Surat un Najam
Surah: 53
Verse: 13
سورة النجم
وَ لَقَدۡ رَاٰہُ نَزۡلَۃً اُخۡرٰی ﴿ۙ۱۳﴾
And he certainly saw him in another descent
اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا ۔
وَ لَقَدۡ رَاٰہُ نَزۡلَۃً اُخۡرٰی ﴿ۙ۱۳﴾
And he certainly saw him in another descent
اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا ۔
ولقد راہ نزلۃ اخری :” لام “ اور ” قد “ کے ساتھ تاکید قسم کے مفہوم کا فائدہ دیتی ہے۔ مشرکین کے انکار کی وجہ سے اتنی تاکید کے ساتھ بات کی ہے۔ یعنی تم زمین پر اس کے جبریل علیہ لاسلام کو دیکھنے کا انکار کرتے ہو ، قسم ہے کہ اس نے تو اسے ایک اور بار آسمانوں کے اوپر بھی اس کی اصل صورت میں اترتے ہوئے دیکھا ہے۔
ولَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ (And indeed he saw him another time by sidrat-ul-muntaha [ the lote-tree in the upper realm ]...53:13-14). Here too there are two views regarding the antecedent of the pronoun hu (him): [ 1] that it refers to seeing Allah; or [ 2] that it refers to seeing Jibra&il (علیہ السلام) . The adverb نَزْلَةً أُخْرَىٰ nazlatan ` ukhra [ another time or at another descent ], according to overwhelming majority, this nuzul refers to the second descent of Jibra&il (علیہ السلام) . The first vision was experienced in this world on the uppermost horizon of Makkah. The second vision was experienced on the seventh heaven near the Lote-Tree of the Uppermost Realm. Obviously, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) went up to the seventh heaven on the Night of Mi` raj. Thus it is possible to determine the approximate time of the second experience, which took place on that occasion. The word sidrah literally denotes lote-tree and muntaha means the place of intiha& [ end ]. Thus sidrat-ul-muntaha is the Lote-Tree on the seventh heaven under the Throne of the Gracious Allah. According to a narration in Muslim, the Tree is on the sixth heaven. Reconciliation is possible between the two apparently conflicting versions in that its root is on the sixth heaven and its branches are spread on the seventh heaven (Qurtubi). Generally the access of angels ends at this point, and therefore, it is called muntaha (the end). Some Traditions inform us that the Divine injunctions first descend from the Divine Throne to the sidrat-ul-muntaha which are handed over to the relevant angels. Similarly, angels going up from the earth to the heaven with Books of Deeds etc. convey them to this point. Then there may be some other way for their presentation to Allah Almighty. This subject is reported from ` Abdullah Ibn Masud (رض) as recorded by Imam Ahmad in his Musnad.
وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى، عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى، یہاں بھی رَاٰهُ کی ضمیر میں وہی دو قول ہیں کہ حق تعالیٰ مراد ہیں، یا جبرئیل امین نَزْلَةً اُخْرٰى کے معنی دوسری مرتبہ کا نزول ہے، راجح تفسیر کے مطابق یہ نزول بھی جبرئیل امین کا ہے اور جیسا کہ پہلی رویت کا مقام قرآن کریم نے اسی عالم دنیا میں مکہ مکرمہ کا افق اعلیٰ بتلایا تھا، اسی طرح اس دوسری رویت کا مقام ساتویں آسمان میں سدرة المنتہیٰ بتلایا اور یہ ظاہر ہے کہ ساتویں آسمان پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تشریف لے جانا شب معراج میں ہوا ہے، اس سے اس دوسری رویت کا وقت بھی فی الجملہ متعین ہوجاتا ہے، سدرہ لغت میں بیری کے درخت کو کہتے ہیں اور منتہیٰ کے معنی انتہا کی جگہ، ساتویں آسمان پر عرش رحمن کے نیچے یہ بیری کا درخت ہے، مسلم کی روایت میں اس کو چھٹے آسمان پر بتلایا اور دونوں روایتوں کی تطبیق اس طرح ہو سکتی ہے کہ اس کی جڑ چھٹے آسمان پر اور شاخین ساتویں آسمان پر پھیلی ہوئی ہیں (قرطبی) اور عام فرشتوں کی رسائی کی یہ آخری حد ہے، اسی لئے اس کو منتہیٰ کہتے ہیں، بعض روایات میں ہے احکام الٰہیہ اول عرش رحمن سے سدرة المنتہیٰ پر نازل ہوتے ہیں، یہاں سے متعلقہ فرشتوں کے سپرد ہوتے ہیں اور زمین سے آسمان پر جانے والے اعمال نامے وغیرہ بھی فرشتے یہیں تک پہنچاتے ہیں، وہاں سے حق تعالیٰ کے سامنے پیش کی اور کوئی صورت ہوتی ہے، مسند احمد میں یہ مضمون حضرت عبداللہ بن مسعود سے منقول ہے (ابن کثیر)
وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰى ١٣ ۙ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] ، فإنّ ذلک متناول للمرض في المعنی، كما أنّ النّفي في قولک : ما علم اللہ زيدا يخرج، هو للخروج، وتقدیر ذلک : قد يمرضون فيما علم الله، وما يخرج زيد فيما علم الله، وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) «2» يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء : قَدْ زيدا، وجعل ذلک مقیسا علی ما سمع من قولهم : قدني وقدک، والصحیح أنّ ذلک لا يستعمل مع الظاهر، وإنما جاء عنهم في المضمر . ( قد ) یہ حرف تحقیق ہے اور فعل کے ساتھ مخصوص ہے علماء نحو کے نزدیک یہ حرف توقع ہے اور اصل میں جب یہ فعل ماضی پر آئے تو تجدد اور حدوث کے معنی دیتا ہے جیسے فرمایا : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے ۔ قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] تمہارے لئے دوگرہوں میں ۔۔۔۔ ( قدرت خدا کی عظیم الشان ) نشانی تھی ۔ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] خدا نے ۔۔ سن لی ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ( اے پیغمبر ) ۔۔۔۔۔ تو خدا ان سے خوش ہوا ۔ لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی ۔ اور چونکہ یہ فعل ماضی پر تجدد کے لئے آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے اوصاف ذاتیہ کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا ۔ لہذا عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] کہنا صحیح نہیں ہے اور آیت : اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں ۔ میں قد لفظا اگر چہ علم پر داخل ہوا ہے لیکن معنوی طور پر اس کا تعلق مرض کے ساتھ ہے جیسا کہ ، ، میں نفی کا تعلق خروج کے ساتھ ہے ۔ اور اس کی تقدریروں ہے اگر ، ، قد فعل مستقل پر داخل ہو تو تقلیل کا فائدہ دیتا ہے یعنی کبھی وہ فعل واقع ہوتا ہے اور کبھی واقع نہیں ہوتا اور آیت کریمہ : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں ۔ کی تقدیریوں ہے قد یتسللون احیانا فیما علم اللہ ( تو یہ بہت آیت بھی ماسبق کی طرح موؤل ہوگی اور قد کا تعلق تسلل کے ساتھ ہوگا ۔ قدوقط یہ دونوں اسم فعل بمعنی حسب کے آتے ہیں جیسے محاورہ ہے قد فی کذا اوقطنی کذا اور قدی ( بدون نون وقایہ ا کا محاورہ بھی حکایت کیا گیا ہے فراء نے قدنی اور قدک پر قیاس کرکے قدر زید ا بھی حکایت کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ قد ( قسم فعل اسم ظاہر کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف اسم مضمر کے ساتھ آتا ہے ۔ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا
جبرئیل (علیہ السلام) کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مرتبہ اصلی حالت میں دیکھا قول باری ہے (ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھیٰ ۔ اور انہوں نے اس فرشتہ کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے سدرۃ المنتہیٰ کے قریب) حضرت ابن مسعود (رض) ، حضرت عائشہ (رض) ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے رب کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہ بات علم کے معنی کی طرف راجع ہے۔ حضرت ابن مسعود (رض) اور ضحاک سے مروی ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان میں ہے۔ آسمان کی طرف جانے والی ہر چیز کے صعود کی اس پر انتہا ہوجاتی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس مقام کا نام اس لئے سدرۃ المنتہیٰ ہے کہ شہیدوں کی روحیں یہاں تک پہنچتی ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ جنت الماویٰ اس جگہ کا نام ہے جہاں اہل جنت پہنچیں گے۔ اس آیت میں یہ دلالت موجود ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آسمان نیز جنت تک تشریف لے گئے تھے کیونکہ قول باری ہے (راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھیٰ عندھا جنۃ الماوی)
آیت ١٣{ وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی ۔ } ” اور انہوں نے تو اس کو ایک مرتبہ اور بھی اترتے دیکھا ہے۔ “ یعنی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دو مرتبہ اصلی شکل و صورت میں دیکھا ہے۔ دوسری مرتبہ کہاں دیکھا ؟
(53:13) ولقد راہ واؤ عاطفہ قد ماضی کے ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے ۔ لام تاکید مزید کے لئے ۔ (انہوں نے تو اسے دوبارہ بھی دیکھا ہے) ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں۔ نزلۃ اخری۔ موصوف وصفت ای مرۃ اخری دوسری مرتبہ۔ منصوب بوجہ مصدر کے ہے۔ کلام کی تقدیر یوں ہے ولقد راہ نازلا نزلۃ اخری۔ اور اس نے تو اس کو دوبارہ بھی نازل ہوتے دیکھا ہے یا دوسری۔
ف 6 یہ معراج کا واقعہ ہے کہ آنحضرت نے جبرئیل کو دوسری مرتبہ ان کی اصلی شکل میں دیکھا۔ (ابن کثیر)
دوسری بار رویت : ﴿وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ٠٠١٣﴾ (اور بلاشبہ انہوں نے اس فرشتے کو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا) اس میں دوسری مرتبہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی رویت کا ذکر ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ایک مرتبہ مکہ معظمہ میں اصلی صورت میں دیکھا تھا اس کے بعد ایک مرتبہ شب معراج میں سدرۃ المنتہیٰ کے قریب اصلی صورت میں دیکھا۔
7:۔ ” ولقد راہ “ یہ جبریل (علیہ السلام) کو دوسری بار اصلی صورت میں دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ واقعہ شب معراج میں پیش آیا۔ عند اور اذ ظروف رای سے متعقلق ہیں۔ ” سدرۃ المنتہی “ بیری کے مانند ساتویں آسمان پر ایک درخت ہے جس کا پھل بڑے بڑے مٹکوں کے برابر ہے۔ اسی کے قریب جبریل (علیہ السلام) کا مقام ہے اور یہی اس کے پرواز کی منتہا ہے۔ مایغشی سے اللہ کا نور اور فرشتے مراد ہیں۔ اس پر اس قدرت فرشتے تھے کہ دخت ان میں چھپ گیا تھا۔ غشیہا نور الرب او الملائکۃ تقع علیہا کما یقع الغربان علی الشجرۃ (قرطبی ج 17 ص 96) ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبریل امین کو اس کی اصلی صورت میں صرف زمین پر ایک ہی بار نہیں دیکھا بلکہ دوسری بار آسمان میں سدرۃ المنتہی کے پاس بھی اس کو اصلی صورت میں دیکھا ہے، وہاں سدرۃ المنتہی کے پاس ہی جنۃ الماوی بھی ہے جو متقین کا مقام ہے۔ اس وقت سدرۃ المنتہی نور ربی اور بجلی الٰہی سے جگمگا رہا تھا اور اس پر فرشتوں کا اس قدر جھرمٹ تھا کہ درخت ان کے نیچے چھپ گیا تھا وہاں بھی آپ نے جبریل کو صاف صاف دیکھا اس کے دیکھنے میں آپ کی نگاہ نہ ادھر ادھر ہٹی اور نہ اس سے آگے بڑھ کر کسی دوسری چیز کی طرف اٹھی۔ گویا یہاں بھی آپ نے جبریل (علیہ السلام) کو پورے یقین و وثوق سے دیکھا۔ قال ابن عباس ای ما اعدل یمینا ولا شمالا ولا تجاوز الھد الذی رای (ابن کثیر، قرطبی) ۔ ای اثبت ما راہ اثباتا مستیقنا صحیحا من غیر ان یزیغ بصرہ او یتجاوزہ (کشاف) ۔