Surat Qaaf

Surah: 50

Verse: 38

سورة ق

وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ٭ۖ وَّ مَا مَسَّنَا مِنۡ لُّغُوۡبٍ ﴿۳۸﴾

And We did certainly create the heavens and earth and what is between them in six days, and there touched Us no weariness.

یقیناً ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ اس کے درمیان ہے سب کو ( صرف ) چھ دن میں پیدا کر دیا اور ہمیں تکان نے چھوا تک نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And indeed We created the heavens and the earth and all that between them in six Days and nothing of fatigue touched Us. is emphasis on the Resurrection because He Who is able to create the heavens and earth without fatigue, then surely He is able to resurrect the dead. Qatadah said, "The Jews, may Allah's curses descend on them, said that Allah created the heavens and earth in six days and then rested on the seventh day, which was the Sabbath. This is why they call it a holiday. Allah the Exalted then sent down denial of their statement and false opinion." Allah said, وَمَا مَسَّنَا مِن لُّغُوبٍ (and nothing of fatigue touched Us). indicating that no sleep, exhaustion or weariness affects Him. Allah the Exalted the Blessed said in other Ayat, أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّ اللَّهَ الَّذِى خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَلَمْ يَعْىَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْىِ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ Do they not see that Allah, Who created the heavens and the earth, and was not wearied by their creation, is able to give life to the dead? Yes, He surely is Able to do all things. (46:33) and, لَخَلْقُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ أَكْـبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ The creation of the heavens and the earth is indeed greater than the creation of mankind. (40:57) and, أَءَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقاً أَمِ السَّمَأءُ بَنَـهَا Are you more difficult to create or is the heaven that He constructed? (79:27) Allah the Exalted and Most Honored said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٤] یہود و نصاریٰ کا اللہ تعالیٰ پر الزام & ساتویں دن آرام کیا :۔ یہ یہود و نصاریٰ کا اللہ تعالیٰ پر من گھڑت الزام ہے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کیا۔ اور بائیبل میں اب بھی کتاب پیدائش (٢: ٢) میں ایسی عبارت موجود ہے۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے ہی جیسا سمجھ لیا کہ جیسے ہم کام کرتے کرتے تھک جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بھی تھک گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو اپنی یا کسی اور چیز کی مثل قرار دینا ہی سب سے بڑی گمراہی ہے۔ اس آیت میں ان کے اسی الزام کی تردید کی گئی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) ولقد خلقنا السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام…: قیامت کی دلیل کے طور پر آسمان و زمین کی پیدا کرنے کا دوبارہ ذکر فرمایا کہ بلاشبہ یقینا ہم نے یہ سارے آسمان اور زمین چھ دن میں پیدا کئے اور ہمیں کسی قسم کی تھکاوٹ نے چھوا تک نہیں، تو ہم انسان کو دوبارہ کیوں زندہ نہیں کرسکتے ؟ یہی بات پہلے فرمائی تھی :(افعیینا بالخلق الاول) (ق : ١٥)” تو کیا ہم پہلی دفعہ پیدا کرنے کیساتھ تھک کر رہ گئے ہیں ؟ “ دوبارہ اس لئے ذکر فرمائی کہ بار بار دہرانے سے بات ذہن میں بیٹھ جاتی ہے۔ (٢) وما مسنا من لغوب : اس میں یہود و نصاری کا رد بھی ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھا کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا اور ساتویں دن آرام کیا۔ کتاب مقدس میں تورات کے سفر التکوین (٢: ٢) کے الفاظ ہیں : ” فاستراح فی الیوم السابع “ یعنی ” ساتویں دن میں آرام کیا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَــقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَہُمَا فِيْ سِـتَّۃِ اَيَّامٍ۝ ٠ ۤ ۖ وَّمَا مَسَّـنَا مِنْ لُّغُوْبٍ۝ ٣٨ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] ، فإنّ ذلک متناول للمرض في المعنی، كما أنّ النّفي في قولک : ما علم اللہ زيدا يخرج، هو للخروج، وتقدیر ذلک : قد يمرضون فيما علم الله، وما يخرج زيد فيما علم الله، وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) «2» يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء : قَدْ زيدا، وجعل ذلک مقیسا علی ما سمع من قولهم : قدني وقدک، والصحیح أنّ ذلک لا يستعمل مع الظاهر، وإنما جاء عنهم في المضمر . ( قد ) یہ حرف تحقیق ہے اور فعل کے ساتھ مخصوص ہے علماء نحو کے نزدیک یہ حرف توقع ہے اور اصل میں جب یہ فعل ماضی پر آئے تو تجدد اور حدوث کے معنی دیتا ہے جیسے فرمایا : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے ۔ قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] تمہارے لئے دوگرہوں میں ۔۔۔۔ ( قدرت خدا کی عظیم الشان ) نشانی تھی ۔ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] خدا نے ۔۔ سن لی ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ( اے پیغمبر ) ۔۔۔۔۔ تو خدا ان سے خوش ہوا ۔ لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی ۔ اور چونکہ یہ فعل ماضی پر تجدد کے لئے آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے اوصاف ذاتیہ کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا ۔ لہذا عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] کہنا صحیح نہیں ہے اور آیت : اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں ۔ میں قد لفظا اگر چہ علم پر داخل ہوا ہے لیکن معنوی طور پر اس کا تعلق مرض کے ساتھ ہے جیسا کہ ، ، میں نفی کا تعلق خروج کے ساتھ ہے ۔ اور اس کی تقدریروں ہے اگر ، ، قد فعل مستقل پر داخل ہو تو تقلیل کا فائدہ دیتا ہے یعنی کبھی وہ فعل واقع ہوتا ہے اور کبھی واقع نہیں ہوتا اور آیت کریمہ : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں ۔ کی تقدیریوں ہے قد یتسللون احیانا فیما علم اللہ ( تو یہ بہت آیت بھی ماسبق کی طرح موؤل ہوگی اور قد کا تعلق تسلل کے ساتھ ہوگا ۔ قدوقط یہ دونوں اسم فعل بمعنی حسب کے آتے ہیں جیسے محاورہ ہے قد فی کذا اوقطنی کذا اور قدی ( بدون نون وقایہ ا کا محاورہ بھی حکایت کیا گیا ہے فراء نے قدنی اور قدک پر قیاس کرکے قدر زید ا بھی حکایت کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ قد ( قسم فعل اسم ظاہر کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف اسم مضمر کے ساتھ آتا ہے ۔ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے مسس المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ، ( م س س ) المس کے معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔ اور مس کا لفظ ہر اس تکلیف کے لئے بول دیا جاتا ہے جو انسان تو پہنچے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] اور کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ۔۔ چھوہی نہیں سکے گی لغب اللُّغُوبُ : التّعب والنصب . يقال : أتانا ساغبا لَاغِباً أي : جائعا تعبا . قال : وَما مَسَّنا مِنْ لُغُوبٍ [ ق/ 38] . وسهم لَغِبٌ: إذا کان قذذه ضعیفة، ورجل لَغِبٌ: ضعیف بيّن اللَّغَابَةِ. وقال أعرابيّ : فلان لَغُوبٌ أحمق، جاء ته کتابي فاحتقرها . أي : ضعیف الرّأي، فقیل له في ذلك : لم أنّثت الکتاب وهو مذكّر ؟ فقال : أولیس صحیفة ( ل غ ب ) اللغوب کے معنی بہت زیادہ درماندہ ہونے اور تھک جانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے : وہ ہمارے پاس بھوکا اور تھکاہا را ہوکر پہنچا ۔ قرآن میں ہے : وَما مَسَّنا مِنْ لُغُوبٍ [ ق/ 38] اور ہم کو ذر ا بھی تکان محسوس نہیں ہوئی ۔ سھم لغیب ۔ وہ تیر جس کے پر کمزور ہوں ۔ رجل لغب کاہل اور کمزور رائے آدمی ۔ ایک اعرابی کا قول ہے ۔ فلان لغوب احمق جاء تہ کتابی فاحتقرہ کہ فلان شخص بڑا بیوقوف اور احمق ہے کہ اس نے میرے خط کو حقیر سمجھا یہاں لغوب کے معنی کمزور رائے آدمی کے ہیں ۔ اسپر اعرابی سے کسی نے سوال کیا کہ کتاب تو مذکر ہے پھر جاء تہ کیوں کہا تو اس نے جواب دیا الیس الکتاب بصحیفۃ کہ کیا کتاب بھی ایک صحیفہ نہیں ہے ( اور صحیفہ مونث ہے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور تمام مخلوق کو چھ دن کی مقدار کے موافق زمانہ میں پیدا کیا ہر ایک دن ان ایام کے مطابق ہزار سال کے برابر تھا اول ان دنوں میں اتوار اور آخری جمعہ کا دن تھا اور ہمیں تھکاوٹ نے چھوا تک نہیں۔ جیسا کہ اللہ کے دشمن یہودی اللہ پر جھوٹ باندھتے تھے کہ معاذ اللہ جب اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کو پیدا کر کے فارغ ہوا تو اس نے ایک پیرو دوسرے پیر پر رکھا اور ہفتہ کے دن آرام کیا۔ شان نزول : وَلَــقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (الخ) امام حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے بیان کرتے ہیں کہ یہودی رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے انہوں نے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے بارے میں دریافت کیا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اتوار اور پیر کے دن زمین پیدا فرمائی اور منگل کے دن پہاڑوں کو اور جو کچھ ان میں منافع ہیں ان سب کو پیدا کیا اور بدھ کے دن درختوں اور پانی اور شہروں اور آبادیوں اور ویران مقامات کو پیدا کیا اور جمعرات کے دن آسمانوں کو پیدا کیا اور جمعہ کے دن کی جو تین ساعتیں باقی رہ گئی تھیں اس میں ستاروں، چاند، سورج اور فرشتوں کو پیدا کیا۔ چناچہ جمعہ کی پہلی ساعت میں مدتوں کو پیدا کیا تاکہ جسے مرنا تھا وہ مرگیا اور دوسری ساعت میں تمام ان چیزوں پر جن سے انسان فائدہ حاصل کرتے ہیں، آفتوں کو ڈالا اور تیسری ساعت میں آدم کو پیدا فرمایا اور ان کو جنت میں سکونت عطا کی اور ابلیس کو انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا اور اس آخری ساعت میں ان کو جنت سے نکالا یہ سن کر یہود بولے محمد پھر کیا ہوا، آپ نے فرمایا پھر اللہ تعالیٰ عرش پر قائم ہوا، یہودی بولے آپ نے صحیح فرمایا اگر آپ پوری بات بیان کرتے اور بولے کہ معاذ اللہ پھر اللہ تعالیٰ نے آرام فرمایا یہ سن کر رسول اللہ بہت سخت غصہ ہوئے اس پر یہ آیت مبا کہ نازل ہوئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٨{ وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ق } ” اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے پیدا کیا چھ دنوں میں۔ “ { وَّمَا مَسَّنَا مِنْ لُّــغُوْبٍ ۔ } ” اور ہم پر کوئی تکان طاری نہیں ہوئی۔ “ یہ مضمون موجودہ تورات میں کچھ اس طرح بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دنوں میں زمین و آسمان کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کر کے تھکن دور کی۔ اسی وجہ سے یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاں ” ویک اینڈ “ کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دن کام کرنے کے بعد ساتویں دن آرام کیا تھا ‘ لہٰذا تم لوگ بھی چھ دن کام کر کے ساتویں دن آرام کرو۔ اس آیت میں دراصل تورات کے اس تصور کی نفی کی گئی ہے۔ چناچہ اسلام میں ” ویک اینڈ “ کا کوئی تصور نہیں۔ اس حوالے سے یہ تاریخی حقیقت واضح رہنی چاہیے کہ اصل تورات بخت نصر کے حملے میں گم ہوگئی تھی اور دوبارہ اس کو یادداشت کی مدد سے مرتب کیا گیا تھا۔ مرتبین چونکہ عام انسان تھے ‘ نبی نہیں تھے ‘ اس لیے ان کی یادداشتوں نے ٹھوکریں کھائیں اور بہت سی غلط باتیں بھی اس میں شامل کردی گئیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

49 For explanation, see E.N.'s 11 to 15 of the commentary of Surah Ha Mim As-Sajdah.

سورة قٓ حاشیہ نمبر :49 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد چہارم ، تفسیر سورہ حٰم السجدہ ، حواشی نمبر 11 تا 15 ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(50:38) ما مسنا : ما نفی کا ہے مسنا میں مس فعل ماضی واحد مذکر غائب مس (باب نصر) مصدر سے دکھ پہنچانا۔ لاحق ہونا۔ لگ جانا۔ چھو جانا۔ نا ضمیر جمع متکلم۔ اس نے ہم کو نہیں چھوا۔ وہ ہم کو نہیں پہنچا۔ لغوب : مصدر۔ ٹھکنا۔ نیز اسم مصدر۔ تھکان، لغب (باب فتح، سمع، کرم ) بمعنی سخت تھک گیا۔ وما مسنا من لغوب اور ہم کو ذرا بھی تھکان نہیں ہوئی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 اس آیت سے مقصود ان یہودیوں کی تردید ہے جو کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھ دنوں میں بنایا اور وہ ساتویں دن تھک کرلیٹ گیا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اس سورت کی ابتدائی آیات میں انسان کے مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کرنے کا ثبوت دیا گیا ہے اب فرمایا کہ کیا لوگوں نے اس بات پر غور نہیں کیا ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو کس طرح بلندیوں پر کھڑا کر رکھا ہے اور زمین کو کس طرح پھیلایا اور بچھایا ہے۔ سورت کا اختتام بھی اسی بات سے کیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور ان کے بنانے اور پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کو کسی قسم کی کوئی تھکاوٹ اور اکتاہٹ محسوس نہیں ہوئی اگر یہ لوگ ٹھوس اور واضح دلائل کو نہیں مانتے اور قیامت کا مذاق اڑاتے اور اللہ تعالیٰ کی گستاخی کرتے ہیں تو اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کو صبر سے کام لینا چاہیے۔ صبر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے رب کی تسبیح پڑھا کریں۔ سورج طلوح اور غروب ہونے سے پہلے اور رات کے کچھ حصے میں بھی اپنے رب کو اس کی حمد کے ساتھ یاد کریں اور ہر نماز کے بعد بھی اس کا ذکر کیا کریں۔ اللہ کو اس کی حمد کے ساتھ یاد کرنے کا معنی یہ ہے کہ جس انداز اور الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کا حکم دیا ہے اسی طرح اس کا ذکر کیا جائے۔ یہاں منکرین قیامت کے نظریہ کی تردید کرنے کے بعد یہودیوں کے باطل عقیدہ کی بھی تردید کی گئی ہے۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے بنانے اور پیدا کرنے کے بعد تھکاوٹ محسوس کی اور ہفتہ کے دن مکمل طور پر آرام فرمایا جس وجہ سے ہفتہ کا دن مقدس ہے اور ہم اسی وجہ سے اس دن چھٹی کرتے ہیں۔ یہودیوں کے نظریہ کی تردید کرنے کے ساتھ منکرین قیامت کو بتلایا ہے کہ جب زمین و آسمانوں اور ہر چیز بنانے میں اللہ تعالیٰ کو کوئی اکتاہٹ اور تھکاوٹ محسوس نہیں ہوئی۔ کیا قیامت کے دن تمہیں پیدا کرنا اس کے لیے مشکل ہوگا ؟ ” وہی تخلیق کی ابتداء کرتا ہے، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان ہے۔ اسی کی شان ہے کہ وہ آسمانوں اور زمین میں سب سے برتر ہے، غالب اور حکمت والا ہے۔ “ (الروم : ٢٧) ” حضرت حسن بصری (رح) بیان کرتے ہیں کہ یہودیوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور ساتویں دن آرام فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل فرمائی (وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا فِی سِتَّۃِ أَیَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لَغُوبٍ ) “ ( المجالسۃ وجواھر العلم، ج : ٦، ص : ٢٢٣) (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِيِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَال اللّٰہُ تَعَالٰی أَنَا مَعَ عَبْدِيْ حَیْثُمَا ذَکَرَنِيْ وَتَحَرَّکَتْ بِيْ شَفَتَاہُ ) (رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ لاتحرک بہ لسانک۔۔ الخ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں، وہ جہاں کہیں بھی میرا ذکر کرتا ہے اور جب بھی اس کے ہونٹ میرے ذکر میں حرکت کریں۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) قَالَتْ کَان النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَذْکُرُ اللَّہَ عَلَی کُلِّ أَحْیَانِہِ ) (رواہ مسلم : باب ذِکْرِ اللَّہِ تَعَالَی فِی حَالِ الْجَنَابَۃِ وَغَیْرِہَا) ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر حال میں اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے چھ دن میں پیدا کیا ہے۔ ٢۔ زمین و آسمان کی پیدائش اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے پیدا کرنے سے اللہ تعالیٰ کو کوئی اکتاہٹ اور تھکاوٹ محسوس نہیں ہوئی۔ ٣۔ منکرین قیامت کی حجت بازیوں پر صبر سے کام لینا چاہیے۔ ٤۔ ہر نماز کے بعد بھی ذکر و اذکار کرنے چاہئیں۔ تفسیر بالقرآن صبر اور اس کے فوائد : ١۔ اللہ کی رفاقت اور دستگیری صبر کرنے والوں کے لیے ہے۔ (البقرۃ : ١٥٢) ٢۔ صبر اور نماز کے ذریعے اللہ کی مدد طلب کرو۔ (البقرۃ : ١٥٢) ٣۔ صبر کرنے والوں کو بےحساب اجر دیا جائے گا۔ (الزمر : ١٠) ٤۔ بیشک جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا انہیں کوئی خوف اور حزن و ملال نہیں ہوگا۔ (الاحقاف : ١٣) ٥۔ صبر کیجیے اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ (ھود : ١١٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولقد خلقنا السموت ۔۔۔۔۔ من لغوب (٥٠ : ٣٨) ” ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کردیا اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہ ہو “۔ تو پہلی بات پر یہاں ایک مزید حقیقت کا اضافہ کردیا گیا۔ وما مسنا من لغوب (٥٠ : ٣٨) ” اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہیں ہوئی “۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ اللہ نے اس عظیم کائنات کو نہایت آسانی کے ساتھ پیدا کردیا۔ مردوں کا زندہ کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ان ہولناک آسمانوں کے مقابلے میں تو یہ ایک بہت چھوٹا کام ہے۔ ایک مزید ہدایت بطور سبق آموزی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

21:۔ ” ولقد خلقنا۔ الایۃ “ یہ ثبوت قیامت کے لیے دوسری اور مختصر عقلی دلیل ہے۔ لغوب، تھکاوٹ۔ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان جو مخلوق ہے سب کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس سے ہمیں کسی قسم کی تھکن اور کمزوری لاحق نہیں ہوئی۔ جو ذات قادر و توانا ساری کائنات کو پیدا کر کے بھی نہ تھکے اور کمزور نہ ہو مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ من قدر علی خلق العالم فھو قادر علی بعثہم والانتقام منہم (مظہری ج 9 ص 75) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(38) بلا شبہ ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس سب کو چھ دن میں پیدا کیا ہے اور ہم کو تکان اور ماندگی نے چھوا تک بھی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مجازاۃ یعنی قیامت کے دن ہر شخص کو عمل کا بدلا ملنا ضروری ہے اس پر شبہ نہ کرنا چاہیے اسی سلسلے میں قدرت اور توانائی کا اظہار فرمایا جیسا کہ سورة احقاف کے آخر میں فرمایا تھا۔ ولم یعی بخلقھن اسی طرح یہاں فرمایا کہ ہم نے آسمان و زمین اور اس کے درمیانی چیزوں کو صرف چھ دن کی مقدار میں بنایا اور اس تعمیر سے ہم میں کوئی سہار کی ہدایت فرماتے ہیں۔