Surat un Najam
Surah: 53
Verse: 35
سورة النجم
اَعِنۡدَہٗ عِلۡمُ الۡغَیۡبِ فَہُوَ یَرٰی ﴿۳۵﴾
Does he have knowledge of the unseen, so he sees?
کیا اسے علم غیب ہے کہ وہ ( سب کچھ ) دیکھ رہا ہے؟
اَعِنۡدَہٗ عِلۡمُ الۡغَیۡبِ فَہُوَ یَرٰی ﴿۳۵﴾
Does he have knowledge of the unseen, so he sees?
کیا اسے علم غیب ہے کہ وہ ( سب کچھ ) دیکھ رہا ہے؟
Is with him the knowledge of the Unseen so that he sees? means, does this person, who stopped giving for fear of poverty and ended his acts of charity have knowledge of the Unseen and thus knows that if he does not stop giving, his wealth will go away? No. Such a person has stopped giving in charity for righteous causes and did not keep relations with kith and kin because of his miserliness, being stingy and out of fear of poverty. The Prophet said in a Hadith, أَنْفِقْ بِلَلُ وَلاَ تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَلاً O Bilal, spend and fear not less provisions from the Owner of the Throne. Allah the Exalted and Most honored said, وَمَأ أَنفَقْتُمْ مِّن شَىْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ And whatsoever you spend of anything (in Allah's cause), He will replace it. And He is the Best of providers. (34:39) The Meaning of `fulfilled Allah the Exalted said, أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَى
35۔ 1 یعنی کیا وہ دیکھ رہا ہے کہ اس نے فی سبیل اللہ خرچ کیا تو اس کا مال ختم ہوجائے گا ؟ نہیں، غیب کا یہ علم اس کے پاس نہیں ہے بلکہ وہ خرچ کرنے سے گریز محض بخل، دنیا کی محبت اور آخرت پر عدم یقین کی وجہ سے کر رہا ہے اور اطاعت الٰہی سے انحراف کی وجوہات بھی یہی ہیں۔
[٢٦] اس سے مراد ولید بن مغیرہ بھی ہوسکتا ہے اور اس کا مشرک ساتھی بھی۔ آخرت کے متعلق ان دونوں کا علم نہایت ناقص اور ظن و قیاس پر مبنی تھا۔ لیکن دونوں نے معاہدہ اس انداز سے کرلیا جیسا وہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور آخرت کے احوال سے پوری طرح واقف ہوچکے ہیں۔ ولید بن مغیرہ کا علم تو اس لحاظ سے ناقص تھا کہ اس نے یہ سمجھا کہ جیسے دنیا میں مال وغیرہ دے کر کسی مصیبت سے انسان بچ سکتا ہے اور مال لینے والا دینے والے کی مصیبت اپنے سر مول لے لیتا ہے ویسے آخرت کا معاملہ بھی ہوگا اور اس کا مشرک ساتھی اس کی بلا اپنے سر لے لے گا اور مشرک ساتھی نے اس بنا پر وعدہ کیا تھا کہ وہ آخرت کا قطعی طور پر منکر تھا اسے اگر یقین تھا تو صرف اس بات کا تھا کہ ہونا ہوانا تو کچھ ہے نہیں جو مال ملتا ہے اسے کیوں چھوڑیں۔ یا ممکن ہے وہ بھی آخرت کے بارے میں مشکوک ہو اور جزا و سزا کے معاملہ میں ایسا ہی گمان رکھتا ہو جیسے ولید بن مغیرہ کا تھا۔
اعندہ علم الغیب فھویری “ یعنی یہ شخص ایمان سے منہ موڑنے اور اس تمام تر بخل اور کنجوسی کے باوجود جو اپنے آپ کو پاک قرار دے رہا ہے اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رہنے اور وہاں کی نعمتوں کے حق دار ہونے کا جو گمان اس نے کر رکھا ہے ، کیا اس کے پاس علم الغیب کی دور بین ( آلہ) ہے جس کے ساتھ وہ یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے ؟
أَعِندَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰ (Does he have knowledge of the Unseen whereby he sees [ what he believes ]?...53:35) According to the story recounted in connection with the occasion of revelation, the verse means: The person who embraced Islam and later abandoned it because his friend assured him that he would bear the punishment in the Hereafter on his behalf, and spare him the pain. The fool believed him and took for granted the assurance given to him. Does he have the knowledge of the Unseen, so that he is able to see that the chastisement he deserves for disbelief will be taken over for sure by his friend? This is wholly a make-believe situation. He neither has the knowledge of the Unseen, nor can he take on the punishment of somebody else and save him. Apart from the story recounted in connection with the occasion of revelation, the verse would mean: Does this person, who stopped giving for fear of poverty and ended his acts of charity have knowledge of the Unseen and thus knows that if he does not stop spending, his wealth will go away? No. This is absolutely false. Such a person has neither the knowledge of the Unseen so that he is able to see that if he goes on spending, his wealth wi11 be depleted and not replenished. He stopped spending in charity for righteous causes, and did not keep relations with kith and kin because of his miserliness, being stingy and out of fear of poverty. The Qur&an makes plain in [ 34:39] مَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ ۖ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ And whatever thing you spend, He replaces it. And He is the best of the sustainers. [ 34:39]
اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرٰى، شان نزول میں جو قصہ بیان ہوا ہے اس کے مطابق تو آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے اسلام کو اس لئے چھوڑ دیا کہ اس کے کسی ساتھی نے اس سے کہہ دیا تھا کہ آخرت کا تیرا عذاب میں اپنے سر لے کر تجھ کو بچا دوں گا، اس احمق نے اس کا یقین کیسے کرلیا، کیا اس کو علم غیب حاصل ہے ؟ جس سے وہ دیکھ رہا ہے کہ بیشک کفر کی صورت میں وہ جس عذاب کا مستحق ہوگا وہ عذاب یہ ساتھی اپنے سر لے لے گا اور مجھے بچا دے گا، جو ظاہر ہے کہ سراسر دھوکہ ہے نہ اس کو علم غیب ہے نہ کوئی دوسرا آدمی کسی کا عذاب آخرت اپنے سر لے کر اس کو بچا سکتا ہے، اور اگر اس قصہ سے قطع نظر کی جائے تو معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ وہ شخص جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا کرتا رک گیا ہے اور خرچ کرنا چھوڑ دیا ہے تو اس کی وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ اس کو یہ خیال ہوا ہوگا کہ موجودہ مال خرچ کر دوں گا تو پھر کہاں سے آئے گا، اس خیال کی تردید میں فرمایا کہ کیا اس کو غیب کا علم ہے جس کے ذریعہ گویا وہ یہ دیکھ رہا ہے کہ یہ مال ختم ہوجائے گا اور اس کے بجائے اور مال اس کو نہ مل سکے گا، یہ غلط ہے، کیونکہ نہ اس کو غیب کا علم ہے اور نہ یہ بات صحیح ہے، کیونکہ قرآن کریم میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے ( ۭ وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ ) یعنی تم جو کچھ خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کا بدل تمہیں دیدیتے ہیں اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والے ہیں۔ انسان غور کرے تو قرآن کا یہ ارشاد صرف مال اور پیسہ کے معاملہ میں نہیں، بلکہ ہر قوت و توانائی جو وہ دنیا میں خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدن میں اس کا بدل ما یتحلل پیدا کرتے رہتے ہیں، ورنہ انسان کے بدن کا ایک ایک عضو اگر فولاد کا بھی بنا ہوتا تو ساٹھ ستر سال کام لینے سے کبھی کا گھس گھسا کر برابر ہوجاتا، جس طرح اللہ تعالیٰ انسان کے تمام اعضاء میں جو کچھ محنت سے تحلیل ہوجاتا ہے خود کار مشین کی طرح اس کا بدل اندر سے پیدا کردیتے ہیں، اسی طرح مال کا بھی معاملہ یہی ہے کہ انسان خرچ کرتا رہتا ہے اس کا بدل آتا رہتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال کو فرمایا : انفق یا بلالو لا تخش من ذی العرش اقلالا، |" یعنی بلال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہو اور عرش والے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا خطرہ نہ رکھو کہ وہ تمہیں مفلس کر دے گا |"۔ (ابن کثیر)
اَعِنْدَہٗ عِلْمُ الْغَيْبِ فَہُوَيَرٰى ٣٥ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا غيب الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] ( غ ی ب ) الغیب ( ض ) غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے پودشیدہ ہو اس پر غیب کا لفظ بولا جاتا ہے رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔
کیا اس کے سامنے لوح محفوظ ہے کہ وہ اس میں اپنے کام کو دیکھ رہا ہے کہ جو یہ کر رہا ہے۔ حضرت عثمان بن عفان بہت زیادہ صدقہ و خیرات کرنے والے اور اصحاب محمد کی مدد کرنے والے تھے اتفاق سے عبداللہ بن سعد ابی سرح ان سے ملا اور کہنے لگا کہ میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ ان لوگوں پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کنگال ہوجائیں گے۔ حضرت عثمان بولے کہ میرے بہت زیادہ گناہ اور غلطیاں ہیں میں ان کی معافی اور اپنے پروردگار کی رضا جوئی کے لیے ایسا کرتا ہوں تو اس پر عبداللہ کہنے لگا اپنی اونٹنی کی مہار مجھے دے دو اور دنیا و آخرت میں جو تمہارے گناہ ہیں وہ میرے حوالے کردو تب یہ آیت نازل ہوئی۔
آیت ٣٥{ اَعِنْدَہٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَہُوَ یَرٰی ۔ } ” کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے ! “
35 That is, °Does he know that this conduct is in any way beneficial for him? Does he know that a person can save himself even in this way from the punishment of the Hereafter?"
سورة النَّجْم حاشیہ نمبر :35 یعنی کیا اسے معلوم ہے کہ یہ روش اس کے لیے نافع ہے ؟ کیا وہ جانتا ہے کہ آخرت کے عذاب سے کوئی اس طرح بھی بچ سکتا ہے ۔ ؟
(53:35) اعندہ علم الغیب : ہمزہ استفہام انکاری ہے کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے (یعنی نہیں ہے) ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ولید بن مغیرہ ہے یا وہ شخص جس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ الیسر التفاسیر میں ہے : ای یعلم ان غیرہ یتحمل عنہ العذاب والجواب لا : (کیا وہ جانتا ہے کہ کوئی دوسرا اس پر سے عذاب کو اٹھالے گا اور اس کا جواب ہے ” نہیں “ ) اعندہ علم الغیب : رایت کا مفعول ثانی ہے۔ مفعول اول اسم موصول الذی ہے۔ فھو یری : میں ف سببیہ ہے۔ یعنی کیا اس کو غیب کا علم ہے جس کی وجہ سے وہ جانتا ہے یا دیکھتا ہے کہ میں اگر کچھ مال دیدوں گا تو وہ شخص میرے اوپر سے شرک کا عذاب اٹحا کر اپنے اوپر لادلے گا۔
اعندہ ............ یری (٣٥ : ٥٣) ” کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ حقیقت کو دیکھ رہا ہے۔ “ غیب کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے اور اللہ کے سوا کسی کو غیب کا علم نہیں ہوتا۔ لہٰذا عالم غیب میں انسان کے لئے جو کچھ پوشیدہ ہے انسان اس سے مامون نہیں ہوسکتا۔ اس لئے انسان کو چاہئے کہ وہ ہر وقت نیک عمل کرتا رہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہے اور پوری زندگی میں محتاط رہے اور اپنے اعمال کو تسلسل دے۔ یہ نہ ہو کہ کچھ تھوڑا سا انفاق کرے پھر چھوڑ دے اور غیب مجہول کے دفاع میں اس کو یہی ضمانت حاصل ہے کہ وہ احتیاط کرے اپنے عمل کو جاری رکھے اور مسلسل رکھے اور اللہ کی مغفرت کا امیدوار ہو اور دعا کرے کہ اس کے اعمال قبول ہوں۔
22:۔ ” اعندہ۔ الایۃ “ کیا وہ غیب جانتا ہے اور پردہ غیب سے ورے دیکھ رہا ہے اور اسے معلوم ہوگیا ہے کہ وہ کسی کی سفارش اور حمایت سے اللہ کے عذاب سے بچ جائیگا ؟ استفہام انکاری ہے یعنی وہ غیب نہیں جانتا اور فرشتوں کی شفاعت سے یا کسی کی ضمانت و حمایت کی بناء پر عذاب الٰہی سے نہیں بچ سکتا۔