Surat ut Toor
Surah: 52
Verse: 17
سورة الطور
اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیۡمٍ ﴿ۙ۱۷﴾
Indeed, the righteous will be in gardens and pleasure,
یقیناً پرہیزگار لوگ جنتوں میں اور نعمتوں میں ہیں ۔
اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیۡمٍ ﴿ۙ۱۷﴾
Indeed, the righteous will be in gardens and pleasure,
یقیناً پرہیزگار لوگ جنتوں میں اور نعمتوں میں ہیں ۔
Description of the Destination of the Happy Ones Allah the Exalted described the destination of the happy ones, إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَنَعِيمٍ Verily, those who have Taqwa will be in Gardens and Delight. in contrast to the torment and punishment of the miserable;
منظر جنت اللہ تعالیٰ نیک بختوں کا انجام بیان فرما رہا ہے کہ عذاب و سزا جو ان بد بختوں کو ہو رہا ہے یہ اس سے محفوظ کر کے جنتوں میں پہنچا دئیے گئے جہاں کی بہترین نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر طرح خوش حال خوش دل ہیں قسم قسم کے کھانے طرح طرح کے پینے بہترین لباس ، عمدہ عمدہ سواریاں ، بلند و بالا مکانات اور ہر طرح کی نعمتیں انہیں مہیا ہیں کسی قسم کا ڈر خوف نہیں اللہ فرما چکا ہے کہ تمہیں میرے عذابوں سے نجات مل گئی غرض دکھ سے دور ، سکھ سے مسرور ، راحت و لذت میں مخمور ہیں جو چیز سامنے آتی ہے وہ ایسی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو نہ کسی کان نے سنا ہو نہ کسی دل پر خیال تک گذرا ہو پھر اللہ کی طرف سے بار بار مہمان نوازی کے طور پر ان سے کہا جاتا ہے کہ کھاتے پیتے رہو خوش گوار خوش ذائقہ بےتکلف مزید مرغوب چیزیں تمہارے لئے مہیا ہیں پھر ان کا دل خوش کرنے حوصلہ بڑھانے اور طبیعت میں امنگ پیدا کرنے کے لئے ساتھ ہی اعلان ہوتا ہے کہ یہ تو تمہارے اعمال کا بدلہ ہے جو تم اس جہان میں کر آئے ہو مرصع اور جڑاؤ شاہانہ تخت پر بڑی بےفکری اور فارغ البالی سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ستر ستر سال گذر جائیں گے انہیں ضرورت نہ ہو گی کہ اٹھیں یا ہلیں جلیں بیشمار سلیقہ شعار ادب دان خدام ہر طرح کی خدمت کے لئے کمربستہ جس چیز کو جی چاہے آن کی آن میں موجود آنکھوں کا نور دل کا سرور وافر و موفور سامنے بے انتہاء خوبصورت خوب سیرت گورے گورے پنڈے والی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی بہت سی حوریں پاک دل عفت مآب عصمت خوش دل بہلانے اور خواہش پوری کرنے کے لئے سامنے کھڑی ہر ایک نعمت و رحمت چاروں طرف بکھری ہوئی پھر بھلا انہیں کس چیز کی کمی ۔ ستر سال کے بعد جب دوسری طرف مائل ہوتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہاں اور ہی منظر ہے ہر چیز نئی ہے ہر نعمت جوبن پر ہے اس طرف کی حوروں پر نظریں ڈالتے ہیں تو ان کے نور کی چکا چوند حیرت میں ڈال دیتی ہے ان کی پیاری پیاری بھولی بھالی شکلیں اچھوتے پنڈے اور کنوار پنے کی شرمیلی نظریں اور جوانی کا بانکپن دل پر مقناطیسی اثر ڈالتا ہے جنتی کچھ کہے اس سے پہلے ہی وہ اپنی شیریں کلامی سے عجیب انداز سے کہتی ہیں شکر ہے کہ آپکا التفات ہماری طرف بھی ہوا غرض اسی طرح من مانی نعمتوں سے مست ہو رہے ہیں ۔ پھر ان جنتیوں کے تخت باوجود قطار وار ہونے کے اس طرح نہ ہوں گے کہ کسی کو کسی کی پیٹھ ہو بلکہ آمنے سامنے ہوں گے جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ 47 ) 15- الحجر:47 ) تختوں پر ہوں گے اور ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے پھر فرماتا ہے ہم نے انکے نکاح میں حوریں دے رکھی ہیں جو کبھی دل میلا نہ کریں جب آنکھ پڑے جی خوش ہو جائے اور ظاہری خوبصورتی کی تو کسی سے تعریف ہی کیا ہو سکتی ہے ؟ انکے اوصاف کے بیان کی حدیثیں وغیرہ کئی مقامات پر گذر چکی ہیں اسلئے انہیں یہاں وارد کرنا کچھ چنداں ضروری نہیں ۔
17۔ 1 اہل کفر و اہل شقاوت کے بعد اہل ایمان و اہل سعادت کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔
[١٣] یعنی جو لوگ اللہ کے فرمانبردار بن کے رہے تاکہ اس کے عذاب سے بچ جائیں۔ ان کو صرف عذاب سے بچایا ہی نہیں جائے گا بلکہ پربہار باغات میں داخل کیا جائے گا۔
ان المتقین فی جنت و نعیم : مکذبین کے برے انجام کے ذکر کے بعد متقین کے حسن انجام کا ذکر فرمایا۔ مزید دیکھیے سورة حجر (٤٥) ۔
اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّنَعِيْمٍ ١٧ ۙ تَّقْوَى والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، ثمّ يسمّى الخوف تارة تَقْوًى، والتَّقْوَى خوفاً حسب تسمية مقتضی الشیء بمقتضيه والمقتضي بمقتضاه، وصار التَّقْوَى في تعارف الشّرع حفظ النّفس عمّا يؤثم، وذلک بترک المحظور، ويتمّ ذلک بترک بعض المباحات لما روي : «الحلال بيّن، والحرام بيّن، ومن رتع حول الحمی فحقیق أن يقع فيه» قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ، إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا [ النحل/ 128] ، وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً [ الزمر/ 73] ولجعل التَّقْوَى منازل قال : وَاتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ [ البقرة/ 281] ، واتَّقُوا رَبَّكُمُ [ النساء/ 1] ، وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ [ النور/ 52] ، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسائَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحامَ [ النساء/ 1] ، اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ [ آل عمران/ 102] . و تخصیص کلّ واحد من هذه الألفاظ له ما بعد هذا الکتاب . ويقال : اتَّقَى فلانٌ بکذا : إذا جعله وِقَايَةً لنفسه، وقوله : أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذابِ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 24] تنبيه علی شدّة ما ينالهم، وأنّ أجدر شيء يَتَّقُونَ به من العذاب يوم القیامة هو وجوههم، فصار ذلک کقوله : وَتَغْشى وُجُوهَهُمُ النَّارُ [إبراهيم/ 50] ، يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] . التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز سے بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ جس طرح کہ سبب بول کر مسبب اور مسبب بولکر سبب مراد لیا جاتا ہے اور اصطلاح شریعت میں نفس کو ہر اس چیز سے بچا نیکا نام تقوی ہے جو گناہوں کا موجب ہو ۔ اور یہ بات محظو رات شرعیہ کے ترک کرنے سے حاصل ہوجاتی ہے مگر اس میں درجہ کمال حاصل کرنے کے لئے بعض مباحات کو بھی ترک کرنا پڑتا ہے ۔ چناچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے ۔ ( 149 ) الحلال بین واحرام بین ومن وقع حول الحمی فحقیق ان یقع فیہ کہ حلال بھی بین ہے اور حرام بھی بین ہے اور جو شخص چراگاہ کے اردگرد چرائے گا تو ہوسکتا ہے کہ وہ اس میں داخل ہوجائے ( یعنی مشتبہ چیزیں اگرچہ درجہ اباحت میں ہوتی ہیں لیکن ورع کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں بھی چھوڑ دایا جائے ) قرآن پاک میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا[ النحل/ 128] کچھ شک نہیں کہ جو پرہیز گار ہیں اللہ ان کا مدد گار ہے ۔ وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً [ الزمر/ 73] اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کو گروہ بناکر بہشت کی طرف لے جائیں گے ۔ پھر تقویٰ کے چونکہ بہت سے مدارج ہیں اس لئے آیات وَاتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ [ البقرة/ 281] اور اس دن سے ڈرو جب کہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے ۔ واتَّقُوا رَبَّكُمُ [ النساء/ 1] اپنے پروردگار سے ڈرو ۔ اور اس سے ڈرے گا ۔ اور خدا سے جس کا نام کو تم اپنی حاجت برآری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو ۔ اور قطع مودت ارجام سے ۔ اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ [ آل عمران/ 102] خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ میں ہر جگہ تقویٰ کا ایک خاص معنی مراد ہے جس کی تفصیل اس کتاب کے اور بعد بیان ہوگی ۔ اتقٰی فلان بکذا کے معنی کسی چیز کے ذریعہ بچاؤ حاصل کرنے کے ہیں ۔ اور آیت : ۔ أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذابِ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 24] بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہوا ۔ میں اس عذاب شدید پر تنبیہ کی ہے جو قیامت کے دن ان پر نازل ہوگا اور یہ کہ سب سے بڑی چیز جس کے ذریعہ وہ و عذاب سے بچنے کی کوشش کریں گے وہ ان کے چہرے ہی ہوں گے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے دوسری جگہ فرمایا : وَتَغْشى وُجُوهَهُمُ النَّارُ [إبراهيم/ 50] اور ان کے مونہوں کو آگ لپٹ رہی ہوگی ۔ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] اس روز منہ کے بل دوزخ میں گھسٹیے جائیں گے ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش کے ہیں اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو مرۃ ہے جو مرۃ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے : ۔ ضر بۃ وشتمۃ اور نعمۃ کا لفظ اسم جنس ہے جو قلیل وکثیر کیلئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو ۔
اب مومنین یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھیوں کے ٹھکانے کا اللہ تعالیٰ تذکرہ فرماتا ہے کہ کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والے لوگ باغوں اور سامان عیش میں ہوں گے۔
آیت ١٧{ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّنَعِیْمٍ ۔ } ” یقینا متقی لوگ باغات میں اور نعمتوں میں ہوں گے۔ “
11 "The righteous" : the people who believed in the news given by the Prophets and who safeguarded themselves in the world itself and refrained from thoughts and deeds that doom man to Hell.
سورة الطُّوْر حاشیہ نمبر :11 یعنی وہ لوگ جنہوں نے انبیاء کی دی ہوئی خبر پر ایمان لا کر دنیا ہی میں اپنا بچاؤ کر لیا اور ان افکار و اعمال سے پرہیز کیا جن سے انسان جہنم کا مستحق بنتا ہے ۔
١٧۔ ٢٠۔ اوپر کی آیتوں میں اہل دوزخ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا اہل جنت کے لئے یہ بھی ایک بڑی نعمت ہے کہ ان کی توحید کے طفیل سے اللہ تعالیٰ ان کے کم تر درجہ کے گناہ معاف فرما کر ان کو جنتی بنا دے گا۔ چناچہ صحیح بخاری ١ ؎ و مسلم کی عبد اللہ بن عمر کی حدیث گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بعض بندوں سے فرمائے گا کہ جس طرح تمہارے گناہوں کو دنیا میں میں نے لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیا آج بھی میں تمہارے ان گناہوں کو معاف کرتا ہوں اس لئے جنت کی نعمتوں میں اللہ تعالیٰ نے دوزخ سے بچانے کی نعمت کا ذکر فرمایا۔ سرر مصفوفہ کے معنی حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) نے چھپر کھٹ کے کئے ہیں صحیح مسلم ٢ ؎ اور ترمذی میں ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت صلی علیہ اللہ وسلم نے فرمایا جب جنتی لوگ جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ کے حکم سے ایک فرشتہ پکار کر یہ کہے گا اے اہل جنت اب تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہوگئے ہمیشہ زندہ رہوں گے کبھی مرو گے نہیں۔ ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے جنت کی نعمتوں کے باب میں ابوہریرہ (رض) کی صحیحین ٣ ؎ کی روایت اوپر گزر چکی ہے کہ وہ نعمتیں نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں۔ نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے غرض نعمتیں وہ جن کا بیان نہیں ہوسکتا ان کی ہمیشگی وہ جس کی انتہا نہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جب جنت نصیب کرے گا اس وقت ان نعمتوں کی تفصیل معلوم ہوگی اب تو زبان اور قلم ان کے بیان سے عاجز ہے۔ (١ ؎ صحیح بخاری باب ستر المومن علی نفسہ ص ٨٩٦ ج ٢۔ ) (٢ ؎ صحیح مسلم باب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا ص ٣٨٠ ج ٢۔ ) (٣ ؎ صحیح مسلم باب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا ص ٣٧٨ ج ٢۔ )
(52:17) فی جنت و نعیم ۔ دونوں میں تنوین تعظیم کے لئے ہے ای جنت عظیمۃ و نعیم عظیم یعنی عظیم الشان جنتیں اور عالی قدر راحتیں۔
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 28 فکھین دل بہانے والاے ھنیء ہنسی خوشی مصفولہ برابر بچھائے گئے۔ حور (حورائ) خوبصورت (آنکھوں والیاں) عین (عینائ) بڑی بڑی آنکھیں ما التنا ہم نے کمی نہیں کی۔ رھین پھنس جانا۔ یتنازعون وہ جھگڑیں گے۔ چھینا جھپٹی کریں گے۔ غلمان لڑکے، کم عمر بچے لولو موتی۔ مکنون چھاپے گئے قیمتی اقبل وہ متوجہ ہوا۔ سامنے ہوا۔ السموم گرم گرم ہوا تشریح : آیت نمبر 17 تا 28 کفار و مشرکین کے بدترین انجام کو بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی گذارتے اور محض اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ہر طرح کے گناہوں سے بچنے تھے اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جہاں ہر طرح کی نعمتیں ہوں گی جو ان کو کسی خاص مدت کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ اور برابر ملتی رہیں گی جن سے اہل جنت ایک خاص خوشی اور مسرت محسوس کریں گے کیونکہ انہیں اس جہنم کا کوئی خوف نہ ہوگا جس سے ان کو بچا لیا گیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان حسن عمل کرنے والوں سے فرمائیں گے کہ دنیا میں تم نے جو کچھ کیا ہے یہ اس کا بدلہ ہے اب خوب مزے لے لے کر کھائو پیو کسی طرح کا غم اور فکر نہ کریں۔ حسین و جمیل بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کا نکاح کردیا جائے ایک لفظ یہ بھی ہوگا کہ اہل جنت کے دو گھر والے ، اولاد، اور رشتہ دار جنہوں نے ایمان اور عمل صالح کی زندگی گذاری ہوگی اور وہ اپنے معمولی عمل کے اعتبار سے اعلیٰ درجے کے مستحق نہ ہوں گے ان کو بھی اعلیٰ درجے کے والدین یا اعلیٰ درجہ کی اولاد کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ حضرت ابن عباس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رویات کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ صالح مومنین کی اولاد کو بھی ان کے بزرگ والدین کے درجہ میں پہنچا دیں گے۔ اگرچہ وہ عمل کے اعتبار سے اس درجے کے مستحق نہ ہوں گے تاکہ ان کے والدین اور بزرگوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ (بیہقی) اسی طرح حضرت ابوہریرہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض نیک بندوں کا درجہ جنت میں ان کے عمل کی مناسبت سے بہت اونچا فرما دیں گے اس پر یہ اللہ تعالیٰ سے پوچھیں گے کہ الٰہی ہمیں یہ درجہ اور مقام کہاں سے مل گیا (یعنی ہم تو اس درجے کے قابل نہ تھے) جواب دیا جائے گا کہ تمہاری اولاد نے تمہارے مغفرت کی دعائیں کی تھیں یہ اسی کا اثر ہے۔ (صحیح مسلم شریف) فرمایا کہ ہر انسان اپنے عمل میں محبوس ہوگا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوگا کہ گناہ کوئی کرے اور اس کا الزام دوسرے پر ڈال دیا جائے گا بلکہ آدم جیسا عمل کرے گا اس کو اس سے بہتر بدلہ دیا جائے گا۔ البتہ اللہ کا یہ کرم ہے کہ اگر کوئی گناہ کرے گا تو اس کا بدلہ اس جیسا ہی دیا جائے گا جو اس نے کیا ہوگا۔ فرمایا کہ اہل جنت کو ہر وہ چیز دی جائے گی جس کی وہ خواہش کریں گے جنت میں اہل جنت کو ایسی شراب عطا کی جائے گی جس میں نہ تو کوئی گناہ کی بات ہوگی نہ فضول بکواس ہوگی وہ بےتکلف شراب کے جام لنڈھائیں گیا ور ہنسی مذاق اور دل لگی کے لئے جام پر چھیناجھپٹی کر رہے ہوں گے۔ ان کے خدمت کے لئے غلمان (لڑکے) جو خوبصورت اور محفوظ موتیوں کی طرح ہوں گے ان کے چاروں طرف پھرتے ہوں گے۔ وہ اہل جنت ایک دوسرے سے خوب باتیں کریں گے اور یہ بھی کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں اپنے انجام کے متعلق سوچ سوچ کر ڈرتے رہتے تھے لیکن اللہ کا ہم پر کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں جہنم کی آگ سے بچا کر جنت کی ابدی راحتیں عطا فرما دی ہیں اور دنیا میں رہ کر جن چیزوں کی تمنا کرسکتے تھے وہ سب کچھ ہمیں عطا کردی گئی ہیں۔ واقعی اللہ اپنے بندوں پر احسان کرنے والا مہربان ہے۔
فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کا انجام بتلانے کے بعد جنتی کے انعامات کا تذکرہ۔ ایک طرف جہنمی اپنے کیے کی سزا پائیں گے اور دوسری طرف جنتی جنت میں انعامات سے سرفراز ہوتے رہیں گے۔ وہ اپنے رب کی عطاؤں پر خوش ہوں گے اور ان کا رب ان کو جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمائے گا۔ جہنمی کو حکم ہوگا کہ اپنے کیے کی سزا پاؤ اور جنتی کو حکم ہوگا کہ اپنے نیک اعمال کے بدلے میں کھاؤ پیو اور مزے اڑاؤ۔ جنتی جنت کے نفیس اور شاندار صوفوں پر تکیہ لگا کر تشریف فرما ہوں گے۔ یہاں پہلے ذکر فرمایا ہے کہ جنتی کو ان کا رب جو کچھ عطا فرمائے گا وہ اس پر خو ش ہوں گے اور ان کا رب ان کو جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمائے گا۔ جنتی کو جہنم سے بچانے کا الگ ذکر فرما کر یہ حقیقت واضح کی ہے کہ جہنم سے بچ کر جنت میں داخل ہونا بہت بڑی کامیابی ہے۔ ” ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم پورے پورے اجر دیے جاؤ گے۔ پھر جو شخص آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا یقیناً وہ کامیاب ہوگیا۔ دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔ “ (آل عمران : ١٨٥) (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَنْ یُّنْجِیَ اَحَدًا مِّنْکُمْ عَمَلُہُ قَالُوْا وَلَا اَنْتَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ وَلَا اَنَا اِلَّا اَن یَّتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ مِنْہُ بِرَحْمَتِہٖ فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَاغْدُوْا وَرُوْحُوْا وَشَیْءٌ مِّنَ الدُّلْجَۃِ وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوْا) (رواہ البخاری : باب تمنی المریض الموت) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو بھی اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا۔ صحابہ پوچھتے ہیں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ کو بھی ؟ فرمایا ! مجھے بھی میرا عمل نہیں بچا سکے گا یہاں تک اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت کے دامن میں ڈھانپ لے۔ تم صحیح راستے پر چلو، اللہ تعالیٰ کی قربت اختیار کرو، صبح وشام اور رات کے کچھ حصہ میں نیک عمل کرو لیکن میانہ روی اختیار کرو اپنے مقصد کو پا جاؤ گے۔ “ ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پہلا گروہ جنت میں چودھویں رات کے چاند کی صورت میں داخل ہوگا ان کے بعد کے لوگ آسمان میں چمکدار اور حسین ستارے کی مانند ہوں گے ان کے دل ایک ہی آدمی کے دل کی طرح ہوں گے ان کے درمیان نہ کوئی بغض ہوگا اور نہ ہی حسد۔ جنتی کے لیے حور العین میں سے دو بیویاں ہوں گی جن کی ہڈیوں کا گودا، گوشت اور ہڈیوں کے درمیان سے نظر آئے گا۔ “ (رواہ البخاری : باب ماجاء في صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ) مسائل ١۔ کفر و شرک اور گناہوں سے بچنے والوں کو اللہ تعالیٰ نعمتوں والی جنت میں داخل فرمائے گا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ جنتی کو جو کچھ عطا کرے گا وہ اس پر خوش ہوں گے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ جنتی کو جہنم کے عذاب سے مامون فرمائے گا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ جنتی کو حکم دے گا کہ اپنے نیک اعمال کے بدلے کھاؤ پیو اور مزے اڑاؤ۔ ٥۔ جنتی جنت کے نفیس اور شاندار صوفوں پر تشریف فرما ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن جنتی کے انعامات کی ایک جھلک : ١۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی انہیں تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : ٤٧۔ ٤٨) ٢۔ جنت کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : ٣٥) ٣۔ جنت میں بےخار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعہ : ٢٨ تا ٣٥) ٤۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقہ : ٢٣) ٥۔ جنتی کو ملائکہ سلام کریں گے۔ ( الزمر : ٧٣) ٦۔ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کرے گا۔ (حٰم السجدۃ : ٣١)
یہ منظر نعمتوں کے قریب ہے جو روز اول سے ان لوگوں کے شعور میں رچی بسی تھیں جن سے مخاطب ہے۔ لہٰذا یہ لوگوں کے لئے ان کے پاکیزہ اور حسی الذائد کے اعتبار سے بہت ہی پرکشش ہے اور یہ مناظر اس سخت اور ہولناک عذاب کے عین مقابل ہیں اور متضاد ہیں جو اوپر خشک اور طفلانہ دلوں کے بارے میں پیش کئے گئے تھے۔ ان المتقین ........ الجحیم (٢٥ : ٨١) ” متقی لوگ وہاں باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ لطف لے رہے ہوں گے ان چیزوں سے جو ان کا رب انہیں دے گا اور ان کا رب انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا۔ “ اس جہنم سے بچا لینا ہی بہت بڑی کامیابی ہے جس کے مناظر ابھی ابھی پیش کئے گئے اور یہاں تو اس بچاؤ کے ساتھ نعمتیں بھی ہیں۔ جنات نعیم بھی ساتھ ہیں یہاں وہ اللہ کی نعمتوں سے لذت حاصل کریں گے۔
متقی بندوں کی نعمتوں کا تذکرہ، حورِعین سے نکاح آپس میں سوال وجواب تکذیب کرنے والوں کی سزا کا تذکرہ فرمانے کے بعد متقیوں کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا اول تو یہ فرمایا کہ تقویٰ والے بندے باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے ان میں ان کا رہنا فرحت اور لذت کے ساتھ ہوگا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نعمتیں انہیں عطا ہوں گی ان میں مشغول رہیں گے اور محظوظ ہوتے رہیں گے، ان پر جو نعمتوں کا انعام ہوگا دائمی ہوگا اور ہمیشہ کے لیے انہیں دوزخ سے محفوظ کردیا جائے گا، ان سے کہہ دیا جائے گا کہ تم دنیا میں جو نیک عمل کرتے تھے ان کے بدلے خوب کھاؤ پیو، یہ کھانا پینا تمہارے لیے مبارک ہے اس سے کوئی تکلیف نہ ہوگی اور کھانے پینے سے دنیا میں جو شکایتیں پیدا ہوجاتی تھیں ان میں سے کوئی بات بھی پیش نہیں لائے گی کھانا بھی مبارک، پینا بھی مبارک ہر طرح سے خیر ہی خیر ہوگی۔ متقی حضرات کی نعمتیں بتاتے ہوئے مزید فرمایا کہ یہ لوگ ایسے تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے جو برابر قطار میں بچھے ہوئے ہوں گے، سورة الدخان میں اور سورة الواقعہ میں بھی فرمایا ہے، معلوم ہوا کہ یہ تخت قطار سے بھی لگے ہوئے ہوں گے اور آمنے سامنے بھی ہوں گے۔ اس کے بعد زوجیت کی نعمت کا تذکرہ فرمایا، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا پھر ان کے جوڑے کے لیے حضرت حواء کو پیدا فرمایا پھر ان دونوں سے نسل چلی اور دنیا میں زن و شوہر کا نظام چلتا رہا چونکہ فطری طور پر انسانوں میں اس بات کی اشتہاء رہتی ہے کہ انس و الفت کے لیے بیویاں بھی ساتھ ہوں اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہاں بھی اہل جنت کے جوڑے بنا دیئے جائیں گے دنیا والی عورتیں بھی ان کے پاس ہوں گی اور نئی مخلوق میں سے حورعین بھی ان کی زوجیت میں دیدی جائے گی، لفظ، حورحورا کی جمع ہے جس کا ترجمہ گورے رنگ والی عورت کیا گیا ہے اور عین عیناء کی جمع ہے جس کا معنیٰ ہے بڑی آنکھوں والی عورت۔
8:۔ ” ان المتقین “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ شرک و تکذیب سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچنے والے قیامت کے دن جنت کے باغوں میں اور انواع و اقسام نعمت میں مصروف عیش ہوں گے۔ ” فاکھین “ اللہ کی دی ہوئی عزت و کرام اور انعامات میں بےپایاں میں خوش و خرم ہوں گے اور جہنم کے عذاب سے بھی محفوظ ہوں گے۔ ” کلوا واشربوا “ اس سے پہلے ” یقال لہم “ مقدر ہے۔ ان سے کہا جائیگا کہ جنت کے ماکولات و مشروبات میں سے جو چاہو کھاؤ اور پیوا یہاں کی ہر چیز خوشگوار اور صحت افزا ہے۔ یہ تمہارے اعمال صالحہ کا انعام ہے۔ ” متکئین “ یہ ” کلوا “ کی ضمیر سے حال ہے۔ حال من الضمیر فی کلوا واشربوا (مدارک ج 4 ص 45) ۔ قطار در قطار تختوں پر عزت و اکرام اور راحت و آرام سے تکیہ لگائے۔ حور، حوراء کی جمع ہے یعنی ایسی آنکھوں والی جس کی سیاہ جگہ کی سیاہی اور سفید جگہ کی سفیدی بہت زیادہ ہو۔ عین، عیناء کی جمع ہے یعنی موٹی آنکھوں والی۔ یعنی جنت میں ہم ایسی حسین و جمیل حوروں کو ان کی بیویاں بنا دیں گے۔ حاصل یہ کہ جنت میں ان کو ہر قسم کی لذت و عیش حاصل ہوگی۔