Surat uz Zaariyaat
Surah: 51
Verse: 5
سورة الذاريات
اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ ۙ﴿۵﴾
Indeed, what you are promised is true.
یقین مانو کہ تم سے جو وعدے کئے جاتے ہیں ( سب ) سچے ہیں ۔
اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ ۙ﴿۵﴾
Indeed, what you are promised is true.
یقین مانو کہ تم سے جو وعدے کئے جاتے ہیں ( سب ) سچے ہیں ۔
Verily, that which you are promised is surely true, it is a truthful promise,
(١) انما توعدون لصادق …: یہاں ” انما “ اکٹھا لفظ نہیں جو کلمہ حصر ہے اور جس کا معنی ہے ” اس کے سوا نہیں “ بلکہ اس میں ” ان ‘ حرف تاکید الگ ہے اور ” ما الگ ہے جو اسم موصول ہے اور اس کا معنی ہے ” وہ جو۔ ذ صحابہ کرام (رض) کے زمانے میں رسم الحظ پوری طرح ضبط نہیں ہوا تھا، انہوں نے ان دونوں کو اکٹھا لکھ دیا، تو بعد میں امت نے قرآن مجید کی حفاظت کا اتنا زبردست اہتمام کیا کہ صحابہ نے جو لفظ جس طرح لکھا تھا قرآن مجید کے رسم الخط میں اسے اسی طرح باقی رکھا گیا۔ (٢) یعنی انچ اورں صفات کی حامل ہوائیں شاہد ہیں کہ تم سے دوبارہ زندہ کئے جانے اورق بروں سے نکل کر اللہ کے سامنے پیش ہونے کا جو وعدہ کیا ج اتا ہے وہ یقیناً سچا ہے اور ہر عمل کی جزا بلاشبہ یقینا واقع ہونے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان ہواؤں کی مردوں کے زندہ کرنے پر دلالت کو ایک اور آیت میں خوب واضح فرمایا :(وھو الذی یرسل الریح بشراً بین یدی رحمتہ ، حتی اذا اقلت سحاباً ثقالاً سقنہ لبلد میت فانزلنا بہ المآء فاخرجنا بہ من کل الثمرت ، کذک نحرج الموتی لعلکم تذکرون) (الاعراف : ٥٨) ” اور وہی ہے جو ہواؤں کو اپنی رحمت سے پہلے بھیجتا ہے، اس حال میں کہ خوش خبری دینے والی ہیں، یہاں تک کہ جب وہ بھاری بادل اٹھاتیہیں تو ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف ہانکتے ہیں، پھر اس سے پانی اتارتے ہیں، پھر اس کے ساتھ ہر قسم کے کئی پھل پیدا کرتے ہیں، اسی طرح ہم مردوں کو نکالیں گے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ “ قرآن مجید نے بارش کے ساتھ مردہ زمین کے زندہ کرنے کو قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرنے کی دلیل کے طور پر بار بار بیان فرمایا ہے، مثلاً دیکھیے سورة فاطر (٩) اور سورة روم (٤٨ تا ٥٠) ۔
اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ ٥ ۙ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خيٰر و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔ صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے اسی لئے ارشاد ہے ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ وہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
آیت ٥ ‘ ٦{ اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ ۔ وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ ۔ } ” جو وعدہ تمہیں دیا جا رہا ہے وہ یقینا سچ ہے۔ اور جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گی۔ “ یہ کائنات اور اس کا نظام گواہ ہے کہ بعث بعد الموت ‘ نفخہ اولیٰ ‘ نفخہثانیہ وغیرہ سے متعلق جو خبریں تمہیں دی جارہی ہیں وہ یقیناسچی ہیں اور جس عذاب کی تمہیں وعید سنائی جا رہی ہے اس میں کچھ شک و شبہ نہیں۔ قیامت ضرور قائم ہوگی اور اس دن تمام انسانوں کو پھر سے ضرور زندہ کیا جائے گا اور انہیں ان کے اعمال کا بدلہ مل کر رہے گا۔
3 The word used in the original is to 'edun. If it is derived from we'd, the meaning would be: "That which you are being promised;" and if it is from wa'id, it would mean: "That which you are being threatened with." As regards the context, the second meaning is preferable, for the addressees are the people who were lost in disbelief, polytheism and sin, and were not prepared to believe that they would be held accountable some time in the future and would be rewarded or punished accordingly. That is why, we have taken to 'adun in the meaning of wa' id and not of wa'd (promise).
سورة الذّٰرِیٰت حاشیہ نمبر :3 اصل میں لفظ تُوْعَدُوْنَ استعمال کیا گیا ہے ۔ یہ اگر وَعْد سے ہو تو اس کا مطلب ہو گا جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے ۔ اور وَعید سے ہو تو مطلب یہ ہو گا کہ جس چیز کا تم کو ڈراوا دیا جا رہا ہے ۔ زبان کے لحاظ سے دونوں مطلب یکساں درست ہیں ۔ لیکن موقع و محل کے ساتھ دوسرا مفہوم زیادہ مناسبت رکھتا ہے ، کیونکہ مخاطب وہ لوگ ہیں جو کفر و شرک اور فسق و فجور میں غرق تھے اور یہ بات ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ کبھی ان کو محاسبے اور جزائے اعمال سے بھی سابقہ پیش آنے والا ہے ۔ اسی لیے ہم نے تُوْعَدُوْنَ کو وعدے کے بجائے وعید کے معنی میں لیا ہے ۔
(51:5) انما توعدون لصادق : ان حرف مشبہ بالفعل حرف تحقیق ہے۔ بمعنی تحقیق بےشک، یقینا۔ ما موصولہ۔ توعدون مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ وعد (باب ضرب) مصدر سے صلہ۔ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے موصول وصلہ مل کر اسم ان ۔ لصادق لام تاکید صادق سچا۔ صدق (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ یہ ان کی خبر ہے بیشک جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچ ہے۔ یہ آیت جواب قسم ہے۔
فہم القرآن ربط کلام : پانی کا انحصار بارش پر ہے اور اس کے ذریعے زمین سے بیج اگتے ہیں۔ جس طرح زمین سے بیج اگتے ہیں اسی طرح لوگوں کو قیامت کے دن زندہ کرکے اٹھایاجائے گا۔ یہ ” اللہ “ کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہوگا۔ پہلی آیات میں بارش کے حوالے سے اشارتاً قیامت کا ذکر ہوا اور اب بار بار تاکید کے الفاظ لا کر فرمایا ہے کہ جس قیامت کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچ ہے کہ قیامت ہر صورت برپا ہوکر رہے گی۔ یہ بات سورة ق کی آیات ٩ تا ١٩ کی تفسیر میں ذکر ہوئی ہے کہ جس ذات نے زمین و آسمانوں اور ہر چیز کو پیدا کیا ہے اس کے لیے مخلوق کو دوبارہ پیدا کرنا مشکل نہیں بلکہ ایسا کرنا اس کے لیے آسان تر ہے اس حقیقت کے باوجود جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں انہیں مختلف انداز اور دلائل کے ساتھ سمجھایا ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہوگی۔ اس کے باوجود جو ماننے کے لیے تیار نہیں انہیں ان الفاظ میں چیلنج دیا ہے۔ ” فرما دیں کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا یا کوئی ایسی مخلوق جو تمہارے خیالات میں بڑی ہے عنقریب وہ کہیں گے کون ہمیں لوٹائے گا ؟ فرما دیں وہی جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے۔ “ ( بنی اسرائیل : ٥٠ ) (یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ کَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ وَعْدًا عَلَیْنَا اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ ) (الانبیاء : ١٠٤) ” وہ دن جب آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے لکھے ہوئے اوراق لپیٹ دیے جاتے ہیں۔ جس طرح پہلے ہم نے تخلیق کی ابتدا کی تھی اسی طرح ہم پھر اس کا اعادہ کریں گے۔ یہ وعدہ ہمارے ذمیّ ہے اور یہ کام ہمیں ہر حال میں کرنا ہے۔ “ مسائل ١۔ قیامت کا وعدہ سچا ہے جو ہر صورت پورا ہو کررہے گا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے قائم ہونے کے دلائل : ١۔ قیامت قریب ہے۔ (الحج : ١) ٢۔ تمہارے لیے قیامت کا دن مقرر ہے۔ اس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوگی۔ ( سبا : ٣٠) ٣۔ قیامت اچانک آجائے گی۔ ( یوسف : ١٠٧) ٤۔ قیامت پل بھر میں واقع ہوجائے گی۔ ( النحل : ٧٧) ٥۔ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت کے واقع ہونے میں کوئی شک نہیں۔ ( الکہف : ٢١)