Surat un Najam
Surah: 53
Verse: 11
سورة النجم
مَا کَذَبَ الۡفُؤَادُ مَا رَاٰی ﴿۱۱﴾
The heart did not lie [about] what it saw.
دل نے جھوٹ نہیں کہا جسے ( پیغمبر نے ) دیکھا ۔
مَا کَذَبَ الۡفُؤَادُ مَا رَاٰی ﴿۱۱﴾
The heart did not lie [about] what it saw.
دل نے جھوٹ نہیں کہا جسے ( پیغمبر نے ) دیکھا ۔
11۔ 1 یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرائیل (علیہ السلام) کو اصل شکل میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں۔ ایک پر مشرق و مغرب کے درمیان فاصلے جتنا تھا، اس کو آپ کے دل نے جھٹلایا نہیں، بلکہ اللہ کی اس عظیم قدرت کو تسلیم کیا۔
[٧] جو کچھ آنکھ نے دیکھا وہ یہ تھا کہ اس نے جبریل کو اپنی اصلی شکل میں دیکھا۔ دن کی روشنی میں دیکھا، تاریکی میں نہیں دیکھا، نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عالم بیداری میں دیکھا، نیند یا نیم خوابی یا اونگھ کی حالت میں نہیں دیکھا۔ لہذا دل نے پورے وثوق سے اس بات کی تائید کردی کہ واقعی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جبریل فرشتہ کو ہی دیکھا تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لاتا ہے اور اس مسئلہ میں کوئی شک و شبہ نہ رہا تھا۔
(١) ماکذب الفواد مارای :” کذاب “ کو سبعہ قرأت میں دو طرح پڑھا گیا ہے۔ چناچہ ابن عامر نے اسے ذال کی تشدید کے ساتھ ” کذب “ پڑھا ہے، جھٹلایا۔ اس وقت معنی ہوگا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آنکھوں سے جو کچھ دیکھا دل نے اسے نہیں جھٹلایا، بلکہ اس کی تصدیق کی۔ دوسرے قراء نے ” ذال “ کو تشدید کے بغیر ” کذب “ پڑھا ہے، جھوٹ کہا۔ یعنی دل نے جبریل (علیہ السلام) کو دیکھا تو جھوٹ نہیں کہا، بلکہ سچ کہا کہ اس نے جبریل کو دیکھا ہے، جیسے آنکھوں نے دیکھا تو جھوٹ نہیں کہا۔ جبریل (علیہ السلام) کو دیکھنے میں آنکھیں اور لد دونوں شریک تھے۔ شیخ عبدالرحمٰن السعدی ” تیسیرا الرحمٰن “ میں لکھتے ہیں،” ای اتفق فواد الرسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و رویتہ علی الوحی الذی او حاہ اللہ الیہ وتواطاً علیہ سمعہ و فلبہ و بصرہ “” یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل اور آپ کی رؤیت نے اس وحی پر اتفاق کیا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف کی اور اس پر آپ کے کان، آنکھیں اور دل متفق ہوگئے۔ “ سید امیر علی ملیح آبادی ” مواہب الرحمٰن “ میں اس جملے کی تفسیر کے آخر میں لکھتے ہیں :” بالجملہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو دیکھا اس میں فواد اور آنکھ دونوں متفق و صادق ہیں۔ “ بعض مفسرین نے ” کذب “ (تشدید کے بغیر) کا معنی ” جھٹلایا “ کیا ہے، جبکہ یہ ” کذب “ (تشدید ذال کے ساتھ ) کا معنی ہے،” کذب “ (بلاتشدید) کا نہیں ۔ (٢) جو کچھ آنکھ نے دیکھا وہ یہ تھا کہ اس نے جبریل (علیہ السلام) کو ان کی اصل صورت میں دیکھا، دن کی روشنی میں دیکھا تاریکی میں نہیں دیکھا ، جاگتے ہوئے دیکھا نیند یا نیم خوابی یا اونگھ کی حالت میں نہیں دیکھا، دل نے بھی دیکھنے میں آنکھوں کی موافقت کی اور کہہ دیا کہ واقعی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جبریل فرشتے ہی کو دیکھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لاتا ہے اور مسئلے میں کوئی شک و شبہ نہ رہا۔
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ (The heart did not err in what he saw....53:11) Fu&ad means heart, and the verse means whatever the eyes saw, the heart did not err in its grasping. This erring in the verse is described as kidhb [ lying ]. In other words, the heart did not lie in connection with the perceived objects. It did not err or slip up. In the phrase mara&a &what he saw&, the Qur&an does not specify what it saw. The blessed Companions (رض) and their followers, and the leading authorities on Tafsir hold two divergent views as was discussed in detail earlier: [ 1] The phrase means it [ the Holy Prophet&s (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) heart ] saw Allah (and this is the view of Ibn ` Abbas (رض) ; and [ 2] others (like Sayyidah ` A&ishah, Ibn Masud, Abu Hurairah and Abu Dharr Ghifari (رض) express the view that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saw Jibra&il (علیہ السلام) in his original shape. The Arabic verb ra&a originally means to see with physical eyes, and after having seen with physical eyes the heart grasps and comprehends. Thus the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) first saw Jibra&il (علیہ السلام) with his physical eyes, and then grasped and comprehended him with his heart. Therefore, there is no need to take the word ru&yah in the figurative or metaphorical sense of ru&yah qalbiyah [ to see with the heart ] as did Al-Qurtubi. One more question remains: In this verse idrak [ grasping, comprehending, discerning, cognizing and perceiving ] has been attributed to the heart, whereas according to most famous philosophers, it is related to ` aql [ the intellect ] or the soul endowed with the faculty of speech. Answer to this question is that many verses of the Qur&an show that the real centre of idrak is the heart. Therefore, sometimes the word &qalb (heart) is used for ` aql (intellect), as for example the word qalb (plural: qulub) in the following verses bear ample testimony to this fact: لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ (for him who has a heart - 50:37) and لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا &they have hearts with which they do not comprehend& - (7:179). Qalb (heart) here refers to ` aql (intellect) because heart is the centre of intellectual activities.
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى، فواد کے معنی قلب اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ آنکھ نے جو کچھ دیکھا ہے قلب نے بھی اس کے ادراک میں کوئی غلطی نہیں کی، اسی غلطی اور خطاء کو آیت میں لفظ کذب سے تعبیر کیا ہے جو |" کچھ دیکھا |" قرآن کے الفاظ نے یہ متعین نہیں کیا کہ کیا دیکھا، اس کی تفسیر میں صحابہ وتابعین اور ائمہ تفسیر کے وہی دو قول ہیں جو اوپر تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں کہ بعض کے نزدیک خود حق تعالیٰ کو دیکھنا مراد ہے (وہو قول ابن عباس) اور بعض کے نزدیک جبرئیل امین کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنا مراد ہے (وہو قول عائشتہ و ابن عباس) اور بعض کے نزدیک جبرئیل امین کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنا مراد ہے (وہو قول عائشتہ و ابن مسعود وابی ہریرة وابی ذرالغفاری (رض) اس تفسیر کے مطابق لفظ رای اپنے حقیقی معنی کے مطابق آنکھ سے دیکھنے کے لئے بولا گیا اور دیکھنے کے بعد ادراک و فہم جو قلب کا کام ہے وہ قلب کی طرف منسوب ہوا، رویت کو مجازی طور پر رویت قلبیہ کے معنی میں لینے کی ضرورت پیش نہیں آئی (کما فی القرطبی) رہا یہ سوال کہ آیت میں ادراک کی نسبت قلب کی طرف کی ہے، حالانکہ مشہور حکماء کا قول ہے کہ ادراک کا تعلق عقل یا نفس ناطقہ سے ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کی بہت سی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ادراک و فہم کا اصل مرکز قلب ہے، اس لئے کبھی عقل کو بھی لفظ قلب سے تعبیر کردیا ہے، جیسے آیت (لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ) میں قلب سے مراد عقل لی گئی ہے، کیونکہ قلب مرکز عقل ہے، آیات قرآنیہ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا وغیرہ اس پر شاہد ہیں۔
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى ١١ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة «1» . الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي «3» . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے فأد الْفُؤَادُ کالقلب لکن يقال له : فُؤَادٌ إذا اعتبر فيه معنی التَّفَؤُّدِ ، أي : التّوقّد، يقال : فَأَدْتُ اللّحمَ : شَوَيْتُهُ ، ولحم فَئِيدٌ: مشويٌّ. قال تعالی: ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى [ النجم/ 11] ، إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤادَ [ الإسراء/ 36] ، وجمع الفؤاد : أَفْئِدَةٌ. ( ف ء د ) الفواد کے معنی قلب یعنی دل کے ہیں مگر قلب کے فواد کہنا معنی تفود یعنی روشن ہونے کے لحاظ سے ہے محاورہ ہے فادت الحم گوشت گو آگ پر بھون لینا لحم فئید آگ میں بھنا ہوا گوشت ۔ قرآن میں ہے : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى [ النجم/ 11] جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ جانا ۔ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤادَ [ الإسراء/ 36] کہ کان اور آنکھ اور دل فواد کی جمع افئدۃ ہے قرآن میں ہے فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ [إبراهيم/ 37] لوگوں کے دلوں کو ایسا کردے کہ ان کی طرف جھکے رہیں ۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔
(١١۔ ١٤) اور رسول اللہ کے قلب مبارک نے جو اپنے قلب سے اپنے پروردگار کو دیکھا اس میں ان کے قلب نے کوئی غلطی نہیں کی اور کہا گیا ہے کہ آپ نے اپنے پروردگار کو اپنے دل کے ساتھ دیکھا اور یہ بھی قول روایت کیا گیا کہ آنکھوں سے اپنے پروردگار کو دیکھا یہ جواب قسم ہے، چناچہ جب رسول اکرم نے اپنی قوم کو اس چیز کے بارے میں بتایا تو انہوں نے تکذیب کی تب یہ آیت نازل ہوئی تو کیا یہ لوگ رسول اکرم کی دیکھی ہوئی چیز کو جھٹلاتے ہیں یا یہ کہ آپ کی دیکھی بھالی چیز میں جھگڑا کرتے ہیں۔ اور رسول اکرم نے تو جبریل امین کو ان کی اصلی صورت میں ایک اور دفعہ بھی دیکھا ہے اور کہا گیا ہے کہ اپنے پروردگار کو اپنے دل یا اپنی آنکھ سے دیکھا ہے سدرۃ المنتہی کے پاس۔
آیت ١ ١{ مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی ۔ } ” جو کچھ انہوں نے دیکھا ‘ ان کے دل و دماغ نے اسے جھٹلایا نہیں۔ “ یعنی دل میں کسی قسم کا شک پیدا نہیں ہوا۔ یہ خیال نہیں آیا کہ یہ وہم ہوسکتا ہے یا خواب ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ اکثر ہوتا ہے ‘ انسان جب کوئی غیر معمولی واقعہ یا انوکھامنظر دیکھتا ہے تو ایک لمحے کے لیے سوچ میں پڑجاتا ہے کہ ع ” آنچہ می بینم بیداریست یارب یا بخواب ! “ (اے اللہ ! یہ جو میں دیکھ رہا ہوں یہ بیداری میں دیکھ رہا ہوں یا خواب میں ! ) لیکن اس واقعہ کے بارے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معاملہ ایسا نہیں تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھوں نے جو دیکھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل نے اسے تسلیم کیا اور اس کی تصدیق کی۔ گویا اس انتہائی غیر معمولی واقعہ کے بارے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نگاہوں کے درمیان کوئی تضاد و اختلاف نہیں تھا۔
10 That is, "As the Holy Prophet Muhammad (upon whom be peace) observed all this in broad daylight in the waking condition, with open eyes, his heart did not deem it was a delusion, or that it was a jinn or a devil, who had appeared before him, or that it was an imaginary figure, or a vision that he was seeing while awake, but his heart fully confirmed what his eyes saw. He did not for a moment doubt that it was the Angel Gabriel and the Message he was conveying was indeed God's Revelation to him." Here, the question arises: How is it that the Holy Prophet (upon whom be peace) did not entertain any doubt at all concerning such a wonderful and extraordinary observation, and he confirmed with full faith that whatever his eyes saw was an actual fact and not an imaginary figure, nor a jinn or devil ? When we consider this question deeply we are led to five reasons for it: First, that the external conditions in which this observation was made, testified to its truth and validity. The Holy Prophet did not observe this in darkness, or in a state of meditation, or in a vision, or in a sleep-like condition, but the day had dawned and he was fully awake, and he was seeing the whole scene in the broad daylight in the open with his own eyes precisely in the way as one sees the other things in the world. If doubt is cast on this, then whatever we see in the day time, e.g. rivers, mountains, men, houses, etc., also would become doubtful and illusory. Second, that the Holy Prophet's own internal condition also testified to its validity. He was in his full senses. He had no idea whatever in his mind that he should observe, or that he was going to observe, such a thing. His mind was absolutely free from such a thought and any longing for it, and in this state he met with this experience suddenly. There was no room for doubting that the eyes were seeing an actual scene, but that an imaginary thing had appeared before his eyes. Third, that the being who had appeared before him in that condition was so marvelous and magnificent, so beautiful and bright, that neither had he ever had any concept of such a being before that he could take it for a product of his own imagination, nor could a jinn or a devil have such an appearance that he would have taken him for a being other than an angel. Hadrat 'Abdullah bin Mas'ud has reported that the Holy Prophet (upon whom be peace) said: °I saw Gabriel in the shape that he had six hundred wings." (Musnad Ahmad), In another Tradition Ibn Mas`ud has further explained that each single wing of Gabriel (on whom be peace) was so extensive that it seemed to be covering the whole horizon (Musnad Ahmad), Allah Himself has described him as shadid al-quwa (one mighty in power) and dhu-mirra (one endowed with great wisdom). Fourth, that the teaching that the being was imparting alsa testified to the validity of the observation. The Holy Prophet had no concept of the knowledge that he received suddenly through him, a knowledge that comprehended the realities and truths of the whole Universe. About it he could not have the doubt that it consisted of his own ideas which were being set and arranged by his own mind. Likewise, there was no ground for thinking either that it was Satan who was imparting that knowledge to him and thus deluding him, for it is not for Satan that he should teach, nor can he ever teach, the doctrine of Tauhid to man as against polytheism and idol-worship, that he should warn of the accountability of the Hereafter, that he should create contempt against ignorance and its practices, that he should invite people to moral excellences, and should exhort a person not only to accept that teaching himself but should also rise to ' eradicate polytheism, injustice, wickedness and sin from the world and replace these evils by the virtues of Tauhid, justice, equity and piety. The fifth and by far the most important reason is that when Allah chooses a certain person for His Prophet hood, He cleanses his heart of doubts and suspicions and evil suggestions and fills it with faith and conviction. In this state no hesitation or vacillation is caused in his mind about the validity of whatever his eyes see and his ears hear. He accepts with complete satisfaction of the heart every truth that is revealed to him by his Lord, whether it is in the form of an observation that he is made to witness with the eyes, or in the form of knowledge which he is inspired with, or in the form of a Revelation that is recited to him literally. In all these cases the Prophet is fully aware that he is absolutely safe and secure against Satanic interference of every kind, and whatever he is receiving in any form is precisely and definitely from his Lord. Like all God-given feelings this sense and feeling of the Prophet also is a certainty which does not admit of any misunderstanding. Just as the fish has a God-given sense of being a swimmer, the bird of being a bird, and the man of being a man, and there can be no likelihood of any misunderstanding in this regard, so has the Prophet also a Godgiven sense of his being a Prophet. He does not even for a moment entertain the doubt that he has perhaps been involved in the misunderstanding of being a Prophet.
سورة النَّجْم حاشیہ نمبر :10 یعنی یہ مشاہدہ جو دن کی روشنی میں اور پوری بیداری کی حالت میں کھلی آنکھوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا ۔ اس پر ان کے دل نے یہ نہیں کہا کہ یہ نظر کا دھوکا ہے ، یا یہ کوئی جن یا شیطان ہے جو مجھے نظر آ رہا ہے ، یا میرے سامنے کوئی خیالی صورت آ گئی ہے اور میں جاگتے میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں ۔ بلکہ ان کے دل نے ٹھیک ٹھیک وہی کچھ سمجھا جو ان کی آنکھیں دیکھ رہی تھیں ۔ انہیں اس امر میں کوئی شک لاحق نہیں ہوا کہ فی الواقع یہ جبریل ہیں اور جو پیغام یہ پہنچا رہے ہیں وہ واقعی خدا کی طرف سے وحی ہے ۔ اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کیا بات ہے جس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے عجیب اور غیر معمولی مشاہدے کے بارے میں قطعاً کوئی شک لاحق نہ ہوا اور آپ نے پورے یقین کے ساتھ جان لیا کہ آپ کی آنکھیں جو کچھ دیکھ رہی ہیں وہ واقعہ حقیقت ہے ، کوئی خیالی ہیولیٰ نہیں ہے اور کوئی جن یا شیطان بھی نہیں ہے ؟ اس سوال پر جب ہم غور کرتے ہیں تو اس کے پانچ وجوہ ہماری سمجھ میں آتے ہیں: ایک یہ کہ وہ خارجی حالات جن میں مشاہدہ ہوا تھا ، اس کی صحت کا یقین دلانے والے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ مشاہدہ اندھیرے میں ، یا مراقبے کی حالت میں ، یا خواب میں ، یا نیم بیداری کی حالت میں نہیں ہوا تھا ، بلکہ صبح روشن طلوع ہو چکی تھی ، آپ پوری طرح بیدار تھے ، کھلی فضا میں اور دن کی پوری روشنی میں اپنی آنکھوں سے یہ منظر ٹھیک اسی طرح دیکھ رہے تھے جس طرح کوئی شخص دنیا کے دوسرے مناظر دیکھتا ہے ۔ اس میں اگر شک کی گنجائش ہو تو ہم دن کے وقت دریا ، پہاڑ ، آدمی ، مکان ، غرض جو کچھ بھی دیکھتے ہیں وہ سب بھی پھر مشکوک اور محض نظر کا دھوکا ہی ہو سکتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ آپ کی اپنی داخلی حالت بھی اس کی صحت کا یقین دلانے والی تھی ۔ آپ پوری طرح اپنے ہوش و حواس میں تھے ۔ پہلے سے آپ کے ذہن میں اس طرح کا سرے سے کوئی خیال نہ تھا کہ آپ کو ایسا کوئی مشاہدہ ہونا چاہیے یا ہونے والا ہے ۔ ذہن اس فکر سے اور اس کی تلاش سے بالکل خالی تھا ۔ اور اس حالت میں اچانک آپ کو اس معاملہ سے سابقہ پیش آیا ۔ اس پر یہ شک کرنے کی کوئی گنجائش نہ تھی کہ آنکھیں کسی حقیقی نظر کو نہیں دیکھ رہی ہیں بلکہ ایک خیالی ہیولیٰ سامنے آ گیا ہے ۔ تیسرے یہ کہ جو ہستی ان حالات میں آپ کے سامنے آئی تھی وہ ایسی عظیم ، ایسی شاندار ، ایسی حسین اور اس قدر منور تھی کہ نہ آپ کے وہم و خیال میں کبھی اس سے پہلے ایسی ہستی کا تصور آیا تھا جس کی وجہ سے آپ کو یہ گمان ہوتا کہ وہ آپ کے اپنے خیال کی آفریدہ ہے ، اور نہ کوئی جن یا شیطان اس شان کا ہو سکتا ہے کہ آپ اسے فرشتے کے سوا اور کچھ سمجھتے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میں نے جبریل کو اس صورت میں دیکھا کہ ان کے چھ سو بازو تھے ( مسند احمد ) ۔ ایک دوسری روایت میں ابن مسعود مزید تشریح کرتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام کا ایک ایک بازو اتنا عظیم تھا کہ افق پر چھایا ہوا نظر آتا تھا ( مسند احمد ) ۔ اللہ تعالیٰ خود ان کی شان کو شَدِیْدُ الْقُویٰ اور ذُوْ مِرَّۃٍ کے الفاظ میں بیان فرما رہا ہے ۔ چوتھے یہ کہ جو تعلیم وہ ہستی دے رہی تھی وہ بھی اس مشاہدے کی صحت کا اطمینان دلانے والی تھی ۔ اس کے ذریعہ سے اچانک جو علم ، اور تمام کائنات کے حقائق پر حاوی علم آپ کو ملا اس کا کوئی تصور پہلے سے آپ کے ذہن میں نہ تھا کہ آپ اس پر یہ شبہ کرتے کہ یہ میرے اپنے ہی خیالات ہیں جو مرتب ہو کر میرے سامنے آ گئے ہیں ۔ اسی طرح اس علم پر یہ شک کرنے کی بھی کوئی گنجائش نہ تھی کہ شیطان اس شکل میں آکر آپ کو دھوکا دے رہا ہے ۔ کیونکہ شیطان کا یہ کام آخر کب ہو سکتا ہے اور کب اس نے یہ کام کیا ہے کہ انسان کو شرک و بُت پرستی کے خلاف توحید خالص کی تعلیم دے ؟ آخرت کی باز پرس سے خبردار کرے ؟ جاہلیت اور اس کے طور طریقوں سے بیزار کرے ؟ فضائل اخلاق کی طرف دعوت دے ؟ اور ایک شخص سے یہ کہے کہ نہ صرف تو خود اس تعلیم کو قبول کر بلکہ ساری دنیا سے شرک اور ظلم اور فسق و فجور کو مٹانے اور ان برائیوں کی جگہ توحید اور عدل اور تقویٰ کی بھلائیاں قائم کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہو؟ پانچویں اور سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی شخص کو اپنی نبوت کے لیے چن لیتا ہے تو اس کے دل کو شکوک و شبہات اور وساوس سے پاک کر کے یقین و اذعان سے بھر دیتا ہے ۔ اس حالت میں اس کی آنکھیں جو کچھ دیکھتی ہیں اور اس کے کان جو کچھ سنتے ہیں ، اس کی صحت کے متعلق کوئی ادنیٰ سا تردد بھی اس کے ذہن میں پیدا نہیں ہوتا ۔ وہ پورے شرح صدر کے ساتھ ہر اس حقیقت کو قبول کر لیتا ہے جو اس کے رب کی طرف سے اس پر منکشف کی جاتی ہے ، خواہ وہ کسی مشاہدے کی شکل میں ہو جو اسے آنکھوں سے دکھایا جائے ، یا الہامی علم کی شکل میں ہو جو اس کے دل میں ڈالا جائے ، یا پیغام وحی کی شکل میں ہو جو اس کو لفظ بلفظ سنایا جائے ۔ ان تمام صورتوں میں پیغمبر کو اس امر کا پورا شعور ہوتا ہے کہ وہ ہر قسم کی شیطانی مداخلت سے قطعی محفوظ و مامون ہے اور جو کچھ بھی اس تک کسی شکل میں پہنچ رہا ہے وہ ٹھیک ٹھیک اس کے رب کی طرف سے ہے ۔ تمام خدا داد احساسات کی طرح پیغمبر کا یہ شعور و احساس بھی ایک ایسی یقینی چیز ہے جس میں غلط فہمی کا کوئی امکان نہیں ۔ جس طرح مچھلی کو اپنے تیراک ہونے کا ، پرندے کو اپنے پرندہ ہونے کا اور انسان کو اپنے انسان ہونے کا احساس بالکل خدا داد ہوتا ہے اور اس میں غلط فہمی کا کوئی شائبہ نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح پیغمبر کو اپنے پیغمبر ہونے کا احساس بھی خدا داد ہوتا ہے ، اس کے دل میں کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی یہ وسوسہ نہیں آتا کہ شاید اسے پیغمبر ہونے کی غلط فہمی لاحق ہو گئی ہے ۔
6: یعنی ایسا نہیں ہوا کہ آنکھ نے جو کچھ دیکھا ہو، دل نے اس کے سمجھنے میں غلطی کردی ہو۔
(53:11) ماکذب الفواد ما رای : الفواد (ف ء د مادہ) بمعنی دل۔ اس کی جمع افئدۃ ہے۔ ما (دوسرا) موصولہ ہے۔ رای ماضی واحد مذکر غائب اس کا صلہ۔ موصول و صلہ مل کر ماکذب کا مفعول ۔ جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ جانا۔ یعنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب جبرائیل کو ان کی اصل شکل میں دیکھا تو دل نے اس کی تصدیق کی ! کہ آنکھیں جو کچھ دیکھ رہی ہیں یہ ایک حقیقت ہے یہ واقعی جبرئیل ہے جو اپنی اصل صورت میں نظر آرہا ہے نظر کا فریب نہیں ہے۔ نگاہوں نے دھوکہ نہیں کھایا۔ کہ حقیقت کچھ اور ہو۔ اور نظر کچھ اور آرہا ہو۔
ماکذب الفواد مارا (١١) افتمرونہ علی مایری (٣٥ : ٢١) ” نظر نے جو دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے “ نہ صرف نظر سے دیکھا ہے آپ نے بلکہ دل سے بھی دیکھا ہے اور نظر میں تو فریب نظر ہوسکتا ہے لیکن دل میں فریب ممکن نہیں ہے۔ آپ نے دیکھا اور آپ کے قلب نے یقین کیا کہ یہ فرشتہ ہے۔ حامل وحی ہے ، اللہ کافر ستادہ ہے۔ آپ کی طرف تاکہ آپ کو وحی دے اور آپ تبلیغ کریں اور یہ جھگڑا اب ختم ہے کیونکہ آپ کے قلب نے اس حقیقت پر یقین کرلیا ہے اور آپ صادق وامین ہیں۔ پھر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس فرشتے کو صرف ایک ہی مرتبہ نہیں دیکھا۔ دوسری بار بھی دیکھا ہے۔ ولقد ........ الکبری (٨١) (٣٥ : ٣١ تا ٨١) ” اور ایک مرتبہ پھر اس نے سدرة المنتہیٰ کے پاس اس کو اترتے دیکھا جہاں پاس ہی جنت الماوی ہے۔ اس وقت سدرہ پر چھارہا تھا جو کچھ چھارہا تھا نگاہ نہ چندھائی نہ حد سے متجاوز ہوئی اور اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں “ یہ واقعہ واضح روایات کے مطابق شب معراج میں پیش آیا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے قریب آئے اور وہ اس ہیئت اور خلقت میں تھے جس پر اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اس وقت یہ سدرة المنتہیٰ کے پاس تھے۔ سدرہ ایک درخت ہے۔ بیری کا درخت۔ المنتہیٰ کے معنی یہ ہیں کہ جہاں کوئی حد آکر ختم ہوتی ہے اور وہیں جنت الماوی ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں تک شب معراج کو آپ کی سواری گئی۔ جہاں جاکر حضور اکرم اور جبرائیل (علیہ السلام) کی رفاقت ختم ہوئی۔ جہاں جبرائیل جاکر رک گئے اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بھی آگے گئے۔ اس مقام تک جو عرش ربی کے زیادہ قریب تھا۔ بہرحال یہ سب باتیں وہ ہیں جن کا تعلق عالم بالا اور عالم غیب سے ہے۔ اس کی حقیقت اللہ کو معلوم ہے یا اللہ کے بندے المصطفیٰ کو معلوم ہے۔ بس اسی قدر ہمیں روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ اگر کوئی روایت نہ ہو تو یہ اس سلسلے میں عقل کے گھوڑے نہیں دوڑا سکتے۔ اس موضوع پر انسان وہی کچھ معلوم کرسکتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ سے ملے۔ جو ملائکہ کا بھی خالق ہے جو انسان کا بھی خالق ہے اور دونوں کے خصائص کو وہ خوب جانتا ہے۔ البتہ یہاں اللہ تعالیٰ سدرة المنتہیٰ کے کچھ حالات بتادیئے ہیں تاکہ بات یقینی ہوجائے۔ اس سفر کو یقینی اور تاکیدی بنانے کے لئے۔
﴿مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى ٠٠١١﴾ (یعنی قلب نے جو کچھ دیکھا اس میں غلطی نہیں کی) یعنی جو کچھ دیکھا صحیح دیکھا اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔