Surat ul Maeeda

Surah: 5

Verse: 94

سورة المائدة

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَیَبۡلُوَنَّکُمُ اللّٰہُ بِشَیۡءٍ مِّنَ الصَّیۡدِ تَنَالُہٗۤ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ رِمَاحُکُمۡ لِیَعۡلَمَ اللّٰہُ مَنۡ یَّخَافُہٗ بِالۡغَیۡبِ ۚ فَمَنِ اعۡتَدٰی بَعۡدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۹۴﴾

O you who have believed, Allah will surely test you through something of the game that your hands and spears [can] reach, that Allah may make evident those who fear Him unseen. And whoever transgresses after that - for him is a painful punishment.

اے ایمان والو! اللہ تعالٰی قدرے شکار سے تمہارا امتحان کرے گا جن تک تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے پہنچ سکیں گے تاکہ اللہ تعالٰی معلوم کرلے کہ کون شخص اس سے بن دیکھے ڈرتا ہے سو جو شخص اس کے بعد حد سے نکلے گا اس کے واسطے دردناک سزا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Prohibiting Hunting Game in the Sacred Area and During the State of Ihram Allah says; يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ ... you who believe! ... لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللّهُ بِشَيْءٍ مِّنَ الصَّيْدِ تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ ... Allah will certainly make a trial for you with something in (the matter of) the game that is well within reach of your hands and your lances, Ali bin Abi Talhah Al-Walibi said that Ibn Abbas said that Allah's statement refers to, "The weak and young game. Allah tests His servants with such game during their Ihram, that if they wish, they would be able to catch it with their hands. Allah has commanded them to avoid catching it." Mujahid said that, تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ (well within reach of your hands), refers to the young game and chicks, while وَرِمَاحُكُمْ (and your lances), refers to mature game. Muqatil bin Hayyan said that; this Ayah was revealed during the Umrah of Al-Hudaybiyyah, when wild game and birds were coming to the Muslim camping area, which they had never seen the likes of before. Allah prohibited them from hunting the game while in the state of Ihram. ... لِيَعْلَمَ اللّهُ مَن يَخَافُهُ بِالْغَيْبِ ... that Allah may test who fears Him in the unseen. Therefore, Allah tests His servants with the game that comes near their camping area, for if they wish, they can catch it with their hands and spears in public and secret. This is how the obedience of those who obey Allah in public and secret becomes apparent and tested. In another Ayah, Allah said; إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ Verily! Those who fear their Lord in the unseen, theirs will be forgiveness and a great reward (i.e. Paradise). (67:12) Allah said next, ... فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ ... Then whoever transgresses thereafter, According to As-Suddi, after this warning and threat, then, ... فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ for him there is a painful torment. for his defiance of Allah's command and what He has decreed. Allah said next,

احرام میں شکار کے مسائل کی تفصیلات حضرت ابن عباس فرماتے ہیں چھوٹے چھوٹے شکار اور کمزور شکار اور ان کے بچے جنہیں انسان اپنے ہاتھ سے پکڑ لے اور اپنے نیزے کی نوک پر رکھ لے اس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرے گا ۔ یعنی انہیں منع فرمایا ہے کہ تم باوجود اس کے بھی ان کا شکار حالت احرام میں نہ کرو خواہ چھوٹے ہوں خواہ بڑے خواہ آسانی سے شکار ہو سکتا ہو خواہ سختی سے ۔ چنانچہ عمرہ حدیبیہ کے موقعہ پر یہی ہوا کہ قسم قسم کے شکار اس قدر بکثرت آ پڑے کہ صحابہ کے خیموں میں گھسنے لگے ادھر اللہ کی طرف سے ممانعت ہو گئی تاکہ پوری آزمائش ہو جائے ادھر شکار گویا ہنڈیا میں ہے ادھر ممانعت ہے ہتھیار تو کہاں یونہی اگر چاہیں تو ہاتھ سے پکڑ سکتے یہیں اور پوشیدہ طور سے شکار قبضہ میں کر سکتے ہیں ۔ یہ صرف اس لئے تھا کہ فرمانبردار اور نافرمان کا امتحان ہو جائے پوشیدگی میں بھی اللہ کا ڈر رکھنے والے غیروں سے ممتاز ہو جائیں ، چنانچہ فرمان ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے غائبانہ ڈرتے رہتے ہیں ان کے لئے بڑی بھاری مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے ۔ اب جو شخص اس حکم کے آنے کے بعد بھی حالت احرام میں شکار کھیلے گا شریعت کی مخالفت کرے گا ، پھر فرمایا ایماندار و حالت احرام میں شکار نہ کھیلو ۔ یہ حکم اپنے معنی کی حیثیت سے تو حلال جانوروں اور ان سے جو چیزیں حاصل ہوتی ہیں کیلئے ہے ، لیکن جو خشکی کے حرام جانور ہیں ان کا شکار کھیلنا امام شافعی کے نزدیک تو جائز ہے اور جمہور کے نزدیک حرام ہے ، ہاں اس عام حکم سے صرف وہ چیزیں مخصوص ہیں جن کا ذکر بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ جانور فاسق ہیں وہ حرام میں قتل کر دیئے جائیں اور غیر حرم میں بھی ، کوا چیل بچھو چوہا اور کانٹے والا کالا کتا اور روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ ان پانچ جانوروں کے قتل میں احرام والے پر بھی کوئی گناہ نہیں ۔ اس روایت کو سن کر حضرت ایوب اپنے استاد حضرت نافع سے پوچھتے ہیں کہ سانپ کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ اس میں شامل ہے یہ بھی قتل کر دیا جائے اس میں کسی کو اختلاف نہیں بعض علماء نے جیسے امام احمد امام مالک وغیرہ نے کتے کے حکم پر درندوں کو بھی رکھا ہے جیسے بھیڑیا شیر وغیرہ ۔ اس لئے کہ یہ کتے سے بہت زیادہ ضرر والے ہیں ۔ حضرت زید بن اسلم اور حضرت سفیان بن عینیہ فرماتے ہیں کہ ہر حملہ کرنے والے درندے کا حکم ہے دیکھئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ بن ابو لہب کے حق میں جب دعا کی تو فرمایا اے اللہ اس پر شام میں اپنا کوئی کتا مقرر کر دے ، پاس جب وہ زرقا میں پہنچا وہاں اسے بھیڑئیے نے پھاڑ ڈالا ۔ ہاں اگر محرم نے حالت احرام میں کوے کو یا لومڑی وغیرہ کو مار ڈالا تو اسے بدلہ دینا پڑے گا ۔ اسی طرح ان پانچوں قسم کے جانوروں کے بچے اور حملہ کرنے والے درندوں کے بچے بھی اس حکم سے مستثنیٰ ہیں ۔ امام شافعی فرماتے ہیں ہر وہ جانور جو کھایا نہیں جاتا اس کے قتل میں اور اس کے بچوں کے قتل میں محرم پر کوئی حرج نہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ ان کا گوشت کھایا نہیں جاتا ۔ امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کالا کتا حملہ کرنے والا اور بھیڑیا تو محرم قتل کر سکتا ہے اس لئے کہ بھیڑیا بھی جنگلی کتا ہے ان کے سوا جس جانور کا شکار کھیلے گا فدیہ دنیا پڑے گا ۔ ہاں اگر کوئی شیر وغیرہ جنگی درندہ اس پر حملہ کرے اور یہ اسے مار ڈالے تو اس صورت میں فدیہ نہیں ۔ آپ کے شاگرد زفر کہتے ہیں یہ حملہ کرنے کی صورت میں بھی اگر مار ڈالے گا تو فدیہ دینا پڑے گا ۔ بعض احادیث میں غریب ابقع کا لفظ آیا ہے یہ وہ کوا ہے جس کے پیٹ اور پیٹھ پر سفیدی ہوتی ہے ۔ مطلق سیاہ اور بالکل سفید کوے کو غراب ابقع نہیں کہتے لیکن جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ہر قسم کے کوے کا یہی حکم ہے کیونکہ بخاری و مسلم کی حدیث میں مطلق کوے کا ذکر ہے ۔ امام ملک فرماتے ہیں کوے کو بھی اس حال میں مار سکتا ہے کہ وہ اس پر حملہ کرے یا اسے ایذاء دے مجاہد وغیرہ کا قول ہے کہ اس حالت میں بھی مار نہ ڈالے بلکہ اسے پتھر وغیرہ پھینک کر ہٹا دے ۔ حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے ۔ ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ محرم کس کس جانور کو قتل کر دے ؟ تو آپ نے فرمایا سانپ ، بچھو اور چوہا اور کوے کو کنکر مارے اسے مار نہ ڈالے اور کالا کتا اور چیل اور حملہ کرنے والا درندہ ۔ ( ابو داؤد وغیرہ ) پھر فرماتا ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر حالت احرام میں شکار کرے اس پر فدیہ ہے ۔ حضرت طاؤس کا فرمان ہے کہ خطا سے قتل کرنے والے پر کچھ نہیں ۔ لیکن یہ مذہب غریب ہے اور آیت کے ظاہری الفاظ سے یہی مشتق ہے ۔ مجاہد بن جیبر سے مروی ہے کہ مراد وہ شخص ہے جو شکار تو قصداً کرتا ہے لیکن اپنی حالت احرام کی یاد اسے نہیں رہی ۔ لیکن جو شخص باوجود احرام کی یاد کے عمداً شکار کرے وہ تو کفارے کی حد سے نکل گیا اس کا احرام باطل ہو گیا ۔ یہ قول بھی غریب ہے ۔ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ قصداً شکار کرنے والا اور بھول کر کرنے والا دونوں کفارے میں برابر ہیں امام زہری فرماتے ہیں قرآن سے تو قصداً شکار کھیلنے والے پر کفارہ ثابت ہوا اور حدیث نے یہی حکم بھولنے والے کا بھی بیان فرمایا ۔ مطلب اس قول کا یہ ہے کہ قصداً شکار کھیلنے والے پر کفارہ قرآن کریم سے ثابت ہے اور اس کا گنہگار ہونا بھی ۔ کیونکہ اس کے بعد آیت ( لِّيَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِهٖ ) 5 ۔ المائدہ:95 ) فرمایا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب سے خطا میں بھی یہی حکم ثابت ہے اور اس لئے بھی کہ شکار کو قتل کرنا اس کا تلف کرنا ہے اور ہر تلف کرنے کا بدلہ ضروری ہے خواہ وہ بالقصد ہو یا انجان پنے سے ہو ۔ ہاں قصداً کرنے والا گنہگار بھی ہے اور بلا قصد جس سے سرزد ہو جائے وہ قابل ملامت نہیں ۔ پھر فرمایا اس کا بدلہ یہ ہے کہ اسی کے مثل چوپایہ جانور راہ للہ قربان کرے ۔ ابن مسعود کی قرأت میں فجزاوہ ہے ان دونوں قرأت وں میں مالک شافعی احمد اور جمہور کی دلیل ہے کہ جب شکار چوپالیوں کی مانند ہو تو وہی اس کے بدلے میں دینا ہو گا ۔ امام ابو حنیفہ اس کے خلاف کہتے ہیں کہ خواہ شکار کے کسی جانور کی مثل ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں قیمت دینی پڑے گی ہاں اس محرم شکاری کو اختیار ہے کہ خواہ اس قیمت کو صدقہ کر دے خواہ اس سے قربانی کا کوئی جانور خرید لے ۔ لیکن یہ یاد رہے کہ امام صاحب کے اس قول سے صحابہ رضی اللہ عنہم کا فیصلہ ہمارے لئے زیادہ قابل عمل ہے انہوں نے شترمرغ کے شکار کے بدلے اونٹ مقرر کیا ہے اور جنگلی گائے کے بدلے پالتو گائے مقرر فرمائی ہے اور ہرن کے بدلے بکری ۔ یہ فیصلے ان بزرگ صحابیوں کی سندوں سمیت احکام کی کتابوں میں موجود ہیں جہاں شکار جیسا اور کوئی پالتو چوپایہ نہ ہو اس میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا فیصلہ قیمت کا ہے جو مکہ شریف پہنچائی جائے ( بیہقی ) پھر فرمایا کہ اس کا فیصلہ دو عادل مسلمان کر دیں کہ کیا قیمت ہے یا کونسا جانور بدلے میں دیا جائے ۔ فقہا نے اس بارے میں اختلاف کیا کہ فیصلہ کرنے والے دو میں ایک خود قاتل ہو سکتا ہے یا نہیں؟ تو امام مالک وغیرہ نے تو انکار کیا ہے کیونکہ اسی کا معاملہ ہو اور وہی حکم کرنے والا ہو اور امام شافعی امام احمد وغیرہ نے آیت کے عموم کو سامنے رکھ کر فرمایا ہے کہ یہ بھی ہو سکتا ہے ۔ پہلے مذہب کی دلیل تو یہ ہے کہ خود حاکم اپنے اوپر اپنا ہی حکم کر کے اسی حکم میں اپنا منصف آپ نہیں بن سکتا ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک اعرابی حضرات ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہا میں نے ایک شکار کو احرام کی حالت میں قتل کر دیا ہے اب آپ فرمائیے کہ اس میں مجھ پر بدلہ کیا ہے؟ آپ نے حضرت ابی بن کعب کی طرف دیکھ کر ان سے دریافت فرمایا کہ آپ فرمائیے کیا حکم ہے؟ اس پر اعرابی نے کہا سبحان اللہ میں آپ سے دریافت کرنے آیا ہوں آپ خلیفہ رسول ہیں اور آپ کسی سے دریافت فرما رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا اس میں تیرا کیا بگڑا ؟ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ دو عادل جو فیصلہ کر دیں اس لئے میں نے اپنے ساتھی سے دریافت کیا ۔ جب ہم دونوں کسی بات پر اتفاق کرلیں گے تو تجھ سے کہہ دیں گے ۔ اس کی سند تو بہت مضبوط ہے لیکن اس میں میمون اور صدیق کے درمیان انقطاع ہے ۔ یہاں یہی چاہیے تھا حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب دیکھا کہ اعرابی جاہل ہے اور جہل کی دوا تعلیم ہے تو آپ نے اسے نرمی اور محبت سے سمجھا دیا اور جبکہ اعتراض کرنے والا خود مدعی علم ہو پھر وہاں یہ صورت نہیں رہتی ۔ چنانچہ ابن جرید میں ہے حضرت قبیصہ بن جابر کہتے ہیں ہم حج کیلئے چلے ہماری عادت تھی کہ صبح کی نماز پڑھتے ہی ہم سواریوں سے اتر پڑتے اور انہیں چلاتے ہوئے باتیں کرتے ہوئے پیدل چل پڑتے ۔ ایک دن اسی طرح جا رہے تھے کہ ایک ہرن ہماری نگاہ میں پڑا ہم میں سے ایک شخص نے اسے پتھر مارا جو اسے پوری طرح لگا اور وہ مر کر گر گیا وہ شخص اسے مردہ چھوڑ کر اپنی سواری پر سوار ہو گیا ۔ ہمیں یہ کام بڑا برا معلوم ہوا اور ہم نے اسے بہت کچھ کہا سنا مکہ شریف پہنچ کر میں اسے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس لے گیا اس نے سارا واقعہ خود بیان کیا اس وقت جناب فاروق کے پہلو میں ایک صاحب کھڑے تھے جن کا چہرہ چاندی کی طرح جگمگا رہا تھا یہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے آپ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر کچھ باتیں کیں پھر میرے ساتھ سے فرمایا کہ تو نے اسے جان بوجھ کر مار ڈالا یا بھول چوک سے اس نے کہا میں نے پتھر اسی پر پھینکا اور قصداً پھینکا لیکن اسے مار ڈالنے کی میری نیت نہ تھی ۔ آپ نے فرمایا پھر تو خطا اور عمد کے درمیان درمیان ہے ۔ جا تو ایک بکری ذبح کر دے اس کا گوشت صدقہ کر دے اور اس کی کھال اپنے کام میں لا ۔ یہ سن کر ہم وہاں سے چلے آئے میں نے اپنے ساتھی سے کہا دیکھ تو نے بڑا قصور کیا ہے اللہ جل شانہ کی نشانیوں کی تجھے عظمت کرنی چاہیے اور ایک بات یہ بھی ہے کہ خود امیر المؤمنین کو تو یہ مسئلہ معلوم نہ تھا انہوں نے اپنے ساتھی سے دریافت کیا میرے خیال سے تو اپنی اونٹنی اللہ کے نام سے قربان کر دے شاید اس سے تیرا جرم معاف ہو جائے ۔ افسوس کہ اس وقت مجھے یہ آیت یاد ہی نہ رہی کہ حضرت عمر نے تو اس حکم پر عمل کیا ہے کہ دو عادل شخص باہم اتفاق سے جو فیصلہ کریں ۔ حضرت عمر کو بھی میرا یہ فتوی دینا معلوم ہو گیا اچانک آپ کوڑہ لئے ہوئے آ گئے ۔ اول تو میرے ساتھی پر کوڑا اٹھا کر فرمایا تونے ایک تو جرم میں قتل کیا دوسرے حکم کی تعمیل میں بیوقوفی کر رہا ہے ۔ اب میری طرف متوجہ ہوئے میں نے کہا امیر المومنین اگر آپ نے مجھے تکلیف پہنچائی تو میں آپ کو آج کی تکلیف ہرگز معاف نہیں کروں گا ۔ آپ نرم پڑ گئے اور مجھ سے فرمانے لگے اے قبصیہ میرے خیال سے تو تو جوانی کی عمر والا کشادہ سینے والا اور چلتی زبان والا ہے ۔ یاد رکھ نوجوانوں میں اگر نو خصلتیں اچھی ہوں اور ایک بری ہو تو وہ ایک بری خصلت نو بھلی خصلتوں کو مات کر دیتی ہے ۔ سن جوانی کی لغزشوں سے بچارہ ۔ ابن جریر میں ہے کہ حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے احرام کی حالت میں ایک ہرن کا شکار کر لیا پھر حضرت عمر کے پاس گئے آپ نے فرمایا جاؤ اپنے دو رشتے داروں کو لے آؤ وہی فیصلہ کریں گے میں جا کر حضرت عبدالرحمن کو اور حضرت سعد کو بلا لایا ۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ میں ایک موٹا تازہ بکرا فدیہ دوں ۔ حضرت طارق فرماتے ہیں ایک شخص نے ایک ہرن کو تیر مارا وہ مر گیا حضرت عمر سے اس نے مسئلہ پوچھا تو آپ نے خود اس کو بھی مشورے میں شریک کر لیا دونوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ گھر کی پالتو بکری راہ للہ قربان کرو اس میں یہ دلیل ہے کہ خود قاتل بھی دو حکم کرنے والوں میں ایک بن سکتا ہے ۔ جیسے کہ امام شافعی اور امام احمد کا مذہب ہے ۔ پھر آیا ہر معاملہ میں اب بھی موجودہ لوگوں میں سے دو حکم فیصلہ کریں گے یا صحابہ کے فیصلے کافی ہیں ؟ اس میں بھی اختلاف ہے امام مالک اور امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں ہر فیصلہ اس وقت کے موجود دو عقلمند لوگوں سے کرایا جائے گو اس میں پہلے کا کوئی فیصلہ ہو یا نہ ہو ۔ پھر فرماتا ہے یہ فدیئے کی قربانی حرم میں پہنچے یعنی وہیں ذبح ہو اور وہیں اس کا گوشت مسکینوں میں تقسیم ہو اس پر سب کا اتفاق ہے پھر فرمایا کفارہ ہے مسکینوں کا کھانا کھلانا یا اس کے برابر کے روزے ، یعنی جب محرم اپنے قتل کئے ہوئے شکار کے مانند کوئی جانور نہ پائے یا خود شکار ایسا ہوا ہی نہیں جس کے مثل کوئی جانور پالتو ہو یہاں پر لفظ او اختیار کے ثابت کرنے کیلئے ہے یعنی بدلے کے جانور میں کھانا کھالانے میں اور روزے رکھنے میں اختیار ہے جیسے کہ امام مالک امام ابو حنیفہ امام ابو یوسف امام محمد بن حسن اور امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک قول اور امام احمد کا مشہور قول ہے اور آیت کے ظاہر الفاظ بھی یہی ہیں ، دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ترتیب وار ہیں ، یعنی پہلے تو بدلہ پس مالک ابو حنیفہ ان کے ساتھی ، حماد اور ابراہیم کا تو قول ہے کہ خود شکار کی قیمت لگائی جائے گی اور امام شافعی فرماتے ہیں شکار کے برابر کے جانور کی قیمت لگائی جائے گی اگر وہ موجود ہو پھر اس کا اناج خریدا جائے گا اور اس میں سے ایک ایک مد ایک ایک مسکین کو دیا جائے گا مالک اور فقہاء حجاز کا قول بھی یہی ہے ، امام ابو حنیفہ اور ان کے ساتھی کہتے ہیں ہر مسکین کو دو مد دیئے جائیں گے مجاہد کا قول یہی ہے ، امام احمد فرماتے ہیں گہیو ہوں تو ایک مد اور اس کے سوا کچھ ہو تو دو مد ، پس اگر نہ پائے یا اختیار اس آیت سے ثابت ہو جائے تو ہر مسکین کے کھانے کے عوض ایک روزہ رکھ لے ، بعض کہتے ہیں جتنا اناج ہو اس کے ہر ایک صاع کے بدلے ایک روزہ رکھے جیسے کہ اس شخص کے لئے یہ حکم ہے جو خوشبو وغیرہ لگائے ، شارع علیہ السلام نے حضرت کعب بن عجرہ کو حکم دیا تھا کہ وہ ایک فرق کو چھ شخصوں کے درمیان تقسیم کر دیں یا تین دن کے روزے رکھیں ، فرق تین صاع کا ہوتا ہے اب کھانا پہنچانے کی جگہ میں بھی اختلاف ہے ، امام شافعی کا فرمان ہے کہ اس کی جگہ حرم ہے ، عطاء کا قول بھی یہی ہے ، مجاہد فرماتے ہیں جہاں شکار کیا ہے وہیں کھلوا دے ، یا اس سے بہت زیادہ کی قریب کی جگہ میں ، امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں خواہ حرم میں خواہ غیر حرم میں اختیار ہے ۔ سلف کی اس آیت کے متعلق اقوال ملاحظہ ہوں ، ابن ابی حاتم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جب محرم شکار کھیل لے اس پر اس کے بدلے کے چوپائے کا فیصلہ کیا جائے گا اگر نہ ملے تو دیکھا جائے گا کہ وہ کس قیمت کا ہے ، پھر اس نقدی کے اناج کا اندازہ کیا جائے گا پھر جتنا اناج ہو گا اسی کے ناپ سے ہر نصف صاع کے بدلے ایک روزہ رکھنا ہو گا پھر جب طعام پایا جائے گا جزا پالی گئی اور روایت میں ہے جب محرم نے ہرن کو مار ڈالا تو اس پر ایک بکری ہے جو مکے میں ذبح کی جائے گی اگر نہ پائے تو چھ مسکین کا کھانا ہے اگر نہ پائے تو تین روزے ہیں اگر کسی نے اونٹ کو قتل کیا تو اس کے ذمہ ایک گائے ہے اگر نہ پائے تو بیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو بیس روزے ، اگر شتر مرغ یا گور خر وغیرہ مارا ہے تو اس پر ایک اونٹنی ہے اگر نہ ملے تو تیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو تین روزے ہیں ۔ اگر کسی نے اونٹ کو قتل کیا تو اس کے ذمہ ایک گائے ہے اگر نہ پائے تو بیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو بیس روزے ، اگر شتر مرغ یا گور خرو غیرہ مارا ہے تو اس پر ایک اونٹنی ہے اگر نہ ملے تو تیس مسکینوں کا کھانا ہے اگر نہ پائے تو تیس دن کے روزے ، ابن جریر کی اسی روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ طعام ایک ایک مد ہو جو ان کا پیٹ بھر دے ، دوسرے بہت سے تابعین نے بھی طعام کی مقدار بتلائی ہے ۔ سدی فرماتے ہیں یہ سب چیزیں ترتیب وار ہیں اور بزرگ فرماتے ہیں کہ تینوں باتوں میں اختیار ہے ، امام ابن جریر کا مختار قول بھی یہی ہے پھر فرمان ہے کہ یہ کفارہ ہم نے اس لئے واجب کیا ہے کہ وہ اپنے کرتوت کی سزا کو پہنچ جائے ، زمانہ جاہلیت میں جو کچھ کسی نے خطا کی ہے وہ اسلام کی اچھائی کی وجہ سے معاف ہے ، اب اسلام میں ان احکام کی موجودگی میں بھی پھر سے اگر کوئی شخص یہ گناہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لے گا ۔ گو اس میں حد نہیں امام وقت اس پر کوئی سزا نہیں دے سکتا یہ گناہ اللہ اور بندے کے درمیان ہے ہاں اسے فدیہ ضرور دینا پڑے گا یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فدیہ ہی انتقام ہے ۔ یہ یاد رہے کہ جب کبھی محرم حالت احرام میں شکار کو مارے گا اس پر بدلہ واجب ہو گا خواہ کئی دفعہ اس سے یہ حرکت ہو جائے اور خواہ عمداً ہو خواہ خطا ہو ایک دفعہ شکار کے بعد اگر دوبارہ شکار کیا تو اسے کہ دیا جائے کہ اللہ تجھ سے بدلہ لے ، ابن عباس سے ایک روایت یہ بھی مروی ہے کہ پہلی دفعہ کے شکار پر فدیہ کا حکم ہو گا دوبارہ کے شکار پر خود اللہ اس سے انتقام لے گا اس پر فیصلہ فدیہ کا نہ ہو گا لیکن امام ابن جریر کا مختار مذہب پہلا قول ہی ہے ، امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک شخص نے محرم ہو کر شکار کیا اس پر فدائے کا فیصلہ کیا گیا اس نے پھر شکار کیا تو آسمان سے آگ آ گئی اور اسے جلا کر بھسم کر دیا یہی معنی ہیں اللہ کے فرمان آیت ( فینتقم اللہ منہ ) کے ۔ اللہ اپنی سلطنت میں غالب ہے اسے کوئی مغلوب نہیں کر سکتا کوئی اسے انتقام سے روک نہیں سکتا اس کا عذاب جس پر آ جائے کوئی نہیں جو اسے ٹال دے ، مخلوق سب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے حکم اس کا سب پر نافذ ہے عزت اور غلبہ اسی کیلئے ہے ، وہ اپنے نافرمانوں سے زبر دست انتقام لیتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

94۔ 1 شکار عربوں کی معاش کا ایک اہم عنصر تھا، اس لئے حالت احرام میں اس کی ممانعت کر کے ان کا امتحان لیا گیا۔ خاص طور پر حدیبیہ میں قیام کے دوران کثرت سے شکار صحابہ کے قریب آتے، لیکن انہی ایام میں 4 آیات کا نزول ہوا جن کے متعلقہ احکام بیان فرمائے گئے۔ 94۔ 2 قریب کا شکار یا چھوٹے جانور عام طور پر ہاتھ ہی سے پکڑ لئے جاتے تھے دور کے یا بڑے جانوروں کے لئے تیر اور نیزے استعمال ہوتے تھے۔ اس لئے صرف ان دونوں کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن مراد یہ ہے کہ جس طرح بھی اور جس چیز سے بھی شکار کیا جائے، احرام کی حالت میں ممنوع ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٤١] یعنی محرم شکار کے لیے نہ کسی دوسرے کو کہہ سکتا ہے نہ شکار کی طرف یا شکار کرنے کے لیے کسی کو اشارہ کرسکتا ہے اور نہ ہی شکار میں کسی طرح کی مدد کرسکتا ہے۔ البتہ اگر کسی غیر محرم نے شکار کیا ہو تو اس میں سے کھا سکتا ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ خ محرم پر شکار کی پابندی :۔ ابو قتادہ کہتے ہیں کہ ہم جب حدیبیہ کے سفر پر روانہ ہوئے تو آپ کے تمام صحابہثنے احرام باندھا صرف میں نے نہیں باندھا تھا۔ میرے ساتھیوں نے راستہ میں ایک جنگلی گدھا دیکھا اور وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے۔ میں اپنی جوتی سینے میں مشغول تھا لیکن انہوں نے مجھے نہ بتایا اگرچہ وہ چاہتے تھے کہ میں اسے دیکھ لوں۔ اچانک میں نے نظر اٹھائی تو گدھے کو دیکھا۔ میں گھوڑے پر زین کس کر اس پر سوار ہوگیا اور (جلدی سے) کوڑا اور نیزہ لینا بھول گیا۔ میں نے انہیں کہا کہ مجھے کوڑا اور نیزہ اٹھا کر دے دو ۔ && انہوں نے کہا && اللہ کی قسم ! ہم اس کام میں تمہاری کچھ مدد نہ کریں گے۔ && مجھے غصہ آگیا۔ خیر میں نے اتر کر کوڑا اور نیزہ پکڑا اور پھر سوار ہوگیا۔ پھر میں اس گدھے پر حملہ آور ہوا اور نیزہ چبھو کر اسے روک دیا۔ میں نے پھر ان سے مدد طلب کی۔ انہوں نے پھر میری مدد کرنے سے انکار کردیا۔ الغرض ہم سب نے اس میں سے کھایا۔ پھر میں رسول اکرم سے جا ملا۔ میں نے کہا کہ ہم نے ایک جنگلی گدھے کا شکار کیا ہے۔ آپ نے صحابہ سے پوچھا && کیا تم میں سے کسی نے شکار کیا تھا یا حملہ کرنے کو کہا تھا یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا یا کسی قسم کی مدد کی تھی ؟ && صحابہ نے کہا && نہیں && پھر آپ نے صحابہ سے جو کہ احرام باندھے ہوئے تھے کہا && تم بھی اسے کھا سکتے ہو۔ && پھر پوچھا && کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ باقی ہے ؟ && میں نے دستی پیش کی جسے آپ نے کاٹ کر کھایا۔ (مسلم۔ کتاب الحج۔ باب تحریم الصید للمحرم) بخاری۔ ابو اب العمرۃ۔ باب اذا رای المحرمون صیداً فضحکوا۔۔ الخ) واضح رہے کہ جس طرح احرام باندھے ہوئے کو شکار کرنا حرام ہے اسی طرح حرم مکہ میں داخل ہونے والے پر بھی حرام ہے کیونکہ انتم حرم کا لفظ ان دونوں صورتوں کو شامل ہے۔ اور یہ آزمائش اس لحاظ سے تھی کہ حدیبیہ کے سفر میں راستہ میں شکار کی بڑی افراط تھی اور مسلمانوں کی خوراک کے لیے اس کی ضرورت بھی تھی حتیٰ کہ بعض جانور اور پرندے صحابہ کے خیموں اور ڈیروں میں گھس آتے تھے۔ تاہم مسلمان اس آزمائش میں پورے اترے جبکہ بنی اسرائیل کے سمندر کے کنارے بسنے والے ماہی گیر ایسے ہی امتحان میں بری طرح ناکام ہوئے اور مکر و فریب سے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی جس کی پاداش میں وہ بندر بنا دیئے گئے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ ۔۔ : اس سے پہلے آیت : ( لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ ) [ المائدۃ : ٨٧ ] میں حلال چیزوں کو حرام ٹھہرانے سے منع کیا تھا، اب اس آیت میں وہ حلال چیزیں ذکر کی ہیں جو کچھ وقت کے لیے بطور امتحان حرام فرمائی ہیں، یعنی احرام کی حالت میں خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا منع کردیا، تاکہ فرماں برداروں اور نافرمانوں کی آزمائش ہوجائے کہ بن دیکھے اللہ سے کون ڈرتا ہے۔ تَـنَالُهٗٓ اَيْدِيْكُمْ وَرِمَاحُكُمْ : یعنی چھوٹے جانور یا جانوروں کے بچے جنھیں تم ہاتھ سے پکڑ سکتے ہو، یا بڑے جانور جن کا تم نیزوں سے شکار کرسکتے ہو۔ فَمَنِ اعْتَدٰي بَعْدَ ذٰلِكَ ۔۔ : یعنی اب جبکہ احرام کی حالت میں خشکی کے جانوروں کا شکار منع کردیا گیا ہے۔ (قرطبی) یہ اور اگلی آیات اس وقت نازل ہوئیں جب مسلمان حدیبیہ میں احرام باندھے ہوئے تھے اور خلاف معمول چھوٹے بڑے جنگلی جانور ان کے خیموں میں گھس آئے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ان کے شکار سے منع فرما دیا۔ (ابن کثیر)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللہُ بِشَيْءٍ مِّنَ الصَّيْدِ تَـنَالُہٗٓ اَيْدِيْكُمْ وَرِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ اللہُ مَنْ يَّخَافُہٗ بِالْغَيْبِ۝ ٠ۚ فَمَنِ اعْتَدٰي بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۝ ٩٤ بلی يقال : بَلِيَ الثوب بِلًى وبَلَاءً ، أي : خلق، ومنه قيل لمن سافر : بلو سفر وبلي سفر، أي : أبلاه السفر، وبَلَوْتُهُ : اختبرته كأني أخلقته من کثرة اختباري له، وقرئ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ [يونس/ 30] ، أي : تعرف حقیقة ما عملت، ولذلک قيل : بلوت فلانا : إذا اختبرته، وسمّي الغم بلاءً من حيث إنه يبلي الجسم، قال تعالی: وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] ، وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ الآية [ البقرة/ 155] ، وقال عزّ وجل : إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] ، وسمي التکليف بلاء من أوجه : - أحدها : أن التکالیف کلها مشاق علی الأبدان، فصارت من هذا الوجه بلاء . - والثاني : أنّها اختبارات، ولهذا قال اللہ عزّ وجل : وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَا أَخْبارَكُمْ [ محمد/ 31] . - والثالث : أنّ اختبار اللہ تعالیٰ للعباد تارة بالمسار ليشکروا، وتارة بالمضار ليصبروا، فصارت المحنة والمنحة جمیعا بلاء، فالمحنة مقتضية للصبر، والمنحة مقتضية للشکر . والقیام بحقوق الصبر أيسر من القیام بحقوق الشکر فصارت المنحة أعظم البلاء ین، وبهذا النظر قال عمر : ( بلینا بالضراء فصبرنا وبلینا بالسراء فلم نشکر) «4» ، ولهذا قال أمير المؤمنین : من وسع عليه دنیاه فلم يعلم أنه قد مکر به فهو مخدوع عن عقله «1» . وقال تعالی: وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً [ الأنبیاء/ 35] ، وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلاءً حَسَناً [ الأنفال/ 17] ، وقوله عزّ وجل : وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] ، راجع إلى الأمرین، إلى المحنة التي في قوله عزّ وجل : يُذَبِّحُونَ أَبْناءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِساءَكُمْ [ البقرة/ 49] ، وإلى المنحة التي أنجاهم، وکذلک قوله تعالی: وَآتَيْناهُمْ مِنَ الْآياتِ ما فِيهِ بَلؤُا مُبِينٌ [ الدخان/ 33] ، راجع إلى الأمرین، كما وصف کتابه بقوله : قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدىً وَشِفاءٌ وَالَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ فِي آذانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى [ فصلت/ 44] . وإذا قيل : ابْتَلَى فلان کذا وأَبْلَاهُ فذلک يتضمن أمرین : أحدهما تعرّف حاله والوقوف علی ما يجهل من أمره، والثاني ظهور جو دته ورداء ته، وربما قصد به الأمران، وربما يقصد به أحدهما، فإذا قيل في اللہ تعالی: بلا کذا وأبلاه فلیس المراد منه إلا ظهور جو دته ورداء ته، دون التعرف لحاله، والوقوف علی ما يجهل من أمره إذ کان اللہ علّام الغیوب، وعلی هذا قوله عزّ وجل : وَإِذِ ابْتَلى إِبْراهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِماتٍ فَأَتَمَّهُنَّ [ البقرة/ 124] . ويقال : أَبْلَيْتُ فلانا يمينا : إذا عرضت عليه الیمین لتبلوه بها ( ب ل ی ) بلی الوقب ۔ بلی وبلاء کے معنی کپڑے کا بوسیدہ اور پرانا ہونے کے ہیں اسی سے بلاہ السفرہ ای ابلاہ ۔ کا تج اور ہ ہے ۔ یعنی سفر نے لا غر کردیا ہے اور بلو تہ کے معنی ہیں میں نے اسے آزمایا ۔ گویا کثرت آزمائش سے میں نے اسے کہنہ کردیا اور آیت کریمہ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ «3» [يونس/ 30] وہاں ہر شخص ( اپنے اعمال کی ) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا ۔ میں ایک قرآت نبلوا ( بصیغہ جمع متکلم ) بھی ہے اور معنی یہ ہیں کہ وہاں ہم ہر نفس کے اعمال کی حقیقت کو پہچان لیں گے اور اسی سے ابلیت فلان کے معنی کسی کا امتحان کرنا بھی آتے ہیں ۔ اور غم کو بلاء کہا جاتا ہے کیونکہ وہ جسم کو کھلا کر لاغر کردیتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی دسخت آزمائش تھی ۔ ۔ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ الآية [ البقرة/ 155] اور ہم کسی قدر خوف سے تمہاری آزمائش کریں گے ۔ إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی ۔ اور تکلف کو کئی وجوہ کی بناہ پر بلاء کہا گیا ہے ایک اسلئے کہ تکا لیف بدن پر شاق ہوتی ہیں اس لئے انہیں بلاء سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ دوم یہ کہ تکلیف بھی ایک طرح سے آزمائش ہوتی ہے ۔ جیسے فرمایا وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَا أَخْبارَكُمْ [ محمد/ 31] اور ہم تو لوگوں کو آزمائیں گے تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں ان کو معلوم کریں ۔ سوم اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کبھی تو بندوں کو خوش حالی سے آزماتے ہیں کہ شکر گزار بنتے ہیں یا نہیں اور کبھی تنگی کے ذریعہ امتحان فرماتے ہیں کہ ان کے صبر کو جانچیں ۔ لہذا مصیبت اور نعمت دونوں آزمائش ہیں محنت صبر کا تقاضا کرتی ہے اور منحتہ یعنی فضل وکرم شکر گزاری چاہتا ہے ۔ اور اس میں شک نہیں کہ کہا حقہ صبر کرنا کہا حقہ شکر گزاری سے زیادہ آسان ہوتا ہے اس لئے نعمت میں یہ نسبت مشقت کے بڑی آزمائش ہے اسی بنا پر حضرت عمر فرماتے ہیں کہ تکا لیف پر تو صابر رہے لیکن لیکن فراخ حالی میں صبر نہ کرسکے اور حضرت علی فرماتے ہیں کہ جس پر دنیا فراخ کی گئی اور اسے یہ معلوم نہ ہوا کہ آزامائش کی گرفت میں ہے تو و فریب خوردہ اور عقل وفکر سے مخزوم ہے قرآن میں ہے ۔ وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً [ الأنبیاء/ 35] اور ہم تم لوگوں کو سختی اور آسودگی میں آزمائش کے طور پر مبتلا کرتے ہیں ۔ وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلاءً حَسَناً «2» [ الأنفال/ 17] اس سے غرض یہ تھی کہ مومنوں کو اپنے ( احسانوں ) سے اچھی طرح آزما لے ۔ اور آیت کریمہ : وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] اور اس میں تمہاراے پروردگار کی طرف سے بڑی ( سخت ) آزمائش تھی میں بلاء کا لفظ نعمت و مشقت دونوں طرح کی آزمائش کو شامل ہی چناچہ آیت : يُذَبِّحُونَ أَبْناءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِساءَكُمْ [ البقرة/ 49]( تہمارے بیٹوں کو ) تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے ۔ میں مشقت کا بیان ہے اور فرعون سے نجات میں نعمت کا تذکرہ ہے اسی طرح آیت وَآتَيْناهُمْ مِنَ الْآياتِ ما فِيهِ بَلؤُا مُبِينٌ [ الدخان/ 33] اور ان کو نشانیاں دی تھیں جنیہں صریح آزمائش تھی میں دونوں قسم کی آزمائش مراد ہے جیسا کہ کتاب اللہ کے متعلق فرمایا ۔ قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدىً وَشِفاءٌ وَالَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ فِي آذانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى [ فصلت/ 44] ( کسی کا امتحان کرنا ) یہ دو امر کو متضمن ہوتا ہے ( 1) تو اس شخص کی حالت کو جانچنا اور اس سے پوری طرح باخبر ہونا مقصود ہوتا ہے دوسرے ( 2 ) اس کی اچھی یا بری حالت کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا ۔ پھر کبھی تو یہ دونوں معنی مراد ہوتے ہیں اور کبھی صرف ایک ہی معنی مقصود ہوتا ہے ۔ جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف تو صرف دوسرے معنی مراد ہوتے ہیں یعنی اس شخص لہ خوبی یا نقص کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے ۔ کیونکہ ذات ہے اسے کسی کی حالت سے باخبر ہونے کی ضرورت نہیں لہذا آیت کریمہ : وَإِذِ ابْتَلى إِبْراهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِماتٍ فَأَتَمَّهُنَّ [ البقرة/ 124] اور پروردگار نے چند باتوں میں ابراھیم کی آزمائش کی تو وہ ان میں پورے اترے ۔ دوسری معنی پر محمول ہوگی ( یعنی حضرت ابراھیم کے کمالات کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا مقصود تھا ) ابلیت فلانا یمینا کسی سے آزمائش قسم لینا ۔ صيد الصَّيْدُ : مصدرُ صَادَ ، وهو تناول ما يظفر بهممّا کان ممتنعا، وفي الشّرع : تناول الحیوانات الممتنعة ما لم يكن مملوکا، والمتناول منه ما کان حلالا، وقد يسمّى المَصِيدُ صَيْداً بقوله : أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ [ المائدة/ 96] ، أي : اصْطِيَادُ ما في البحر، وأما قوله : لا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ [ المائدة/ 95] ، وقوله : وَإِذا حَلَلْتُمْ فَاصْطادُوا[ المائدة/ 2] ، وقوله : غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ [ المائدة/ 1] ، فإنّ الصَّيْدَ في هذه المواضع مختصّ بما يؤكل لحمه فيما قال بدلالة ما روي : «خمسة يقتلهنّ المحرم في الحلّ والحرم : الحيّة والعقرب والفأرة والذّئب والکلب العقور» ( ص ی د ) الصید ( ض ) یہ صاد کا مصدر اور اس کے اصل معنی تو کسیمحفوظ چیز پر قدرت حاصل کر کے اسے پکڑا لینے کے ہیں مگر شرعا ان حیوانات کے پکڑنے پر بولا جاتا ہے جو اپنی حفاطت آپ کریں بشرطیکہ وہ جانور حلال ہوں اور کسی کی ملکیت نہ ہوں اور کبھی مصید یعنی شکار کئے ہوئے جانور کو بھی صید کہہ دیتے ہیں چناچہ آیت : ۔ أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ [ المائدة/ 96] کے معنی ہیں کہ ( احرام کی حالت میں ) تمہارے لئے سمندری جانوروں کا شکار حلال ہے اور آیت کریمہ : ۔/ لا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ [ المائدة/ 95] جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا ۔ وَإِذا حَلَلْتُمْ فَاصْطادُوا[ المائدة/ 2] اور جب احرام اتاردو ۔ تو ( پھر اختیار ہے کہ ) شکار کرو ۔ غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ [ المائدة/ 1] مگر احرام ( حج ) میں شکار کو حلال نہ جاننا ہیں فقہاء نے تصریح کی ہے کہ یہاں الصید سے وہ جانور مراد ہیں جنکا گوشت کھایا جاتا ہے کیونکہ حدیث میں خمسۃ یقتلھن المحرام فی الحل والحرام الحیۃ والعقرب والفارۃ والذئب والکلب والعقور) پانچ جانور یعنی سانپ ، بچھو، چوہیا، بھٹیریا اور کاٹ کھانیوالے کتے یعنی درند ہ جانور کو محرم حرم کی حدود کے اندر اور باہر ہر جگہ قتل کرسکتا ہے ۔ نيل النَّيْلُ : ما يناله الإنسان بيده، نِلْتُهُ أَنَالُهُ نَيْلًا . قال تعالی: لَنْ تَنالُوا الْبِرَّ [ آل عمران/ 92] ، وَلا يَنالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلًا [ التوبة/ 120] ، لَمْ يَنالُوا خَيْراً [ الأحزاب/ 25] والنَّوْلُ : التّناول . يقال : نِلْتُ كذا أَنُولُ نَوْلًا، وأَنَلْتُهُ : أولیته، وذلک مثل : عطوت کذا : تناولت، وأعطیته : أنلته . ونِلْتُ : أصله نَوِلْتُ علی فعلت، ثم نقل إلى فلت . ويقال : ما کان نَوْلُكَ أن تفعل کذا . أي : ما فيه نَوَال صلاحک، قال الشاعر : جزعت ولیس ذلک بالنّوال قيل : معناه بصواب . وحقیقة النّوال : ما يناله الإنسان من الصلة، وتحقیقه ليس ذلک مما تنال منه مرادا، وقال تعالی: لَنْ يَنالَ اللَّهَ لُحُومُها وَلا دِماؤُها وَلكِنْ يَنالُهُ التَّقْوى مِنْكُمْ [ الحج/ 37] . ( ن ی ل ) النیل ۔ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جسے انسان اپنے ہاتھ سے پکڑلیتا ہے ۔ اور یہ نلتہ الالہ نیلا کا مصدر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَنْ تَنالُوا الْبِرَّ [ آل عمران/ 92] تم کبھی نیکی حاصل نہیں کرسکو گے ۔ وَلا يَنالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلًا [ التوبة/ 120] یا دشمنوں سے کوئی چیز لیتے ۔ لَمْ يَنالُوا خَيْراً [ الأحزاب/ 25] کچھ بھلائی حاصل نہ کرسکے ۔ يد الْيَدُ : الجارحة، أصله : وقوله : فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] ، ( ی د ی ) الید کے اصل معنی تو ہاتھ کے ہیں یہ اصل میں یدی ( ناقص یائی ) ہے کیونکہ اس کی جمع اید ویدی اور تثنیہ یدیان اور آیت کریمہ : ۔ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دئے ۔ رمح قال تعالی: تَنالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِماحُكُمْ [ المائدة/ 94] ، وقد رَمَحَهُ أصابه به، ورَمَحَتْهُ الدّابة تشبيها بذلک، والسّماک الرَّامِحُ سمّي به لتصوّر كوكب يقدمه بصورة رُمْحٍ له . وقیل : أخذت الإبل رِمَاحَهَا : إذا امتنعت عن نحرها بحسنها، وأخذت البهمى رُمْحَهَا : إذا امتنعت بشوکها عن راعيها . ( ر م ح ) الرمح کے معنی نیزہ کے ہیں اس کی جمع رماح آتی ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ تَنالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِماحُكُمْ [ المائدة/ 94] جہانتک تمہارے ہاتھ اور نیزے سے مارنے پہنچ سکیں ۔ اور رمحہ کے معنی کسی کو نیزہ سے مارنے کے ہیں اور رمحتہ الدابۃ کے معنی جانور کے دولتی جھاڑنے کے ہیں السماک الرامح ایک ستارے کا نام ہے کیونکہ اس کے پیش پیش ایک دم دار ستارہ ہوتا ہے جو دیکھنے میں نیزے جیسا معلوم ہوتا ہے مثل مشہور ہے اخذت الابل رماحھا اونٹوں نے اپنے نیزے سنبھال لئے یعنی شیر دار یا موٹا ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو ذبح سے بچا لیا ۔ اخذت البھمیٰ رمحھا : گھاس خار دار ہوگئی کیونکہ وہ بھی خادر ہونے کی وجہ سے چرواہوں سے محفوظ ہوجاتی ہے خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ غيب الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] ( غ ی ب ) الغیب ( ض ) غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے پودشیدہ ہو اس پر غیب کا لفظ بولا جاتا ہے عدا والاعْتِدَاءُ : مجاوزة الحقّ. قال تعالی: وَلا تُمْسِكُوهُنَّ ضِراراً لِتَعْتَدُوا[ البقرة/ 231] ، وقال : وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ [ النساء/ 14] ، ( ع د و ) العدو الاعتداء کے معنی حق سے تجاوز کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَلا تُمْسِكُوهُنَّ ضِراراً لِتَعْتَدُوا[ البقرة/ 231] اور اس نیت سے ان کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہیئے کہ انہیں تکلیف دو اور ان پر زیادتی کرو ۔ ألم الأَلَمُ الوجع الشدید، يقال : أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قال تعالی: فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَما تَأْلَمُونَ [ النساء/ 104] ، وقد آلمت فلانا، و عذاب أليم، أي : مؤلم . وقوله : لَمْ يَأْتِكُمْ [ الأنعام/ 130] فهو ألف الاستفهام، وقد دخل علی «لم» . ( ا ل م ) الالم کے معنی سخت درد کے ہیں کہا جاتا ہے الم یالم ( س) أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قرآن میں ہے :۔ { فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ } ( سورة النساء 104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں ۔ اٰلمت فلانا میں نے فلاں کو سخت تکلیف پہنچائی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة البقرة 10 - 174) میں الیم بمعنی مؤلم ہے یعنی دردناک ۔ دکھ دینے والا ۔ اور آیت :۔ اَلَم یَاتِکُم (64 ۔ 5) کیا تم کو ۔۔ نہیں پہنچی ۔ میں الف استفہام کا ہے جو لم پر داخل ہوا ہے ( یعنی اس مادہ سے نہیں ہے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

احرام والے انسان کے لئے شکار کا حکم قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لیبلونکم اللہ بشیء من الصید تنالہ ایدیکم ورما حکم۔ اے ایمان والو ! اللہ تمہیں اس شکار کے ذریعے سے سخت آزمائش میں ڈالے گا جو بالکل تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہوگا۔ ) ایک قول ہے کہ اس جگہ حرف ” من “ تبعیض کے لئے ہے بایں طور کہ شکار سے مراد خشکی کا شکار ہو سمندر کا شکار نہ ہو، احرام کی حالت کا شکار ہو۔ احلال، یعی احرام نہ ہونے کی حالت کا شکار نہ ہو۔ ایک قول ہے کہ من تمیز کے طور پر واقع ہے جس طرح یہ قول باری ہے (فاجتنبوا الرجس من الاوثان نجاست یعنی بتوں سے بچو) یا جس طرح کوئی کہے ” باب من حدید یا ” ثوب من قطن “ (دروازہ یعنی لوہے کا یا کپڑا یعنی سوتی) یہ بھی جائز ہے کہ اس سے شکار کے اجزا مراد لئے جائیں اگرچہ یہ شکار کے تحت نہ آتے ہوں مثلاً انڈے، چوزے وغیرہ اس لئے کہ انڈے شکار کا جز ہوتے ہیں۔ اسی طرح چوزے اور پر نیز شکار کے دوسرے تمام اجزا بھی شکار کا جز ہوتے ہیں۔ اس صورت میں آیت ان تمام معانی کو شامل ہوگی اور بعض احوال میں بعض شکار کی حرمت ہوگی، وہ ہے احرام کی حالت میں خشکی کا شکار۔ آیت اس حکم کا بھی افادہ کرتی ہے کہ جو چیزیں شکار کا جز ہیں اور شکار سے ہی ان کی نمو ہوئی ہے وہ بھی حرام ہیں مثلاً انڈے، چوزے، گوبر وغیرہ ، قول باری (تنالہ ایدیکم) کی تفسیر میں حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ اس سے مراد پرندوں کے چوزے اور چھوٹے چھوٹے جنگلی جانور ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد انڈے اور چوزے ہیں۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک بدو پانچ انڈے لے کر آیا اور کہنے لگا کہ ” ہم حالت احرام میں ہیں۔ ہم یہ کھا نہیں سکتے آپ لے لیں۔ “ لیکن آپ نے انہیں قبول نہیں کیا۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے، انہوں نے حضرت کعب بن عجرہ سے روایت کی ہے کہ حضو ر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شتر مرغ کے انڈوں کے بارے میں جو ایک احرام والے شخص نے اٹھا لئے تھے ان کی قیمت ادا کرنے کا فیصلہ صادر فرمایا تھا ۔ حضرت عمر، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت ابن عباس اور حضرت ابو موسیٰ سے شتر مرغ کے انڈوں کے متعلق جو محرم شخص اٹھا لے یہ مروی ہے کہ اس شخص پر ان انڈوں کی قیمت لازم ہوگی۔ اس بارے میں اہل علم کے درمیان ہمیں کسی اختلاف کا علم نہیں ہے۔ قول باری (ورما حکم) کی تفسیر میں حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد ڑے شکار ہیں۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٤) حدیبیہ کے سال احرام کی حالت میں شکار کی ممانعت کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ یعنی حدیبیہ کے سال خشکی کے وحشی شکاروں کے بارے میں تمہارا امتحان لیں گے جب کہ ان کے انڈوں اور بچوں تک تمہارے ہاتھ اور نیزے پہنچے رہے ہوں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ظاہری طور پر بھی دیکھ لیں کے حالت احرام میں کون شکار سے باز رہتا ہے۔ سو جو اس کی حرمت اور اس کی جزاء کے بیان ہوجانے کے بعد بھی حدود شرعیہ سے نکلے گا تو اس کی پشت اور پیٹ پر سخت سزا قائم کی جائے گی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اس سورة مبارکہ کے شروع میں حالت احرام میں شکار کرنے کی ممانعت آچکی ہے۔ اب اللہ کی اس سنت کا ذکر ہے کہ اللہ اپنے ماننے والوں کو آزماتا ہے ‘ سخت ترین امتحان لیتا ہے۔ فرض کیجیے کہ حاجیوں کا ایک قافلہ جا رہا ہے ‘ سب نے احرام باندھا ہوا ہے ‘ اتفاق سے ان کے پاس کھانے کو بھی کچھ نہیں۔ اب ایک ہرن اٹھکیلیاں کرتے ہوئے قریب آ رہا ہے ‘ بھوک بھی ستا رہی ہے ‘ ضرورت بھی ہے ‘ چاہیں تو ذرا سا نیزہ ماریں اور شکار کرلیں یا ویسے ہی بھاگ کر پکڑ لیں ‘ لیکن پکڑ نہیں سکتے ‘ شکار نہیں کرسکتے ‘ کیونکہ احرام میں ہیں اور اس حالت میں اجازت نہیں ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس طرح آزماتا ہے ۔ آیت ٩٤ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّکُمُ اللّٰہُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ ) (تَنَالُہٗٓ اَیْدِیْکُمْ وَرِمَاحُکُمْ ) ( لِیَعْلَمَ اللّٰہُ مَنْ یَّخَافُہٗ بالْغَیْب ِج ) شکار پہنچ میں بھی ہے ‘ ان کے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہے ‘ ضرورت بھی ہے ‘ چاہیں تو شکار کرلیں ‘ لیکن مجبور ہیں ‘ کیونکہ احرام باندھا ہوا ہے۔ تو جس کے دل میں ایمان ہوگا وہ اپنی بھوک کو برداشت کرے گا ‘ اللہ کے حکم کو نہیں توڑے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

65: جیسا کے اگلی آیت میں آرہا ہے جب کوئی شخص حج یا عمرے کا احرام باندھ لے تو اس کے لئے خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا حرام ہوجاتا ہے، عرب کے صحراؤں میں شکار کا مل جانا مسافروں کے لئے ایک نعمت تھی، اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ احرام باندھنے والوں کی آزمائش کے لئے اللہ تعالیٰ کچھ جانوروں کو ان کے اتنا قریب بھیج دے گا کہ وہ ان کے نیزوں کی زد میں ہوں گے، اس طرح ان کا امتحان لیاجائے گا کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اس نعمت سے پرہیز کرتے ہیں ؟ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے ایمان کا اصل امتحان اسی وقت ہوتا ہے جب اس کا دل کسی ناجائز کام کے لئے مچل رہا ہو، اور وہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس ناجائز کام سے باز آجائے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(94 ۔ 95) ۔ مقاتل بن حیان نے کہا کہ عمرہ حدیبیہ کے سال احرام کی حالت میں صحابہ کرام (رض) جا رہے تھے اس وقت یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے مقاتل بن حیان اور مقاتل بن سلیمان دو مقاتل ہیں جن علماء نے مقاتل بن حیان کو ضعیف کہا ہے انہوں نے مقاتل بن سلیمان کے شبہ میں کہا ہے ورنہ یحییٰ بن معین ابو داؤد اور بہت سے علماء نے مقاتل بن حیان کی توثیق کی ہے یہ مقاتل بن حیان صحیح مسلم کے راویوں میں ہیں۔ سفر حدیبیہ کے وقت شان نزول اس آیت کی خازن وغیرہ میں ہے ٤ ؎۔ حاصل اس شان نزول کی روایت کا یہ ہے کہ اس عمرہ کے سفر میں خلاف عادت امتحان کے طور پر ان صاحب احرام صحابلہ کو بہت سے جنگلی جانور نظر آئے تاکہ معلوم ہوجاوے کہ ان جانوروں کے نظر آنے کے وقت آنکھوں سے بن دیکھے عذاب الٰہی سے ڈر کر کون شکار کے مناہی کے حکم کی پابندی کرتا ہے اور کون اس کی پابندی نہیں کرتا ” کچھ ایک شکار “ اس کا مطلب یہ ہے کہ فقط جنگلی جانوروں کا شکار دریائی جانوروں کا سا نہیں چھوٹے جانور ہاتھ سے پکڑے جاسکتے ہیں اس لئے نیزے کے ساتھ ہاتھ کا بھی ذکر فرمایا اگرچہ احرام کی حالت میں ہر طرح کے ہتھیار سے شکار منع ہے لیکن عرب کے لوگ نیزے سے اکثر شکار کھیلا کرتے تھے اس واسطے خاص طور پر نیزے کا ذکر فرمایا اللہ تعالیٰ کی جانچ پڑتال کا ذکر جہاں کہیں قرآن شریف میں آتا ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ اپنے علم ازلی میں اللہ تعالیٰ نے ہر ایک چیز کو جس طرح جانا اور جانچا ہے سزا و جزا کے لئے دنیا میں اس کا ظہور بھی اسی طرح ہوجاوے ورنہ ازل سے ابد تک اللہ تعالیٰ کے علم اور جانچ سے کوئی چیز باہر کسی وقت نہیں ہے اب آگے فرمایا کہ اس شکار کی ممانعت کے حکم کے بعد جو کوئی اس کی پابندی نہ کرے گا اس کو عقبیٰ میں سخت عذاب بھگتنا پڑے گا صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابو قتادہ (رض) کی حدیث ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ابو قتادہ کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ کے سفر سے پہلے کسی جگہ کچھ کام کو بھیجا تھا جہاں سے وہ بغیر احرام باندھنے کے آئے اور حدیبیہ کے لشکر میں آ کر اترے اتنے میں ان کو ایک گورخر جنگل میں نظر آیا جس کو دیکھ کر جلدی سے اپنے گھوڑے پر سوار ہوگئے اور اپنا نیزہ اور کوڑا لینا بھول گئے اس کے انہوں نے چند دفعہ اپنے جان پہچان صحابہ سے نیز اور کوڑا پکڑا دینے کو کہا لیکن احرام کے لحاظ سے ان صحابہ نے ابو قتادہ (رض) کی مدد سے صاف انکار کردیا ١ ؎۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں جو جانچ تھی اس میں صحابہ کرام اس قدر ثابت قدم رہے کہ خود شکار کھیلنا تو درکنار دوسرے شکاری کی مدد کی بھی انہوں نے جرأت نہ کی شروع سورة کی آیت غیر محلی الصید و انتم حرم کے موافق اگرچہ آئندہ کی آیت کے نازل ہونے سے پہلے احرام کی حالت میں شکار منع تھا لیکن وہاں شروع سورة کی آیت میں یہ تفصیل نہ تھی کہ اگر حالت احرام میں کوئی شخص شکار کھیل بیٹھے تو تو اس کا کیا حکم ہے اس واسطے آئندہ کی آیت میں تاکید کے طور پر شکار کی مناہی کو دوبارہ ذکر فرما کر حالت احرام میں جو شخص شکار کھیل بیٹھے اس کا حکم بیان فرمایا اس حکم کا حاصل یہ ہے کہ احرام کی حالت میں اول تو شکار کی مناہی ہے اس پر بھی احرام کی حالت کو یاد رکھ کر کوئی شخص شکار کھیل بیٹھے تو اس کی سزا یہ ہے کہ جس قسم کے جنگلی جانور کا شکار کیا ہے اسی قسم کے شہر چوپالوں میں سے ایک جانور خرید کر حرم میں اس کی قربانی کرے مشابہت کے لحاظ سے جنگلی اور شہری جانوروں کی قسم دو منصف پنچ ٹھہرا دینگے یہ اس وقت کا حکم تھا اب خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا صحابہ نے پنچ بن کر جو قسم داری ٹھہرا دی ہے تو اس کے موافق عمل ہوگا۔ مثلاً ہرن کی مشابہت بکری سے ٹھہر چکی ہے تو اب اس میں جدید پنچ ٹھہرانے کی ضرورت نہیں ہے ہاں جہاں ایسا نہ ہو وہاں جدید دو پنچ قرار دینے چاہئیں یہ قسم داری جب ٹھہر جاوے تو اکثر سلف کا یہی قول ہے کہ شکاری کو اختیار ہے کہ خواہ ان داموں کا کوئی قربانی کا جانور خرید کر کے حرم میں اس کی قربانی کرے یا ان داموں میں جس قدر محتاج پیٹ بھر کر کھانا کھا سکتے ہوں ان کو کھانا کھلا دیوے یا ہر مسکین کے کھانے کے معاوضے میں ایک روزہ قرار دیکر مسکینوں کی تعداد کے موافق روزے رکھ لیوے یہ جنگلی اور شہری جانوروں کی مشابہت اکثر سلف کے نزدیک پیدائشی صورت و سیرت میں دیکھی جاوے گی جس طرح مثلاً ہرن پیدائشی صورت و سرات میں بکری سے مشابہ ہے جہاں یہ بات ممکن نہ ہو تو پھر قیمت کے اندازے سے کام لیاجاوے گا۔ اس مسئلہ میں سلف کا جو کچھ اختلاف ہے اس کی تفصیل بڑی کتابوں میں ہے ١ ؎۔ آگے فرمایا احرام کی حالت میں شکار کھیلنے والے شخص کی یہ سزا اس لئے قرار دی گئی ہے کہ وہ اپنے کئے کا خمیازہ بھگت لیوے اور پھر ایسا کام نہ کرے ہاں اس مناہی کے حکم سے پہلے جو کچھ ہوچکا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل معافی ہے لیکن حکم مناہی کے بعد بھی ایسا کرے گا اور کر کے اس سے توبہ نہ کرے گا تو دنیوی سزا کے علاوہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے اور بھی بدلہ لیوے گا اور اللہ تعالیٰ بدلہ لینے میں زبردست ہے کہ اس کے بدلہ لینے کو کوئی روک نہیں سکتا۔ ترجمہ میں انتقام کا ترجمہ بیر جو کیا ہے اس کا مطلب بدلہ لینے کا ہے۔ معتبر سند کی سہل بن سعد (رض) کی حدیث مسند امام احمد کے حوالہ سے ایک جگہ گزرچکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ایک چھوٹا گناہ مثل ایک سوکھی لکڑی کے ہے اور بہت سے چھوٹے چھوٹے گناہ مثل لکڑیوں کے ڈھیر میں آگ لگ جانے کا خوف ہے ٢ ؎۔ اس مضمون کی نسائی میں عبد اللہ بن مسعود (رض) کی اور ابن ماجہ میں حضرت عائشہ (رض) کی بھی روایتیں ہیں۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت کو ابن حبان نے صحیح کہا ہے ٣ ؎۔ یہ حدیثیں آیت ومن عاد فینتقم اللہ منہ کی گویا تفسیر ہیں۔ آیت اور ان حدیثوں کو ملانے سے یہ مطلب پیدا ہوا کہ بےپروائی سے جو شخص گھڑی گھڑی حالت احرام میں شکار کھیلتا رہے گا اس کو عقبیٰ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے۔ ابو قتادہ (رض) کی حدیث جو اوپر گذری مسلم کی روایت میں یہ لفظ اس میں زیادہ ہیں کہ جب صحابہ (رض) نے اس ابو قتادہ (رض) کے بھیجے ہوئے گوشت کے کھانے کی اجازت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے چاہی تو آپ نے اجازت دینے سے پہلے احرام والے صحابہ (رض) سے یہ بات دریافت کی کہ تم لوگوں نے شکار کے وقت شکار کے بتلانے کی یا کسی اور طرح کی مدد تو ابو قتادہ (رض) کو نہیں دی۔ اب جواب کے بعد آپ نے ان احرام والے صحابہ کو شکار کے گوشت کے کھانے کی اجازت دی اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح احرام کی حالت میں شکار کا کھیلنا منع ہے اسی طرح شکاری کی ہر طرح کی مدد بھی منع ہے۔ احرام والے شخص کی خاطر سے غیر احرام والا کوئی شخص شکار مار لے تو وہ گوشت بھی احرام والے شخص کو منع ہے چناچہ معتبر سند سے مسند امام احمد اور ابن ماجہ میں ابو قتادہ (رض) کی جو روایتیں ہیں ان میں اس کا ذکر ہے

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(5:94) لیبلونکم۔ مضارع واحد مذکر غائب ۔ مضارع بلام تاکید و نون ثقلیہ ۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو ضرور آزمائے گا۔ وہ تمہاری ضرور جانچ کرلیگا۔ بلائ۔ سے (باب نصر) مادہ بلی۔ رماحکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے نیزے۔ تنالہ۔ اس کو پاتی ہے۔ اس تک پہنچتی ہے۔ نیل سے (باب فتح) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 آیت لا تحر موا سے بطور استثنا محرمات کا بیان ہو رہا ہے پہلے شراب اور جوئے کی حرمت بیان فرمائی اب اس آیت میں شکار کی حرمت کا بیان ہے (کبیر) جن کو تم اپنے ہاتھوں اور برچھو سے پکڑ سکتے ہو۔ یعنی چھوٹے بچوں کو ہاتھ سے پکڑ سکتے ہو اور بڑے جانوروں کو بر چھا مار کر ،۔ ( ابن کثیر ) 1 یعنی اب جب کہ احرام کی حالت میں خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا منع کردیا گیا ہے۔ (قرطبی)2 یہ اور اگلی آیات اس وقت نازل ہوئیں جب مسلمان حدیبیہ میں احرام باندھے ہوئے تھے اور خلاف معمول چھوٹے بڑے جنگلی جانور ان گھروں میں گھس آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ان کے شکار سے منع فرمایا ،۔ (ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 13 ۔ آیات 94 تا 100 ۔ اسرار و معارف : در اصل حرام اور حلال مقرر کرنے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ کریم کو اس کا اختیار ہے وہ چاہے جس چیز سے منع کردے یہ اس کی شوکت کا اظہار بھی ہے مگر اس نے امت مرحومہ پر صرف وہ چیزیں حرام کردی ہیں جو یا تو جسمانی لا ظ سے نقصان دہ تھیں یا روحانی اعتبار سے یا پھر دونوں طرح سے بیک وقت نقصان دہ تھیں ورنہ پہلی امتوں پر ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے اچھی اور حلال چیزیں بھی بطور سزا حرام کی جاتی رہیں یہاں بھی حرمت کا ایک پہلو ایسا ہے جس میں مسلمانوں پر اچھی اور مفید چیز بھی حرام کردی جاتی ہے مگر عذاب یا سزا کے طور پر نہیں کی جاتی۔ اور نہ لمبے عرصے کے لیے کی جاتی ہے مثلاً روزے میں کھانا پینا اور بعض دوسری جسمانی ضروریات جائز طریقے سے پوری کرنے سے روک دیا تو ایک مقررہ وقت یعنی طلوع فجر سے غروب آفتاب تک تھا۔ اور ایک مقررہ مہینہ ماہ رمضان کا ہمیشہ کے لیے نہیں اب اس میں کئی روشن پہلو ہیں عظمت باری عز اسمہ کا اظہار بھی ہے کہ حقیقی مالک وہی ہے ہم تو بندے ہیں جو حکم ہوگا تعمیل کریں گے دوسرے اس کے طفیل انسان پر رحمت اور بخشش کی بارش برستی ہے اور تیسرے کہ اس کی روحانی تربیت ہو رہی ہے اور روحانی قوت درجہ کمال کو پاسکتی ہے اور بھی کتنی برکتیں شمار کی جاسکتی ہیں جو قرآن میں حدیث شریف میں موجود ہیں اور ایسی بھی ہوں گی جن تک ہماری نگاہ نہیں پہنچتی یہی حال حالت احرام میں شکار کا ہے عرب صحرائی ملک ہے شکار ملتا بھی بہت تھا اور صحابہ (رض) شکار کے عادی بھی تھے اللہ کریم نے حد حرم میں ہمیشہ کے لیے اور حالت احرام میں تھا۔ تو اس پر جزا واجب ہوگی۔ اور وہ اسی جانور کے مثل ہوگی اب اس کی مثل کیا ہے کفارہ میں اس کی تعیین وہاں کے دو عادل آدمی جو نیک بھی ہوں اور بات سمجھنے کی اہلیت بھی رکھتے ہوں اور اسی علاقہ سے ہوں کہ وہاں کے ماحول کے مطابق جانوروں کی قیمتوں وغیرہ سے واقف ہوں وہ مقرر کریں گے کہ اس کا کفارہ بھیڑ ہے بکری یا دس بکریاں یا اونٹ وغیرہ۔ فقہاء کے مطابق ایک آدمی بھی کردے تو جائز ہوگا مگر شرط یہ ہے کہ آدمی نیک بھی ہو اور معاملہ فہم بھی یہی وجہ ہے کہ مشائخ صرف نیکی پہ صاحب مجاز مقرر نہیں کرتے بلکہ نیک ہونے کے ساتھ معاملہ فہمی بھی شرط ہے نیز اگر ارادتاً نہیں مارا غلطی سے جانور شکار ہوگیا نشانہ دیکھنے کو تیر چھوڑا تھا جانور کو لگ گیا یا فائر کیا تھا جانور مر گیا تو ویسا ہی کفارہ واجب وہ گا اور وہ کفارے میں ذبح کیا جانے والا جانور حرم تک پہنچایا جائے حرم کے اندر ذبح کیا جائے گا۔ یا پھر اسی اندازے کے مطابق مساکین کو کھانا کھلا دے اگر یہ بھی نہ کرسکے تو اسی اندازے کے مطابق روزے رکھے یہ مساکین کا کھلانا اور روزے حرم کی حد سے مشروط نہیں ہیں۔ سزا کا فلسفہ : یہ اس ک کام کی سزا ہے کہ اسے احساس جرم ہوجائے اور ندامت ہو اسلام میں جرم پر سزا محض مجرم کو تکلیف دینے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ اسے جرم کی قباحت کا احساس دلانا مقصود ہوتا ہے تاکہ آئندہ جرم سے رک جائے اور ہاں اس سے پہلے جو گذر چکی وہ گذر چکی اس پر اللہ کریم گرفت نہیں فرماتے بلکہ معاف فرما دیا ہے اور اگر کوئی بار بار ہی جرم کرے گا تو بار بار کفارہ تو دے گا ہی مگر اسے غضب الہی سے بےفکر نہیں ہونا چاہئے کہ اس کی گرفت بھی بہت سخت ہے۔ اور ہوسکتا ہے مسلسل برائی کو روکنے کے لیے وہ خود بدلہ لے اور بدلہ لینے میں وہ غالب اور طاقتور بھی ہے اور اس کی گرفت بہت سخت ہے۔ ہاں ! پانی کا شکار اس کا پکڑنا کھانا حالت احرام میں بھی اس کی اجازت ہے یہ مسافروں کے لیے اللہ کریم کی طرف سے خصوصی تحفہ ہے جو سمندر میں سفر کرکے حرم کی طرف جا رہے ہیں انہیں کھانے پینے میں تنگی کا سامنا نہ ہو اور جب تک حالت احرام میں ہو۔ خشکی پر شکار کی اجازت نہیں کہ وہاں کھانے کا متبادل انتظام ہوسکتا ہے ہاں جب احرام کھول دو تو حد حرم سے باہر جب چاہو شکار کرو اور اکثر صحابہ شکار کرتے تھے بلکہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ہوتی کہ فلاں خادم نے شکار کیا ہے تو وہ فرماتے بھئی میرا حصہ بھی رکھنا۔ اور اللہ کریم سے قلبی تعلق برقرار رکھو اور اس کے ٹوٹ جانے سے ڈرتے رہا کرو کہ وہ بےنیاز ہے اور تم محتاج ہو اور کتنی عجیب بات ہے کہ محتاج گستاخی کرے۔ اور جسے حاجت نہ ہو وہ درگذر فرمائے اور یہ بھی یاد رہے کہ سب کو لوٹ کر بھی تو اسی کے حضور جانا ہے۔ بیت اللہ شریف : اللہ کریم نے کعبہ کو بزرگی اور عظمت والا گھر بنایا ہے اور یہ لوگوں کی بقاء کا باعث ہے۔ قیاما للناس۔ اولاد آدم (علیہ السلام) یا انسانیت کی بقاء کا انحصار اس کی عظمت اور توقیر سے وابستہ کردیا گیا ہے اگر اس کی عظمت نہ رہے گی تو لوگوں کا باقی رہنا ممکن نہ ہوگا یعنی پھر یہ دنیا ہی نہ رہ سکے گی۔ اور حدیث شریف میں تفصیل ملتی ہے کہ ٹیڑھی ٹانگوں والا یہودی مکہ فتح کرکے بیت اللہ شریف گرا دے گا۔ اور اس کا حج ختم کردے گا جس کے بعد قیامت قائم ہوگی۔ اور اب یہود نے یہ کوشش پچھلے چند سالوں سے شروع کردی ہے ایک سال بارود بھیجا جو پکڑا گیا اس کام کیلئے آلہ کار ان کا غلام ایران کا رافضی ہے۔ پھر جلوس وغیرہ اور بد امنی پھیلانے کی سازش کی اور حج کو جو افضل العبادات کا درجہ رکھتا ہے۔ ایک سیاسی کھیل میں تبدیل کرنا چاہا۔ جب سوائے اس ایک نامراد یہودی فرقہ کے دنیا کا کوئی مسلمان اس طرف راغب نہ ہوا تو پچھلے برس بیت اللہ شریف پر قبضہ کرنے کا ناکام منصوبہ بنایا۔ اللہ انہیں آئندہ بھی نامراد ہی رکھے تو کعبۃ اللہ ، اللہ کریم کی ذاتی تجلیات کا مرکز اور مہبط ہے اور پھر اہل مکہ یا قریش کو اس کے طفیل جو عزت نصیب ہے ۔ یا حاجیوں اور زائرین کی وجہ سے انہیں رزق کے حاصل کرنے میں جو آسانی ہے وہ ہے ہی۔ یہ صرف اہل مکہ اور قریش کی بات نہیں بلکہ روئے زمین کی انسانیت اور انسانی معاشرے کی بقاء اور زندگی کا مدار بیت اللہ کی بقاء سے وابستہ ہے اب اس کی کیفیت کیا ہے یا کس طرح سے اس کا جاننا ضروری ہوتا تو اللہ کریم یہ بھی ضرور ارشاد فرما دیتے۔ اب لوہے اور مقناطیس میں کیا رشتہ ہے۔ نظر نہیں آتا مگر لوہا کھینچتا چلا جاتا ہے اس کا مشاہدہ ہم کرتے ہیں اسی طرح دنیا اور عالم کی بقاء کا اور بیت اللہ شریف کا رشتہ ہے ایسے ان اہل اللہ کا جن کو مناصب عطا ہوتے ہیں حالات دنیا سے رشتہ ہوتا ہے جس پر صوفیاء کا اتفاق ہے کہ کارگہ حیات چار حصوں میں یا چار شعبوں میں بٹ کر ان چار وجودوں سے منسلک کردی جاتی ہے جو چار قطب کہلاتے ہیں ان کا مرکز یا حاکم غوث ہوتا ہے اور اس پایہ کا ولی اللہ اپنے زمانے میں روئے زمین پہ ایک ہوتا ہے بہت کم اس سے اوپر منصب دیا جاتا ہے اگر دیا جائے۔ تو غوث ترقی کرکے قیوم بنتا ہے قیوم فرد بنتا ہے فرد قطب وحدت اور قطب وحدت ترقی کرکے صدیق بنتا ہے۔ جو صدیوں میں کبھی ایک آدھ دنیا پہ آتا ہے جیسے حضرت مریم کے حق میں قرآن نے گواہی دی کہ آپ صدیقہ تھیں اور مناصب کے اعتبار سے حالات عالم ان حضرات کے وجود سے وابستہ ہوتے ہیں لیکن اس میں عجیب بات یہ ہوتی ہے کہ یہ سب کرشمہ اللہ کی قدرت کا ہے بعض کیا اکثر اوقات دنیا کی زندگی میں اہل اللہ کو اپنے منصب کا پتہ بھی نہیں چلتا مگر کام ان سے لیا جا رہا ہوتا ہے اور اس پر شرک کا فتوی دینے والوں کو یہ ضرور دیکھ لینا چاہئے کہ کعبۃ اللہ بھی بےجان پتھروں کا ڈھیر ہے اگر اللہ چاہے اسے قیام انسانیت اور بقائے جہان کا سبب بنا دے تو حید کو کوئی خطرہ نہیں چاہے تو پانی سے ہر شے کی حیات کا تعلق جوڑ دے اور توحید پختہ تر ہو کہ اصل اقتدار اسی کا ہے اور دنیا میں یہ قانون بھی اسی کا ہے کہ ہر شے کا سبب ہوتا ہے اگر اسباب باطنی میں بیت اللہ کے ساتھ ان انسانی قلوب کو بھی واسطہ اور ذریعہ بنا دے جن پر اس کی تجلیات متوجہ رہتی ہیں تو آپ بےفکر رہئے اس کی شان میں کوئی فرق آتا ہے نہ توحید خطرہ میں ہے ہاں بدعتیوں نے بدعات اور خرافات کی جو بنیاد ان باتوں پہ رکھی ہے اور جس قدر لوگوں کے ایمان و عمل کو نقصان پہنچایا ہے اس کی تردید اور اصلاح کی بہت زیادہ ضرورت ہے لیکن سر میں درد ہوجائے تو علاج سر کاٹ دینا نہیں ہوتا یہاں بھی اصل علاج یہ ہے کہ صحیح اسلامی اور موروثی کیفیات جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سینہ بسینہ منتقل ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ انہیں عام کردو جب بازار میں اصل عام ہوجائے تو نقل خود بخود بکنا بند ہوجاتی ہے ورنہ ان کیفیات کا انکار دلوں سے خلوص لے جائے گا اور بدعات کی جگہ نفاق آنا شروع ہوجائے گا۔ جو ان سے زیادہ خطرناک اور مہلک مرض ہے ایسے ہی حرمت والے مہینوں کی عزت ہے اور قربانی کے جانوروں کی عزت و احترام ہے کہ انہیں چھیڑا نہ جائے نہ راستہ روکا جائے نہ چرائے جائیں وہ جانور بھی جن کے گلوں میں بطور قربانی کی نشانی کے پٹے ڈال دئیے گئے ہوں یہ اس قدر باریک بینی اور چھوٹی سے چھوٹی بات پہ بحث و تمحیص اور رہنمائی فرمانے سے یہ بات تو پتہ چل رہی ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کی کوئی چیز یا کوئی بات اللہ کریم سے پوشیدہ نہیں ہے اور وہ ہر ذرے ہر خیال ہر وسوسے تک سے آگاہ ہے اور یہ بھی خوب واضح رہے کہ مسلسل نافرمانی انسان کو اس کی گرفت میں لے جاتی ہے اور اس کی گرفت بہت ہی سخت ہے ہاں ! اگر باز آجائے توبہ کرلے عقائد و اعمال میں اپنی اصلاح کرلے تو وہ بخشنے والا بھی ہے اور اس کی رحمت کا سمندر بھی ناپیدا کنار ہے۔ فریضہ رسالت : یاد رکھو ! فریضہ رسالت ان تعلیمات اور برکات کا پہنچانا ہے جو پہنچانے کا حکم آپ کو اللہ کی طرف سے دیا گیا جہاں تک تعلیمات کا تعلق ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس انداز سے اس زور اور شدت سے پہنچائیں کہ اب چودہ صدیاں بیت چکی ہیں جن کی گرد میں بڑے بڑے شہنشاہ اور ان کے حالات دفن ہوگئے مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات کو ذرا میلا بھی نہ کرسکیں ایک گدا کے جھونپڑے سے لے کر محلات شاہی تک اللہ کا پیغام دیا بلکہ اس کے مطابق چند برسوں میں ایک معاشرہ ، ایک حکومت ، ایک ملک ، ایک فوج ، ایک طرز حکومت ، ایک طرز تعلیم ، ایک عدالتی نظام غرض مکمل سلطنت بنا کر چشم عالم کے سامنے اللہ کا مثالی مسلمان اللہ کا مثالی معاشرہ۔ اللہ کی مثالی پسندیدہ حکومت پیش فرما دی ، (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔ اور جہاں تک کیفیات اور برکات اور ذوق کا تعلق تھا وہ اس طرح لٹایا کہ یہ صرف آپ کا خاصہ ہے ایمان لا کر جو بھی سامنے آیا ایک نگاہ نے اسے صحابی بنا دیا مرد تھا یا خاتون امیر غریب عالم جاہل کوئی تھا بات ایمان کی تھی یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نگاہ میں آنے کی۔ اور ایمانیات سے لے کر اخلاقایت تک یہ وہ درجہ ہے کہ جس سے اوپر کوئی درجہ نہیں اس سے اوپر صرف نبوت ہے اور بس۔ سو فریضہ رسالت اللہ کے انعامات کا پہنچانا تھا اب اسے قبول کرنا اس پر عمل کرنا اس سے فائدہ اٹھانا یہ تو سب انسانوں کے ذمہ ہے اور یہ خوب جان رکھو کہ تم جو ظاہر کرتے ہو اللہ کریم اس سے بھی واقف ہیں اور اتنے ہی اس بات اور حالت سے بھی واقف ہیں جو تم ظاہر نہیں کرتے ہاں اکثر اوقات نیک صالح اور پاکیزہ افراد بھی معاشرے میں کم ہوتے ہیں تعداد کے اعتبار سے اور اعمال و نظریات بھی مگر ناپاک کی کثرت اس کے اچھا ہونے کی دلیل تو نہیں بن سکتی گو بظاہر وہی بات لوگوں کو بھلی لگتی ہے جس پر اکثریت کا عمل ہو لیکن یہ تو ہمیشہ رہا ہے کہ ایسے عالی ہمت اور اولو العزم لوگ تعداد میں کم ہی رہے ہیں وجو دنیا اور اس کی لذات کو اللہ کی اطاعت کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رشتہ الفت قائم رکھنے کے لیے قربان کردیں اور دنیا کی لذات اور وقتی جذبوں کی تسکین کے لیے گناہ میں غرق ہونے والے لوگ ہمیشہ زیادہ رہے ہیں تو اے مخاطب تو اس لیے اس طرف چلا جائے گا کہ معاشرہ کی اکثریت اس طرف ہے اس لیے جمہوری اقدار کا پاس کرتے ہوئے تجھے اللہ کی عظمت کا احساس نہیں ہوگا ان لوگوں کی عالی ہمتی کی داد نہ دے جو اس سارے طوفان کو کوئی حیثیت دینے کو آمادہ نہیں ہوتے اور یہ طوفانی لہریں ان کے قدموں کی ٹھوکروں سے ہٹ ہٹ جاتی ہیں یا حرام مال زیادہ مل رہا ہے اور اس میں اللہ کی رضا مندی شامل نہیں عذاب الہی کا باعث بنے گا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں حلال کم سہی مقدار میں تھوڑا سہی مگر اللہ کریم کی رضا مندی اور خوشنودی کا سبب تو ہے جس پر کئی جہانوں کی لذتیں اور سینکڑوں زندگیاں اگر عطا ہوتی چلی جائیں تو بےدریغ نچھاور کرتے چلے جائیے پھر بھی سیری نہ ہو اور دل نہ بھرے سو یاد رکھئے یہ طیب حلال اور پاکیزہ اپنی ایک عظمت رکھتے ہیں جو ناپاک کی زیادتی سے مجروح نہیں ہوتی خواہ ظاہر بین کے لیے صرف کثرت ہی بڑی اہمیت کا باعث ہو لیکن اللہ کریم کے ہاں نیکی وار پاکیزگی کی عظمت ہے اسی لیے اسلام میں طریقہ انتخاب بھی یہ ہے کہ نیک اور پسندیدہ نیز معاملہ فہم لوگ جس ہستی پر متفق ہوجائیں عوام کو چاہئے کہ اس کی بیعت اختیار کریں نہ یہ کہ ہر کس و ناکس کی رائے برابر اہمیت رکھتی ہو یہ خوبصورت حماقت مغرب کی ایجاد ہے سو اللہ سے ڈرو۔ اور اللہ کا پسندیدہ راستہ اختیار کرو ، کہ دانشمندانہ بات یہی ہے اور اسی طریقے سے تمہیں دو عالم میں کامیابی نصیب ہوسکتی ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیت نمبر 94 تا 96 لغات القرآن : لیبلون (البتہ وہ آزمائے گا) ۔ الصید (شکار) ۔ تنال (پہنچتی ہے۔ پہنچتے ہیں) ۔ رماح (رمح) ۔ نیزے لیعلم (تاکہ وہ جان لے) ۔ من یخاف (کون ڈرتا ہے ؟ ) ۔ لا تقتلوا (تم قتل نہ کرو) ۔ انتم حرم (تم احرام کی حالت میں ہو) ۔ متعمدا (جان بوجھ کر) ۔ لانعم (مویشی۔ جانور) ۔ یحکم (فیصلہ کرے گا) ۔ ذواعدل (دو انصاف والے) ۔ ھدیا (نیاز۔ منت جو مسجد الحرام بھیجی جائے) ۔ بلغ الکعبۃ (کعبہ تک پہنچنے والا) ۔ عدل (برابر) ۔ لیذوق (تاکہ وہ چکھ لے) ۔ وبال (عذاب۔ سزا) ۔ امرہ (اس کا کام ) ۔ عفا اللہ (اللہ نے معاف کردیا) ۔ سلف (گزر گیا) ۔ عاد (جو پلٹا) ۔ ینتقم (بدلہ لیتا ہے) ۔ عزیز (زبردست ۔ (اللہ کی صفت) ۔ حکلیم (حکمت والا) ۔ صید البحر (سمندر کا شکار) ۔ متاع (سامان فائدہ) ۔ السیارۃ (مسافر۔ سواری) ۔ صید البر (خشکی کا شکار) ۔ ما دمتم (جب تک کہ تم رہے) ۔ یحشرون (تم جمع کیے جاؤ گے۔ تشریح : حرم کے تقدس کی خاطر وہاں شکار مارنا حرام کردیا گیا ہے۔ حرم عبادت کی جگہ ہے نہ کہ شکار کھیلنے کی۔ عبادت کے لئے جس ذہنی اور فکری مرکزیت کی ضرورت ہوتی ہے ، شکار کیلئے دوڑ دھوپ کرنا اس میں رکاوٹ ہے۔ پھر اللہ نے فرمایا ہے کہ جو حرم میں داخل ہوگیا اسے امن ہے۔ یہ حکم عام ہے اسی لئے اس میں وحشی جانور بھی شامل ہیں کہ ان کا شکار نہ کیا جائے۔ شکار کا لفظ وحشی جانوروں کیلئے آیا ہے۔ پالتو مویشیوں کے لئے نہیں کہ وہ ایسے ہی پکڑے جاتے ہیں۔ شکار کا لفظ حال و حرام جانور دونوں کو شامل ہے۔ البتہ اس حکم سے موذی جانور مستثنیٰ ہیں اس لئے ایسا جانور جس سے جان کو خطرہ ہو اس کو اپنی جان کی حفاظت کیلئے مارا جاسکتا ہے کو اہ وہ حرم میں ہو یا مارنے والا احرام میں ہو۔ مثلاً شیر، سانپ، بچھو، پاگل کتا وغیرہ۔ جو شخص حالت احرام میں ہے ، خواہ حرم کے اندر یا باہر ، وہ نہ تو خود شکار کرسکتا ہے نہ کسی سے شکار میں مدد لے سکتا ہے ۔ اس شخص کیلئے اگر کسی نے شکار مارا ہو تو اس شخص پر وہ بھی حرام ہے۔ ہاں اگر یہ شکار کسی نے اپنے لئے یا کسی اور کیلئے مارا ہو اور اس میں سے کچھ تحفہ بھیج دے تو احرام والا کھا سکتا ہے۔ جس طرح یہودیوں کی آزمائش کی گئی کہ سبت والے دن مچھلیاں ابھر ابھر کر آتی تھیں، اسی طرح حج یا عمرہ کرنے والے مسلمانوں کی آزمائش کی جا رہی ہے کہ ان کے آس پاس شکار کے قابل جانور بہت پھریں گے ۔ اس طرح کہ ان کا مارنا آسان ہوگا۔ جو اللہ سے ڈریں گے وہ شکار نہ کرکے اس آزمائش میں کامیاب اتریں گے، رہے وہ لوگ جو پھر بھی شکار کر ہی لیں ، ان کیلئے جرمانہ کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ جو جانور مارا گیا ہے ویسا ہی جانور مویشیوں میں سے اسے بطور کفارہ دینا ہوگا۔ خواہ وہ اپنے ریوڑ سے دے یا خرید کر۔ یہ فیصلہ بھی کہ آیا کفارہ کا جانور شکار کئے ہوئے جانور کے برابر ہے یا نہیں، دو ایسے افراد کریں گے جن کی عقل اور ایمان پر اعتبار ہو اور معتبر ہوں۔ وہ بدلے کا جانور بطور نیاز کعبہ حرم میں پہنچایا جائے گا۔ پھر حدود حرم میں ذبح کرکے فقراء میں تقسیم کردیا جائے گا۔ یا اس قیمت کے برابر غلہ اس طرح تقسیم کرے کہ ہر مسکین کو ایک صدقہ فطر کے برابر پہنچ جائے یا ہر صدقہ فطر کے عوض ایک روزہ رکھے۔ لیکن اگر کسی شکار کی قیمت ایک صدقہ فطر سے بھی کم ہو تو اس کو اختیار ہے کہ ایک مسکین کو دیدے یا ایک روزہ رکھ لے۔ جو لوگ یہ کفارہ نہیں دیں گے وہ سخت گنہگارہوں گے اور اللہ ان سے انتقام لے گا۔ حالت احرام سے باہر نکل کر سمندر، دریا، تالاب وغیرہ کے شکار کو حلال کردیا گیا ہے۔ مگر ان حدود کے اندر جن کا ذکر سورة مائدہ کے شروع میں آیا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ مطلب امتحان کا یہ کہ حالت احرام میں وحوش کا شکار کرنے کو تم پر حرام کرکے ان وحوش کو تمہارے آس پاس پھراتے رہین گے چناچہ وہ وحوش اسی طرح آس پاس لگے پھرتے تھے چونکہ صحابہ میں بہت سے شکار کے عادی تھے اس میں ان کی اطاعت کا امتحان ہو رہا تھا جس میں وہ پورے اترے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : تقویٰ اور ایمان کا یہ بھی تقاضا ہے کہ احرام کی حالت میں شکار کرنے سے اجتناب کرو۔ امام ابن ابی حاتم (رض) نے تحریر کیا ہے کہ یہ آیات صلح حدیبیہ کے سال نازل ہوئیں۔ جب مسلمان عمرہ کرنے کی غرض سے مدینہ طیبہ سے نکلے تو چند لوگوں کے سوا سب نے میقات پر پہنچ کر احرام باندھا اس حالت میں مسلمانوں کو شکار کرنے سے منع کیا گیا۔ جبکہ شکار مسلمانوں کے اتنا قریب تھا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے جانوروں کی گردنیں دبوچ سکتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم پہنچنے کے بعد جن لوگوں نے احرام باندھا ہوا تھا انھوں نے شکار پر ہاتھ اٹھانے کی جرأت نہ کی۔ اس حکم کا تقاضا یہ بھی ہے کہ محرم شخص غیر محرم کو شکار کرنے کا اشارہ بھی نہیں کرے۔ کیونکہ اس حکم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” وہ تمہیں آزمانا چاہتا ہے کہ کون تم میں غیب کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ “ غیب سے مراد یہ نہیں کہ انسان کسی لمحہ اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ اور اس کی قدرت سے باہر ہوتا ہے۔ غائب سے مراد انسان کی ایسی خلوت ہے جب اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں دیکھتا۔ احرام کی حالت میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کا حکم سمجھ کر شکار کرنے سے بچنا اور اللہ کے منع کردہ کاموں سے رکنا ہی حقیقی ایمان اور تقویٰ ہے۔ یہاں یہ بھی انتباہ کیا کہ جو شخص خلوت میں اللہ تعالیٰ سے بےخوف ہو کر اس کی نافرمانی کرتا ہے اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اسے اذیت ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ ابو قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم جب حدیبیہ کے سفر پر روانہ ہوئے تو میرے سوا تمام صحابہ (رض) نے احرام باندھا ہوا تھا۔ میرے ساتھیوں نے راستہ میں ایک جنگلی گدھا دیکھا اور ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے۔ میں اپنا جوتا سینے میں مشغول تھا لیکن انھوں نے مجھے نہیں بتلایا اگرچہ وہ چاہتے تھے کہ میں اسے دیکھ لوں۔ اچانک میں نے نظراٹھائی تو گدھا دیکھا۔ گدھا سے مراد نیل گائے ہے۔ میں گھوڑے پر زین کس کر اس پر سوار ہوا اور جلدی میں کوڑا اور نیزہ لینا بھول گیا میں نے ساتھیوں سے کہا کہ مجھے کوڑا اور نیزہ اٹھا کر پکڑا دو ۔ انھوں نے کہا اللہ کی قسم ! ہم اس کام میں تمہاری کچھ مدد نہیں کرسکتے۔ مجھے غصہ آیا۔ لیکن میں نے اتر کر کوڑا اور نیزہ پکڑا اور سوار ہوگیا۔ پھر میں نیل گائے پر حملہ آور ہوا اور نیزہ مار مار کر اسے روک لیا میں نے اس دوران ان سے مدد طلب کی انھوں نے میری مدد کرنے سے انکار کردیا۔ پھر ہم سب نے اس میں سے کھایا۔ اس کے بعد میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جا ملا۔ میں نے آپ سے عرض کی کہ ہم نے ایک جنگلی گدھے کا شکار کیا ہے۔ آپ نے صحابہ (رض) سے پوچھا کیا تم میں سے کسی نے شکار کیا یا حملہ کرنے کو کہا تھا یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا یا کسی قسم کی مدد کی تھی ؟ صحابہ نے عرض کی نہیں پھر آپ نے محرم صحابہ سے فرمایا تم اسے کھا سکتے ہو۔ پوچھا کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ باقی ہے ؟ میں نے نیل گائے کی دستی پیش کی جسے آپ نے کاٹ کر کھایا۔ (رواہ مسلم : کتاب الحج، بخاری : ابواب العمرۃ) مطلب یہ ہے کہ احرام کی حالت میں شکار کرنے میں کسی قسم کی مدد نہ کی ہو تو محرم اس شکار میں سے کھا سکتا ہے۔ البتہ جو شخص احرام کی حالت میں ارادۃً شکار کرے اس کا جرمانہ شکار کے برابر حلال جانور بیت اللہ کے قریب قربان کرنا ہوگا جس کا فیصلہ دو منصف مزاج مسلمان کریں گے۔ اگر اس نے نیل گائے شکار کیا ہو تو وہ اس کے برابر گائے یا بکرا قربان کرے گا۔ اگر اس سے چھوٹا جانور شکار کیا ہو تو اس کے برابر کوئی جانور ذبح کرنے کا منصف فیصلہ دیں گے اگر کوئی شخص ایسا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اس کا کفارہ دو مسکینوں کو کھانا کھلانا یا دوروزے رکھنا ہوں گے یہ جرمانہ اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی غلطی کی سزا پائے، ہاں جو یہ حکم آنے سے پہلے ہوچکا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف کرنے والا ہے جو جان بوجھ کر احرام کی حالت میں شکار کرنے کی غلطی کا اعادہ کرے گا اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس سے بدلہ لے گا اور وہ بدلہ لینے کی ہر اعتبار سے قوت رکھتا ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ مومنین کے ایمان کو پرکھتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ ٣۔ احرام کی حالت میں شکار ممنوع ہے۔ ٤۔ احرام کی حالت میں شکاری کی مدد بھی نہیں کرنا چاہیے۔ ٥۔ جو مسئلہ جاننے کے باوجود احرام میں شکار کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لے گا۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ زبردست انتقام لینے پر قادر ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ سے اس وقت بھی ڈرنا چاہیے جب کوئی نہ دیکھ رہا ہو : ١۔ جو اللہ سے غیب میں ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور بڑا اجر ہے۔ (الملک : ١٢) ٢۔ جو رحمٰن سے غیب میں ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش کی خوشخبری ہے۔ (یٰس ٓ: ١١) ٣۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کو ڈرانے والے ہیں جو اپنے رب سے غیب میں ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ (الفاطر : ١٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ٩٤ تا ١٠٠۔ ذرا پیچھے دیکھ کر اس سورة کی ابتدائی آیات کو ایک بار پھر پڑھئے ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَوْفُواْ بِالْعُقُودِ أُحِلَّتْ لَکُم بَہِیْمَۃُ الأَنْعَامِ إِلاَّ مَا یُتْلَی عَلَیْْکُمْ غَیْْرَ مُحِلِّیْ الصَّیْْدِ وَأَنتُمْ حُرُمٌ إِنَّ اللّہَ یَحْکُمُ مَا یُرِیْدُ (1) یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحِلُّواْ شَعَآئِرَ اللّہِ وَلاَ الشَّہْرَ الْحَرَامَ وَلاَ الْہَدْیَ وَلاَ الْقَلآئِدَ وَلا آمِّیْنَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّن رَّبِّہِمْ وَرِضْوَاناً وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُواْ (٢) (٥ : ١۔ ٢) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ بندشوں کی پوری پابندی کرو۔ تمہارے لئے مویشی کی قسم کے سب جانور حلال کئے گئے سوائے ان کے جو آگے چل کر تم کو بتائے جائیں گے لیکن احرام کی حالت میں شکار کو اپنے لئے حلال نہ کرلو ‘ بیشک اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ خدا پرستی کی نشانیوں کو بےحرمت نہ کرو ، ۔۔۔۔۔ حرام مہینوں میں کسی کو حلال نہ کرلو ‘ قربانی کے جانوروں پر دست درازی نہ کرو ‘ ان جانوروں پر ہاتھ نہ ڈالو جن کی گردنوں میں نذر خداوندی کی علامت کے طور پر پٹے پڑے ہوئے ہوں اور نہ انکو چھیڑو جو اپنے رب کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں مکان محترم (کعبہ) کی طرف جارہے ہوں ۔ ہاں جب احرام کی حالت ختم ہوجائے تو شکار تم کرسکتے ہو۔ یہ ممانعت اس شکار کے بارے میں تھی جب شکاری حالت احرام میں ہو ‘ اور یہ ممانعت خدا پرستی کی نشانیوں (شعائر) کی بےحرمتی کے بارے میں تھی ‘ قربانی کے جانوروں ‘ پٹے ڈالے ہوئے نذر کے جانوروں ‘ حاجیوں کے ساتھ چھیڑ کی ممانعت کی گئی تھی ‘ لیکن ان مموعات پر دنیا میں کوئی سزا نہ سنائی گئی تھی ۔ صرف یہ کہا گیا تھا کہ یہ کام گناہ گاری کے کام ہیں ۔ اب دنیا میں بطور سزا کفارے کا بیان کیا جاتا ہے تاکہ خلاف ورزی کرنے والا اپنے کئے کا مزہ چکھے ۔ البتہ سابقہ غلطیوں کی معافی کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ اگر کسی نے پہلے ان ممنوعات کا ارتکاب کیا ہو تو وہ معاف ہیں لیکن آئندہ اس ہدایت کے اعلان ویبان کے بعد جو دوبارہ اس کا ارتکاب کرے گا اسے سخت سزاد دی جائے گی اور وہ انتقام الہی سے بچ نہ سکے گا ۔ آیات کے اس مجموعے کا آغاز بھی اسی شناسا آواز کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ (آیت) ” (یایھا الذین امنوا) اس خطاب کے بعد ان کو کہا جاتا ہے کہ اب تمہاری آزمائیش ہونے والی ہے ۔ یعنی اس شکار کے بارے میں جس سے تم کو حالت احرام میں منع کیا گیا ہے ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا لیبلونکم اللہ بشیء من الصید تنالہ ایدیکم ورماحکم لیعلم اللہ من یخافہ بالغیب فمن اعتدی بعد ذلک فلہ عذاب الیم “۔ (٩٤) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اللہ تمہیں اس شکار کے ذریعے سے سخت آزمائش میں ڈالے گا جو بالکل تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہوگا ۔ یہ دیکھنے کے لئے کہ تم میں سے کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے ‘ پھر جس نے اس تنبیہ کے بعد اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے تجاوز کیا اس کے لئے درد ناک سزا ہے ۔ یہ بہت ہی آسان شکار ہوتا ہے اللہ اسے خود انکی طرف چلاتا ہے ‘ ایسا شکار ہوتا ہے کہ وہ اسے ہاتھوں کے ساتھ بھی پکڑ سکتے ہیں ‘ ان کے نیزے اور تیر بھی اسے بسہولت مار سکتے ہیں ۔ ایسے واقعات سامنے آئے ہیں کہ حرم میں شکار خود خیموں کے اندر آجاتا ہے ‘ ان کے گھروں کے اندر آجاتا ہے اور یہ اللہ کی جانب سے آزمائش ہوتی ہے اور یہ وہی آزمائش ہے جس میں بنی اسرائیل فیل ہوئے اور پھر وہ اپنے پاؤں پر کھڑے نہ رہ سکے ۔ انہوں نے پہلے اپنے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے باصرار یہ مطالبہ کیا کہ ان کے لئے ایک ایسا دن مقرر کریں جس میں ان کے لئے معاشی سرگرمیوں میں مشغول ہونا ممنوع ہو ۔ اس دن وہ مکمل آرام کریں ‘ نماز پڑھیں اور کسی دنیاوی اور معاشی کام میں مشغول نہ ہوں ۔ اللہ نے ہفتے کا دن مقرر کردیا لیکن اللہ نے شکار ان کی آزمائش کے لئے وافر مقدار میں ساحلوں تک چلایا ۔ یہ شکار ان کی نظروں کے سامنے پھرتا اور جب ہفتہ نہ ہوتا تو شکار نظر ہی نہ آتا ۔ جس طرح مچھلی بالمعموم پانی میں چھپی ہوئی ہوتی ہے اب یہ دیکھ دیکھ کر بچارے اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو نہ نبھا سکے ۔ یہودیوں کی معروف رگ پھڑکی ‘ ان کی اصل فطرت جاگی ۔ انہوں نے اللہ کے ساتھ حیلے بہانے کرنے شروع کردیئے ۔ چناچہ انہوں نے ہفتے کے دن شکار کو گھیرنا شروع کردیا جسے وہ بعد کے دنوں میں شکار کرتے ۔ ان کی یہی حرکت تھی جس پر اللہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ وہ ان کے سامنے رکھیں ۔ اللہ تعالیٰ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرکے فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” وسئلھم عن القریتہ التی کانت حاضرۃ البحر اذ یعدون فی السبت اذ تاتیھم حیتانھم یوم سبتھم شرعا ویوم لا یسبتون لا تاتیھم کذلک نبلوھم بما کانوا یفسقون “۔ (٧ : ١٦٣) ” اور ذرا ان سے اس بستی کا حال بھی پوچھو جو سمندر کے کنارے واقعہ تھی انہیں یاد دلاؤ وہ واقعہ کہ وہاں لوگ سبت کے دن احکام الہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ مچھلیاں سبت ہی کے دن ابھر ابھر کر سطح پر ان کے سامنے آتی تھیں اور سبت کے سوا باقی دونوں میں نہیں آتی تھیں ۔ یہ اس لئے ہوتا تھا کہ ہم ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کو آزمائش میں ڈال رہے تھے۔ “ امت اسلامیہ بھی ایسے ہی ابتلاء میں مبتلا کی گئی تھی اور یہ کامیاب رہی جبکہ یہودی ناکام ونامراد رہے ۔ اور قرآن کریم کی اس آیت کا یہی مفہوم ہے : (آیت) ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر وتومنون باللہ ‘ ولو امن اھل الکتب لکان خیرا لھم منھم المومنون واکثرھم الفسقون ۔ (٣ : ١١) ” اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو ‘ جسے انسانوں کی ہدایت واصلاح کے لئے میدان میں لایا گیا ہے ۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو ‘ بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو ‘ اگر یہ اہل کتاب ایمان لاتے تو انہی کے حق میں بہتر تھا ‘ اگرچہ ان میں کچھ لوگ ایماندار بھی پائے جاتے ہیں مگر ان کے بیشتر افراد نافرمان ہیں۔ “ بیشمار مراحل ایسے آئے جن میں امت اسلامیہ آزمائشوں میں کامیاب رہی اور بنی اسرائیل ناکام رہے اور یہی وجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین پر سے خلافت کا مقام بنی اسرائیل سے سلب کرلیا اور امت مسلمہ کو اس مقام پر فائز کردیا۔ اور امت مسلمہ کو زمین پر وہ عروج عطا کیا جو اس سے قبل کسی کو بھی نہ دیا تھا ۔ اس لئے کہ اسلامی نظام زندگی کسی سابقہ امت کے دور میں اس طرح متمکن نہ ہوا تھا ‘ جس طرح امت مسلمہ کے دور میں پوری طرح ظاہر ہوا ۔ لیکن یہ اس دور میں ہوا جس میں امت مسلمہ فی الواقع امت مسلمہ تھی اور جس دور میں وہ یہ سمجھتی تھی کہ اسلام وہ ہے جو لوگوں کی عملی زندگی کے اندر نمودار ہو اور لوگوں کی زندگی اسلامی شریعت کے مطابق بسر ہو رہی ہو ۔ اس دور میں امت مسلمہ کو یہ احساس تھا کہ اسے یہ عظیم امانت سپرد کی گئی ہے اور اسے اس کا امین قرار دیا گیا ہے ۔ یہ کہ امت مسلمہ کو پوری انسانیت کا نگہبان مقرر کیا گیا ہے اور اس کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ لوگوں کی زندگیوں کو اسلام نظام حیات کے مطابق استوار کرے اور ان پر اللہ کی اس امانت کو قائم کرے ۔ یہ آزمائش کہ حالت احرام میں لوگ بسہولت شکار کرسکتے تھے لیکن بطور آزمائش انہیں شکار سے روک دیا گیا ان آزمائشوں میں سے ایک ہے جن میں یہ امت کامیاب رہی ۔ ایسی آزمائشوں کے ذریعے اس امت کو آزمانا اور آزما کر تربیت دینا یہ اللہ تعالیٰ کی بہت ہی بڑی اور کھلی مہربانی تھی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو منتخب کرلیا ہے ۔ اس امتحان کی حکمت کی تصریح بھی اللہ تعالیٰ نے فرما دی ہے ۔ (آیت) ” لیعلم اللہ من یخافہ بالغیب “ ” تاکہ وہ دیکھے کہ تم میں سے کون ہے جو اس سے غائبانہ ڈرتا ہے “۔ ایک مسلمان کے ضمیر کے اندر جو اصول رکھا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ سے غائبانہ کون ڈرتا ہے ۔ یہ ایک نہایت ہی مضبوط قاعدہ ہے جس کے اوپر اسلامی نظریہ حیات کی عمارت کھڑی ہے ۔ اسی قاعدے کے مطابق ایک مسلمان کا طرز عمل طے پاتا ہے اور یہ طرز عمل نظریہ خلافت فی الارض اور اسلامی نظام زندگی کے مطابق ہوتا ہے ۔ لوگ اللہ کو نہیں دیکھتے ‘ لیکن جب وہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں تو اللہ انکے نفس کے اندر موجود ہوتا ہے ۔ ایک انسان کے تصور اور فہم میں اللہ غیب ہوتا ہے لیکن دل مومن اس پر غائبانہ ایمان لا کر ‘ اللہ سے ڈرتا ہے ۔ جب کسی کے دل و دماغ کے اندر یہ عظیم حقیقت ‘ حقیقت ایمان بالغیب بیٹھ جاتی ہے اور انسان اللہ سے ڈرنے لگتا ہے اور حسی رویت اور حسی مشاہدے سے مستغنی ہوجاتا ہے اور یہ مومن لا الہ الا اللہ کی شہادت دیتا ہے ‘ جبکہ اس نے اللہ کو بچشم سر دیکھا نہیں ہوتا ۔ وجود انسانی کے اندر اس عظیم حقیقت کا بیٹھ جانا ‘ اس کے اندر ایک عظیم انقلابی تبدیلی پیدا کردیتا ہے ۔ اس کی فطری قوتیں آزاد ہوجاتی ہیں اور اس کی فطرت کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو مشنری سپرٹ ودیعت کی ہے وہ بدرجہ اکمل کام کرتی ہے اور وہ جس قدر بھی عالم غیب کے قریب پہنچتا ہے (جو انسان کے لئے تیار کیا گیا ہے) اسی قدر وہ عالم حیوانات سے دور ہوتا جاتا ہے ۔ اور اس سطح تک بلند ہوجاتا ہے جو انسان کے لئے محسوسات کے اندر سکیڑ لیتا ہے تو وہ اپنے آپ کو مادی دنیا کے اندر محدود کرکے محض حیوانی دائرے کے اندر چلا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں تصریح فرماتے ہیں کہ اس ابتلاء میں حکمت کیا ہے تاکہ اہل ایمان کے نفوس اسے حاصل کرنے کی کوشش کریں اور اللہ کو علم لدنی کے ذریعے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے غائبانہ طور پر کون ڈرتا ہے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے علم کے مطابق دنیا میں لوگوں کو نہیں پکڑتا ۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور گرفت صرف ان باتوں پر ہوتی ہے جو واقع ہوجائیں ۔ (آیت) ” فمن اعتدی بعد ذلک فلہ عذاب الیم “۔ پھر اس تنبیہ کے بعد بھی جس نے حدود سے تجاوز کیا تو اس کے لئے دردناک سزا ہے “۔ اللہ تعالیٰ نے امتحان کی اطلاع دے دی اس کی حکمت سے بھی آگاہ کردیا اور اس بات سے متنبہ کردیا کہ وہ اس آزمائش میں نہ پڑیں اس لئے کہ کامیابی کے تمام اسباب بھی اس کے لئے فراہم کردیئے گئے ۔ اب بھی اگر کوئی اللہ کی حدود سے تجاوز کرتا ہے تو اس کے لئے درد ناک سزا کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے ۔ اس کے سوا وہ اور کس انجام کا مستحق ہے اس لئے کہ وہ خود اپنے لئے یہ سزا اختیار کرتا ہے ۔ اس کے بعد اگر کوئی پھر خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر عائد شدہ کفارے کی تفصیلات دے دی جاتی ہے ۔ دوبارہ بطور تاکید ممانعت بھی کردی جاتی ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حالت احرام میں شکار والے جانوروں کے ذریعہ آزمائش حج اور عمرہ کا اگر کوئی شخص احرام باندھ لے تو احرام سے نکلنے تک بہت سے کام ممنوع ہوجاتے ہیں ان ممنوع کاموں میں خشکی کا شکار کرنا بھی ہے۔ ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرات صحابہ (رض) کو اس طرح آزمایا کہ احرام کی حالت میں تھے اور شکاری جانور خوب بڑھ چڑھ کر آرہے تھے یہ ایسی آزمائش تھی جیسے بنی اسرائیل کو آزمایا گیا تھا، ان کے لئے سنیچر کے دن مچھلیوں کا شکار کرنا ممنوع تھا لیکن سنیچر کے دن مچھلیاں خوب ابھر ابھر کر پانی کے اوپر آجاتی تھیں اور دوسرے دنوں میں ایسا نہیں ہوتا تھا جس کا زکر سورة اعراف کی آیت (وَ سْءَلْھُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِ ) میں فرمایا ہے۔ تفسیر در منشور ص ٣٢٧ جلد نمبر ٢ میں ابن ابی حاتم سے نقل کیا ہے کہ آیت بالا حدیبیہ والے عمرہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ وحشی جانور اور پرندے ان کے ٹھہرنے کی جگہوں میں چلے آرہے تھے اس سے پہلے ایسے منظر انہوں نے کبھی نہیں دیکھے تھے ان کو ہاتھوں سے پکڑنا اور نیزوں سے مارنا بہت ہی زیادہ آسان تھا۔ اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا تھا کہ احرام کی حالت میں شکار قطعاً نہ کرنا جو شکار کرنے سے پرہیز کرے گا وہ امتحان میں کامیاب ہوگا۔ اور یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ دیکھے بغیر اللہ تعالیٰ سے کون ڈرتا ہے (اور جو شخص شکار کرلے گا وہ گناہ کا ارتکاب کرلے گا اور آزمائش میں ناکام ہوگا)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

94 اے اہل ایمان یقینا اللہ تعالیٰ تم کو ایک حقیر اور معمولی سے شکار کے معاملہ میں آزمائے گا وہ شکار تم سے اس قدر قریب پھرتا ہوگا کہ تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے اس شکار کو حاصل کرسکیں گے یعنی تمہارے آس پاس پھرتا ہوگا … چاہے تم نیزہ مار کر زخمی کردو خواہ ہاتھ سے شکار کرلو اس آزمائش کی وجہ یہ ہوگی تاکہ اللہ تعالیٰ اس بات کو جان لے کہ کون شخص اس کے ذاب اور اس کی پکڑے بن دیکھے ڈرتا ہے یعنی دیکھ کر تو اس کے عتاب سے سب ہی ڈریں گے محض وعدئہ عذاب سے کون کون ڈرنے والا ہے پھر جو شخص ممانعت کا حکم سننے اور اس کی حرمت معلوم کرلینے کے بعد حد سے آگے بڑھے گا اور حکم خداوندی سے بےپروا ہو کر شکار کا تعاقب کرے گا تو اس شخص کو درد ناک عذاب ہوگا۔