Surat ul Maeeda

Surah: 5

Verse: 82

سورة المائدة

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الۡیَہُوۡدَ وَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَہُمۡ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰی ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنۡہُمۡ قِسِّیۡسِیۡنَ وَ رُہۡبَانًا وَّ اَنَّہُمۡ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿۸۲﴾

You will surely find the most intense of the people in animosity toward the believers [to be] the Jews and those who associate others with Allah ; and you will find the nearest of them in affection to the believers those who say, "We are Christians." That is because among them are priests and monks and because they are not arrogant.

یقیناً آپ ایمان والوں کا سب سے زیادہ دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے اور ایمان والوں سےسب سے زیادہ دوستی کے قریب آپ یقیناً انہیں پائیں گے جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں ، یہ اس لئے کہ ان میں علماء اور عبادت کے لئے گوشہ نشین افراد پائے جاتے ہیں اور اس وجہ سے کہ وہ تکبر نہیں کرتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Reason Behind Revealing these Ayat Sa`id bin Jubayr, As-Suddi and others said that; these Ayat were revealed concerning a delegation that An-Najashi (King of Ethiopia) sent to the Prophet in order to hear his words and observe his qualities. When the delegation met with the Prophet and he recited the Qur'an to them, they embraced Islam, cried and were humbled. Then they returned to An-Najashi and told him what happened. Ata bin Abi Rabah commented, "They were Ethiopians who embraced Islam when the Muslims who migrated to Ethiopia resided among them." Qatadah said, "They were some followers of the religion of `Isa, son of Maryam, who when they saw Muslims and heard the Qur'an, they became Muslims without hesitation." Ibn Jarir said that; these Ayat were revealed concerning some people who fit this description, whether they were from Ethiopia or otherwise. Allah said, لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ امَنُواْ الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُواْ ... Verily, you will find the strongest among men in enmity to the believers the Jews and those who commit Shirk, This describes the Jews, since their disbelief is that of rebellion, defiance, opposing the truth, belittling other, people and degrading the scholars. This is why the Jews - may Allah's continued curses descend on them until the Day of Resurrection - killed many of their Prophets and tried to kill the Messenger of Allah several times, as well as, performing magic spells against him and poisoning him. They also incited their likes among the polytheists against the Prophet. Allah's statement, ... وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ امَنُواْ الَّذِينَ قَالُوَاْ إِنَّا نَصَارَى ... and you will find the nearest in love to the believers those who say: "We are Christians." refers to those who call themselves Christians, who follow the religion of the Messiah and the teachings of his Injil. These people are generally more tolerant of Islam and its people, because of the mercy and kindness that their hearts acquired through part of the Messiah's religion. In another Ayah, Allah said; وَجَعَلْنَا فِى قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً وَرَهْبَانِيَّةً And We ordained in the hearts of those who followed him, compassion, mercy, and monasticism... (57:27) In their book is the saying; "He who strikes you on the right cheek, then turn the left cheek for him." And fighting was prohibited in their creed, and this is why Allah said, ... ذَلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ That is because among them are Qissisin (priests) and Ruhban (monks), and they are not proud. This means that among them are Qissisin (priests). The word Ruhban refers to one dedicated to worship. Allah said, ... ذَلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ That is because among them are priests and monks, and they are not proud. This describes them with knowledge, worship and humbleness, along with following the truth and fairness.

یہودیوں کا تاریخی کردار یہ آیت اور اس کے بعد کی چار آیتیں نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہیں ۔ جب ان کے سامنے حبشہ کے ملک میں حضرت جعفر بن ابو طالب نے قرآن کریم پڑھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں ۔ یہ خیال رہے کہ یہ آیتیں مدینے میں اتری ہیں اور حضرت جعفر کا یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے ۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیتیں اس وفد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جسے نجاشی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تھا کہ وہ آپ سے ملیں ، حاضر خدمت ہو کر آپ کے حالات و صفات دیکھیں اور آپ کا کلام سنیں ۔ جب یہ آئے آپ سے ملے اور آپ کی زبان مبارک سے قرآن کریم سنا تو ان کے دل نرم ہو گئے بہت روئے دھوئے اور اسلام قبول کیا اور واپس جاکر نجاشی سے سب حال کہا نجاشی اپنی سلطنت چھوڑ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کر کے آنے لگے لیکن راستے میں ہی انتقال ہو گیا ۔ یہاں بھی یہ خیال رہے کہ یہ بیان صرف سدی کا ہے اور صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ وہ حبشہ میں ہی سلطنت کرتے ہوئے فوت ہوئے ان کے انتقال والے دن ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ان کے انتقال کی خبر دی اور ان کی نماز جنازہ غائبانہ ادا کی ۔ بعض تو کہتے ہیں اس وفد میں سات تو علماء تھے اور پانچ زاہد تھے یا پانچ علماء اور سات زاہد تھے ۔ بعض کہتے ہیں یہ کل پچاس آدمی تھے اور کہا گیا ہے کہ ساٹھ سے کچھ اوپر تھے ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ ستر تھے ۔ فاللہ اعلم ۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں جن کے اوصاف آیت میں بیان کئے گئے ہیں یہ اہل حبشہ ہیں ۔ مسلمان مہاجرین حبشہ جب ان کے پاس پہنچے تو یہ سب مسلمان ہو گئے تھے ۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں پہلے یہ دین عیسوی پر قائم تھے لیکن جب انہوں نے مسلمانوں کو دیکھا اور قرآن کریم کو سنا تو فوراً سب مسلمان ہو گئے ۔ امام ابن جریر کا فیصلہ ان سب اقوال کو ٹھیک کر دیتا ہے اور فرماتے ہیں کہ یہ آیتیں ان لوگوں کے بارے میں ہیں جن میں یہ اوصاف ہوں خواہ وہ حبشہ کے ہوں یا کہیں کے ۔ یہودیوں کو مسلمانوں سے جو سخت دشمنی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سرکشی اور انکار کا مادہ زیادہ ہے اور جان بوجھ کر کفر کرتے ہیں اور ضد سے ناحق پر اڑتے ہیں ، حق کے مقابلہ میں بگڑ بیٹھتے ہیں حق والوں پر حقارت کی نظریں ڈالتے ہیں ان سے بغض و بیر رکھتے ہیں ۔ علم سے کورے ہیں علماء کی تعداد ان میں بہت ہی کم ہے اور علم اور ذی علم لوگوں کی کوئی وقعت ان کے دل میں نہیں یہی تھے جنہوں نے بہت سے انبیاء کو قتل کیا خود پیغمبر الزمان احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ بھی کیا اور ایک دفعہ نہیں بلکہ بار بار ۔ آپ کو زہر دیا ، آپ پر جادو کیا اور اپنے جیسے بدباطن لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کئے لیکن اللہ نے ہر مرتبہ انہیں نامراد اور ناکام کیا ۔ ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب کبھی کوئی یہودی کسی مسلمانوں کو تنہائی میں پاتا ہے اس کے دل میں اس کے قتل کا قصد پیدا ہوتا ہے ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن ہے بہت ہی غریب ہاں مسلمانوں سے دوستی میں زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے تئیں نصاریٰ کہتے ہیں حضرت مسیح کے تابعدار ہیں انجیل کے اصلی اور صحیح طریقے پر قائم ہیں ان میں ایک حد تک فی الجملہ مسلمانوں اور اسلام کی محبت ہے یہ اس لئے کہ ان میں نرم دلی ہے جیسے ارشاد باری آیت ( وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً ) 57 ۔ الحدید:27 ) یعنی حضرت عیسیٰ کے تابعداروں کے دلوں میں ہم نے نرمی اور رحم ڈال دیا ہے ۔ ان کی کتاب میں حکم ہے کہ جو تیرے داہنے کلے پر تھپڑ مارے تو اس کے سامنے بیاں کلہ بھی پیش کر دے ۔ ان کی شریعت میں لڑائی ہے ہی نہیں ۔ یہاں ان کی اس دوستی کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ ان میں خطیب اور واعظ ہیں قسسین اور قس کی جمع قسیسین ہے قسوس بھی اس کی جمع آتی ہے رھبان جمع ہے راہب کی ، راہب کہتے ہیں عابد کو ۔ یہ لفظ مشتق ہے رہب سے اور رہبت کے معنی ہیں خوف اور ڈر کے ۔ جیسے راکب کی جمع رکبان ہے اور فرسان ہے امام ابن جریر فرماتے ہیں کبھی رہبان واحد کیلئے بھی آتا ہے اور اس کی جمع رہابین آتی ہے جیسے قربان اور قرابین اور جوازن اور جوازین اور کبھی اس کی جمع رہابنۃ بھی آتی ہے ۔ عرب کے اشعار میں بھی لفظ رہبان واحد کیلئے آیا ۔ حضرت سلمان سے ایک شخص ( قسیسین و رھبانا ) پڑھ کر اس کے معنی دریافت کرتا ہے تو آپ فرماتے ہیں قسیسین کو خانقاہوں اور غیر آباد جگہوں میں چھوڑ مجھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیقین و رھبانا پڑھایا ( بزار اور ابن مردویہ ) الغرض ان کے تین اوصاف یہاں بیان ہوئے ہیں ان میں عالموں کا ہونا ۔ ان میں عابدوں کا ہونا ۔ ان میں تواضع فروتنی اور عاجزی کا ہونا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

82۔ 1 اس لئے کہ یہودیوں کے اندر عناد و جحود، حق سے اعراض و استکبار اور اہل علم و ایمان کی تنقیص کا جذبہ بہت پایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نبیوں کا قتل اور ان کی تکذیب ان کا شعار رہا ہے۔ حتیٰ کہ انہوں نے رسول اللہ کے قتل کی بھی کئی مرتبہ سازش کی، آپ پر جادو بھی کیا اور ہر طرح نقصان پہنچانے کی مذموم سعی کی۔ اور اس معاملہ میں مشرکین کا حال بھی یہی ہے۔ 82۔ 2 رُھْبَانُ سے مراد نیک، عبادت گزار اور گوشہ نشین لوگ قَسِّیْسِیْنَ سے مراد علما وخطبا ہیں، یعنی ان عیسائیوں میں علم و تواضع ہے، اس لئے ان میں یہودیوں کی طرح حجود و استکبار نہیں ہے۔ علاوہ ازیں دین مسیح میں نرمی اور عفو و درگزر کی تعلیم کو امتیازی حیثیت حاصل ہے، حتیٰ کہ ان کی کتابوں میں لکھا ہے کہ کوئی تمہارے دائیں رخسار پر مارے تو بایاں رخسار بھی ان کو پیش کردو۔ یعنی لڑو مت۔ ان وجوہ سے یہ مسلمان کے، بہ نسبت یہودیوں کے زیادہ قریب ہیں۔ عیسائیوں کا وصف یہودیوں کے مقابلے میں ہے، تاہم جہاں تک اسلام دشمنی کا تعلق ہے، کم و بیش کے کچھ فرق کے ساتھ، اسلام کے خلاف یہ عناد عیسائیوں میں بھی موجود ہے، جیسا کہ صلیب و ہلال کی صدیوں پر محیط معرکہ آرائی سے واضح ہے اور جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اور اب تو اسلام کے خلاف یہودی اور عیسائی دونوں ہی مل کر سرگرم عمل ہیں۔ اسی لئے قرآن نے دونوں سے دوستی کرنے سے منع فرمایا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢٨] یہود و نصاریٰ کے کردار کا تقابل :۔ عیسائیوں کی مسلمانوں سے کم تر دشمنی اور قریب تر دوستی کی اللہ نے تین وجوہ بیان فرمائیں۔ ایک یہ کہ ان میں عالم لوگ موجود ہیں۔ (یاد رہے عالم سے مراد ہمیشہ عالم باعمل ہوتا ہے) دوسرے ان میں مشائخ موجود ہیں اور تیسرے یہ عیسائی لوگ متکبر نہیں ہوتے بلکہ متواضع اور منکسر المزاج ہوتے ہیں۔ اب ان کے مقابلہ میں یہود کے حالات دیکھئے ان کے علماء آیات اللہ کو بیچ کھانے والے آیات کو اور حق بات کو چھپا جانے والے اور سازشیں کرنے والے، ان میں رہبان یا مشائخ نام کو نہیں تھے بلکہ پوری قوم حب دنیا میں اس قدر مبتلا تھی کہ سود خوری اور حرام خوری سے باز نہیں آتے تھے اور ہر جائز و ناجائز ذریعہ سے دولت حاصل کرتے تھے۔ پھر انہی منکرات کا یہ اثر تھا کہ انتہائی سنگدل، بخیل اور متکبر بن گئے تھے۔ ان کے سب سردار مثلاً کعب بن اشرف، سلام بن ابی الحقیق اور حیی بن اخطب سب کے سب ہی متکبر اور بدنہاد تھے۔ اگر ان کے مقابلہ میں ہرقل شہنشاہ روم، مقوقس شاہ مصر اور نجاشی شاہ حبشہ کے کردار کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہود کے مقابلہ میں یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں سے کس قدر قریب تر تھے اور اختلافات کے باوجود دوسروں کی نسبت مسلمانوں سے دوستی رکھنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اور یہود کی اسلام دشمنی کا یہ حال تھا کہ خود پیغمبر اسلام کو تین دفعہ ہلاک کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار اللہ نے آپ کو ان کے شر سے بچا لیا۔ ایک دفعہ نہایت سخت قسم کا جادو کر کے، دوسری بار زہریلی بکری کو کھلا کر اور تیسری بار چھت کے اوپر سے آپ پر ایک بھاری پتھر گرا کر جبکہ آپ نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً ۔۔ : اس لیے کہ یہودیوں میں عناد و انکار، حق سے دشمنی، تکبر اور اہل علم و ایمان کی تنقیص کا جذبہ بہت پایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نبیوں کو جھٹلانا بلکہ قتل کردینا ان کا شعار رہا ہے، حتیٰ کہ انھوں نے کئی مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتل کی سازش کی، آپ پر جادو بھی کیا اور ہر طرح نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش کی۔ اس معاملے میں مشرکین کا حال بھی یہی ہے۔ یہ واقعی ایک حقیقت ہے جس کا اس زمانے میں بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے، آج بھی جو دشمنی یہودیوں اور مشرکوں (گائے اور بتوں کے پجاری ہندوؤں، دہریوں اور کمیونسٹوں) کو مسلمانوں سے ہے وہ بہرحال نصرانیوں کو نہیں ہے، ہاں جن نصرانیوں پر یہودیت غالب ہے وہ واقعی مسلمانوں کے سخت دشمن ہیں۔ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ ۔۔ : یہود و نصاریٰ کی مسلم دشمنی میں جو فرق مذکور ہوا یہ اس کی علت ہے، جس طرح یہود کے عالم کو حبر کہا جاتا ہے، جس کی جمع احبار ہے، اسی طرح نصاریٰ کے رئیس اور عالم قسیس کہلاتے ہیں، یعنی جن لوگوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں، جو واقعی عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت پر چلنے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ مسلمانوں کے نسبتاً قریب ہیں، کیونکہ ان میں علم اور زہد یعنی دنیا سے بےرغبتی پائی جاتی ہے اور دین مسیحی میں نرمی اور عفو و درگزر کی تعلیم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ پھر ان میں علماء، عبادت گزار اور زاہد لوگ بھی ہوتے ہیں، جو تواضع اختیار کرتے ہیں، یہودیوں کی طرح کبر و غرور میں مبتلا نہیں ہوتے۔ نصرانیوں میں رہبانیت (دنیا سے کنارہ کشی) کی بدعت رائج تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (لاَ رَھْبَانِیَّۃَ فِی الْاِسْلَامِ ) فرما کر اسے ممنوع قرار دے دیا۔ رہبانیت بیشک یہودیوں کی دنیا پرستی اور سخت دلی کے مقابلے میں قابل تعریف تھی، مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رہبانیت ہر لحاظ سے قابل تعریف اور اچھی چیز ہے۔ ان وجوہ کی بنا پر یہود اور مشرکین کی نسبت نصرانیوں کو مسلمانوں کے زیادہ قریب قرار دیا۔ ورنہ جہاں تک خود اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی کا تعلق ہے تو بغض و عناد نصرانیوں میں بھی موجود ہے، جیسا کہ صلیب و ہلال کی صدیوں پر محیط لڑائیوں سے واضح ہے اور جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے اور اب تو اسلام کے خلاف مشرکین کے ساتھ یہودی اور نصرانی دونوں اکٹھے ہوگئے ہیں، اسی لیے قرآن نے مسلمانوں کو مشرکین کے ساتھ ساتھ یہود و نصاریٰ کی دوستی سے بھی منع فرمایا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Sequence of Verses Mentioned earlier was the friendliness of Jews with disbelievers. Mentioned now is their hostility towards Muslims in tandem with the disbelievers - which was the real cause of that friendship (the enemy of my enemy is my friend! ). And since the Qur&an upholds justice univer¬sally, it has not counted everyone even among Jews and Christians as being in the same lot. Whoever among them had some good quality, that was acknowledged openly - for example, the presence of a particu¬lar group among the Christians which did not have the kind of preju¬dice the Jews were known for, and the statement about the Christians who had responded heartily to the call of truth and for which they were considered worthy of the best of praise and reward. This particu¬lar group was that of the Christians of Ethiopia who did nothing which could cause problems for Muslims who had migrated to Ethiopia from their home in Makkah, before the Hijrah to Madinah. Any Christian, other than them, who is like them, shall also be legally counted as one of them. As for those who had accepted the truth, they are the King of Ethiopia, Najashi (Negus) and his courtiers who wept on hearing the Qur&an in their own country and embraced Islam. After that, a deputation of thirty men from there came to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who recited the Qur&an to them which they heard in tears and took their Shahadah as Muslims. This is the Cause or Back-ground of the revelation of this verse. Commentary Some Votaries of the Truth among the People of the Book Mentioned in these verses are those among the people of the Book who, had no feelings of malice or enmity for Muslims because of their godliness and tilt towards truth. But, people of such quality - like Sayyidna ` Abdullah ibn Salam - were very rare, rather almost nonexistent among the Jews. Speaking comparatively, there were more such people among the Christians. Specially so, during the blessed pe¬riod of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، there was a large number of such people in Ethiopia which included King Najashi and his civil ser¬vants. For this reason, when the Muslims of Makkah al-Mukarramah were fed up with being continually oppressed by the Quraysh, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) advised them to migrate to Ethiopia saying that he had heard that the King of Ethiopia himself was no oppressor of people, nor did he allow anyone to oppress others, therefore, Mus¬lims should go there for some time. Following this advice, the first group of eleven persons started their journey towards Ethiopia. Included in the group were Sayyidna ` Uthman ibn ` Affan and Sayyidah Ruqaiyyah, his respected wife and the daughter of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . After that, a large car¬avan of Muslims comprising of eighty two men in addition to women, led by Sayyidna Ja&far ibn Abi Talib (رض) reached Ethiopia. Received there nicely and gently by the King and his people, they started living there in peace. But, the wrath of the Quraysh of Makkah knew no bounds. They could not bear by the idea that Muslims persecuted by them could live in peace in some other country. This they did not wish to allow. They sent a deputation of their men, with gifts as customary, to the King of Ethiopia with the request that he should expel Muslims from his coun¬try. But, the King of Ethiopia decided to first investigate into the matter. He talked to Sayyidna Ja&far ibn Abi Talib and his companions about Islam and its Prophet. When he heard about the life of the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and the teachings of Islam, he found these true to the prophecy of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) and Injil which contained the glad tidings of the coming of the Last of the Prophets, Sayyidna Mu¬hammad al-Mustafa (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) a brief outline of his teachings, and his physical features as well as those of his Companions (for ready identification). Impressed with and convinced by what he found out, he returned the gifts brought by the Quraysh deputation telling them plainly that he could never order such people to leave his country. The Effect of Sayyidna Ja` far&s Presentation on Najashi Sayyidna Ja&far (رض) had succeeded in presenting a brief but very com¬prehensive portrayal of Islam and its teachings in the court of Najashi, the King of Ethiopia. Then, there was their very stay (as Muslim role models) in Ethiopia which had generated not only in his heart but in the hearts of his officials and common people genuine feelings for Islam and its Prophet. Consequently, when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) migrat¬ed to Madinah al-Tayyibah and the news that they were comfortable and at peace there reached Ethiopia the immigrating guests of the country decided to go to Madinah. Then, Najashi, the King of Ethiopia sent with them a deputation of leading scholars and missionaries from among his co-religionists to present his compliments before the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . This group was comprised of seventy persons, out of which, there were sixty from Ethiopia itself, and eight from Syria. The Visit of Ethiopian Delegation Attired in the coarse robes of monks, this deputation presented itself before the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He recited Surah Yasin before them. As they heard it, tears kept flowing from their eyes. They all said how similar that was to what was revealed to Sayyidna &Isa (علیہ السلام) . All of them embraced Islam. After their return to Ethiopia, King Najashi also embraced Islam. He sent his son as the leader of another deputation to the Holy Proph¬et (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، with a letter from him. Unfortunately, the boat carry¬ing them was drowned in the sea. In short, the King of Ethiopia, its officials and citizens did not only treat Islam and Muslims gently, fair¬ly and justly, but they themselves embraced Islam finally. According to the majority of commentators, the verses cited above were revealed about these blessed souls: وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَ‌بَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَ‌ىٰ And you will certainly find that the closest of them in friend-ship with the believers are those who say, |"We are Chris¬tians.|" And about the verses which follow, and in which their weeping in fear of Allah and their acceptance of the truth has been described, the majority of commentators also agree that - though these verses have been revealed about Najashi and the deputation sent by him - yet, its words are general. Therefore, its legal force covers and includes all such Christians who are devoted to truth and justice similar to the people of Ethiopia. That is, they were followers of the Injil before Is-lam, and after the coming of Islam, they became followers of Islam. Though, there were some people of this class even among Jews who adhered to the Torah since the period of Sayyidna Musa (علیہ السلام) ، but when came Islam, they entered the fold of Islam. However, the number of such people was so small that it cannot be considered significant in the context of communities and nations. As for the rest of the Jews, they were the foremost in their hostility towards Muslims. Therefore, their attitude was identified at the very beginning of the verse by saying: لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ You will certainly find that the most hostile people against the believers are the Jews ... Limits of Interpretation To recapitulate, it can be said that a particular group of the Chris¬tians has been praised in this verse, a group which was God-fearing and upright in matters of truth. It includes King Najashi, his officials and citizens - as well as other Christians who had these qualities, or would have in times to come. But, it does not mean - neither based on what the text says, nor could it possibly be - that the Christians have to be taken as friends of Muslims, no matter how astray they go and how aggressive in their anti Islam hostility they become, and yet Mus¬lims will have to extend their hand of friendship towards them. This interpretation, as obvious, is false and is absolutely against facts. Therefore, Imam Abu Bakr Al-Jassas (رح) has said in his Ahkam al-Qur&an: that the thinking of some people who take the praise of Christians in this verse in an absolute sense and consider them better than the Jews, again in an absolute sense, is open ignorance - because a com¬parison of the religious beliefs of the two groups will show that the Christians are more pronounced in being Mushriks (as ascribers of partners in the divinity of Allah); and as for their dealings with Mus¬lims are concerned, common modern-day Christians have not been any less than Jews in their anti-Islam activities. However, it is correct that there have been a good many God-fearing and truth-loving. people among them. That is why they had the Taufiq to accept Islam and be-come Muslims. It must be kept in mind that these verses were re¬vealed to show this particular difference between the two groups. The Qur&an has itself pointed out to this fact at the end of this very verse (82) in the following words: ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُ‌هْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُ‌ونَ |"That is because among them there are priests and monks and because they are not arrogant (which could make them unwilling to listen and think).|" Comparison makes it clear that this was not the condition of Jews. They were not God-fearing and truth-loving. Their scholars and rab¬bis were far removed from renouncing the material pleasures of mortal life for the sake of knowledge and religion, instead of which, they had harnessed their knowledge and learning as a source of accumulating material benefits. This lust for the mundane had gripped them to the extent that they did not care to make a distinction between the true and the false or the lawful and the unlawful. Those who side with Truth are the moving spirit of a community The statement given in the verse also tells us something crucial about the life of a community or nation (of true believers) - , that its `.Ulama& and Mashaikh are its real movers and makers, the very spirit of the system. Until such time that there are present in the society (genuine) ` Ulama& and Mashaikh, who would not follow their worldly desires (in matters of Din and public good of Believers) motivated by nothing but the fear of Allah and answerability before Him, then, the community or nation in which they are shall never be deprived of real good and real blessing.

ربط آیات اوپر یہود کا مشرکین سے دوستی رکھنا مذکور تھا، آگے ان کا مع مشرکین کے مسلمانوں سے عداوت رکھنا مذکور ہے جو اس دوستی کا اصلی سبب تھا اور چونکہ ہر معاملہ ایک درجہ میں شمار نہیں کیا، جس میں کوئی بڑا داعی ہے اس لئے یہود و نصاریٰ میں بھی سب کو ایک درجہ میں شمار نہیں کیا۔ جس میں کوئی خوبی تھی اس کا بھی اظہار کیا گیا، مثلاً نصاریٰ کی ایک خاص جماعت میں یہ بسنت ان یہود کے تعصب کا کم ہونا۔ اور ان نصاریٰ میں جنہوں نے حق قبول کرلیا تھا ان کا مستحق حسن ثناء و حسن جزا ہونا مذکور ہے۔ اور یہ خاص جماعت حبشہ کے نصاریٰ کی ہے، جنہوں نے مسلمانوں کو جبکہ ہجرت مدینہ کے قبل اور وہ اپنا وطن مکہ چھوڑ کر حبشہ چلے گئے تھے۔ کچھ تکلیف نہیں دی اور جو اور نصرانی ایسا ہی ہو وہ بھی حکما انہی میں داخل ہے اپنا وطن مکہ چھوڑ کر حبشہ چلے گئے تھے۔ کچھ تکلیف نہیں دی اور جو اور نصرانی ایسا ہی ہو وہ بھی حکماً انہیں میں داخل ہے اور ان میں سے جنہوں نے حق قبول کرلیا تھا وہ نجاشی بادشاہ اور ان کے مصاحب ہیں کہ حبشہ میں بھی قرآن سن کر روئے اور مسلمان ہوگئے۔ پھر تیس آدمی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قرآن سن کر رو دیے اور اسلام قبول کیا، یہی اس آیت کا شان نزول ہے۔ خلاصہ تفسیر (غیر مؤمنین میں) تمام آدمیوں سے زیادہ مسلمانوں سے عداوت رکھنے والے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان یہود اور ان مشرکین کو پاویں گے اور ان (غیر مومن آدمیوں) میں مسلمانوں کے ساتھ دوستی رکھنے کے قریب تر (بہ نسبت اوروں کے) ان لوگوں کو پائیں گے جو اپنے کو نصاریٰ کہتے ہیں (قریب تر کا یہ مطلب ہے کہ دوست تو وہ بھی نہیں، مگر دوسرے کفار مذکورین سے غنیمت ہیں) یہ (دوستی سے قریب تر ہونا اور عداوت میں کم ہونا) اس سبب سے ہے کہ ان (نصاریٰ ) میں بہت سے علم دوست عالم ہیں، اور بہت سے تارک دنیا درویش ہیں، (اور جب کسی قوم میں ایسے لوگ بکثرت ہوتے ہیں تو عوام میں بھی حق کے ساتھ زیادہ عناد نہیں رہتا، اگرچہ خواص و عوام حق کو قبول بھی نہ کریں) اور اس سبب سے ہے کہ یہ (نصاریٰ ) لوگ متکبر نہیں ہیں (قسیسین و رہبان سے جلدی متاثر ہوجاتے ہیں، اور نیز تواضع کا خاصہ ہے امر حق کے سامنے نرم ہوجانا اس لئے ان کو عداوت زیادہ نہیں، پس قسیسین و رہبان یعنی علماء و مشائخ کا وجود اشارہ ہے علت فاعلہ کی طرف اور عدم استکبار قابلیت کی طرف، بخلاف یہود و مشرکین کے کہ محب دنیا اور متکبر ہیں، اور گو یہود میں بھی بعض علماء حقانی تھے جو مسلمان ہوگئے تھے، لیکن بوجہ ان کی قلت کے عوام میں اثر نہیں پہنچتا تھا، اس لئے ان میں عناد ہے۔ جو سبب ہوجاتا ہے شدت عداوت کا، اسی لئے یہود تو مومن ہی کم ہوئے اور مشرکین میں سے جب عناد نکل گیا تب مومن ہونا شروع ہوئے) اور (بعضے ان میں جو کہ آخر میں مسلمان ہوگئے تھے ایسے ہیں کہ) جب وہ اس (کلام) کو سنتے ہیں جو کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بھیجا گیا ہے (یعنی قرآن) تو آپ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہتی ہوئی دیکھتے ہیں، اس سبب سے کہ انہوں نے (دین) حق (یعنی اسلام) کو پہچان لیا (مطلب یہ کہ حق کو سن کر متاثر ہوتے ہیں اور) یوں کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم مسلمان ہوگئے تو ہم کو بھی ان لوگوں کے ساتھ لکھ لیجئے (یعنی ان میں شمار کرلیجئے) جو (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کے حق ہونے کی) تصدیق کرتے ہیں اور ہمارے پاس کونسا عذر ہے کہ اللہ تعالیٰ پر (حسب تعلیم شریعت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جو (دین) حق ہم کو (اب) پہنچا ہے اس پر ایمان نہ لاویں اور (پھر) اس بات کی امید (بھی) رکھیں کہ ہمارا رب ہم کو نیک (مقبول) لوگوں کی معیّت میں داخل کر دے گا، (بلکہ یہ امید موقوف اسلام پر ہے، اس لئے مسلمان ہونا ضروری ہے) سو ان (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ ان کے (اس) قول (مع الاعتقاد) کی پاداش میں ایسے باغ (بہشت کے) دیں گے جن کے (محلات کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی (اور) یہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے، اور نیکوکاروں کی یہی جزا ہے، اور (برخلاف ان کے) جو لوگ کافر رہے اور ہماری آیات (و احکام) کو جھوٹا کہتے رہے وہ لوگ دوزخ (میں رہنے) والے ہیں۔ معارف و مسائل بعض اہل کتاب کی حق پرستی ان آیات میں مسلمانوں کے ساتھ عداوت یا مودّت کے معیار سے ان اہل کتاب کا ذکر فرمایا گیا ہے جو اپنی حق پرستی اور خدا ترسی کی وجہ سے مسلمانوں سے بغض و عداوت نہیں رکھتے تھے۔ مگر ان اوصاف کے لوگ یہود میں بہت کم، کالعدم تھے۔ جیسے حضرت عبداللہ ابن سلام وغیرہ۔ نصاریٰ میں نسبتاً ایسے لوگوں کی تعداد زیادہ تھی، خصوصاً آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں ملک حبشہ کا بادشاہ نجاشی اور وہاں کے حکام و عوام میں ایسے لوگوں کی بڑی تعداد تھی اور اسی سبب سے جب مکہ مکرمہ کے مسلمان قریش کے مظالم سے تنگ آگئے تو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کا مشورہ دیا، اور فرمایا کہ میں نے سنا ہے کہ حبشہ کا بادشاہ خود ظلم کرتا ہے نہ کسی کو کسی پر ظلم کرنے دیتا ہے، اس لئے مسلمان کچھ عرصہ کے لئے وہاں چلے جائیں۔ اس مشورہ پر عمل کرتے ہوئے پہلی مرتبہ گیارہ حضرات حبشہ کی طرف نکلے، جن میں حضرت عثمان غنی رضٰ اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کی زوجہ محترمہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صاحبزادی حضرت رقیہ (رض) بھی شامل تھیں، اس کے بعد حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) کی سر کردگی میں مسلمانوں کا ایک بڑا قافلہ جو عورتوں کے علاوہ بیاسی مردوں پر مشتمل تھا، حبشہ پہنچ گیا، شاہ حبشہ اور وہاں کے باشندوں نے ان کا شریفانہ استقبال کیا، اور یہ لوگ امن و عافیت سے وہاں رہنے لگے۔ قریش مکہ کے غیظ و غضب نے ان کو اس پر بھی نہ رہنے دیا، کہ یہ لوگ کسی دوسرے ملک میں اپنی زندگی عافیت سے گزار لیں، انہوں نے اپنا ایک وفد بہت سے تحفے دے کر شاہ حبشہ کے پاس روانہ کیا، اور یہ درخواست کی کہ ان مسلمانوں کو اپنے ملک سے نکال دیں، مگر شاہ حبشہ نے حالات کی تحقیق کی، اور حضرت جعفر ابی طالب (رض) اور ان کے رفقاء سے اسلام اور پیغمبر اسلام کے حالات معلوم کئے، ان حالات اور اسلام کی تعلیمات کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کی پیشینگوئی کے عین مطابق پایا، جس میں حضرت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کا ذکر اور ان کی تعلیمات کا مختصر خاکہ، اور ان کا اور ان کے صحابہ کا حلیہ وغیرہ مذکور تھا، اس سے متاثر ہو کر شاہ حبشہ نے قریشی وفد کے ہدئیے، تحفے واپس کردیئے اور ان کو صاف جواب دے دیا کہ میں ایسے لوگوں کو اپنے ملک سے نکلنے کا کبھی حکم نہیں دے سکتا۔ حضرت جعفر بن ابی طالب کی تقریرکا شاہ حبشہ پر اثر ! حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) نے نجاشی کے دربار میں اسلام اور اس کی تعلیمات کا ایک مختصر مگر جامع خاکہ کھینچ دیا تھا، اور پھر ان حضرات کے قیام نے نہ صرف اس کے دل میں بلکہ وہاں کے حکام و عوام سب کے دل میں اسلام اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سچی محبت و عظمت پیدا کردی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرمائی، اور وہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اور صحابہ کرام کا مطمئن ہوجانا معلوم ہوا اور مہاجرین حبشہ نے مدینہ طیبہ جانے کا عزم کیا تو نجاشی شاہ حبشہ نے ان کے ساتھ اپنے ہم مذہب نصاریٰ کے بڑے بڑے علماء مشائخ کا ایک وفد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھیجا، جو ستر آدمیوں پر مشتمل تھا، جن میں باسٹھ حضرات حبشہ کے اور آٹھ شام کے تھے۔ شاہ حبشہ کے وفد کی درگاہ رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں حاضری یہ وفد رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک درویشانہ اور راہبانہ لباس میں ملبوس حاضر ہوا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو سورة یسین پڑھ کر سنائی، یہ لوگ سنتے جاتے تھے، اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، سب نے کہا کہ یہ کلام اس کلام کے کتنا مشابہ ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوتا تھا، اور یہ سب کے سب مسلمان ہوگئے۔ ان کی واپسی کے بعد حبشہ نجاشی نے بھی اسلام کا اعلان کردیا، اور اپنا ایک خط دے کر اپنے صاحبزادے کو ایک دوسرے وفد کا قائد بنا کر بھیجا، مگر سوء اتفاق سے یہ کشتی دریا میں غرق ہوگئی، الغرض حبشہ کا بادشاہ اور حکام و عوام نے اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ نہ صرف شریفانہ اور عادلانہ سلوک کیا بلکہ بالآخر خود بھی مسلمان ہوگئے۔ جمہور مفسرین نے فرمایا کہ آیات متذکرہ انہی حضرات کے بارے میں نازل ہوئیں ہیں : وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰى، اور بعد کی آیات میں ان کا خوف حق تعالیٰ سے رونا اور حق کو قبول کرنا بیان فرمایا گیا ہے، اس پر بھی جمہور مفسرین کا اتفاق ہے کہ اگرچہ یہ آیات نجاشی اور اس کے بھیجے ہوئے وفد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں لیکن الفاظ میں عموم ہے اس لئے اس کا حکم ان تمام نصاریٰ کے لئے عام اور شامل ہے جو اہل حبشہ کی طرح حق پرست اور انصاف پسند ہوں، یعنی اسلام سے پہلے انجیل کے متبع تھے، اور اسلام آنے کے بعد اسلام کے پیرو ہوگئے۔ یہود میں بھی اگرچہ چند حضرات اسی شان کے موجود تھے جو عہد موسوی میں تورات پر عامل رہے، پھر اسلام آنے کے بعد اسلام کے حلقہ بگوش ہوگئے، لیکن یہ اتنی کم تعداد تھی کہ امتوں اور قوموں کے ذکر کے وقت اس کا ذکر نہیں کیا جاسکتا ہے، باقی یہود کا حال کھلا ہوا تھا، کہ وہ مسلمانوں کی عداوت اور بنچ کنی میں سب سے آگے تھے، اسی لئے صدر آیت میں یہود کا یہ حال ذکر فرمایا :۔ لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَھُوْدَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا، یعنی مسلمانوں کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہوا کہ اس آیت میں نصاریٰ کی ایک خاص جماعت کی مدح فرمائی گئی ہے جو خدا ترسی اور حق پرستی کی حامل تھی، اس میں نجاشی اور اس کے اعوان و انصار بھی داخل ہیں اور دوسرے نصاریٰ بھی جو ان صفات کے حامل تھے، یا آئندہ زمانہ میں داخل ہوں، لیکن اس کے یہ معنی نہ آیات سے نکلتے ہیں اور نہ ہو سکتے ہیں کہ نصاریٰ خواہ کیسے بھی گمراہ ہوجائیں اور اسلام دشمنی میں کتنے ہی سخت اقدام کریں ان کو بہر حال مسلمانوں کا دوست سمجھا جائے، اور مسلمان ان کی دوستی کی طرف ہاتھ بڑھائیں۔ کیونکہ یہ بداہتہ غلط اور واقعات کے قطعاً خلاف ہے، اس لئے امام ابوبکر جصاص رحمة اللہ علیہ نے احکام القرآن میں فرمایا کہ بعض جاہل جو یہ خیال کرتے ہیں کہ ان آیات میں مطلقاً نصاریٰ کی مدح ہے اور وہ علی الاطلاق یہود سے بہتر ہیں۔ یہ سراسر جہالت ہے، کیونکہ اگر عام طور پر دونوں جماعتوں کے مذہبی عقائد کا موازنہ کیا جائے تو نصاریٰ کا مشرک ہونا زیادہ واضح ہے۔ اور مسلمانوں کے ساتھ معاملات کو دیکھا جائے تو آج کل کے عام نصاریٰ نے بھی اسلام دشمنی میں یہودیوں سے کم حصہ نہیں لیا، وہاں یہ صحیح ہے کہ نصاریٰ میں ایسے لوگوں کی کثرت ہوئی ہے، جو خدا ترس اور حق پرست تھے، اسی کے نتیجہ میں ان کو قبول اسلام کی توفیق ہوئی۔ اور یہ آیات ان دونوں جماعتوں کے مابین اسی فرق کو ظاہر کرنے کے لئے نازل ہوئی ہیں۔ خود اسی آیت کے آخر میں قرآن نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں واضح فرما دیا ہے : ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ ، یعنی جن نصاریٰ کی مدح ان آیات میں کی گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں علماء اور خدا ترس، تارک الدنیا حضرات ہیں، اور ان میں تکبر نہیں کہ دوسروں کی بات پر غور کرنے کے لئے تیار نہ ہوں، مقابلہ سے معلوم ہوا کہ یہود کے یہ حالات نہ تھے۔ ان میں خدا ترسی اور حق پرستی نہ تھی، ان کے علماء نے بھی بجائے ترک دنیا کے اپنے علم کو صرف ذریعہ معاش بنا لیا تھا۔ اور طلب دنیا میں ایسے مست ہوگئے تھے کہ حق و ناحق اور حلال و حرام کی بھی پرواہ نہ رہی تھی۔ قوم و ملت کی اصلی روح حق پرست علماء و مشائخ ہیں آیت مذکورہ کے بیان سے ایک اہم بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ قوم و ملت کی اصلی روح حق پرست، خدا ترس علماء و مشائخ ہیں۔ ان کا وجود پوری قوم کی حیات ہے جب تک کسی قوم میں ایسے علماء و مشائخ موجود ہوں جو دنیوی خواہشات کے پیچھے نہ چلیں، خدا ترسی ان کا مقام ہو تو وہ قوم خیر و برکت سے محروم نہیں ہوتی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَھُوْدَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا۝ ٠ۚ وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰى۝ ٠ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْہُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُہْبَانًا وَّاَنَّہُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ۝ ٨٢ وجد الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان اللہ منزّها عن الوصف بالجوارح والآلات . نحو : وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] . ( و ج د ) الو جود ( ض) کے معنی کسی چیز کو پالینا کے ہیں اور یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے حواس خمسہ میں سے کسی ایک حاسہ کے ساتھ اور اک کرنا جیسے وجدت طعمہ ( حاسہ ذوق ) وجدت سمعہ ( حاسہ سمع ) وجدت خثومتہ حاسہ لمس ) قوی باطنہ کے ساتھ کسی چیز کا ادراک کرنا ۔ جیسے وجدت الشبع ( میں نے سیری کو پایا کہ اس کا تعلق قوت شہو یہ کے ساتھ ہے ۔ وجدت الحزن وا لسخط میں نے غصہ یا غم کو پایا اس کا تعلق قوت غضبہ کے ساتھ ہے ۔ اور بذریعہ عقل کے کسی چیز کو پالیتا جیسے اللہ تعالیٰ یا نبوت کی معرفت کہ اسے بھی وجدان کہا جاتا ہے ۔ جب وجود پالینا ) کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو اس کے معنی محض کسی چیز کا علم حاصل کرلینا کے ہوتے ہیں کیونکہ ذات باری تعالیٰ جوارح اور آلات کے ذریعہ کسی چیز کو حاصل کرنے سے منزہ اور پاک ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] اور ہم نے ان میں سے اکثروں میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا اور ان میں اکثروں کو ( دیکھا تو ) بد عہد دیکھا ۔ شد الشَّدُّ : العقد القويّ. يقال : شَدَدْتُ الشّيء : قوّيت عقده، قال اللہ : وَشَدَدْنا أَسْرَهُمْ [ الإنسان/ 28] ، ( ش دد ) الشد یہ شدد ت الشئی ( ن ) کا مصدر ہے جس کے معنی مضبوط گرہ لگانے کے ہیں ۔ قرآں میں ہے : وَشَدَدْنا أَسْرَهُمْ [ الإنسان/ 28] اور ان کے مفاصل کو مضبوط بنایا ۔ عدو العَدُوُّ : التّجاوز ومنافاة الالتئام، فتارة يعتبر بالقلب، فيقال له : العَدَاوَةُ والمُعَادَاةُ ، وتارة بالمشي، فيقال له : العَدْوُ ، وتارة في الإخلال بالعدالة في المعاملة، فيقال له : العُدْوَانُ والعَدْوُ. قال تعالی: فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] ، وتارة بأجزاء المقرّ ، فيقال له : العَدْوَاءُ. يقال : مکان ذو عَدْوَاءَ أي : غير متلائم الأجزاء . فمن المُعَادَاةِ يقال : رجلٌ عَدُوٌّ ، وقومٌ عَدُوٌّ. قال تعالی: بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ طه/ 123] ( ع د و ) العدو کے معنی حد سے بڑھنے اور باہم ہم آہنگی نہ ہونا ہیں اگر اس کا تعلق دل کی کیفیت سے ہو تو یہ عداوۃ اور معاداۃ کہلاتی ہے اور اگر رفتار سے ہو تو اسے عدو کہا جاتا ہے اور اگر عدل و انصاف میں خلل اندازی کی صورت میں ہو تو اسے عدوان اور عدو کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بےسمجھے برا نہ کہہ بیٹھیں ۔ اور اگر اس کا تعلق کسی جگہ کے اجزاء کے ساتھ ہو تو اسے عدواء کہہ دیتے ہیں جیسے مکان ذوعدوء ناہموار مقام چناچہ معاداۃ سے اشتقاق کے ساتھ کہا جاتا ہے رجل عدو وقوم عدو اور یہ واحد جمع دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ طه/ 123] اب سے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔ هَادَ ( یہودی) فلان : إذا تحرّى طریقة الْيَهُودِ في الدّين، قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا [ البقرة/ 62] والاسم العلم قد يتصوّر منه معنی ما يتعاطاه المسمّى به . أي : المنسوب إليه، ثم يشتقّ منه . نحو : قولهم تفرعن فلان، وتطفّل : إذا فعل فعل فرعون في الجور، وفعل طفیل في إتيان الدّعوات من غير استدعاء، وتَهَوَّدَ في مشيه : إذا مشی مشیا رفیقا تشبيها باليهود في حركتهم عند القراءة، وکذا : هَوَّدَ الرّائض الدابّة : سيّرها برفق، وهُودٌ في الأصل جمع هَائِدٍ. أي : تائب وهو اسم نبيّ عليه السلام . الھود کے معنی نر می کے ساتھ رجوع کرنا کے ہیں اور اسی سے التھدید ( تفعیل ) ہے جسکے معنی رینگنے کے ہیں لیکن عرف میں ھو د بمعنی تو بۃ استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا[ البقرة/ 62] ہم تیری طرف رجوع ہوچکے بعض نے کہا ہے لفظ یہود بھی سے ماخوذ ہے یہ اصل میں ان کا تعریفی لقب تھا لیکن ان کی شریعت کے منسوخ ہونے کے بعد ان پر بطور علم جنس کے بولا جاتا ہے نہ کہ تعریف کے لئے جیسا کہ لفظ نصارٰی اصل میں سے ماخوذ ہے پھر ان کی شریعت کے منسوخ ہونے کے بعد انہیں اسی نام سے اب تک پکارا جاتا ہے ھاد فلان کے معنی یہودی ہوجانے کے ہیں قرآن پاک میں ہے : ۔ عَلى شَفا جُرُفٍ هارٍ فَانْهارَ بِهِ فِي نارِ جَهَنَّمَ [ التوبة/ 109] جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی کیونکہ کبھی اسم علم سے بھی مسمی ٰ کے اخلاق و عادات کا لحاظ کر کے فعل کا اشتقاق کرلیتے ہیں مثلا ایک شخص فرعون کی طرح ظلم وتعدی کرتا ہے تو اس کے کے متعلق تفر عن فلان کہ فلان فرعون بنا ہوا ہے کا محاورہ استعمال ہوتا ہے اسہ طرح تطفل فلان کے معنی طفیلی یعنی طفیل نامی شخص کی طرح بن بلائے کسی کا مہمان بننے کے ہیں ۔ تھودا فی مشیہ کے معنی نرم رفتاری سے چلنے کے ہیں اور یہود کے تو راۃ کی تلاوت کے وقت آہستہ آہستہ جھومنے سے یہ معنی لئے کئے ہیں ۔ ھو دا لرائض الدبۃ رائض کا سواری کو نر می سے چلانا ھود اصل میں ھائد کی جمع ہے جس کے معنی تائب کے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے ایک پیغمبر کا نام ہے ۔ شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے ۔ ودد الودّ : محبّة الشیء، وتمنّي كونه، ويستعمل في كلّ واحد من المعنيين علی أن التّمنّي يتضمّن معنی الودّ ، لأنّ التّمنّي هو تشهّي حصول ما تَوَدُّهُ ، وقوله تعالی: وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] ( و د د ) الود ۔ کے معنی کسی چیز سے محبت اور اس کے ہونے کی تمنا کرنا کے ہیں یہ لفظ ان دونوں معنوں میں الگ الگ بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ کسی چیز کی تمنا اس کی محبت کے معنی کو متضمعن ہوتی ہے ۔ کیونکہ تمنا کے معنی کسی محبوب چیز کی آرزو کرنا کے ہوتے ہیں ۔ اور آیت : ۔ وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کردی ۔ نَّصَارَى وَالنَّصَارَى قيل : سُمُّوا بذلک لقوله : كُونُوا أَنْصارَ اللَّهِ كَما قالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوارِيِّينَ مَنْ أَنْصارِي إِلَى اللَّهِ قالَ الْحَوارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصارُ اللَّهِ [ الصف/ 14] ، وقیل : سُمُّوا بذلک انتسابا إلى قرية يقال لها : نَصْرَانَةُ ، فيقال : نَصْرَانِيٌّ ، وجمْعُه نَصَارَى، قال : وَقالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصاری الآية [ البقرة/ 113] ، ونُصِرَ أرضُ بني فلان . أي : مُطِرَ «1» ، وذلک أنَّ المطَرَ هو نصرةُ الأرضِ ، ونَصَرْتُ فلاناً : أعطیتُه، إمّا مُسْتعارٌ من نَصْرِ الأرض، أو من العَوْن . اور بعض کے نزدیک عیسائیوں کو بھی نصاری اس لئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے نحن انصار اللہ کا نعرہ لگا دیا تھا ۔ چناچہ قران میں ہے : ۔ كُونُوا أَنْصارَ اللَّهِ كَما قالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوارِيِّينَ مَنْ أَنْصارِي إِلَى اللَّهِ قالَ الْحَوارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصارُ اللَّهِ [ الصف/ 14] جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) بن مر یم نے حواریوں سے کہا بھلا کون ہے جو خدا کی طرف بلانے میں میرے مددگار ہوں تو حوراریوں نے کہا ہم خدا کے مددگار ہیں ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ نصرانی کی جمع ہے جو نصران ( قریہ کا نام ) کی طرف منسوب ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَقالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصاریالآية [ البقرة/ 113] یہود کہتے ہیں کہ عیسائی رستے پر نہیں ۔ نصر ارض بنی فلان کے معنی بارش بر سنے کے ہیں کیونکہ بارش سے بھی زمین کی مدد ہوتی ہے اور نصرت فلانا جس کے معنی کسی کو کچھ دینے کے ہیں یہ یا تو نصر الارض سے مشتق ہے اور یا نصر بمعنی عون سے ۔ قسس القِسُّ والْقِسِّيسُ : العالم العابد من رؤوس النصاری. قال تعالی: ذلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْباناً [ المائدة/ 82] وأصل القُسِّ : تتبّع الشیء وطلبه باللیل، يقال : تَقَسَّسْتُ أصواتهم باللیل، أي : تتبّعتها، والْقَسْقَاسُ والْقَسْقَسُ : الدّليل باللیل . ( ق س س ) القس والقسیس کے معنی رؤ سائ نصارٰ میں سے خدا پر ست عالم کے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ذلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْباناً [ المائدة/ 82] یہ اس لئے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی اصل میں قس کے معنی رات کے وقت کسی چیز کی جستجو کرنے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ تقسست اصواتھم باللیل میں نے رات کے وقت ان کی آوازوں کی جستجو کیا لقسق اس وا لقسقس کے معنی رات کے وقت رہنمائی کرنے والے کے ہیں ۔ رَهْبانِيَّةً والرَّهْبَانِيّةُ : غلوّ في تحمّل التّعبّد، من فرط الرّهبة . قال : وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها [ الحدید/ 27] ، والرُّهْبَانُ يكون واحدا، وجمعا، فمن جعله واحدا جمعه علی رَهَابِينَ ، ورَهَابِنَةٌ بالجمع أليق . والْإِرْهَابُ : فزع الإبل، وإنما هو من : أَرْهَبْتُ. ومنه : الرَّهْبُ من الإبل، وقالت العرب : رَهَبُوتٌ خير من رحموت اور ترھب ( تفعل ) کے معنی تعبد یعنی راہب بننے اور عبادت میں خوف سے کام لینے کے ہیں اور فرط خوف سے عبادت گذاری میں غلو کرنے کو رھبانیۃ کہا جاتا ہے قرآن میں ہے ۔ وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها [ الحدید/ 27] اور رہبانیت ( لذت دنیا کا چوڑ بیٹھنا ) جو انہوں نے از خود ایجاد کی تھی ۔ اور رھبان ( صومعہ نشین لوگ ) واحد بھی ہوسکتا ہے اور جمع بھی ، جو اس کو واحد قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک اس کی جمع رھابین آتی ہے لیکن اس کی جمع رھابیۃ بنانا زیادہ مناسب ہے ۔ الارھاب ( افعال ) کے اصل معنی اونٹوں کو خوف زدہ کرنے کے ہیں یہ ارھبت ( فعال کا مصدر ہے اور اسی سے رھب ہے جس کے معنی لاغر اونٹنی ( یا شتر نر قوی کلاں جثہ ) کے ہیں مشہور محاورہ ہے : ۔ رَهَبُوتٌ خير من رحموت کہ رحم سے خوف بہتر ہے ۔ الاسْتِكْبارُ والْكِبْرُ والتَّكَبُّرُ والِاسْتِكْبَارُ تتقارب، فالکبر الحالة التي يتخصّص بها الإنسان من إعجابه بنفسه، وذلک أن يرى الإنسان نفسه أكبر من غيره . وأعظم التّكبّر التّكبّر علی اللہ بالامتناع من قبول الحقّ والإذعان له بالعبادة . والاسْتِكْبارُ يقال علی وجهين : أحدهما : أن يتحرّى الإنسان ويطلب أن يصير كبيرا، وذلک متی کان علی ما يجب، وفي المکان الذي يجب، وفي الوقت الذي يجب فمحمود . والثاني : أن يتشبّع فيظهر من نفسه ما ليس له، وهذا هو المذموم، وعلی هذا ما ورد في القرآن . وهو ما قال تعالی: أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] . ( ک ب ر ) کبیر اور الکبر والتکبیر والا ستکبار کے معنی قریب قریب ایک ہی ہیں پس کہر وہ حالت ہے جس کے سبب سے انسان عجب میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ اور عجب یہ ہے کہ انسان آپنے آپ کو دوسروں سے بڑا خیال کرے اور سب سے بڑا تکبر قبول حق سے انکار اور عبات سے انحراف کرکے اللہ تعالیٰ پر تکبر کرنا ہے ۔ الاستکبار ( اسعاکال ) اس کا استعمال دوطرح پر ہوتا ہے ۔ ا یک یہ کہ انسان بڑا ببنے کا قصد کرے ۔ اور یہ بات اگر منشائے شریعت کے مطابق اور پر محمل ہو اور پھر ایسے موقع پر ہو ۔ جس پر تکبر کرنا انسان کو سزا وار ہے تو محمود ہے ۔ دوم یہ کہ انسان جھوٹ موٹ بڑائی کا ) اظہار کرے اور ایسے اوصاف کو اپنی طرف منسوب کرے جو اس میں موجود نہ ہوں ۔ یہ مذموم ہے ۔ اور قرآن میں یہی دوسرا معنی مراد ہے ؛فرمایا ؛ أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آگیا۔ الحمد لله پاره مکمل هوا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے ولتجدن قوبھم مودۃ للذین امنوا الذین قالوا انا نصاری اور ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں قریب تر ان لوگوں کو پائو گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں تا آخر آیت ۔ حضرت ابن عباس (رض) ، سعید بن جبیر ، عطاء اور سدی کا قول ہے یہ آیت نجاشی شاہ حبشہ اور اس کے ساتھیوں بارے میں نازل ہوئی جب یہ لوگ مسلمان ہوگئے تھے۔ قتادہ کا قول ہے کہ آیت کا تعلق اہل کتاب کے ایک گروہ سے تھا جس کے افراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتے رہے ۔ پھر جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو یہ لوگ آپ پر ایمان لے آئے۔ جاہلوں کا ایک گروہ بھی ہے جس کا گمان ہے کہ اس آیت میں نصاریٰ کی تعریف کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ نصاریٰ یہود سے بہتر ہیں حالانکہ بات یہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آیت میں اس چیز کا ذکر نہیں ہے۔ اس میں تو صرف ان لوگوں کا ذکر ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے تھے۔ سلسلہ تلاوت میں ان لوگوں کا اپنے متعلق اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کی خبر دینا اس پر دلالت کرتا ہے۔ صحیح سمجھ رکھنے والا جو شخص ان دو گروہوں یعنی یہود و نصاریٰ کے عقائد پر گہری نظر سے غور کرے گا اس کے سامنے یہ بات واضح ہوجائے گی کہ یہود کے عقائد کی بہ نسبت نصاریٰ کے عقائد قبیح ، زیادہ محال ، زیادہ فاسد ہیں۔ اس لیے کہ یہود فی الجملہ توحید کا اقرار کریت ہیں اگرچہ ان کے اندر بھی تشبیہ کا عقیدہ ہے جو ان کے فی الجملہ توحید کے عقیدے کے اندر نقص پیدا کرنے کا سبب ہے۔ اس کے برعکس نصاریٰ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی الوہیت کا اقرار کر کے توحید کے عقیدے سے منکر ہوگئے ہیں۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٢) اس کے ساتھ ساتھ ان کو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) سے جو دشمنی ہے اللہ تعالیٰ اس کو بیان فرماتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں میں سب سے زیادہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اور صحابہ کرام (رض) سے دشمنی رکھنے والے آپ بنی قریظہ، بنی نضیر، فدک، خیبر اور مشرکین مکہ کو پائیں گے جو کفر وشرک میں بہت پختہ ہیں۔ اور آپ کے ساتھ اور صحابہ کرام (رض) کے ساتھ دوستی رکھنے کے قریب آپ حضرت نجاشی اور ان کے ساتھیوں کو پائیں گے جن کی تعداد بتیس ہے یا چالیس ہے جن میں سے بتیس تو حبشہ کے ہیں اور آٹھ شام کے ہیں، بحیرا راہب اور اس کے ساتھی اور ابرہی، اشرف، ادریس، تمیم، تمام، درید، ایمن اور یہ دوستی اس بنا پر ہے کہ بہت سے ان میں سے تارک الدنیا عابد ہیں، جنہوں نے اپنے سروں کو خاص علامت کے طور پر درمیان میں سے منڈوا رکھا ہے۔ اور بہت سے علم دوست عالم ہیں اور یہ لوگ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر ایمان لانے میں متکبر نہیں۔ شان نزول : (آیت) ” ولتجدن اقربہم “۔ (الخ) ابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن مسیب، ابوبکر بن عبدالرحمن اور عروۃ بن زبیر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو بن امیہ ضمری کو روانہ کیا اور ان کے ساتھ حضرت نجاشی کے پاس ایک خط بھیجا چناچہ وہ نجاشی کے پاس آئے، نجاشی نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نامہ مبارک پڑھا اور حضرت جعفر بن ابی طالب اور ان کے ساتھ دوسرے مہاجرین کو بلایا اور علماء وتارک الدنیا راہبوں کو حکم دیا وہ آئے پھر حضرت جعفر (رض) کو حکم دیا، انہوں نے سب کے سامنے سورة مریم کی آیات تلاوت کیں، چناچہ قرآن کریم پر ایمان لے آئے اور سب کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، ان ہی حضرات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے (آیت) ” ولتجدنھم “۔ سے ”۔ فاکتبنا مع الشاھدین “۔ تک یہ آیات نازل فرمائیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٢ (لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَہُوْدَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا ج) یہ بہت اہم آیت ہے۔ مکہ کے مشرکین بھی مسلمانوں کے دشمن تھے ‘ لیکن ان کی دشمنی کم از کم کھلی دشمنی تھی ‘ ان کا دشمن ہونا بالکل ظاہر و باہر تھا ‘ وہ سامنے سے حملہ کرتے تھے۔ لیکن مسلمانوں سے بد ترین دشمنی یہود کی تھی ‘ وہ آستین کے سانپ تھے اور سازشی انداز میں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں مشرکین مکہ سے کہیں آگے تھے۔ آج بھی یہود اور ہنود مسلمانوں کی دشمنی میں سب سے آگے ہیں ‘ کیونکہ اس قسم (بت پرستی) کا شرک تو اب صرف ہندوستان میں رہ گیا ہے ‘ اور کہیں نہیں رہا۔ ہندوستان کے بھی اب یہ صرف نچلے طبقے میں ہے جبکہ عام طور پر اوپر کے طبقے میں نہیں ہے۔ لیکن بہرحال اب بھی مسلمانوں کے خلاف یہود اور ہنود کا گٹھ جوڑ ہے۔ (وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰی ط) یہ تاریخی حقیقت ہے اور سیرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے کہ جس طرح کی شدید دشمنی اس وقت یہود نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کی ویسی نصاریٰ نے نہیں کی۔ حضرت نجاشی (رح) (شاہ حبشہ) نے اس وقت کے مسلمان مہاجروں کو پناہ دی ‘ مقوقس (شاہ مصر) نے بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ہدیے بھیجے۔ ہرقل نے بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نامۂ مبارک کا احترام کیا۔ وہ چاہتا بھی تھا کہ اگر میری پوری قوم مان لے تو ہم اسلام قبول کرلیں۔ نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ جس کا ذکر سورة آل عمران (آیت ٦١) میں ہم پڑھ چکے ہیں۔ وہ لوگ اگرچہ مسلمان تو نہیں ہوئے مگر ان کارویّہ انتہائی محتاط رہا۔ بہر حال یہ حقیقت ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں مسلمانوں کے خلاف عیسائیوں کی مخالفت میں وہ شدت نہ تھی جو یہودیوں کی مخالفت میں تھی۔ (ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنْہُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُہْبَانًا وَّاَنَّہُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُوْنَ ) یعنی عیسائیوں میں اس وقت تک علمائے حق بھی موجود تھے اور درویش راہب بھی جو واقعی اللہ والے تھے۔ بحیرہ راہب عیسائی تھا جس نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بچپن میں پہچانا تھا۔ اسی طرح ورقہ بن نوفل نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سب سے پہلے تصدیق کی تھی اور بتایا تھا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ پر وہی ناموس نازل ہوا ہے جو اس سے پہلے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوا تھا۔ ورقہ بن نوفل تھے تو عرب کے رہنے والے ‘ لیکن وہ حق کی تلاش میں شام گئے اور عیسائیت اختیار کی۔ وہ عبرانی زبان میں تورات لکھا کرتے تھے۔ یہ اس دور کے چند عیسائی علماء اور راہبوں کی مثالیں ہیں۔ لیکن وہ قِسِّیسِین اور رُہْبان اب آپ کو عیسائیوں میں نہیں ملیں گے ‘ وہ دور ختم ہوچکا ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب قرآن نازل ہو رہا تھا۔ اس کے بعد جو صورت حال بدلی ہے اور صلیبی جنگوں کے اندر عیسائیت نے جو وحشت و بربر یت دکھائی ہے ‘ اور عیسائی علماء اور مذہبی پیشواؤں نے جس طرح مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی ہے اور اپنی قوم سے اس سلسلے میں جو کارنامے انجام دلوائے ہیں وہ تاریخ کے چہرے پر بہت ہی بد نما داغ ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

56:: مطلب یہ ہے کہ عیسائیوں میں چونکہ بہت سے لوگ دنیا کی محبت سے خالی ہیں، اس لئے ان میں قبول حق کا مادہ زیادہ ہے اور کم از کم انہیں مسلمانوں سے اتنی سخت دشمنی نہیں ہے، کیونکہ دنیا کی محبت وہ چیز ہے جو انسان کو حق کے قبول کرنے سے روکتی ہے، اس کے برعکس یہودیوں اور مشرکین مکہ پر دنیا پرستی غالب ہے، اس لئے وہ سچے طالب حق کا طرز عمل اختیار نہیں کرپاتے، عیسائیوں کے نسبۃً نرم دل ہونے کی دوسری وجہ قرآن کریم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ تکبر نہیں کرتے ؛ کیونکہ انسان کی انا بھی اکثر حق قبول کرنے میں رکاوٹ بن جاتی ہے، عیسائیوں کو جو مسلمانوں سے محبت میں قریب تر فرمایا گیا ہے اسی کا اثر یہ تھا کہ جب مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر ظلم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تو بہت سے مسلمانوں نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس پناہ لی، اور نہ صرف نجاشی بلکہ اس کی رعایا نے بھی ان کے ساتھ بڑے اعزاز واکرام کا معاملہ کیا ؛ بلکہ جب مشرکین مکہ نے اپنا ایک وفد نجاشی کے پاس بھیجا اور اس سے درخواست کی کہ جن مسلمانوں نے اس کے ملک میں پناہ لی ہے انہیں اپنے ملک سے نکال کرواپس مکہ مکرمہ بھیج دے تاکہ مشرکین ان کو اپنے ظلم کا نشانہ بناسکیں، تونجاشی نے مسلمانوں کو بلا کر ان سے ان کا موقف سنا اور مشرکین مکہ کا مطالبہ ماننے سے انکار کردیا اور جو تحفے انہوں نے بھیجے تھے وہ واپس کردئے ؛ لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ عیسائیوں کو جو مسلمانوں سے قریب تر کہا گیا ہے یہ ان عیسائیوں کی اکثریت کے اعتبار سے کہا گیا ہے جو اپنے مذہب پر عمل کرتے ہوئے دنیا کی محبت سے دور ہوں اور ان میں تکبر نہ پایاجاتا ہو ؛ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر زمانے کے عیسائیوں کا یہی حال ہے ؛ چنانچہ تاریخ میں ایسی بہت مثالیں ہیں جن میں عیسائیوں نے مسلمانوں کے ساتھ بدترین معاملہ کیا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

سورة بقرہ کی آیت { وَلَتَجِدَنَّہُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍ } (٢: ٩٦) کی تفسیر میں گزرچکا ہے کہ جس طرح مشرک لوگوں کا دارو مدار فقط دنیا کی زندگی پر ہے۔ عقبیٰ کے یہ لوگ بالکل منکر ہیں اسی طرح یہود ہیں کہ انبیاء کے قتل اور علاوہ اس کے اور بڑے بڑے گناہوں کے کرنے سے مشرکوں کی طرح یہ بھی سخت دل ہو کر عقبیٰ کو بالکل بھول گئے ہیں اور فقط دنیا کی زیست پر ہی ان کا بھی دارو مدار ہے۔ اسلام میں اس عادت کے لوگوں کی بڑی مذمت آئی ہے۔ اس لئے ایک دل ہو کر یہ دونوں فریق اسلام کے سخت دشمن ہیں بخلاف نصاریٰ کے ان میں بعض عبادت پسند اور تارک الدنیا ہیں یہود جیسی دنیا پرستی ان کے جی میں نہیں ہے اسلئے اسلام کی دنیا پرستی کی مذمت کو انہوں نے عداوت کا سبب ٹھیرایا ہے۔ اسی واسطے ہرقل اور مقوقش نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطوں کی عزت کی۔ اور کسریٰ نے آپ کا خط پھاڑ ڈالا حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہود اور مشرکوں کی عادت ملتی جلتی ہے اس لئے یہود اسلام کی عداوت میں مشرکوں کے قدم بقدم ہیں نصاریٰ ایسے نہیں ہیں چناچہ ان کا ذکر آتا ہے۔ اگرچہ نسائی اور ابن ابی حاتم اور طبرانی نے شان نزول اس آیت کی یہ بیان کی ہے کہ مدینہ منورہ کی ہجرت سے پہلے عورتوں بچوں کے علاوہ اسی آدمی کے قریب حبشہ کو ہجرت کر گئے تھے اور قریش نے نجاشی بادشاہ حبشہ سے ان لوگوں کے مکہ میں واپس کردینے کی خواہش حبشہ جا کر کی تھی اور نجاشی نے ان لوگوں کا اصل حال دریافت کرنے کی غرض سے ان لوگوں کو اپنے روبرو بلایا تھا اور آنحضرت کے ذکر کے ذیل میں نجاشی نے حضرت جعفر (رض) سے کہا تھا کہ تمہارے نبی پر جو کلام اترتا ہے اس میں سے کچھ مجھ کو سناؤ اور حضرت جعفر (رض) نے سورة مریم پڑھی تھی جس کو سن کر نجاشی اور پادری لوگ روئے تھے اس پر یہ آیتیں اور آگے کی آیتیں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہیں ١ ؎ اور شاہ صاحب نے بھی اسی شان نزول کو موضح القرآن میں اختیار کیا ہے لیکن حافظ ابن کثیر (رح) نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ نجاشی کا قصہ اس وقت کا ہے کہ آنحضرت اس وقت مدینہ میں تشریف رکھتے تھے اور وہیں قرآن شریف نازل ہوتا تھا اس صورت میں ان مدنی آیات کا نزول اس وقت کیونکر تسلیم کیا جاسکتا ہے اس لئے شان نزول ان آیات کی وہی ہے جس کو ابن ابی حاتم نے دوسری روایت میں بیان کیا ہے کہ نجاشی نے تیس پادری آنحضرت کے پاس مدینہ میں بھیجے تھے۔ آنحضرت نے ان کو سورة یس پڑھ کر سنائی اور وہ سن کر روئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ٢ ؎ حافظ ابن کثیر کے اس اعتراض کا جواب یوں ہوسکتا ہے کہ اگرچہ نجاشی کے سورة مریم سن کر رونے کا قصہ ہجرت مدینہ سے پہلے کا ہے لیکن ہجرت کے بعد نجاشی کے بھیجے ہوئے وہ پادری جب مدینے میں آئے جو نجاشی کے مصاحب تھے اور سورة مریم کے سن لینے کے وقت وہ نجاشی کے پاس تھے اور نجاشی کے ساتھ وہ بھی روئے تھے اب جو سورة یس سن کر پھر روئے تو اللہ تعالیٰ نے دونوں قصوں کو شان نزول قرار دے کر یہ آیات نازل فرمائی ہیں حاصل یہ ہے کہ اگرچہ یہ آیتیں نصاریٰ کے ایک گروہ کی شان میں نازل ہوئی ہیں لیکن ان آیتوں کے لفظ عام ہیں اس لئے اب بھی نصاریٰ میں جو لوگ اس خاص گروہ کی عادت کے ہیں وہ ان آیتوں کے حکم میں داخل نہیں ہیں۔ سورة بقر کی آیت لِتَکُوْنُوْا شُھَدَآ ئَ عَلَی الناَّسِ (٢: ٩٦) کی تفسیر میں گزرچکا ہے کہ سوائے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے اور نبیوں کی امتیں قیامت کے دن اپنے نبیوں کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جھٹلاویں گے اور یہ کہیں گے کہ یا اللہ ہم کو کسی نبی نے تیرا حکم نہیں پہنچایا اور انبیاء اپنی رسالت کا ادا کردینا ظاہر کریں گے۔ قرآن شریف میں پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا حال ہے اس لئے امت محمدیہ کے لوگ ان انبیاء کی تائید میں کہویں گے کہ یا اللہ قرآن شریف میں پہلے نبیوں کی رسالت کے ادا ہوجانے کا ذکر ہے اس واسطے ہم تیرے کلام کے سچے ہونے کی شہادت ادا کرتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(5:82) لتجدن۔ مضارع بلام تاکید و نون ثقلیہ۔ تو ضرور پائے گا۔ لتجدن۔ فعل بافاعل۔ الیھود۔ والذین اشرکوا دونوں مفعول۔ اشد الناس ۔۔ امنوا۔ حال یعنی تو ضرور پائے گا اہل یہود اور مشرکین کا ایمان والوں کی عداوت میں تمام لوگوں سے سخت ترین۔ اسی طرح دوسرے فقرہ کا بھی ترجمہ ہوگا۔ اور تو ضرور پائے گا ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ایمان والوں کی دوستی میں ان سب سے قریب ترین۔ قسیسین۔ جمع منصوب۔ قسیسون۔ جمع مرفوع۔ اس کی واحد قس اور قتیس ہے۔ بمعنی عیسائی عالم۔ یا درویش۔ یہ سریانی لفظ ہے۔ رھبان۔ زاہدان اہل کتاب۔ اہل کتاب کے درویش۔ راھب۔ واحد۔ جیسے فارس کی جمع فرسان اور راکب کی جمع رکبان ہے۔ راہب اس عبادت گزار کو کہتے ہیں۔ جو دنیا کے ہنگاموں سے الگ تھلگ خانقاہوں اور حجروں میں مصروف ذکر و فکر رہتا ہے۔ علامہ قرطبی نے رہبانیت کی یوں تشریح کی ہے : الرھبانیۃ والترھب التعبدنی صومعۃ۔ قسیسین اور رھبانا۔ ان کے عمل کی وجہ سے منصوب ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یہ ایک دائمی حقیقت ہے جس کا اس زمانہ میں کبھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے آج بھی جو دشمنی دیہودیوں اور مشرکوں ( گو سالہ پرست اور موتیوں کے پچاریوں) کو مسلمانوں وہ بہر حال عیسائیوں کو نہیں ہے ہاں جن عیسایئوں پر یہود غالب ہے وہ واقعی مسلمانوں ج کے سخت دشمن ہیں (م۔ ع ) 8 یہود اور نصاری کے درمیان جو تفاوت مذکوہ ہوا ہے یہ اس کی علت ہے جس طرح یہود کی عالم کو حبر کہا جاتا ہے جس کی جمع احبار ہے اسی طرح نصاری کے رائیس اور عالم قسیسین کہلاتے ہیں کہ نصاری میں رہبانیت (دنیا سے کنارہ کشی) کی بدعت رائج تھی۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لا رھبقا نیتہ فی الا سلام فرماکر اسے ممنوع قراردے دیا بیشک یہود کی قساوت قلبی کی کے مقابلہ میں یہ ممدوح تھی مگر اس سے وہبا نیت کا مطلقا ممدوح ہونا لازم نہیں آتا (کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیت نمبر 82 تا 86 لغات القرآن : لتجدن (البتہ تو ضرور پائے گا) ۔ اشد الناس (لوگوں میں سخت) اقرب (زیادہ قریب) ۔ مودۃ (محبت ۔ دوستی۔ تعلق) ۔ قسیسین (قسیس) ۔ عالم۔ عیسائیوں کے پادری) ۔ رھبانا (راھب) ۔ دنیا کو چھوڑ کر عبادت کرنے والے) لایستکبرون (وہ تکبر نہیں کرتے ہیں) ۔ اذا سمعوا (جب وہ سنتے ہیں) ۔ اعینھم (عین) ۔ ان کی آنکھیں) ۔ تفیض (بہنے لگتے ہیں) ۔ الدمع (آنسو) ۔ عرفوا (انہوں نے پہچان لیا) ۔ تشریح : اچھے اور برے لوگ کس جماعت میں نہیں ہوتے۔ چناچہ یہود و نصاریٰ دونوں میں اچھے برے لوگ تھے۔ ان آیات سے پتہ چلتا ہے کہ یہود میں اچھے لوگ بہت کم تھے۔ اس لئے ان کا کچھ خاص وزن نہ تھا۔ اس کے برخلاف نصاریٰ میں اچھے لوگ مقابلتاً زیادہ تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ہاں علماء اور درویش زیادہ پائے جاتے تھے جن کے اندر شان اور شیخی نہ تھی۔ عوام سے ملتے رہنے کی بدولت وہ عوام پر اثر انداز تھے۔ اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ عوام وہی ہوں گے جو ان کے علماء اور صوفیا بنائیں گے۔ اس سے علماء اور مشائخ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اگرچہ عیسائیوں میں رہبان یعنی گوشہ نشین تارک ال دنیا درویش حضرات بھی تھے لیکن قرآن نے یہ کہہ کر کہ ” ان میں تکبر نہیں ہے “ ۔ یہ بتا دیا کہ وہ عوام سے بالکل کٹے ہوئے نہ تھے بلکہ رابطہ رکھتے تھے اور اسی رابطہ کی بدولت وہ قوم کے مزاج کی تراش و خراش کرتے تھے۔ یہ آیات ایک خاص واقعے کی طرف واضح اشارہ کرتی ہیں ۔ جب مکہ مکرمہ کے مسلمان قریش کے مظالم سے بہت تنگ آگئے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ اس اجازت پر عمل کرتے ہوئے پہلی مرتبہ گیارہ افراد حبشہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جن میں حضرت عثمان غنی (رض) شامل تھے اور ان کی اہلیہ محترمہ دختر رسول رقیہ (رض) بھی تھیں۔ اس کے کچھ دنوں بعد حضرت جعفر بن ابی طالب کی سرکردگی میں بیاسی (82) مردوں اور عورتوں کا دوسرا قافلہ حبشہ پہنچ گیا۔ وہاں آبادی کی اکثریت نصاریٰ کی تھی۔ حکومت بھی نصاریٰ کی تھی اور بادشاہ بھی جس کا لقب نجاشی تھا اہل نصاریٰ میں سے تھا۔ ان لوگوں نے مسلمانوں کو بہت آرام سے رکھا۔ قریشی مکہ نے ایک وفد شاہ بجاشی کے پاس بھیجا کہ ان مسلمانوں کو وہاں سے نکال دیا جائے لیکن حضرت جعفر (رض) بن ابی طالب کی ایک تقریر سے متاثر ہوکر نجاشی نے قریش مکہ کے وفد کو کورا جواب دے دیا۔ اس نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کے متعلق چند سوالات کئے۔ جوابات نے اسے اور اہل دربار کو (جن میں علماء اور مشائخ حضرات بھی تھے) بہت متاثر کیا۔ وہ لوگ رقت قلب سے رونے لگے اور کہا کہ یہ بالکل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی انجیل کی پیشین گوئی کے مطابق ہے۔ وہاں کے اہل حکومت ، اہل علم اور عوام نے مسلمانوں کے طور طریقے دیکھے اور دل سے اسلامی تعلیمات کو پسند کیا۔ اسی اثنا میں چند اور واقعات پیش آئے۔ جنہوں نے نجاشی، اکثر اہل دربار اور چند دوسرے لوگوں کو اسلام کی طرف کھینچا۔ نجاشی خود مسلمان ہوگیا۔ لیکن کہا جاتا ہے چند سیاسی مصلحتوں کے تحت انہوں نے اپنا اسلام ظاہر نہیں کیا۔ بہرکیف انہوں نے علما و مشائخ اور دوسرے افراد پر مشتمل ستر (70) آدمیوں کا ایک وفد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں مدینہ بھیجا جو سب کے سب مسلمان ہوگئے۔ آپ نے ان کو سورة یسین سنائی۔ وہ سب سنتے جاتے تھے اور روتے جاتے تھے۔ نجاشی نے اپنا اسلام ظاہر کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ بہر حال ان کے مسلمان ہونے میں کوئی شک نہیں۔ کیوں کہ ان کی وفات پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) نے غائبانہ نماز جنازہ پڑھی۔ آپ نے صحابہ (رض) سے فرمایا ” آج تمہارا بھائی انتقال کر گیا ہے “ ۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہ آیات خاص طور سے ان لوگوں کی شان ہی میں نہیں۔ بلکہ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیات عمومی رنگ لئے ہوئے ہیں۔ چناچہ اس میں وہ تمام اس قسم کے نصاریٰ شامل ہیں جو اس زمانے سے لے کر قیامت تک کہیں بھی ہوں۔ یہ آیات ایک خاص قسم کے نصاریٰ کے متعلق ہیں۔ ان کے مفہوم میں ہر قسم کے نصاریٰ شامل نہیں ہیں کیونکہ آج کل کے نصاریٰ اور یہود خواص و عوام گٹھ جوڑ کئے ہوئے ہیں جیسا کہ فلسطین اور لبنان کے واقعات بتا رہے ہیں۔ ان آیات سے یہ مطلب نکالنا کہ نصاریٰ یہود سے بہتر ہیں غلط ہے۔ اگر دونوں کے مذاہب کا موازنہ کیا جائے تو آج کے نصاریٰ زیادہ مشرک اور بےلگام ہیں۔ یہود ایک اللہ کو مانتے ہیں، نصاریٰ تین کو۔ یہود کے پاس عقیدہ بھی ہے اور مذہبی اصول و قوانین بھی۔ لیکن عیسائیوں کے پاس نہ کوئی قانون ہے، نہ کوئی اصول اور نہ کوئی لازمی عقیدہ۔ جس کا جو جی چاہے مانے نہ مانے۔ کرے نہ کرے۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کی دشمنی میں نصاریٰ یہود سے بڑھ کر ہیں۔ اس وقت نصاریٰ ہی کی سرپرستی یہود کو حاصل ہے ورنہ ان کی کوئی طاقت نہیں تھی۔ بہرحال اللہ کی نظر میں ہر ایک وہ شخص اور قوم برابر ہے جو اللہ کی آیات کا انکار کرتی ہے خواہ وہ یہود ہوں یا عیسائی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ قریب ترکایہ مطلب ہے کہ دوست وہ بھی نہیں مگر دوسرے مذکورین سے غنیمت ہیں۔ 4۔ یہ آیت تمام ازمنہ وامکنہ کے نصاری کے باب میں نہیں ہے جو نصاری ان اوصاف جو کہ سبب اور مسبب میں موصوف ہوں وہی مراد ہیں پس بعض اہل تملق کا دنیوی غرض سے اس میں عموم مطلق کا دعوی کرنا محض ہواپرستی ہے۔ تنبیہ۔ مقصود آیت میں مدح نصاری کی نہیں بلکہ تقریر میں انصاف ہے اور مقصود مودت کا قرب کامل نہیں بلکہ قریب انصافی ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب میں اچھے لوگوں کا کردار۔ قرآن مجید کا کمال یہ ہے کہ جب وہ اہل کتاب کی غالب اکثریت کی برائی اور کمزوری کا ذکر کرتا ہے تو ان میں سے اچھے لوگوں کی تعریف کرنا بھی ضروری سمجھتا ہے اسی اصول کے پیش نظر یہودیوں اور مشرکوں کے بارے میں وضاحت کردی گئی کہ یہ عیسائیوں کی نسبت مسلمانوں کے بارے میں زیادہ متشدد ہیں ان کے مقابلے میں عیسائی مسلمانوں کے بارے میں نرم واقع ہوئے ہیں مفسرین نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے یہاں عیسائیوں سے مراد سب عیسائی نہیں بلکہ عیسائیوں کا وہ فرقہ مراد ہے جو اپنے آپ کو نصاریٰ کے نام سے منسوب کرتا ہے یہ مدینہ اور خیبر کے درمیان میں آباد تھے اور عقیدہ کے لحاظ سے دوسرے عیسائیوں سے بہتر اور مسلمانوں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے تھے۔ آج بھی عیسائیوں میں اس فرقہ کے لوگ اپنے آپ کو یہودیوں کی نسبت مسلمانوں کے قریب سمجھتے ہیں۔ لیکن افسوس یہ لوگ تعداد اور اثر و رسوخ کے لحاظ سے ہمیشہ تھوڑے رہے ہیں۔ یہ تخصیص اس لیے حق پر مبنی معلوم ہوتی ہے کہ ابتدا سے لے کر آج تک مسلمانوں کی عیسائیوں کے ساتھ ہی معرکہ آرائی ہوتی رہی ہے یہودی پیچھے رہ کر عیسائیوں اور دوسری اقوام کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتے رہے ہیں عیسائیوں میں جن لوگوں کو مسلمانوں کا ہمدرد قرار دیا گیا ہے اس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ اس فرقہ میں ایسے علماء اور درویش موجود ہیں جو تکبر و غرور سے اجتناب کرنے والے ہیں اس آیت کی تشریح میں کچھ اہل علم کا خیال ہے ان عیسائیوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو حلقۂ اسلام میں داخل ہوجاتے ہیں۔ مسائل ١۔ یہودی اور مشرک مومنوں کے سخت ترین دشمن ہیں۔ ٢۔ نصاریٰ مومنین کے ساتھ محبت کرنے میں قریب تر ہیں۔ ٣۔ نصاریٰ میں عبادت گزار، عالم وزاہد اور تکبر سے اجتناب کرنے والے لوگ ہیں۔ تفسیر بالقرآن یہود اور مشرکین مسلمانوں کے بڑے دشمن ہیں : ١۔ اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ (الممتحنۃ : ١) ٢۔ مومنوں کو کفار کے ساتھ دوستی نہیں کرنی چاہیے، (ال عمران : ٢٨) ٣۔ اے ایمان والو کفار کو دوست نہ بناؤ (النساء : ١٤٤) ٤۔ اے ایمان والو یہود و نصاریٰ کو دوست مت بناؤ (المائد ۃ : ٥١) ٥۔ اے ایمان والو ان کو اپنا دوست مت بناؤ جن پر اللہ کا غضب ہوا۔ (الممتحنۃ : ١٣) ٦۔ اے ایمان والو ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جنھوں نے تمہارے دین کو کھیل بنا لیا ہے۔ (المائدۃ : ٥٧ تا ٥٨) ٧۔ اگر وہ اللہ اور اس کے نبی پر اور اللہ کی نازل کردہ کتاب پر ایمان لانے والے ہوتے تو کفار کو دوست نہ بناتے۔ (المائدۃ : ٨١) ٨۔ اے ایمان والو اگر تمہارے اٰباؤاجداد کفر کو پسند کریں تو انہیں اپنا دوست نہ بناؤ۔ (التوبۃ : ٢٣) ٩۔ ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور اللہ متقین کا دوست ہے۔ (الجاثیۃ : ١٩) ١٠۔ ایمان والے شیاطین کے دوست نہیں ہوا کرتے۔ (الاعراف : ٢٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة المائدہ کا آخری حصہ ایک نظر میں : اس پارے میں سورة مائدہ کا بقیہ حصہ ہے ‘ اس کے ابتدائی حصوں کے بارے میں تفصیلات پارہ ششم میں گزر چکی ہیں ۔ نیز اس میں سورة انعام کے آغاز سے لے کر آیت (آیت) ” ولو اننانزلنا الیھم الملئکۃ) تک کا حصہ بھی مذکور ہے جس کے بارے میں تفصیلی بحث سورة انعام کے آغاز میں ہوگی ۔ یہاں صرف اس حصے پر تبصرہ کیا جا رہا ہے جو سورة مائدہ سے رہ گیا تھا ۔ پارہ ششم میں اس سورة کے تعارف میں ہم نے کہا تھا : ” اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن کریم حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب مبارک پر اس لئے نازل فرمایا کہ اس کے ذریعے وہ ایک امت کو برپا کریں ‘ وہ امت ایک مملکت کی بنیاد رکھے ‘ ایک معاشرے کو منظم کرے اور یہ مملکت لوگوں کے ضمیر ‘ ان کے اخلاق سنوارے اور ان کی عقلی تربیت کرے ۔ اس قرآن کے ذریعے اس معاشرے کے اجتماعی تعلقات کے حدود وقیود وضع ہوں اور اس مملکت کے اندر لوگوں کے تعلقات بھی منضبط ہوں اور پھر دوسرے ممالک کے ساتھ بھی اس مملکت کے تعلقات استوار ہوں ۔ اس امت کے تعلقات دوسری امتوں اور ملتوں کے ساتھ قائم ہوں ۔ قرآن اس تمام پوری امت کو ایک مضبوط رسی کے اندر باندھ دے ‘ اس کے متفرق اجزاء کو جمع کر دے ‘ اس کے فرقوں کو جمع کر دے اور اسے ایک مضبوط محور کے اندر پختہ کر دے ‘ اسے اللہ کی اس بادشاہت کے اندر لے آئے اور اس کا رخ ایک سمت میں ہوجائے ۔ یہ ہے دین اسلام جیسا کہ درحقیقت وہ اللہ کے نزدیک ایسا ہی ہے اور جسے مسلمانوں نے ایسا ہی سمجھا جب وہ صحیح مسلمان ہوا کرتے تھے ۔ جیسا کہ سابقہ تین طویل سورتوں میں ہم نے دیکھا اس سورة میں بھی مختلف موضوعات کو لیا گیا ہے ۔ ان تمام موضوعات کے درمیان قدر مشترک کیا چیز ہے ؟ وہی جس کے حصول کے لئے اس دنیا میں پیغام اسلام کی ضرورت محسوس کی گئی ۔ یعنی ایک امت کی تشکیل ‘ ایک مملکت کا قیام اور ایک مثالی اسلامی معاشرے کا قیام ۔ اس معاشرے کا قیام بھی ایک خاص نظریہ کے مطابق ایک خاص تصور حیات کی روشنی میں اور بالکل جدید انداز میں مطلوب تھا ۔ اس معاشرے کی روح عقیدہ توحید تھی ۔ عقیدہ توحید اس کا پہلا اصول اقرار پایا اور عقیدہ توحید کے اہم عناصر یہ ہیں کہ الہ اور حاکم فقط اللہ ہے ‘ وہی اس کائنات کا تھامنے والا ہے ۔ اسی کا حکم چلتا ہے ‘ زندگی گزارنے کے طریقے صرف اسی سے اخذ کئے جاسکتے ہیں ‘ وہی شارع ہے ‘ وہی زندگی کی اعلی قدریں متعین کرنے کا حق رکھتا ہے اور حس وقبح کے پیمانے صرف وہی متعین کرسکتا ہے ۔ “ ” اس سورة میں اعتقادی افکار کی توضیح کی گی ہے اور اسے بت پرستانہ خرافات اور انحرافات سے پاک کیا گیا ہے ۔ نیز اہل کتاب نے جو تحریفات کیں انہیں بھی دور کیا گیا ہے اور جماعت مسلمہ کے سامنے خود اس کا اپنا تعارف پیش کیا گیا ہے ۔ کہ اس کی حقیقت کیا ہے ‘ اس کا طریقہ کار کیا ہونا چاہئے ‘ اور اس کے راستے میں جو کانٹے ہیں اور جو جال بچھے ہوئے ہیں ان سے بچنے کا کیا طریقہ ہے ۔ کہاں کہاں اس دین کے دشمن گھات لگائے بیٹھے ہیں اور کہاں کہاں پھسلن ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ‘ اس سورة میں عبادات اسلام اور شعائر اسلام بھی بتائے گئے ہیں جن کے ذریعے ایک مسلم کی روح پاک ہوجاتی ہے اور اس کا رابطہ اس کے رب کے ساتھ قائم ہوجاتا ہے ۔ نیز اعتقادات و عبادات کے ساتھ ساتھ اس میں اجتماعی روابط ‘ حکومت کے لئے قانون سازی اور پھر دوسری حکومتوں کے ساتھ اسلامی حکومت کے تعلقات کے اصول بھی بتائے گئے ہیں ۔ نیز اسلامی معاشرے میں حلال و حرام کا بھی ذکر ہے کہ مسلمانوں کے لئے کن چیزوں کا کھانا حرام ہے کن مشروبات کا پینا حرام ہے اور کن عورتوں سے نکاح حرام ہے ۔ کیا کیا اعمال برے ہیں اور کیا کیا طرز ہائے عمل غیر اسلامی ہیں۔ غرضیکہ یہ سورة ایک مکمل گٹھڑی ہے جس کے اندر ‘ یہ تمام امور ایک ہی جگہ آگئے ہیں اور یہ گٹھڑی مجموعہ دین ہے ۔ اسی نقطہ نظر سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ دین ان تمام امور پر مشتمل ہے ۔ “ اس سورة کی نوعیت اور اس کے مشمولات وموضوعات کی اس عام تصویر کشی کی روشنی میں ہم اس کے اس بقیہ حصے کا بھی بڑی خوبی سے مطالعہ کرتے ہیں ۔ چناچہ اس حصے میں بھی وہ مباحث اور موضوعات یا ان کے ساتھ ملتی جلتی بحثیں موجود ہیں جن کی تفصیلات پارہ ششم میں گزر چکی ہیں ۔ امت مسلمہ کی مخالفت کرنے والے عناصر بعض دوسرے کیمپوں کا تعارف ان مباحث میں کرایا گیا ہے ‘ جن کے بارے میں وہاں اشارات رہ گئے تھے ۔ یہ بات نہایت ہی تعجب خیز ہے کہ یہ وہی کیمپ ہیں جو ہمیشہ تحریک اسلامی یا احیائے اسلام کی تحریکات کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ اگرچہ اس تحریک کے دشمنوں کے رنگ مختلف ہیں لیکن اصل کینہ ایک ہی ہے جو ان کے دلوں میں جاگزین ہے۔ نیزان میں ایک نہایت ہی قلیل تعداد ہدایت کے طالب لوگوں بھی ہے ۔ مثلا بعض عیسائی گروہ ‘ جو ہدایت قبول کر رہے ہیں اور جب اس وقت حضور کی جانب سے انہوں نے یہ دعوت پر سوز سنی تو اس ان کے دل پگھل گئے اور انہوں نے لبیک کہہ کر اپنے آپ کو ثواب آخرت اور جنت کا مستحق کرلیا ۔ ان باقی مباحث میں سے ایک بحث یہ بھی ہے کہ حلال و حرام کے موضوع پر قانون سازی کا حق صرف اللہ کو حاصل ہے اور اہل ایمان کے لئے سخت ممانعت ہے کہ وہ اس موضوع پر اللہ تعالیٰ کے حق اقتدار اور قانون سازی پر دست درازی کریں ۔ اہل ایمان کو خدا کا خوف کرنا چاہئے کیونکہ یہ معاملہ ایمان وکفر کا ہے اور انہوں نے ایمان لانے کا اعلان تو کر ہی دیا ہے ۔ اس کے علاوہ قسموں ‘ جوئے ‘ شراب ‘ پانسوں ‘ بتوں اور حالت احرام کے اندر شکار جیسے قانون اور فقہی احکام ‘ خانہ کعبہ ‘ حرام مہینوں ‘ ہدی اور وہ جانور جن کے گلوں میں پٹے ڈالے ہوئے ہوتے ہیں بطور علامت قربانی کی بابت مسائل نیز اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کردہ شرعی احکام اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے دی جانے والی ہدایات کی پیروی کی تاکید اور خدا اور رسول کی مخالفت سے ڈرانے کے مضامین بھی دیئے گئے ہیں اور تنبیہ کی گئی ہے کہ اللہ کے عذاب اور اس کے انتقام سے ڈرو اور ہر وقت اس ذات باری کو پیش نظر رکھو جس کے پاس تم نے لوٹ کر جانا ہے ۔ اس کے بعد جماعت مسلمہ کی تربیت کے بعض پہلو بھی لئے گئے ہیں ‘ وہ اقدار جن کے مطابق اس کے پوری دنیا کے ساتھ معاملہ کرنا ہے ‘ مثلا یہ کہ خبیث چیزوں کی کثرت سے انہیں متاثر نہ ہونا چاہئے ۔ انہیں یہ دیکھنا چاہئے کہ پاک اور طبیب چیزیں ہمیشہ کم ہوتی ہیں ۔ نیز ان اقدار اور آداب میں سے اہم ادب یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ سے ہر بات کے بارے میں نہ پوچھا جائے اور اگر خدا تعالیٰ نے کسی بات کو مجمل چھوڑ دیا ہے تو اہل ایمان کو اس کے بارے میں پوچھنے گریز کرنا چاہئے ۔ اس حصے میں یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ جاہلیت کی عادات اور رسوم کو باطل قرار دے دیا گیا ہے ۔ بت پرستی کی ممانعت کردی گئی ہے اور بعض قسم کے جانوروں اور ذبیحوں کے حوالے سے جو شرک اور بت پرستی باقی ہے اسے ختم ہونا چاہئے ۔ مثلا بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ ‘ اور حام وغیرہ اور یہ کہ حلال و حرام کے تعین کا اختیار صرف اللہ کو ہے ۔ پوری زندگی کے لئے قانون سازی کا اختیار اللہ کو حاصل ہے اور کوئی قانون سازی لوگوں کے رواج اور لوگوں کی اصلاحات کے مطابق نہیں ہو سکتی ۔ یہ کام صرف اللہ کا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کو تنبیہ کی گئی کہ وہ اپنے آپ کو پہچانے ۔ اس کے افراد کے اندر باہم مکمل تکافل ہو اور وہ دوسرے لوگوں سے مکمل طور پر جدا ہو اور کٹے ہوئے ہوں ۔ اسے اپنی مخصوص ذمہ داریوں کو ادا کرنا چاہئے اور دوسرے اہل باطل کی ذمہ داریوں سے اپنے آپ کو مکمل طور پر بری الذمہ رکھنا چاہئے ۔ اور اپنے انجام اور دوسرے لوگوں کے انجام کو بھی مکمل طور پر اللہ کے حوالے کردینا چاہئے ‘ جس کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں ہوگا ۔ اسلامی قانون سازی کرتے ہوئے مضمون کا خاتمہ اس امر پر ہوتا ہے کہ اگر کوئی سفر میں ہو اور اپنے خاندان سے دور ہو اور وہ وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس پر شہادت مقرر کرے ۔ اس طرح نظر آتا ہے کہ یہ قانون سازی اس لئے ضروری تھی کہ مسلمان جہاد فی سبیل اللہ اور تلاش وسائل اور فضل اللہ کے لئے باہر نکلیں گے ۔ لیکن اس قانون سازی میں بھی تمام معاملات کو خوف آخرت کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے ۔ باقی سورة میں اہل کتاب میں سے نصاری کے عقائد کے بعض دوسرے پہلوؤں کو لیا گیا ہے اور اس مقصد کے لئے حضرت مریم (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کے بعض گوشوں کو لایا گیا ہے ۔ اور ان معجزات کو بیان کیا گیا ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ظاہر ہوئے ۔ حواریوں نے جو کھانا طلب کیا تھا ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کی الوہیت کے مسائل اور یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ہر گز ایسے دعاوی نہیں کئے تھے ‘ اور قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کی جھلکی بھی دکھائی گئی ہے جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا معاملہ تمام انسانیت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور وہ اللہ رب العالمین کے لئے پیش ہوتا ہے اور اس خوفناک منظر میں تمام اقوام رسل موجود ہیں۔ سورة کا خاتمہ اس موقف پر ہوتا ہے کہ زمین وآسمانوں کا اصل مالک اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت پر کوئی قید وبند نہیں ہے ۔ (آیت) ” وللہ ملک السموت والارض وما فیھن واللہ علی کل شیء قدیر) ” زمین و آسمانوں اور تمام موجودات کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔ “ سورة کے اس بقیہ حصے کے اس سرسری جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی طریق کار اور اسی منہاج بحث کے مطابق اس کے مباحث آگے بڑھ رہے ہیں ‘ جس کی طرف ہم نے محولہ بالااقتباسات میں اشارہ کیا ہے ۔ اب ہم بقیہ اسباق پر تفصیلی بحث کرتے ہیں۔ درس نمبر ٥٢ ایک نظر میں : یہ سبق یہود ونصاری اور مشرکین کے بارے میں ہونے والی طویل گفتگو ہی کا حصہ ہے ‘ جو پارہ ششم میں چل رہی تھی اور جس میں یہ بتانا مقصود تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور امت مسلمہ کے بارے میں ان لوگوں کا موقف کیا ہے ۔ یہ بات چیت اس سورة میں نصف سے بھی زیادہ حصے پر مشتمل ہے ۔ اس بات چیت میں وعموما یہود ونصاری دونوں کے نظریاتی فساد سے پردہ اٹھایا گیا ہے ‘ اور خصوصا یہودیوں کی بری نیت اور برے کردار سے بحث کی گئی ہے ۔ یہ کردار ان کا خود ان کے انبیائے سابقہ کے ساتھ رہا۔ حضرت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بھی رہا اور وہ اس پورے عرصہ میں اہل اسلام کے بجائے مشرکین کے معاون و مددگار رہے ۔ وہاں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ یہود ونصاری جن عقائد تک پہنچے ہوئے ہیں وہ صراحۃ کفریہ عقائد ہیں اس لئے کہ انہوں نے تورات ‘ انجیل اور قرآن کریم تینوں میں آئے ہوئے عقائد چھوڑ دیئے ہیں ‘ جب تک وہ تورات ‘ انجیل اور اب نازل ہونے والے کلام الہی کو قائم نہ کریں اس وقت تک ان کی کوئی دینی حیثیت نہ ہوگی ۔ اب بات کا رخ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہوجاتا ہے کہ آپ کی طرف جو کچھ بھی نازل ہوتا ہے آپ اسے یہودی ونصاری اور مشرکین سب تک پہنچا دیں ‘ اس لئے کہ ان سب لوگوں نے دین الہی کو چھوڑ دیا ہے اور اب ان سب کا فریضہ یہ ہے کہ وہ اسلام میں داخل ہوجائیں اور امت مسلمہ کا فریضہ یہ ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ اور اہل ایمان ہی کو دوست اور ولی بنائے اور یہود ونصاری اور مشرکین کے ساتھ تعلق موالات قائم نہ کرے کیونکہ یہ لوگ خود ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ یہودی تو اہل کفر اور اہل شرک کے ساتھ بھی دوستی کا تعلق قائم کئے ہوئے ہیں حالانکہ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کے ذریعہ ان پر لعنت ہوچکی ہے ۔ یہ تو تھا سابقہ مضمون اب یہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے ان سب گروہوں نے جو موقف اختار کر رکھا ہے وہ بیان کیا جاتا ہے اور امت مسلمہ کے ساتھ انہوں نے جو رویہ اختیار کیا ہے وہ اور آخرت میں ان کا جو انجام ہونے والا ہے وہ بیان کیا جاتا ہے ۔ نزول قرآن کے وقت امت مسلمہ قرآن کریم کو یوں لیتی تھی کہ وہ اپنے تمام منصوبے ‘ اپنی تمام سرگرمیوں اور لوگوں کے متعلق اپنے تمام مواقف اور رویے اس کے مطابق ڈھالتی چلی جاتی تھی اور حالت یہ تھی کہ قرآن کریم ‘ ان کا ہادی ‘ محرک ‘ مرشد اور لیڈر تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ ہر معرکے میں وہ غالب رہتی اور اس کے مخالف مغلوب رہتے ‘ اس لئے کہ ہر معرکے میں براہ راست وہ ربانی کمانڈ میں لڑتی تھی ‘ اس لئے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امت کی قیادت عالم بالا کی ربانی ہدایات کے مطابق فرماتے تھے ۔ کیا وہ ربانی ارشادات ہمارے سامنے موجود نہیں ؟ کیا وہ کتاب کریم جس کے اندر وہ ہدایات رقم ہیں موجود نہیں ؟ موجود ہے اور آج جو لوگ دعوت اسلامی دے رہے ہیں یا کل جو لوگ یہ کام کریں گے ان کو چاہئے کہ وہ ان ہدایات اور فیصلوں کو اس طرح لیں جس طرح کہ گویا یہ ہدایات ابھی نازل ہو رہی ہیں اور وہ تمام لوگوں کے مقابلے میں اپنا موقف ان ہدایات کی روشنی میں متعین کر رہے ہیں ۔ تمام مذاہب ومسالک اور تمام آراء اور نظریات اور تمام طور طریقوں اور تمام اقدار اور پیمانوں کے مقابلے میں ان کا موقف ان کی روشنی میں متعین ہو رہا ہے اور یہ کام آج بھی اسی طرح ہونا چاہئے اور کل بھی ۔ (آیت) ” لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین امنوا الیھود والذین اشرکوا) ” تم اہل ایمان کی عدوات میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے ۔ “ عربیت کے اعتبار سے اس آیت کے مخاطب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ہو سکتے ہیں ‘ اور عام اہل ایمان بھی ‘ اس لئے کہ یہ ایک ایسی حقیقت اور ایسا مفہوم ہے جو سب کو بچشم سراب بھی نظر آتا ہے اور یہ انداز کلام ایسا ہے کہ اسالیب عربی کے اندر اس کے نظائر موجود ہیں خواہ مخاطب حضور ہوں یا ایک عام مسلمان دونوں صورتوں میں آیت کے ظاہری معنی بالکل واضح ہیں ۔ البتہ جو نکتہ قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اس عبادت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے بھی پہلے یہودیوں کو لیا ہے ۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مشرکین کے مقابلے میں یہودیوں کی اسلام دشمنی زیادہ ہے اور تاریخی اور واقعاتی اعتبار سے یہ بات بھی بالکل واضح ہے ‘ اگر غور کیا جائے ۔ یہ بات درست ہے کہ گرائمر کے قواعد کے مطابق واو سے جو عطف ہوتا ہے ‘ اس میں تعاقب یا ترتیب کا لحاظ نہیں ہوتا اور معطوف اور معطوف علیہ حکم میں برابر ہوتے ہیں ۔ لیکن یہودیوں کو مشرکین سے پہلے اس لئے لایا گیا ہے کہ وہ اصلا اہل کتاب تھے اور ہو سکتا ہے کہ کوئی یہ گمان کرے کہ وہ مسلم دشمنی میں شاید مشرکین سے کم ہوں گے ‘ اس لئے یہاں قواعد نحو سے ہٹ کر اس تقدیم سے یہ تاثر دینا مقصود ہے کہ یہ لوگ مسلم دشمنی میں کم نہیں ہیں ۔ اگرچہ قواعد نحو میں اس تقدیم سے یہ تاثر نہیں ملتا لیکن اس بات کا احتمال ضرور ہے کہ یہ اشارہ مقصود ہو کہ یہ لوگ مشرکین سے بھی اسلام دشمنی میں شدید تر ہیں۔ آغاز اسلام سے آج تک جب ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس میں اسلام کے حوالے سے یہودیوں کے طرز عمل پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے مشرکین عالم کے مقابلے میں یہودی اسلام دشمنی میں بہت ہی آگے رہے ہیں ۔ جونہی مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہوئی ‘ یہودی اس کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے اور جب امت مسلمہ ایک امت بنی ‘ انہوں نے اس کے خلاف سازشیں شروع کردیں ۔ قرآن کریم نے ان کی ان سازشوں اور مکاریوں کے بارے میں نہایت ہی واضح فیصلے کئے اور اشارات دیئے جو اس معرکہ آرائی کا ایک واضح ثبوت ہیں جو یہودیوں نے اسلام اور رسول اسلام کے خلاف اور امت مسلمہ کے خلاف اس کی طویل تاریخ میں برپا کئے رکھی اور جس کے شعلے گذشتہ چودہ سو سال میں کسی بھی وقت فرد نہیں ہوئے اور جس کی گرمی آج بھی چاردانگ عالم میں ہر سو محسوس کی جارہی ہے ۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو آپ نے سب سے پہلے یہودیوں کے ساتھ معاہدہ امن اور معاہدہ پر امن بقائے باہمی (Co-existAnce) کیا ۔ آپ نے ان کو اسلام کی دعوت دی جوان کے پاس موجود کتاب تورات کی تصدیق کرتا تھا لیکن یہودیوں نے اس عہد کو وفا نہ کیا ۔ انہوں نے وہی رویہ اختیار کیا جو انہوں نے اس سے پہلے اپنے اللہ اپنے نبیوں کے ساتھ اختیار کیا تھا اور جس کی وجہ سے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ تبصرہ کیا ۔ (آیت) ” ولقد انزلنا الیک ایت بینت وما یکفربھا الا الفسقون او کلما عھدوا عھدا نبذہ فریق منھم بل اکثرھم لا یومنون ولما جاء ھم رسول من عند اللہ مصدق لما معھم نبذ فریق من الذین اوتوا الکتاب کتاب اللہ وراء ظھورھم کانھم لا یعلمون) ” ہم نے تمہاری طرف ایسی آیات نازل کی ہیں جو صاف صاف حق کا اظہار کرنے والی ہیں اور ان کی پیروی سے صرف وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو فاسق ہیں ۔ کیا ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا رہا ہے کہ جب انہوں نے کوئی عہد کیا ‘ تو ان میں سے ایک نہ ایک گروہ نے اسے ضرور بالائے طاق رکھ دیا ؟ بلکہ ان میں سے اکثر ایسے ہیں ‘ جو سچے دل سے ایمان نہیں لاتے ۔ اور جب ان کے پاس ‘ اللہ کی طرف سے کوئی رسول ‘ اس کتاب کی تصدیق وتائید کرتا ہوا آیا جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی ‘ تو ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو اس طرح پس پشت ڈالا گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں ۔ “ جس دن اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ‘ اوس اور خزرج اسلام پر جمع ہوئے ‘ یہودی مسلمانوں کے دلی دشمن بن گئے ‘ اس لئے کہ اسلام کی وجہ سے ان قبائل کے اندر یہودیوں کا عمل دخل یکسر ختم ہوگیا ۔ اس مشکل اور عظیم اتحاد کی وجہ سے ہی امت مسلمہ کی قیادت وجود میں آگئی اور اس کی زمام اختیار حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ہاتھ میں لی اور پورے علاقے سے یہودیوں کے اقتدار کے مواقع ختم ہوگئے ۔ یہودیوں کی مکارانہ ذہنیت کے بس میں جو وسائل اور جو ہتھیار تھے ‘ انہوں نے وہ سب مسلمانوں کے خلاف استعمال کئے ۔ بابل کی اسیری ‘ مصر کی غلامی اور رومن عروج کے زمانے میں گزرنے والی غلامانہ زندگی کے شب وروز میں انہوں نے جو مکاری اور عیاری سیکھی تھی وہ سب انہوں نے اسلام کے خلاف استعمال کی ۔ حالانکہ تمام اقوام اور ملتوں نے ان کے ساتھ جس تنگ دلی کا رویہ اختیار کیا تھا ‘ اسلام نے اس کے برعکس ان کے ساتھ نہایت ہی فراخدلی کا ثبوت دیا ۔ لیکن انہوں نے اسلام کے اس حسن سلوک کا بدلہ اس مکر و فریب سے دیا جو فجر اسلام سے آج تک جاری ہے اور جو نہایت ہی گھٹیا ذہنیت کا غماز ہے ۔ انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جزیرۃ العرب کی تمام قوتوں کو اکٹھا کیا اور رات دن عرب کے متفرق قبائل کو اس مہم کے لئے جمع کرتے رہے ۔ (آیت) ” ویقولون للذین کفروا ھولاء اھدی من الذین امنوا سبیلا “۔ ” وہ ان لوگوں سے کہتے جنہوں نے کفر کی راہ کی کہ یہ ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت کی راہ پر ہیں ۔ “ اور جب اسلام یہودیوں کی سازشوں کے برعکس غالب ہوگیا تو انہوں نے اپنی سازشوں کا رنگ بدلا ۔ انہوں نے اسلامی لٹریچر کے اندر اپنی جانب سے گھڑی ہوئی باتیں داخل کرنے کی پالیسی اختیار کی ۔ صرف کتاب اللہ ان کی دسترس سے باہر رہی ‘ اس لئے کہ اس کی حفاظت کی ضمانت خود اللہ تعالیٰ نے دی تھی انہوں نے مسلمانوں کی صفوں کے اندر اپنے ایجنٹ داخل کئے ۔ جو لوگ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے اور ابھی ان کے ذہن میں پختگی پیدا نہ ہوئی تھی ان کے اندر انہوں نے فتنہ پردازی شروع کردی یہ کام وہ مختلف علاقوں میں کرتے رہے اور آج تک وہ مسلمانوں کے خلاف دنیا کے اطراف واکناف میں لوگوں کو جمع کرتے ہیں ۔ چانچہ اس وقت دنیا کے چپے چپے پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہودیوں نے جال بچھا رکھے ہیں ۔ اس جنگ میں وہ عیسائی اور بت پرست دونوں اقوام کو استعمال کر رہے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کے اندر غیر اسلامی طور طریقے رائج کرتے ہیں اور مسلمان ممالک کے اندر ایسی لیڈر شب سٹیج پر لاتے ہیں جن کے صرف نام مسلمانوں جیسے ہوتے ہیں اور ان کے ذریعے وہ دین اسلام کو بیخ وبن سے اکھاڑ کر پھینکنے کے عمل میں مصروف ہیں ۔ ذرا پھر اللہ تعالیٰ کے اس کلام پر غور فرمائیں : ” تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے ۔ “ ٭ جس شخص نے مدینہ کی نوخیز اسلامی مملکت کے خلاف تمام قبائل کو جنگ احزاب میں جمع کیا اور بنی قریظہ اور دوسرے یہودیوں کو جمع کیا اور قریش مکہ اور دوسرے قبائل کو جمع کیا یہ کون تھا ؟ یہودی ۔ ٭ وہ شخص جس نے عوام کو برانگیختہ کیا ‘ اشرار کو مدینہ میں جمع کیا ‘ اور مکروہ پروپیگنڈا کیا جس کے نتیجے میں حضرت عثمان شہید ہوئے اور اس کے بعد نہایت ہی تباہ کن واقعات پیش آئے وہ کون تھا ؟ یہودی ۔ ٭ وہ لوگ جو احادیث رسول میں موضوعات داخل کرتے رہے وہ کون تھا ؟ یہودی ۔ ٭ اسلام کی آخری خلافت ‘ خلافت عثمانیہ کے دور میں قومیت کے نعرے کس نے بلند کئے ‘ عالم اسلام میں انقلابات برپا کرکے اسلامی شریعت اور اسلامی دساتیر کو کس نے منسوک کیا اور جس شخص نے خلافت عثمانیہ کو ختم کر کے سلطان عبدالحمید کے بعد لادینی نظام رائج کیا ‘ وہ کون تھا ؟ اتاترک یہودی ۔ ٭ وہ تمام اقدامات جو پورے عالم اسلام میں اور پوری دنیا میں اسلامی تحریکات کے خلاف کئے جاتے ہیں ان کی پشت پر کون ہے ؟ یہودی ۔ ٭ اس کرہ ارض پر مادیت اور ملحدانہ نظریات کا موجد کون ہے ؟ یہاں حیوانی اور میلانات ‘ جنسی بےراہ روی کے پھیلانے کی تحاریک کی پشت پر کون ہے ؟ ان تمام نظریات کا پرچار کون کرتا ہے جو تمام مذہبی مقدسات اور شعائر کے خلاف ہیں ؟ صرف اور صرف یہودی ۔ غرض یہودیوں نے اسلام کے خلاف پوری اسلامی تاریخ میں جو معرکہ آرائی کی ہے اس کی داستانی نہایت ہی طویل ہے ۔ اور اس کے مقابلے میں مشرکین اور بت پرستوں نے اسلام کے خلاف جو کچھ کیا وہ بہت ہی کم ہے ۔ زمانہ قدیم میں بھی اور دور جدید میں بھی ۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ مشرکین عرب کے ساتھ اسلام کی معرکہ آرائی مجموعی طور پر صرف بیس سال تک رہی ؟ اس طرح اہل فارس کے ساتھ بھی ایک مختصر عرصہ جنگ رہی ۔ دور جدید میں اگرچہ ہندوستان کے مشرکین بظاہر اسلام کے خلاف لڑتے نظر آتے ہیں لیکن ان کی دشمنی اور جنگ یہودیوں کے مقابلے میں کچ بھی نہیں ہے ۔ عالمی صہیونیت (یاد رہے کہ سوشلزم اور کمیونزم عالمی صہیونیت کی شاخیں ہی تصور ہوتی ہیں) ہمیشہ سے اسلام دشمنی میں پیش پیش رہی ہے اور اس سے قبل یہودیوں نے اسلام کے خلاف جو محاذ آرائی کی اور یہ جس قدر طویل اور وسیع رہی ہے اس کے مقابلے میں صرف صلیبی جنگیں ہی کس قدر وقعت رکھتی ہیں جن پر ہم آگے چل کر بات کریں گے ۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے ان الفاظ پر بار بار غور کریں ” تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت ” یہود اور مشرکین “ کو پاؤ گے “ تو بات کا حق ہونا واضح ہوجاتا ہے ۔ اس آیت میں مشرکین کے مقابلے میں یہودیوں کو پہلا نمبر دیا گیا ہے اور پھر جب ہم یہودیوں کے اس تاریخی رول کو بھی پیش نظر رکھیں جو انہوں نے اسلام کے خلاف ادا کیا ‘ جس کے کچھ واقعات کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا تو ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس فقرے میں یہودیوں کو کیوں پہلے نمبر پر رکھا ہے ۔ بیشک یہودی نہایت ہی بدفطرت لوگ ہیں ‘ ان کے مزاج میں شر ہے ‘ ان کے دلوں کے اندر اسلام اور نبی اسلام کے خلاف کینہ بھرا ہوا ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ یہاں مسلمانوں اور نبی اکرم کو خبردار فرماتے ہیں اور ان لوگوں کی اس بری اور شریر فطرت پر اگر دنیا میں کسی نے قابو پایا تو وہ اسلام اور مسلمان تھے ‘ لیکن اس وقت جب مسلمان صحیح معنوں میں مسلمان تھے ۔ صرف اسلام ہی تھا ‘ جس نے اس بدفطرت مخلوق سے لوگوں کو نجات دلائی تھی لیکن اس وقت جب اہل اسلام ‘ اسلام کا حق پورا پورا ادا کرتے تھے ۔ (آیت) لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُواْ الْیَہُودَ وَالَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُواْ الَّذِیْنَ قَالُوَاْ إِنَّا نَصَارَی ذَلِکَ بِأَنَّ مِنْہُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُہْبَاناً وَأَنَّہُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُونَ (82) وَإِذَا سَمِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَی الرَّسُولِ تَرَی أَعْیُنَہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُواْ مِنَ الْحَقِّ یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِیْنَ (83) وَمَا لَنَا لاَ نُؤْمِنُ بِاللّہِ وَمَا جَاء نَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن یُدْخِلَنَا رَبَّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِیْنَ (84) فَأَثَابَہُمُ اللّہُ بِمَا قَالُواْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا وَذَلِکَ جَزَاء الْمُحْسِنِیْنَ (85) وَالَّذِیْنَ کَفَرُواْ وَکَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا أُوْلَـئِکَ أَصْحَابُ الْجَحِیْمِ (86) ” تم اہل ایمان کی عدوات میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاری ہیں ، یہ اس وجہ سے کہ ان میں عبادت گزار عالم اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور ان میں غرور نفس نہیں ہے ۔ جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اترا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوجاتی ہیں ، وہ بول اٹھتے ہیں کہ ” پروردگار ‘ ہم ایمان لائے ‘ ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے ۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ” آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اسے کیوں نہ مان لیں جب کہ ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے ؟ “ ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ نے ان کو ایسی جنتیں عطا کیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہ جزاء ہے نیک رویہ اختیار کرنے والوں کے لئے ۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا اور انہیں جھٹلایا ‘ تو وہ جہنم کے مستحق ہیں ۔ “ ” ذرا ان آیات پر غور کیجئے ۔ یہ ایک مخصوص صورت حال کی نشاندہی کر رہی ہیں اور ان میں جو فیصلہ ہے یہ بھی ایک مخصوص صورت حال میں ہے ۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیرورکاروں میں سے ایک فریق کے بارے میں ایک تبصرہ ہے جو کہتے تھے کہ ہم ” نصاری “ ہیں اور تبصرہ ان الفاظ میں ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ محبت میں یہ لوگ قریب تر ہیں ۔ لیکن یہ بات یہاں ذہن میں رہنا چاہئے کہ یہ ایک متعین صورت حال پر تبصرہ ہے اس لئے یہ صرف مخصوص صورت حالات پر ہی منطبق ہوگا ۔ اکثر لوگوں نے اس تبصرے کو اچھی طرح نہیں سمجھا ہے ۔ بعض لوگ اس تبصرے کو اس مقصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں کہ اہل اسلام بعض مخالف کیمپوں کے ساتھ اپنے موقف میں نرمی پیدا کرلیں حالانکہ اپنے موقف میں نرمی کرنا اہل اسلام کے لئے نہایت ہی مضر ہے ۔ اس سے دشمن کی پالیسی اور موقف کے سمجھنے میں بھی غلطی ہوسکتی ہے ۔ اس لئے ہم یہاں مناسب سمجھتے ہیں کہ ظلال القرآن میں اس صورت حال کی وضاحت کردیں جس کی تصویر کشی ان آیات میں کی گئی ہے ۔ ان آیات میں جن لوگوں کی تصویر کشی کی گئی ہے وہ ایسے لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ ہم ” نصاری “ ہیں ‘ اور وہ مسلمانوں کی دوستی میں قریب تر ہیں اور یہ لوگ عالم دین اور تاریک الدنیا قسم کے فقیر ہیں اور وہ متکبر اور مغرور بھی نہیں ہیں۔ (آیت) ” ذَلِکَ بِأَنَّ مِنْہُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُہْبَاناً وَأَنَّہُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُونَ (82) ” یہ اس لئے کہ ان میں عالم دین اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے “۔ لیکن قرآن مجید بات کو یہاں ہی ختم نہیں کردیتا ۔ نہ بات کو مجمل چھوڑا جاتا ہے ۔ نہ اسے ہر اس شخص کے لئے عام چھوڑ دیا جاتا ہے جو کہتا ہے میں نصرانی ہوں اس گروہ کی تصویر میں کچھ مزید رنگ بھرے جاتے ہیں اور اس گروہ کے موقف کو یوں واضح کیا جاتا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل ایمان سے یہودیوں اور مشرکوں کی دشمنی ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ آپ اہل ایمان کے سب سے زیادہ سخت ترین دشمن یہودیوں کو اور ان لوگوں کو پائیں گے جو مشرک ہیں یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے، مشرکین مکہ نے جو حضرات صحابہ (رض) پر ظلم وستم ڈھائے وہ معروف و مشہور ہیں اور جہاں کہیں بھی مشرکین ہیں وہ اب بھی مسلمانوں کے بدترین دشمن ہیں اور تاریخ کے ہر دور میں ان کی دشمنی بڑھ چڑھ کر رہی ہے، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ (رض) نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کو ہجرت فرمائی تو یہودیوں نے سخت دشمنی کا مظاہرہ کیا۔ یہ لوگ بہت سے مدینہ منورہ رہتے تھے۔ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعوت اور صفات جو انہیں پہلے سے معلوم تھیں اور تورات شریف میں پڑھی تھیں ان کے موافق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پالیا اور پہچان لیا تب بھی آپ کے دشمن ہوگئے اور بہت زیادہ دشمنی پر کمر باندھ لی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کے لئے مشورہ کیا آپ کو زہر بھی دیا اور آپ پر جادو بھی کیا مشرکین مکہ کو جاکر جنگ کے لیے آمادہ کیا اس پر وہ لوگ متعدد قبیلوں کو لے کر مدینہ منورہ پر چڑھ آئے، اور یہود برابر اسلام اور اہل اسلام کے بارے میں مکاری اور دسیسہ کاری کرتے رہے۔ اور آج تک بھی ان کی دشمنی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٨٠ میں بحوالہ حافظ ابوبکر بن مردویہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نقل کیا ہے کہ مَا خَلاَ یَھُوْدِیٌّ بمُسْلِمٍ قَطُّ الاَّ ھَمَّ بِقَتْلِہٖ یعنی جب کبھی بھی کوئی یہودی کسی مسلمانوں کے ساتھ تنہائی میں ہوگا تو ضرور مسلمان کو قتل کرنے ارادہ کرے گا، مسلمان اور اسلام کے خلاف یہودیوں کی چال بازیاں اور شرارتیں برابر جاری ہیں اور وہ اپنی شرارتوں سے باز آنے والے نہیں ہیں، نصاریٰ کو بھی وہ مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہتے ہیں اور ان کو ایسی ایسی اسکیمیں سجھاتے ہیں اور ایسی ایسی تدبیریں سکھاتے ہیں جن سے دنیا میں مسلمانوں کو سخت مصائب کا سامنا پڑتا رہتا ہے، خفیہ تنظیمیں کرنے میں ماہر ہیں ان کی خفیہ تنظیم فری میسن تو اب آشکارا ہوچکی ہے۔ نصاریٰ کی مودت اور اس کا مصداق یہود اور مشرکین کی دشمنی کا حال بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَھُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصَاریٰ ) کہ آپ ایمان والوں کے لئے محبت کے اعتبار سے سب سے زیادہ قریب تر ان لوگوں کو پائیں گے جن لوگوں نے اپنے بارے میں کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ نصاریٰ معروف جماعت ہے یہ وہ لوگ ہیں جو سیدنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اپنا انتساب کرتے ہیں مفسر ابن کثیر ج ٢ ص ٨٢ (قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰی) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ اَی الَّذِیْنَ زَعَمُوْا اَنَّھُمْ نَصَارٰی مَنْ اَتَّبَاع الْمسیح وعلٰی منھاج انجیلہ فیھم مودۃ للاسلام واھلہ فی الجملۃ وماذاک الالما فی قلوبھم اذکانوا علی دین المسیح من الرقۃ والرافۃ کما قال تعالیٰ وجَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ رَأفَۃً وَّرَحْمَۃً وفی کتابھم من ضربک علی خدک الایمن فادِرْلہٗ خدک الا یسرولیس القتال مشروعا فی مِلَّتِھمْ ١ ھ۔ یعنی اس میں ان لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے یہ خیال کیا کہ وہ نصاریٰ ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین میں سے ہیں اور انجیل میں جو راہ بتائی تھی اس کی متبع ہیں فی الجملہ ان لوگوں کے دلوں میں اسلام اور اہل اسلام کے لئے مودت ہے اور یہ اس وجہ سے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین میں نرمی اور مہربانی کی شان تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن لوگوں نے عیسیٰ کا اتباع کیا ان کے دلوں میں ہم نے مہربانی اور رحم کرنے کی صفت رکھ دی۔ ان کی کتاب میں یہ بھی تھا کہ جو شخص تیرے داہنے رخسار پر مارے تو بایاں رخسار بھی اس کی طرف کردے، اور ان کے مذہب میں جنگ کرنا بھی مشروع نہیں تھا۔ مطلب یہ ہے کہ یہاں پر ہر نصرانی اور مدعی عیسائیت کا ذکر نہیں ہے بلکہ ان نصرانیوں کا ذکر ہے جو اپنے کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کا پابند سمجھتے تھے اور دین مسیح کے مدعی ہونے کی وجہ سے ان کے دلوں میں نرمی اور مہربانی تھی ان لوگوں کے سامنے جب دین اسلام آیا اور اہل اسلام کو دیکھا تو اگرچہ اسلام قبول نہیں کیا لیکن مسلمانوں سے محبت اور تعلق رکھتے تھے۔ ان کے دین میں جنگ تو مشروع ہی نہ تھی لہٰذا مسلمانوں سے جنگ کرنے کا سوال ہی نہ تھا پھر ان میں قسیسین تھے یعنی علماء تھے (جن کے پاس تھوڑا بہت انجیل کا علم رہ گیا تھا وہ اس کے ذریعہ نصیحت کرتے رہتے تھے) نیز ان میں راہب بھی تھے جن کو عبادت کا ذوق تھا وہ عبادت میں لگے رہتے تھے جب انہوں نے اہل اسلام کی عبادت کو دیکھا تو محبت اور مودت میں بہ نسبت دوسری قوموں کے ان سے زیادہ قریب ہوگئے۔ اللہ جل شانہ نے فرمایا۔ (ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنْھُمْ قِسِّیْسَیْنَ وَرُھُبَانًا) کہ ان کی محبت اس لیے ہے کہ ان میں قسیسین ہیں اور رہبان ہیں اور فرمایا (وَ اَنَّھُمُ لاَ یَسْتَکْبِرُوْنَ ) اور تکبر نہیں کرتے، چونکہ ان میں تکبر نہیں اس لئے حق اور اہل حق سے عناد نہیں اور یہ عناد نہ ہونا قرب مودت کا ذریعہ ہے صاحب التنزیل ج ٢ ص ٥٦ تحریر فرماتے ہیں : لم یردبہ جمیع النصاریٰ لانھم فی عداوتھم المسلمین کالیھود فی قتلھم السملمین واسرھم و تخریب بلادھم وھدم مساجدھم واحراق مصاحفھم، لا ولا کر امۃ لھم، بل الایۃ فیمن اسلم منھم مثل النجاشی و اصحابہ۔ یعنی آیت کریمہ میں جو نصاریٰ کو اہل ایمان کی محبت کے اعتبار سے قریب تر بتایا ہے اس سے تمام نصاریٰ مراد نہیں ہیں کیونکہ وہ اہل اسلام سے دشمنی رکھنے میں یہود اور مشرکین ہی کی طرح ہیں، مسلانوں کو قتل کرنا اور قید کرنا اور اور ان کے شہروں کو برباد کرنا اور ان کی مسجدوں کو گرا دینا اور ان کے مصاحف کو جلادینا یہ سب نصاریٰ کے کرتوت ہیں (لہٰذا تمام نصاری (اَقْرَبَھُمْ مَّوَدَّۃً ) کا مصداق نہیں ہوسکتے) بلکہ آیت کریمہ میں وہ نصاریٰ مراد ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرلیا مثلاً نجاشی (شاہ حبشہ) اور اس کے ساتھی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

142 نزول قرآن کے وقت تین جماعتیں اسلام کی مخالف تھیں یہود و نصاریٰ اور مشرکین، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے خلاف شدت عداوت کے اعتبار سے ان کی درجہ بندی فرما دی۔ شدتِ عداوت میں یہودی سب سے پہلے درجہ پر ہیں اور وہ دنیا میں مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ دوسرے درجے پر مشرکین ہیں۔ دو جماعتوں کا صراحت سے ذکر فرمایا۔ اور تیسری جماعت یعنی نصاریٰ کا حال خود بخود معلوم ہوگیا کہ تیسرے درجے پر نصاریٰ مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ 143 ھُمْ ضمیر اَلنَّاس کی طرف راجع ہے۔ مسلمانوں کے دشمنوں کی درجہ بندی کرنے کے بعد مسلمانوں سے محبت اور دوستی کرنیوالوں کا ذکر فرمایا۔ یعنی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں جو لوگ موجود تھے ان میں مسلمانوں کی محبت سب سے زیادہ حبشہ کے ان عیسائیوں کے دلوں میں تھی جنہوں نے مہاجرین حبشہ سے قرآن اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات سن کر اسلام قبول کرلیا تھا۔ ان کی نرم دلی کا یہ حال تھا کہ جب ان کے سامنے قرآن پڑھا گیا تو وہ اس سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اس آیت میں نصاریٰ سے حبشہ کے بادشاہ نجاشی اور دوسرے وہ عیسائی مراد ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ اس سے تمام عیسائی مراد نہیں ہیں کیونکہ باقی عیسائی بھی مسلمانوں کے اسی طرح دشمن تھے جس طرح یہود اور مشرکین۔ لم یرد بہ جمیع النصاری لانہم فی عداوۃ المسلمین کالیھود فی قتلھم المسلمین واسرھم وتخریب بلادھم وھدم مساجدھم واحراق مصاحفھم لا وکرامۃ لھم بل الایۃ فیمن اسلم منھم مثل النجاشی و اصحابہ (معالم ج 3 ص 66) 144 یہ ماقبل کی علت ہے قِسِّیْسِیْنَ ، قسیس کی جمع ہے جس کے معنی عالم کے ہیں اور یہ لفظ نصاریٰ کے سب سے بڑے عالم پر بولا جاتا ہے۔ فی القاموس ھو رئیس النصاری فی العلم (مظہری ج 3 ص 164) اور رُھْبَان، رَاھِبٌ کی جمع ہے یعنی تارک الدنیا اور عبادت گذار درویش۔ حبشہ کے عیسائیوں میں سے جو اسلام لا چکے ہیں ان میں چونکہ بڑے بڑے علماء اور درویش شامل ہیں اور ان کے دل میں تکبر و غرور نہیں ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے حق کو قبول کرلیا ہے اور یہی ایمان والوں سے ان کی محبت و مودت کی وجہ ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 اے پیغمبر ! یقینا آپ غیر مسلموں میں مسلمانوں کے ساتھ دشمنی اور عداوت کے اعتبار سے یہود کو اور مشرکین کو بہت سخت پائو گے یعنی یہود اور مشرکین مسلمانوں کے ساتھ بڑی دشمنی اور عداوت کا برتائو کر رہے ہیں اور بلاشبہ آپ غیر مسلموں میں سے مسلمانوں کی دوستی کے اعتبار سے قریب تر ان لوگوں کو پائوں گے جنہوں نے یوں کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ نصاریٰ کہنے والوں کا دوستی قریب تر ہونا اور یہود اور مشرکین کا عداوت میں سخت تر ہونا اس کی وجہ یہ ہے کہ الذین قالوا انا نصاری میں بہت سے علماء اور گوشہ نشین زاہد و راہب ہیں اور نیز اس سبب سے کہ یہ لوگ تکبر نہیں کرتے۔ (تیسیر) ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کو تین قسم کے طبقوں سے واسطہ پڑا۔ جاہل مشرکین جو صدیوں سے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی مبارک تعلیم سے نا آشنا تھے اور محض سوسائٹی کے طریقوں کو مذہب سمجھتے تھے والاد ابراہیم ہونے کی وجہ سے سب کو اپنے سے کمتر سمجھتے تھے بنی اسرائیل میں جو پیغمبر ہوئے ان میں سے کسی کے قائل نہ تھے خود پرستی اور شرک میں مبتلا تھے ۔ نیز جاہلانہ رسوم کے پابند بلکہ خوگر تھے دوسرا طبقہ یہود کا تھا جو بظاہر موسیٰ علیہالسلام کی نبوت کا قائل تھا لیکن حضرت مسیح (علیہ السلام) کو مامون سمجھتا تھا۔ حضرت عیسیٰ کی نبوت کا قائل نہ تھا۔ تیسرا طبقہ نصاریٰ کا تھا جو حضرت موسیٰ اور عیسیٰ علیہالسلام دونوں کو مانتا تھا اگرچہ حضرت عیسیٰ ابن مریم اور ان کی والدہ کو الوہیت میں شریک کرتا تھا۔ پھر بھی ان میں بڑے بڑے عالم اور زاہد راہب تھے اور عام طور سے ان کے قلوب میں نرمی اور شفقت کا مادہ تھا یہ لوگ یہود کی طرح تکبر اور سرکش نہ تھے ان تینوں طبقوں کے سامنے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت پیش کی گی اور قرآن کریم سنایا گیا اور خدا کی توحید پیش کی گئیتو مشرکین مکہ اور یہود نے ایذا رسانی اور عداوت و دشمنی کی انتہا کردی اور اس دشمنی کی بڑی وجہ یہ ہوئی کہ یہ لوگ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی مخالفت کے خوگر تھے اور کفرنی النبوت میں مبتلا تھے مشرکین تو نبوت کے قائل ہی نہ تھے اور یہود نے انبیاء سابقین کے ساتھ بہت برا سلوک کیا تھا اور بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلا م کے متعلق سخت توہین آمیز رویہ رکھتے تھے اس لئے ان دونوں طبقوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی تعلیم کے ساتھ انتہائی معادنانہ برتائو کیا اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ منورہ چلے جانے کے بعد بھی مشرکین اور یہود کا گٹھ بندھن بنا رہا اور یہ دونوں فریق برابر ریشہ دوانیاں کرتے رہے اور آخر تک ان دونوں کی عداوت ضرب المثل رہی البتہ جب نبی آخر الزماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ دعوت نصاریٰ کے مراکز میں پہنچی تو انہوں نے فی الجملہ اسلام کے سوچنے اور سمجھنے کی کوشش کی اور قرآن کریم کو سن کر متاثر ہوئے۔ ہر چند کہ اسلام کی ترقی اور مسلمانوں کا عروج ان کو بھی ناپسند تھا اور وہ بھی آخر الزماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دشمن تھے لیکن باوجود اس دشمنی کے نسبتاً کچھ مسلمانوں سے قریب تھے اور چونکہ ان میں تعلیم و تدریس اور زہد و رہبانیت کا سلسلہ تھا اس وجہ سے ان کے اخلاق زیادہ خراب نہ تھے پھر یہ بھی کہ وہ تمام انبیاء کے ساتھ حضرت مسیح کو مانتے تھے اور صرف محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کرتے تھے اس لئے وہ کفر میں بھی یہود و مشرکین سے کم درجہ رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ حق بات کو سن کر جلدی متاثر ہوتے تھے عوام تو عوام بعض خواص پر بھی اس صلاحیت کا اثر تھا چناچہ اسی زمانہ میں نجاشی، مقوقس اور ہرقل کے واقعات اور اسلام دوستی مشہور ہوئی اور ان ہی لوگوں کی طرف ان آیات میں اشارہ ہے ۔ حبشہ کے عیسائی قرآن کریم سن کر روئے اور مسلمان ہوئے اور ستر نو مسلم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوتے اور انہوں نے قرآن کریم سن کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ان کا ذکر آگے کی آیتوں میں مذکور ہے۔ دنیا کی تاریخ اس پر شاہد ہے کہ اس آیت کا تعلق ہر زمانہ کے نصاریٰ سے نہیں جو لوگ اس کی کوشش کرتے ہیں کہ ہر دور کے نصاریٰ کو اقرب الی المودۃ ثابت کریں وہ قرآنی ذوق اور قرآنی فہم سے محروم ہیں نصاریٰ نے اپنے دور میں جو سلوک مسلمانوں سے کیا ہے وہ بربریت اور ستم گری میں دوسری اقوام سے کسی طر ح بھی کم نہیں ہے اس لئے ان آیات کا تعلق ان نصاریٰ سے ہے جن میں قبول حق کی صلاحیت موجود تھی اور وہ حضرت عیسیٰ کی شریعت کے صحیح پیرو تھے اور انجیل کی پیشین گوئی کے موافق نبی آخر الزماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کے منتظر تھے اور تثلیث وغیرہ کے عقیدے سے پاک تھے اور جب ان تک قرآن کریم کی آواز پہنچی تو انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوگئے اسی طرح یہود کی حالت ہے کہ ان میں بھی بعض وہ حضرات جو توریت کی صحیح تعلیم پر عمل کرنے والے تھے انہوں نے اسلام کی روشنی سے فائدہ اٹھایا اگرچہ ان کی تعداد بہت ہی کم تھی دشمنی اور عداوت سے وہ یہود مراد ہیں جو عام طور سے جب جاہ اور حب مال میں مبتلا تھے اور نصاریٰ سے وہ نصاریٰ مراد ہیں جو علم اور زہد کے ساتھ انجیل کے صحیح پیرو تھے اور حق و صداقت کے قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے رہی یہ بات کہ یہ کون تھے نجاشی اور اس کے اصحاب تھے یا اہل نجران تھے یا ہرقل اور اس کے اصحاب تھے۔ تو اس کے متعلق ابن جریر نے ایک اچھا فیصلہ کردیا ہے ۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ یہ آیتیں ان لوگوں کے بارے میں ہیں جن میں یہ اوصاف موجود ہوں خواہ وہ حبشہ کے ہوں یا اور کہیں کے ہوں اس بحث میں ہم نے تفسیر مظہری کی تحقیق کو ترجیح دی ہے اس سلسلے میں حضرت ابوبکر حصاص رازی حنفی نے خوب بات فرمائی ہے وہ فرماتے ہیں ومن الجھال من یظن ان فی ھذہ الایۃ مدحاً للنصاری و اخبارابانھم خیرمن الیھود ولیس کذلک یعنی جاہلوں میں سے بعض لوگ یوں خیال کرتے ہیں کہ اس آیت میں نصاریٰ کی تعریف ہے اور اس بات کو بتانا ہے کہ نصاریٰ یہود سے بہتر ہیں حالانکہ یہ بات نہیں ہے۔ انتہی بہرحال ! تواضح اور علم و عمل کی طرف بڑھنا اور نفسانی خواہشات سے روگردانی اور رقت قلب وغیرہ اوصاف قابل تعریف ہیں اگرچہ یہ اوصاف کافر ہی میں ہوں اب آگے ان لوگوں کے اسلام قبول کرنے اور قرآن کریم سن کر رونے اور ان کے ثواب آخرت کا ذکر فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)