Surat uz Zaariyaat

Surah: 51

Verse: 21

سورة الذاريات

وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۲۱﴾

And in yourselves. Then will you not see?

اور خود تمہاری ذات میں بھی ، تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And also in yourselves. Will you not then see? Qatadah commented, "He who thinks about his own creation will realize that he was created with flexible joints so that it is easy for him to perform acts of worship." Allah the Exalted said next,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٤] انسان کے اپنے وجود میں نشانیاں :۔ انسان کا اپنا وجود اور اس کے اندر کی مشینری کائنات اصغر ہے اور اس میں جو نشانیاں ہیں وہ کائنات اکبر کی نشانیوں سے کسی طرح کم نہیں۔ انسان کا معدہ ایک چکی کی طرح دن رات کام میں لگا رہتا ہے۔ جو غذا کو پیس کر ایک ملغوبہ تیار کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ جب یہ فارغ ہوجائے تو اور غذا طلب کرتا ہے جسے ہم بھوک کہتے ہیں اس ملغوبہ کی تیاری میں اگر پانی کی کمی ہو تو ہمیں پیاس لگ جاتی ہے اور ہم کھانے پینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ پھر اس کے اندر چھلنی بھی ہے جس سے چھن کر یہ ملغوبہ جگر میں چلا جاتا ہے جہاں اچھالنے والی، دفع کرنے والی، صاف کرنے والی، کھینچنے والی مشینیں اور قوتیں کام کر رہی ہیں۔ یہیں دوسری اخلاط بنتی ہیں۔ فالتو پانی کو گردے پیشاب کے راستے سے خارج کردیتے ہیں۔ قوت دافعہ فالتو مواد یا فضلہ کو خارج کرنے کا کام کرتی ہے۔ اور جس طرح انسان کھانے پینے پر مجبور ہوجاتا ہے اسی طرح رفع حاجت پر بھی مجبور ہوجاتا ہے اور اگر روکے تو بیمار پڑجاتا ہے۔ پھر انسان کے جسم میں اتنی باریک نالیاں ہیں جن کا سوراخ خوردبین کے بغیر نظر ہی نہیں آسکتا۔ انہیں کے ذریعے انسان کے جسم کے حصے کو خون پہنچتا ہے۔ اس سلسلہ میں انسان کا دل پمپ کا کام کرتا ہے جو ایک منٹ بھی ٹھہر جائے تو موت واقع ہوجاتی ہے۔ پھر انسان کا سانس لینا بھی ایک الگ پورا نظام ہے۔ سب سے زیادہ باریک آنکھ کے طبقے اور جھلیاں ہیں جو ایسی لطافت کے ساتھ بنائی گئی ہیں کہ اگر ذرا سا بھی فتور آجائے تو بینائی جواب دے جاتی ہے۔ انسان کا جسم ابتدا سے ہی حکیموں اور ڈاکٹروں کی تحقیق کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مگر اس کے بیشتر اسرار آج تک پردہ راز میں ہی ہیں۔ ان جسم کی نشانیوں میں بھی غور کرنے سے وہی دو نتائج حاصل ہوتے ہیں جو کائنات کے نظام میں غور کرنے سے حاصل ہوتے ہیں اور جن کا سابقہ حاشیہ میں ذکر کردیا گیا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) وفی انفسکم افلاتبصرون : یعنی خود تمہارے نفسوں میں دوبارہ زندہ ہونے کی بیشمار نشانیاں موجود ہیں کہ مٹی اور نطفے سے لے کر موت تک ہر لمحہ موت کے بعد زندگی کا شاہد ہے، کیونکہ جسم کا ہر خلیہ جو موجود ہوتا ہے فنا ہوتا اور اس کی جگہ نیا خلیہ وجود میں آتا رہتا ہے اور یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے، جس کے دوران انسان بچپن، جوانی اور بڑھاپے کی طرف بھی منقت ہوتا رہتا ہے، مگر موت و حیات کے اس سلسلے پر غور کرنے والے بہت ہی کم ہیں۔ یہ بحث تفصیل کے ساتھ سورة مومنون (١٢ تا ١٦) کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ (٢) انسان کی ذات میں قیامت کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت، حکمت، تدبیر، صنعت، قدرت اور دوسری صفات کی بھی بیشمار نشانیاں موجود ہیں۔ مفسر کیلانی لکھتے ہیں :” انسان کا اپنا وجود اور اس کی مشینری کائنات اصغر ہے اور اس میں جو نشانیاں ہیں وہ کائنات اکبر کی نشانیوں سے کسی طرح کم نہیں۔ انسان کا معدہ ایک چکی ک طرح دن رات کا م میں لگا رہتا ہے، جو غذا کو پیس کر ایک مغلوبہ تیار کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ جب یہ فارغ ہوجائے تو اور غذا طلب کرتا ہے جسے تم بھوک کہتے ہیں۔ اس ملغوبہ کی تیاری میں اگر پانی کی کمی ہو تو ہمیں پیاس لگ جاتی ہے اور ہم کھانے پینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ پھر اس کے اندر چھلنی بھی ہے جس سے چھن کر یہ ملغوبہ جگر میں چلا جاتا ہے، جہاں اچھالنے والی، دفع کرنے والی، صاف کرنے والی ، کھینچنے والی مشینیں اورق وتیں کام کر رہی ہیں۔ یہیں دوسری اخلاط بنتی ہیں۔ فالتو پانی کو گردے پیشاب کے راستے کرنے والی کھینچنے والی مشینیں اور قوتیں کام کر رہی ہیں۔ یہیں دوسری اخلاط بنتی ہیں۔ فالتو پانی کو گردے پیشاب کے راستے خارج کردیتے ہیں۔ قوت دافعہ فالتو مواد یا فضلہ کو خارج کرنے کا کام کرتی ہے اور جس طرح انسان کھانے پینے پر مجبور ہوتا ہے اسی طرح رفع حاجت پر مجبور ہوجاتا ہے اور اگر روکے تو بیمار پڑجا ات ہے۔ پھر انسان کے جسم میں اتنی باریک نالیاں ہیں انسان کا دل پمپ کا کام کرتا ہے جو ایک منٹ بھی ٹھہر جائے تو موت واقع ہوجاتی ہے۔ پھر انسان کا سانس لینا بھی ایک لاگ پورا نظام ہے۔ سب سے زیادہ باریک آنکھ کے طبقے اور جھلیاں ہیں جو ایسی لطافت کیساتھ بنائی گئی ہیں کہ اگر ذرا سا فتور آجائے تو بینائی جواب دے جاتی ہے۔ (پھر سننے ، سونگھنے، چکھنے، سوچنے، سجھنے، یاد رکھنے، محسوس کرنے، سونے، جاگنے، بولنے اور دوسرے بیشمار افعال کے نظام ہیں جن میں سے ہر ایک پر غور کیا جائے تو آدمی حیرت کے سمندر میں غرق ہوجاتا ہے) انسان کا جسم ابتدا ہی سے حکیموں اور ڈاکٹروں کی تحقیق کا مرکز بنا ہوا ہے ، مگر اس کے بیشتر اسرار آج تک پردہ راز ہی میں ہیں۔ “ (تیسیرا القرآن) (٣) ” وفی الارض ایت “ میں آفاقی آیات کا ذکر ہے اور ” وفی انفسکم “ میں انفسی آیات کا ۔ مزید دیکھیے حم السجدہ (٥٣) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Thus Allah says: وَفِي أَنفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُ‌ونَ (... and in your own selves! So, do you not perceive? ....51:21). Out of the innumerous signs of Allah&s power which are present everywhere in the universe, including the heavenly and celestial beings and creatures, only those signs are referred to here which are available on earth, because they are very close to man&s experience, and he resides and moves about among them. The present verse now speaks of man himself. Man is required to ponder on his own body, its limbs and organs. Every single part of the body testifies to the boundless Wisdom of Allah, and it will make him realize that his small being represents and encompasses almost all the divine signs that are scattered in the vast universe. That is why man is termed as &the universe in miniature&, because all types of creation are present in his existence. If a man thinks of all phases he has passed through right from his birth till his death, he may perceive the power of Allah Ta’ ala as if he discerns Him clearly. The Development of the Sperm and Embryo in the Womb Human microscopic sperm and egg is an amazing phenomenon. It is made up of foodstuff and tenuous particles from various parts of the world. If the sperm establishes itself in the mother&s womb, then more material is added to it, and it changes into a red clot. It then changes and becomes a shapeless lump of flesh, like a piece of meat with no form or shape. Then out of this shapeless lump bones are fashioned; then the bones are clothed with flesh; and it starts to take on a form and shape, developing a head, arms, chest, stomach, thighs, legs, feet and all its members. A wonderful brain is placed under its skull in whose complicated layers lie all mental abilities. Thus equipping it, Allah sends an angel to it who breathes the soul into it. After the completion of its creation, it is brought into this world where he develops from infancy to full adulthood to old age. Then he gradually progresses from zero level of knowledge and consciousness to an intelligent, rational and active being. The human forms and shapes are so different that no two faces are identical in millions and billions of people even in a small area. Furthermore, there are differences in their temperaments, dispositions and habits. There is unity in this diversity. All this is the marvel of the perfect power of Allah who has neither partners nor rivals: فَتَبَارَ‌كَ اللَّـهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ |"So blessed is Allah, the Best Creator!|" (23:14)Man experiences all this not from outside himself, but within himself, day and night. Only a person who is absolutely blind and senseless will ever deny the existence of Allah. Therefore, at the conclusion of the verse, the Qur&an poses the rhetorical question: |"So, do you not perceive?|" (21) A person need not be very intelligent to understand the facts of life. If his sight is intact, he can arrive at the right conclusion.

(آیت) وَفِيْٓ اَنْفُسِكُمْ ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ ، اس جگہ آیات قدرت کے بیان میں آسمان اور فضائی مخلوقات کا ذکر چھوڑ کر صرف زمین کا ذکر فرمایا ہے جو انسان کے بہت قریب ہے، جس پر انسان بستا اور چلتا پھرتا ہے، اس آیت میں اس سے بھی زیادہ قریب یعنی خود انسان کی ذات کی طرف توجہ دلائی کہ زمین اور زمین کی مخلوقات کو بھی چھوڑو خود اپنے وجود اپنے جسم اور اس کے اعضاء وجوارح ہی میں غور کرلو تو ایک ایک عضو کو حکمت حق تعالیٰ کا ایک دفتر پاؤ گے اور سمجھ لوگے کہ سارے عالم میں جو آیات قدرت حق تعالیٰ کی ہیں انسان کے اپنے چھوٹے سے وجود میں وہ سب گویا سمٹ آئی ہیں، اسی لئے انسان کے وجود کو عالم اصغر کہا جاتا ہے کہ سارے عالم دنیا کی مثالیں انسان کے وجود میں موجود ہیں، انسان اگر اپنی ابتدا پیدائش سے لے کر موت تک کے پیش آنے والے حالات میں ہی غور و تدبر کرنے لگے تو اس کو حق تعالیٰ گویا اپنے سامنے نظر آنے لگیں۔ کہ کس طرح ایک انسانی نطفہ دنیا کے مختلف خطوں کی غذاؤں اور دنیا میں بکھرے ہوئے اجزاء لطیفہ کا خلاصہ بن کر رحم میں قرار پایا، پھر کس طرح نطفہ سے ایک منجمد خون علقہ بنا، پھر علقہ سے مضغہ (گوشت کا ٹکڑا) بنا، پھر کس طرح اس میں ہڈیاں بنائی گئیں، پھر ان پر گوشت چڑھایا گیا، پھر کس طرح اس بےجان پتلے میں جان ڈالی گئی اور اس کی تخلیق کی تکمیل کر کے اس دنیا میں لایا گیا، پھر کس طرح تدریجی ترقی کر کے ایک بےعلم بےشعور بچے سے ایک دانشمند فعال انسان بنایا گیا اور کس طرح ان کی صورتیں اور شکلیں مختلف بنائی گئیں کہ اربوں پدموں انسانوں میں ایک کا چہرہ دوسرے سے بالکل ممتاز نظر آتا ہے، اس چند انچ کے رقبہ میں ایسے امتیازات رکھنا کس کے بس کی بات ہے، پھر ان کی طبائع اور مزاجوں میں اختلاف اور اس اختلاف کے باوجود ایک وحدت یہ سب اس قدرت کاملہ کی کرشمہ سازی ہے جو بےمثل و بےمثال ہے۔ (آیت) فتبرک اللہ احسن الخلقین۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کا ہر انسان کہیں باہر اور دور نہیں خود اپنے ہی وجود میں دن رات مشاہدہ کرتا ہے اس کے باوجود بھی اگر وہ اللہ جل شانہ اور اس کی قدرت کا ملہ کا اعتراف نہ کرے تو کوئی اندھا ہی ہوسکتا ہے جس کو کچھ نہ سوجھے، اسی لئے آخر میں فرمایا افلاتبصرون ” یعنی کیا تم دیکھتے نہیں “ اشارہ اس طرف ہے کہ اس میں کچھ زیادہ عقل و سمجھ کا بھی کام نہیں، بینائی ہی درست ہو تو اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَفِيْٓ اَنْفُسِكُمْ۝ ٠ ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۝ ٢١ نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( ن ف س ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ، أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخالِدُونَ [ الأنبیاء/ 34] ، أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً [يونس/ 2] ، آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] . والتسوية نحو : سَواءٌ عَلَيْنا أَجَزِعْنا أَمْ صَبَرْنا [إبراهيم/ 21] ، سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ [ البقرة/ 6] «1» ، وهذه الألف متی دخلت علی الإثبات تجعله نفیا، نحو : أخرج ؟ هذا اللفظ ينفي الخروج، فلهذا سأل عن إثباته نحو ما تقدّم . وإذا دخلت علی نفي تجعله إثباتا، لأنه يصير معها نفیا يحصل منهما إثبات، نحو : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ [ الأعراف/ 172] «2» ، أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ [ الرعد/ 41] ، أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ [ طه/ 133] أَوَلا يَرَوْنَ [ التوبة : 126] ، أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ [ فاطر/ 37] . - الثاني : ألف المخبر عن نفسه نحو : أسمع وأبصر . - الثالث : ألف الأمر، قطعا کان أو وصلا، نحو : أَنْزِلْ عَلَيْنا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ [ المائدة/ 114] ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ [ التحریم/ 11] ونحوهما . - الرابع : الألف مع لام التعریف «4» ، نحو : العالمین . - الخامس : ألف النداء، نحو : أزيد، أي : يا زيد . والنوع الذي في الوسط : الألف التي للتثنية، والألف في بعض الجموع في نحو : مسلمات ونحو مساکين . والنوع الذي في آخره : ألف التأنيث في حبلی وبیضاء «5» ، وألف الضمیر في التثنية، نحو : اذهبا . والذي في أواخر الآیات الجارية مجری أواخر الأبيات، نحو : وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا [ الأحزاب/ 10] ، فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا [ الأحزاب/ 67] ، لکن هذه الألف لا تثبت معنی، وإنما ذلک لإصلاح اللفظ . ا : الف با معنی کی تین قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ دوسرا وہ جو وسط کلام میں واقع ہو ۔ تیسرا وہ جو آخر کلام میں آئے ۔ ( ا) وہ الف جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ اس کی چند قسمیں ہیں : ۔ (1) الف الاستخبار اسے ہمزہ استفہام کہنے کے بجائے الف استخبار کہنا زیادہ صحیح ہوگا ۔ کیونکہ اس میں عمومیت ہے جو استفہام و انکار نفی تبکیت پر زجرو تو بیخ ) تسویہ سب پر حاوی ہے۔ چناچہ معنی استفہام میں فرمایا ۔ { أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ } [ البقرة : 30]( انہوں نے کہا ) کیا تو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے اور تبکیت یعنی سرزنش کبھی مخاطب کو ہوتی ہے اور کبھی غیر کو چناچہ ( قسم اول کے متعلق ) فرمایا :۔ (1){ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُم } [ الأحقاف : 20] تم اپنی لذتیں حاصل کرچکے ۔ (2) { أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدًا } [ البقرة : 80] کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے ؟ (3) { آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ } [يونس : 91] کیا اب ( ایمان لاتا ہے ) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا ؟ اور غیر مخاظب کے متعلق فرمایا :۔ (4) { أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا } [يونس : 2] کیا لوگوں کے لئے تعجب خیز ہے ؟ (5) { أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِل } [ آل عمران : 144] تو کیا اگر یہ مرجائیں یا مارے جائیں ؟ (6) { أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ } [ الأنبیاء : 34] بھلا اگر تم مرگئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے ؟ (7) { آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ } [ الأنعام : 143] بتاؤ تو ( خدا نے ) دونوں نروں کو حرام کیا ہے ۔ یا دونوں ماديؤں کو ۔ اور معنی تسویہ میں فرمایا ، { سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا } [إبراهيم : 21] اب ہم گهبرائیں یا صبر کریں ہمارے حق میں برابر ہے ۔ { سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ } ( سورة البقرة 6) تم خواہ انہیں نصیحت کردیا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے ، وہ ایمان نہیں لانے کے ۔ اور یہ الف ( استخبار ) کلام مثبت پر داخل ہو تو اسے نفی میں تبدیل کردیتا ہے ۔ جیسے اخرج ( وہ باہر نہیں نکلا ) کہ اس میں نفی خروج کے معنی پائے جائے ہیں ۔ اس لئے کہ اگر نفی کے معنی نہ ہوتے تو اس کے اثبات کے متعلق سوال نہ ہوتا ۔ اور جب کلام منفی پر داخل ہو تو اسے مثبت بنا دیتا ہے ۔ کیونکہ کلام منفی پر داخل ہونے سے نفی کی نفی ہوئی ۔ اور اس طرح اثبات پیدا ہوجاتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَلَسْتُ بِرَبِّكُم } [ الأعراف : 172] کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ( یعنی ضرور ہوں ) { أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ } [ التین : 8] کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے یعنی ضرور ہے ۔ { أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ } [ الرعد : 41] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کا بندوبست کرتے ہیں ۔ { أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَة } [ طه : 133] کیا ان کے پاس کھلی نشانی نہیں آئی ۔ { أَوَلَا يَرَوْنَ } [ التوبة : 126] اور کیا یہ نہیں دیکھتے { أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم } [ فاطر : 37] اور کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی ۔ (2) الف جو مضارع کے صیغہ واحد متکلم کے شروع میں آتا ہے اور میں |" کے معنی رکھتا ہے جیسے اسمع و ابصر یعنی میں سنتاہوں اور میں دیکھتا ہوں (3) ہمزہ فعل امر خواہ قطعی ہو یا وصلي جیسے فرمایا :۔ { أَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِنَ السَّمَاءِ } [ المائدة : 114] ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما ۔ { رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ } [ التحریم : 11] اے میرے پروردگار میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا ۔ (4) الف جو لام کے ساتھ معرفہ بنانے کے لئے آیا ہے جیسے فرمایا { الْعَالَمِينَ } [ الفاتحة : 2] تمام جہانوں (5) الف نداء جیسے ازید ( اے زید ) ( ب) وہ الف جو وسط کلمہ میں آتا ہے اس کی پہلی قسم الف تثنیہ ہے ( مثلا رجلان ) اور دوسری وہ جو بعض اوزان جمع میں پائی جاتی ہے مثلا مسلمات و مساکین ۔ ( ج) اب رہا وہ الف جو کلمہ کے آخر میں آتا ہے ۔ وہ یا تو تانیث کے لئے ہوتا ہے جیسے حبلیٰ اور بَيْضَاءُمیں آخری الف یا پھر تثنیہ میں ضمیر کے لئے جیسا کہ { اذْهَبَا } [ الفرقان : 36] میں آخر کا الف ہے ۔ وہ الف جو آیات قرآنی کے آخر میں کہیں بڑھا دیا جاتا ہے جیسے { وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا } [ الأحزاب : 10] { فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا } [ الأحزاب : 67] تو یہ کوئی معنوی اضافہ نہیں کرتا بلکہ محض لفظی اصلاح ( اور صوتی ہم آہنگی ) کے لئے آخر میں بڑھا دیا جاتا ہے ( جیسا کہ ابیات کے اواخر میں الف |" اشباع پڑھاد یتے ہیں ) بصر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، نحو قوله تعالی: كَلَمْحِ الْبَصَرِ [ النحل/ 77] ، ووَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں جیسے فرمایا ؛کلمح البصر (54 ۔ 50) آنکھ کے جھپکنے کی طرح ۔ وَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] اور جب آنگھیں پھر گئیں ۔ نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢١{ وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ ط اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ ۔ } ” اور تمہاری اپنی جانوں میں بھی (نشانیاں ہیں) ۔ تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو ؟ “ یعنی انسان کے جسم اور جسم کے ایک ایک نظام کے اندر اللہ تعالیٰ کی بیشمار نشانیاں موجود ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ان نشانیوں پر غور کرے۔ مرزا بیدل ؔ نے اس خوبصورت شعر میں اسی مضمون کی ترجمانی کی ہے : ؎ ستم است گر ہوست کشد کہ بہ سیر ِسرو وسمن درآ تو زغنچہ کم نہ دمیدئہ درِ دل کشا بہ چمن درآ ! اے انسان ! بڑے ستم کی بات ہے اگر تجھے تیری خواہش نفس کسی باغ کی سیر کے لیے کھینچ کرلے جاتی ہے ‘ جبکہ خود تیری اپنی چمک دمک کسی پھول سے کم نہیں ہے۔ کبھی اپنے دل کا دروازہ کھول کر اس چمن کی سیر کے لیے بھی آئو جو تمہاری روح کے اندر اللہ تعالیٰ نے مہکا رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے ۔ انسان کو چاہیے کہ اپنی تخلیق اور اپنے وجود پر غور کرے اور اس اعتبار سے اپنے مقام و مرتبہ کو پہچانے۔ بقول مرزا بیدلؔ : ؎ ہر دو عالم خاک شد تا بست نقش ِآدمی اے بہارِ نیستی از قدر خود ہوشیار باش ! (اس شعر کی تشریح سورة النحل کی آیت ٤٠ کے تحت بیان ہوئی ہے۔ )

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

19 That is, "You may not look outside yourself; look within your own self, and you will find countless signs testifying to the same truth. You will see how your creation was begun by combining a microscopic sperm with a microscopic egg in a corner of the mother's body; how you were blessed with a body of unique structure and a self endowed with wonderful powers and abilities; how you were brought out from the dark world of your mother's womb, as soon as your structure became complete, into this vast world, equipped with an automate machine within yourself, which goes on functioning by itself from the day you take birth till your maturity and old age, to assimilate food, produce blood and circulate it in the veins, discharge waste matter, prepare new parts in place of the wasted and worn out parts of the body, resisting the internal and the external hazards to the body and compensating for the losses, even for sending you to peaceful sleep after exhaustion, without any effort required to be made by you towards these basic needs of life. A wonderful brain has been placed under your skull in whose complicated layers lies filled an invaluable wealth of intellect, thought, imagination, consciousness, discrimination, will, memory, desire, feeling and emotions. Inclinations and trends, and other mental abilities. You have been provided with numerous means of knowledge which supply you with every kind of informational through the eye, nose, cars and skin. You have been given the tongue and the power of speech by which you can express your thoughts and feelings. And then your ego has been placed as a ruler over the entire kingdom of your body so that it may employ aII the powers and abilities and form opinions and decide as in what ways ,you have to expend and employ your time and labor and efforts, what you have to reject and what you have to accept, what should be your objective in life and what you should shun and avoid. O C Thus equipped when you were brought into the world, you saw what provisions had been made ready here for your nourishment, development and the progress and perfection of your self by virtue of which you reached a particular stage of lift when you became able to use the powers and authority you had been endowed with. For using these powers you were given means in the earth, provided with opportunities, and given ability to control and employ many of the things as you pleased. You had all the ways of disbelief and faith, sin and obedience, justice and injustice, good and evil, truth and falsehood, open before you; there were those who invited to each of these ways and there were the means to lead to each one of them. Whoever among you selected one particular way did so on his own responsibility, for he had the power to decide and choose endowed in himself. Depending on the choice made by each one and taking advantage of the opportunities thus afforded of employing his powers of will and intention some one became a good man and another a bad man; some one adopted the way of belief and faith and another the way of disbelief, polytheism or atheism; some one withheld himself from unlawful desires, and another did whatever he wanted in obedience to his self; some one became an oppressor and another the oppressed; some one carved out his duties and another usurped the rights of others; some one continued to do good till his last breath, another went on committing evil till his last moment of lift; some one exerted himself to raise the word of the truth, another went on oppressing the followers of the truth in order to cause falsehood to flourish. Now can a person, unless he is absolutely blind and senseless, say that a being such as this has appeared on the earth just by an accident? that there is no wisdom and no plan working behind his creation? that the storms that he is raising on the earth are without a purpose and will end up without entailing any consequence ? that there will be no reward for a good act and no punishment for an evil act? and that injustice will not be redressed and the unjust will not be brought to book? Such things may be said by a person who has lost his reason, or by the one who is resolved not to acknowledge at all the wisdom of a Wise Being working behind the creation of man. But an un-prejudiced, sensible person cannot help but admit that the creation of man, the powers and abilities he has been given, and the position he has been granted here, is certainly a grand, wise plan, and the wisdom of the God Whose plan it is, inevitably demands that man should be questioned about his actions and deeds; and it cannot be right to entertain the doubt about the powers of God that He will not be able to recreate man whom He has brought up to this noble position of honor from a mere microscopic cell.

سورة الذّٰرِیٰت حاشیہ نمبر :19 یعنی باہر دیکھنے کی بھی حاجت نہیں ، خود اپنے اندر دیکھو تو تمہیں اسی حقیقت پر گواہی دینے والی بے شمار نشانیاں مل جائیں گی ۔ کس طرح ایک خورد بینی کیڑے اور ایسے ہی ایک خورد بینی انڈے کو ملا کر ماں کے ایک گوشۂ جسم میں تمہاری تخلیق کی بنا ڈالی گئی ۔ کس طرح تمہیں اس تاریک گوشے میں پرورش کر کے بتدریج بڑھایا گیا ۔ کس طرح تمہیں ایک بے نظیر ساخت کا جسم اور حیرت انگیز قوتوں سے مالا مال نفس عطا کیا گیا ۔ کس طرح تمہاری بناوٹ کی تکمیل ہوتے ہی شکم مادر کی تنگ و تاریک دنیا سے نکال کر تمہیں اس وسیع و عریض دنیا میں اس شان کے ساتھ لایا گیا کہ ایک زبردست خود کار مشین تمہارے اندر نصب ہے جو روز پیدائش سے جوانی اور بڑھاپے تک سانس لینے ، غذا ہضم کرنے ، خون بنانے اور رگ رگ میں اس کو دوڑانے ، فضلات خارج کرنے ، تحلیل شدہ اجزائے جسم کی جگہ دوسرے اجزاء تیار کرنے ، اور اندر سے پیدا ہونے والی یا باہر سے آنے والی آفات کا مقابلہ کرنے اور نقصانات کی تلافی کرنے ، حتیٰ کہ تھکاوٹ کے بعد تمہیں آرام کے لیے سلا دینے تک کا کام خود بخود کیے جاتی ہے بغیر اس کے کہ تمہاری توجہات اور کوششوں کا کوئی حصہ زندگی کی ان بنیادی ضروریات پر صرف ہو ۔ ایک عجیب دماغ تمہارے کا سۂ سر میں رکھ دیا گیا ہے جس کی پیچیدہ تہوں میں عقل ، فکر ، تخیُّل ، شعور ، تمیز ، ارادہ ، حافظہ ، خواہش ، احساسات و جذبات ، میلانات و رجحانات ، اور دوسری ذہنی قوتوں کی ایک انمول دولت بھری پڑی ہے ۔ بہت سے ذرائع علم تم کو دیے گئے ہیں جو آنکھ ، ناک ، کان اور پورے جسم کی کھال سے تم کو ہر نوعیت کی اطلاعات بہم پہنچاتے ہیں ۔ زبان اور گویائی کی طاقت تم کو دے دی گئی ہے جس کے ذریعہ سے تم اپنے ما فی الضمیر کا اظہار کر سکتے ہو ۔ اور پھر تمہارے وجود کی اس پوری سلطنت پر تمہاری اَنا کو ایک رئیس بنا کر بٹھا دیا گیا ہے کہ ان تمام قوتوں سے کام لے کر رائیں قائم کرو اور یہ فیصلہ کرو کہ تمہیں کن راہوں میں اپنے اوقات ، محنتوں اور کوششوں کو صرف کرنا ہے ، کیا چیز رد کرنی ہے اور کیا قبول کرنی ہے ، کس چیز کو اپنا مقصود بنانا ہے اور کس کو نہیں بنانا ۔ یہ ہستی بنا کر جب تمہیں دنیا میں لایا گیا تو ذرا دیکھو کہ یہاں آتے ہی کتنا سرو سامان تمہاری پرورش ، نشو ونما ، اور ترقی و تکمیل ذات کے لیے تیار تھا جس کی بدولت تم زندگی کے ایک خاص مرحلے پر پہنچ کر اپنے ان اختیارات کو استعمال کرنے کے قابل ہو گئے ۔ ان اختیارات کو استعمال کرنے کے لیے زمین میں تم کو ذرائع دیے گئے ۔ مواقع فراہم کیے گئے ۔ بہت سی چیزوں پر تم کو تصرف کی طاقت دی گئی ۔ بہت سے انسانوں کے ساتھ تم نے طرح طرح کے معاملات کیے ۔ تمہارے سامنے کفر و ایمان ، فسق و اطاعت ، ظلم و انصاف ، نیکی و بدی ، حق و باطل کی تمام راہیں کھلی ہوئی تھیں ، اور ان راہوں میں سے ہر ایک کی طرف بلانے والے اور ہر ایک کی طرف لے جانے والے اسباب موجود تھے ۔ تم میں سے جس نے جس راہ کو بھی انتخاب کیا اپنی ذمہ داری پر کیا ، کیونکہ فیصلہ و انتخاب کی طاقت اس کے اندر ودیعت تھی ۔ ہر ایک کے اپنے ہی انتخاب کے مطابق اس کی نیتوں اور ارادوں کو عمل میں لانے کے جو مواقع اس کو حاصل ہوئے ان سے فائدہ اٹھا کر کوئی نیک بنا اور کوئی بد ، کسی نے ایمان کی راہ اختیار کی اور کسی نے کفر و شرک یا دہریت کی راہ لی ، کسی نے اپنے نفس کو ناجائز خواہشات سے روکا اور کوئی بندگی نفس میں سب کچھ کر گزرا ، کسی نے ظلم کیا اور کسی نے ظلم سہا ، کسی نے حقوق ادا کیے اور کسی نے حقوق مارے ، کسی نے مرتے دم تک دنیا میں بھلائی کی اور کوئی زندگی کی آخری ساعت تک برائیاں کرتا رہا ، کسی نے حق کا بول بالا کرنے کے لیے جان لڑائی ، اور کوئی باطل کو سر بلند کرنے کے لیے اہل حق پر دست درازیاں کرتا رہا ۔ اب کیا کوئی شخص جس کی ھیے کی آنکھیں بالکل ہی پھوٹ نہ گئی ہوں ، یہ کہہ سکتا ہے کہ اس طرح کی ایک ہستی زمین پر اتفاقاً وجود میں آ گئی ہے؟ کوئی حکمت اور کوئی منصوبہ اس کے پیچھے کار فرما نہیں ہے؟ زمین پر اس کے ہاتھوں یہ سارے ہنگامے جو برپا ہو رہے ہیں سب بے مقصد ہیں اور بے نتیجہ ہی ختم ہو جانے والے ہیں؟ کسی بھلائی کا کوئی ثمرہ اور کسی بدی کا کوئی پھل نہیں؟ کسی ظلم کی کوئی داد اور کسی ظالم کی کوئی باز پرس نہیں؟ اس طرح کی باتیں ایک عقل کا اندھا تو کہہ سکتا ہے ، یا پھر وہ شخص کہہ سکتا ہے جو پہلے سے قسم کھائے بیٹھا ہے کہ تخلیق انسان کے پیچھے کسی حکیم کی حکمت کو نہیں ماننا ہے ۔ مگر ایک غیر متعصب صاحب عقل آدمی یہ مانے بغیر نہیں رہ سکتا کہ انسان کو جس طرح ، جن قوتوں اور قابلیتوں کے ساتھ اس دنیا میں پیدا کیا گیا ہے اور جو حیثیت اس کو یہاں دی گئی ہے وہ یقیناً ایک بہت بڑا حکیمانہ منصوبہ ہے ، اور جس خدا کا یہ منصوبہ ہے اس کی حکمت لازماً یہ تقاضا کرتی ہے کہ انسان سے اس کے اعمال کی باز پرس ہو ، اور اس کی قدرت کے بارے میں یہ گمان کرنا درست نہیں ہو سکتا کہ جس انسان کو وہ ایک خورد بینی خلیے سے شروع کر کے اس مرتبے تک پہنچا چکا ہے اسے پھر وجود میں نہ لا سکے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(51:21) وفی انفسکم وائو عاطفہ ، جملہ کا عطف فی الارض ایت پر ہے۔ اور (خود) تمہاری ذات میں بھی (اللہ کی نشانیاں ہیں) ۔ افلا تبصرون : أ استفہامیہ ہے ف عاطفہ کا عطف محذوف پر ہے ای الا تنظرون فلا تبصرون (لبعین البصیرۃ) کیا تم نہیں دیکھتے ہو اور پھر کیا تم چشم بصیرت سے نہیں دیکھتے ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 یعنی باہر کی نشانیوں سے قطع نظر خود تمہاری پیدائش نشو و نما جوانی بڑھاپے اور نظام ہضم و صحت میں ایسی سینکڑوں نشانیاں موجود ہیں جن پر اگر تم غور کرو تو تمہیں صاف معلوم ہوسکتا ہے کہ تم خود پیدا نہیں ہوئے ہو بلکہ کسی خالق کے پیدا کرنے سے پیدا ہوئے ہو اور یہ کہ تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کہئے جائو گے اور اپنے خلاق ومالک سے اپنے اچھے یا برے اعمال کا بدلہ پائو گے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب ان عجائبات میں سے دوسرا عجوبہ۔ وفی ........ تبصرون (٥١ : ١٢) ” اور خود تمہارے وجود میں ہیں کیا تمہیں سوجھتا نہیں “ یہ حضرت انسان تو عجائبات عالم میں سے ایک عظیم عجوبہ ہے لیکن اس کی قسمت کیا ہے۔ اس کا مقام کیا ہے اور اس کی ذات کے اندر کیا اسرار و رموز ہیں۔ اس سے وہ غافل ہے اور غافل اس وجہ سے ہے کہ وہ ایمان ویقین کی نعمت سے محروم ہے۔ یہ انسان اپنی جسمانی ساخت میں بھی عجوبہ ہے۔ جسم کے اسرار میں عجوبہ ہے۔ روحانی دنیا میں عجوبہ ہے۔ نفسیات کا تو عالم ہی جدا ہے۔ غرض اپنے ظاہر میں اور اپنے باطن میں عجوبہ ہے۔ یہ انسان اس کائنات کا عناصر کا نمونہ ہے اور پوری کائنات کے اسرار و رموز اس کے اندر پوشیدہ ہیں۔ وتزعم انک جرم صغیر و فیک انطوی العالم الاکبر ” تو سمجھتا ہے کہ تو ایک چھوٹا سا جرثومہ ہے .... لیکن تیرے اندر ایک عظیم جہاں آباد ہے۔ “ جب انسان خود اپنی ذات اور اپنے نفس کے عجائبات دیکھتا ہے تو حیران اور ششدررہ جاتا ہے۔ اس کے اعضاء کی تشکیل اور تقسیم ، پھر اس کے اعضاء کے فرائض اور ان کے اندر عمل ، مثلاً اور خوراک حاصل کرنے کا عمل ، سانس لینے کا عمل اور جلانے کا عمل ، دل اور شریانوں میں خون دوڑنے کا عمل ، اعصابی نظام اور اس کا پورے جسم کو چلانا ، غدود اور ان کا جسم کو چلانا اور بڑھانا ، پھر ان تمام چیزوں کا باہم اتحاد واتفاق اور ہم آہنگی اور ان کا پوری طرح ہمسفر اور ہمقدم ہونا ، پھر عجائبات کے اندر جو تفصیلی عجائبات ہیں اور ہر جز کے اندر جو خارق ، عادت معجزات ہیں ان میں سے ہر ایک محیرالعقول ہے۔ پھر انسان کی روحانی طاقتیں ، جن میں سے کچھ تو معلوم ہیں اور کچھ مجہول ہیں۔ اس کا اشیاء کا ادراک کرنا اور پھر ادراک کا میکانزم ، پھر مدرکات کا حفظ کرنا اور اس کے بعد ان کو یاد کرلینا ، یہ معلومات اور ذہن کے خزانوں میں ان کی تصاویر ، یہ کہاں ہوتی ہیں اور کس طرح محفوظ ہوتی ہیں۔ یہ تصاویر اور یہ تمثیلات اور یہ مشاہد اور ان کے نقوش یہ کس طرح نقش ہوتے ہیں اور کس طرح یہ تصاویر بنائی جاتی ہیں۔ یہ تو ہیں ان قوتوں کے وہ پہلو جو ہمیں معلوم ہیں۔ ایسی وہ قوتیں جو ہمیں معلوم نہیں تو وہ بہت ہی بڑی ہیں۔ بہت ہی بڑی۔ کبھی کبھی ان کے آثار ظاہر ہوجاتے ہیں۔ کبھی کبھی ذہن انسانی پر ایک ایسا اشراق اور ایک ایسی روشنی ڈالی جاتی ہے اور اس کے اندر ایک ایسی چمک پیدا ہوتی ہے کہ انسان پر عالم غیب دور تک کھل جاتا ہے لیکن یہ لمحات کم ہوتے ہیں۔ پھر جنس انشان کے وہ اسرار وہ رموز جو اس کے قواعد تناسل کے سلسلے کے اندر پائے جاتے ہیں۔ ایک نہایت ہی چھوٹا خلیہ جس کے اندر جنس انسانی کے تمام خصائص موجود ہوتے ہیں اور اس کے اندر ماں اور باپ اور دونوں اطراف کے قریبی اجزاء کے خصائص بھی موجود ہوتے ہیں۔ یہ تمام خصائص اس نہایت ہی چھوٹے سے خلئے کے اندر کہاں اور کس طرح رکھے ہوئے ہوتے ہیں اور کس طرح یہ ہر خلیہ ان تمام خصائص کے ساتھ خود کار انداز میں اپنی زندگی کا سفر کا آغاز کرتا ہے کہ اس کے اندر جنس انسانی کے تمام خصائص موجود ہوتے ہیں اور یہ پوری طرح جنس انسانی کا اعادہ ایک دوسرے فرد کی شکل میں کرنا ہے ؟ ! ! وہ لمحات جن میں ایک بچہ اس زمین پر زندگی شروع کرتا ہے ، ماں سے جدا ہوتا ہے اور اپنے نفس پر اعتماد کرکے زندگی بسر کرنا شروع کرتا ہے اور اس کے قلب اور پھیپھڑوں کو حرکت کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ان لمحات پر قدرے غور کرنے ہی سے انسان حیران کیا وھشت زدہ ہوجاتا ہے اور عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ نفس انسانی حیرت واستعجاب سے بھی بھر جاتا ہے اور پھر ایمان بھی بھر جاتا ہے۔ یہ ایک ایسامنظر ہے کہ انسان کے دل و دماغ حیرت کے باعث کام چھوڑ دیتے ہیں۔ انسان ششدر رہ جاتا ہے۔ پھر وہ وقت بھی دیکھنے کے قابل ہوتا ہے کہ بچہ ٹوٹی پھوٹی زبان میں باتیں شروع کرتا ہے پھر کلمات وعبارات بناتا ہے بلکہ صرف گفتگو پر غور کیجئے۔ اس زبان سے ٹکڑے آوازیں نکالنا اور پھر گلے سے آوازیں یہ بھی ایک عجوبہ ہے۔ اس چیز کا انوکھا پن ہمیں اس لئے نظر نہیں آتا کہ یہ ہر وقت یہ باتیں کرتے ہی رہتے ہیں لیکن اگر انسان ایک لحظہ اس پر غور کرے تو محض انسان کی یہ قدرت کہ وہ اظہار مافی الضمیر کرتا ہے۔ یہی ایک عجوبہ ہے اور قدرت الٰہیہ پر ایک بد یہی اور ایک کافی دلیل ہے۔ غرض انسان کی زندگی کا کوئی جزوی واقعہ بھی ایک معجزہ ہے اور انسان اس سے متعجب ہوسکتا ہے اور یہی مراد درج ذیل فقرے سے۔ وفی انفسکم افلا تبصرون (١٥ : ١٢) ” اور خود تمہارے اپنے وجود میں بھی کیا تمہیں سوجھتا نہیں “ جنس انسان کا ایک ایک فرد بھی ایک جہاں ہے۔ ہر فرد ایک آئینہ ہے جس میں یہ تمام عالم نظر آتا ہے اور ہر فرد کے وجود میں گویا اس پوری دنیا کا ظہور بار بار ہوتا ہے۔ ہر شخص اپنے ابنائے جنس میں اپنی شکل اپنے خدوخال ، اپنی عقل ، اپنے علم ، اپنے مدرکات ، اپنی روح اور اپنے شعور کے اعتبار سے بالکل جدا ہے۔ ہر شخص کے ذہن میں اس کائنات کا جو تصور ہے وہ دوسرے افراد سے مختلف ہے۔ اب دیکھئے کہ اس خدائی نمائش گاہ میں لاکھوں افراد ہیں اور ہر فرد ایک علیحدہ نمونہ ہے اور ہر فرد کا مزاح بالکل الگ ہے اور ویسا شخص دوبارہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس شخص کے اندر یہ پوری کائنات گزر جاتی ہے اور اس کی صورت کی نقل نہیں کی جاسکتی۔ یہاں تک کہ انگلیوں کی لکیریں بھی دنیا میں ہر شخص کی جدا ہوتی ہیں اور انہیں دہرایا نہیں جاسکتا۔ گزرے ہوئے زمانوں میں بھی جو لوگ گز رے ہیں ان میں سے بھی کسی شخص کی انگلیوں کی لکیریں دہرائی نہیں جاسکتیں۔ جنس انسانی کے عجائبات میں سے بہت سے عجائبات ایسے ہیں جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں اور ہماری آنکھیں ان کو دیکھ رہی ہیں۔ وفی انفسکم افلا تبصرون (٥١ : ١٢) ” اور تمہارے اپنے وجود میں بھی کیا تم دیکھتے نہیں “ اور انسانی آنکھیں جن عجائبات کو بھی دیکھیں یہ عالم غیب کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہم نشانات ہیں ایک بنانے والے خالق کے۔ نفس انسانی کے اندر جو عجائبات اور معجزات ہیں ان کو ایک کتاب میں قلم بند نہیں کیا جاسکتا۔ آج تک جو عجائبات ہمیں معلم ہوچکے ہیں اور جن کا انکشاف ہوگیا ہے ان کے لئے بھی کئی جلدیں درکار ہیں اور اس سلسلے میں جو مجہول ہیں ، ماضی کے تجربے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت زیادہ ہیں۔ قرآن کریم نے ان کو گنوایا نہیں ہے۔ ہاں قرآن کریم نے دل و دماغ کو جھنجھوڑا ضرور ہے کہ جاگو اور غور وفکر کرو ، احساس کرو اور اللہ کے اس عجائب گھر میں آنکھیں کھول کر چلو ، غور وفکر کرو اور اس کائنات سے بھی پہلے اپنے نفس میں غور وفکر کرو ، تم جس طر آفاق سے غافل ہو اس طرح اپنی ذات سے بھی غافل ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے خوشگوار لمحات وہی ہوتے ہیں جن میں انسان اپنی تخلیق اپنی خصوصیات اپنے خدوخال اپنی حرکات اور اپنی عادات پر غور کرے اور ایک عابد بندے کی طرح اللہ کے اس عجائب گھر کی سیر کرے اور دیکھے کہ اللہ کس قدر برکت والا ہے لیکن انسان ہے کہ ایک طویل عمر اس عجائب گھر میں گزار رہا ہے اور بغیر احساس کے گزار رہا ہے۔ اس طرح احساس عطا کرکے قرآن مجید انسان کو بالکل ایک نئی زندگی عطا کرتا ہے ۔ ایک جدید شعور ، ایک جدید سوچ ، ایک جدید زندگی اور یہ شعور پسندیدہ متاع حیات ہے کہ اس دنیا کی کوئی بھی نعمت اس کے مقابلے میں ہیچ ہے۔ تامل اور ادراک کے اس اسلوب کے ساتھ قرآن انسان کی تربیت کرتا ہے لیکن اس تربیت کا بنیادی نکتہ ایمانی ہے۔ اگر ایمان نہ ہو تو قرآن جو کچھ انسان کو دینا چاہتا ہے وہ اسے اخذ نہیں کرسکتا۔ ایمان ہی انسان کو اس متاع حیات کے اہل بناتا ہے۔ یہ نہایت ہی اونچا اور برتر اور عالم بالا کا متاع حیات ہے۔ انسان کے پاؤں زمین پر ہوتے ہیں اور اس کا شعور عالم بالا میں ہوتا ہے۔ پہلے انسان کو اس کائنات کی جھلک دکھائی گئی ، پھر اسے اس کے نفس کے عجائبات کی ایک جھلک دکھائی گئی ، اب یہاں بتایا جاتا ہے کہ انسان کا رزق اس کی تقسیم اور اس کا حصہ رسدی بھی آسمانوں سے تقسیم ہوتا ہے اور تمہاری آخری منزل بھی آسمانوں ہی میں ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(21) اورخود تمہاری ذات میں بھی دلائل موجود ہیں پھر کیا تم کو دکھائی نہیں دیتا۔ اوپر محسنین کا ذکر تھا اب فرمایا سب کاموں کا دارومدار یقین پر ہے یقین کرنے والوں کے لئے زمین قدرت الٰہی کی نشانیوں سے بھری پڑی ہے اس کی نباتات رنگ برنگ کے پھول اور پتوں کی ساخت معدنیات قسم قسم کے جواہرات غرض کیا چیز ہے جو زمین ہر نہیں اگلتی۔ یہ کارخانہ ارضی اپنے اندر ہزاروں نشانیاں قدرت خداوندی کی پنہاں رکھتا ہے اور ان کو وقتاً فوقتاً آشکارا کرتا رہتا ہے اور زمین تو بڑی چیز ہے خود انسان کے اندر کیا نہیں ہے۔ انسان خود ایک عالم صغیر ہے جس میں سب کچھ موجود ہے سرے لے کر پائوں تک قدرت الٰہی کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے کیا تم دیکھتے نہیں اور اپنی ساخت اور اپنی بناوٹ پر غور نہیں کرتے۔ ؎ نظرے بسوئیخود کن کہ تو جان دل ربائی مفگن بخاک خود را کہ تو از بلند جائی تو زچشم خود نہانی تو کمال خود چہ دانی چوں دراز صدف بروں آ کہ تو بس گران بہائی بہرحال خواہ عالم صغیر ہو یا عالم کبیر ہو ہر ایک میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی بےپناہ قدرت کے دلائل موجود ہیں آگے خیرات کرنے والوں کی ہمت افزائی کرتے ہیں اور رزق کی جانب سے اطمینان دلاتے ہیں۔