Surat ul Maeeda

Surah: 5

Verse: 92

سورة المائدة

وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ احۡذَرُوۡا ۚ فَاِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۹۲﴾

And obey Allah and obey the Messenger and beware. And if you turn away - then know that upon Our Messenger is only [the responsibility for] clear notification.

تم اللہ تعالٰی کی اطاعت کرتے رہو اور رسول کی اطاعت کرتے رہو اور احتیاط رکھو ۔ اگر اعراض کرو گے تو یہ جان رکھو کہ ہمارے رسول کے ذمہ صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And obey Allah and obey the Messenger, and beware. Then if you turn away, you should know that it is Our Messenger's duty to convey in the clearest way. Hadiths that Prohibit Khamr (Intoxicants) Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said, "There were three stages to prohibiting Khamr (intoxicants). When the Messenger of Allah migrated to Al-Madinah, the people were consuming alcohol and gambling, so they asked the Messenger of Allah about these things, Allah revealed, يَسْـَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَأ إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَـفِعُ لِلنَّاسِ They ask you about alcoholic drink and gambling. Say: "In them is a great sin, and (some) benefit for men." (2:219) until the end of the Ayah. The people said, `They (intoxicants and gambling) were not prohibited for us. Allah only said, فِيهِمَأ إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَـفِعُ لِلنَّاسِ (In them is a great sin, and (some) benefit for men).' So they went on drinking Khamr until one day, one of the emigrants lead his companions in the Maghrib prayer and mixed up the Ayat in his recitation. Thereafter, Allah sent down a tougher statement, يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لاَ تَقْرَبُواْ الصَّلَوةَ وَأَنتُمْ سُكَـرَى حَتَّى تَعْلَمُواْ مَا تَقُولُونَ O you who believe! Approach not the Salah (the prayer) when you are in a drunken state until you know (the meaning of) what you utter. (4:43) Then, the people would drink before the time of the prayer so that they would attend the prayer while sober. A firmer Ayah was later revealed, يَـأَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ ...... أَنتُم مُّنتَهُونَ O you who believe! Khamr, Maysir, Ansab, and Azlam are an abomination of Shaytan's handiwork. So avoid that in order that you may be successful. Shaytan wants only to excite enmity and hatred between you with Khamr (intoxicants) and Maysir (gambling), and hinder you from the remembrance of Allah and from the Salah (the prayer). So, will you not then abstain! (5:90-91) So they said, `We abstained, O Lord!' Later, some people said, `O Allah's Messenger! Some people died in the cause of Allah, while some others died in their beds, but they used to drink alcohol and indulge in gambling, which Allah has made a Rijs of the work of Shaytan.' So Allah sent down,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣٧۔ الف ] یعنی ان چیزوں سے بچو جن کی حرمت سابقہ آیات میں مذکور ہوئی ہے مثلاً شراب، جوئے، آستانوں کے تقدس اور تیروں کے ذریعہ فال لینے سے بچو اور اگر اس حکم کو عموم پر محمول کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سب برے کاموں سے بچو یا اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے بچتے رہو۔ [١٣٨] اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگرچہ اللہ کی اطاعت کا طریق کار بھی رسول اللہ ہی کی اطاعت سے حاصل ہوتا ہے تاہم رسول کی اطاعت اپنی الگ مستقل حیثیت بھی رکھتی ہے۔ بالفاظ دیگر کتاب اللہ اور سنت رسول دونوں کی اتباع واجب ہے اور قرآن کی رو سے ان دونوں کے واجب الاتباع ہونے میں کوئی فرق نہیں۔ اس مقام پر یہ آیت لانے کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم کسی چیز کے فوائد اور نقصانات کا احاطہ نہ کرسکو تو تمہارے لیے بہترین روش یہی ہے کہ اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے جاؤ۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ : یعنی جوئے اور شراب سے باز رہنا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت سے بچ جاؤ۔ (رازی، قرطبی) یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مراد قرآن و سنت کی پیروی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( أَلاَ اِنِِّیْ أُوْتِیْتُ الْکِتَابَ وَ مِثْلَہُ مَعَہُ ) ” مجھے کتاب یعنی قرآن دیا گیا ہے اور اس جیسی ایک اور چیز (حدیث) بھی۔ “ [ أبو داوٗد، السنۃ، باب فی لزوم السنۃ : ٤٦٠٤ وصححہ الألبانی ] فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ ۔۔ : اس میں ان لوگوں کے لیے وعید ہے جو اس حکم قطعی کے باوجود شراب نوشی اور جوئے سے باز نہیں آتے۔ (کبیر)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

it is in the third verse (92) that the Holy Qur&an, in its characteristic way with words, has this to say: وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ وَاحْذَرُ‌وا ۚ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا عَلَىٰ رَ‌سُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿٩٢﴾ And obey Allah and obey the Messenger, and be careful. If you turn back, be sure that the duty of Our Messenger is only to convey the Message clearly. The lesson to be learnt is that the command to obey Allah and His Messenger is in one&s own interest, and benefit. If one does not listen to the good counsel, their action brings no loss to Allah Jalla Sha&nuhu or to His Messenger. That Allah is far above any gain or loss was quite obvious, but in the case of the Messenger someone might have thought that a refusal to listen to him might affect or lessen the degree of his reward or station. To remove this doubt, it was said: أَنَّمَا عَلَىٰ رَ‌سُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِي . It means: Even if none of you were to listen to and obey Our Messenger, it would still not make any difference to his in¬tegrity and station because he has completed the mission entrusted with him. His mission was to convey the commands of Allah Ta ala, openly and clearly. This he has accomplished. Now, after that, whoev¬er chooses not to obey him will bring loss on his or her person - Our Messenger has nothing to lose in this case.

تیسری آیت میں اس حکم کو آسان کرنے اور اس پر عمل کو سہل بنانے کے لئے قرآن کریم نے اپنے خاص اسلوب بیان کے تحت ارشاد فرمایا : وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کا حکم تمہارے فائدہ کے لئے ہے، اگر تم نہ مانو تو نہ اللہ جل شانہ کا کوئی نقصان ہے نہ اس کے رسول کا، اللہ تعالیٰ کا اس نفع و نقصان سے بالاتر ہونا تا ظاہر تھا، رسول کے متعلق کسی کو یہ خیال ہوسکتا تھا کہ جب ان کی بات نہ مانی گئی تو ان کے اجر وثواب یا قدر ومنزلت میں شاید کچھ فرق آجائے، اس شبہ کے ازالہ کے لئے ارشاد فرمایا : فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَلٰي رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ ، یعنی اگر تم میں سے کوئی بھی ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات نہ مانے جب بھی اس کی قدرومنزلت میں کوئی فرق نہیں آتا، کیونکہ جتنا کام ان کے سپرد تھا وہ کرچکے، یعنی صاف صاف طور پر واضح کرکے اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچا دینا، اس کے بعد جو شخص نہیں مانتا وہ اپنا نقصان کرتا ہے ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اس سے کچھ نہیں بگڑتا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا۝ ٠ۚ فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَلٰي رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ۝ ٩٢ طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] ، وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] ، وقوله في صفة جبریل عليه السلام : مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] ، والتَّطَوُّعُ في الأصل : تكلُّفُ الطَّاعَةِ ، وهو في التّعارف التّبرّع بما لا يلزم کالتّنفّل، قال : فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] ، وقرئ :( ومن يَطَّوَّعْ خيراً ) ( ط و ع ) الطوع کے معنی ( بطیب خاطر ) تابعدار ہوجانا کے ہیں اس کے بالمقابل کرھ ہے جس کے منعی ہیں کسی کام کو ناگواری اور دل کی کراہت سے سر انجام دینا ۔ قرآن میں ہے : ۔ ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] آسمان و زمین سے فرمایا دونوں آؤ دل کی خوشی سے یا ناگواري سے وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] حالانکہ سب اہل آسمان و زمین بطبیب خاطر یا دل کے جبر سے خدا کے فرمانبردار ہیں ۔ یہی معنی الطاعۃ کے ہیں لیکن عام طور طاعۃ کا لفظ کسی حکم کے بجا لانے پر آجاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم دل سے آپ کے فرمانبردار ہیں ۔ طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21]( خوب بات ) فرمانبردار ی اور پسندیدہ بات کہنا ہے ۔ کسی کی فرمانبرداری کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] اور اس کے رسول کی فر مانبردار ی کرو ۔ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] جو شخص رسول کی فرمانبردار ی کرے گا بیشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی ۔ وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] اور کافروں کا کہا نہ مانو ۔ اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] سردار اور امانتدار ہے ۔ التوطوع ( تفعل اس کے اصل معنی تو تکلیف اٹھاکر حکم بجالا نا کے ہیں ۔ مگر عرف میں نوافل کے بجا لانے کو تطوع کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے ۔ ایک قرات میں ومن یطوع خیرا ہے الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ اور کبھی اس سے مراد انبیا (علیہ السلام) ہوتے ہیں جیسے فرماٰیا وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بڑھ کر اور کیا کہ ایک رسول ہے اور بس حذر الحَذَر : احتراز من مخیف، يقال : حَذِرَ حَذَراً ، وحذرته، قال عزّ وجل : يَحْذَرُ الْآخِرَةَ [ الزمر/ 9] ، وقرئ : وإنّا لجمیع حَذِرُون، وحاذِرُونَ 3» ، وقال تعالی: وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 28] ، وقال عزّ وجل : خُذُوا حِذْرَكُمْ [ النساء/ 71] ، أي : ما فيه الحذر من السلاح وغیره، وقوله تعالی: هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ [ المنافقون/ 4] ، وقال تعالی: إِنَّ مِنْ أَزْواجِكُمْ وَأَوْلادِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ [ التغابن/ 14] ، وحَذَارِ ، أي : احذر، نحو : مناع، أي : امنع . ( ح ذ ر) الحذر ( س) خوف زدہ کرنے والی چیز سے دور رہنا کہا جاتا ہے حذر حذرا وحذرتہ میں اس سے دور رہا ۔ قرآن میں ہے :۔ يَحْذَرُ الْآخِرَةَ [ الزمر/ 9] آخرت سے ڈرتا ہو ۔ وإنّا لجمیع حَذِرُون، وحاذِرُونَاور ہم سب باسازو سامان ہیں ۔ ایک قرآت میں حذرون ہے هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ [ المنافقون/ 4] یہ تمہاری دشمن میں ان سے محتاط رہنا ۔ إِنَّ مِنْ أَزْواجِكُمْ وَأَوْلادِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ [ التغابن/ 14] تمہاری عورتوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ( بھی ) ہیں سو ان سے بچتے رہو۔ حذر ۔ کسی امر سے محتاط رہنے کے لئے کہنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 28] اور خدا تم کو اپنے ( غضب ) سے محتاط رہنے کی تلقین کرنا ہے الحذر بچاؤ ۔ اور آیت کریمہ :۔ خُذُوا حِذْرَكُمْ [ النساء/ 71] جہاد کے لئے ) ہتھیار لے لیا کرو ۔ میں حذر سے مراد اسلحۃ جنگ وغیرہ ہیں جن کے ذریعہ دشمن سے بچاؤ حاصل ہوتا ہے حذار ( اسم فعل بمعنی امر ) بچو جیسے مناع بمعنی امنع خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔ بَلَاغ : التبلیغ، نحو قوله عزّ وجلّ : هذا بَلاغٌ لِلنَّاسِ [إبراهيم/ 52] ، وقوله عزّ وجلّ : بَلاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفاسِقُونَ [ الأحقاف/ 35] ، وَما عَلَيْنا إِلَّا الْبَلاغُ الْمُبِينُ [يس/ 17] ، فَإِنَّما عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسابُ [ الرعد/ 40] . والبَلَاغ : الکفاية، نحو قوله عزّ وجلّ : إِنَّ فِي هذا لَبَلاغاً لِقَوْمٍ عابِدِينَ [ الأنبیاء/ 106] البلاغ ۔ کے معنی تبلیغ یعنی پہنچا دینے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : هذا بَلاغٌ لِلنَّاسِ [إبراهيم/ 52] یہ ( قرآن ) لوگوں کے نام ( خدا ) پیغام ہے ۔ بَلاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفاسِقُونَ [ الأحقاف/ 35]( یہ قرآن ) پیغام ہے سود اب وہی ہلاک ہوں گے جو نافرمان تھے ۔ وَما عَلَيْنا إِلَّا الْبَلاغُ الْمُبِينُ [يس/ 17] اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے ۔ فَإِنَّما عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسابُ [ الرعد/ 40] تمہارا کام ہمارے احکام کا ) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے ۔ اور بلاغ کے معنی کافی ہونا بھی آتے ہیں جیسے : إِنَّ فِي هذا لَبَلاغاً لِقَوْمٍ عابِدِينَ [ الأنبیاء/ 106] عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں ( خدا کے حکموں کی ) پوری پوری تبلیغ ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٢) اس شراب کے پینے اور اس کو حلال سمجھنے سے بچو اور اگر اس شراب کی حرمت کے بارے میں تم اللہ کی اطاعت نہیں کرو گے تو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذمہ داری تو صرف اس زبان میں جسے تم سمجھتے ہو محض احکام خداوندی کا پہنچا دینا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩٢ (وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا ج) (فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ) ّیہ اللہ کا حکم ہے۔ اللہ کا حکم پہنچانا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمے تھا ‘ تو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہنچا کر اپنی ذمہ داری ادا کردی ‘ اب معاملہ اللہ کا اور تمہارا ہوگا۔ اللہ تم سے نمٹ لے گا ‘ تم سے حساب لے لے گا۔ اب جو اگلی آیت آرہی ہے یہ بھی قرآن مجید کے فلسفہ اور حکمت کے ضمن میں بہت بنیادی آیت ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب شراب کے بارے میں اتنا سخت انداز آیا کہ شراب اور جوا گندے شیطانی کام ہیں ‘ ان سے باز آتے ہو یا نہیں ؟ تو بہت سے مسلمانوں کو تشویش لاحق ہوگئی کہ ہم جو اتنے عرصے تک شراب پیتے رہے تو یہ گندگی تو ہماری ہڈیوں میں بیٹھ گئی ہوگی۔ آج سائنس کی زبان میں جیسے کوئی شخص کہے کہ میرے جسم کا تو کوئی ایک خلیہ (cell) بھی ایسا نہیں ہوگا جس میں شراب کے اثرات نہ پہنچے ہوں۔ تو اب ہم کیسے پاک ہوں گے ؟ اب کس طریقے سے یہ گندگی ہمارے جسموں سے دھلے گی ؟ ان کی یہ تشویش بجا تھی۔ جیسے تحویل قبلہ کے وقت تشویش پیدا ہوگئی تھی کہ اگر اصل قبلہ بیت اللہ تھا اور ہم بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نمازیں پڑھتے رہے تو وہ نمازیں تو ضائع ہوگئیں ‘ اور نماز ہی تو ایمان ہے۔ تو اس پر مؤمنین کی تسلی کے لیے فرمایا گیا تھا : (وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ ط) اللہ تمہارے ایمان کو ضائع کرنے والا نہیں ہے۔ ایسے ہی یہاں ان کی دل جوئی کے لیے فرمایا :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(5:92) احذروا (باب سمع) حذر سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم ڈرو۔ تم بچو۔ تولیتم۔ تولی سے۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم پھرگئے۔ تم نے منہ موڑ لیا۔ تولی کا معنی والی ہونا۔ حاکم ہونا بھی ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 (الغصی فی صورۃ الا ستطھام اللتوکید) یعنی شراب اور اجوئے سے باز ّجاو یہی وجہ ہے کہ جب یہ آیت اتری تو صحابہ کرام نے عرض کی۔ انتھینا ربنا : کہ اے ہمارے پروردگار ہم باز آگئے چناچہ راوی کا بیان ہے کہ اس آیت کے بعد لوگوں نے شراب کے مٹکے توڑ ڈالے اور مدینہ کے گلی کوچوں میں شراب پانی کی طرح بہنے لگی (ابن کثیر)6 یعنی جوئے اور شراب سے بازرہنا اللہ تعالیٰ اور اسے رسول کی اطاعت ہے لہذا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت سے ڈرو (کبیر، قرطبی) یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مراد قرآن وسنت کی پیروی اور سنت بھی قرآن کی طرح ایک مستقل ماخذ دین ہے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اوتیت القران و مثلہ معہ ْ ۔ کہ مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس جیسی ایک اور چیز (یعنی حدیث) بھی (مشکوٰۃ)7 اس میں وعید ہے ان لوگوں کے لیے جو اس حکم قطعی کے باوجود شراب نوشی اور قما رباز سے باز نہیں آتے (کبیر

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ اور اس کے رسول نے خمر، جوئے اور دیگر محرمات سے اجتناب کا حکم دیا ہے۔ اس حکم پر عمل کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے بچو۔ قرآن مجید نے بار ہا اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ رسول کی ذمہ داری فقط یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے پیغام من و عن لوگوں تک پہنچائے اور اس پر خود عمل کرکے اپنے آپ کو نمونہ کے طور پر پیش کرے۔ تاکہ لوگوں کے لیے کوئی حجت باقی نہ رہے۔ یہاں یہ بھی بتلا دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ممنوعات سے بچنا اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا ہے۔ اس بات کو اس طرح بھی بیان فرمایا جو کچھ تمہیں رسول دیتا ہے اسے قبول کرو اور جس سے روکتا ہے اس سے رک جاؤ کیونکہ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ یہاں ماضی کے حوالے سے ایک استفسار کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ جب شراب حرام ہونے کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام (رض) نے کہا اے اللہ کے رسول ! ہمارے ان بھائیوں کا کیا حال ہوگا جو شراب پیتے تھے اور اسی دور میں فوت ہوگئے اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (مسند احمد) اس فرمان میں تقویٰ ، ایمان اور عمل صالح کو لازم ملزوم قرار دیا کیونکہ تقویٰ کے بغیر ایمان قابل قبول نہیں اور ایمان صالح اعمال کے بغیر آدمی کو خاطر خواہ فائدہ نہیں دیتا۔ پہلی مرتبہ تقویٰ اور ایمان کے بعد صالح اعمال کا ذکر کیا ہے اور دوسری مرتبہ ایمان کو تقویٰ سے مقدّم رکھتے ہوئے صالح اعمال کی جگہ ” اَحْسِنُوْا “ کا لفظ استعمال فرما کر محسنین کو اپنی محبت کا یقین دلایا ہے۔ احسان کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ ہر کام اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔ حقیقتاً عمل صالح ہوتا وہی ہے جس میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔ اور اسے اس جذبہ کے ساتھ بجا لایا جائے گویا کہ انسان اللہ تعالیٰ کو دیکھ کر اس کی منشا کے مطابق عمل کر رہا ہے۔ جب کسی کام کی ادائیگی میں یہ جذبہ اور تخیل پیدا ہوجائے تو نہ صرف نیکی کرنے میں ذوق شوق پیدا ہوتا ہے بلکہ اس انداز سے نیکی کرنے والا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور محبت کی لذّت محسوس کرتا ہے۔ اس طرح اسے دنیا میں ہی رب کریم کی محبت کا کیف محسوس ہوتا ہے۔ اور یہ نیکی کی قبولیت کا واضح ثبوت ہے۔ کچھ مفسرین نے تقویٰ اور ایمان کے تکرار کے بارے میں لکھا ہے کہ اس تکرار سے مراد تقویٰ اور ایمان میں مبالغہ مقصود ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ تقویٰ اور ایمان کی تکرار سے اس کے مختلف درجات مراد ہیں۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِذَا أَحَبَّ اللّٰہُ عَبْدًا نَادٰی جِبْرِیلَ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّہُ فَیُحِبُّہُ جِبْرِیلُ فَیُنَادِی جِبْرِیلُ فِی أَہْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوہُ فَیُحِبُّہُ أَہْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ یُوضَعُ لَہُ الْقَبُولُ فِی أَہْلِ الْأَرْضِ )[ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت رکھتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ جبرائیل (علیہ السلام) اس سے محبت کرتے ہوئے آسمان والوں کے سامنے اعلان کرتے ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے تو تم بھی اس سے محبت کرو اہل آسمان بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر اس بندے کے لیے زمین میں شرف قبولیت بخش دیا جاتا ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہی اطاعت کرنی چاہیے۔ ٢۔ رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے اعراض نہیں کرنا چاہیے۔ ٣۔ کسی بھی چیز کا حکم سامنے آجانے پر اس پر عمل کرنا چاہیے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ تفسیر بالقرآن تقویٰ اور اس کے فائدے : ١۔ اللہ تعالیٰ نے متقین کے ساتھ جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور کافروں کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔ (الرعد : ٣٥) ٢۔ صبر کرو متقین کا بہتر انجام ہے۔ (ہود : ٤٩) ٣۔ متقین کے لیے جنت ہے۔ (الحجر : ٤٥) ٤۔ قیامت کے دن متقین کے چہرے ہشاش بشاش ہوں گے۔ (یونس : ٢٦۔ ٢٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (وَ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا) (اور اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ڈرتے رہو) یعنی اللہ و رسول کی مخالفت نہ کرو (فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ) (سو اگر تم رو گردانی کرو تو جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمہ واضح طور پر پہنچا دینا ہے) اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خوب اچھی طرح کھول کر بیان فرما دیا اللہ تعالیٰ کی بات پہنچادی پھر بھی اگر کوئی خلاف ورزی کرے گا تو اپنا انجام دیکھ لے گا۔ سات وجوہ سے جوئے اور شراب کی ممانعت فرمانے کے بعد گویا اس آخری آیت میں مزید تنبیہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت سے ڈرو۔ جو لوگ قرآن ہی میں ممانعت اور حرمت دیکھنا چاہتے ہیں اور حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حجت نہیں سمجھتے ان کو تنبیہ فرمادی کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت ضروری ہے اور دونوں کی مخالفت سے بچنا لازم ہے۔ احادیث شریفہ میں شراب کی حرمت اور اس کے پینے پلانے والے پر لعنت اور آخرت کی سزا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شراب کے بارے میں جو کچھ ارشاد فرمایا اس میں سے چند احادیث کا ترجمہ لکھا جاتا ہے۔ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز خمر یعنی شراب ہے اور ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے اور جو شخص دنیا میں شراب پئے گا اور اس حال میں مرگیا کہ شراب پیتا رہا اور توبہ نہ کی تو آخرت میں شراب نہیں پئے گا (جنت کی شراب سے محروم ہوگا اگر جنت کا داخلہ نصیب ہوگیا) ۔ (رواہ مسلم ص ١٦٨ جلد ٣) حضرت جابر (رض) نے بیان فرمایا کہ ایک شخص یمن سے آیا اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ ہمارے علاقے میں ایک شراب ہے جو جوار سے بنائی جاتی ہے لوگ اسے پیتے ہیں، آپ نے دریافت کیا وہ نشہ لاتی ہے ؟ سوال کرنے والے نے عرض کیا ہاں وہ نشہ لاتی ہے ! آپ نے فرمایا ” کُلُّ مُسْکِرٍحرام “ کہ نشہ لانے والی ہر چیز حرام ہے پھر فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ عہد فرمالیا ہے کہ جو شخص نشہ لانے والی چیز پیئے گا اللہ اسے ” طِیْنَۃ الخبَال “ سے پلائے گا، صحابہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ” طِیْنَۃ الخبَال “ کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ دو زخیوں کے جسموں کا نچوڑ ہے۔ (رواہ مسلم ص ١٦٢ جلد نمبر ٢) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے لعنت کی شراب پر اور اسکے پینے والے پر اور اس کے پلانے والے پر اور اس کے بیچنے والے اور اس کے خریدنے والے پر اور شراب بنانے والے پر اور بنوانے والے پر۔ اور جو شراب کو کسی کے پاس لے جائے اس پر اور جس کے پاس لے جائے اس پر بھی۔ (رواہ ابوداؤد ص ١٦١ جلد نمبر ٢) جو لوگ اپنی دکانوں میں شراب بیچتے ہیں اپنے ہوٹلوں میں شراب پلاتے ہیں اور ایسی دکانوں پر ملازمت کرتے ہیں وہ اپنے بارے میں غور کرلیں کہ روزانہ کتنی لعنتوں کے مستحق ہوتے ہیں، شراب کا بنانے والا تو مستحق لعنت ہے ہی اس کا بیچنے والا، پینے والا، اور پلانے والا اور اس کے اٹھا کرلے جانے والا اور جس کی طرف شراب لے جائی جائے ان سب پر اللہ کی لعنت ہے۔ حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہا ی سے دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب کا دور چل رہا ہو۔ (رواہ البیہقی) جو لوگ یورپ امریکہ وغیرہ میں رہتے ہیں اور نصرانیوں کے میل ملاپ کی وجہ سے شراب پی لیتے ہیں غور کریں کہ ان کا ایمان باقی ہے یا نہیں ؟ ایک حدیث میں ارشاد ہے الْخَمْرُ جُمَّاعُ الْاِثْمِکہ شراب تمام گناہوں کو جمع کئے ہوئے ہیں۔ اگر اس بات کی مصداق دیکھنا ہو تو یورپ امریکہ کے شراب خوروں کو دیکھ لیا جائے کیا کوئی برائی ان سے چھوٹی ہوئی ہے ؟ شراب خوری نے انہیں ہر گناہ پر آمادہ کردیا ہے۔ شراب ہر برائی کی کنجی ہے حضرت ا بو الدرداء (رض) نے بیان فرمایا کہ مجھے میرے دوست سید الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وصیت فرمائی کہ کسی بھی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا، اگر تیرے ٹکڑے کر دئیے جائیں اور تجھے جلا دیا جائے اور قصداً نماز نہ چھوڑنا کیونکہ جس نے قصداً نماز چھوڑ دی اس سے اللہ کا ذمہ بری ہوگیا اور شراب مت پینا کیونکہ وہ ہر برائی کی کنجی ہے۔ (مشکوۃ المصابیح ج ١ ص ٥١) جو لوگ شراب نہ چھوڑیں ان سے قتال کیا جائے حضرت دیلم حمیری (رض) نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم ٹھنڈی سر زمین میں رہتے ہیں اور سخت محنت کرتے ہیں اور صورت حال یہ ہے کہ ہم گیہوں کی شراب بنا لیتے ہیں جسے استعمال کر کے ہم محنت کے کاموں پر اپنے شہروں کی ٹھنڈک پر قوت حاصل کرتے ہیں آپ نے سوال فرمایا کہ وہ نشہ لاتی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں وہ نشہ لاتی ہے ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس سے پرہیز کرو۔ میں نے عرض کیا کہ لوگ اسے چھوڑنے والے نہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر اسے نہ چھوڑیں تو تم ان سے قتال کرو یعنی جنگ کرو۔ (رواہ ابو داؤد فی کتاب الشربتہ ) اللہ کے خوف سے شراب چھوڑنے پر انعام حضرت ابو امامہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور جہانوں کے لئے ہدایت بنا کر بھیجا ہے اور میرے رب نے مجھے حکم دیا کہ گانے بجانے کے سامان کو اور بتوں کو صلیب کو (جس کی نصاریٰ عبادت کرتے ہیں) اور جاہلیت کے کاموں کو مٹادوں اور میرے رب عزوجل نے قسم کھائی ہے کہ میرے بندوں میں سے جو بھی بندہ کوئی گھونٹ شراب کا پئے گا تو اسے اسی قدر پیپ پلاؤں گا۔ اور جو بھی کوئی شخص میرے ڈر سے شراب چھوڑ دے گا میں اسے ضرور مقدس حوضوں میں سے پلاؤں گا۔ (رواہ احمد کمافی المشکوۃ ص ٣١٨) جواری اور شرابی کی جنت سے محرومی حضرت ابو امامہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ماں باپ کو تکلیف دینے والا اور جوا کھیلنے والا اور احسان جتانے والا اور جو شخص شراب پیا کرتا ہے یہ لوگ جنت میں داخل نہ ہوں گے۔ (رواہ الدارمی ص ٣١ جلد نمبر ٢) شراب اور خنزیر اور بتوں کی بیع کی حرمت حضرت جابر (رض) نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فتح مکہ کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا کہ بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے شراب اور مردار اور خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام قرار دیا ہے۔ (رواہ البخاری ج ١ ص ٢٩٨)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

154 یہ حکم بالا کی تاکید ہے۔ اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اور ان کی نافرمانی سے بچو۔ اگر تم نے اللہ اور اس کے رسول کے احکام سے اعراض کیا تو اس سے تم نے ہمارے رسول کا کچھ نقصان نہیں کیا کیونکہ اس کا فرض ابلاغ تھا جسے اس نے احسن طریق سے ادا کردیا۔ پیغمبر (علیہ السلام) کی نافرمانی سے تم اپنی ہی عاقبت برباد کر رہے ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام کی مخالفت کرنے والوں کے لیے وعید شدید ہے و ھذا تھدید عظیم ووعید شدید فی حق من خالف فی ھذا التکلیف واعرض فیہ عن حکم اللہ (کبیر ج 3 ص 658)

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

92 اور تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور پیغمبر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کہنا مانو اور احکام خدا اور رسول کی خلاف ورزی اور حکم کی مخالفت سے پرہیز کرو پھر اگر تم نے امتشال امر اور حکم کی بجا آوری سے روگردانی کی اور اعراض کیا تو اس بات کو اچھی طرح جان لو اور سمجھ لو کہ ہمارے پیغمبر کے ذمے صرف واضح اور صاف طور پر احکام کا پہونچا دینا ہے۔