گناہ کے ارتکاب پر بولا جاتا ہے اگر چہ عرف میں بڑے گناہوں کے ارتکاب پر بولا جاتا ہے اور عام طور پر فاسق کا لفظ اس شخص کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو احکام شریعت کا التزام اور اقرار کر نیکے بعد تمام یا بعض احکام کی خلاف ورزی کرے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے ولو کانوا یومنون باللہ والنبی وما انزل الیہ ما اتخذوھم اولیاء اگر یہ لوگ اللہ ، نبی اور نبی پر نازل شدہ کتاب پر ایمان رکھتے تو انہیں ہرگز اپنا دوست نہ بناتے۔ حسن اور مجاہد سے مروی ہے یہ آیت ان منافقین کے بارے میں ہے جو یہود میں سے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ یہ لوگ اللہ پر ، اس کے نبی پر ایمان نہیں رکھتے تو انہیں ہرگز اپنا دوست نہ بناتے حسن اور مجاہد سے مروی ہے کہ یہ آیت ان منافقین کے بارے میں ہے جو یہود میں سے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ یہ لوگ اللہ پر ، اس کے نبی پر ایمان نہیں رکھتے اگرچہ ایمان کا اظہار بھی کرتے ہیں ایک قول ہے کہ نبی سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں ، آپ پر ان یہودیوں کا ایمان نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہ لوگ مشرکین کو اپنا رفیق اور دوست بناتے ہیں

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨١) اور اگر یہ منافقین اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن حکیم پر ایمان رکھتے اور یہود کو اپنا مددگار اور دوست نہ بناتے مگر یہ اہل کتاب منافق ہیں یا یہ کہ اگر یہ یہودی توحید خداوندی اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر ایمان لاتے اور ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کو دوست نہ بناتے مگر ان اہل کتاب میں زیادہ کافر ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

103. It seems natural that those who believe in God and the Prophets and the Scriptures, compared with the polytheists, would naturally be more sympathetic to those who at least share with them belief in God, in prophethood and in .revelation (whatever their disagreements on other religious issues). It was ironic, therefore, that the Jews should openly support the polytheists in the struggle between polytheism and monotheism, and that their sympathies in the conflict between those who rejected prophethood and those who believed in it should lie expressly with the former. Despite all this, they brazenly claimed to be true believers in God, in the Prophets and in the Scriptures.

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :103 مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خدا اور نبی اور کتاب کے ماننے والے ہوتے ہیں انہیں فطرۃً مشرکین کے مقابلہ میں ان لوگوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی ہوتی ہے جو مذہب میں خواہ ان سے اختلاف ہی رکھتے ہوں ، مگر بہرحال انہی کی طرح خدا اور سلسلہ وحی و رسالت کو مانتے ہوں ۔ لیکن یہ یہودی عجیب قسم کے اہل کتاب ہیں کہ توحید اور شرک کی جنگ میں کھلم کھلا مشرکین کا ساتھ دے رہے ہیں ، اقرار نبوت اور انکار نبوت کی لڑائی میں علانیہ ان کی ہمدردیاں منکرین نبوت کے ساتھ ہیں ، اور پھر بھی وہ بلا کسی شرم و حیا کے یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ ہم خدا اور پیغمبروں اور کتابوں کے ماننے والے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(5:81) النبی۔ سے یہاں مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ جنہوں نے صریحاً حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق پیشنگوئی فرمائی تھی۔ اگر یہودی صحیح طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم کو مانتے تو وہ کبھی بھی مخالفین رسول اکرم سے محبت یا تعلق نہ رکھتے۔ اتخذوھم۔ میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب الذین کفروا (آیۃ ماقبل) کی طرف راجع ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 یا یہ کہ اگر وہ واقعی اللہ تعالیٰ پر اور اپنے نبی حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) یا حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) اور ان پر نازل شدہ کتاب توراۃ انجیل پر ایمان رکھتے تو کبھی مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستی قائم نہ کرتے کیونکہ توراۃ میں اسے حرام قرار دیا گیا ہے اور یا یہ کہ اگر وہ کفار اسلام لے آتے تو پھر کبھی ان سے دوستی پیدا نہ کرتے ( کبیر۔ ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ کثیر کا مصداق دونوں جگہ ایک ہی ہے یعنی غیر مومن اور یہ قید اخراج مومنین کے لیے ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب پر ناراضگی کا اظہار کرنے کے باوجود ان کو ایک موقع اور دیا گیا ہے کہ اگر ایمان لائیں تو آخرت کے عذاب اور دنیا کی ذلت سے بچ سکتے ہیں۔ اہل کتاب پھٹکار کے مستحق قرار دیے گئے ہیں تو یہ ان کے عقیدہ اور کردار کا نتیجہ ہے تاہم اگر یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول پر خالص ایمان لائیں۔ قرآن کی اتباع کریں، خدا کے باغیوں اور منکروں سے محبت کرنے کی بجائے مسلمانوں سے محبت واخوت کا رشتہ جوڑیں تو لعنت کی بجائے اللہ کی رحمت کے مستحق قرار پائیں گے یہاں اللہ، اس کے رسول اور قرآن مجید پر ایمان کے ساتھ تیسری شرط یہ بیان ہوئی ہے کہ ان کی ہمدردیاں، رشتہ داریاں کفار کی بجائے مسلمانوں کے ساتھ ہونی چاہئیں یہی ان کی عزت رفتہ کا زینہ ہے یہاں یہ بات دو ٹوک انداز میں واضح کردی ہے کہ اہل کتاب دنیا اور آخرت کی ذلت مول لے لیں گے لیکن اللہ، اس کے رسول پر مخلصانہ ایمان لانے اور مسلمانوں سے رشتۂ اخلاص قائم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے کیونکہ ان کی غالب اکثریت فاسق افراد پر مشتمل ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی اور کتاب اللہ پر ایمان لانے والے کفار سے دوستی نہیں کرتے۔ ٢۔ بنی اسرائیل کی اکثریت نافرمان ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” وَلَوْ کَانُوا یُؤْمِنُونَ بِاللہ والنَّبِیِّ وَمَا أُنزِلَ إِلَیْْہِ مَا اتَّخَذُوہُمْ أَوْلِیَاء وَلَـکِنَّ کَثِیْراً مِّنْہُمْ فَاسِقُونَ (81) ” اگر فی الواقعہ یہ لوگ اللہ اور پیغمبر اور اس چیز کو ماننے والے ہوتے جو پیغمبر پر نازل ہوئی تھی تو کبھی کافروں کو اپنا رفیق نہ بناتے مگر ان میں سے بیشتر تو خدا کی اطاعت سے نکل چکے ہیں ۔ یہ ہے اصل سبب کہ وہ اللہ اور نبی اخر الزمان پر ایمان نہیں لائے ۔ ان کی اکثریت فسق وفجور میں مبتلا ہے ۔ یہ اپنے شعور اور اپنے رخ کے اعتبار سے کفار کے ہم جنس ہیں ۔ اس لئے یہ لوگ کفار کے دوست ہوگئے ہیں اور اہل ایمان سے دوستی نہیں کرتے ۔ اس قرآنی تبصرے سے ہمیں تبصرے سے ہمیں تین واضح طور پر ملتے ہیں ۔ پہلی حقیقت یہ ہے کہ اہل کتاب سب کے سب ‘ ماسوائے ان کے جو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے ‘ مومن نہیں ہیں اس لئے کہ وہ رسول آخر الزمان پر ایمان نہیں لائے ۔ قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ وہ نبی پر ایمان نہیں لائے بلکہ یہ بھی کے ساتھ دوستی و محبت نہ کرتے ۔ “ یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اس میں تاویل کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ چاہے زبانی طور پر اہل کتاب جس قدر دعوائے ایمان کریں ۔ اور اگر ہم خدا تعالیٰ کے بارے میں ان کے منحرف اور فاسد عقائد و تصورات پر بھی غور کریں جن کی تفسیر ہم نے اسی سبق میں ابھی ابھی دی ہے تو ان کے اندر اللہ پر بھی ایمان نہیں ہے ۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ تمام اہل کتاب کو اسلام دعوت دیتا ہے کہ وہ اسلام میں داخل ہوں ۔ اور یہ دعوت انہیں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے دی گئی ہے ۔ اگر وہ اس دعوت کو قبول کریں تو مومن ہیں ورنہ نہیں ہیں ۔ اور تیسری حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ اہل اسلام اور اہل کتاب کے درمیان موالات اور دوستی کا تعلق قائم نہیں ہو سکتا ۔ اور یہ تعلق کسی بھی معاملے میں نہیں ہو سکتا اس لئے کہ مسلمان کے تمام حالات زندگی دین کے تابع ہوتے ہیں اور یہ لوگ دین اسلام کے دشمن ہیں ۔ رہی یہ بات کہ اسلام اہل کتاب کے ساتھ حسن معاشرت اور اچھا طرز عمل اختیار کرنے کی ہدایت کرتا ہے ان کے جان ومال اور ان کی عزت وآبرو کی حفاظت کا حکم دیتا ہے جب تک وہ دارالاسلام میں ہوں اور یہ کہ وہ انکو اجازت دیتا ہے کہ ان کے جو عقائد ہیں وہ ان پر قائم رہیں اور یہ کہ ان کو حکمت اور حسن ادا کے ساتھ اسلام کی طرف دعوت دی جائے اور ان سے بحث و مباحثہ بھی اچھی طرح ہو جب تک وہ اسلامی ریاست کے وفادار ہیں اور یہ کہ ان کو کسی حال میں بھی اپنے عقائد کو ترک کرنے کا حکم نہ دیا جائے تو یہ اسلام کی وہ پالیسی ہے جو اسلام نے دارالاسلام میں رہنے والی تمام اقلیتوں کے لئے وضع کی ہے ۔ یہ ہے اسلام بات واضح اور صاف ہے ۔ اسلام نیکی چاہتا ہے ۔ رواداری کو رائج کرتا ہے اور بات دوٹوک کرتا ہے کیونکہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اللہ صحیح راہ دکھانے والا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (وَ لَوْ کَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَ النَّبِیِّ ) (الایۃ) (اور اگر وہ لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور اس چیز پر ایمان لاتے جو آپ پر نازل کی گئی تو کافروں کو دوست نہ بناتے) اس میں منافقوں کی طرف بھی اشارہ ہے جو کہتے تھے کہ ہم مسلمان ہیں سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان رکھتے ہیں ان کا دعوائے ایمان غلط تھا، اگر آپ پر ایمان لاتے تو آپ کے دشمنوں سے کیوں دوستی کرتے (وَ لٰکِنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ ) (لیکن ان میں بہت سے وہ ہیں جو نافرمان ہیں) ان میں سے تھوڑے ہی افراد نے اسلام قبول کیا اور باقی اشخاص نے سرکشی اور نافرمانی کو اختیار کیا اور برابر کفر پر اڑے رہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

141 یہ ان کے دعوائے ایمان کی تکذیب ہے۔ یعنی اگر وہ واقعی دل وجان سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاچکے ہوتے تو کافروں سے دوستانہ تعلقات ہرگز نہ رکھتے۔ اس لیے ان کا دعوی ایمان سراسر جھوٹا اور محض منافقانہ ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اے پیغمبر آپ ان یہود میں سے اکثر لوگوں کو ملاحظہ فرمائیں گے کہ وہ منکرین یعنی مشرکین سے مسلمانوں کے خلاف دوستی کرتے ہیں البتہ یہ چیز جو وہ آگے بھیج رہے ہیں بہت ہی بری ہے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان سے ناخوش ہوا اور ان پر اللہ کا غضب نازل ہوا اور وہ ہمیشہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہیں گے اور اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر اور پیغمبر پر ایمان رکھتے اور جو کتاب اس پیغمبر پر نازل کی گئی اس پر ایمان رکھتے تو ان مشرکین کو سمجھی دوست نہ بناتے اور مسلمانوں کے خلاف کبھی ان سے مل کر سازش نہ کرتے لیکن ان میں اکثر لوگ ایمان سے خارج اور کافر ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان میں سے جو ولگ اسلام قبول کرچکے ہیں ان کو چھوڑ کر کہ وہ تھوڑے سے ہیں باقی ان کی اکثریت کا حال یہ ہے کہ وہ مشرکین سے مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں اور مشرکین کی دوستی پر بھروسہ کرتے ہیں ان کی یہ حرکت بہت ہی بری ہے کیونکہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ آگے بھیج رہے ہیں اور وہی ان کے لئے ذخیرہ ہو رہا ہے وہ اور ناشائستہ حرکات اس لئے بری ہیں کہ وہ حرکات ہی اللہ تعالیٰ کے دائمی غصے اور ناراضگی کا سبب ہیں اور جس سے اللہ تعالیٰ دائمی طور پر ناراض ہو جائیتو اس کی دائمی ناراضگی دائمی عذاب کا موجب ہے اور یہ بات بالکل ظاہر ہے۔ آیت کا ہر ایک ٹکڑا مستقل دعویٰ بھی ہے اور پہلے ٹکڑے کی دلیل بھی ہے پھر آگے فرماتے ہیں اور اگر یہ لوگ اللہ پر اور پیغمبر پر اور کتاب پر ایمان رکھتے ہوتے تو مشکین کو کبھی دوست نہ بناتے لیکن ان میں کے اکثر ایمان سے خارج ہیں۔ نبی سے مراد اگر نبی آخر الزماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں تو کتاب سے مراد قرآن کریم ہے یعنی اگر یہ مسلمان ہوجاتے تو پھر ان کا یہ شیوا نہ ہوتا اور اگر نبی سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) ہوں تو پھر کتاب سے مراد توریت ہوگی یعنی اگر یہ موسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم پر عمل کرتے ہوتے تب بھی ان کا یہ فرض ہوتا کہ یہ نبی آخر الزمان حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد کرتے اور مشرکین کے مقابلہ میں ان کے معاون ہوتے نہ کہ آخری پیغمبر کے مقابلہ میں مشرکین سے ساز باز کرتے۔ (تسہیل)