Surat ut Toor

Surah: 52

Verse: 22

سورة الطور

وَ اَمۡدَدۡنٰہُمۡ بِفَاکِہَۃٍ وَّ لَحۡمٍ مِّمَّا یَشۡتَہُوۡنَ ﴿۲۲﴾

And We will provide them with fruit and meat from whatever they desire.

ہم ان کے لئے میوے اور مرغوب گوشت کی ریل پیل کر دیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And We shall provide them with fruit and meat such as they desire. meaning, `We shall provide them with various types and kinds of fruits and meat, whatever they wish for and desire,'

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

22۔ 1 زِدْنَاہُمْ ، یعنی خوب دیں گے

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧] صرف پھل اور گوشت ہی نہیں بلکہ جنت کی تمام نعمتیں ختم نہ ہونے والی اور لازوال ہوں گی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(وامدد نھم بفاکھۃ…:) اس کی تفصیل کے لئے دیکھیے سوروہ صافات (٤٢) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَمْدَدْنٰہُمْ بِفَاكِہَۃٍ وَّلَحْمٍ مِّمَّا يَشْتَہُوْنَ۝ ٢٢ مد أصل المَدّ : الجرّ ، ومنه : المُدّة للوقت الممتدّ ، ومِدَّةُ الجرحِ ، ومَدَّ النّهرُ ، ومَدَّهُ نهرٌ آخر، ومَدَدْتُ عيني إلى كذا . قال تعالی: وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ الآية [ طه/ 131] . ومَدَدْتُهُ في غيّه، ومَدَدْتُ الإبلَ : سقیتها المَدِيدَ ، وهو بزر ودقیق يخلطان بماء، وأَمْدَدْتُ الجیشَ بِمَدَدٍ ، والإنسانَ بطعامٍ. قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَ [ الفرقان/ 45] . وأكثر ما جاء الإمْدَادُ في المحبوب والمدُّ في المکروه نحو : وَأَمْدَدْناهُمْ بِفاكِهَةٍ وَلَحْمٍ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ الطور/ 22] أَيَحْسَبُونَ أَنَّما نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مالٍ وَبَنِينَ [ المؤمنون/ 55] ، وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوالٍ وَبَنِينَ [ نوح/ 12] ، يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ آلافٍ الآية [ آل عمران/ 125] ، أَتُمِدُّونَنِ بِمالٍ [ النمل/ 36] ، وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ الْعَذابِ مَدًّا[ مریم/ 79] ، وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيانِهِمْ يَعْمَهُونَ [ البقرة/ 15] ، وَإِخْوانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الغَيِ [ الأعراف/ 202] ، وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ [ لقمان/ 27] فمن قولهم : مَدَّهُ نهرٌ آخرُ ، ولیس هو مما ذکرناه من الإمدادِ والمدِّ المحبوبِ والمکروهِ ، وإنما هو من قولهم : مَدَدْتُ الدّواةَ أَمُدُّهَا «1» ، وقوله : وَلَوْ جِئْنا بِمِثْلِهِ مَدَداً [ الكهف/ 109] والمُدُّ من المکاييل معروف . ( م د د ) المد کے اصل معنی ( لمبائی میں ) کهينچنا اور بڑھانے کے ہیں اسی سے عرصہ دراز کو مدۃ کہتے ہیں اور مدۃ الجرح کے معنی زخم کا گندہ مواد کے ہیں ۔ مد النھر در کا چڑھاؤ ۔ مدہ نھر اخر ۔ دوسرا دریا اس کا معاون بن گیا ۔ قرآن میں ہے : أَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَ [ الفرقان/ 45] تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارا رب سائے کو کس طرح دراز کرک پھیلا دیتا ہے ۔ مددت عینی الی کذا کسی کیطرف حریصانہ ۔۔ اور للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا ۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ الآية [ طه/ 131] تم ۔۔ للچائی نظروں سے نہ دیکھنا ۔ مددتہ فی غیہ ۔ گمراہی پر مہلت دینا اور فورا گرفت نہ کرنا ۔ مددت الابل اونٹ کو مدید پلایا ۔ اور مدید اس بیج اور آٹے کو کہتے ہیں جو پانی میں بھگو کر باہم ملا دیا گیا ہو امددت الجیش بمدد کا مددینا ۔ کمک بھیجنا۔ امددت الانسان بطعام کسی کی طعام ( غلہ ) سے مددکرنا قرآن پاک میں عموما امد ( افعال) اچھی چیز کے لئے اور مد ( ثلاثی مجرد ) بری چیز کے لئے ) استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا : وَأَمْدَدْناهُمْ بِفاكِهَةٍ وَلَحْمٍ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ الطور/ 22] اور جس طرح کے میوے اور گوشت کو ان کا جی چاہے گا ہم ان کو عطا کریں گے ۔ أَيَحْسَبُونَ أَنَّما نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مالٍ وَبَنِينَ [ المؤمنون/ 55] کیا یہ لوگ خیا کرتے ہیں ک ہم جو دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں سے مدد دیتے ہیں ۔ وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوالٍ وَبَنِينَ [ نوح/ 12] اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا ۔ يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ آلافٍ الآية [ آل عمران/ 125] تمہارا پروردگار پانچ ہزار فرشتے تمہاری مدد کو بھیجے گا ۔ أَتُمِدُّونَنِ بِمالٍ [ النمل/ 36] کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو ۔ وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ الْعَذابِ مَدًّا[ مریم/ 79] اور اس کے لئے آراستہ عذاب بڑھاتے جاتے ہیں ۔ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيانِهِمْ يَعْمَهُونَ [ البقرة/ 15] اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت اور سرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں ۔ وَإِخْوانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الغَيِ [ الأعراف/ 202] اور ان ( کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں لیکن آیت کریمہ : وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ [ لقمان/ 27] اور سمندر ( کا تمام پانی ) روشنائی ہو اور مہار ت سمندر اور ( روشنائی ہوجائیں ) میں یمددہ کا صیغہ مدہ نھرا اخر کے محاورہ سے ماخوذ ہے اور یہ امداد یا مد سے نہیں ہے جو کسی محبوب یا مکروہ وہ چیز کے متعلق استعمال ہوتے ہیں بلکہ یہ مددت الداواۃ امد ھا کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی دوات میں روشنائی ڈالنا کے ہیں اسی طرح آیت کریمہ : وَلَوْ جِئْنا بِمِثْلِهِ مَدَداً [ الكهف/ 109] اگرچہ ہم دیسا اور سمندر اس کی مددکو لائیں ۔ میں مداد یعنی روشنائی کے معنی مراد ہیں ۔ المد۔ غلہ ناپنے کا ایک مشہور پیمانہ ۔ ۔ فكه الفَاكِهَةُ قيل : هي الثّمار کلها، وقیل : بل هي الثّمار ما عدا العنب والرّمّان . وقائل هذا كأنه نظر إلى اختصاصهما بالذّكر، وعطفهما علی الفاکهة . قال تعالی: وَفاكِهَةٍ مِمَّا يَتَخَيَّرُونَ [ الواقعة/ 20] ، وَفاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ [ الواقعة/ 32] ، وَفاكِهَةً وَأَبًّا [ عبس/ 31] ، فَواكِهُ وَهُمْ مُكْرَمُونَ [ الصافات/ 42] ، وَفَواكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ المرسلات/ 42] ، والفُكَاهَةُ : حدیث ذوي الأنس، وقوله : فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ«1» قيل : تتعاطون الفُكَاهَةَ ، وقیل : تتناولون الْفَاكِهَةَ. وکذلک قوله : فاكِهِينَ بِما آتاهُمْ رَبُّهُمْ [ الطور/ 18] . ( ف ک ہ ) الفاکھۃ ۔ بعض نے کہا ہے کہ فاکھۃ کا لفظ ہر قسم کے میوہ جات پر بولا جاتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ انگور اور انار کے علاوہ باقی میوہ جات کو فاکھۃ کہاجاتا ہے ۔ اور انہوں نے ان دونوں کو اس لئے مستثنی ٰ کیا ہے کہ ( قرآن پاک میں ) ان دونوں کی فاکہیہ پر عطف کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فاکہہ کے غیر ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے وَفاكِهَةٍ مِمَّا يَتَخَيَّرُونَ [ الواقعة/ 20] اور میوے جس طرح کے ان کو پسند ہوں ۔ وَفاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ [ الواقعة/اور میوہ ہائے کثیر ( کے باغوں ) میں ۔ وَفاكِهَةً وَأَبًّا [ عبس/ 31] اور میوے اور چارہ ۔ فَواكِهُ وَهُمْ مُكْرَمُونَ [ الصافات/ 42] ( یعنی میوے اور ان اعزاز کیا جائیگا ۔ وَفَواكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ المرسلات/ 42] اور میووں میں جوان کو مرغوب ہوں ۔ الفکاھۃ خوش طبعی کی باتیں خوش گئی ۔ اور آیت کریمہ : فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ«1»اور تم باتیں بناتے رہ جاؤ گے ۔ میں بعض نے تفکھونکے معنی خوش طبعی کی باتیں بنانا لکھے ہیں اور بعض نے فروٹ تناول کرنا ۔ اسی طرح آیت کریمہ : فاكِهِينَ بِما آتاهُمْ رَبُّهُمْ [ الطور/ 18] جو کچھ ان کے پروردگار نے ان کو بخشا اس کی وجہ سے خوش حال ۔۔۔ میں فاکھین کی تفسیر میں بھی دونوں قول منقول ہیں ۔ لحم اللَّحْمُ جمعه : لِحَامٌ ، ولُحُومٌ ، ولُحْمَانٌ. قال : وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ [ البقرة/ 173] . ولَحُمَ الرّجل : كثر عليه اللّحم فضخم، فهو لَحِيمٌ ، ولَاحِمٌ وشاحم : صار ذا لَحْمٍ وشحم . نحو : لابن وتامر، ولَحِمَ : ضري باللّحم، ومنه : باز لَحِمٌ ، وذئب لحم . أي : كثيرُ أَكْلِ اللّحم . وبیت لَحْمٍ : أي : فيه لحم، وفي الحدیث : «إنّ اللہ يبغض قوما لَحِمِينَ» «1» . وأَلْحَمَهُ : أطعمه اللّحم، وبه شبّه المرزوق من الصّيد، فقیل : مُلْحِمٌ ، وقد يوصف المرزوق من غيره به، وبه شبّه ثوب مُلْحَمٌ: إذا تداخل سداه «2» ، ويسمّى ذلک الغزل لُحْمَةٌ تشبيها بلحمة البازي، ومنه قيل : «الولاء لُحْمَةٌ کلحمة النّسب» «3» . وشجّة مُتَلَاحِمَةٌ: اکتست اللّحم، ولَحَمْتُ اللّحم عن العظم : قشرته، ولَحَمْتُ الشیءَ ، وأَلْحَمْتُهُ ، ولَاحَمْتُ بين الشّيئين : لأمتهما تشبيها بالجسم إذا صار بين عظامه لحمٌ يلحم به، واللِّحَامُ : ما يلحم به الإناء، وأَلْحَمْتُ فلانا : قتلته وجعلته لحما للسّباع، وأَلْحَمْتُ الطائر : أطعمته اللّحم، وأَلْحَمْتُكَ فلانا : أمکنتک من شتمه وثلبه، وذلک کتسمية الاغتیاب والوقیعة بأكل اللَّحْمِ. نحو قوله تعالی: أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتاً [ الحجرات/ 12] ، وفلان لَحِيمٌ فعیل كأنّه جعل لحما للسّباع، والمَلْحَمَةُ : المعرکة، والجمع المَلَاحِمُ. ( ل ح م ) اللحم ( گوشت ) کی جمع لحام ، لحوم ، اور لحمان آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ [ البقرة/ 173] اور سور کا گوشت لحم الرجل فھولحیم کے معنی ہیں وہ پر گوشت اور موٹا ہوگیا ۔ اور ہوئے چربی چڑھے ہوئے آدمی کو لاحم شاحم کہاجاتا ہے جیسے : لابن وتامر ۔ لحم ( س) کے معنی گوشت کھانے کا حریص ہونا کے ہیں اسی سے بہت زیادہ گوشت خور باز یا بھیڑیئے کو لحم کہاجاتا ہے ۔ بیت لحم ۔ وہ گھر جہاں لوگوں کی اکثر غیبتیں کی جائیں ۔ حدیث میں ہے ۔ (107) ان اللہ یبغض قوما لحمین کہ اللہ تعالیٰ بہت گوشت خور لوگوں کو ناپسند کرتا ہے ۔ یعنی جو ہر وقت لوگوں کی غیبت کرتے رہتے ہیں ۔ الحمہ کے معنی کسی کو گوشت کھلانے کے ہیں ۔ اور اسی سے تشبیہ کے طور پر اس آدمی کو جس کی گزراں شکار پر ہو رجل ملحم کہاجاتا ہے ۔ پھر مطلقا تشبیہا ہر کھاتے پییتے آدمی کو ملحم کہہ دیتے ہیں اور اسی سے ثوب ملحم لگا محاورہ ہے جس کے معنی بنے ہوئے کپڑا کے ہیں کپڑے کے بانا کو لحمہ کہاجاتا ہے جو کہ لحمہ البازی سے مشتق ہے ۔ اسی سے کہاجاتا ہے ؛ (108) الولآء لحمۃ کلحمۃ النسب کہ والا کا رشتہ بھی نسب کے رشتہ کیطرح ہے شجۃ متلاحمۃ رخم جس پر گوشت چڑھ گیا ہو ۔ لحمت اللحم عن العظم میں نے ہڈی سے گوشت کو الگ کردیا ۔ لحمت الشیئین میں نے ایک چیز کو دوسری کے ساتھ اس طرح گھتی کردیا ۔ جیسے ہڈی گے ساتھ گوشت پیوست ہوتا ہے ۔ اللحام ۔ وہ چیز جس سے برتن کو ٹا نکا لگا جائے ۔ الحمت فلانا کسی کو قتل کرکے اس کا گوشت درندوں کو کھلا دیا ۔ الحمت الطائر ۔ میں نے پرند کا گوشت کھلایا ۔ الحمتک فلانا ۔ میں نے فلاں کی غیبت کا موقع دیا ۔ اور یہ ایسے ہی ہے جیسے غیبت وبدگوئی کو اکل اللحم یعنی گوشت کھانے سے تعبیر کرلیتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتاً [ الحجرات/ 12] کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ۔ فلان لحیم فلاں کو قتل کردیا گیا ۔ گویا اسے درندوں کی خوراک بنادیا گیا ۔ الملحمۃ معرکن ملاحم ۔ شها أصل الشَّهْوَةِ : نزوع النّفس إلى ما تریده، وذلک في الدّنيا ضربان : صادقة، وکاذبة، فالصّادقة : ما يختلّ البدن من دونه كشهوة الطّعام عند الجوع، والکاذبة : ما لا يختلّ من دونه، وقد يسمّى الْمُشْتَهَى شهوة، وقد يقال للقوّة التي تَشْتَهِي الشیء : شهوة، وقوله تعالی: زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَواتِ [ آل عمران/ 14] ، يحتمل الشّهوتین، وقوله : اتَّبَعُوا الشَّهَواتِ [ مریم/ 59] ، فهذا من الشّهوات الکاذبة، ومن الْمُشْتَهِيَاتِ المستغنی عنها، وقوله في صفة الجنّة : وَلَكُمْ فِيها ما تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ [ فصلت/ 31] ، وقوله : فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ [ الأنبیاء/ 102] ، وقیل : رجل شَهْوَانٌ ، وشَهَوَانِيٌّ ، وشیء شَهِيٌّ. ( ش ھ و ) الشھوہ کے معنی ہیں نفس کا اس چیز کی طرف کھینچ جاتا جسے وہ چاہتا ہے و خواہشات دنیوی دوقسم پر ہیں صادقہ اور کاذبہ سچی خواہش وہ ہے جس کے حصول کے بغیر بدن کا نظام مختل ہوجاتا ہے جیسے بھوک کے وقت کھانے کی اشتہا اور جھوٹی خواہش وہ ہے جس کے عدم حصول سے بدن میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی ۔ پھر شھوۃ کا لفظ کبھی اس چیز پر بولاجاتا ہے ۔ جس کی طرف طبیعت کا میلان ہو اور کبھی خود اس قوت شہویہ پر اور آیت کریمہ ؛زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَواتِ [ آل عمران/ 14] لوگوں کو ان کی خواہشوں کی چیزیں ( بڑی ) زینت دار معلوم وہوتی ہیں۔ میں شہو ات سے دونوں قسم کی خواہشات مراد ہیں ۔ اور آیت کریمہ : اتَّبَعُوا الشَّهَواتِ [ مریم/ 59] اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے ۔ میں جھوٹی خواہشات مراد ہیں یعنی ان چیزوں کی خواہش جن سے استغناء ہوسکتا ہو ۔ اور جنت کے متعلق فرمایا : وَلَكُمْ فِيها ما تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ [ فصلت/ 31] اور وہاں جس ( نعمت کو تمہارا جی چاہے گا تم کو ملے گا ۔ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ [ الأنبیاء/ 102] اور جو کچھ ان جی چاہے گا اس میں ۔۔۔ رجل شھوان وشھوانی خواہش کا بندہ شمئ لذیز چیز ۔ مرغوب شے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ہم اہل جنت کو جنت میں مختلف اقسام کے میوے اور پرندوں کا گوشت جس قسم کا ان کو پسند ہوگا دیتے رہیں گے اور وہ جنت میں جام شراب میں چھینا جھپٹی بھی کریں گے اور اس کے پینے سے نہ پیٹ پر کوئی بوجھ ہوگا اور نہ اس پر کوئی گناہ ہوگا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٢{ وَاَمْدَدْنٰـہُمْ بِفَاکِہَۃٍ وَّلَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَہُوْنَ ۔ } ” اور ہم انہیں دیے چلے جائیں گے پھل اور گوشت جس سے وہ چاہیں گے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

17 In this verse, there is the mention of providing the dwellers of Paradise with every kind of meat generally, and in Surah AI-Waqi'ah it has been said: "They will be served with the flesh of fowls." We do not know what exactly will be the nature of this flesh. But just as in some expressions of the Qur'an and in some Ahadith it has been said about the milk of Paradise that it will not have been drawn from the udders of animals, and about the honey of Paradise it has been said that it will not have been produced by the bees, and about the wine of Paradise it has been said that it will not have been distilled froth rotten fruit, but these things will flow out of the springs into the canals by the power of AIlah, so it can be argued by analogy that this flesh too will not be obtained from slaughtered animals but this too will be a natural product. The God Who can produce milk and honey and wine directly from earthly substances can also produce tasty flesh of every kind from the same substances, which should even surpass the flesh of animals in taste and delight. (For further explanation, see E.N. 25 of Surah AsSaaffat, E.N.'s 21 to 23 of Surah Muhammad).

سورة الطُّوْر حاشیہ نمبر :17 اس آیت میں اہل جنت کو مطلقاً ہر قسم کا گوشت دیے جانے کا ذکر ہے ، اور سورہ واقعہ آیت 21 میں فرمایا گیا ہے کہ پرندوں کے گوشت سے ان کی تواضع کی جائے گی ۔ اس گوشت کی نوعیت ہمیں ٹھیک ٹھیک معلوم نہیں ہے ۔ مگر جس طرح قرآن کی بعض تصریحات اور بعض احادیث میں جنت کے دودھ کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ جانوروں کے تھنوں سے نکلا ہوا نہ ہوگا ، اور جنت کے شہد کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ مکھیوں کا بنایا ہوا نہ ہوگا ، اور جنت کی شراب کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ پھلوں کو سڑا کر کشید کی ہوئی نہ ہوگی ، بلکہ اللہ کی قدرت سے یہ چیزیں چشموں سے نکلیں گی اور نہروں میں بہیں گی ، اس سے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ جنت کا گوشت بھی جانوروں کا ذبیحہ نہ ہوگا بلکہ یہ بھی قدرتی طور پر پیدا ہوگا ۔ جو خدا زمین کے مادوں سے براہ راست دودھ اور شہد اور شراب پیدا کر سکتا ہے اس کی قدرت سے یہ بعید نہیں ہے کہ ان ہی مادوں سے ہر طرح کا لذیذ ترین گوشت پیدا کر دے جو جانوروں کے گوشت سے بھی اپنی لذت میں بڑھ کر ہو ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد چہارم ، تفسیر سورہ صافات ، حاشیہ 25 ۔ جلد پنجم ، تفسیر سورہ محمد حواشی 21 تا 23 ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(52:22) وامددنھم۔ امددنا ماضی بمعنی مستقبل ۔ صیغہ نمع متکلم۔ امداد افعال مصدر۔ امدا کرنا۔ بوقت ضرورت یا حسب خواہش دینا۔ وقتاً فوقتاً دینا۔ امددنھم ای زونھم فی وقت بعد وقت (اللمدارک) ہم ای الاباء والابناء من سکان الجنۃ۔ یعنی جنت میں بسنے والے آباء و اجداد اور ان کی اولاد۔ (السیر التفاسیر) جن کو فضل الٰہی سے جنت میں باہم ملا دیا جائے گا۔ مما۔ مرکب ہے من حرف جار اور ما موصولہ ہے۔ یشتھون مضارع جمع مذکر غائب۔ اشتھاء (افتعال) مصدر (جس کی) وہ خواہش کریں گے۔ (جسے) وہ چاہیں گے۔ ترجمہ :۔ اور ہم وقتاً فوقتاً انہیں میوے اور گوشت جسے وہ پسند کریں گے با فراط دیتے رہیں گے ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ جس طرح کم درجے رکھنے والی اولاد پر کرم فرما کر انہیں ان کے ماں باپ کے ساتھ ملانے کے لیے اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا اسی طرح اللہ تعالیٰ جنتی کے اعمال سے زیادہ انہیں اپنی نعمتوں سے سرفراز فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ جنتی کو خوش رکھنے کے لیے وہ کچھ عطا فرمائے گا جو وہ چاہیں گے۔ جنت میں نعمتیں بیشمار ہوں گی لیکن پھل اور گوشت کا اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ پھل اور گوشت ہر انسان کی مرغوب اور پسندیدہ خوراک ہوتی ہے۔ دوسرے مقام پر پھلوں کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا ہے : ” ایمان لانے اور صالح اعمال کرنے والوں کو خوش خبری دیجیے کہ ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں۔ جب وہ پھلوں سے رزق دیے جائیں گے تو وہ کہیں گے یہ وہی ہیں جو ہم اس سے پہلے دیے گئے تھے، انہیں اس سے ملتے جلتے پھل دیے جائیں گے اور ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور وہ ان باغات میں ہمیشہ رہیں گے۔ “ (البقرۃ : ٢٥) (وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَہُوْنَ ) (الواقعۃ : ٢١) ” اور پرندوں کا گوشت ہوگا جس کا وہ چاہیں گے۔ “ پھل اور گوشت کھانے کے بعد جنتی کو شراب سے بھرے ساغر پیش کیے جائیں گے جس میں کسی قسم کا نشہ اور فتور نہیں ہوگا اور نہ ہی جنتی کسی قسم کی بےہودہ گوئی اور بری حرکت کریں گے۔ البتہ پکنک (Picnic) کے موڈ اور بےتکلفی کے عالم میں ایک دوسرے سے شراب کے جام جھپٹ رہیں ہوں گے۔ گویا کہ ماں باپ، اولاد اور جنتی کا آپس میں بےحد پیار ہوگا۔ ان کی خدمت میں جام اور کھانے پیش کرنے کے لیے غلمان ہوں گے۔ دنیا میں دفتروں اور گھروں میں خدمت کرنے والے ملازم اپنی غربت اور کام کی وجہ سے صاف ستھرے نہیں ہوتے، نہ ہی ان کی اکثریت شکل و صورت میں بہتر ہوتی ہے اور نہ ہی گفتگو کرنے میں خوش گفتار ہوتے ہیں۔ جنت کے غلمان جو بارہ تیرہ سال کے بچے ہوں گے اتنے خوش لباس، خوش اخلاق اور خوبصورت ہوں گے گویا کہ ایسے موتی ہیں جو صدف سے ابھی ابھی نکالے گئے ہیں۔ بالفاظ دیگر شہزادے بادشاہوں کے خدمت گار ہوں گے۔ غلمان جنت کی انتہائی خوبصورت مخلوق ہوگی جن میں کفار کے مرنے والے معصوم بچے بھی شامل ہوں گے۔ جنہیں اللہ تعالیٰ غلمان کی شکل و صورت میں پیدا کرے گا۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ سُءِلَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَنْ أَوْلاَدِ الْمُشْرِکِینَ فَقَال اللَّہُ إِذْ خَلَقَہُمْ أَعْلَمُ بِمَا کَانُوا عامِلِینَ.) (رواہ البخاری : باب مَا قیلَ فِی أَوْلاَدِ الْمُشْرِکِینَ ) ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا ہے اس لیے وہ خوب جانتا ہے کہ انہوں نے کیا اعمال کرنے تھے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ جنتی کو ان کے مَن پسند کے پھل اور گوشت عطا فرمائے گا۔ ٢۔ جنتی کو نشے سے پاک شراب پیش کی جائے گی۔ ٣۔ جنتی تفریح کے ماحول میں ایک دوسرے سے جھپٹا جھپٹی کریں گے۔ ٤۔ جنتی کی خدمت میں انتہائی خوبصورت اور معصوم غلمان پیش کیے جائیں گے۔ تفسیر بالقرآن جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک : ١۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : ٤٧۔ ٤٨) ٢۔ جس کا مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس جنت کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : ٣٥) ٣۔ جنت میں بےخار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا اور گھناسایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعہ : ٢٨ تا ٣٠) ٤۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقہ : ٢٣) ٥۔ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کرے گا۔ (حٰم السجدۃ : ٣١) ٦۔ مومنوں کے ساتھ جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس میں صاف پانی، شہد، شراب اور دودھ کی نہریں ہونگی۔ (محمد : ١٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد اہل ایمان کے ایک اور انعام کا تذکرہ فرمایا، ارشاد ہے : ﴿وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَ ٠٠٢٢﴾ (اور ہم ان کو میوے اور گوشت جس قسم کا ان کو مرغوب ہوگا بڑھا کردیتے رہیں گے) اس میں اہل جنت کو فاکہۃ یعنی میوے پیش کیے جانے کا تذکرہ فرمایا ہے سورة الزخرف میں فرمایا ﴿ لَكُمْ فِيْهَا فَاكِهَةٌ كَثِيْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ ٠٠٧٣﴾ (تمہارے لیے اس میں بہت سے میوے ہیں جن میں تم کھا رہے ہو) اور سورة مرسلات میں فرمایا ﴿اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّ عُيُوْنٍۙ٠٠٤١ وَّ فَوَاكِهَ مِمَّا يَشْتَهُوْنَؕ٠٠٤٢ ﴾ (پرہیز گار لوگ سایوں میں اور چشموں اور مرغوب میووں میں ہوں گے) اور سورة واقعہ میں فرمایا ﴿وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُوْنَۙ٠٠٢٠ وَ لَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَؕ٠٠٢١﴾ (اور وہ میوے جن کو وہ پسند کریں گے اور پرندوں کا گوشت جو ان کو مرغوب ہوگا) سورة واقعہ میں فرمایا کہ ان کے لیے ایسے میوے ہوں گے جن کو وہ خود اپنے اختیار سے چن چن کر کھائیں گے اور سورة المرسلات میں ﴿ وَّ فَوَاكِهَ مِمَّا يَشْتَهُوْنَ ﴾ فرمایا جس میں یہ بتادیا کہ جن میووں کی خواہش ہوگی ان میں سے کھائیں گے، سورة الطور میں ﴿ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَ ﴾ فرمایا جس میں مطلق لحم (گوشت) مذکورہ ہے اور سورة واقعہ میں ﴿ وَ لَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَؕ٠٠٢١﴾ فرمایا دونوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ پرندوں کے علاوہ بھی دوسری انواع کے گوشت بھی ہوں گے اور جو بھی نعمت وہاں پیش کی جائے گی مرضی کے مطابق پیش کی جائے گی دنیا میں بعض چیزیں خلاف طبیعت اور خواہش کے خلاف کسی مجبوری کی وجہ سے کھانی پڑتی ہیں وہاں ایسا نہ ہوگا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

10:۔ ” وامددناہم “ اہل جنت کے لیے مزید نعمتوں کا ذکر ہے۔ مذکورہ نعمتوں کے علاوہ ہم ان کو ان کی مرضی اور خواہش کے میوہ جات اور مختلف انواع گوشت بھی مہیا کریں گے اور وہاں شراب طہور کے ساغر پہ ساغر چلیں گے۔ وہ شراب ایسی پاکیزہ ہوگی جو نشہ اور بد مزگی سے مبرا ہوگی۔ اور اس کے پینے سے کوئی بےہودگی، کوئی لغو بات اور کوئی گناہ کی چیز ظاہر نہیں ہوگی جیسا کہ دنیا کی شراب بےہودگی اور گناہ کا سرچشمہ ہے۔ ای لا یکون فیھا ما یوثمہم ولا یجری بینہم مافیہ لغو واثم کما یجری بین شربۃ الخمر فی الدنیا (خازن ج 6 ص 251) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(22) اور ہم ان اہل جنت کو جس قسم کے میوے اور گوشت وہ چاہیں گے پے درپے دیتے رہیں گے۔ یعنی یہ نعمتیں کسی خا ص مدت کے لئے نہ ہوں گی بلکہ برابر ملتی رہیں گی۔