Surat uz Zaariyaat
Surah: 51
Verse: 1
سورة الذاريات
وَالذّٰرِیٰتِ ذَرۡوًا ۙ﴿۱﴾
By those [winds] scattering [dust] dispersing
قسم ہے بکھیرنے والیوں کی اڑا کر ۔
وَالذّٰرِیٰتِ ذَرۡوًا ۙ﴿۱﴾
By those [winds] scattering [dust] dispersing
قسم ہے بکھیرنے والیوں کی اڑا کر ۔
Affirming the News of the Resurrection The Commander of the faithful, Ali bin Abi Talib may Allah be pleased with him, ascended the Minbar in Kufah and declared, "Any Ayah in the Book of Allah the Exalted and any Sunnah from Allah's Messenger you ask me about today, I will explain them." Ibn Al-Kawwa stood up and said, "O Leader of the faithful! What is the meaning of Allah's statement, وَالذَّارِيَاتِ ذَرْوًا By the scattering Dhariyat," and Ali said, "The wind." The man asked, فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا
خلیفۃ المسلمین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو ۔ اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ ( ذاریات ) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا ، پوچھا ( حاملات ) سے ؟ فرمایا ابر ۔ کہا ( جاریات ) سے ؟ فرمایا کشتیاں ، کہا ( مقسمات ) سے ؟ فرمایا فرشتے اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے ۔ بزار میں ہے ( صبیغ ) تمیمی امیر المومنین حضرت عمر کے پاس آیا اور کہا بتاؤ ( ذاریات ) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا ۔ اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا ۔ پوچھا ( مقسمات ) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا فرشتے اور اسے بھی میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے ۔ پوچھا ( جاریات ) سے کیا مطلب ہے ؟ فرمایا کشتیاں ۔ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا ۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا جب زخم اچھے ہوگئے تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے ، اور سوار کرا کر حضرت ابو موسیٰ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ حضرت موسیٰ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی اب میرے دل میں بد عقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی ۔ چنانچہ حضرت ابو موسیٰ نے جناب امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے ۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے ۔ امام ابو بکر بزار فرماتے ہیں اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے ۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی حضرت عمر کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں ۔ امیر المومنین نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے واللہ اعلم ۔ صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر لائے ہیں ۔ یہی تفسیر حضرت ابن عباس حضرت ابن عمر حضرت مجاہد حضرت صعید بن جبیر حضرت حسن حضرت قتادہ حضرت سدی وغیرہ سے مروی ہے ۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا حاملات سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے ۔ واسلمت نفسی لمن اسلمت لہ المزن تحمل عذباز لالا یعنی میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں جاریات سے مراد بعض نے ستارے لئے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی ۔ اولًا ًہوا پھر بادل پھر ستارے پھر فرشتے ۔ جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لئے تشریف لاتے ہیں ۔ چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اس لئے ان کے بعد ہی فرمایا کہ تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے ۔ پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے بہت سے سلف نے یہی معنی ( حبک ) کے بیان کئے ہیں حضرت ضحاک وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں ، ریت کے ذرے ، کھیتیوں کے پتے ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں اسی کو حبک کہتے ہیں ، ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے حبک حبک ہیں یعنی گھونگر والے ۔ ابو صالح فرماتے ہیں حبک سے مراد شدت والا خصیف کہتے ہیں مراد خوش منظر ہے ۔ حسن بصری فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے واللہ اعلم ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان ۔ اس کی بلندی ، صفائی ، پاکیزگی ، بناوٹ کی عمدگی ، اس کی مضبوطی ، اس کی چوڑائی اور کشادگی ، اس کا ستاروں کا جگمگانا ، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں پھر فرماتا ہے اے مشرکو تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو ۔ کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں ، حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے ۔ پھر فرماتا ہے یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو ۔ وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے جیسے اور آیت میں ہے آیت ( اِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيْمِ ١٦٣ ) 37- الصافات:163 ) یعنی تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے حضرت ابن عباس اور سدی فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو ۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے حضرت امام حسن بصری فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کم کس لئے ہو پھر فرماتا ہے کہ بےسند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں حضرت معاذ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے ، یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں پھر فرمایا جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں ۔ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا ؟ اللہ فرماتا ہے اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے جس طرح سونا تپایا جاتا ہے یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو ۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو ۔ پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لئے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا کب آئے گا ، واللہ اعلم ۔
1۔ 1 اس سے مراد ہوائیں جو مٹی کو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں۔
[١] بارش سے تعلق رکھنے والی ہوائیں اور ان کی قسم :۔ ان ابتدائی چار آیات میں مختلف قسم کی ہواؤں کا ذکر ہے جو بارش کے نظام پر دلالت کرتی ہیں۔ پہلے کچھ گردو غبار اڑنا شروع ہوجاتا ہے۔ پھر آسمان کے کسی کونے سے لاکھوں اور کروڑوں ٹن پانی کا بوجھ اٹھانے والی گھٹائیں نمودار ہوجاتی ہیں۔ پھر ٹھنڈی اور نرم ہوائیں چلتی ہیں جو بارش کی خوشخبری لاتی اور دلوں کو راحت و سرور بخشتی ہیں۔ پھر یہی ہوائیں بادلوں کو ان علاقوں کی طرف لے جاتی ہیں جہاں جہاں اللہ تعالیٰ کو بارش برسانا منظور ہوتا ہے اور جس قدر بارش برسانا منظور ہوتا ہے بعض مفسرین نے (فَالْجٰرِيٰتِ يُسْرًا ۙ ) 51 ۔ الذاریات :3) سے مراد کشتیاں لی ہیں جو دھیرے دھیرے چلتی ہیں اور بعض نے سیارے جو سبک رفتاری سے محو گردش رہتے ہیں۔ اسی طرح ( فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا ۙ ) 51 ۔ الذاریات :4) سے بعض مفسرین نے وہ فرشتے مراد لیے ہیں جو رزق کی تقسیم پر مامور ہیں۔ ان کے نزدیک جن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے ان کی ترتیب نیچے سے اوپر کو ہے۔ یعنی گردوغبار اڑانے والی ہوائیں تو سطح زمین پر چلتی ہیں۔ بادل اٹھانے والی ہوائیں سطح زمین سے کافی بلندی پر ہوتی ہیں۔ ستارے زمین سے بہت دور اور بلندی پر ہیں۔ اور فرشتے ان سے بھی زیادہ بلندی پر ہیں۔ ان دونوں تفسیروں میں اکثر مفسرین نے پہلی تفسیر کو ہی ترجیح دی ہے۔
(١) والذاریت ذرواً : قسم کا مقصد کسی بات کی تاکید اور اسے سچا ثابت کرنا ہوتا ہے۔ قرآن مجید کی قسمیں دراصل اپنے جواب قسم کی دلیل اور شاہد ہیں جنہیں قسم کی صورت میں لایا گیا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے حق ہونے کی دلیل کے طور پر چار قسمیں اٹھائی ہیں۔ (٢) والذریت ذروا :” الذریت “” ذرا یذرو ذروا “ سے اسم فاعل ” ذاریۃ “ کی جمع ہے۔ اس کا معنی ” ہوا کا کسی چیز کو اڑانا اور بکھیرنا “ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(فاصبح ھشیماً تذروہ الریح) (الکھف : ٣٥)” پھر وہ چورا بن گئی، جسے ہوائیں اڑائے پھرتی ہیں۔ “” ذرواً “ مفعول مطلق ہے جو ” الذریت “ کی تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ ” الذریت “ کا لفظی معنی ہے اڑانے والیاں۔ اب ان اڑانے والویں سے مراد کیا ہے ؟ مفسرین کا اتفاق ہے کہ ان سے مراد ہوائیں ہیں جو تیز چلتی ہیں تو گرد و غبار اور خس و خاشاک کو اڑا کر بکھیری چلی جاتی ہیں۔
Affirmation of After-Life The subject-matter of Surah Adh-Dhariyat, like its predecessor Surah Qaf, is mainly the Hereafter, Resurrection, Reckoning, Judgment, and Allah&s reward and punishment. The first few verses contain an oath from Allah that the promise of Resurrection is true, and shall come to pass. In these verses Allah swears an oath by four phenomena, as follows: وَالذَّارِيَاتِ ذَرْوًا ﴿١﴾ فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا ﴿٢﴾ فَالْجَارِيَاتِ يُسْرًا ﴿٣﴾ فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا ﴿٤﴾ (I swear) by those (winds) that scatter dust, then by those (clouds) that bear loads, then by those (boats) that sail with ease, then by those (angels) who distribute things, (51:1-4) There is a Hadith whose attribution to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been held by Ibn Kathir as da` eef [ weak ], but it is also reported as a saying of Sayyidna ` Umar (رض) and Ali (رض) . It explains these four things as follows: The expression Dhariyat [ scatterers ] refers to the wind that blows up dust; the expression hamilat-i-wiqran literally denotes burden-bearers and contextually refers to the clouds that carry the burden of water or rain; the expression jariyat-i-yusran refers to the ships that sail smoothly and with ease in the water; and the expression muqassimat-i-amran refers to the angels who distribute to all creatures their sustenance and water, and different kinds of difficulties and comfort as determined by Allah&s orders and decrees (Ibn Kathir, Qurtubi and Ad-Durr-ul-Manthur quote these narrations both as mar& mawquf).
خلاصہ تفسیر قسم ہے ان ہواؤں کی جو غبار وغیرہ کو اڑاتی ہیں پھر ان بادلوں کی جو بوجھ (یعنی بارش کو) اٹھاتے ہیں پھر ان کشتیوں کی جو نرمی سے چلتی ہیں پھر ان فرشتوں کی جو ( حکم کے موافق اہل ارض میں) چیزیں تقسیم کرتے ہیں (مثلاً جہاں جس قدر بارش کا حکم ہوتا ہے جو مادہ ہے رزق کا وہاں بادلوں کے ذریعہ اسی قدر پہنچاتے ہیں، اسی طرح حسب حدیث رحم مادر میں بچے کی صورت میں مذکر و مونث پوچھ کر بناتے ہیں اور سکینہ اور رعب بھی تقسیم کرتے ہیں، آگے ان قسموں کا جواب ہے کہ) تم سے جس (قیامت) کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ بالکل سچ ہے اور (اعمال کی) جزا (و سزا) ضرور ہونے والی ہے ( ان قسموں میں اشارہ ہے استدلال کی طرف یعنی یہ سب تصرفات عجیبہ قدرت الٰہیہ سے ہونا دلیل ہے عظمت قدرت کی، پھر ایسی عظیم القدرت ذات کو قیامت کا واقع کرنا کیا مشکل ہے اور تفسیر ان کلمات کی جن کی آیات مذکورہ میں قسم کھائی گئی ہے درمنثور میں حدیث مرفوع سے اسی طرح نقل کی ہے جو آگے آتی ہے اور تخصیص ان چیزوں کی شاید اس لئے ہو کہ اس میں اشارہ ہوگیا مخلوق کی اصناف مختلفہ کی طرف چناچہ ملائکہ سماویات میں سے ہیں اور ریاح و سفن (کشتیاں) ارضیات میں سے اور سحاب کائنات جو یعنی فضائی مخلوقات میں سے اور ارضیات میں دو چیزیں جن میں ایک آنکھ سے نظر آتی ہے دوسری نظر نہیں آتی، شاید اس لئے آئی ہوں کہ قیامت کے متعلق ایک مضمون پر خود آسمان کی قسم ہے جیسے اوپر سماویات کی تھی یعنی) قسم ہے آسمان کی جس میں (فرشتوں کے چلنے کے) راستے ہیں (کقولہ تعالیٰ (آیت) ولقد خلقنا فوقکم سبع طرآئق، آگے جواب قسم ہے) کہ تم (یعنی سب) لوگ (قیامت کے بارے میں) مختلف گفتگو میں ہو (کوئی تصدیق کرتا ہے، کوئی تکذیب کرتا ہے، وہذا کقولہ تعالیٰ ”(آیت) عن النبا العظیم الذی ہم فیہ مختلفون “ الذی فسرہ قتادة کما فی الدر بقول مصدق بہ و مکذب اور آسمان کی قسم سے شاید اس طرف اشارہ ہو کہ جنت آسمان میں ہے اور آسمان میں راستہ بھی ہے مگر جو حق میں اختلاف کرے گا اس کے لئے راہ بند ہوجاوے گی اور ان اختلاف والوں میں) اس (وقوع قیامت و جزا کے اعتقاد) سے وہی پھرتا ہے جس کو (بالکلیہ خیر وسعادت ہی سے) پھرنا ہوتا ہے (جیسا کہ حدیث میں ہے من حرمہ فقد حرم الخیر کلہ رواہ ابن ماجہ یعنی جو شخص اس سے محروم رہا وہ ہر خیر سے محروم رہا اور اختلاف والوں کے دوسرے فریق کا یعنی تصدیق کرنے والوں کا حال اسی کے مقابلہ سے معلوم ہوگیا کہ وہ خیر وسعادت سے پھرے ہوئے نہیں، اب آگے ان پھرنے والوں کی مذمت ہے کہ) غارت ہوجائیں بےسند باتیں کرنے والے (یعنی جو قیامت کا انکار کرتے ہیں بلا اس کے کہ ان کے پاس کوئی اس کی دلیل ہو) جو کہ جہالت میں بھولے ہوئے ہیں (بھولنے سے مراد اختیاری غفلت ہے اور وہ لوگ بطور استہزا و استعجال کے) پوچھتے ہیں کہ روز جزا کب ہوگا (آگے جواب ہے کہ وہ اس دن ہوگا) جس دن (کہ) وہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گے ( اور کہا جاوے گا کہ) اپنی اس سزا کا مزہ چکھو یہی ہے جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے ( یہ جواب (آیت) یوم ہم علی النار یفتنون اس طرز کا ہے جیسے کسی مجرم کے لئے پھانسی کا حکم ہوجاوے، مگر وہ احمق باوجود قیام براہین کے محض اس وجہ سے کہ اس کو تاریخ نہیں بتلائی گئی تکذیب ہی کئے جاوے اور کہے جاوے کہ اچھا وہ دن کب آوے گا، چونکہ یہ سوال محض کج روی کی راہ سے ہے اس لئے جواب میں بجائے تاریخ بتلانے کے یہ کہنا نہایت مناسب ہوگا کہ وہ دن اس وقت آوے گا جب تم پھانسی پر لٹکا دیئے جاؤ گے، آگے دوسرے فریق یعنی مومنین و مصدقین کے ثواب کا ذکر ہے کہ) بیشک متقی لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہوں گے (اور کیوں نہ ہو ؟ ) وہ لوگ اس کے قبل (یعنی دنیا میں) نیکوکار تھے (پس حسب وعدہ ہل جزآء الاحسان الا الاحسان کے ان کے ساتھ یہ معاملہ کیا گیا، آگے ان کی نیکوکاری کی قدرے تفصیل ہے کہ) وہ لوگ (فرائض و واجبات سے ترقی کر کے نوافل و تطوعات کے ایسے التزام کرنے والے تھے کہ) رات کو بہت کم سوتے تھے (یعنی زیادہ حصہ رات کا عبادت میں صرف کرتے تھے) اور (پھر باوجود اس کے اپنی عبادت پر نظر نہ کرتے تھے بلکہ) اخیر شب میں ( اپنے کو عبادت میں کوتاہی کرنے والا سمجھ کر) استغفار کیا کرتے تھے (یہ تو عبادت بدنیہ میں ان کی حالت تھی) اور (عبادت مالیہ کی یہ کیفیت تھی کہ) ان کے مال میں سوالی اور غیر سوالی سب کا حق تھا ( یعنی ایسے التزام سے دیتے تھے جیسے ان کے ذمہ ان کا کچھ آتا ہو، مراد اس سے غیر زکوٰة ہے (ہکذا فی الدر عن ابن عباس و مجاہد و ابراہیم) اور یہ مطلب نہیں ہے کہ جنات و عیون کا ملنا نوافل پر موقوف ہے بلکہ یہاں اہل درجات عالیہ کا ذکر فرمایا گیا ہے) اور (چونکہ کفار قیامت کی صحت کا انکار کرتے تھے اس لئے آگے اس کی دلیل کی طرف اشارہ ہے کہ) یقین لانے (کی کوشش اور طلب کرنے) والوں کے لئے (قیامت کے ممکن اور واقع ہونے پر) زمین ( کے کائنات) میں بہت نشانیاں (اور دلیلیں) ہیں اور خود تمہاری ذات میں بھی (یعنی تمہارے ظاہری و باطنی احوال مختلفہ بھی دلائل ہیں قیامت کے ممکن ہونے کے، کیونکہ امور آفاقیہ و انفسیہ بالیقین داخل تحت القدرت ہیں اور قدرت ذاتیہ کی نسبت تمام ممکنات کے ساتھ یکساں ہے، اور جب کہ قیامت کے ناممکن ہونے کی کوئی دلیل نہیں تو قیامت بھی ممکنات سے ہے، پس وہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے اور چونکہ ان دلائل کی دلالت بہت واضح تھی، اس لئے توبیخاً فرماتے ہیں کہ جب ایسے دلائل موجود ہیں) تو کیا تم کو (مطلوب پھر بھی) دکھلائی نہیں دیتا اور ( رہا تعین وقت وقوع کا جس کے عدم سے استدلال عدم وقوع پر کرتے تھے، سو اس کی نسبت یہ ہے کہ) تمہارا رزق اور جو تم سے (قیامت کے متعلق) وعدہ کیا جاتا ہے ( ان) سب ( کا معین وقت) آسمان میں (جو لوح محفوظ ہے اس میں درج) ہے (زمین پر اس کا یقینی علم کسی مصلحت سے نازل نہیں کیا گیا چناچہ وینزل الغیث میں بھی نہیں بتلایا گیا اور مشاہدہ بھی ہے کہ یقینی تعیین کسی کو نہیں معلوم لیکن جب باوجود تعیین وقت کا علم نہ ہونے کے رزق کا وجود یقینی ہے پھر اس عدم تعیین تاریخ سے قیامت کا عدم کیسے لازم آ گیا اور ایسے استدلال کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ما تو عدون کے ساتھ رزقکم بڑھا دیا، آگے اسی پر تفریع فرماتے ہیں کہ جب نفی کی کوئی دلیل نہیں اور اثبات کی دلیل ہے) تو قسم ہے آسمان اور زمین کے پروردگار کی کہ وہ (روز جزا) برحق ہے ( اور ایسا یقینی) جیسا تم باتیں کر رہے ہو (کبھی اس میں شک نہیں ہوتا، اس طرح اس کو یقینی سمجھو) معارف و مسائل سورة ذاریات میں بھی اس سے پہلی سورت ق کی طرح زیادہ تر مضامین آخرت و قیامت اور اس میں مردوں کے زندہ ہونے، حساب کتاب اور ثواب و عذاب کے متعلق ہیں۔ پہلی چند آیات میں اللہ تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ قیامت کے متعلق جن چیزوں کا وعدہ کیا گیا ہے وہ سچا وعدہ ہے، جن چیزوں کی قسم کھائی ہے وہ چار ہیں، وَالذّٰرِيٰتِ ذَرْوًا، فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا، فَالْجٰرِيٰتِ يُسْرًا، فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا۔ ایک حدیث مرفوع میں جس کو ابن کثیر نے ضعیف کہا ہے اور حضرت فاروق اعظم اور علی مرتضیٰ سے موقوفاً ان چاروں چیزوں کے معنی اور مفہوم یہ بتلایا گیا ہے کہ ذاریات سے مراد وہ ہوائیں ہیں جن کے ساتھ غبار ہوتا ہے اور حاملات و قراً کے لفظی معنی بوجھ اٹھانے والے کے ہیں، اس سے مراد بادل ہیں جو پانی کا بوجھ اٹھائے ہوتے ہیں اور جاریات یسرا سے مراد کشتیاں ہیں جو پانی میں آسانی سے ساتھ چلتی ہیں اور مقسمات امرا سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عام مخلوقات میں رزق اور بارش کا پانی اور تکلیف و راحت کی مختلف اقسام تقدیر الٰہی کے مطابق تقسیم کرتے ہیں، تفسیر ابن کثیر، قرطبی اور در منثور میں یہ روایات موقوفہ و مرفوعہ مذکور ہیں۔
وَالذّٰرِيٰتِ ذَرْوًا ١ ۙ ذرو ذِرْوَةُ السّنام وذُرَاه : أعلاه، ومنه قيل : أنا في ذُرَاكَ ، أي : في أعلی مکان من جنابک . والمِذْرَوَان : طرفا الأليتين، وذَرَتْهُ الرّيح تَذْرُوهُ وتَذْرِيهِ. قال تعالی: وَالذَّارِياتِ ذَرْواً [ الذاریات/ 1] ، وقال : تَذْرُوهُ الرِّياحُ [ الكهف/ 45] ، والذُّرِّيَّة أصلها : الصّغار من الأولاد، وإن کان قد يقع علی الصّغار والکبار معا في التّعارف، ويستعمل للواحد والجمع، وأصله الجمع، قال تعالی: ذُرِّيَّةً بَعْضُها مِنْ بَعْضٍ [ آل عمران/ 34] ، وقال : ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنا مَعَ نُوحٍ [ الإسراء/ 3] ، وقال : وَآيَةٌ لَهُمْ أَنَّا حَمَلْنا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ [يس/ 41] ، وقال : إِنِّي جاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِماماً قالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] ، وفي الذُّرِّيَّة ثلاثة أقوال : قيل هو من : ذرأ اللہ الخلق فترک همزه، نحو : رويّة وبريّة . وقیل : أصله ذرويّة . وقیل : هو فعليّة من الذّرّ نحو قمريّة . وقال (أبو القاسم البلخيّ ) : قوله تعالی: وَلَقَدْ ذَرَأْنا لِجَهَنَّمَ [ الأعراف/ 179] ، من قولهم : ذریت الحنطة، ولم يعتبر أنّ الأوّل مهموز . ( ذر و ) ذروۃ السنام وذراہ ۔ کوہان کا بلند حصہ ۔ اسی سے محاورہ ہے ان فی ذراک میں تیری جناب میں باعزت ہوں ( میں تیری پناہ میں ہوں ) المذراوان سرین کے دونوں کنارے ( ولا واحد لہ ) ذرتہ الریح تذروہ وتذریہ ۔ ہوا کا کسی چیز کو بکھیرد ینا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَالذَّارِياتِ ذَرْواً [ الذاریات/ 1] بکھیر نے والیوں کی قسم جو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں ۔ تَذْرُوهُ الرِّياحُ [ الكهف/ 45] کہ ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہیں ۔ الذریۃ کے اصل معنی چھوٹی اولاد کے ہیں مگر عرف میں مطلق اولاد پر یہ لفظ بولاجاتا ہے ۔ اصل میں یہ لفظ جمع ہے مگر واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ذُرِّيَّةً بَعْضُها مِنْ بَعْضٍ [ آل عمران/ 34] ان میں سے بعض بعض کی اولاد تھے ۔ ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنا مَعَ نُوحٍ [ الإسراء/ 3] اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں ) سوار کیا تھا ۔ وَآيَةٌ لَهُمْ أَنَّا حَمَلْنا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ [يس/ 41] اور ایک نشانی ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا ۔ إِنِّي جاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِماماً قالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] میں تم کو لوگوں کا پیشوا بناؤنگا ۔ انہوں نے کہا کہ پروردگار ) میری اولاد سے بھی ۔ ذریۃ کے اصل میں تین اقوال ہیں ۔ (1) بعض کے نزدیک یہ ذراء اللہ الخلق سے ہے یعنی اصل میں مہموز اللام ہے مگر کثرت استعمال کے سبب دویۃ وبریۃ کی طرح ہمزہ کو ترک کردیا گیا ہے ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں ذرویۃ بروزن فعلیہ تھا اور ذر سے مشتق ہے ۔ جیسے قریۃ قر سے (3) ابوالقاسم البلخی کہتے ہیں ۔ کہ آیت کریمہ ؛۔ وَلَقَدْ ذَرَأْنا لِجَهَنَّمَ [ الأعراف/ 179] اور ہم نے ۔۔ جہنم کے لئے پیدا کئے ۔ میں ذرانا ذریت الحنطۃ سے مشتق ہے جس کے معنی گندم کو اساون کرنے کے ہیں گویا وہ اسے بھی مہموز نہیں سمجھتے ۔ ذرو ( باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ہے۔ ذرو بمعنی اڑنا۔ اڑانا۔ پراگندہ کرنا۔ جدا کرنا۔ بکھیرنا۔ الذریت ای الریاح التی تذور التراب۔۔ ہوئیں جو مٹی یا بادلوں وغیرہ کو ادھر ادھر اڑاتی ہیں۔ ذرو ۔ ہوا کی صفات میں سے مشہور صفت ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فاصبح ہشیما تذروہ الریاح ۔ (18:45) پھر وہ چورا چورا ہوگئی کہ ہوائیں اسے اٹھاتی پھرتی ہیں۔ ذروا مفعول مطلق۔ بعض کے نزدیک الذاریت سے مراد عورتیں یا ملائکہ اور دوسرے ( سماوی یا ارضی) اسباب ہیں جو روئے زمین پر مخلوق کو پھیلاتے ہیں۔ ترجمہ ہوگا : قسم ہے بکھیرنے والیوں کی جو اڑا کر بکھیرتی ہیں۔ یعنی قسم ہے ان ہوائوں کی جو خاک وغیرہ اڑاتی ہیں۔
(١۔ ٦) قسم ہے ان ہواؤں کی جو کہ لوگوں کے مقامات پر غبار اڑاتی ہیں اور پھر ان بادلوں کی قسم کھتا ہوں جو بارش کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ پھر ان کشتیوں کی جو کہ نرمی کے ساتھ چلتی ہیں اور پھر ان فرشتوں یعنی جبریل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت کی جو بندوں میں حکم کے مطابق چیزیں تقسیم کرتے ہیں غرض ان تمام چیزوں کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ قیامت ضرور قائم ہوگی اور حساب و کتاب یعنی اعمال کی جزا و سزا ضرور ہونے والی ہے۔
آیت ١{ وَالذّٰرِیٰتِ ذَرْوًا ۔ } ” قسم ہے ان ہوائوں کی جو بکھیرنے والی ہیں جیسے کہ بکھیرا جاتا ہے۔ “ ہوائیـں بہت سی چیزوں کو بکھیرتی ہیں۔ مثلاً پودوں کے پھولوں کے زردانے (pollens) ہوائوں کی مدد سے ایک پودے سے دوسرے تک پہنچ کر اسے بارور کرتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے درختوں کے بیج ہوائوں کے دوش پر سفر کرتے ہوئے دور دراز علاقوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ یوں ہوائیں پودوں کے پھلنے پھولنے اور جنگلات کے بڑھانے میں بھی مدد دیتی ہیں۔
١۔ ١٤۔ الذاریات ‘ الحاملات ‘ الجاریات ‘ المقسمات ‘ یہ سب صفتیں ہیں جن کے موصوف کا کلام الٰہی میں کچھ ذکر نہیں ہے۔ اسی واسطے بعض مفسروں نے کچھ موصوف قرار دیا ہے اور بعض نے کچھ ‘ لیکن سلف کا زیادہ مشہورقول یہ ہے کہ ذریت کا موصوف وہ تیز ہوا ہے جو مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہے حملت کاموصوف وہ بادل ہے جس میں پانی کا بوجھ ہو ‘ جاریات وہ کشتیاں جو منیہ برسنے کے بعد دریا اور ندی نالوں میں چلتی ہیں ‘ جن سے تجارت ہوتی ہے۔ مقسمت کے موصوف وہ فرشتے ہیں جو تمام شہروں میں مینہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں۔ ٢ ؎ اس قسم کے بعد یہ فرمایا کہ حشر اور اس دن کی جزا و سزا کا وعدہ جو اللہ کے رسول نے لوگوں سے کیا ہے وہ ایسا ایک سچا وعدہ ہے جس میں کچھ شک نہیں ہے۔ پھر آسمان کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ اہل مکہ قرآن کے جھٹلانے میں کوئی ٹھکانے کی بات نہیں کہتے۔ بےٹھکانی باتیں بناتے ہیں ورنہ سمجھ دار کے لئے تو قرآن میں وہ نصیحتیں ہیں کہ سوائے بدبخت ازلی کے اور سب پر ان نصیحتوں کا اثر پڑتا ہے پھر فرمایا کہ جو لوگ دنیا کی پیدائش پر غور ہیں کرتے کہ جب سزا و جزا نہیں تو پھر آخر یہ دنیا کا اتنا بڑا کارخانہ کس لئے پیدا کیا گیا ہے بلکہ بجائے اس کام کی بات پر غور کرنے کے دنیا کے مال و متاع کی غفلت اور بھول میں پھنس کر حشر کے باب میں یہ لوگ طرح طرح کی اٹکلیں دوڑاتے ہیں اور مسخرا پن سے پوچھتے ہیں کہ وہ سزا و جزا کا دن کب ہے۔ ایسے لوگوں پر خدا کی پھٹکار ہے اور وہ اللہ کے علم ازلی میں دوزخی قرار پا چکے ہیں۔ اے رسول اللہ کے ایسے لوگوں کو اتنا ہی جواب دیا جائے کہ یہ سزا کا دن جب ہوگا کہ ایسے لوگ آگ میں جلیں گے اور اللہ کے فرشتے ان کو ذلیل کرنے کے لئے یہ کہیں گے کہ مسخرا پن سے جس عذاب کی دنیا میں تم لوگ جلدی کیا کرتے تھے سو آج اس عذاب کا مزہ چکھو۔ صحیح ١ ؎ مسلم کی انس بن مالک کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے آسوہ حال نافرمان لوگوں سے دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کے بعد فرشتے پوچھیں گے کہ دنیا کی جس آسودہ حالی نے تم کو دین سے غافل کرکے اس عذاب میں گرفتار کردیا اس عذاب کے آگے وہ آسودہ حالی کچھ تم کو یاد ہے یا نہیں۔ وہ لوگ قسم کھا کر کہیں گے کہ نہیں یہ حدیث فی غمرۃ ساھون کی گویا تفسیر ہے کیونکہ آیت میں اس آسودہ حالی کی مذمت ہے جو دین سے آدمی کو غافل کر دے اور حدیث میں یہ صراحت ہے کہ یہ مذمت کچھ دنیا میں ہی نہیں بلکہ عقبیٰ میں بھی اللہ کے فرشتے اس کا اولاہنا دیں گے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول کے موافق حبک کے معنی آسمان کی خوبصورتی اور ہمواری ٢ ؎ کے ہیں۔ بعض سلف کا قول ہے کہ پانی یا ریت میں ہوا سے خانے خانے پڑ کر ایک جالی جو ہوجاتی ہے اس کو حبک ٣ ؎ کہتے ہیں ترجمہ میں یہی قول لیا گیا ہے۔ (١ ؎ جامع ترمذی ابواب العلم ص ١٠٩ جلد ٢۔ ) (٢ ؎ صحیح مسلم بیان کون النھی عن المنکر من الایمان الخ ص ٥٠ ج ١۔ ) (١ ؎ مشکوٰۃ شریف کتاب العلم ص ٣٧۔ ٣٨ ملاحظہ فرمائیں۔ ) (٢ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٢٣١ ج ٤۔ ) (١ ؎ صحیح مسلم باب فی الکفار ص ٣٧٤ ج ٢۔ ) (٢ ؎ تفسیر ابن کثیر ٢٣٢ ج ٤۔ ) (٣ ؎ تفسیر ابن کثیر ٢٣٢ ج ٤۔ )
(51:1) والذریت ذروا۔ وائو قسمیہ ہے جملہ قسمیہ ہے۔ ذرو (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ہے۔ ذرو بمعنی اڑنا۔ اڑانا۔ پراگندہ کرنا۔ جدا کرنا۔ بکھیرنا۔ الذریت ای الریاح التی تذور التراب۔۔ ہوئیں جو مٹی یا بادلوں وغیرہ کو ادھر ادھر اڑاتی ہیں۔ ذرو ۔ ہوا کی صفات میں سے مشہور صفت ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فاصبح ہشیما تذروہ الریاح ۔ (18:45) پھر وہ چورا چورا ہوگئی کہ ہوائیں اسے اٹھاتی پھرتی ہیں۔ ذروا مفعول مطلق۔ بعض کے نزدیک الذاریت سے مراد عورتیں یا ملائکہ اور دوسرے (سماوی یا ارضی) اسباب ہیں جو روئے زمین پر مخلوق کو پھیلاتے ہیں۔ ترجمہ ہوگا : قسم ہے بکھیرنے والیوں کی جو اڑا کر بکھیرتی ہیں۔ یعنی قسم ہے ان ہوائوں کی جو خاک وغیرہ اڑاتی ہیں۔
آیات ١ تا ٢٣۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرداڑاتی ہیں اور ان بادلوں کو جو پانی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں اور ان سواریوں کی جو سبک رفتار ہیں اور ان فرشتوں کی جو اللہ کے حکم سے ہر شے تقسیم کرتے ہیں قسم سے مراد گواہی اور شہادت ہے کہ یہ نظام اور اس کا صد فیصد درست ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ بغیر کسی نقص وکوتاہی کے رواں دواں رہنا جیسے خشک ہوائیں جو گرداڑاتی پھرتی ہیں مگر ساتھ پانی کو بخارات بنا کر بھی اڑادیتی ہیں وہ بخارات خوبصورت بادلوں میں ڈھل رہے ہیں اور پھر بارش برس کر انسانی رزق کا ذریعہ بن رہے ہیں اسی طرح زمین ہوا اور سطح آب پر سبک رفتار سواریاں جو لوگوں کے حصول مقصد کا بہت بڑا ذریعہ ہیں اگر ان سب میں چھینا جھپٹی سے کچھ ملتا تو کچھ لوگ لوٹ کر ڈھیر لگالیتے جبکہ دوسروں کو سررمق بھی ہاتھ نہ آتا مگر وہ فرشتے جو بارش کا ہر قطرہ رزق کا ہر دانہ عمرصحت عقل شعور شکل قد بیٹا بیٹی صحت وبیماری ہر ہرشے اللہ کے حکم سے جہاں اللہ پہنچانا چاہتا ہے پہنچا رہے ہیں اور ایک ایسانظام جس کی بنیاد ہی عدل و انصاف پر ہے اور ہر ایک کو جو کچھ مل رہا ہے عین انصاف ہے اور وہ اسی کا مستحق ہے۔ یہ اس بات پر گواہ ہے کہ جب غیر اختیاری امور میں اس قدر انصاف ہورہا ہے تو انسان کو جن امور پر اختیار دیا گیا ہے اس میں کسی کو ایمان نصیب ہوا اور کسی نے کفر اختیار کیا ایک نے اطاعت کی جبکہ دوسرے نے نافرمانی کی اور ظلم کیا تو اس میں انصاف نہ ہوگاضرور ہوگا اور یہ سب کچھ اور سارانظام اس کی گواہی دے رہا ہے کہ تم سے جو قیامت کا وعدہ ہے وہ سچا ہے اور روز جزا ضرسور برپا ہوگا قسم ہے اس آسمان کی جس میں فرشتوں کے چلنے کی راہیں ہیں یعنی ملائکہ کا آناجانا اور آسمان میں نامہ اعمال کا رکھنا کہ تم اس بارے میں مختلف رائے رکھتے ہو کچھ لوگوں کو ایمان نصیب ہوتا ہے جبکہ دوسرے اختلاف کرکے کفر میں مبتلا ہوتے ہیں اور کفر میں وہی لوگ مبتلا ہوتے ہیں جن سے ان گناہوں کے سبب ایمان کی توفیق چھن جاتی ہے تباہی ہوا ایسے غلط اندازے لگانے والوں کی جو اللہ کی یاد سے غافل اور راہ حق سے بھٹکے ہوئے ہیں اور مذاق اڑاتے ہیں کہ وہ انصاف کا دن ا اور قیامت کب ہوگی یہ اس روز ہوگی جب انہیں آگ میں جھونکا جائے گا اور کہاجائے گالواب اپنی شرارتوں کے انجام کا مزہ چکھو تمہیں جلدی تھی کہ قیامت کب ہو آج وہ واقع ہوگئی جبکہ یہی لمحہ کفار کے لیے باعث ذلت ورسوائی ہوگا اللہ کے نیک بندوں کے لیے راحت کی گھڑی ثابت ہوگا کہ باغات اور چشموں سے سجائی ہوئی جنت میں داخ (رح) ہوں گے اور جو نعمتیں اللہ نے وہاں ان ک لیے رکھی ہیں حاصل کریں گے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں خلوص دل سے اتباع شریعت کرنے والے تھے وہ راتوں کو خواب غفلت میں نہ گنواتے بلکہ اٹھ اٹھ کر اللہ کی عبادت کرتے تھے اور سحری کو استغفار کیا کرتے تھے یعنی رات کی عبادت پہ نازاں نہ ہوتے تھے بلکہ یہ احساس رکھتے تھے کہ ان کی عبات اس بارگاہ عالی کے لائق نہیں اور اپنی کمزوریوں پر بخشش اور عفودرگزر کے طالب ہوتے تھے اور ان کے مال میں سے ایسے غریب جو سوال کرتے یا وہ لوگ بھی جو محتاج تو تھے مگر سوال کرنے سے بچتے تھے اور یوں محروم رہتے ہیں ان سب کو ملتا تھا اور وہ اس انداز سے مال خرچ کرتے تھے کہ ان غرباء پر کوئی احسان نہ جتاتے بلکہ ان کا حق سمجھ کر انہیں پہنچاتے اور یوں سبکدوش ہوتے تھے یعنی مال وزر کی محبت کے اسیر نہ تھے بلکہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے تھے اور زمین میں اہل ایمان کے لیے بیشمار دلائل ہیں کہ جس قدر انسانی عقل کو تحقیقات پہ دسترس ہوتی ہے اللہ کی عظمت کا احساس اور بڑھ جاتا ہے۔ کہ کس طرح سے ہر آنے والے کا رزق اس میں محفوظ ہے اس کے موسم ماحول اور فضا ہر جگہ ہر مزاج کے مطابق ہیں یا کس طرح سے ذرات اور ایٹم اشیاء کا روپ دھارتے ہیں اور سبزہ درخت پھل پھول چشمے اور دریا وجود پاتے ہیں اسی طرح خود تمہارے وجود کے اندر اس کی عظمت کے نشان موجود ہیں ایک ایک انسانی وجود پورے نظام عالم کی مائیکرو ہے اور عالم اصغر کہا گیا ہے کہ کس طرح اس کے منتشر اجزاء خوراک بن کروجود کا حصہ بن رہے ہیں کس طرح لوگ اپنی باری پہ آتے اپنارزق لیتے اور چلے جاتے ہیں کس طرح ایک قطرہ انسانی قالب میں ڈھلتا ہے اور کس طرح مختلف شکلیں استعداد عمر وقوت اور صحت تقسیم ہو رہے ہیں یہ سارانظام اور اس کی باقاعدگی کیا یوم جزا اور انصاف کے دن کا تقاضا نہیں کرتی تمہیں ایسا نظر نہیں آتا یعنی یقینا کرتی ہے اور یہ بھی جان لو کہ یہ مال وزر اور رزق روزی بھی آسمانی فیصلوں کے مطابق ہی ہر ایک کو ملتی ہے انسان کے بس میں تو ایمان یعنی ماننا اور نہ ماننا ہے اور وہ ذریعہ جائز اپناتا ہے یا غلط اور بس ملتا وہ ہے جو اللہ کے حکم سے اس کو نصیب ہوتا ہے اور اعمال کی جزا کے فیصلے بھی اسی کے محفوظ کے تابع ہیں اور ارض وسماء کے نظام کو بنانے اور چلانے والے کی قدرت کاملہ اور عظمت اس بات کی گواہ ہے کہ سب کچھ واقع ہوگایہ ایک ایسی سچائی ہے جیسے تم خود بات کرت ہو تمہیں اپنے بات کرنے کا یقین ہوتا ہے ایسے ہی اس کا وقع یقینی ہے۔
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 23 ذاریات (ذاریۃ) اڑ کر بکھیرنے والیاں الحاملات اٹھانے والیاں ۔ وقر بوجھ۔ جاریات چلنے والیاں۔ یسر آسانی، سہولت۔ المقسمات تقسیم کرنے والیاں۔ توعدون تم جو وعدہ کئے گئے ہو الحبک (حبیکۃ) راستے۔ یوفک پھیرا جاتا ہے افک پھیرا گیا ہے۔ الخراصون انکل کے تیرچ لانے والے غمرۃ غفلت ساھون بھونے والے، غفلت کرنے والے ایان کب۔ یفتون الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ تستعجلون تم جلدی مچاتے ہو عیون (عین) چشمے۔ یعجعون تھوڑا سا سونا۔ السائل سوال کرنے والا، مانگنے والا۔ المحروم غریب، مفلس، محروم رہنے والا۔ تنطقون تم بولتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 23 اصل میں وہ لوگ جو آخرت کا انکار کرتے تھے انسان کے مر جانے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور آخرت میں حساب کتاب کو عقل سے دور کی بات قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ سب کہنے کی باتیں ہیں آخرت وغیرہ کوئی چیز نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے منکرین کو یقین دلانے کے لئے چار چیزوں کی قسم کھائی ہے اور بتایا ہے کہ ان پر غور کرلو تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کائنات کا ایک ایک زرہ اور اس میں انقلابات اس کے گواہ ہیں کہ ایک دن اس نظام کو توڑ دیا جائے گا اور نئی زمین اور آسمان وجود میں آجائیں گی وہی آخرت اور حشر کا دن ہے۔ فرمایا تم نہیں دیکھتے کہ جب زمین گرمی اور خشکی سے گرد و غبار بن جاتی ہے ہر طرف دھول اڑانے والی ہوائیں چلتی ہیں تو اس گرمی سے بادل بنتے ہیں اور ہوائیں ان بھاری بادلوں کو اٹھا کر ایک خاص بلندی تک لے جاتی ہیں اور پھر جس جگہ اللہ کا حکم ہوتا ہے یہ بادل برس کر اس خشک زمین کو تر کردیتے ہیں اور پھر اس میں ایک خاص رونق ابھر کر سامنے آتی ہے۔ پانی پر کشتیاں چلتی ہیں جو اپنی نرم رفتار سے چل کر لوگوں تک رزق پہنچنے کا ذریعہ بنتی ہیں اور پھر اللہ کے حکم سے اس کا رزق اس کی مخلوق میں تقسیم ہوتا ہے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح تم دیکھتے ہو کہ ایک خشک بنجر، سوکھی ہوئی مٹی پر پانی پڑتے ہی ایک دم نکھار آجاتا ہے اور مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے اسی طرح جب اللہ کے حکم سے صور پھونکا جائے گا تو ساری مخلوق مر جائیگی اور جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو اولین و آخری کے تمام مردے اپنی اپنی جگہوں سے نکل کر میدان حشر کی طرف دوڑنا شروع کردیں گے۔ فرمایا اس کے علاوہ زمین و آسمان ہی نہیں بلکہ خود انسان کے اپنے وجود کے اندر سینکڑوں نشانیاں موجود ہیں۔ غور کرنے والے اس حقیقت تک پہنچ ہی جاتے ہیں کہ اس پوری کائنات کا مالک صرف اللہ ہے وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اے نبی ! آپ جس قیامت کا ذکر کر رہے ہیں وہ کب آئے گی ؟ فرمایا کہ قیامت تو آ کر رہے گی اس کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے لیکن یہ دن کفار و مشرکین اور اللہ کے نافرمانوں کیلئے بہت سخت دن ہوگا کیونکہ اس دن ان کفار کو آگ پرتپایا جائے گا اور وہ لوگ جنہوں نے زندگی بھر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری میں گذاری ہوگی تقویٰ و پرہیز گاری جن کی زندگی کا سرمایہ ہوگا وہ جنت کی راحتوں میں ہر طرح کی نعمتیں حاصل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشادات کا خلاصہ یہ ہے : ان ہواؤں کی قسم جو گرداڑنے والی ہیں پھر یہی ہوائیں ان بدلیوں کو اپنے دوش پر لے کر چلتی ہیں جو پانی سے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔ ان کشتیوں کی قسم جو انسانی رزق اور اسباب کو لے کر ایک خاص وقار، انداز اور نرمی سے چلتی ہیں۔ پھر ان فرشتو کی قسم جو (اللہ کے رزق کو) تقسیم کرنے والے ہیں کہ تم سے جس قیامت کا وعدہ کیا گیا ہے وہ بالکل سچ ہے اور ایک ایسا انصاف کا دن قائم ہوگا جس میں ہر شخص کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا جائے گا۔ کسی پر کسی قسم کا ظلم اور زیادتی نہ کی جائے گی۔ فرمایا کہ اس سراستے والے آسمان کی قسم یعنی جس میں فرشتے اترتے اور چڑھتے ہیں کہ تم لوگ اس قیامت کے بارے میں کس قدر مختلف باتیں بنا رہے ہو یعنی کوئی اس کو مانتا ہے اور کوئی نہیں مانتا۔ حالانکہ اگر ذرا بھی غور و فکر سے کام لیا جائے تو وہ اس سچائی کی گہرائی تک پہنچ جائے گا۔ فرمایا کہ اس حقیقت کو وہی تسلیم کریں گے جن کے دل میں ال لہ و رسول کی اطاعت کا جذبہ ہوگا لیکن وہ لوگ جو کسی سچائی کی بات کو دیکھنے اور سننے کے باوجود اس کا یقین نہیں کرتے وہ اپنے گمان پر عمل کر کے اپنے آپ کو سعادت کے ہر راستے سے محروم کر کے اپنے اوپر لعنتیں مسلط کرتے جا رہے ہیں۔ ان کی غفلت انہیں کہیں کا نہ چھوڑے گی۔ کفار کہتے ہیں کہ آخر و قیامت کب آئے گی ؟ اللہ نے فرمایا کہ جب وہ دن آئے گا تو اس دن ان کفار و مشرکین کو جہنم کی آگ پر تپایا جائیگا اور کہا جائے گا کہ یہی وہ عذاب ہے جس سے تمہیں ڈرایا جاتا تھا مگر تم نے ہمیشہ اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا ۔ اب تم اس عذاب کا مزہ چکھو اور جس عذاب کی جلدی کرتے تھے اس کی سزا بھگتو۔ ان لوگوں کے برخلاف وہ لوگ جنہوں نے نیکی اور پرہیز گاری کے ساتھ زندگی گزاری ہوگی ان کو جنت کے باغوں اور چشموں کی نعمت عطا کی جائے گی۔ یہ سعادت ان لوگوں کے حصے میں آئے گی جو پرہیز گاری اور احتیاط کی زندگی گذارتے تھے ۔ راتوں کو بہت کم سوتے تھے اور رات کے آخری حصے میں اللہ سے استغفار یعنی اپنے گناہوں کی معافی مانگا کرتے تھے ۔ جن کا مال و دولت صرف ان ہی لوگوں کیلئے نہیں تھا جو ان سے سوال کرتے تھے بلکہ ہر اس ضرورت مند شخص کے لئے وقف تھا جو شرم کے مارے سوال نہیں کرتا تھا۔ فرمایا کہ انسان بات کو سمجھنا چاہے تو کائنات میں بکھری ہوئی نشانیوں اور خود اس کی اپنی ذات میں جو نشانیاں موجود ہیں ان پر غور کر کے حقیقت تک پہنچ سکتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے تمہارے لئے آسمان میں تمہارا رزق رکھا ہے۔ فرمایا کہ زمین و آسمان کے رب کی قسم یہ بات بالکل سچ ہے اور جس طرح تم بول رہے ہو اسی طرح یہ بات برحق ہے۔
فہم القرآن ربط سورت : سورة ق کا اختتام قیامت کے ذکر پر ہوا۔ الذّاریات کی ابتدا بھی قیامت کے ذکر اور اس کے دلائل سے کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق میں سے کسی کی قسم اٹھانا بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ پہلے بھی عرض ہوچکا ہے کہ اس سے دیگر مقاصد کے ساتھ اس چیز کی اہمیت بتلانا بھی مقصود ہوتا ہے۔ جنس (gender) کے اعتبار سے ہوا ایک ہے لیکن کام اور اثرات کے لحاظ سے اس کی کئی اقسام ہیں یہاں چار قسم کی ہواؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔ قسم ہے گردوغبار اڑانے والی، بادلوں کا بوجھ اٹھانے والی پھر سبک رفتار چلنے والی اور پانی کو بارش کی صورت میں برسانے والی ہواؤں کی۔ یاد رہے کہ قدرت کی بڑی بڑی نشانیوں میں ہوابھی اللہ کی قدرت کی زبردست نشانی ہے۔ ہوا قدرت کی نشانی ہونے کے ساتھ اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس کے سوا ہر جاندارچند لمحوں کا مہمان ہوتا ہے۔ اللہ کی بےپایاں رحمت پر غور فرمائیں کہ جن چیزوں کے بغیر کوئی جاندار زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کو عام کردیا ہے۔ ان میں پانی، روشنی، اندھیرا اور ہوا بھی شامل ہے جو محلات کی نسبت جھونپڑیوں میں رہنے والوں کو صاف اور شفاف صورت میں حاصل ہوتی ہیں۔ ہوا پر غور فرمائیں کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے گرد آلود یارنگ دار کردے تو بینائی رکھنے کے باوجود انسان ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوجائے۔ اگر پوری دنیا یا کسی علاقے کی ہوا کو گرد آلود کردیا جائے تو پیدل چلنے والے سے لے کر ہوائی جہاز کا پائلٹ بھی بےکار اور لاچار ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا میں ایسی قوت رکھ دی ہے کہ اگر وہ آندھی کی شکل اختیار کرلے تو ہر چیز کو اڑا کر رکھ دیتی ہے۔ ہوا ٹنوں کے حساب سے گردو غبار اٹھا کر اسے میلوں دور پھینک دیتی ہے بالخصوص صحراء میں ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو ہوا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کردیتی ہے۔ بسا اوقات آندھی کی وجہ سے صحراء میں راستے اس طرح اٹ جاتے ہیں کہ مسافر کے لیے راستہ تلاش کرنا محال ہوجاتا ہے۔ ہوا میں اللہ تعالیٰ نے یہ قوت اور کشش بھی رکھی ہے کہ جب سمندر کا پانی سورج کی گرمی سے بخارات کی شکل اختیار کرتا ہے تو ہوا اس کو اٹھا کر فضا میں ایک خاص بلندی تک لے جاتی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے بادلوں کو اٹھائے ہوئے خراما خراما چلتی ہوئی انہیں وہاں لے جاتی ہے جہاں انہیں برسنے کا حکم ہوتا ہے۔ بادلوں کو اٹھانے والی ہوا یک دم بادل کو نیچے نہیں پھینکتی بلکہ آبشار کی صورت میں پانی برساتی ہے۔ اگر ہوا بادل کو یک دم پھاڑ دے تو زمین پر پانی اس طرح گرے کہ کوئی چیز باقی نہ بچ سکے۔ اگر اللہ تعالیٰ سورج کی تپش سے پانی کو بخارات میں تبدیل نہ کرے اور بخارات کو ہوا اوپر نہ اٹھائے تو بارش کا برسنا ناممکن ہوجائے۔ ہوا بادلوں کو تقسیم کرتی ہے بسا اوقات اس قدر گہرے بادل ہوتے ہیں کہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ بادل ہر صورت برس کر رہیں گے لیکن یکدم ہوا بادلوں کو اس طرح بکھیر دیتی ہے کہ ان کا نشان تک دکھائی نہیں دیتا۔ بنیادی طور پر بارش ہی آبپاشی کا ذریعہ ہے جس سے ہر ذی روح سیراب ہوتا ہے اور بارش کا مرکزی سبب ہوا ہے جس کے ذریعہ بادل ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچتے اور برستے ہیں۔ بارش کے ذریعے ہی اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو حیات نو بخشا ہے جس وجہ سے زمین میں دبے ہوئے بیج اپنی اپنی مدت پوری کرنے کے بعد اگتے ہیں اور صحراء شاداب دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں اشارے کی زبان میں اور دوسرے مقام پر کھلے الفاظ میں بتایا ہے کہ جس طرح بارش سے بیج اُ گتے ہیں اسی طرح قیامت کے دن لوگوں کو زندہ کیا جائے گا۔ ( الزخرف : ١١) بعض مفسرین نے ” مُقَسِّمَاتِ “ سے مراد فرشتے لیے ہیں لیکن کلام کے سیاق وسباق سے یہ مفہوم لینا دور کی بات نظر آتی ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کئی چیزوں کی قسم اٹھائی ہے۔ ٢۔ کسی چیز کی قسم اٹھانے کا مقصد اس کی اہمیت کو نمایاں کرنا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا بھی کئی قسم کی بنائی ہیں جو اپنا اپنا کام سرانجام دیتی ہیں۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید میں ہوا کا ذکر : ١۔ کفار کے اعمال کی مثال تیز آندھی کی سی ہے جس طرح تیز آندھی سب کچھ اڑا کرلے جاتی ہے ایسے ہی کفار کے اعمال اڑ جائیں گے۔ (ابراہیم : ١٨) ٢۔ قوم عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک کی گئی۔ (الحاق : ٦) ٣۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کے لیے ہوا کو مسخر کردیا جو اس کے حکم سے چلتی تھی۔ (الانبیاء : ٨١) ٤۔ ہواؤں کے چلنے اور بادلوں کے مسخر ہونے میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ (البقرۃ : ١٦٤) (بنی اسرائیل : ٦٨)
یہ سرسری اور مختصر آیات وضربات ہیں۔ ایسے الفاظ کے ساتھ جن کا مفہوم واضح نہیں ہے جیسا کہ ہم نے کہا پردہ احساس پر ایک خاص تاثر چھوڑتی ہیں۔ دل کو ایک نہایت ہی اہم بات سے جوڑ دیتی ہیں اور ایسے معاملے کی طرف متوجہ کرتی ہیں کہ جو توجہ کا مستحق ہے۔ جن لوگوں نے قرآن کریم کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے سنا ان کو بھی ان الفاظ کا مفہوم ایک دوسرے سے پوچھنے کی ضرورت پیش آئی کہ ذاریات ، حاملات ، جاریات اور مقسمات کا مفہوم کیا ہے۔ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں ، شعبہ ابن الحجاج نے روایت کی ، سماک ابن خالد ابن عرعرہ سے کہ انہوں نے حضرت علی (رض) سے سنا نیز روایت کی شعبہ نے قاسم ابوبزہ سے ، انہوں نے ابو طفیل سے ، انہوں نے بھی حضرت علی (رض) سے سنا اور ان کے علاوہ بھی کئی لوگوں کے ذریعہ حضرت ابن ابوطالب (رض) سے یہ بات ثابت ہے کہ وہ کوٹہ میں ممبر پر چڑھے اور کہا ، تم قرآن کی کسی آیت کے بارے میں مجھ سے پوچھو یا سنت رسول کے بارے میں مجھ سے پوچھو تو میں تمہیں بتا سکتا ہوں۔ ابن کو اء کھڑا ہوا اور دریافت کیا امیر المومنین کہ اللہ کے کلام الذاریات ذروا .... کے کیا معنی ہیں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : ” ہوا “ تو اس نے پوچھا فالحاملات وقرا کے معنی ؟ تو انہوں نے فرمایا ” بادل “ تو اس نے پوچھا فالجاریات یسرا کے معنی تو آپ نے فرمایا ” کشتیاں “ اس نے کہا فالمقسمات امرا ؟ تو انہوں نے فرمایا ” فرشتے “۔ ایک شخص صیع ابن عسل تمیمی حضرت عمر ابن الخطاب (رض) کے پاس آئے اور حضرت عمر سے ان الفاظ کے معنی پوچھے ، تو حضرت عمر نے بھی حضرت علی (رض) کی طرح جواب دیا۔ حضرت عمر (رض) نے محسوس کیا کہ شاید وہ دشمنی اور عناد کی بنا پر سوال کررہا ہے تو آپ نے اسے سزا دی اور حکم دیا کہ وہ لوگوں کے پاس نہ بیٹھے۔ یہاں تک کہ اس نے توبہ کی اور سخت قسموں کے ساتھ حلف اٹھیا کہ آپ نے جو محسوس کیا ہے میرے دل میں وہ بات نہ تھی اس سے معلوم ہوا کہ ان الفاظ کے مدلول اور معنی کا اجمال اہل عناد اور دشمنان اسلام کو یہ موقع دے رہا تھا کہ وہ ان کے بارے میں لوگوں سے سوال کرتے پھریں۔ اگر کوئی محسوس کرتا تو وہ کہتے ہم تو صرف معنی پوچھتے تھے۔ یہی تفسیر ابن عباس اور ابن عمر (رض) سے منقول ہے۔ مجاہد ، سعید ابن جیر ، حسن ، قتادہ ، سدی وغیرہ بھی اسی طرف گئے ہیں۔ ابن جریر اور ابن ابو حاتم نے اس کے علاوہ کوئی اور تفسیر نقل نہیں کی۔ (ابن کثیر) اللہ تعالیٰ ان ہواؤں کی قسم اٹھاتا ہے جو گرد اڑاتی ہیں جو بیجوں کو ادھر ادھر اڑاتی ہیں اور جو پھولوں پر گرد کو اڑاتی ہیں اور بادلوں کو اڑاتی ہیں۔ نیز دوسری چیزوں کو اڑاتی ہیں جو انسان کے علم میں ہوں یا نہ ہوں اور پھر قسم ہے ان بادلوں کی جو پانی کے بوجھ کو اٹھائے ہوئے ہیں اور پھر جہاں اللہ کا حکم ہوتا ہے برس جاتے ہیں۔ پھر ان کشتیوں کی قسم جو بڑی سہولت سے چلتی ہیں۔ یہ سطح سمندر پر تیر رہی ہوتی ہیں کہ ان کے مواد میں اور پانی میں اللہ نے ایسی خصوصیات ودیعت کی ہیں اور اس کائنات میں اللہ نے ایسی خصوصیات رکھ دی ہیں جو ان کشتیوں کی رفتار کو آسان کرتی ہیں پھر ملائکہ کی قسم جو اللہ کے احکام کو تقسیم کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے پیغام کو تقسیم کرتے ہیں۔ یہ اللہ کا پیغام اس کی مرضی سے تقسیم کرتے ہیں۔ یہ پیغامات مختلف معاملات کے متعلق ہوتے ہیں اور پوری کائنات میں تقسیم ہوتے ہیں۔ ہوا ، بادل ، سفینے اور فرشتے اللہ کی مخلوقات میں سے مخلوق ہیں۔ اللہ ان کو اپنی قدرت کا سبب اور الہ بنایا ہے۔ یہ اللہ کی مشیت کا ایک پردہ ہیں اور ان کے ذریعہ اللہ زمین پر اپنی مرضی چلاتا ہے۔ اللہ ان چیزوں کے ساتھ قسم اس لئے اٹھاتا ہے کہ یہ بہت ہی اہم چیزیں ہیں اور انسانوں کو اس اس طرف متوجہ ہونا چاہئے اور ان کے پیچھے جو قوتیں کام کرتی ہیں ان پر غور کریں اور پھر انسان ان چیزوں پر غور کریں کہ اللہ نے کس طرح ان کو پیدا کیا ہے وہ ان کے ذریعے سے اس دنیا میں کیا کیا تصرفات کرتا ہے اور اپنی اس تقدیر کو پردے سے باہر لاتا جاتا ہے جو اس سے پہلے سے طے کر رکھی ہے۔ یہاں اس سورة میں ان چیزوں کا تذکرہ ایک مخصوص انداز میں کیا گیا ہے اور اس لئے کیا گیا ہے کہ انسانی دل و دماغ ان کے اسرار و رموز کو جان سکیں اور پھر ان چیزوں کو کرشمہ قدرت قرار دے کر تعلق باللہ قائم کریں۔ پھر ان چیزوں کا رزق کے ساتھ ایک گونہ تعلق بھی ہے اور اس سورة کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ انسان کو اس رزق سے بالکل ظاہر ہے۔ اب فرشتے جو رزق تقسیم کرتے ہیں تو من جملہ اور احکام کے وہ احکام رزق بھی تقسیم کرتے ہیں لہذا ان تمام چیزوں کا تعلق رزق سے زیادہ واضح ہوجاتا ہے جس کا تذکرہ اس سورة میں کئی جگہ آیا جس غرض کے لئے اللہ ان چار امور پر قسم اٹھاتا ہے وہ یہ ہے کہ : انما ........ لواقع (١٥ : ٦) ” جس چیز کا تمہیں خوف دلایا جارہا ہے وہ سچی ہے اور جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے۔ “ اللہ نے لوگوں کے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ احسان کے بدلے احسان کرے گا اور برائی کا بدلہ برائی سے دے گا۔ اس دنیا میں تو اس نے تمہیں مہلت حساب دی ہے لیکن آخرت میں کوئی مہلت نہ ہوگی لہٰذا وہاں حساب لازمی ہوگا۔ وان .... لواقع (١٥ : ٦) ” جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے “ لہٰذا یہ وعدہ سچا ہے دنیا کا ہو یا آخرت کا۔ اور جو وعدہ اس نے کئے ہیں ان میں رزق کا بھی وعدہ ہے۔ رزق وہ دے گا کسی کو زیادہ کسی کو تھوڑا۔ اپنی مشیت کے مطابق۔ یہ وعدہ بھی سچا ہے جس طرح اللہ تمام معاملات میں سچا ہے۔ لہٰذا اللہ نے لوگوں کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے وہ سچا ہے اور وہ پورا ہوگا جس طرح اللہ چاہتا ہے اور جس وقت وہ چاہے گا ایسا ہوگا۔ اللہ کی جانب سے اس پر کسی قسم کی ضرورت نہ تھی لیکن اللہ اپنی بعض مخلوقات کی قسم اس لئے اٹھاتا ہے کہ لوگ ان چیزوں کی طرف متوجہ ہوں جیسا کہ پہلے بھی کیا گیا ، اور ان چیزوں کے اندر جو کمال تخلیق ہے اور ان کی تدبیر میں قدرت الٰہیہ جس طرح کام کررہی ہے اس پر غور وفکر کریں اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کریں کہ اللہ کا وعدہ حشرونشر برحق ہے کیونکہ اللہ کی اس تخلیق اور اس کے اس نظام کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ حشر ونشر ہو اور اس میں اچھائی اور برائی اور صلاح اور فساد پر لوگوں کا محاسبہ ہو کیونکہ اس کائنات کی ساخت کا یہ تقاضا ہے کہ یہ عبث نہیں ہے۔ نہ اتفاقاً وجود میں آگئی ہے۔ یوں یہ مخلوق جس کی قسم اٹھالی گئی ہے یہ اس قسم کی وجہ سے حشرونشر پر ایک دلیل وبرہان بن جاتی ہے اور انسان اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور انسانی احساس و شعور اس پر غور کرتا ہے۔ یہ قرآن مجید کی تعلیم وتربیت کا ایک انداز ہے۔ قرآن مجید انسانی فطرت کا کائناتی زبان میں براہ راست خطاب کرتا ہے اور یہ خطاب نہایت موثر ہوتا ہے۔
قیامت ضرور واقع ہوگی، منکرین عذاب دوزخ میں داخل ہوں گے یہاں سے سورة الذاریات شروع ہو رہی ہے اس میں الذاریات اور الحاملات اور الجاریات اور المقسمات کی قسم کھائی ہے اور اس میں ذروا اور یسرًا تو مفعول مطلق ہے اور وقراً اور امراً مفعول بہ ہیں۔ صاحب روح المعانی نے حضرت عمر اور حضرت علی (رض) سے یہی تفسیر نقل کی ہے جو ترجمہ میں لکھ دی گئی ہے چاروں چیزوں کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ تم سے جو وعدہ کیا جا رہا ہے وہ سچ ہے اور جزا یعنی اعمال کا بدلہ ضرور ملنے والا ہے یعنی قیامت ضرور قائم ہوگی بنی آدم میدان حشر میں حاضر ہوں گے اپنے اعمال کا بدلہ پائیں گے، جن چیزوں کی قسم کھائی ہے ان میں فرشتے ہیں، جو آسمان میں رہنے والی مخلوق ہے اور بادل ہیں جو آسمان اور زمین کے درمیان ہوتے ہیں اور ہوائیں ہیں جو زمین کے اوپر چلتی ہیں اور اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر جاتی رہتی ہیں اور کشتیاں ہیں جو سمندروں اور نہروں میں چلتی ہیں۔ ان چیزوں کے جاننے والے اور دیکھنے والے غور و فکر کریں گے تو یہ سمجھ میں آجائے گا کہ قیامت قائم ہونے میں شک کرنا غلط ہے، جس ذات پاک کے یہ تصرفات ہیں اس کے لیے قیامت قائم کرنا کوئی مشکل نہیں اس نے وقوع قیامت کی خبر اپنے رسولوں اور پیغمبروں کے ذریعہ دی ہے یہ خبر سچی ہے۔
2:۔ ” والذاریات ذروا۔ تا۔ فالمقسمت امرا “ یہ حشر و نشر اور جزاء پر شاہد ہے۔ قسم ہے ہواؤں کی جو اٹھاتی اور پھیلاتی ہیں۔ پھر بوجھ (پانی بادلوں کی شکل میں) کو اٹھاتی اور آہستہ آہستہ چلتی ہیں پھر اللہ کے حکم سے امر الٰہی کو تقسیم کرتی ہیں۔ یعنی کہیں بارش برستی ہے اور کہیں اولے پڑتے ہیں۔ ” انما توعدون۔ تا۔ لواقع “ یہ جواب قسم ہے جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے یعنی حشر و نشر وہ حق ہے اور قیامت کے دن جزاء وسا ضرور ہوگی۔ ” انما توعدون لصادق “ پہلے دو قسموں سے متعلق ہے یعنی جس طرح ہوا بادلوں کو اٹھاتی ہے اسی طرح تم بھی اٹھائے جاؤ گے یہ دنیا میں حشر و نشر کا ایک نمونہ ہے۔ ” ان الدین لواقع “ یہ دوسری دونوں قسموں سے متعلق ہے جسطرح ہوائیں بادلوں کو لے کر چلتی ہیں اور اللہ کے حکم سے کہیں باران رحمت ہوتی ہے اور کہیں اولے پڑتے ہیں اسی طرح قیامت کے دن جزاء و سزا ہوگی مومنوں پر بارش کی طرح اللہ کی رحمت ہوگی اور کافروں پر اولوں کی طرح اللہ کا عذاب نازل ہوگا۔ یہ دنیا میں جزا و سزا کا نمونہ ہے۔