Surat Qaaf

Surah: 50

Verse: 31

سورة ق

وَ اُزۡلِفَتِ الۡجَنَّۃُ لِلۡمُتَّقِیۡنَ غَیۡرَ بَعِیۡدٍ ﴿۳۱﴾

And Paradise will be brought near to the righteous, not far,

اور جنت پر ہیز گاروں کے لئے بالکل قریب کر دی جائے گی ذرا بھی دور نہ ہوگی؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And Paradise will be Uzlifat to those who had Taqwa, not far off. meaning, Paradise will be brought close and near to the pious, according to Qatadah, Abu Malik and As-Suddi, غَيْرَ بَعِيدٍ (not far off), and this will occur on the Day of Resurrection, which is not far off. Surely that Day will come to pass and all that is bound to come, is near,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

31۔ 1 اور بعض نے کہا ہے کہ قیامت جس روز جنت قریب کردی جائے گے دور نہیں ہے کیونکہ وہ لامحالہ واقع ہو کر رہے گی اور کل ما ہوات فھو قریب اور جو بھی آنے والی چیز ہے وہ قریب ہی ہے دور نہیں (ابن کثیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٦] جنت اور دوزخ کا باہمی مکالمہ :۔ جن پرہیزگاروں کے حق میں جنت کا فیصلہ ہوجائے گا وہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے جنت کو زینت اور گونا گوں نعمتوں سے آراستہ و پیراستہ دیکھ لیں گے اور اس کی خوشگوار خوشبوئیں محسوس کرنے لگیں گے اگر فاصلہ زیادہ بھی ہوگا تو اسے سمٹا کر جنت کو ان کے قریب کردیا جائے گا۔ جنت میں کیسے لوگ داخل ہوں گے اور دوزخ میں کیسے ؟ یہ مندرجہ ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے : && سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : && جنت اور دوزخ آپس میں تکرار کرنے لگیں۔ دوزخ نے کہا کہ مجھ میں وہ لوگ آئیں گے جو متکبر اور جابر ہیں اور جنت کہے گی کہ مجھ میں تو کمزور اور ناتواں قسم کے لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا :&& تو میری رحمت ہے، میں تیری وجہ سے اپنے جن بندوں پر چاہوں گا رحمت کروں گا && اور دوزخ سے فرمایا :&& تو میرا عذاب ہے، میں تیری وجہ سے اپنے جن بندوں کو چاہوں گا عذاب دوں گا && اور ان میں سے ہر ایک کو بھر دیا جائے گا۔ دوزخ تو کسی طرح نہیں بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا پاؤں اس پر رکھ دے گا۔ تب وہ کہے گی کہ بس بس، اور بھر کر سمٹ جائے گی اور اللہ تعالیٰ اپنی کسی مخلوق پر ظلم نہیں کرے گا۔ رہی جنت تو اسے پر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ اور خلقت پیدا کر دے گا && (بخاری۔ کتاب التفسیر)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(واز لقت الجنۃ للمتقین غیر بعید : قرآن کے عام اسلوب کے مطابق جہنمیوں کے ساتھ اہل جنت کا ذکر بھی فرمایا۔ یعنی متفی لوگوں کی تکریم کے لئے جنت ان کے قریب لائی جائے گی، تاکہ انہیں چلنے کی تکلیف نہ اٹھانا پڑے ۔ ” غیر بعید ‘ ‘ کا لفظ تاکید کے لئے ہے ، جیسے فرمایا :(واصل فرعون قومہ وما ھدی) (طہ : ٨٩)” اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور سیدھے راستے پر نہ ڈالا۔ “ اور رسول اللہ ں نے بارش کی دعا میں فرمایا :(نافعاً غیر ضار عاجلاً غیر اجل) (ابو داؤد، صلاۃ الاستسقاء باب رفع الیدین فی الستسقاء : ١١٦٩)”(اے اللہ ! وہ بارش ، نفع آور ہو، کسی ضرر کا باعث نہ بنے اور جلدی آئے ، دیر نہ کرے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِيْنَ غَيْرَ بَعِيْدٍ۝ ٣١ زلف الزُّلْفَةُ : المنزلة والحظوة «2» ، وقوله تعالی: فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً [ الملک/ 27] وقیل لمنازل اللیل : زُلَفٌ قال : وَزُلَفاً مِنَ اللَّيْلِ [هود/ 114] ( ز ل ف ) الزلفۃ اس کے معنی قریب اور مرتبہ کے ہیں چناچہ آیت : ۔ فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً [ الملک/ 27] سو جب وہ قریب دیکھیں گے ۔ اور منازل لیل یعنی رات کے حصوں کو بھی زلف کہا گیا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَزُلَفاً مِنَ اللَّيْلِ [هود/ 114] اور رات کے کچھ حصوں میں۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ تَّقْوَى والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، ثمّ يسمّى الخوف تارة تَقْوًى، والتَّقْوَى خوفاً حسب تسمية مقتضی الشیء بمقتضيه والمقتضي بمقتضاه، وصار التَّقْوَى في تعارف الشّرع حفظ النّفس عمّا يؤثم، وذلک بترک المحظور، ويتمّ ذلک بترک بعض المباحات لما روي : «الحلال بيّن، والحرام بيّن، ومن رتع حول الحمی فحقیق أن يقع فيه» قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ، إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا [ النحل/ 128] ، وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً [ الزمر/ 73] ولجعل التَّقْوَى منازل قال : وَاتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ [ البقرة/ 281] ، واتَّقُوا رَبَّكُمُ [ النساء/ 1] ، وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ [ النور/ 52] ، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسائَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحامَ [ النساء/ 1] ، اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ [ آل عمران/ 102] . و تخصیص کلّ واحد من هذه الألفاظ له ما بعد هذا الکتاب . ويقال : اتَّقَى فلانٌ بکذا : إذا جعله وِقَايَةً لنفسه، وقوله : أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذابِ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 24] تنبيه علی شدّة ما ينالهم، وأنّ أجدر شيء يَتَّقُونَ به من العذاب يوم القیامة هو وجوههم، فصار ذلک کقوله : وَتَغْشى وُجُوهَهُمُ النَّارُ [إبراهيم/ 50] ، يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] . التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز سے بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ جس طرح کہ سبب بول کر مسبب اور مسبب بولکر سبب مراد لیا جاتا ہے اور اصطلاح شریعت میں نفس کو ہر اس چیز سے بچا نیکا نام تقوی ہے جو گناہوں کا موجب ہو ۔ اور یہ بات محظو رات شرعیہ کے ترک کرنے سے حاصل ہوجاتی ہے مگر اس میں درجہ کمال حاصل کرنے کے لئے بعض مباحات کو بھی ترک کرنا پڑتا ہے ۔ چناچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے ۔ ( 149 ) الحلال بین واحرام بین ومن وقع حول الحمی فحقیق ان یقع فیہ کہ حلال بھی بین ہے اور حرام بھی بین ہے اور جو شخص چراگاہ کے اردگرد چرائے گا تو ہوسکتا ہے کہ وہ اس میں داخل ہوجائے ( یعنی مشتبہ چیزیں اگرچہ درجہ اباحت میں ہوتی ہیں لیکن ورع کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں بھی چھوڑ دایا جائے ) قرآن پاک میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا[ النحل/ 128] کچھ شک نہیں کہ جو پرہیز گار ہیں اللہ ان کا مدد گار ہے ۔ وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً [ الزمر/ 73] اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کو گروہ بناکر بہشت کی طرف لے جائیں گے ۔ پھر تقویٰ کے چونکہ بہت سے مدارج ہیں اس لئے آیات وَاتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ [ البقرة/ 281] اور اس دن سے ڈرو جب کہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے ۔ واتَّقُوا رَبَّكُمُ [ النساء/ 1] اپنے پروردگار سے ڈرو ۔ اور اس سے ڈرے گا ۔ اور خدا سے جس کا نام کو تم اپنی حاجت برآری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو ۔ اور قطع مودت ارجام سے ۔ اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ [ آل عمران/ 102] خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ میں ہر جگہ تقویٰ کا ایک خاص معنی مراد ہے جس کی تفصیل اس کتاب کے اور بعد بیان ہوگی ۔ اتقٰی فلان بکذا کے معنی کسی چیز کے ذریعہ بچاؤ حاصل کرنے کے ہیں ۔ اور آیت : ۔ أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذابِ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 24] بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہوا ۔ میں اس عذاب شدید پر تنبیہ کی ہے جو قیامت کے دن ان پر نازل ہوگا اور یہ کہ سب سے بڑی چیز جس کے ذریعہ وہ و عذاب سے بچنے کی کوشش کریں گے وہ ان کے چہرے ہی ہوں گے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے دوسری جگہ فرمایا : وَتَغْشى وُجُوهَهُمُ النَّارُ [إبراهيم/ 50] اور ان کے مونہوں کو آگ لپٹ رہی ہوگی ۔ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] اس روز منہ کے بل دوزخ میں گھسٹیے جائیں گے ۔ غير أن تکون للنّفي المجرّد من غير إثبات معنی به، نحو : مررت برجل غير قائم . أي : لا قائم، قال : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] ، ( غ ی ر ) غیر اور محض نفی کے لئے یعنی اس سے کسی دوسرے معنی کا اثبات مقصود نہیں ہوتا جیسے مررت برجل غیر قائم یعنی میں ایسے آدمی کے پاس سے گزرا جو کھڑا نہیں تھا ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے بعد البُعْد : ضد القرب، ولیس لهما حدّ محدود، وإنما ذلک بحسب اعتبار المکان بغیره، يقال ذلک في المحسوس، وهو الأكثر، وفي المعقول نحو قوله تعالی: ضَلُّوا ضَلالًابَعِيداً [ النساء/ 167] ( ب ع د ) البعد کے معنی دوری کے ہیں یہ قرب کی ضد ہے اور ان کی کوئی حد مقرر نہیں ہے بلکہ ایک ہی جگہ کے اعتبار سے ایک کو تو قریب اور دوسری کو بعید کہا جاتا ہے ۔ محسوسات میں تو ان کا استعمال بکثرت ہوتا رہتا ہے مگر کبھی کبھی معافی کے لئے بھی آجاتے ہیں ۔ جیسے فرمایا ضَلُّوا ضَلالًا بَعِيداً [ النساء/ 167] وہ راہ ہدایت سے بٹھک کردور جا پڑے ۔ ۔ ان کو ( گویا ) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣١ { وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّـۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ ۔ } ” اور جنت قریب لائی جائے گی اہل تقویٰ کے لیے ‘ کچھ بھی دور نہیں ہوگی۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

39 That is, "It is not My way to change the decisions once taken. The decision that I have taken to east you into Hell cannot be withdrawn, nor can the law that I had announced in the world be changed that the punishment for misleading and for being misled will be awarded in the Hereafter."

سورة قٓ حاشیہ نمبر :39 یعنی جونہی کسی شخص کے متعلق اللہ تعالیٰ کی عدالت سے یہ فیصلہ ہوگا کہ وہ متقی اور جنت کا مستحق ہے ، فی الفور وہ جنت کو اپنے سامنے موجود پائے گا ۔ وہاں تک پہنچنے کے لیے اسے کوئی مسافت طے نہیں کرنی پڑے گی کہ پاؤں سے چل کر یا کسی سواری میں بیٹھ کر سفر کرتا ہو وہاں جائے اور فیصلے کے وقت اور دخول جنت کے درمیان کوئی وقفہ ہو ۔ بلکہ ادھر فیصلہ ہوا اور ادھر متقی جنت میں داخل ہو گیا ۔ گویا وہ جنت میں پہنچایا نہیں گیا ہے بلکہ خود جنت ہی اٹھا کر اس کے پاس لے آئی گئی ہے ۔ اس سے کچھ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ عالم آخرت میں زمان و مکان کے تصورات ہماری اس دنیا کے تصورات سے کس قدر مختلف ہوں گے ۔ جلدی اور دیر اور دوری اور نزدیکی کے وہ سارے مفہومات وہاں بے معنی ہوں گے جن سے ہم اس دنیا میں واقف ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(50:31) واذلفت : واؤ عاطفہ ازلفت ماضی مجہول جمع مؤنث غائب ازلاف (افعال) مصدر۔ جملہ کا عطف یا تو نفخ فی لاصور پر ہے یا وجاءت کل نفس ۔۔ پر ہے۔ جہنمیوں کے ذکر کے بعد ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جنہوں نے اپنی ساری زندگی زہد وتقوی اور احکام خداوندی کی تعمیل میں گزاردی۔ اذلاف بمعنی قریب لانا۔ (جنت متقیوں کے قریب لائی گئی یعنی لائی جائے گی) ۔ (ماضی بمعنی مستقبل) غیر بعید : موصوف محذوف ہے ای غیر مکان بعید : او غیر زمان بعید یہ لفظ قرب کی مزید تاکید کے لئے لایا گیا ہے اگرچہ ازلفت کا لفظ بھی قرب پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ محاورہ میں بولا جاتا ہے کہ فلاں مکان قریب ہے دور نہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی قیامت کے روز وہ ان سے دور نہ ہوگی۔ حشر کے میدان میں کھڑے ہوئے اوہ اسے قریب سے دیکھے اور اس کی تروتازگی اور مہک پائیں گے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ ازلاف جنت کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں، یا تو اس کی جگہ سے منتقل کر کے میدان قیامت میں لے آویں، اور اللہ کو سب قدرت ہے، تو اس صورت میں ادخلوھا فرمانا بایں معنی نہیں کہ ابھی چلے جاو بلکہ بشارت اور وعدہ ہے کہ تم بعد حساب و کتاب وغیرہ کے اس میں جانا، اور دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ بعد فراغ حساب وغیرہ کے ان لوگوں کو جنت کے قریب پہنچا کر باہر ہی سے کہا جائے گا کہ فھذا ما تو عدون پھر اور قریب کر کے کہا جائے گا ادخلوھا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جہنم کے ذکر اور جہنمیوں کے انجام کے بعد جنت اور اس کے مہمانوں کا ذکر۔ قرآن مجید اپنے بہترین اسلوب کے مطابق یہاں بھی جہنم کے بعد جنت کا تذکرہ کرتا ہے۔ ایک طرف جہنمی جہنم میں جھونکے جارہے ہوں گے اور دوسری طرف رب کریم جنت کو جنتیوں کے قریب تر کردے گا۔ جنتی جنت کو دیکھتے اور اس کی خوشبو پاتے ہی خوش ہوجائیں گے۔ جونہی ان کے چہروں پر مسکراہٹیں نمایاں ہوں گی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوگا یہی وہ جنت ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ جسے ” اللہ “ کی طرف رجوع کرنے والے اور گناہوں سے بچنے والے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جنت ایسے شخص کے لیے ہے جو بِن دیکھے رب رحمٰن سے ڈرتا ہے اور خلوص دل کے ساتھ اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔ اسے ارشاد ہوگا کہ سلامتی کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ جنتی جنت میں جو چاہیں گے وہی پائیں گے اور ہماری طرف سے مزید بھی بہت کچھ دیا جائے گا۔ اس فرمان میں جنت میں جانے والے کے چار اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے۔ ١۔ اَوَّابٌ: عُسریُسر، غم اور خوشی، صحت اور تندرستی میں اپنے رب کی طرف عملاً رجوع کرنے والا ہوتا ہے۔ ٢۔ حَفِیْظٌ: ہرحال میں اپنے رب کی حدود وقیود کی حفاظت کرتا ہے۔ ٣۔ بِن دیکھے اپنے رب سے ڈرنے والا ہوتا ہے : ایمان کی بنیاد غائب پر قائم ہے جس میں اللہ، ملائکہ اور آخرت پر ایمان لانا لازم ہے۔ ایمانیات کی بنیاد ” اللہ “ کی ذات اور اس کا حکم ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ شخص جنت میں جائے گا جو بِن دیکھے الرحمن سے ڈرتا ہے۔ یہاں رب تعالیٰ نے اپنا ذاتی نام ” اللہ “ لینے کی بجائے صفاتی نام الرحمن لیا ہے۔ جس میں بالخصوص دو باتیں واضح کی گئی ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے اور اس کی مہربانی سے ہی نیک لوگ جنت میں جائیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ کا نیک بندہ وہ ہے جو اپنے رب کو الرحمن سمجھتا ہے۔ مگر اس کے باوجود اس سے ڈرتارہتا ہے۔ الرحمن کی مہربانی کا عقیدہ اسے بےعملی کی طرف نہیں لے جاتا۔ (عَنْ جَابِرٍ (رض) قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ لاَ یُدْخِلُ أَحَدًا مِنْکُمْ عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ وَلاَ یُجِیرُہُ مِنَ النَّارِ وَلاَ أَنَا إِلاَّ بِرَحْمَۃٍ مِنَ اللَّہِ ) ( رواہ مسلم : باب لَنْ یَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّۃَ بِعَمَلِہِ بَلْ بِرَحْمَۃِ اللَّہِ تَعَالَی) ” حضرت جابر (رض) کہتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے کہ میرے اور کسی آدمی کے عمل اس کو جنت میں نہیں لے جاسکتے اور نہ ہی جہنم سے بچا سکتے مگر اللہ کی رحمت کے ساتھ۔ “ ٤۔ قَلْبِ سَلِیْم : ایسا دل جو ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔ جنتی کی پہلی صفت اَوَّاب بیان کی گئی ہے جس کا معنٰی عملاً اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا۔ ” قَلْبٍ مُّنِیْب “ کا معنٰی ہے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہونے والا۔ جو شخص اوّاب بھی ہو اور ” قَلْبٍ مُّنِیْب “ بھی رکھتاہو وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل کیا جائے گا۔ ایک مفسر کے بقول وہ شخص جنت میں داخل ہوگا جو آنکھوں سے جمال غیر اور دل کو خیال غیر سے پاک رکھے گا۔ 1 ۔ اُدْخُلُوْہَا بِسَلٰمٍ : جنتی کو اس کی موت کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی حاصل ہوجاتی ہے اور موت کے وقت ہی ملائکہ اسے سلام کہتے ہیں۔ 2 ۔ جنتی جنت سے نکالے جانے کے خوف سے سلامت رہے گا۔ اس لیے قرآن مجید نے بار بار ” یَوْمُ الْخُلُوٖد “ اور خالِدِیْنَ فِیْھَا اَبَداً کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ 3 ۔ جنت کی نعمتیں نہ ختم ہوں گی اور نہ ہی کم کی جائیں گی۔ 4 ۔ اللہ تعالیٰ جنتیوں پر ناراض ہونے کی بجائے ہمیشہ ہمیش خوش ہوگا۔ جنتی جو چاہیں گے سو پائیں گے : ( عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ یَا رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہَلْ فِی الْجَنَّۃِ مِنْ خَیْلٍ قَالَ إِنِ اللَّہُ أَدْخَلَکَ الْجَنَّۃَ فَلاَ تَشَاءُ أَنْ تُحْمَلَ فیہَا عَلَی فَرَسٍ مِنْ یَاقُوتَۃٍ حَمْرَاءَ یَطِیرُ بِکَ فِی الْجَنَّۃِ حَیْثُ شِءْتَ إِلاَّ فَعَلْتَ قَالَ وَسَأَلَہُ رَجُلٌ فَقَالَ یَا رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہَلْ فِی الْجَنَّۃِ مِنْ إِبِلٍ قَالَ فَلَمْ یَقُلْ لَہُ مِثْلَ مَا قَالَ لِصَاحِبِہِ قَالَ إِنْ یُدْخِلْکَ اللَّہُ الْجَنَّۃَ یَکُنْ لَکَ فیہَا مَا اشْتَہَتْ نَفْسُکَ وَلَذَّتْ عَیْنُکَ ) (رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ خَیْلِ الْجَنَّۃِ ) ” حضرت سلیمان بن بریدہ (رض) اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے آپ نے فرمایا اللہ تجھے جنت میں داخل کرے۔ اگر تیری یہ چاہت ہوئی کہ تو سرخ یاقوت سے مزین گھوڑے پر سوارہو۔ تو تجھے جنت میں گھوڑے لیے پھریں گے تیری یہ خواہش بھی پوری ہوجائے گی۔ دوسرے آدمی نے پوچھا کیا جنت میں اونٹ ہوں گے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بھی پہلے شخص جیسا جواب دیا اس کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا اگر اللہ تعالیٰ نے تجھے جنت میں داخل کردیاتو تجھے جنت میں وہ کچھ ملے گا جو تیرا جی چاہے گا اور جو تیری آنکھ کو بھائے گا۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ جنت کا وعدہ کیا ہے جو ہر صورت پورا ہو کر رہے گا۔ ٢۔ جنتی جو چاہیں گے سو پائیں گے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ جنتیوں کو اپنی طرف سے بہت کچھ عطا فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن جنتیوں کا احترام اور جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک : ١۔ فرشتے جب جنتیوں کے پاس جائیں گے تو انہیں سلام کہیں گے۔ (الزمر : ٨٩) ٢۔ ہم نے اس میں کھجوروں، انگوروں کے باغ بنائے ہیں اور ان میں چشمے جاری کیے ہیں۔ (یٰس : ٣٤) ٣۔ یقیناً متقی نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ (الطور : ١٧) ٤۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقہ : ٢٣) ٥۔ یقیناً متقین باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ (الذاریات : ١٥) ٦۔ جنتیوں کو سونے اور لولو کے زیور پہنائے جائیں گے۔ (فاطر : ٣٣) ٧۔ جنت میں تمام پھل دو ، دو قسم کے ہوں گے۔ (الرحمن : ٥٢) ٨۔ جنتیوں کو شراب طہور دی جائے گی۔ (الدھر : ٢١) ٩۔ جنتی سبز قالینوں اور مسندوں پر تکیہ لگا کر بیٹھے ہوں گے۔ (الرحمٰن : ٧٦) ١٠۔ جنت میں بےخار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے پھل ہوں گے۔ (الواقعہ : ٢٨ تا ٣٠) ١١۔ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کرے گا۔ (حٰم السجدۃ : ٣١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اور دوسری طرف ایک دوسرا خوبصورت منظر ہے ، پر محبت جس میں ہر کوئی راضی ہے ، سب متقی ایک جگہ جمع ہیں ، جنت ان کے قریب کردی گئی ہے اور ہر طرف سے مرحبا مرحبا کی صدائیں ہیں۔ وازلفت الجنۃ للمتقین غیر بعید (٣١) ھذا ما توعدون لکل اواب حفیظ (٣٢) من خشی ۔۔۔۔ بقلب منیب (٣٣) ادخلوھا ۔۔۔۔۔ الخلود (٣٤) لھم ما یشاءون فیھا ولدینا مزید (٥٠ : ٣١ تا ٣٥) ” اور جنت متقین کے قریب لے آئی جائے گی ، کچھ بھی دور نہ ہوگی۔ ارشاد ہوگا ” یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ، ہر اس شخص کے لئے جو بہت رجوع کرنے والا ، اور بڑی نگہداشت کرنے والا تھا ، جو بےدیکھے رحمٰن سے ڈرتا تھا ، اور جو دل گرویدہ لیے ہوئے آیا ہے۔ داخل ہوجاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ۔ وہ دن حیات ابدی کا دن ہوگا۔ وہاں ان کے لئے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس اس سے زیادہ بھی بہت کچھ ان کے لئے ہے “۔ اس منظر کے مکالمات میں ہر کلمے میں تکریم اور عزت افزائی ہے۔ جنت کو اہل ایمان کے قریب کردیا جاتا ہے۔ لہٰذا اس تک پہنچنے کے لئے ان کو کوئی سفر نہیں کرنا پڑتا بلکہ جنت خود چل کر آتی ہے ان کے قدموں میں۔ غیر بعید (٥٠ : ٣١) ” کچھ دور نہ ہوگی “ ۔ اور دوسری نعمتوں کے علاوہ اللہ کی رضا مندی ہوگی اور کہا جائے گا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

جنت اور اہل جنت کا تذکرہ : اس کے بعد جنت کا تذکرہ فرمایا کہ وہ متقیوں سے قریب کردی جائے گی کچھ دور نہ رہے گی پھر وہ جنت میں داخل کردیئے جائیں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتوں اور لذتوں کی وہ جگہ ہے جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا جاتا رہا، یہ وعدہ ہر اس شخص سے تھا جو اواب یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف خوب رجوع کرنے والا ہے اور حفیظ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر کا خاص دھیان رکھنے والا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں لگا رہتا تھا۔ اہل جنت کی مزید صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ بن دیکھے اللہ سے ڈرتے تھے۔ دنیا میں اس حالت پر رہے اور یہاں جو پہنچے تو قلب منیب لے کر آئے ان کا دل اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رہتا تھا اللہ کی یاد میں اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی فکر میں رہتے تھے اور متقیوں سے کہا جائے گا کہ اس جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ آج وہ دن ہے جس میں ہمیشگی کا فیصلہ کردیا گیا یعنی تم لوگ اس جنت میں ہمیشہ کے لیے جا رہے ہو۔ جنت میں دریدارِ الٰہی : پھر فرمایا کہ جنت میں داخل ہونے والوں کے لیے وہاں سب کچھ ہوگا جس کی انہیں خواہش اور چاہت ہوگی اور نہ صرف ان کی خواہش کے مطابق نعمتیں ملیں گی بلکہ ان کی خواہشوں سے زیادہ انہیں وہ وہ نعمتیں ملیں گی جہاں ان کی خواہش بھی نہ پہنچے گی۔ علاقہ قرطبی (رض) نے حضرت جابر اور حضرت انس (رض) سے نقل کیا ہے کہ مزید سے مراد باری تعالیٰ شانہٗ کا دیدار ہے۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے جو حضرت صہیب (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب اہل جنت، جنت میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ سوال فرمائیں گے کیا تم اور کچھ چاہتے ہو جو میں تمہیں مزید دے دوں یہ سن کر اہل جنت کہیں گے کیا آپ نے ہمارے چہرے روشن نہیں فرما دیئے کیا آپ نے ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا کیا آپ نے ہمیں دوزخ سے نجات نہیں دی (ہمیں اور کیا چاہیے) اس کے بعد پردہ اٹھا دیا جائے گا پھر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دیدار میں مشغول ہوجائیں گے اپنے رب کے دیدار سے بڑھ کر انہیں عطا کی گئی چیزوں میں سے کوئی چیز محبوب نہ ہوگی اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة ٴ یونس کی آیت کریمہ ﴿ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِيَادَةٌ ﴾ تلاوت فرمائی۔ (مشکوٰۃ المصابیح : ص ٥) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ نعمتیں تیار کی ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی کے دل پر ان کا گزر ہوا۔ پھر فرمایا کہ اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو ﴿ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ﴾ (سو کسی شخص کو علم نہیں جو ان لوگوں کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ وجعلنا اللہ من اھلھا وادخلنا فیھا

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

17:۔ ” وازلفت۔ تا۔ ولدینا مزید “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ ” غیر بعید “ مصدر محذوف کی صفت ہے اور ازلفت کا مفعول مطلق ہے برائے تاکید۔ ای ازلافا غیر بعید (روح) ۔ جو لوگ شرک اور معاصی سے بچنے والے ہیں جنت بالکل ان کے قریب اور سامنے کردی جائیگی۔ ” ھذا ما توعدون۔ الایۃ “ اس سے پہلے ” ویقال لہم “ مقدر ہے اور ان سے کہا جائیگا یہ ہے وہ جنت جس کا تم میں سے ہر اللہ کی طرف رجوع کرنے والے اور اپنی گناہوں کو یاد کر کے توبہ کرنے والے کے لیے وعدہ کیا جاتا تھا۔ قال لی مجاھد : الا انبئک بالاواب الحفیظ ؟ ھو الرجل یذکر ذنبہ اذا خلا فیستغفر اللہ تعالیٰ منہ۔ (روح ج 26 ص 189) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(31) اور جنت پرہیزگاروں کے نزدیک کردی جائیگی جو دور نہ ہوگی۔ یعنی اہل تقوی سے بہشت قریب کردی جائے گی غیر بعید تاکید کے طور پر فرمایا جیسے کہا کرتے ہیں عزیز غیر ذلیل یعنی جنت میں جانے سے پہلے اس کو دیکھ لیں جنت اتنی قریب لے آئی جائے گی۔