Surat uz Zaariyaat

Surah: 51

Verse: 19

سورة الذاريات

وَ فِیۡۤ اَمۡوَالِہِمۡ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الۡمَحۡرُوۡمِ ﴿۱۹﴾

And from their properties was [given] the right of the [needy] petitioner and the deprived.

اور ان کے مال میں مانگنے والوں کااور سوال سے بچنے والوں کا حق تھا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And in their wealth there was the right of the Sa'il and the Mahrum. After Allah mentioned their quality of performing prayer, He then mentioned their quality of spending in charity and acts of compassion and kindness, وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ (And in their wealth there was the right), a designated part which they dedicated to the Sa'il and Mahrum. The Sa'il is the poor who begs others, and he has a due right. As for the Mahrum, Ibn Abbas and Mujahid said, "He is the poor person who does not receive a stipend." Meaning he does not receive a stipend from the Muslim treasury, nor does he have a means of income, nor a profession. The Mother of the faithful, A'ishah may Allah be pleased with her, said about the Mahrum, "He is the displaced, the one who does not have a profession to easily earn an income from." Qatadah and Az-Zuhri said: "The Mahrum is the one who does not ask the people for anything." Az-Zuhri added that the Messenger of Allah said, لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالطَّوَّافِ الَّذِي تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلكِنِ الْمِسْكِينُ الَّذِي لاَ يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ وَلاَ يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْه The poor (Miskin) is not the one who goes round to the people and asks them for a mouthful or two or a date or two. But the poor is the one who does not have enough to satisfy his needs and whose condition is not known to others, so that others may give him something in charity. This Hadith is recorded in the Two Sahihs using another chain of narration. Allah's Signs on the Earth and in Mankind Allah the Exalted and the Blessed said next, وَفِي الاَْرْضِ ايَاتٌ لِّلْمُوقِنِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

19۔ 1 محروم سے مراد، وہ ضرورت مند ہے جو سوال سے اجتناب کرتا ہے۔ چناچہ مستحق ہونے کے باوجودلوگ اسے نہیں دیتے۔ یا وہ شخص ہے جس کا سب کچھ، آفت ارضی و سماوی میں، تباہ ہوجائے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢] مال میں سائل اور محروم کا حق :۔ اس سے مراد محض اموال زکوٰۃ نہیں، کیونکہ زکوٰۃ تو اس وقت فرض بھی نہ ہوئی تھی۔ نیز ترمذی میں واضح طور پر یہ صراحت موجود ہے۔ کہ ان فی المال حقاً سوی الزکوٰۃ کہ مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق ہوتا ہے اور اس حق میں مانگنے والے بھی شامل ہیں اور نہ مانگنے والے بھی۔ یعنی نیک لوگ خود ان لوگوں کی تلاش میں ہوتے ہیں جو محتاج ہوں۔ بیوہ عورتیں ہوں، مریض یا معذور ہوں اور کما نہ سکتے ہوں یا عیالدار ہوں مگر مانگنے سے ہچکچاتے ہوں۔ اور ان کو جو کچھ دیتے ہیں وہ ان کا حق سمجھ کر انہیں ادا کرتے ہیں۔ صدقہ و خیرات کے طور پر نہیں دیتے کہ ان سے کسی شکریہ یا بدلہ کے طالب ہوں یا بعد میں انہیں احسان جتلاتے پھریں۔ یعنی جس طرح قرض ادا کرنا ایک حق اور ضروری امر ہے۔ اور قرضہ ادا کرکے کوئی احسان نہیں جتلاتا کہ میں نے تمہارا قرضہ ادا کردیا۔ اسی طرح مالدار لوگوں کے اموال میں سائل اور محروم کا حق ہوتا ہے۔ اگر وہ ادا نہ کرے گا تو اس کے اپنے سر پر بوجھ رہے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(وفی اموالھم حق للسآئل و المحروم : اس کی تسیر کے لئے دیکھے سورة معارج (٢٤، ٢٥) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Special Guidance for Philanthropists وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُ‌ومِ (and in their wealth, there was a right for the one who asks and the one who is deprived...51:19) The word sail means the poor or needy who begs others, that is, he expresses his needs to people who help him. The word mahrum also refers to a poor or needy, but who cannot express his needs from a sense of self-respect or a feeling of shame, and thus is deprived of people&s help. In this verse another quality of the believers and the righteous is mentioned, that is, their quality of spending in charity in Allah&s way. When spending, they do not only give to those who ask for help, but they also make it their responsibility to find out who are needy ones and do not disclose their needs to others. The purpose of the verse is to show that the believers and the righteous do not only perform bodily worship, such as prayers and remaining awake at night, but they also play a major role in performing pecuniary worship, in that besides helping the people who beg they also look for, and help, those who out of self-respect do not express their needs to anyone. When mentioning this pecuniary worship, the expression used by the Qur&an is the following, وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ |"and in their wealth, there was a right|". It means that when they meet the needs of the poor, they do not deem it a favour shown to them, but they appreciate that the poor have a &right& in the wealth Allah has blessed them with, and fulfilling one&s right is not a favour; it is rather a duty and responsibility that one has to discharge.

صدقہ و خیرات کرنیوالوں کو خاص ہدایت : (آیت) وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ ، سائل سے مراد وہ غریب حاجت مند ہے جو اپنی حاجت لوگوں کے سامنے ظاہر کردیتا ہے اور لوگ اس کی مدد کرتے ہیں اور محروم سے مراد وہ شخص ہے کہ فقیر و مفلس اور حاجت مند ہونے کے باوجود شرافت نفس کے سبب اپنی حاجت کسی پر ظاہر نہیں کرتا، اس لئے لوگوں کی امداد سے محروم رہتا ہے، اس آیت میں مومنین متقین کی یہ صفت بتلائی گئی کہ وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے وقت صرف سائلین یعنی اپنی حاجات ظاہر کرنے والوں ہی کو نہیں دیتے بلکہ ایسے لوگوں پر بھی نظر رکھتے اور حالات کی تحقیق سے باخبر رہتے ہیں جو اپنی حاجت کسی سے کہتے نہیں اور ظاہر ہے کہ مقصد آیت کا یہ ہے کہ یہ مومنین متقین صرف بدنی عبادت نماز اور شب بیداری پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ مالی عبادت میں بھی ان کا بڑا حصہ رہتا ہے کہ سائلین کے علاوہ ایسے لوگوں پر بھی نظر رکھتے ہیں جو شرافت کے سبب اپنی حاجت کسی پر ظاہر نہیں کرتے مگر اس مالی عبادت کا ذکر قرآن کریم نے اس عنوان سے فرمایا (وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ) یعنی یہ لوگ جن فقراء و مساکین پر خرچ کرتے ہیں ان پر کوئی احسان نہیں جتلاتے، بلکہ یہ سمجھ کردیتے ہیں کہ ہمارے اموال خدا داد میں ان کا بھی حق ہے اور حق دار کا حق اس کو پہنچا دینا کوئی احسان نہیں ہوا کرتا، بلکہ ایک حق اور ذمہ داری سے اپنی سبکدوشی ہوتی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَفِيْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ۝ ١٩ ميل المَيْلُ : العدول عن الوسط إلى أَحَد الجانبین، والمَالُ سُمِّي بذلک لکونه مائِلًا أبدا وزَائلا، ( م ی ل ) المیل اس کے معنی وسط سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں اور المال کو مال اس لئے کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ ہمیشہ مائل اور زائل ہوتا رہتا ہے ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم مقام بن سکتا ہے اور مال کی استدعا کا جواب اصل میں تو ہاتھ سے ہوتا ہے لیکن زبان سے وعدہ یا انکار اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔ المحروم : اسم مفعول واحد مذکر، وہ مسلمان رشتہ دار ، جس کا میراث سے حصہ نہ نکلتا ہو۔ بد نصیبی کی وجہ سے نادار۔ تنگ دست جس کی کمائی نہ ہو۔ سوال نہ کرنے والا۔ حیا سے نہ مانگنے والا۔ جس کو حیا نے سوال سے روک دیا ہو۔ مادہ حرم کے لئے روک، منع، بازداشت کا مفہوم لازم ہے۔ تمام مشتقات میں یہ مفہوم مشترک ہے کرم سے لازم اور ضرب سے متعدی۔ اور سمع سے کبھی لازم اور کبھی متعدی آتا ہے۔ زید بن اسلم نے کہا کہ محروم سے وہ شخص مراد ہے جس کے ( باغوں کے) پھلوں پر یا کھیتی پر یا مویشیوں کے بچوں پر کوئی ( آسمانی یا زمینی) آفت آگئی ہو۔ ( اور باغ کھیت یا جانور تباہ ہوگئے ہوں ) ۔ محمد بن کعب قرضی نے بھی یہی کہا اور اس معنی کے ثبوت میں آیت انا لمغرمون بل نحن محرومون۔ (56:66 ۔ 67) پڑھی۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر (رض) ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سلسلے میں مختلف روایتیں نقل کی ہیں۔ ان روایات سے دونوں گروہوں نے اپنے حق میں استدلال کیا ہے۔ حضرت طلحہ (رض) بن عبیداللہ نے اس شخص کا قول نقل کیا ہے جس نے حضور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ دریافت کیا تھا کہ اس پر کون کون سی باتیں فرض ہیں۔ آپ نے جواب میں نماز، زکوٰۃ اور روزے کا ذکر کیا۔ پھر اس نے پوچھا کہ آیامجھ پر ان کے سوا اور کوئی چیز فرض ہے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا نفی میں جواب دیا تھا۔ عمروبن الحارث نے دراج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (اذا ادیت زکوٰۃ مالک فقد قضیت ما علیک فیہ ، جب تم اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دو تو مال کے سلسلے میں تم پر جو فرض ہے اس کی ادائیگی ہوجائے گی) دراج نے ابوالہیثم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (اذدا ادیت زکوٰۃ مالک فقد قضیت الحق الذی یجب علیک، جب تم اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردو تو تم اپنے اوپر واجب حق کو ادا کردو گے) ۔ ان روایات سے ان حضرات نے استدلال کیا ہے جنہوں نے قول باری (وفی اموالھم حق معلوم) سے زکوٰۃ مراد لی ہے اور یہ کہا ہے کہ مال والے پر زکوٰۃ کے سوا اور کوئی حق نہیں ہوتا۔ ابن سیرین نے یہ استدلال کیا ہے کہ زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ اور مخالفین جن دوسرے حقوق کو واجب کرتے ہیں وہ معلوم یعنی متعین حقوق نہیں ہے۔ جو حضرات مال کے اندر زکوٰۃ کے سوا اور بھی حق واجب کرتے ہیں وہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں جسے شعبی نے فاطمہ بنت قیس سے روایت کی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا تھا کہ آیا مال میں زکوٰۃ کے سوا اور بھی کوئی حق ہے ؟ آپ نے جواب میں اس آیت کی تلاوت فرمائی (لیس البر ان تولوا وجوھکم قیل المشرق والمغرب) تا آخر آیت۔ اللہ تعالیٰ نے سلسلہ تلاوت میں (واتی المال علی حبہ) کے بعد زکوٰۃ کا ذکر کیا۔ یہ حضرات حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت سے بھی استدلال کرتے ہیں جس میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اونٹوں کا جو مالک تنگی اور فراخی میں ان کا حق ادا نہیں کرتا اسے ایک چٹیل ، پست اور نرم زمین میں ان اونٹوں کے سامنے لایا جائے گا اور پھر یہ اونٹ اپنے پائوں تلے اسے روند ڈالیں گے۔ “ حضرت ابوہریرہ (رض) نے اونٹوں کے ساتھ گایوں اور بھیڑ بکریوں کا بھی ذکر کیا۔ اس حدیث کو سن کر ایک بدوی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے پوچھا کہ اونٹوں کا حق کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا۔” بہت زیادہ دودھ دینے والی وانٹنی فائدہ اٹھانے کے لئے دے دو ۔ عمدہ اونٹنی کا عطیہ دو ، اونٹ سواری کے لئے عطا کرو اور دودھ پلائو۔ “ ابوالزبیر نے حضرت جائر (رض) سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو روایت کی ہے اس میں ذکر ہے کہ لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ اونٹوں کا کیا حق ہے ؟ آپ نے جواب میں فرمایا : ” سانڈ کے ساتھ جفتی کرانا، پانی لانے کے لئے اونٹ مع ڈول عاریت کے طور پردے دینا، کوئی دودھ والی اونٹنی کسی کو فائدہ اٹھانے کے لئے دے دینا، چشمے گا گھاٹ پر دودھ دوہنا اور اللہ کی راہ میں اس پر کسی کو سوار کرانا۔ “ اعمش نے معرور بن سوید سے اور انہوں نے حضرت ابوذر (رض) سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچا آپ اس وقت کعبہ کی دیوار کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ مجھے آتادیکھ کر آپ نے فرمایا۔ رب کعبہ کی قسم ! یہی لوگ سب سے زیادہ نقصان میں رہیں گے۔ “ میں نے عرض کیا ” کون لوگ “ آپ نے فرمایا۔ زیادہ مال ودولت والے بجز ان کے جو اتنا اتنا دیں۔ “ یہ کہتے ہوئے آپ نے دائیں بائیں اور سامنے ایک ایک لپ بھرا۔ پھر فرمایا : ” جو شخص اپنے ایسے اونٹ چھوڑ کر مرجائے جن کی اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی ہو، قیامت کے دن اس کے یہی اونٹ اسے سینگ ماریں گے اور اپنے پائوں تل روندیں گے، جب آخری اونٹ اسے روندتا ہوا گزر جائے گا تو پہلا اونٹ واپس روندنے کے لئے آجائے گا۔ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا یہاں تک کہ لوگوں کو فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ان تمام روایات پر عمل کیا جاتا ہے اور مال میں زکوٰۃ کے سوا دوسرے حقوق کے ثبوت پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ ان میں سے ایک حق وہ ہے جو بیٹے پر اپنے والدین کے اخراجات کے سلسلے میں اس پر لازم ہوتا ہے۔ جب ماں باپ ضرورت مند ہوں۔ اسی طرح رشتہ داروں کی مالی مدد بھی لازم ہوتی ہے۔ نیز بھوکے اور مجبور انسان کو اور اس شخص کو سواری کے لئے جانور دینا بھی لازم ہوتا ہے جس کا جانور ہلاک ہوگیا ہو ۔ یا اسی قسم کے دوسرے حقوق جو مذکورہ بالا صورتوں میں انسان پر لازم ہوجاتے ہیں۔ محروم کون ہے ؟ قول باری ہے (للسائل والمحروم۔ سائل اور محروم کے لئے) حضرت ابن عباس (رض) (ایک روایت کے مطابق) حضرت عائشہ (رض) ، سعید بن المسیب، مجاہد (ایک روایت کے مطابق) عطاء، ابوالعالیہ، ابراہیم نخعی اور عکرمہ کا قول ہے کہ محروم (مجازف) یعنی کم نصیب کو کہتے ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ محروم اس شخص کو کہتے ہیں جو رزق کی تلاش میں رہتا ہے لیکن رزق اس کے پاس نہیں آتا۔ حضرت ابن عباس (رض) (ایک روایت کے مطابق) اور مجاہد کا قول ہے کہ جس شخص کا اسلام کے اندر، دوسرے الفاظ میں ” مال غنیمت میں “ کوئی حصہ نہ ہو وہ محروم ہے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ محروم وہ شخص ہے جسے کوئی مال مالدار نہیں بناتا۔ زہری اور قتادہ کا قول ہے کہ جو شخص سوال کرنے سے پرہیز کرتا اور مفلوک الحال ہوتا ہے اسے محروم کہتے ہیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے کہ کتے کو محروم کہتے ہیں۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں جن کے نزدیک محروم سے کتا مراد ہے وہ ” معلوم حق “ سے زکوٰۃ مراد نہیں لے سکتے ۔ کیونکہ زکوٰۃ کا مال کتے کو اگر کھلا دیا جائے تو اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی اس لئے ان کے نزدیک حق سے مراد وہ حق ہوگا جو زکوٰۃ کے سوا ہے۔ اس صورت میں کتے کو کھلانا ایک ثواب کا کام ہوگا۔ جیسا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (ان فی کل ذی کبد حری اجرا، برتر جگہ والے (یعنی جانور کو کھلانے پلانے) میں اجر ملے گا) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ بھی ارشاد ہے کہ ایک شخص نے کتے کو پانی پلایا تھا اللہ تعالیٰ نے اسی نیکی پر اس کی بخشش کردی تھی۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (حق معلوم) میں زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ اس سے زکوٰۃ مراد ہے کیونکہ زکوٰۃ لا محالہ واجب ہوتی ہے اور یہ ایک معلوم حق ہے اس لئے آیت سے یہی مراد لینا واجب ہے کیونکہ اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ آیت اس پر مشتمل ہو اور آیت کے الفاظ اسی سے عبارت ہوں۔ پھر یہ بھی جائز ہے کہ سلف نے محروم کے جتنے معانی بیان کیے ہیں وہ سب کے سب اس لحاظ سے آیت میں مراد ہوں کہ ایسے تمام افراد کو زکوٰۃ کی رقم دینا جائز ہوتا ہے۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر زکوٰۃ صرف ایک صنف کو دے دی جائے تو اس کی ادائیگی ہوجاتی ہے کیونکہ یہاں صرف سائل اور محروم کا ذکر ہے اور آیت صدقات میں مذکور دوسرے اصناف کا ذکر نہیں ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت کے اندر سائل اور محروم کے درمیان فرق رکھا ہے کیونکہ فقیر کبھی دست سوال دراز نہ کرکے اپنے آپ کو محروم بنا لیتا ہے اور کبھی لوگ اسے کچھ نہ دے کر محروم رکھتے ہیں اس لئے فقیر جب سوال نہیں کرے گا وہ سوال نہ کرکے اپنے آپ کو محروم رکھے گا اور پھر اس جہت سے اسے محروم کیا جائے گا کیونکہ فقیر دوجہتوں سے محروم ہوتا ہے اپنی ذات کی جہت سے اور لوگوں کی جہت سے۔ شعبی سے ان کا یہ قول منقول ہے کہ مجھے تو محروم کے مفہوم نے لاچار کردیا ہے یعنی مجھے اس کے صحیح مفہوم کا علم نہیں ہوسکا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٩۔ ٢٠) اور ان کے مال میں سوالی اور غیر والی سب کا حق تھا اور محروم ایسے شخص کو بھی کہتے ہیں جو اپنے اجر و غنیمت سے محروم ہوگیا ہو یا یہ کہ محروم سے وہ پیشہ ور آدمی مراد ہے جس کا ذریعہ معاش بہت تنگ ہو اور ایک دن کی روزی بھی اسے میسر نہ ہو۔ شان نزول : وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ (الخ) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسن بن محمد بن الحنفیہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا تو اسے فتح اور خوب غنیمت حاصل ہوئی اس لشکر کے فارغ ہونے کے بعد ایک دوسری قوم آئی تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ان لوگوں کے لیے جو کہ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں زمین کی کائنات میں بہت سی نشانیاں ہیں جیسا کہ درخت جانور پہاڑ اور سمندر وغیرہ اور خود تمہاری ذات میں بھی نشانیاں ہیں جیسا کہ امراض درد اور قسم قسم کی مصیبتیں یہاں تک کہ صرف ایک رستہ سے کھاتا ہے اور دو مقامات سے اس کے فضلہ کا اخراج کرتا ہے کیا تم نہیں سمجھتے کہ اللہ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں اس میں غور کرو اور آسمان سے تمہارا رزق یعنی بارش آتی ہے اور وہیں جنت موجود ہے یا یہ کہ آسمان کے پروردگار کے ذمہ تمہیں رزق پہنچانا ہے اور جو تم سے ثواب و عتاب کا وعدہ کیا جاتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٩{ وَفِیْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ ۔ } ” اور ان کے اموال میں سائل اور محتاج کا حق ہوا کرتا تھا۔ “ انہوں نے اس حقیقت کو قبول کر رکھا تھا کہ ان کے پاس اللہ کا دیا جو کچھ بھی ہے اس میں فقراء و مساکین کا بھی حصہ ہے اور وہ متعلقہ لوگوں کا حق ان تک پہنچایا بھی کرتے تھے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

17 In other words, on the one hand, they recognized the right of their Lord and duly discharged it; on the other, they did not think that whatever AIIah had given them, whether little or much, was wholly their own and their children's right, but they had the sense that in their possessions there was the right and share of every such person who was indigent and needy. They did not render help to the people as a charity so as to earn their gratitude for the favor done, but they regarded it as the people's right and discharged it as their own duty. Then their this service to mankind was not only confined to those who came to them for seeking help as beggars but anyone about whom they came to know that he had been left destitute, they would become anxious to render him necessary help of their own accord. There was no orphan who might have been left helpless, no widow who might have had no bread-winner, no disabled person who might be unable to earn a living, no one who might have lost his job, or whose taming might not be sufficing his needs, nobody who might have been hit by a calamity and might be unable to compensate for the loss by himself, in short, there was no needy one whose condition they might have known and yet might have withheld their help when they could have rendered him necessary help and support. The following are the three qualities on the basis of which AIlah regards them as the righteous doers of good, and says that these very qualities have made them worthy of Paradise; (l) That they believed in the Hereafter and refrained from every act and conduct which Allah and His Messenger had stated to be disastrous for the life-after-death; (2) that they exeted their utmost to do full justice to the service of Allah and still sought Allah's forgiveness instead of exulting at their acts of piety; and (3) that they served Allah's servants not as a favour to them but as their own duty and their right due from them. ' Here, one should also know and understand another thing; The right of the needy ones that has been mentioned here in the wealth of the believers does not imply the zakat, which has been imposed as religious duty on them. But this is the right that a well-.to-do believer himself feels there is in his possessions of the needy even after he has paid off the zakat, and he discharges it willingly even if it has not been made obligatory by the Shari'ah. lbn 'Abbas, Mujahid, Zaid bin Aslam and other scholars have understood this very meaning of this verse. In tact, the real spirit of this Divine Command is that a pious and virtuous person is never involved in the misunderstanding that he has become relieved of his duty of discharging the right of Allah and His servants that there was in his possessions after he has paid the zakat, and now he is not bound to help every needy and destitute person whom he comes across. Contrary to this, every servant of AIIah, who is really pious and righteous, remains ever ready to do whatever good he can willingly, does not let slip any opportunity when he could do some good to the people in the world. He is not of the way of thinking that he has done whatever good he had been enjoined w do and now no more good is required to be done by him. The one who has recognized the true value of goodness, does not perform it as a burden but tries to cam more and more of it, greedily as a bargain to his own advantage, in his own interest.

سورة الذّٰرِیٰت حاشیہ نمبر :17 بالفاظ دیگر ، ایک طرف اپنے رب کا حق وہ اس طرح پہچانتے اور ادا کرتے تھے ، دوسری طرف بندوں کے ساتھ ان کا معاملہ یہ تھا ۔ جو کچھ بھی اللہ نے ان کو دیا تھا ، خواہ تھوڑا یا بہت ، اس میں وہ صرف اپنا اور اپنے بال بچوں ہی کا حق نہیں سمجھتے تھے ، بلکہ ان کو یہ احساس تھا کہ ہمارے اس مال میں ہر اس بندہ خدا کا حق ہے جو ہماری مدد کا محتاج ہو ۔ وہ بندوں کی مدد خیرات کے طور پر نہیں کرتے تھے کہ اس پر ان سے شکریہ کے طالب ہوتے اور ان کو اپنا زیر بار احسان ٹھہراتے ، بلکہ وہ اسے ان کا حق سمجھتے تھے اور اپنا فرض سمجھ کر ادا کرتے تھے ۔ پھر ان کی یہ خدمت خلق صرف انہی لوگوں تک محدود نہ تھی جو خود سائل بن کر ان کے پاس مدد مانگنے کے لیے آتے ، بلکہ جس کے متعلق بھی ان کے علم میں یہ بات آ جاتی تھی کہ وہ اپنی روزی پانے سے محروم رہ گیا ہے اس کی مدد کے لیے وہ خود بے چین ہو جاتے تھے ۔ کوئی یتیم بچہ جو بے سہارا رہ گیا ہو ، کوئی بیوہ جس کا کوئی سر دھرا نہ ہو ، کوئی معذور جو اپنی روی کے لیے ہاتھ پاؤں نہ مار سکتا ہو ، کوئی شخص جس کا روزگار چھوٹ گیا ہو یا جس کی کمائی اس کی ضروریات کے لیے کافی نہ ہو رہی ہو ، کوئی شخص جو کسی آفت کا شکار ہو گیا ہو اور اپنے نقصان کی تلافی خود نہ کر سکتا ہو ، غرض کوئی حاجت مند ایسا نہ تھا جس کی حالت ان کے علم میں آئی ہو اور وہ اس کی دستگیری کر سکتے ہوں ، اور پھر بھی انہوں نے اس کا حق مان کر اس کی مدد کرنے سے دریغ کیا ہو ۔ یہ تین صفات ہیں جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ ان کو متقی اور محسن قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ انہی صفات نے ان کو جنت کا مستحق بنایا ہے ۔ ایک یہ کہ آخرت پر ایمان لا کر انہوں نے ہر اس روش سے پرہیز کیا جسے اللہ اور اس کے رسول نے اخروی زندگی کے لیے تباہ کن بتایا تھا ۔ دوسرے یہ کہ انہوں نے اللہ کی بندگی کا حق اپنی جان لڑا کر ادا کیا اور اس پر فخر کرنے کے بجائے استغفار ہی کرتے رہے ۔ تیسرے یہ کہ انہوں نے اللہ کے بندوں کی خدمت ان پر احسان سمجھ کر نہیں بلکہ اپنا فرض اور ان کا حق سمجھ کر کی ۔ اس مقام پر یہ بات اور جان لینی چاہیے کہ اہل ایمان کے اموال میں سائل اور محروم کے جس حق کا یہاں ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد زکوٰۃ نہیں ہے جسے شرعاً ان پر فرض کر دیا گیا ہے ، بلکہ یہ وہ حق ہے جو زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد بھی ایک صاحب استطاعت مومن اپنے مال میں خود محسوس کرتا ہے اور اپنے دل کی رغبت سے اس کو ادا کرتا ہے بغیر اس کے کہ شریعت نے اسے لازم کیا ہو ۔ ابن عباس ، مجاہد اور زید بن اسلم وغیرہ بزرگوں نے اس آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے ۔ در حقیقت اس ارشاد الٰہی کی اصل روح یہ ہے کہ ایک متقی و محسن انسان کبھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوتا کہ خدا اور اس کے بندوں کا جو حق میرے مال میں تھا ، زکوٰۃ ادا کر کے میں اس سے بالکل سبکدوش ہو چکا ہوں ، اب میں نے اس بات کا کوئی ٹھیکہ نہیں لے لیا ہے کہ ہر ننگے ، بھوکے ، مصیبت زدہ آدمی کی مدد کرتا پھروں ۔ اس کے بر عکس جو اللہ کا بندہ واقعی متقی و محسن ہوتا ہے وہ ہر وقت ہر اس بھلائی کے لیے جو اس کے بس میں ہو ، دل و جان سے تیار رہتا ہے اور جو موقع بھی اسے دنیا میں کوئی نیک کام کرنے کے لیے ملے اسے ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔ اس کے سوچنے کا یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ جو نیکی مجھ پر فرض کی گئی تھی وہ میں کر چکا ہوں ، اب مزید نیکی کیوں کروں؟ نیکی کی قدر جو شخص پہچان چکا ہو وہ اسے بار سمجھ کر برداشت نہیں کرتا بلکہ اپنے ہی نفع کا سودا سمجھ کر زیادہ سے زیادہ کمانے کا حریص ہوجاتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

8: سائل سے مراد تو وہ حاجت مند ہے جو زبان سے اپنی ضرورت کا اظہار کردے، اور محروم سے مراد وہ ہے جو حاجت مند ہونے کے باوجود کسی سے کچھ مانگتا نہیں، اس آیت میں حق کا لفظ استعمال کرکے بتادیا گیا ہے کہ انسان ان لوگوں پر زکوٰۃ وغیرہ کی شکل میں جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ کوئی احسان نہیں ہے بلکہ یہ ان کا حق ہے جو انہیں پہنچانا ہی چاہئیے تھا، کیونکہ مال ودولت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، اور اس کا یہ حکم ہے کہ اس میں حاجت مند لوگوں کا بھی حصہ ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(51:19) فی اموالہم حق للسائل والمحروم : یہ چوتھی صفت ہے المتقین کی ۔ وائو عاطفہ ہے۔ اموالہم مضاف مضاف الیہ۔ ان کے مال میں ، سائل اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر سؤال (باب فتح) مصدر۔ مانگنے والا۔ سوال کرنے والا۔ المحروم : اسم مفعول واحد مذکر، وہ مسلمان رشتہ دار ، جس کا میراث سے حصہ نہ نکلتا ہو۔ بدنصیبی کی وجہ سے نادار۔ تنگ دست جس کی کمائی نہ ہو۔ سوال نہ کرنے والا۔ حیا سے نہ مانگنے والا۔ جس کو حیا نے سوال سے روک دیا ہو۔ مادہ حرم کے لئے روک، منع، بازداشت کا مفہوم لازم ہے۔ تمام مشتقات میں یہ مفہوم مشترک ہے کرم سے لازم اور ضرب سے متعدی۔ اور سمع سے کبھی لازم اور کبھی متعدی آتا ہے۔ زید بن اسلم نے کہا کہ محروم سے وہ شخص مراد ہے جس کے (باغوں کے) پھلوں پر یا کھیتی پر یا مویشیوں کے بچوں پر کوئی (آسمانی یا زمینی) آفت آگئی ہو۔ (اور باغ کھیت یا جانور تباہ ہوگئے ہوں ) ۔ محمد بن کعب قرضی نے بھی یہی کہا اور اس معنی کے ثبوت میں آیت انا لمغرمون بل نحن محرومون۔ (56:66 ۔ 67) پڑھی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی وہ ان کی دستگیری اور مدد کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔” حق “ (حصہ) سے مراد نفلی صدقہ ہے۔ کیونکہ یہ سورة مکی ہے اور زکوۃ مدینہ منورہ میں فرض ہوئی۔ ” محروم “ سے مراد وہ شخص ہے جو ہو تو محتاج لیکن لوگوں سے سوال نہ کرے اس لئے اسے لوگ غیر محتاج سمجھیں یا جو کسی آفت کی وجہ سے اپنی روزی سے محروم ہوگیا ہو۔ جیسے کوئی بچہ جس کا باپ فوت ہوگیا ہو یا عورت جس کا شوہر انتقال کر گیا ہو یا آدمی جس کا روزگار چھوٹ گیا ہو یا اس کا مال تباہ ہوگیا ہو وغیرہ ہم سبھی مراد ہوسکتے ہیں حضرت فاطمہ بنت قیس کا بیان ہے کہ میں نے آنحضرت سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا مال میں برہ کے علاوہ بھی (غربیوں اور) محتاجوں کا حق ہے۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی ایسے التزام سے دیتے تھے کہ جیسے ان کے ذمہ ان کا کچھ آتا ہو، مراد اس سے غیر زکوٰة ہے۔ (فائدہ) یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ نوافل جنات و عیون کا موقوف علیہ ہیں، بلکہ اہل درجات عالیہ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وفی ........ والمحروم (٥١ : ٩١) ” اور ان کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لئے “ وہ اپنے اموال میں اس سائل کا حصہ بھی رکھتے ہیں جو مانگتا ہے اور دے دیا جاتا ہے اور اس محروم کا بھی حق مقرر کرتے ہیں جو خاموش رہتا ہے ، حیا کرتا ہے اور محروم رہ جاتا ہے۔ وہ ان دونوں قسم کے لوگوں کے لئے اپنے اموال میں حق رکھتے ہیں۔ وہ خود اس حق کو اپنے اوپر فرض کرلیتے ہیں اور یہ حق غیر محدود ہے متعین نہیں۔ یہ اشارہ سورة کے محور کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس میں یہ بات کہی گئی ہے کہ رزق آسمانوں میں ہے تاکہ انسانوں کا دل کنجوسی ، بخل اور رات اور دن جمع مال میں مشغولیت سے ذرا آزاد ہوجائے اور یہ سورة کے اس اہم حصے کے لئے تمہید ہے جبکہ یہ متقین اور محسنین کی تصویر کا آخری رنگ بھی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(19) اور ان کے مالوں میں حصہ مقرر تھا سوال کرنے والوں کا اور سوال سے بچنے والوں کا۔ یعنی ایسے باغات میں ہوں گے جن میں چشمے جاری ہوں گے اور جو جو نعمتیں ان کا پروردگار ان کو عطا فرمائے گا ان کو حاصل کرتے ہوں گے کیونکہ یہ پرہیزگار لوگ دنیا میں نیک روش رکھتے تھے اور نیکیاں کرنے کے خوگر تھے اور علاوہ فرائض و واجبات کے نوافل اور تطوعات بھی بجا لاتے تھے رات کو بہت کم سوتے تھے یعنی رات کا اکثر حصہ عبادت میں گزارتے تھے اور سحر کے وقت اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا کرتی تھے یہ استغفار یا تو تھوڑی دیر سو جانے پر کیا کرتے تھے یا رات نہیں سوتے تھے بلکہ عشاء کی نماز پڑھتے تھے اس تقدیر پر اس آیت کا تہجد کی نماز سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ بہرحال عبادات بدنی کے بعد عبادات مالی اور ان کی خیرات کا حال بتایا کہ وہ اپنا مال مانگنے والوں کو بھی دیتے تھے اور جو سوال سے تعفف کی وجہ سے بچتے اور پرہیز کرتے ہیں ان کو بھی دیتے ہیں۔ تلک الرسل میں تفصیل گزر چکی ہے سائل کی دو قسمیں بیان فرمائیں ایک وہ جو عام طور سے سوال کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو سفید پوش ہیں اور شرم وحیاء کی وجہ سے سوال نہیں کرتے پھرتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہارا وہ محتاج ہے اور مانگتا نہیں پھرتا۔ خلاصہ : یہ ہے کہ پہلی آیتوں میں منکروں کا ذکر تھا ان آیتوں میں متقیوں کا ذکر فرمایا آگے دلائل توحید اور رزق کے وعدہ کی تاکید ہے۔