Surat ut Toor

Surah: 52

Verse: 1

سورة الطور

وَ الطُّوۡرِ ۙ﴿۱﴾

By the mount

قسم ہے طور کی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah swears that the Coming of Torment is Near Allah swears, وَالطُّورِ By the Tur, Allah swears by His creation, a testimony to His great ability, that His torment will surely befall His enemies; they will have no way of escaping it. At-Tur is the mount that has trees, similar to the mount where Allah spoke to Musa, while Musa was on it, and the mount on which Allah started the Prophethood of `Isa. A mount that does not have trees is called Jabal, not Tur. Allah said, وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

1۔ 1 طور وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ ہم کلام ہوئے۔ اسے طور سینا بھی کہا جاتا ہے۔ اللہ نے اس کے اس شرف کی بنا پر اس کی قسم کھائی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١] کوہ طور کے مختلف نام اور محل وقوع :۔ طور کو طور سیناء اور طور سینین بھی کہا گیا ہے۔ سیناء اور سینین دونوں ایک ہی پہاڑ کے نام ہیں۔ جس کی سطح سمندر سے بلندی ٧٢٦٠ فٹ ہے اور مدین سے مصر یا مصر سے مدین جاتے ہوئے (شام کے ملک میں) راستے میں پڑتا ہے۔ اسی مقام پر موسیٰ (علیہ السلام) کو دو دفعہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا۔ اسی پہاڑ کی ایک چوٹی کا نام طور ہے اور اسی پہاڑ کے دامن میں واقع وادی کا نام طویٰ ہے جسے قرآن میں وادی مقدس اور بقعۃ المبارکۃ بھی کہا گیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) جب بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر لائے تو اسی راستے سے گزرے تھے۔ کوہ طور کو اسی نسبت سے طور سینین کہا جاتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) والطور : اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی پانچ عظیم الشان مخلوقات کی قسم اٹھائی ہے، اس بات کا یقین دلانے کے لئے کہ اس کا عذاب قیامت کے دن اس کے دشمنوں پر واقع ہو کر رہنے والا ہے، اسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔ یہ پانچوں مخلوقات اللہ تعالیٰ کی عظیم اور لا محدود قوت و قدرت کی شاہد ہیں اور اس بات کی دلیل ہیں کہ ان عظیم مخلوقات کے خلاق کے لئے قیامت برپا کرنا اور اپنے منکروں کو عذاب دینا نفاق بات ہے۔ (٢)” الطور “ کا معنی وہ پہاڑ جس پر پودے اگتے ہوں۔ ایک خاص پہاڑ کا نام بھی ” طور “ ہے جس کے دامن میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا اور اگر اس پر ” الف لام “ جنس کا ہو تو تمام پہاڑ مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کی طرف توجہ دلانے کے لئے متعدد مقامات پر پہاڑوں کا ذکر فرمایا ہے۔ ان کا زمین میں گڑا ہوا ہونا ، آسمان کی طرف بلند ہونا، سمندر سے ہز اورں فٹ بلند ہونے کے باوجود ان پر چشموں، پودوں اور درختوں کا اور اتنی بلندی پر گلیشیروں کی صورت میں پانی کے بےحساب ذخیروں کا موجود ہونا ، ان کے اندر چھپے ہوئے معدنیات کے بیشمار خزانے ، اتنے بلند اور ٹھوس ہونے کے باوجود ان میں راستوں کا موجود ہونا، غرض پہاڑوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و عظمت کی بیشمار نشانیاں ہیں۔ مزید دیکھیے سورة رعد (٣) ، حجر (١٩) ، نحل (١٥، ٨١) ، لقمان (١٠) ، فاطر (٢٧) ، مرسلات (٢٧) ، نبا (٧) ، نازعات (٣٢) اور سورة غاشیہ (١٩) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary وَالطُّورِ‌ (By the Mount Tur,....52:1) The word Tur in Hebrew means a mountain that has trees [ as opposed to jabal a mountain that does not have trees { Trn.}]. Here Tur stands for mount Sinai which is situated in the land of Madyan where the Holy Prophet Musa (علیہ السلام) had the honour of Allah&s speaking to him. Some reports narrate that there are four mountains of Paradise in this world, and one of them is Tur (Qurtubi). Swearing an oath by Tur carries a special significance and honour of the mount. It also signifies that certain injunctions have been revealed by Allah for people to follow. Compliance with them is obligatory.

خلاصہ تفسیر قسم ہے طور (پہاڑ) کی اور اس کتاب کی جو کھلے ہوئے کاغذ میں لکھی ہے (مراد اس سے نامہ اعمال ہے جس کی نسبت دوسری آیت میں آیا ہے كِتٰبًا يَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا اور جس چیز میں وہ لکھا ہوا ہے اس کو تشبیہاً کاغذ کہہ دیا) اور (قسم ہے) بیت المعمور کی ( کہ ساتویں آسمان میں عبادت خانہ ہے فرشتوں کا، کما فی الدر مرفوعاً ) اور (قسم ہے) اونچی چھت کی (مراد آسمان ہے، قال تعالیٰ وَجَعَلْنَا السَّمَاۗءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا و قال تعالیٰ اَللّٰهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ ، وصرح بھذا التفسیر عن علی بسند صحیح کنز العمال عن مستدرک الحاکم) اور (قسم ہے) دریائے شور کی جو (پانی سے) پر ہے ( آگے جواب قسم ہے) کہ بیشک آپ کے رب کا عذاب ضرور ہو کر رہے گا کوئی اس کو ٹال نہیں سکتا ( اور یہ اس روز واقع ہوگا) جس روز آسمان تھر تھرانے لگے گا اور پہاڑ ( اپنی جگہ سے) ہٹ جاویں گے (مراد قیامت کا دن ہے اور تھرانا یا تو باعتبار معنی متبادر کے ہو، یا مراد اس سے انشقاق ہو جو دوسری آیت میں مذکور ہے فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَاۗءُ روح المعانی میں ابن عباس سے دونوں تفسیریں نقل کی ہیں اور دونوں میں کوئی تعارض نہیں، آگے پیچھے دونوں کا تحقق ہوسکتا ہے اور یہاں پہاڑوں کا ہٹنا مذکور ہے اور دوسر آیتوں میں ریزہ ریزہ ہونا پھر اڑ جانا مذکور ہے قولہ، يَنْسِفُهَا رَبِّيْ ، قولہ، وَّبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا فَكَانَتْ هَبَاۗءً ، اور ان قسموں میں اس مقصد کو ذہن کے قریب لانا ہے جس کے لئے قسم کھائی گئی اور وہ یہ کہ قیامت کے وقوع کی اصل وجہ جزا و سزا ہے اور مجازاة میں مدار کار احکام شرعیہ ہیں، پس طور کی قسم کھانے پر اشارہ ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ صاحب کلام و احکام ہے، پھر ان احکام کی مخالفت یا موافقت مبنیٰ ہے مجازاة کا، نامہ اعمال کی قسم کھانے میں اشارہ ہوگیا اس موافقت یا مخالفت کے محفوظ و منضبط ہونے کی طرف مجازاة اس پر بھی موقوف ہے کہ احکام الٰہیہ کی اطاعت ضروری ہو، بیت المعمور کی قسم میں اشارہ ہوگیا کہ عبادت ایسا ضروری امر ہے کہ فرشتوں کو بھی باوجود اس کے کہ ان کے لئے جزا و سزا نہیں اس سے نہیں چھوڑا گیا، پھر نتیجہ مجازاة دو چیزیں ہیں، جنت اور دوزخ، سماء کی قسم میں اشارہ ہوگیا کہ جنت ایسی ہی رفعت کا مکان ہے، جیسے آسمان اور بحر مسجور کی قسم میں اشارہ ہوگیا کہ دوزخ بھی ایسی ہی خوفناک چیز ہے، جیسے سمندر، یہ وجہ تخصیص تقسیم اقسام کی ہو سکتی ہے اور نفس قسم کی توجیہ سورة حجر کی آیت لعمرک کے ذیل میں اور غایت و غرض کی شروع سورة صافات میں گزر چکی ہے، آگے اس یوم کے بعض واقعات ارشاد فرماتے ہیں کہ جب یہ ثابت ہوا کہ مستحقین عذاب کے لئے عذاب ضرور واقع ہوگا) تو جو لوگ (قیامت کے اور دیگر امور حقہ توحید و رسالت کے) جھٹلانے والے ہیں (اور) جو تکذیب کے مشغلہ میں بیہودگی کے ساتھ لگ رہے ہیں ( جس سے وہ مستحق عذاب ہوگئے ہیں) ان کی اس روز بڑی کم بختی آوے گی جس روز کہ ان کو آتش دوزخ کی طرف دھکے دے دے کر لاویں گے (کیونکہ خوشی سے ایسی جگہ کون آتا ہے، پھر جب ان کے ڈالنے کا وقت ہوگا تو اس حالت سے پکڑ کے ڈال دیئے جاویں گے فَيُؤْخَذُ بالنَّوَاصِيْ وَالْاَقْدَام اور ان کو دوزخ دکھلا کر زجراً کہا جاوے گا کہ) یہ وہی دوزخ ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے (یعنی جن آیتوں میں اس کی خبر تھی ان کو جھٹلاتے تھے اور نیز ان آیات کو سحر کہا کرتے تھے، خیر وہ تو تمہارے نزدیک سحر تھا) تو کیا یہ (بھی) سحر ہے (دیکھ کر بتلاؤ) یا یہ کہ تم کو (اب بھی) نظر نہیں آتا ( جیسا دنیا میں نظر نہ آنے کی وجہ سے منکر ہوگئے تھے اچھا تو اب) اس میں داخل ہو پھر خواہ (اس کی) سہار کرنا یا سہار نہ کرنا تمہارے حق میں دونوں برابر ہیں ( نہ یہی ہوگا کہ تمہاری ہائے واویلا سے نجات ہوجاوے اور نہ یہی ہوگا کہ تمہاری تسلیم وانقیاد و سکوت پر رحم کر کے نکال دیا جاوے بلکہ ہمیشہ اسی میں رہنا ہوگا اور) جیسا تم کرتے تھے ویسا ہی بدلہ تم کو دیا جائے گا ( تم کفر کیا کرتے تھے جو سب سے بڑی نافرمانی اور اللہ تعالیٰ کے حقوق اور کمالات غیر متناہیہ کی ناشکری ہے، پس بدلہ میں دوزخ کا خلود نصیب ہوگا جو کہ عذاب اشد و غیر متناہی ہے، آگے ان کے اضداد کا بیان ہے یعنی) متقی لوگ بلاشبہ (بہشت کے) باغوں اور سامان عیش میں ہوں گے (اور) ان کو جو چیزیں (عیش و آرام کی) ان کے پروردگار نے دی ہوں گی اس سے خوشدل ہوں گے اور ان کا پروردگار ان کو عذاب دوزخ سے محفوظ رکھے گا (اور جنت میں داخل کر کے فرما دے گا کہ) خوب کھاؤ اور پیو مزہ کے ساتھ اپنے (ان نیک) عملوں کے بدلہ میں ( جو دنیا میں کیا کرتے تھے) تکیہ لگائے ہوئے تختوں پر جو برابر بچھائے ہوئے ہیں اور ہم ان کا گوری گوری بڑی آنکھوں والیوں سے (یعنی حوروں سے) بیاہ کردیں گے (یہ حال تو سب اہل ایمان کا ہوا) اور (آگے ان خاص مومنین کا ذکر ہے جن کی اولاد بھی موصوف بالایمان تھی پس ارشاد ہے کہ) جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کا ساتھ دیا (یعنی وہ بھی ایمان لائے گو اعمال میں وہ اپنے آباء کے رتبہ کو نہیں پہنچے، جیسا کہ عدم ذکر اعمال اس کا قرینہ ہے، ونیز احادیث میں مصرح ہے کانوا دونہ فی العمل، وکانت منازل ابائھم ارفع، ولم یبلغوا درجتک و عملک، رواھا فی الدر المنثور، تو گو ان کے عمل میں کمی کا مقتضا یہ تھا کہ ان کا درجہ بھی کم ہو، لیکن ان آباء مومنین کے اکرام اور ان کو خوش کرنے کے لئے) ہم ان کی اولاد کو بھی (درجہ میں) ان کے ساتھ شامل کردیں گے اور (اس شامل کرنے کے لئے) ہم ان (اہل جنت متبوعین) کے عمل میں سے کوئی چیز کم نہیں کریں گے، یعنی یہ نہ کریں گے کہ ان متبوعین کے بعض اعمال لے کر ان کی ذریت کو دے کر دونوں کو برابر کردیں، جیسے مثلاً ایک شخص کے پاس چھ سو روپے ہوں اور ایک کے پاس چار سو اور دونوں کا برابر کرنا مقصود ہو تو اس کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ چھ سو روپے والے سے ایک سو روپے لے کر اس چار سو والے کو دے دیے جائیں کہ دونوں کے پاس پانچ پانچ سو ہوجائیں اور دوسری صورت جو کریموں کی شان کے لائق ہے یہ ہے کہ چھ سو والے سے کچھ نہ لیا جائے بلکہ اس چار سو والے کو دو سو روپے اپنے پاس سے دیدیں اور دونوں کو برابر کردیں، پس مطلب یہ ہے کہ وہاں پہلی صورت واقع نہ ہوگی جس کا اثر یہ ہوتا کہ متبوع کو بوجہ کم ہوجانے اعمال کے اس کے درجہ سے کچھ نیچے لاتے اور تابع کو کچھ اوپر لے جاتے اور دونوں ایک متوسط درجہ میں رہتے یہ نہ ہوگا، بلکہ دوسری صورت واقع ہوگی اور متبوع اپنے درجہ عالیہ میں بدستور رہے گا اور تابع کو وہاں پہنچا دیا جائے گا اور متبوع اور ذریت میں ایمان کی شرط اس لئے ہے کہ اگر وہ ذریت مومن نہیں تو آباء مومنین کے ساتھ الحاق نہیں ہوسکتا، کیونکہ کافروں میں سے ہر شخص اپنے اعمال (کفریہ) میں محبوس (فی النار اور ماخوذ) رہے گا (کقولہ تعالیٰ اکل نفس بما کسبت رہینتہ الا اصحب الیمین، فسرہ ابن عباس کما فی الدر، یعنی نجات کی کوئی صورت نہیں، لہٰذا ان کا الحاق آباء مومنین کے ساتھ متصور نہیں، اس لئے الحاق میں ایمان ذریت شرط ہے) اور ( آگے پھر مطلق اہل ایمان و اہل جنت کا بیان ہے کہ) ہم ان کو میوے اور گوشت جس قسم کا ان کو مرغوب ہو روز افزوں دیتے رہیں گے ( اور) وہاں آپس میں (بطور خوش طبعی کے) جام شراب میں چھینا جھپٹی بھی کریں گے کہ اس (شراب) میں نہ بک بک لگے گی (کیونکہ نشہ نہ ہوگا) اور نہ کوئی بیہودہ بات (عقل و متانت کے خلاف) ہوگی اور ان کے پاس (فواکہ وغیرہ لانے کے لئے) ایسے لڑکے آئیں جائیں گے (یہ لڑکے کون ہوں گے اس کی تحقیق تفسیر سورة واقعہ میں آئے گی) جو خاص انہی (کی خدمت) کے لئے ہوں گے (اور غایت حسن و جمال سے ایسے ہوں گے کہ) گویا وہ حفاظت سے رکھے ہوئے موتی ہیں (کہ ان پر ذرا گرد و غبار نہیں ہوتا اور آب و تاب اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے) اور (ان کو روحانی مسرت بھی ہوگی، چناچہ اس میں سے ایک کا بیان یہ ہے کہ) وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر بات چیت کریں گے (اور اثنائے گفتگو میں) یہ بھی کہیں گے کہ (بھائی) ہم تو اس سے پہلے اپنے گھر (یعنی دنیا میں انجام کار سے) بہت ڈرا کرتے تھے سو خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا اور ہم کو عذاب دوزخ سے بچا لیا (اور) ہم اس سے پہلے (یعنی دنیا میں) اس سے دعائیں مانگا کرتے تھے ( کہ ہم کو دوزخ سے بچا کر جنت میں لے جاوے سو اللہ نے دعا قبول کرلی) واقعی وہ بڑا محسن مہربان ہے (اور اس مضمون سے مسرت ہونا ظاہر ہے اور چونکہ یہ امر دو حیثیت سے نعمت تھا، ایک فی نفسہ عذاب سے بچانا، دوسرے ہم ناکاروں کی ناچیز عرض قبول کرلینا، اس لئے دو عنوانوں سے تعبیر کیا گیا ) معارف و مسائل وَالطُّوْرِ ، طور کے معنی عبرانی زبان میں پہاڑ کے ہیں جس پر درخت اگتے ہوں، یہاں طور سے مراد وہ طور سینین ہے جو ارض مدین میں واقع ہے، جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حق تعالیٰ سے شرف ہم کلامی نصیب ہوا، بعض روایات حدیث میں ہے کہ دنیا میں چار پہاڑ جنت کے ہیں ان میں سے ایک طور ہے (قرطبی) طور کی قسم کھانے میں اس کی خاص تعظیم و تشریف کی طرف بھی اشارہ ہے اور اس کی طرف بھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لئے کچھ کلام اور احکام آئے ہیں جن کی پابندی ان پر فرض ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالطُّوْرِ۝ ١ ۙ طور طَوَارُ الدّارِ وطِوَارُهُ : ما امتدّ منها من البناء، يقال : عدا فلانٌ طَوْرَهُ ، أي : تجاوز حدَّهُ ، ولا أَطُورُ به، أي : لا أقرب فناء ه . يقال : فعل کذا طَوْراً بعد طَوْرٍ ، أي : تارة بعد تارة، وقوله : وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْواراً [ نوح/ 14] ، قيل : هو إشارة إلى نحو قوله تعالی: خَلَقْناكُمْ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ [ الحج/ 5] ، وقیل : إشارة إلى نحو قوله : وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] ، أي : مختلفین في الخَلْقِ والخُلُقِ. والطُّورُ اسمُ جبلٍ مخصوصٍ ، وقیل : اسمٌ لكلّ جبلٍ وقیل : هو جبل محیط بالأرض «2» . قال تعالی: وَالطُّورِ وَكِتابٍ مَسْطُورٍ [ الطور/ 1- 2] ، وَما كُنْتَ بِجانِبِ الطُّورِ [ القصص/ 46] ، وَطُورِ سِينِينَ [ التین/ 2] ، وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] ، وَرَفَعْنا فَوْقَهُمُ الطُّورَ [ النساء/ 154] . ( ط و ر ) طوارا لدار وطوارھ کے معنی گھر کی عمارت کے امتداد یعنی لمبا ہونے اور پھیلنے کے ہیں محاورہ ہے : ۔ عدا فلان طوارہ فلاں اپنی حدود سے تجاوز کر گیا ۔ لاوطور بہ میں اسکے مکان کے صحن کے قریب تک نہیں جاؤں گا ۔ فعل کذا طورا بعد طور اس نے ایک بار کے بعد دوسری باریہ کام کیا اور آیت کریمہ : ۔ وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْواراً [ نوح/ 14] کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ کہ اطوارا سے ان مختلف منازل ومدارج کی طرف اشارہ ہے جو کہ آیت : ۔ خَلَقْناكُمْ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ [ الحج/ 5] ہم نے تم کو ( پہلی بار بھی ) تو پیدا کیا تھا ( یعنی ابتداء میں ) مٹی سے پھر اس سے نطفہ بناکر پھر اس سے خون کا لوتھڑا بناکر پھر اس سے بوٹی بناکر ۔ میں مذکور ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے مختلف احوال مراد ہیں جن کی طرف آیت : ۔ وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا جدا جدا ہونا ۔ میں اشارہ فرمایا ہے یعنی جسمانی اور اخلاقی تفاوت جو کہ ہر معاشرہ میں نمایاں طور پر پا یا جاتا ہے ۔ الطور ( ایلہ کے قریب ایک خاص پہاڑ کا نام ہے) اور بعض نے کہا ہے کہ ہر پہاڑ کو طور کہہ سکتے ہیں اور بعض کے نزدیک طور سے وہ سلسلہ کوہ مراد ہے جو کرہ ارض کو محیط ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَالطُّورِ وَكِتابٍ مَسْطُورٍ [ الطور/ 1- 2] کوہ طور کی قسم اور کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے ۔ وَما كُنْتَ بِجانِبِ الطُّورِ [ القصص/ 46] اور نہ تم اس وقت طور کے کنارے تھے ۔ وَطُورِ سِينِينَ [ التین/ 2] اور طورسنین کی ۔ وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] اور ہم نے ان کو طور کی داہنی جانب سے پکارا ۔ وَرَفَعْنا فَوْقَهُمُ الطُّورَ [ النساء/ 154] اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کر کھڑا کیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

قسم ہے کوہ طور کی سریانی اور قبطی زبان میں ہر ایک پہاڑ کو طور کہتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کا اس مقام پر وہ پہاڑ مقصود ہے جس پر موسیٰ سے کلام فرمایا اور وہ مدین میں ہے اور اس کو زبیر بھی کہتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١{ وَالطُّوْرِ ۔ } ” قسم ہے طور کی۔ “ طور عام پہاڑ کو بھی کہا جاتا ہے ‘ لیکن ” الطُّور “ سے مراد وہ خاص پہاڑ (طور ِسینین٭) ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے تھے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 Tur means a mountain, and at-Tur the particular mountain on which Allah had blessed the Prophet Moses with the Prophet hood.

سورة الطُّوْر حاشیہ نمبر :1 طُور کے اصل معنی پہاڑ کے ہیں ۔ اور الطور سے مراد وہ خاص پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو نبوت سے سرفراز فرمایا تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١۔ ١٦۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں۔ کتاب مسطور کے معنی لو محفوظ کشادہ ورق لوح محفوظ کے صفحہ کو فرمایا۔ ہر ایک آسمان پر ہر آسمان کے فرشتوں کی عبادت کا ایک مکان بنا ہوا ہے۔ ساتویں آسمان کے فرشتوں کے عبادت کا مکان جو بنا ہوا ہے اس کا نام بیت المعمور ہے۔ صحیح ١ ؎ بخاری میں ابوہریرہ (رض) سے اور صحیح مسلم ٢ ؎ میں انس بن مالک سے معراج کی ذکر کی جو حدیث ہے اس میں بیت المعمور کا بھی ذکر ہے غرض کعبہ کی سیدھ پر یہ مکان ساتویں آسمان پر ہے اور ساتویں آسمان کے فرشتوں کا یہی کعبہ ہے۔ سقف مرفوع کے معنی آسمان۔ اکثر سلف بحر مسجور کی یہی تفسیر کی ہے کہ قیامت کے دن دنیا کے دریا آگ ہوجائیں اور آیت اذا البحار سجرت سے اس تفیرج کی تائید بھی ہوتی ہے۔ اس قسم کے بعد فرمایا کہ جس نافرمانی کی حالت میں یہ لوگ ہیں۔ اسی حالت میں جو لوگ ان میں سے مرجائیں گے تو جس عذاب کا ان لوگوں سے وعدہ ہے وہ ضرور قیامت کے دن اس طرح ان کو بھگتنا پڑے گا کہ اس عذاب کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ پھر فرمایا جس دنیا کی زندگی کے بھروسہ پر انسان اس عذاب سے غافل ہے وہ دنیا ہمیشہ رہنے کی چیز نہیں ہے بلکہ آسمان پہاڑ جو آج ایسے مضبوط نظر آتے ہیں پہلا صور شروع ہوتے ہی آسمان پہلے لرزنے لگے گا پھر پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر اڑ جائے گا۔ پہاڑ اڑتے پھریں گے پھر فرمایا اس دن حشر کے جھٹلانے والوں اور دین کی باتوں کو کھیل تماشا ٹھہرانے والوں کی بڑی کم بختی ہے کہ دوزخ میں دھکیل کر اللہ کے فرشتے ان سے یہ کہیں گے اب خوب آنکھیں کھول کر اس آگ کو دیکھو جس سے ڈرانے کی نصیحت کو تم جھٹلاتے اور جادو بتاتے تھے۔ اب اس آگ میں تم کو چیخنا چلانا یا اس کی تکلیف پر صبر کرکے بیٹھ رہنا سب برابر ہے اور تم کو جو سزا ملی ہے کچھ بلا سبب نہیں ہے بلکہ دنیا میں جو تم نافرمانی کرتے تھے یہ اس کا خمیازہ ہے۔ صحیح بخاری ١ ؎ و مسلم میں ابوموسیٰ اشعری سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احکام دین کو مینہ سے اور امت کے لوگوں کو زمین سے تشبیہ دی ہے اور زمین کی تیں قسمیں فرمائی ہیں۔ ایک کھیتی اور باغات کی زمین جس کو مینہ سے یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ اس میں طرح طرح کے اناج اور میوہ جات پیدا ہوتے ہیں اور پھر ان اناج کے بیج اور میووں گٹھلیوں سے آگے پیداوار کا سلسلہ چلتا ہے۔ دوسرے وہ نشیب کی زمین جس میں پانی اکٹھا ہو کر چشمے اور تالاب ہوجاتے ہیں اور ان سے آدمیوں اور جانروں کی طرح طرح کا فائدہ پہنچتا ہے تیسرے وہ سخت زمین جس میں یہ دونوں باتیں نہیں ہیں بلکہ اس میں جو مینہ برستا ہے وہ رائیگاں جاتا ہے علماء نے کہا کہ زمین کی پہلی دو قسموں سے امت کے وہ لوگ مقصود ہیں جنہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہدایت سے سلسلہ بہ سلسلہ خود بھی نفع دینی حاصل کیا اور لوگوں کو بھی نفع دینی پہنچایا۔ بعضوں نے علم دینی کی تعلیم سے وہ بیج بویا جس کا سلسلہ اناج کے بیج اور میوہ کی گٹھلیوں کی طرح قیامت تک چلے گا۔ بعضوں نے علم دین کی کتابیں تصنیف کرکے ان کتابوں کو ایک چشمہ فیض بنایا۔ تیسرے قسم سے وہ لوگ مقصود ہیں جن کے دنیا میں پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی میں یہ جان لیا تھا کہ کوئی آسمانی کتاب رسولوں کی نصیحت ان لوگوں کے دل پر اگر نہ کرے گی۔ اور آخر کار اپنی نافرمانی کی سزا میں یہ لوگ دوزخ میں جائیں گے ان آیتوں میں ان میں سے تیسری قسم کے لوگوں کے انجام کا ذکر ہے اور یہ حدیث ان آیتوں کی گویا تفسیر ہے۔ (١ ؎ صحیح بخاری باب المعراج ص ٥٤٨ ج ١۔ ) (٢ ؎ صحیح مسلم باب الاسراء برسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ص ٩١ ج ١۔ ) (١ ؎ صحیح بخاری باب فضل منعلم و علم ص ١٨ ج ١ و صحیح مسلم باب مثل مابعث بہ النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الخ ص ٢٤٧ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(52:1) والطور۔ واؤ قسمیہ ہے الطور سے مراد طور سینا ہے جو مدین کا ایک پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کا کلام سنا تھا۔ قسم ہے طور کی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 مراد وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کلام فرمایا تھا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ١ تا ٢٨۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو پھر انسانی کردار پر نتیجہ کیوں مرتب نہ ہوگا بلکہ قیام قیامت کے روز تو آسمانوں پہ کپکپاہٹ طار ی ہوجائے گی اور پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور چل پڑیں گے یعنی ہر شے فنا ہونے لگے گی اور بالآخر اور اس دن کا انکار کرنے والوں کے لیے بربادی ہے کہ جو اس دن کا مذاق اڑاتے ہیں اور اس بات کو کھیل تماشا سمجھ رکھا ہے انہیں اس روز دھکے دے کر جہنم کی طرف لے جایاجائے گا ، اور کہاجائے گالویہ دوزخ ہے جس کا تم انکار کیا کرتے تھے بھلا اب بتاؤ کیا یہ جادوگری ہے یاواقعی حق ہے اب تو تمہیں پتہ چل گیا ہے اب اس میں رہو پچو چلاؤ یا صبر کرو اب کوئی فائدہ نہیں کہ یہ جہان تو بدلہ دینے کے لیے ہے عمل کا وقت گزرچکا لہذا یہاں تو تمہارے اعمال ہی کا بدلہ تمہیں دیاجائے گا اور اللہ کی خلوص دل سے اطاعت کرنے والے لوگ یعینا جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے اور اپنے پروردگار کی طرف سے عطا کیے گئے پھل کھاتے ہوں گے کہ رب کریم نے انہیں دوزخ کے عذاب سے بچالیا ۔ ارشاد ہوگا کھاؤ پیو اور آرام اور تسلی سے کہ تم نے دار دنیا میں اطاعت اختیار کی تھی اور وہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تختوں پر تکیہ لگائے آرام سے بیٹھے ہوں گے یعنی آپس میں ایک دوسرے سے ملاقات اور آنا جانا اور خوبصورت مجالس انہیں نصیب ہوں گی اور جنت کی حسین ترین حوریں ان کے نکاح میں دی جائیں گی ۔ اہل ایمان اور صالحین کی برکات۔ جولوگ دنیا میں ایمان پر ثابت قدم رہے اور ان کے اہل خانہ اور اولاد نے بھی ان کی پیروی کی تو اگرچہ اولاد کے اپنے اعمال کے حساب سے درجات کم بھی ہوں صالح والدین کی برکت سے والدین کے درجے میں پہنچادیے جائیں گے ایسیے ہی الٹ بھی حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ صالح اولاد اور والدین کی ترقی درجات کا باعث بن جائے گی اور یوں ان کے اعمال کی نسبت مدارج میں زیادتی تو کی جائے گی مگر کسی کے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہ کیا جائے گا اور ہر آدمی اپنی کمائی کا بدلہ پائے گا کہ کفار کو صالح والدین کا فائدہ نہ ہوگا اور ان کے پسندیدہ پھل اور گوشت انہیں ڈھیروں نصیب ہوگا اور آپس میں خوش طبعی کریں گے اور جامہائے شراب پر ایک دوسرے سے جھپٹیں گے جبکہ وہاں کی شراب پاک وصاف اور لذیذ ہوگی کہ اس کے باعث حواس مختل نہ ہوں گے کوئی پی کر بکنے لگے یا گناہ اور نافرمانی کرنے لگے اور پھر آپس میں سنجیدہ گفتگو بھی کریں گے اور ایک دوسرے سے پوچھیں گے یار دنیا میں تو قیامت اور آخرت سے بہت ڈرآتا تھا اور اہل و عیال میں رہتے ہوئے بھی یعنی ان سے مشغول ہوکر بھی آخرت کا ڈر نہیں بھولتا مگر یہاں ہم پر اللہ نے احسان فرمایا اور دوزخ کی جھلسنے والی ہواؤں سے بچالیا ہم دنیا میں اللہ ہی کو پکارا کرتے اور اسی کی عبادت کرتے تھے اسی سے دعائیں مانگا کرتے تھے یعنی بحمداللہ ہم شرک سے بچے ہوئے تھے سو اس نے ہماری سن لی کہ وہ بہت بڑا احسان کرنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 مسطور لکھا ہوا۔ رق جھلی (جس پر اس زمانہ میں لکھا کرتے تھے) المعمور آباد۔ السقف المرفوع اونچی چھت۔ المسجور جوش مارنا۔ دافع دور کرنے والا۔ تمور تھرتھرائے گا۔ تسیر چلے گا۔ خوض ڈوب جانا۔ یدغون وہ دھکیلے جائیں گے۔ اصلوا تم گھس جائو، داخل ہو جائو۔ تجزون تم بدلہ دیئے جائو گے۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے طور سینا، کتاب مسطور، بیت المعمور، شقف مرفوع اور بحر مسجور کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن جب کفار و مشرکین پر عذاب مسلط کیا جائے گا تو کوئی اس کو ٹالنے والا اور جب اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور پرہیز گار بندوں پر ان کے بہتر اعمال کے بدلے جنت کی صورت میں اپنے انعامات کی بارش کریگا تو اس میں رکاوٹ ڈالنے والا کوئی نہ ہوگا۔ (1) طور (پہاڑ) مدین اور صحرائے سینا میں واقع مشہور پہاڑ طور ہے جس پر حضرت موسیٰ کو اللہ سے کلام کرنے اور توریت جیسی کتاب کے عطا کئے جانے کی سعادت نصیب ہوئی۔ (2) کتاب مسطور (لکھی ہوئی کتاب) اس سے بظاہر تو ریت مراد ہے لیکن ہو سکتا ہے اس سے قرآن کریم اور جو صحیفے نازل ہوئے ہیں وہ مراد ہوں۔ (3) بیت المعمور (آباد گھر) اس سیب یت اللہ یا وہ گھر مراد ہے جو ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ یہ فرشتوں کا وہ کعبہ ہے جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اور طواف کے لئے آتے ہیں اور ایک دفعہ طواف کے بعد ان کو قیامت تک دوبارہ موقع نہیں ملے گا۔ ہر روز نئے ستر ہزار فرشتے آتے ہیں۔ یہی وہ بیت المعمور ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معراج میں تشریف لے گئے تو آپ نے دیکھا کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ بیت المعمور کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔ (4) سقف مرفوع (اونچی چھت) آسمان جو چھت کی طرح ہمارے سروں پر قائم ہے اس سے مراد عرش الٰہی ہے جس کا سایہ ہر چیز پر ہے۔ (5) البحر المسجور (جوش مارتا، ابلتا سمندر) احادیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن سمندر بھی اگٓ بن جائے گا۔ ان آیات میں سب سے پہلے قیامت کے دن کفار و مشرکین پر عذاب اور کائنات میں جو بھونچال آئے گا اس کا ذکر کرتے ہوئے کوہ طور، توریت، بیت المعمور، بلند آسمان اور ابلتے جلتے سمندر کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اس کائنات میں اصل طاقت و قوت صرف ایک اللہ کی ہے ۔ وہی سزا دیتا ہے اور وہی نیک اعمال پر بہترین جزا عطا فرماتا ہے۔ فرمایا کہ قیامت کا دن منکرین و مشرکین پر اور جنت و جہنم کا مذاق اڑانے والوں کے لئے بڑا سخت اور ہیبت ناک دن ہوگا جس کو ساری دنیا مل کر بھی ٹال نہیں سکتی آسمان بھی تھرتھرا کانپنے لگے گا اور پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔ پہاڑ جیسی عظیم مخلوق جو زمین کا تو ازنق ائم کئے ہوئے ہیں وہ اس قدر بےوزن ہوجائیں گے کہ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے اور ساری کائنات کو الٹ کر رکھ دیا جائے گا۔ میدان حشر قائم ہوگا۔ اہل جنت کو جنت کی ابدی راحتوں کی طرف عزت سے لے جایا جائے گا اور کفار و مشرکین کو دھکے دے دے کر جہنم کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔ اللہ کی طرف سے اعلان کیا جائے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جس کا تم مذاق اڑاتے اور اس کا انکار کرتے ہوئے اس کو نظر بندی اور جادو کہا کرتے تھے ۔ فرمایا جائے گا کہ اب جہنم تمہارے سامنے ہے۔ اب تم اس کو دیکھو اور بھگتو۔ کیا اب بھی تم وہی کہوں گے جو دنیا میں کہا کرتے تھے اس کو جادو قرار دیتے اور اس کا انکار کرتے تھے۔ اب تمہارا رونا، چلانا، چیخنا تمہارے سکی کام نہ آسکے گا اب تمہیں وہی سب کچھ بدلے میں دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط سورت : سورة الذّاریات کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ جس دن کا کفار سے وعدہ کیا جاتا ہے اس دن ان کے لیے ہلاکت اور بربادی ہوگی۔ سورة الطور کا آغاز پانچ قسمیں اٹھانے کے بعد اس بات سے ہوا ہے کہ جو دن کفار کے لیے ہلاکت کا باعث ہوگا اس کی ہلاکت اور عذاب کو کفار بھی ٹال نہیں سکتے۔ قسم ہے طور کی اور قسم ہے کھلے اوراق میں لکھی ہوئی کتاب کی قسم ہے آباد گھر کی، قسم ہے بلندو بالا چھت کی، قسم ہے بھڑکائے جانے والے سمندر کی۔ ١۔ الطور سے مراد وہ پہاڑ ہے بالخصوص اس کا وہ حصہ جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب سے ہم کلام ہوئے تھے۔ طور کو طور سیناء اور طور سینین بھی کہا گیا ہے، طور سیناء اور سینین دونوں ایک ہی پہاڑ کے نام ہیں۔ اس کی سطح سمندر سے بلندی ٧٢٦٠ فٹ ہے اور مدین سے مصر یا مصر سے مدین جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ اسی مقام پر موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا۔ اسی پہاڑ کی ایک چوٹی کا نام طور ہے اور اس پہاڑ کے دامن میں واقع وادی کا نام طویٰ ہے جسے قرآن میں وادی مقدس اور ” بکعۃ المبارکہ “ بھی کہا گیا ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپس آئے اور جب بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر لائے تو اسی راستے سے گزرے تھے۔ ٢۔ کشادہ اوراق میں لکھی ہوئی کتاب سے مراد کچھ اہل علم نے تورات لی ہے کیونکہ تورات آسمان سے کھلی تختیوں کی صورت میں نازل ہوئی تھی اور اس میں اللہ تعالیٰ کے احکام موٹے، موٹے حروف میں لکھے ہوئے تھے۔ کیونکہ طور پہاڑ کی قسم کے بعد ” کِتَابٍ مَّسْطُوْرٍ “ کی قسم اٹھائی گئی ہے اس لیے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد تورات ہے۔ باقی اہل علم نے کشادہ اوراق میں لکھی ہوئی کتاب سے مراد لوح محفوظ لیا ہے۔ رق چمڑے کی ایسی جھلی کو بھی کہا جاتا ہے جسے ایک خاص تکنیک کے ساتھ رگڑ رگڑ کر ملائم اور باریک کرلیا گیا ہو۔ پہلے زمانے میں شاہی فرمان اور اہم ترین دستاویزات کو رق پر لکھا جاتا تھا تاکہ اس میں لکھے ہوئے فرمان کا کوئی لفظ مٹنے نہ پائے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو مراسلات روم اور ایران کے فرمانرواؤں کو لکھے تھے وہ ورق پر ہی تحریر کیے گئے تھے۔ ٣۔ بیت المعمور : وہ گھر ہے جو ہمیشہ سے آباد چلاآرہا ہے۔ اس گھر کے بارے میں بھی اہل علم کے دو نقطہ نگاہ ہیں۔ ایک جماعت نے اس سے بیت اللہ مراد لیا ہے جس میں ہر وقت رکوع و سجود، قیام اور ذکر و اذکار کرنے والے موجود رہتے ہیں۔ جب سے یہ گھر تعمیر ہوا اس وقت سے لے کر اس کی رونق میں اضافہ ہی ہو رہا ہے اور قیامت تک ہوتا رہے گا۔ دوسری جماعت کا خیال ہے کہ اس گھر سے مراد اسی بیت اللہ کے اوپر ساتویں آسمان پر بیت المعمور ہے جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز اد کرتے ہیں اور جس نے ایک مرتبہ وہاں نماز پڑھی اسے وہاں قیامت تک نماز پڑھنے کا موقع نہیں ملے گا۔ (رواہ مسلم : باب الإِسْرَاءِ بِرَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِلَی السَّمَوَاتِ وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ ) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معراج کی رات اسی گھر کی دیوار کے ساتھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو تشریف فرما دیکھا اور ان سے ملاقات کا شرف پایا۔ جس کی تفصیل حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ ٤۔ اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بغیر ستونوں کے کھڑا کر رکھا ہے۔ اسے اس طرح بنایا اور ٹھہرایا ہے کہ اس میں نہ کوئی دراڑ واقع ہوئی ہے اور نہ ہی اپنی جگہ سے ہلا اور جھکا ہے۔ نامعلوم کتنی مدت سے ایک قبے کی شکل میں جوں کا توں فضا میں ٹھہرا ہوا ہے اللہ تعالیٰ نے اسے لوگوں کے لیے چھت بنایا ہے۔ ٥۔ سمندر : سمندر کے بارے میں ارضیات کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ زمین کے مقابلے میں تین گنا بڑا ہے اور پوری زمین کے دریا سمندر میں گرتے ہیں لیکن آج تک سمندر کا پانی اپنے مقام پر ٹھہرا ہوا ہے۔ اگر سمندر کا پانی اپنی حدود سے نکل کھڑا ہو تو دنیا میں کوئی چیز غرق ہونے سے نہ بچ سکے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے مسجور کردیا ہے۔ مسجور کا معنٰی ہے لبا لب بھرا ہونے کے باوجود اپنے مقام پر ٹھہرا ہوا۔ مسجور کا دوسرا معنٰی بھٹکایا ہوا ہے کیونکہ قیامت کے قریب سمندر بھڑک اٹھے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں جن چیزوں کی قسمیں اٹھائی ہیں ان کی حقیقت کما حقُّہ اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ تاہم اہل تفسیر نے اپنے اپنے فہم کے مطابق ان قسموں کی کچھ نہ کچھ حکمت بیان کی ہے جس کے بارے میں قطعی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ تفسیر بالقرآن قرآن کی چند قسموں کا تذکرہ : ١۔ آپ کی جان کی قسم ! وہ اپنی مدہوشی میں مست ہیں۔ (الحجر : ٧٢) ٢۔ قسم ہے ان ہواؤں کی ! جو بھیجی جاتی ہیں۔ (المرسلات : ١) ٣۔ قسم ہے جان سختی سے نکالنے والے فرشتوں کی۔ (النازعات : ١) ٤۔ قسم ہے برجوں والے آسمان کی۔ (البروج : ١) ٥۔ قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والی چیز کی۔ (الطارق : ١) ٦۔ قسم ہے فجر کی۔ (الفجر : ١) ٧۔ میں قسم کھاتا ہوں مکہ شہر کی۔ (البلد : ١) ٨۔ قسم ہے آفتاب اور اس کی روشنی کی۔ (الشمس : ١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ مختصر آیات اور زمزمہ خیز مسجع آیات اور ان آیات کے آخری الفاظ کی صوتی ہم آہنگی ، پوری سورة میں جاری ہے۔ پہلی آیت میں ایک لفظ بھر دو الفاظ ، پھر آہستہ آہستہ الفاظ کی تعداد کا بڑھتے چلے جانا ، یہاں تک کہ پیراگراف کے آخر میں الفاظ کی تعداد ٢١ کلمات تک پہنچ جاتی ہے اور الفاظ بدستور پر شوکت اور زور دار رہتے ہیں۔ والطور (قسم ہے طور کی) طور ہر اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس میں درخت ہوں۔ واضح قول یہ ہے کہ اس سے مراد ہی کوہ طور ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے میں مشہور ہے اور جس پہاڑ پر تورات کی تختیاں نازل ہوئی تھیں۔ اس لئے کہ یہاں فضا مقدس مقامات کی ہے اور ان کی اللہ تعالیٰ قسم اٹھاتا ہے اور یہ قسم بھی ایک عظیم امر پر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قیام کے دن منکرین کی بدحالی، انہیں دھکے دے کر دوزخ میں داخل کردیا جائے گا ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بعض ایسی چیزوں کی قسم کھائی ہے جن کی بڑی اہمیت ہے، اس کے بعد فرمایا ہے کہ بیشک آپ کے رب کا عذاب واقع ہونے والا ہے، قیامت کو جھٹلانے والے اس کے وقوع کے منکر ہیں، ان کے شک اور انکار کو رد کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بار بار قسمیں کھائی ہیں، سورة الذاریات کا افتتاح اور سورة النازعات کی ابتداء بھی اسطرح سے ہے، ان آیات میں اولاً طورپہاڑ کی قسم کھائی یہ وہی پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا، اس کے بعد کتاب مسطور کی قسم کھائی مسطور بمعنی مکتوب ہے یعنی لکھی ہوئی کتاب، صاحب روح المعانی نے اس کی تفسیر میں چند اقوال نقل کیے ہیں ایک قول یہ ہے کہ اس سے بندوں کے اعمال نامے مراد ہیں جو قیامت کے دن کسی کو داہنے ہاتھ میں اور کسی کو بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے اور بعض حضرات نے اس سے قرآن کریم مراد لیا ہے، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے لوح محفوظ مراد ہے، کتاب مسطور کی صفت بتاتے ہوئے ﴿فِيْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ٠٠٣﴾ فرمایا ” رق “ جلد رقیق یعنی پتلے چمڑے کو کہا جاتا ہے جب دنیا میں کاغذ نہیں تھے تو اس میں لکھا کرتے تھے اور منشور کا معنی ہے کھلی ہوئی چیز، جن حضرات نے كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍسے اعمال نامے مراد لیے ہیں ان کے قول کی اس سے تائید ہوتی ہے کہ سورة الاسراء میں اعمال ناموں کے بارے میں ﴿ وَ نُخْرِجُ لَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا ٠٠١٣﴾ فرمایا ہے۔ اس کے بعد بیت معمور کی قسم کھائی شب معراج میں اسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عالم بالا میں دیکھا تھا آپ نے فرمایا کہ میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو انہوں نے کہا یہ بیت معمور ہے اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جب اس سے نکل کر واپس جاتے ہیں تو ان کی باری دوبارہ کبھی نہیں آتی۔ (صحیح مسلم صفحہ ٩٤ ج ١) معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ آسمان میں بیت المعمور کی حرمت وہی ہے جو زمین میں کعبہ معظمہ کی حرمت ہے، اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں، اس کا طواف کرتے ہیں اور اس میں نماز پڑھتے ہیں پھر کبھی ان کے دوبارہ داخل ہونے کی نوبت نہیں آتی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

2:۔ ” والطور “ یہ دعوی سورت پر پہلی نقلی دلیل ہے از موسیٰ (علیہ السلام) یعنی وہ کوہ طور بھی شاہد ہے کہ حشر و نشر اور جزاء وسزا حق ہے۔ جہاں موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی نازل ہوئی تھی کہ ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیہا لتجزی کل نفس بما تسعی (طہ رکوع 1) ۔ یہ ذکر مکان اور ارادہ مکین کے قبیل سے ہے۔ ” و کتاب مسطور فی رق منشور “ یہ دوسری نقلی دلیل ہے از کتب سابقہ۔ ” رق “ باریک چمڑا وغیرہ جس پر وہ لکھی جاتی ہیں۔ یعنی کتب سابقہ بھی شاہد ہیں کہ جزاء و سزا واقع ہوگی کیونکہ ان میں بھی یہ مضمون نازل کیا جاچکا ہے۔ ” والبیت المعمور “ یہ دلیل وحی بیت معمور ساتویں آسمان پر خانہ کعبہ کے بالمقابل فرشتوں کا عبادت خانہ ہے جہاں روزانہ ستر ہزار فرشتے عبادت کیلئے آتے ہیں۔ جو ایک بار آچکے پھر قیامت تک ان کی باری نہیں آئیگی (صحیحین) یعنی بیت اللہ بھی گواہ ہے جہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہر وحی نازل ہوئی تھی یعنی بیت معمور میں بھی یہی حکم ہوا تھا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(1) قسم ہے طور پہاڑ کی۔