Surat un Najam

The Star

Surah: 53

Verses: 62

Ruku: 3

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ سب سے پہلی سورت جس میں سجدہ تھا سورہ والنجم اتری ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے آگے پیچھے جتنے تھے سب نے سجدہ کیا لیکن ایک شخص کو میں نے دیکھا کہ اس نے اپنی مٹھی میں مٹی لے کر اسی پر سجدہ کر لیا پھر میں نے دیکھا کہ وہ اس کے بعد کفر کی حالت میں ہی مارا گیا یہ امیہ بن خلف تھا لیکن اس میں ایک اشکال ہے یہ کہ دوسری روایت میں ہے کہ یہ عتبہ بن ربیعہ تھا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة النَّجْم نام : پہلے ہی لفظ ہی وَالنجم سے ماخوذ ہے ۔ یہ بھی مضمون کے لحاظ سے سورۃ کا عنوان نہیں ہے بلکہ محض علامت کے طور پر اس کا نام قرار دیا گیا ہے ۔ زمانۂ نزول : بخاری ، مسلم ، ابوداؤد اور نسائی میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ اَوَّلُ سَوْرَۃٍ اُنْزِلَتْ فِیھا سجدۃٌ النجم ( پہلی سورۃ جس میں آیت سجدہ نازل ہوئی النجم ہے ) ۔ اس حدیث کے جو اجزاء اسود بن یزید ، ابواسحاق ، اور زُہَیر بن معاویہ کی روایات میں حضرت ابن مسعود سے منقول ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن مجید کی وہ پہلی سورۃ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے ایک مجمع عام میں ( اور ابن مردویہ کی روایت کے مطابق حَرَم میں ) سنایا تھا ۔ مجمع میں کافر اور مومن سب موجود تھے ۔ آخر میں جب آپ نے آیت سجدہ پڑھ کر سجدہ فرمایا تو تمام حاضرین آپ کے ساتھ سجدے میں گر گئے اور مشرکین کے وہ بڑے بڑے سردار تک ، جو مخالفت میں پیش پیش تھے سجدہ کیے بغیر نہ رہ سکے ۔ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کفار میں سے صرف ایک شخص امیہ بن خَلَف کو دیکھا کہ اس نے سجدہ کرنے کے بجائے کچھ مٹی اٹھا کر اپنی پیشانی سے لگا لی اور کہا کہ میرے لیے بس یہی کافی ہے ۔ بعد میں میری آنکھوں نے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں قتل ہوا ۔ اس واقعہ کے دوسرے عینی شاہد حضرت مُطلب بن ابی وَداعَہ ہیں جو اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے ۔ نسائی اور مسند احمد میں ان کا اپنا بیان یہ نقل ہوا ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ نجم پڑھ کر سجدہ فرمایا اور سب حاضرین آپ کے ساتھ سجدے میں گر گئے تو میں نے سجدہ نہ کیا ، اور اسی کی تلافی اب میں اس طرح کرتا ہوں کہ اس سورے کی تلاوت کے وقت سجدہ کبھی نہیں چھوڑتا ۔ ابن سعد کا بیان ہے کہ اس سے پہلے رجب 5 نبوی میں صحابہ کرام کی ایک مختصر سی جماعت حبش کی طرف ہجرت کر چکی تھی ۔ پھر جب اسی سال رمضان میں یہ واقعہ پیش آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے مجمع عام میں سورہ نجم کی تلاوت فرمائی اور کافر و مومن سب آپ کے ساتھ سجدے میں گر گئے ، تو حبش کے مہاجرین تک یہ قصہ اس شکل میں پہنچا کہ کفار مکہ مسلمان ہو گئے ہیں ۔ اس خبر کو سن کر ان میں سے کچھ لوگ شوال 5 نبوی میں مکہ واپس آ گئے ۔ مگر یہاں آ کر معلوم ہوا کہ ظلم کی چکی اسی طرح چل رہی ہے جس طرح پہلے چل رہی تھی ، آخر کار دوسری ہجرت حبشہ واقع ہوئی جس میں پہلی ہجرت سے بھی زیادہ لوگ مکہ چھوڑ کر چلے گئے ۔ اس طرح یہ بات قریب قریب یقینی طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ یہ سورۃ رمضان 5 نبوی میں نازل ہوئی ہے ۔ تاریخی پس منظر : زمانہ نزول کی اس تفصیل سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کیا حالات تھے جن میں یہ سورہ نازل ہوئی ۔ ابتدائے بعثت کے بعد سے پانچ سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف نجی صحبتوں اور مخصوص مجلسوں ہی میں اللہ کا کلام سنا سنا کر لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دیتے رہے تھے ۔ اس پوری مدت میں آپ کو کبھی کسی مجمع عام میں قرآن سنانے کا موقع نہ مل سکا تھا ، کیونکہ کفار کی سخت مزاحمت اس میں مانع تھی ۔ ان کو اس امر کا خوب اندازہ تھا کہ آپ کی شخصیت اور آپ کی تبلیغ میں کس بلا کی کشش ، اور قرآن مجید کی آیات میں کس غضب کی تاثیر ہے ۔ اس لیے وہ کوشش کرتے تھے کہ اس کلام کو نہ خود سنیں نہ کسی کو سننے دیں ، اور آپ کے خلاف طرح طرح کی غلط فہمیاں پھیلا کر محض اپنے جھوٹے پروپیگنڈے کے زور سے آپ کی دعوت کو دبا دیں ۔ اس غرض کے لیے ایک طرف تو وہ جگہ جگہ یہ مشہور کرتے پھر رہے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بہک گئے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے درپے ہیں ۔ دوسری طرف ان کا یہ مستقل طریق کار تھا کہ جہاں بھی آپ قرآن سنانے کی کوشش کریں وہاں شور مچا دیا جائے تاکہ لوگ یہ جان ہی نہ سکیں کہ وہ بات کیا ہے جس کی بنا پر آپ کو گمراہ اور بہکا ہوا آدمی قرار دیا جا رہا ہے ۔ ان حالات میں ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حرم پاک میں جہاں قریش کے لوگوں کا ایک بڑا مجمع موجود تھا ، یکایک تقریر کرنے کھڑے ہو گئے اور اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی زبان مبارک پر یہ خطبہ جاری ہوا جو سورہ نجم کی صورت میں ہمارے سامنے ہے ۔ اس کلام کی شدت تاثیر کا حال یہ تھا کہ جب آپ نے اسے سنانا شروع کیا تو مخالفین کو اس پر شور مچانے کا ہوش ہی نہ رہا ، اور خاتمے پر جب آپ نے سجدہ فرمایا تو وہ بھی سجدے میں گر گئے ۔ بعد میں انہیں سخت پریشانی لاحق ہوئی کہ یہ ہم سے کیا کمزوری سرزد ہو گئی ، اور لوگوں نے بھی انہیں اس پر مطعون کرنا شروع کیا کہ دوسروں کو تو یہ کلام سننے سے منع کرتے تھے ، آج خود اسے نہ صرف کان لگا کر سنا بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ بھی کر گزرے ۔ آخر کار انہوں نے یہ بات بنا کر اپنا پیچھا چھڑایا کہ صاحب ہمارے کانوں نے تو : اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَا لْعُزّٰی ۔ وَمَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ الْاُخْرٰی کے بعد محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی زبان سے یہ الفاظ سنے تھے تلک الغرانقۃ العُلیٰ ، وان شفاعتھن لترجیٰ ( یہ بلند مرتبہ دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت ضرور متوقع ہے ) ، اس لیے ہم نے سمجھا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمارے طریقے پر واپس آ گئے ہیں ۔ حالانکہ کوئی پاگل آدمی ہی یہ سوچ سکتا تھا کہ اس پوری سورۃ کے سیاق و سباق میں ان فقروں کی بھی کوئی جگہ ہو سکتی ہے جو ان کا دعویٰ تھا کہ ان کے کانوں نے سنے ہیں ( تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد سوم ، الحج ، حواشی 96 تا 101 ) ۔ موضوع اور مضمون : تقریر کا موضوع کفار مکہ کو اس رویے کی غلطی پر متنبہ کرنا ہے جو وہ قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں اختیار کیے ہوئے تھے ۔ کلام کا آغاز اس طرح فرمایا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بہکے اور بھٹکے ہوئے آدمی نہیں ہیں ، جیسا کہ تم ان کے متعلق مشہور کرتے پھر رہے ہو ، اور نہ اسلام کی یہ تعلیم اور دعوت انہوں نے خود اپنے دل سے گھڑ لی ہے ، جیسا کہ تم اپنے نزدیک سمجھے بیٹھے ہو ، بلکہ جو کچھ وہ پیش کر رہے ہیں وہ خالص وحی ہے جو ان پر نازل کی جاتی ہے ۔ جن حقیقتوں کو وہ تمہارے سامنے بیان کرتے ہیں وہ ان کے اپنے قیاس و گمان کی آفریدہ نہیں ہیں بلکہ ان کی آنکھوں دیکھی حقیقتیں ہیں ۔ انہوں نے اس فرشتے کو خود دیکھا ہے جس کے ذریعہ سے ان کو یہ علم دیا جاتا ہے ۔ انہیں اپنے رب کی عظیم نشانیوں کا براہ راست مشاہدہ کرایا گیا ہے ۔ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں سوچ کر نہیں دیکھ کر کہہ رہے ہیں ۔ ان سے تمہارا جھگڑنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی اندھا آنکھوں والے سے اس چیز پر جھگڑے جو اسے نظر نہیں آتی اور آنکھوں والے کو نظر آتی ہے ۔ اس کے بعد علی الترتیب تین مضامین ارشاد ہوئے ہیں: اوّلاً سامعین کو سمجھایا گیا ہے کہ جس دین کی تم پیروی کر رہے ہو اس کی بنیاد محض گمان اور من مانے مفروضات پر قائم ہے ۔ تم نے لات اور منات اور عزّیٰ جیسی چند دیویوں کے معبود بنا رکھا ہے ، حالانکہ اُلوہیت میں برائے نام بھی ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ تم نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے رکھا ہے ، حالانکہ خود اپنے لیے تم بیٹی کو عار سمجھتے ہو ۔ تم نے اپنے نزدیک یہ فرض کر لیا ہے کہ تمہارے یہ معبود اللہ تعالیٰ سے تمہارے کام بنوا سکتے ہیں ، حالانکہ تمام ملائکہ ، مقربین مل کر بھی اللہ سے اپنی کوئی بات نہیں منوا سکتے ۔ اس طرح کے عقائد جو تم نے اختیار کر رکھے ہیں ، ان میں سے کوئی عقیدہ بھی کسی علم اور دلیل پر مبنی نہیں ہے ، بلکہ کچھ خواہشات ہیں جن کی خاطر تم بعض اوہام کو حقیقت سمجھ بیٹھے ہو ۔ یہ ایک بہت بڑی بنیادی غلطی ہے جس میں تم لوگ مبتلا ہو ۔ دین وہی صحیح ہے جو حقیقت کے مطابق ہو ۔ اور حقیقت لوگوں کی خواہشات کی تابع نہیں ہوا کرتی کہ جسے وہ حقیقت سمجھ بیٹھیں وہی حقیقت ہو جائے ۔ اس سے مطابقت کے لیے قیاس و گمان کام نہیں دیتا ، بلکہ اس کے لیے علم درکار ہے ۔ وہ علم تمہارے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو تم اس سے منہ موڑتے ہو اور الٹا اس شخص کو گمراہ ٹھہراتے ہو جو تمہیں صحیح بات بتا رہا ہے ۔ اس غلطی میں تمہارے مبتلا ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ تمہیں آخرت کی کوئی فکر نہیں ہے ، بس دنیا ہی تمہاری مطلوب بنی ہوئی ہے ۔ اس لیے نہ تمہیں علم حقیقت کی کوئی طلب ہے ، نہ اس بات کی کوئی پروا کہ جن عقائد کی تم پیروی کر رہے ہو وہ حق کے مطابق ہیں یا نہیں ۔ ثانیاً لوگوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ ہی ساری کائنات کا مالک و مختار ہے ۔ راست رو وہ ہے جو اس کے راستے پر ہو ، اور گمراہ وہ جو اس کی راہ سے ہٹا ہوا ہو ۔ گمراہ کی گمراہی اور راست رو کی راست روی اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے ۔ ہر ایک کے عمل کو وہ جانتا ہے اور اس کے ہاں لازماً برائی کا بدلہ برا اور بھلائی کا بدلہ بھلا مل کر رہنا ہے ۔ اصل فیصلہ اس پر نہیں ہوتا کہ تم اپنے زعم میں اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو اور اپنی زبان سے اپنی پاکیزگی کے کتنے لمبے چوڑے دعوے کرتے ہو ، بلکہ فیصلہ اس پر ہونا ہے کہ خدا کے علم میں تم متقی ہو یا نہیں ۔ اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کرو تو اس کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ چھوٹے چھوٹے قصوروں سے وہ در گزر فرمائے گا ۔ ثالثاً ، دین حق کے وہ چند بنیادی امور لوگوں کے سامنے پیش کیے گئے ہیں جو قرآن مجید کے نزول سے صدہا برس پہلے حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ کے صحیفوں میں بیان ہو چکے تھے ، تاکہ لوگ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نیا اور نرالا دین لے آئے ہیں ، بلکہ ان کو معلوم ہو جائے کہ یہ وہ اصلی حقائق ہیں جو ہمیشہ سے خدا کے نبی بیان کرتے چلے آئے ہیں ۔ اس کے ساتھ ان ہی صحیفوں سے یہ بات بھی نقل کر دی گئی ہے کہ عاد اور ثمود اور قوم نوح اور قوم لوط کی تباہی اتفاقی حوادث کا نتیجہ نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسی ظلم و طغیان کی پاداش میں ان کو ہلاک کیا تھا جس سے باز آنے پر کفار مکہ کسی طرح آمادہ نہیں ہو رہے ہیں ۔ یہ مضامین ارشاد فرمانے کے بعد تقریر کا خاتمہ اس بات پر کیا گیا ہے کہ فیصلے کی گھڑی قریب آ لگی ہے جسے کوئی ٹالنے والا نہیں ہے ۔ اس گھڑی کے آنے سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کے ذریعہ سے تم لوگوں کو اسی طرح خبردار کیا جا رہا ہے جس طرح پہلے لوگوں کو خبردار کیا گیا تھا ۔ اب کیا یہی وہ بات ہے جو تمہیں انوکھی لگتی ہے ؟ جس کی تم ہنسی اڑاتے ہو؟ باز آ جاؤ اپنی اس روش سے جھک جاؤ اللہ کے سامنے اور اسی کی بندگی کرو ۔ یہی وہ مؤثر خاتمہ کلام تھا جسے سن کر کٹے سے کٹے منکرین بھی ضبط نہ کر سکے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کلام الٰہی کے یہ فقرے ادا کر کے سجدہ کیا تو وہ بھی بے اختیار سجدے میں گر گئے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

تعارف سورۃ نجم یہ سورت مکی زندگی کی ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے، بلکہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پہلی وہ سورت ہے جو آپ نے علی الاعلان ایسے مجمع میں پڑھ کر سنائی جس میں مسلمانوں کے ساتھ مشرکین کی بھی بڑی تعداد موجود تھی، نیز یہ پہلی سورت ہے جس میں آیت سجدہ نازل ہوئی، اور جس وقت آپ نے سجدے کی آیت اس مجمع کے سامنے تلاوت فرمائی تو یہ حیرت انگیز واقعہ پیش آیا کہ آپ نے اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے سجدہ کیا ہی تھا، اس وقت جو مشرکین موجود تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا، غالباً اس سورت کے پر شکوہ اور مؤثر مضامین نے انہیں بھی مسلمانوں کے ساتھ سجدہ کرنے پر مجبور کردیاتھا، اس سورت کا اصل موضوع حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کو ثابت کرنا ہے اور یہ کہ جو وحی آپ پر نازل ہوتی ہے وہ کسی شک وشبہ کے بغیر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آتی ہے اور حضرت جبرئیل (علیہ السلام) لے کر آتے ہیں، اور اس ضمن میں یہ حقیقت بھی بیان فرمائی گئی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں دو مرتبہ اپنی اصل صورت میں دیکھا ہے، ان میں سے ایک اس وقت دیکھا جب آپ معراج پر تشریف لے گئے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے اثبات کے ساتھ اس میں مشرکین مکہ کے غلط عقائد اور ان کے بعض بے ہودہ دعووں کی تردید بھی ہے اور پچھلی امتوں پر نازل ہونے والے عذاب کے حوالے سے انہیں حق کو تسلیم کرنے کی موثر دعوت بھی دی گئی ہے، نجم عربی میں ستارے کو کہتے ہیں، اور چونکہ اس سورت کی پہلی ہی آیت میں ستارے کی قسم کھائی گئی ہے، اس لئے اس سورت کا نام سورۂ نجم ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

ایک مرتبہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش مکہ کے مجمع میں سورة النجم کی تلاوت فرمائی تو اس وقت اہل ایمان کے ساتھ ساتھ کافر و مشرک سب ہی موجود تھے۔ جب سجدہ کی ایٓت آئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جاں نثار صحابہ کرام نے تو سجدہ کیا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس وقت جتنے بھی لوگ موجود تھے وہ سب بھی سجدے میں گر گئے اور قریش کے بڑے بڑے سردار اور مخالفین سجدہ کئے بغیر نہ رہ سکے۔ اس سورة کا خلاصہ یہ ہے۔ ستارہ جب غائب ہوجاتا ہے اس کی قسم کھا کر فرمایا کہ تمہارے یہ رفیق (ساتھی) جو ہمیشہ تمہارے سامنے ہیں یہ اللہ کا پیغام پہنچانے میں راہ حق سے نہ بھٹکے اور نہ انہوں نے کوئی غلط راستہ اختیار کیا ہے۔ آپ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) برحق ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی بات اپنی ذاتی خواہش سے بیان نہیں کرتے بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جو وحی نازل ہوتی ہے آپ اس کو بیان کردیتے ہیں۔ طاقت و قوت والا ہے۔ وہ ایک مرتبہ اپنی اصلی صورت پر سامنے آیا جب کہ وہ آسمان کے کنارے پر تھا۔ (جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس فرشتے کو دیکھ کر بےہوش ہوگئے تو) وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہت زیادہ قریب آیا اتنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور اس کے درمیان دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ پھر اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جس قدر وحی بھیجنا چاہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کو بھیجا۔ نظر نے جو کچھ دیکھا تھا دل نے اس میں کسی جھوٹ کو نہ ملایا تھا ۔ کیا تم لوگ انسے اس بات میں جھگڑ رہے ہو، جس کو انہوں نے آنکھ سے دیکھا تھا۔ لات منات، اور عزیٰ وہ بہت ہیں جو عورتوں کے نام ہیں جو کفار کے بڑوں نے اس تصور کے ساتھ نام رکھے تھے کہ نعوذ باللہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور دو بیٹیاں قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں ان کی سفارش کر کے ان کو جہنم کے عذاب سے نجات دلوا دیں گی۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ کیسی بےڈھگنی اور ظالمانہ تقسیم ہے کہ خود تو لڑکیوں کو قابل تعریف سمجھتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ان گھروں میں لڑکے پیدا ہوں۔ تم نے اللہ کے لئے فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بنا دیا۔ تو یاد رکھو اللہ ان تمام باتوں اور شرک سے پاک ہے۔ قیامت کے ہولناک دن فرشتے تو کیا کسی پیغمبر کو بھی اس وقت تک کسی کی سفارش کا حق نہ ہوگا۔ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت نہ دی جائے۔ سفارش اسی کی ہوگی جس کے لئے اللہ چاہے گا۔ زمین و آسمان اور ساری کائنات میں سارا اختیار اللہ کا ہے جو جیسا عمل کرے گا اس کو ایسا ہی بدلہ دیا جائے گا۔ اگر کوئی برے راستے کا انتخاب کرکے اس پر عمل کرے گا تو اس کو سخت سزا دی جائے گی اور اگر کسی نے نیک اور بہتر راستے اختیار کر کے نیک عمل کیا ہوگا تو اس کو اللہ تعالیٰ بہترین بدلہ اور جزا عطا فرمائیں گے۔ اور ایک مرتبہ پھر انہوں نے اس کو (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرئیل کو) سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا۔ جس کے پاس ہی ” جنت الماوی “ ہے اس وقت اس پیروی کے درخت (سدرۃ المنتہی) پر ہو طرف اللہ کے انورات اور فرشتے چھائے ہوئے تھے۔ یہ سب کچھ دیکھنے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نہ تو نظر بہکی اور نہ وہ حد سے آگے بڑھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں کو دیکھا۔ فرمایا کیا تم نے کبھی لات عزیٰ اور ایک تیسری بت منات پر بھی غور کیا ہے ؟ وہ کیا ہیں ؟ اور ان کی حقیقت کیا ہے ؟ وہ کچھ عورتوں کے نام ہیں جن پر ان بتوں کے نام رکھ لئے گئے ہیں کیونکہ تمہارا گمان یہ ہے کے فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور یہ تصویریں ان ہی کی ہیں۔ فرمایا کس قدر بےڈھنگی تقسیم ہے کہ تم اپنے گھروں میں بیٹیاں پیدا ہونے کے بعد شرمندگی سے منہ چھپاتے پھرتے ہو اور لڑکیوں کے وجود کو نفرت دیکھتے ہو۔ تم نے اللہ کے لئے تو بیٹیوں کو پسند کیا اور خود تم چاہتے ہو کہ تمہارے گھروں میں لڑکے ہوں یہ کیسی ظالمانہ تقسیم ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں تصور کرنا او ان ہی پر تصور بنا کر ان کی عبادت و پرستش کرنا اور یہ سمجھنا کہ قیامت میں یہ فرشتے (جن کو وہ اللہ کی بیٹیاں سمجھنے تھے) ان کی سفارش کر کے ان کو عذاب الٰہی سے بچا لیں گے یہ انکا محض وہم اور گمان ہے جس کی وہ عبادت زندگی میں کر رہے ہیں۔ یہ محض ان کی طرف سے گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔ ان کا گمان ہے جس کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ فرمایا کہ فرشتے نہیں بلکہ کوئی بھی اس کی بارگاہ میں کسی کی سفارش اور شفاعت نہیں کرسکتا جب تک اس کو سفاشر کرنے کی اجازت نہ ہو وہ اس کے پسند کرے۔ دنیا اور آخرت کا مالک اللہ ہے اس کے سوا مالک نہیں۔ فرمایا کہ لات، منات اور عزیٰ یہ بتوں کے وہ نام ہیں جو ان کے باپ دادا نے رکھ لیے تھے۔ یہ ان کی اپنی خواہشات تھیں جن کی انہوں نے پیروی کی ورنہ اللہ نے ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں بھیجی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ان کے پاس اس کی کوئی سند یا دلیل نہیں ہے بلکہ یہ ان کا محض خیال اور گمان ہے۔ درحقیقت کسی کا گمان حق کی جگہ نہیں لے سکتا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ ہمارے ذکر سیم نہ پھیر کر چل رہے ہیں اور انہیں دنیا کے سوا کچھ نہیں چاہئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیجیے کیونکہ ان کے علم کی انتہا بس یہیں تک ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پروردگار اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کے راستے سے کون بھٹک گیا ہے اور کون سیدھے راستے پر ہے۔ فرمایا زمین و آسمان میں سارا اختیار اللہ ہی کا ہے۔ جس نے بھی برے راستے کا انتخاب کیا وہ اس کو اس کی سزا دے گا اور جن لوگوں نے بہترین اور نیک راستے کا انتخاب کر کے اس پر قدم بڑھائے ہوں گے ان کو بہترین جزا اور بدلہ دیا جائے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے بچ کر چلتے ہیں۔ اگر ان سے کوئی ہلکا پھلکا گناہ ہوجائے تو آپ کے پروردگار کا دامن رحمت بہت وسیع ہے۔ وہ اللہ تمہاری کمزوریوں اور خوبیوں سے اچھی طرح واقف ہے اس وقت سے وہ تمہیں جانتا ہے جب تمہیں مٹی سے پیدا کر کے ماں کے پیٹ میں تم نے ایک بچے کی شکل اختیار کی تھی۔ تم اپنے نفس کی پاکیزگی کا دعویٰ نہ کرو وہ جانتا ہے کون متقی اور پرہیز گار ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی اس شخص کے حالات پر بھی غور کیا جو اللہ کے راستے سے بھٹک گیا۔ کچھ خرچ کیا اور کہیں وہ رک گیا۔ کیا اس کے پاس کوئی غیب کا علم ہے کہ اس نے ہر حقیقت کو دیکھ لیا ہے۔ کیا اسے اس صحیفوں صکتابوں) کی خبر ملی ہے جو حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم کے پاس تھیں۔ وہ ابراہیم جنہوں نے وفا کا حق ادا کردیا تھا۔ ان صحیفوں میں لکھا ہوا ہے کہ (١) کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ (٢) انسان کو صرف وہی ملتا ہے جس کیلئے وہ جدوجہد کرتا ہے۔ (٣) اس کی جدوجہد اللہ کی نظر میں ہے وہ ہر ایک کو اس کا بدلہ دے گا۔ (٤) یہ کہ آخر کار تمہیں اللہ ہی کی طرف لوٹ کرجاتا ہے۔ (٥) وہی ہنساتا ہے وہی رلاتا ہے۔ (٦) زندگی اور موت اسی کے ہاتھ میں ہے۔ (٧) اس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا جب کہ اس ایک بوند سے جو ٹپکائی گئی (اسی سے اس کا وجود ہے۔ ) (٨) مرنے کے بعد دوبارہ زنگدی دینا بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ (٩) وہی مال اور جائیداد عطا کرتا ہے۔ (١٠) وہی اس ستارے ” شعری “ کا رب ہے (جس کو تم پوجتے ہو) ۔ (١١) اسی نے قوم عاد یعنی عاد اولیٰ کو ہلاک کیا۔ (١٢) اور اسی نے ثمود کو اس طرح منایا کہ کسی کو باقی نہ چھوڑا۔ (١٣) اور اسی نے قوم نوح کو جو بڑے ظالم اور سرکش تھے تباہ کیا۔ (١٤) اوندھی گری ہوئی بستیوں کو (قوم لوط) کو اٹھا پھینکا ۔ (١٥) پھر ان بستیوں کو گھیر لیا جس چیز نے یعنی ان پر عذاب آ کر رہا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے مخاطب ! تو اپنے رب کی کن نعمتوں میں شک و شبہ کرے گا۔ فرمایا کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی پہلے پیغمبروں کی طرح ایک پیغام پر ہیں (ان کو مان لو) کیونکہ وہ جلدی آنے والی چیز (قیامت) بہت قریب آپہنچی۔ کیا تم یہ سب باتیں سن کر بھی کلام الٰہی میں تعجب کرتے ہو۔ تم ہنستے ہو مذاق اڑاتے ہو (اور اپنے برے انجام پر) روتے نہیں ہو اور تم غرور وتکبر کرتے ہو۔ اب بھی وقت ہے کہ تم اللہ کی اطاعت کرو اور اسی کی عبادت کرو۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

سورة النجم کا تعارف اس سورت کا نام اس کے پہلے لفظ پر رکھا گیا ہے یہ مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس کے تین رکوع اور باسٹھ (٦٢) آیات ہیں۔ یہ سورت نبوت کے پانچویں سال مکہ معظمہ میں اس وقت نازل ہوئی جس وقت مسلمانوں کے لیے مکہ کے حالات اس قدر دگرگوں تھے کہ مکہ والوں کے مظالم کی وجہ سے کچھ مسلمان ہجرت کر کے حبشہ جاچکے تھے۔ اس دوران ایک موقع پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة النجم ایک مجمع میں پڑھ کر سنائی جس میں کچھ مشرکین بھی بیٹھے ہوئے تھے، ان میں مطّلب بن ابی دَوَاعَہ بھی موجود تھے جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ان کا کہنا ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة النجم کی تلاوت کی تو وہ منظر اس قدر جاذبِ دل تھا کہ جس نے اس کی تلاوت سنی وہ سجدے میں گرپڑا صرف میں ایک ایسا آدمی تھا جس نے سجدہ نہیں کیا تھا۔ (نسائی : باب السجود فی النجم۔ مسند احمد) مشرکین کے سجدہ ریز ہونے کی خبر حبشہ پہنچی تو کچھ مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ شاید مکہ والے اسلام قبول کرچکے ہیں اس بنا پر مسلمان مکہ واپس آئے مگر یہاں کے حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوچکے تھے۔ مکہ والوں کا پروپیگنڈہ تھا کہ یہ نبی ذہنی طور پر بہک چکا ہے اسی لیے اپنے آباؤ اجداد کے دین سے گمرہ ہوچکا ہے اسی الزام کی تردید میں اللہ تعالیٰ نے تارے کی قسم اٹھا کر وضاحت فرمائی کہ تمہارا ساتھی یعنی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نا بہکا ہے اور نہ ہی گمراہ ہوا ہے۔ جس دعوت کو تم گمراہی سمجھتے ہو نبی یہ دعوت اپنی مرضی سے نہیں دے رہا ہے جو کچھ وہ ارشاد فرماتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق ہوتا ہے اسے وحی پہنچانے والا کوئی عام فرشتہ نہیں بلکہ ملائکہ کے سردار جبریل امین ہے جو بڑا طاقتوار اور صاحب حکمت ہے اسے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مرتبہ براہ راست دیکھا ہے۔ ایک مرتبہ جنت الماویٰ کے قریب سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا جب آپ نے جبریل امین کو دیکھا تو نا اس کی شخصیت سے مرعوب ہوئے اور نہ ہی آپ کی آنکھیں چندیائیں وہاں آپ نے نہ صرف جبریل امین کو دیکھا بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے رب کی قدرت کی بڑی بڑی نشانیاں بھی ملاحظہ فرمائیں۔ دعوت کی حقیقت اور وحی کا ایک منظر بیان کرنے کے بعد مشرکین مکہ سے سوال کیا گیا کہ جس لات، عزی اور منات کی پوجا کرتے ہو کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ ان کی حقیقت کیا ہے ؟ تم انہیں اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے ہو جب کہ اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہو سوچو اور غور کرو کہ یہ کس قدر بری تقسیم ہے حقیقت یہ ہے اس عقیدے کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں سوائے اس کے کہ تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے اپنی طرف سے محض ان کے نام رکھ لیے ہیں اور انہیں مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہو۔ یاد رکھو کہ تمہارے باطل معبود اور مشکل کشا تمہارے کچھ کام نہیں آئیں گے کام آنا تو درکناروہ اجازت لیے بغیر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کسی کی سفارش بھی نہیں کر پائیں گے۔ آخر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد ہوا ہے کہ آپ اس شخص سے ایک حد تک اعراض کریں کہ جس تک ہماری نصیحت پہنچ چکی ہے مگر وہ دنیا کے مفاد کی خاطر اس سے منہ موڑے ہوئے ہے یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ بروں کو ان کی برائی کی سزا دے گا اور نیک لوگوں کو ان کے نیک اعمال کی جزا دے گا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة النجم ایک نظر میں یہ سورت اپنی عبارت کے لحاظ سے اپنے اندر نظم اور موسیقی رکھتی ہے اور نغمہ پرور ہے۔ اس کی لفظی ساخت میں نغمہ سرایت کئے ہوئے ہے اور اس کی آیات کے آخر میں جو سجع اور قافیہ ہے وہ بہت ہی موزوں اور نغمہ بار ہے۔ اس سورة کی موسیقی اور اس کا ترنم اس کے آغاز سے انتہا تک نظر آتا ہے ۔ بعض مقامات تو ایسے ہیں جن میں صاف نظر آتا ہے کہ قافیہ کی خاطر ایک لفظ کا اضافہ کیا گیا ہے یا قافیہ والے لفظ کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ ترنم اور اس کا اثر جاری رہے لیکن معانی اور مفہوم اپنی جگہ ٹھیک ٹھیک ادا کئے گئے ہیں مثلاً ۔ افرء یتم…………الاخری (20:53) ” اب ذرا بتائو ، تم نے کبھی اس لات اور عزیٰ اور تیسری ایک دوی منات کی حقیقت پر غور کیا ہے “۔ اگر یہاں صرف یہ کہا جاتا۔ ومنوۃ الاخری (20:53) ” تو آیات کا وزن ٹوٹ جاتا اور اگر یہ کہا جاتا۔ ومنوۃ الثالثۃ (20:53) “ تو قافیہ اور آیت کے آخری سجع کا اثر ختم ہوجاتا اور معنوی اعتبار سے بھی ہر لفظ کی ایک معنوی اہمیت ہے لہٰذا وزن اور قافیہ کی رعایت بھی یہاں ملحوظ نظر آتی ہے ۔ اسی طرح اس کے بعد کی آیت میں لفظ اذا کو کس خوبصورت کے ساتھ بڑھایا گیا ہے۔ تلک …………ضیزی (22:53) ” یہ تو پھر بڑی دھاندلی کی تقسیم ہے “ یہاں اذن کا لفظ وزن کے لئے ضروری تھا۔ اگرچہ عبارت میں فنی ادائیگی مطلب کے لئے ضروری نہ تھا۔ سروں کی یہ موزونیت اپنے اندر ایک خاص موسیقی کا رنگ لئے ہوئے ہے۔ آواز اس طرح رواں ہے جس طرح لہریں اٹھ رہی ہیں یا ندی کا بہائو ہے۔ خصوصاً سورة کے پہلے پیراگراف اور آخری پیراگراف میں۔ پہلے پیراگراف میں جن تصاویر اور جن سایوں کا ذکر ہے وہ عالم بالا کی پھڑپھڑاتی تصاویر ہیں جبکہ آخری پیراگراف میں بھی عالم بالا کی فضا اور حساسیت ہے اور درمیانی پیراگرافوں میں بھی یہ موزونیت حسب ضرورت ہے اور ان دونوں پیراگرافوں کے قریب قریب ہے۔ پہلے پیراگراف کی تصاویر اور رنگ ڈھنگ کا تعلق عالم بالا کے نورانی واقعات کے ساتھ ہے کیونکہ اس پیراگراف میں عالم بالا کے مناظر بیان ہوتے ہیں۔ روح الامین کی حرکات وتصرفات جبکہ وہ رسول اللہ کے سامنے آتے ہیں چناچہ تصاویر ، حرکات ، مشاہد اور ان کی روحانی فضا موزوں سروں میں دیر تک چلتی ہے اور اس پیراگراف میں الفاظ کی موزونیت اور ترنم اور ہم آہنگی بہت ہی عجیب ہے۔ یہ رنگ وبو پوری سورة کی فضا پر چھائی ہوئی ہے اور دوسرے پیروں میں بھی اس کے آثار موجود ہیں اور سب سے آخر میں نہایت ہی موثر اشارات ہیں جن کے سامنے انسان وجود کا ذرہ ذرہ کانپ اٹھتا ہے اور لبیک کہنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ اس سورت کا موضوع وہی ہے جو بالعموم مکی سورتوں کا ہوتا ہے۔ اسلامی عقیدہ اور نظریہ اور اس کے اساسی عناصر۔ یعنی وحی ، رسالت ، وحدانیت اور آخرت ۔ یہ سورت ایک متعین زاویہ سے ان موضوعات کو لیتی ہے مثلاً وحی کی صداقت اور اس کی پختگی ، عقیدہ شرک اور اس کی کمزوری اور اس کے اساس کی کمزوری اور افسانوی حیثیت۔ پہلے حصے میں حقیقت وحی ، وحی کا مزاج ، وحی کی نوعیت اور وحی سے متعلق دو مناظر اور ان مناظر کی شکل میں وحی کا ثبوت اور اس کی صحت اور واقفیت اور یہ تاکید کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ وحی جبرائیل سے حاصل کی۔ آپ نے ان کو دیکھا اور اللہ کی آیات کبریٰ کو دیکھا۔ دوسرے پیراگراف میں مشرکین کے خود ساختہ الہوں کا ذکر ہے ۔ لات ، منات اور عزیٰ کا۔ پھر فرشتوں کے بارے میں ان کے جو وہمی خیالات تھے اور جو افسانے انہوں نے تصنیف کر رکھے تھے ان کی طرف اشارات ہیں کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور اس قسم کے عقائد کا ماخذ ان کے ہاں محض ظن وگمان تھا جو حق کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو جس بات کی دعوت دے رہے تھے وہ یقینی ، ثابت اور آپ کی دیکھی ہوئی تھی۔ تیسرے پیراگراف میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ آپ ان لوگوں سے منہ موڑ لیں جو لوگ ہر حال میں سرکشی پر تلے ہئے ہیں اور جن کی ترجیحات میں بھی دنیا اور اس کی زندگی ہے جو بس اس دنیا کے کنارے تک سوچتے ہیں اور اس سے آگے کچھ نہیں جانتے۔ یہاں آخرت کا نقشہ بیان کیا جاتا ہے جو کہ اعمال پر مبنی ہے۔ اللہ کے پورے علم پر ہے اور اللہ ان کے تمام اعمال کو اس وقت سے جانتا ہے جب یہ مائوں کے پیٹ میں جنین تھے۔ وہ خودان کے اپنے اپنے بارے میں علم سے بھی ان کے بارے میں زیادہ جانتا ہے۔ لہٰذا ان کا حساب و کتاب علم ویقین پر ہگا ، ظن وتخمین سے نہ ہگا اور اس طرح ان کا تصفیہ ہوگا۔ آخری پیراگراف میں اسلامی نظریہ حیات کے اصول لئے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ تمام رسولوں کے ہاں یہی اصول دعوت دے رہے ہیں۔ یہ کہ ہر شخص اپنے اعمال کا حقدار وذمہدار ہے۔ حساب و کتاب صحیح ہوگا۔ منصفانہ ہوگا اور تمام لوگ آخرکار رب تعالیٰ کے سامنے جائیں گے اور یہ کہ اس دنیا میں اللہ ہی اپنی مخلوق میں تصرفات کرتا ہے۔ یہاں امم سابقہ کی طرف بھی اشارات ہیں اور آخری نغمہ ہے۔ ھذا نذیر……………واعبدوا (55:53 تا 62) ” یہ ایک تنبیہ ہے پہلے آئی ہوئی تنبیہات میں سے۔ آنے والی گھڑی قریب آلگی ہے۔ اللہ کے سوا کوئی اس کو بتانے والا نہیں۔ اب کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تماظہار تعجب کرتے ہو ؟ ہنستے اور روتے نہیں ہو اور گا بجا کر انہیں ٹالتے ہو۔ جھک جائو اللہ کے آگے اور بندگی کرو “۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi