Surat Qaaf

Surah: 50

Verse: 19

سورة ق

وَ جَآءَتۡ سَکۡرَۃُ الۡمَوۡتِ بِالۡحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنۡہُ تَحِیۡدُ ﴿۱۹﴾

And the intoxication of death will bring the truth; that is what you were trying to avoid.

اور موت کی بے ہوشی حق لے کرآ پہنچی ، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And the stupor of death will come in truth: "This is what you have been avoiding!" Allah the Exalted and Most Honored says, `O mankind! This is the stupor of death that has come in truth; now, I have brought forth to you the certainty that you were disputing,' ... ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ ... This is what you have been avoiding!, means, `this is the end that you were trying to escape; it has come to you! Therefore, you will have neither a shelter nor a refuge nor a sanctuary nor an asylum from it.' In the Sahih, the Prophet said, while wiping sweat from his face when the stupor of death overcame him, سُبْحَانَ اللهِ إِنَّ لِلْمَوْتِ لَسَكَرَات Glory be to Allah! Verily, death has its stupor. The Ayah, ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ (This is what you have been avoiding!) has two possible meanings. One of them is this: - `what you have been trying to avert, escape and flee from has come to you and resided in your home!' - The second meaning is, `you had no way of escaping or averting this end. At-Tabarani collected a Hadith in Al-Mu`jam Al-Kabir from Samurah who said that the Messenger of Allah said, مَثَلُ الَّذِي يَفِرُّ مِنَ الْمَوْتِ مَثَلُ الثَّعْلَبِ تَطْلُبُهُ الاَْرْضُ بِدَيْن فَجَاءَ يَسْعَى حَتْى إِذَا أُعْيِيَ وَأُسْهِرَ دَخَلَ جُحْرَهُ وَقَالَتْ لَهُ الاَْرْضُ يَا ثَعْلَبُ دَيْنِي فَخَرَجَ وَلَهُ حُصَاصٌ فَلَمْ يَزَلْ كَذلِكَ حَتَّى تَقَطَّعَتْ عُنُقُهُ وَمَات The parable of whoever tries to avoid death is that of a fox that had a debt to pay to the earth. The fox went away and when he became tired and the time to sleep overtook him, he entered his den. The earth said to him, `O fox! Pay my debt!' The fox went out howling and continued until his neck was cutoff, (i.e.,) he died. This parable indicates that just as the fox had no way of escaping or avoiding the earth, likewise, man has no way of avoiding death. Allah the Exalted the Blessed said, ... وَنُفِخَ فِي الصُّورِ ذَلِكَ يَوْمُ الْوَعِيدِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

19۔ 1 تَحِیْدُ ، تَمِیْلُ عَنْہُ وَتَفِرُّتو اس موت سے بدکتا اور بھاگتا تھا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٢] موت پر سب حقائق کا انکشاف :۔ اس کے دو مطلب ہیں یعنی موت، اس کی بےہوشیاں اور سختیاں تو وہ ان سب حقیقتوں کو ساتھ ہی لے آئیں جن کی انبیائے کرام (علیہم السلام) اطلاع دیتے رہے۔ موت کے ساتھ ہی اسے معلوم ہوجائے گا کہ جس محاسبہ اور برے انجام سے وہ ڈرایا کرتے تھے اس کا آغاز ہوگیا ہے۔ موت کا فرشتہ، دیکھتے ہی اس پر سب پیش آنے والی حقیقتیں ظاہر ہونے لگیں گی۔ [٢٣] حاد بمعنی سیدھے راستے سے پہلو تہی کرنا، کنی کترانا، سمت بدل لینا اور دور بھاگنا ہے۔ سیدھا راستہ پیغمبروں نے یہ بتایا تھا کہ تمہیں مر کر دوبارہ جی اٹھنا ہے اور تمہارا محاسبہ ہونے والا ہے۔ تو اس بارے میں مشکوک ضرور تھا۔ تیرے نزدیک دونوں احتمال موجود تھے۔ لیکن تیرا نفس یہی چاہتا تھا کہ تیرا محاسبہ نہ ہونا چاہئے لہذا تو طرح طرح کے اعتراض کرکے اپنے آپ کو مطمئن کرلیتا تھا اور سیدھے راستہ سے بہرحال بچنا چاہتا تھا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) وجآء ت سکرۃ الموت : یہ ذکر کرنے کے بعد کہ انسان جو کچھ کرتا ہے سب اللہ کو معلوم ہے اور انسان کی کتاب اعمال میں بھی لکھا ہوا اور محفوظ ہے اور اس کے سامنے پیش آنے والا ہے، اب اس حقیقت کے انسان کے سامنے آنے کے دو وقت بیان فرمائے، پہلا موت کا وقت اور دوسرا قیامت کا وقت۔ اس آیت میں موت کا ذکر ہے، موت کی بےہوشی سے مراد اس کی سختی اور شدت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں موت اور قیامت کے لئے ماضی کے صیغے استعمال فرمائے ہیں یعنی ” وجآء ت سکرۃ الموت “ (اور موت کی بےہوشی آگئی) اور ” نفخ فی الصور “ (اور صور میں پھونکا گیا) حالانکہ یہ کام آئندہ ہونے والے ہیں، تو مقصد وہ نقشہ سامنے لانا اور یہ باور کروانا ہے کہ ان کا آنا اتنا یقینی ہے کہ سمجھو وہ آچکے۔ (٢) عائشہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آخری وقت کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پانی کا ایک پیالہ تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دونوں ہاتھ اس میں ڈالتے اور انہیں چہرے پر پھیرتے جاتے تھے اور ساتھ یہ فرماتے تھے :(لا الہ الا اللہ، ان للموت سکراب) (بخاری، المغازی، باب مضر النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و وفاتہ : ٣٣٣٩)” لا الہ الا اللہ، یقینا موت کی بہت سختیاں ہیں۔ “ (٣) بالحق : موت کی بےہوشی کے حق کو لے آنے کا مطلب یہ ہے کہ جان نکلنے کی سختی کے ساتھ ہی وہ حقیقت سامنے آجائے گی جس پر دنیا میں پردہ پڑا ہوا ہے اور آدمی آنکھوں سے دیکھ لے گا کہ رسولوں نے جو بات بتائی تھی وہ حق اور سچ تھی۔ (٤) ذلک ما کنت منہ تحید :” حاد یحید حیدۃ “ (باغ بیع) کسی چیز سے کنی کترانا، بچ کر نکلنا، دور بھاگنا۔ ہر انسان ہی طبعی طور پر موت سے بھاگتا ہے، مگر اس سے چارہ نہیں اور نہ ہی انسان کے سدا زندہ رہنے کی خواہش پوری ہوسکتی ہے۔ دیکھیے سورة جمعہ (٨) اور سورة احزاب (١٦) کی تفسیر۔ یعنی یہ وہ حقیقت ہے جس کا سامنا کرنے سے تو پہلو تہی کرتا اور کنی کتراتا تھا اور چاہتا تھا کہ اس سے بچ کر پانی من مانی کرتا رہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Daze of Death وَجَاءَتْ سَكْرَ‌ةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ۖ ذَٰلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ (And the daze of death has [ to ] come with truth. That is what you tried to escape...50:19) The phrase sakrat-ul-maut denotes the agony and the stupor or daze of death that a dying person experiences. Abu Bakr Ibn-ul-Anbari (رح) with his own transmitting authorities reports from Masruq that when the signs of death appeared on Sayyidna Abu Bakr Siddiq (رض) ، Siddiqah ` A&ishah (رض) was called. She came and when she saw her father&s condition, she spontaneously versified and recited: اذا حَشرَجَت یَوماً وَ ضاقَ بِھَا الصَّدر، |"When the soul one day will be uneasy and the breast thereby will become narrow|". Sayyidna Abu Bakr Siddiq (رض) heard this and said: |"You recited this verse inappropriately; why did you not recite the Qur&anic verse [ 19] وَجَاءَتْ سَكْرَ‌ةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ۖ ذَٰلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ (And the daze of death has [ to ] come with truth. That is what you tried to escape...) ۔ When the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) faced the same state, he would put his hand in the water and wipe it over his blessed face, reciting لا إلہ إلا اللہ اِنَّ لِلمَوتِ سَکرَات |"There is no god but Allah, indeed death has its pangs or stupor.|" In the prepositional phrase بِالْحَقِّ |"with truth|", through the preposition بَا |"ba|" the action of the verb is passed on to the object, meaning |" the pangs of death brought forth things that are true and real which none can escape or avoid|" (Mazhari). ذَٰلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ (That is what you tried to escape...50:19) tahidu is derived from haid which denotes to incline; to turn aside or escape from a place; to avoid or shun it; and to acknowledge. Apparently, this verse addresses the entire mankind. Every man is naturally afraid or scared of, or alarmed and terrified by, the thought of death. Life is dear to him and death is a calamity for him. As a result, he makes plans to run away from death. This is from Shari point of view not wrong or a sin. Death, however, is inevitable. The purport of the verse is to show that &this is the end you were trying to escape or avert or flee from; it has come to you. Therefore, your desire will not be completely fulfilled; you will have neither a shelter nor a refuge nor a sanctuary nor an asylum from it.&

سکرات الموت : (آیت) وَجَاۗءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بالْحَقِّ ۭ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدُ ، سکرة الموت کے معنی موت کی شدت اور غشی جو موت کے وقت پیش آتی ہے، ابوبکر بن الانباری نے اپنی سند کے ساتھ حضرت مسروق سے روایت یہ کی ہے کہ جب حضرت صدیق اکبر پر موت کے آثار شروع ہوئے تو صدیقہ عائشہ کو بلایا، وہ پہنچیں تو یہ حالت دیکھ کر بےساختہ ایک شعر زبان سے نکلا۔ اذا حشرجت یوما و ضاق بھا الصدر ” یعنی جب روح ایک دن مضطرب ہوگی اور سینہ اس سے تنگ ہوجائے گا “ حضرت صدیق اکبر نے سنا تو فرمایا کہ تم نے فضول یہ شعر پڑھا، یوں کیوں نہ کہا (وَجَاۗءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بالْحَقِّ ۭ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدُ ) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب یہ حالت پیش آئی تو آپ پانی میں ہاتھ ڈال کر چہرہ مبارک پر ملتے اور فرماتے تھے لا الہ الا اللہ ان للموت سکرات، یعنی کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے فرمایا کہ موت کی بڑی شدتیں ہوتی ہیں۔ بالحق، اس میں حرف باء تعدیہ کے لئے ہے، معنی یہ ہیں کہ لے آئی شدت موت امر حق کو یعنی موت کی شدت نے وہ چیزیں سامنے کردیں جو حق و ثابت ہیں اور کسی کو ان سے فرار کی گنجائش نہیں (مظہری) ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدُ ، تحید حید سے مشتق ہے، جس کے معنی مائل ہونے، جگہ سے ہٹ جانے اور اقرار کرنے کے ہیں، معنی آیت کے یہ ہیں کہ موت وہ چیز ہے جس سے تو بدکتا اور بھاگتا تھا۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ خطاب عام انسان کو ہے، موت سے بدکنا اور بھاگنا طبعی طور پر پوری نوح انسانی میں پایا جاتا ہے، ہر شخص زندگی کو مرغوب اور موت کو آفت و مصیبت سمجھ کر اس سے بچنے کی تدبیریں کرتا ہے، جو شرعاً کوئی گناہ بھی نہیں، لیکن آیت میں بتلانا یہ منظور ہے کہ انسان کی یہ طبعی اور فطری خواہش مکمل طور پر ہرگز پوری نہیں ہو سکتی، ایک نہ ایک دن تو بہرحال موت آنا ہی ہے، خواہ تم اس سے کتنا ہی بھاگنا چاہو۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَجَاۗءَتْ سَكْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ۝ ٠ ۭ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْہُ تَحِيْدُ۝ ١٩ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ سكر السُّكْرُ : حالة تعرض بيت المرء وعقله، وأكثر ما يستعمل ذلک في الشّراب، وقد يعتري من الغضب والعشق، ولذلک قال الشاعر : 237- سکران : سکر هوى، وسکر مدامة «2» ومنه : سَكَرَاتُ الموت، قال تعالی: وَجاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ [ ق/ 19] ، والسَّكَرُ : اسم لما يكون منه السّكر . قال تعالی: تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَراً وَرِزْقاً حَسَناً [ النحل/ 67] ، والسَّكْرُ : حبس الماء، وذلک باعتبار ما يعرض من السّدّ بين المرء وعقله، والسِّكْرُ : الموضع المسدود، وقوله تعالی: إِنَّما سُكِّرَتْ أَبْصارُنا [ الحجر/ 15] ، قيل : هو من السَّكْرِ ، وقیل : هو من السُّكْرِ ( س ک ر ) السکر ۔ اصل میں اس حالت کو کہتے ہیں جو انسان اور اس کی عقل کے درمیان حائل ہوجاتی ہے اس کا عام استعمال شراب کی مستی پر ہوتا ہے اور کبھی شدت غضب یا غلبہ یا غلبہ عشق کی کیفیت کو سکر سے تعبیر کرلیا جاتا ہے اسی لئے شاعر نے کہا ہے ( 231 ) سکران ھوی وسکر مدامۃ نشے دو ہیں ایک نشہ محبت اور دوسرا نشہ شراب اور اسی سے سکرت الموت ( موت کی بیہوشی ) ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَجاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ [ ق/ 19] اور موت کی بےہوشی کھولنے کو طاری ہوگئی ۔ السکرۃ ( بفتح السین والکاف ) نشہ آور چیز ۔ قرآن میں ہے : ۔ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَراً وَرِزْقاً حَسَناً [ النحل/ 67] کہ ان سے شراب بناتے ہو اور عمدہ رزق رکھا تے ہو ) اور شراب سے انسان اور اس کی عقل کے درمیان بھی چونکہ دیوار کی طرح کوئی چیز حائل ہوجاتی ہے اس اعتبار سے سکر کے معنی پانی کو بند لگانے اور روکنے کے آجاتے ہیں اور اس بند کو جو بانی روکنے کے لئے لگایا جائے سکر کہا جاتا ہے ( یہ فعل بمعنی مفعول ہے ) اور آیت : ۔ إِنَّما سُكِّرَتْ أَبْصارُنا[ الحجر/ 15] کہ ہماری آنکھیں مخمور ہوگئی ہیں ۔ میں سکرت بعض کے نزدیک سک سے ہے اور بعض نے سکرا سے لیا ہے اور پھر سکر سے سکون کے معنی لے کر پر سکون رات کو لیلۃ ساکرۃ کہا جاتا ہے ۔ موت أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة : فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات . نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] . الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا [ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] . الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة . نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] . الرابع : الحزن المکدِّر للحیاة، وإيّاه قصد بقوله : وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَ بِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] . الخامس : المنامُ ، فقیل : النّوم مَوْتٌ خفیف، والموت نوم ثقیل، وعلی هذا النحو سمّاهما اللہ تعالیٰ توفِّيا . فقال : وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] ( م و ت ) الموت یہ حیات کی ضد ہے لہذا حیات کی طرح موت کی بھی کئی قسمیں ہیں ۔ اول قوت نامیہ ( جو کہ انسان حیوانات اور نباتات ( سب میں پائی جاتی ہے ) کے زوال کو موت کہتے ہیں جیسے فرمایا : ۔ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] اور اس پانی سے ہم نے شہر مردہ یعنی زمین افتادہ کو زندہ کیا ۔ دوم حس و شعور کے زائل ہوجانے کو موت کہتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا ۔ يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا[ مریم/ 23] کاش میں اس سے پہلے مر چکتی ۔ أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا زندہ کر کے نکالا جاؤں گا ۔ سوم ۔ قوت عاقلہ کا زائل ہوجانا اور اسی کا نام جہالت ہے چناچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو بات نہیں سنا سکتے ۔ چہارم ۔ غم جو زندگی کے چشمہ صافی کو مکدر کردیتا ہے چنانچہ آیت کریمہ : ۔ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَبِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی ۔ مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا ۔ میں موت سے یہی معنی مراد ہیں ۔ پنجم ۔ موت بمعنی نیند ہوتا ہے اسی لئے کسی نے کہا ہے کہ النوم موت خفیف والموت نوم ثقیل کہ نیند کا نام ہے اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو توفی سے تعبیر فرمایا ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] اور وہی تو ہے جو ارت کو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد بالشخص أو بالمنزلة : ( ذَاكَ ) و ( ذلك) قال تعالی: الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] ، ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] ، ذلِكَ أَنْ لَمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرى [ الأنعام/ 131] ، إلى غير ذلك . ( ذ ا ) ہاں ھذا میں ذا کا لفظ اسم اشارہ ہے جو محسوس اور معقول چیز کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے ۔ ھذہ وھذی وھاتا ۔ ان میں سے سرف ھاتا کا تژنیہ ھاتان آتا ہے ۔ ھذہٰ اور ھٰذی کا تثنیہ استعمال نہیں ہوتا قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تونے مجھ پر فضیلت دی ہے ۔ هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔ هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے ۔ إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ۔ هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے ۔ هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے ۔ ھذا کے بالمقابل جو چیز اپنی ذات کے اعتبار سے دور ہو یا باعتبار مرتبہ بلند ہو ۔ اس کے لئے ذاک اور ذالک استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] یہ کتاب یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے ۔ ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] یہ اس لئے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ۔ ہلاک کردے ۔ حيد قال عزّ وجلّ : ذلِكَ ما كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ [ ق/ 19] أي : تعدل عنه وتنفر منه . ( ح ی د ) الحید ( ض ) کے معنی پہلو ہی کرنے اور دور بھاگنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ ذلِكَ ما كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ [ ق/ 19] انسان یہی ( وہ حالت ) ہے جس سے تو بھاگتا تھا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٩{ وَجَآئَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّط } ” اور بالآخر موت کی بےہوشی کا وقت آن پہنچا ہے حق کے ساتھ ۔ “ موت کا آنا تو قطعی اور برحق ہے ‘ اس سے کسی کو انکار نہیں۔ اللہ کے منکر تو بہت ہیں لیکن موت کا منکر کوئی نہیں۔ { ذٰلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیْدُ ۔ } ” یہی ہے نا وہ چیز جس سے تو بھاگا کرتا تھا ! “ اس بات کا انسان کی نفسیات کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ یہ ہر انسان کی نفسیاتی کمزوری ہے کہ موت کو برحق جانتے ہوئے بھی وہ اس کے تصور کو حتی الوسع اپنے ذہن سے دور رکھنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ وقتی طور پر اگر کسی عزیز کی موت اور تجہیز و تکفین کے موقع پر اپنی موت اور قبر کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آتا بھی ہے تو انسان فوری طور پر اس خیال کو ذہن سے جھٹک کر روز مرہ کے معمولات میں خود کو مصروف کرلیتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

22 "To come with the truth" implies that the agony of death is the starting point when the reality which had remained concealed in the world, begins to be uncovered. At this point man starts seeing clearly the other world of which the Prophet had forewarned him. Here, man also comes to know that the Hereafter is the very truth, and also this whether he is entering this second stage of life as favored or damned. 23 That is, "This is the same reality which you refused to believe. You desired that you should live and go about as an unbridled rogue in the world, and there should be no other life after death, in which you may have to suffer for the consequences of your deeds, That is why you shunned the concept of the Hereafter and were not at all inclined to believe that this next world would ever be established. Now, you may see that the same next world is unveiling itself before you.".

سورة قٓ حاشیہ نمبر :22 حق لے کر آ پہنچنے سے مراد یہ ہے کہ موت کی جانکنی وہ نقطۂ آغاز ہے جہاں سے وہ حقیقت کھلنی شروع ہو جاتی جس پر دنیا کی زندگی میں پردہ پڑا ہوا تھا ۔ اس مقام سے آدمی وہ دوسرا عالم صاف دیکھنے لگتا ہے جس کی خبر انبیاء علیہم السلام نے دی تھی ۔ یہاں آدمی کو یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ آخرت بالکل برحق ہے ، اور یہ حقیقت بھی اس کو معلوم ہو جاتی ہے کہ زندگی کے اس دوسرے مرحلے میں وہ نیک بخت کی حیثیت سے داخل ہو رہا ہے یا بد بخت کی حیثیت سے ۔ سورة قٓ حاشیہ نمبر :23 یعنی یہ وہی حقیقت ہے جس کو ماننے سے تو کنی کتراتا تھا ۔ تو چاہتا تھا کہ دنیا میں نتھے بیل کی طرح چھوٹا پھرے اور مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہ ہو جس میں تجھے اپنے اعمال کا خمیازہ بھگتنا پڑے ۔ اسی لیے آخرت کے تصور سے تو دور بھاگتا تھا اور کسی طرح یہ ماننے کے لیے تیار نہ تھا کہ کبھی یہ عالم بھی برپا ہونا ہے ۔ اب دیکھ لے ، یہ وہی دوسرا علم تیرے سامنے آ رہا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(50:19) سکرۃ الموت مضاف مضاف الیہ۔ سکرۃ بےہوشی، مدہوشی، موت کی سختی جو آدمی پر چھا جاتی ہے اور اس کی عقل کو زائل کردیتی ہے۔ بالحق : ب تعدیہ کے لئے ہے بالحق جاءت کا مفعول یہ ہے ۔ موت کی بیہوشی حقیقت لے کر آئے گی۔ دنیا کی ہر چیز بےاصل اور بےحقیقت ہے مرنے کے بعد جو احوال اور واقعات پیش آئیں گے وہ مبنی بر حقیقت اور محقق ثابت ہیں۔ ذلک : یعنی یہ موت اور اس کے بعد کی حقیقتیں۔ ما موصولہ اگل اجملہ اس کا صلہ منہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب موت کیلئے ہے۔ تحید۔ مضارع واحد مذکر حاضر حید (باب ضرب) مصدر۔ کنارہ کرنا۔ مڑنا۔ کنت منہ تحید۔ جس سے تو کنارہ کیا کرتا تھا اور بھاگا کرتا تھا۔ یہاں خطاب مطلق انسان سے نہیں ہے بلکہ ایک فاسق و فاجر شخص سے ہے۔ حید مادہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی آخرت کی جن باتوں کی انبیاء (علیہم السلام) نے خبر دی تھی موت آتے ہی بندہ انہیں آنکھوں سے دیکھنا شروع کر دے گا اور ان کے بارے میں اسے کسی قسم کا شبہ نہ رہے گا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی ہر شخص کی موت قریب ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنی قربت اور قدرت کا ذکر فرما کر انسان کو نیک بنانے کی کوشش فرمائی ہے مگر اکثر انسان اپنے رب کے تابعدار بننے کے لیے تیار نہیں ہوتے یہاں تک کہ موت انہیں آلیتی ہے۔ موت برحق ہے جو نہ نیک کو چھوڑتی ہے اور نہ برے آدمی سے ٹلتی ہے۔ ہر انسان کو موت کے وقت اپنے کیے کا احساس ہوتا ہے۔ انسان جب اپنی موت کو اپنے سامنے دیکھتا ہے تو پھر اسے یقین ہوجاتا ہے کہ اب میرا بچنا محال ہے۔ اس وقت دل ہی دل میں آرزو کرتا ہے کہ کاش مجھے مہلت مل جائے اور میں اللہ کی راہ میں صدقہ دے کر اپنے آپ کو بچا سکوں۔ لیکن جب موت وارد ہوتی ہے تو وہ کسی کو ایک لمحہ بھی مہلت نہیں دیتی۔ اللہ تعالیٰ پوری طرح باخبر ہے جو کچھ لوگ کرتے ہیں۔ (المنافقون : ١٠، ١١) انسان موت سے کلیتاً ختم نہیں ہوجاتا بلکہ یہ عالم برزخ میں داخل ہوجاتا ہے۔ برزخ کو برزخ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا اور آخرت کے درمیان ایک پردہ ہے۔ قیامت کے دن جب دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو انسان کی آنکھوں سے برزخ کا پردہ اٹھ جائے گا اور اسے یقین ہوجائے گا کہ آج کا دن وہ دن ہے جس کے بارے میں مجھے بار بار تنبیہ کی جاتی تھی۔ لوگوں کو محشر کے میدان میں اکٹھا کیا جائے گا اور ملائکہ ہر کسی کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کریں گے۔ ان میں سے ایک فرشتہ انسان کو پیچھے سے ہانک رہا ہوگا اور دوسرا اس کا اعمال نامہ لیے ہوئے اسے اللہ کے حضور پیش کرے گا۔ گویا کہ مجرم بھی حاضر ہوگا اور اس کا ریکارڈ بھی پیش کیا جائے گا۔ ملائکہ مجرم اور اس کے اعمال پیش کرنے کے ساتھ ہی انسان کے اعمال نامے کی گواہی دیں گے کہ یہ اعمال نامہ اسی مجرم کا ہے اور جو کچھ ہم نے لکھا ہے اس کا ایک ایک لفظ حقیقت پر مبنی ہے۔ اس دن انسان کی آنکھوں سے غفلت کا پردہ اٹھادیا جائے گا تو رب ذوالجلال ارشاد فرمائیں گے کہ آج ہم نے تیرے سامنے سے پردہ اٹھا دیا ہے اور تیری نگاہ بھی پہلے سے زیادہ تیز ہوچکی ہے۔ جس صور کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے اس سے مراد وہ صور ہے جو دوسری دفعہ پھونکا جائے گا۔ پہلے صور سے ہر چیز فنا ہوجائے گی اور دوسری دفعہ صور پھونکنے سے قیامت برپا ہوجائے گی اور ہر کوئی اپنی قبر سے نکل کر محشر کے میدان میں جمع ہوگا جس کی تفصیل حدیث میں موجود ہے۔ اس وقت ہر انسان کو ایک فرشتہ ہانک رہا ہوگا اور دوسرا اس کے اعمال نامے کو لیے ہوئے اسے رب ذوالجلال کے حضور پیش کرے گا۔ نگاہ تیز ہونے سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں انسان کی آنکھوں کے سامنے ایک پردہ حائل ہے جس سے نہ وہ قبر کا منظر دیکھ سکتا اور نہ اس کے سامنے حشر کا انجام ہوتا ہے۔ لیکن جونہی انسان کو موت آتی ہے تو اس کے سامنے عالم برزخ کا منظر آجاتا ہے۔ قیامت کے دن اس کے سامنے ہر چیز آشکارا ہوجائے گی اور وہ کھلی اور تیز آنکھوں کے ساتھ اسے دیکھے گا۔ (عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَسَیُکَلِّمُہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَیْسَ بَیْنَ اللّٰہِ وَبَیْنَہٗ تُرْجُمَانٌ ثُمَّ یَنْظُرُ فَلَا یَرٰی شَیْءًا قُدَّامَہُ ثُمَّ یَنْظُرُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَتَسْتَقْبِلُہُ النَّارُ فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ یَتَّقِیَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍٍ ۔۔ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ ) (رواہ البخاری : باب کلام الرب عزوجل یوم القیامۃ مع الأنبیاء وغیرھم) ” حضرت عدی بن حاتم (رض) بیان کرتے ہیں نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے ہر کسی کے ساتھ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کلام کریں گے، اللہ اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا، پھر وہ دیکھے گا اس نے کیا عمل کیے ہیں، انسان دیکھے گا تو اس کے سامنے آگ ہوگی جو تم سے آگ سے بچنے کی استطاعت رکھتا ہے کوشش کرے۔ چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ساتھ۔۔ اگر وہ یہ نہ پائے تو اسے چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے۔ “ بعض لوگ اپنی بینائی کو تیز کرنے کے لیے آیت ٢٢ کو پڑھ کر اپنی آنکھوں پر دم کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید میں شفاء ہے لیکن غور فرمائیں کہ یہ الفاظ کن لوگوں کو کہے جائیں گے اور ان میں کس قدر انتباہ پایا جاتا ہے۔ افسوس ! ہم نے عبرت حاصل کرنے کی بجائے اسے دم بنا لیا ہے۔ کیا بہتر نہیں کہ اپنے وجود کی سلامتی کے لیے وہ دم کریں جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے لیے پسند فرمایا ہے۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) قَالَتْ کَانَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُول اللّٰہُمَّ عَافِنِی فِی جَسَدِی وَعَافِنِی فِی بَصَرِی وَاجْعَلْہُ الْوَارِثَ مِنِّی لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ سُبْحَان اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ) (رواہ الترمذی : کتاب الدعوات عن رسول اللہ، باب ماجاء فی جامع الدعوات عن النبی، قال البانی ہذا حدیث صحیح) ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا کیا کرتے تھے اے اللہ ! میرے جسم کو عافیت دے اور میری بصارت کو بھی عافیت دے اور میری طرف سے اس کو وارث بنا دے۔ اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں جو حلیم اور عزت والا ہے، اللہ پاک ہے اور بہت بڑے عرش کا رب ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ “ ” وَعِیْدٌ“ کا معنٰی ہے دھمکی دینا کسی کو برے انجام سے ڈرانا۔ (المنجد) مسائل ١۔ اسرافیل کے دوسرا صور پھونکنے پر ہر انسان اٹھ کھڑا ہوگا اور اسے یقین ہوجائے گا کہ یہی قیامت کا دن ہے۔ ٢۔ قیامت کے دن انسان کو ایک فرشتہ پیچھے سے ہانک رہا ہوگا، دوسرا اس کا اعمال نامہ پیش کرے گا۔ ٣۔ قیامت کے دن انسان کی غفلت کا پردہ چاک ہوجائے گا اور ہر کوئی اپنا انجام کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھے گا۔ تفسیر بالقرآن پہلا اور دوسرا صورپھونکنے کے بعد کا منظر : ١۔ پہلے نفخہ سے لوگ بےہوش ہوجائیں گے اور دوسرے نفخہ سے تمام لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ (الزّمر : ٦٢) ٢۔ دوسرے نفخہ کے ساتھ ہی تمام لوگ قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف چل پڑیں گے۔ (یٰس : ٥١) ٣۔ ایک چیخ سے ہی تمام لوگ ہمارے سامنے حاضر ہوجائیں گے۔ (یٰس : ٥٣) ٤۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تم گروہ در گروہ چلے آؤ گے۔ (النبا : ١٨) ٥۔ جب دوسری دفعہ صور پھونکا جائے گا تو ہم ان سب کو جمع کرلیں گے۔ (الکھف : ٩٩) ٦۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تو ہم نیلی پیلی آنکھوں والے مجرموں کو گھیر لائیں گے۔ (طہٰ : ١٠٢) ٧۔ جس دن صورپھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین والے سب کے سب گھبرا اٹھیں گے مگر جسے اللہ چاہے اور سارے کے سارے عاجز و پست ہو کر اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ (النمل : ٧٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ تو ہیں کتاب زندگی کے صفحات اور آخری صفحہ اس دنیا کی زندگی کا الٹایا جا رہا ہے۔ وجاءت سکرۃ ۔۔۔۔۔ منہ تحید (٥٠ : ١٩) ” پھر دیکھو ، وہ موت کی جان کنی حق لے کر آپہنچی ، یہ وہی چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا “۔ موت وہ حقیقت ہے جس سے اللہ کی تمام مخلوقات ڈرتی ہے۔ اور ہر شخص موت کا تصور اپنے ذہن سے محو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن یہ کس طرح ممکن ہے۔ موت ایک ایسا طلبگار ہے جو مطالبے سے تھکتا نہیں۔ یہ اپنی رفتار سے انسان کے قریب ہوتی رہتی ہے۔ اور اس کے قدموں کی رفتار کبھی سست نہیں پڑتی ۔ اور اس کے مقررہ وقت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی۔ موت کے آخری لمحات جنہیں سکرات الموت کہا جاتا ہے۔ اس کے تصور ہی سے انسان کے اعجا کانپ اٹھتے ہیں۔ یہ موت کا منظر اسکرین پر ابھی پیش ہو رہا ہے کہ سوال ہوتا ہے۔ ذلک ما کنت منہ تحید (٥٠ : ١٩) ” وہی چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا “۔ انسان ابھی تک تو زندہ ہے اس دنیا میں ہے لیکن وہ اس سوال کو سن رہا ہے۔ لیکن جب وہ حقیقتاً جان کنی کے لمحات میں ہوگا اور اس وقت وہ یہ سوال سنے گا تو کیا حالت ہوگی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سکرات الموت طاری ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے چہرۂ مبارک سے پسینہ پونچھ رہے تھے اور فرماتے تھے۔ ” سبحان اللہ فی الواقعہ جان کنی کے لمحات ہوتے ہیں “ ۔ آپ یہ کہہ رہے تھے حالانکہ آپ الرفیق الاعلیٰ کی طرف رواں تھے اور اللہ کے لقاء کے مشتاق تھے دوسروں کی حالت کیا ہوگی ؟ یہاں آیت میں ایک لفظ قابل توجہ ہے۔ وجاءت سکرۃ الموت بالحق (٥٠ : ١٩) ” اور موت کی جان کنی حق لے کر آپہنچی “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان جب آخری لمحات میں ہوتا ہے تو اسے عالم آخرت نظر آجاتا ہے ۔ تمام حجابات ہٹ جاتے ہیں ، اب یہ جن باتوں سے جاہل تھا وہ اسے معلوم ہوجاتی ہیں۔ وہ بھی اس کے سامنے آجاتی ہیں جن کا وہ انکار کیا کرتا تھا۔ لیکن اب تو وقت گزر جاتا ہے۔ اب دیکھا تو مفید نہیں رہتا۔ اب علم و فضل اور حقائق کا ادراک کس کام کا ! کیونکہ اب توبہ کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔ ایمان لانا اب مفید نہیں ہے۔ یہ وہ سچائی تھی جس کی وہ تکذیب کرتے تھے اور اس کے بارے میں سخت خلجان میں تھے۔ اب جبکہ انہوں نے اسے پا لیا ہے اور تصدیق کر رہے ہیں تو یہ ادراک اور تصدیق ان کے کسی کام کی نہیں ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

موت کی سختی کا تذکرہ : چوتھی آیت میں موت کی سختی کا تذکرہ فرمایا ہے ﴿ وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بالْحَقِّ ١ؕ﴾ (اور حق کے ساتھ موت کی سختی آجائے گی) ۔ ﴿ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدُ ٠٠١٩﴾ (نافرمان لوگ جو موت سے گھبراتے ہیں ان سے کہا جائے گا دیکھو یہ وہ موت ہے جس سے تم بچتے اور گھبراتے تھے آخر اس نے تمہیں پکڑ ہی لیا، اللہ تعالیٰ نے جو موت آنے کا فیصلہ فرما دیا ہے اس سے کسی کو چھٹکارہ نہیں اس کے بعد جو برزخ اور حشر کے احوال ہیں وہ بھی انسانوں پر گزریں گے ان سے بھی چھٹکارہ نہیں آئندہ آیات میں ایام قیامت کے بعض مظاہر بیان فرمائے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

11:۔ ” وجاءت۔ الایۃ “ یہ سکرات الموت کا منظر ہے۔ ذلک سے پہلے یقال لہ مقدر ہے۔ بالھق ای حقیقۃ الامر (بیضاوی) ۔ یعنی موت کی شدت حقیقۃ اور واقعۃ ضرور آئے گی اس وقت منکرین بعث سے کہا جائے گا کہ یہی وہ موت ہے جس سے تم بھاگتے تھے اور جو قیامت اور حشر و نشر کا دیباچہ ہے۔ ” ونفخ فی الصور الخ “ اس کے بعد صورت پھونکا جائیگا اور یہ وعید عذاب کے پورا ہونے کا دن ہوگا۔ اس سے مراد نفخہ ثانیہ ہے جس سے ساری مخلوق ایک دم جی اٹھے گی۔ ” وجاءت کل نفس۔ الایۃ “ اس کے بعد ہر شخص میدانِ حشر میں حاضر ہوگا اور ہر آدمی کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے ایک اسے میدان حشر کی طرف لے کر جائیگا اور دوسرا اس کے اعمال کا گواہ ہوگا۔ ایک حدیث میں ہے اس سے نیکیاں اور برائیاں لکھنے والے دو فرشتے مراد ہیں ایک سائق ہوگا اور دوسرا شہید۔ وفی حدیث اخرجہ ابو نعیم فی الحلیۃ عن جابر مرفوعا تصریح بان ملک الحسنات و ملک السیئات احدھما سائق والاخر شہید (روح ج 26 ص 183) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(19) اور موت کی سختی اور بےہوشی حقیقتہً قریب آپہنچی یہی تو وہ چیز ہے جس سے تو بچتا اور بدکتا پھرتا تھا۔ یعنی یہ لوگ تو دوبارہ زندہ ہونے کو بہت بعید کہتے ہیں حالانکہ اس کے آثار اور اس کی ابتداء تو موت سے ہی شروع ہوجاتی ہے اور وہ حقیقتہً قریب ہے یا یہ مطلب ہے کہ موت کی بےہوشی بہت حقائق اور امور داقعیہ کو اپنے ساتھ لے آئی اور جو چیزیں موت کے بعدآنے والی ہیں اور آخرت میں جو احوال اور جو اہوال پیش آنے والے ہیں وہ ظاہر ہونے شروع ہوجائیں گے۔ اور یہ جو فرمایا ذلک ماکنت منہ تحید اگر یہ صرف منکر قیامت کو کہا جائے تب تو ظاہر ہے کہ کافر موت سے بہت گھبراتا ہے اور اگر عام لیا جائے تو یہ اس لئے فاسق فاجر اپنے گناہوں کی وجہ سے بچتا ہے اور موت سے ٹلناچاہتا ہے اور نیک بندے طبعاً موت نہیں چاہتے یہ طبیعت انسانی کا مقتضا ہے کہ انسان مرنے کو پسند نہیں کرتا اور شاید فرشتے مرتے وقت مرنے والے کو خطاب کرکے یہ کہتے ہوں کہ ذلک ماکنت منہ تحید جیسا کہ بعض نے کہا ہے اب آگے وقوع قیامت کا ذکر ہے۔