Surat un Najam

Surah: 53

Verse: 36

سورة النجم

اَمۡ لَمۡ یُنَبَّاۡ بِمَا فِیۡ صُحُفِ مُوۡسٰی ﴿ۙ۳۶﴾

Or has he not been informed of what was in the scriptures of Moses

کیا اسے اس چیز کی خبر نہیں دی گئی جو موسیٰ ( علیہ السلام ) کے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ الم لم ینبا بما فی صحف موسیٰ ۔۔۔۔۔ یعنی اگر وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں اور اس کے پاس علم غیب بھی نہیں تو کیا پہلے انبیاء کی کتابوں میں جو بنیادی اصول کھلے ہیں وہ بھی کسی نے اسے نہیں بتائے ؟ ان انبیاء میں سے ابراہیم اور موسیٰ (علیہ السلام) کا خاص طور پر ذکر اس لیے فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر چلنے کا وہ دعویٰ رکھتے تھے اور ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد احکام کی بنیادی کتاب موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی تورات ہی تھی جس پر بعد کے تمام انبیاء عمل کرتے تھے اور جو اس وقت بھی موجود تھی اور قریش یہودیوں سے اس کے متعلق پوچھتے رہتے تھے۔ ٢۔ و ابراہیم الذی وفی :” فی “ جس نے پورا کیا ، یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کیا پورا کیا ، تا کہ وہ عام رہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اور بندوں سے کیا ہوا ہر عہد پورا کیا ( دیکھئے توبہ : ١١٤) اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا اسے پورا کیا اور جن باتوں کے ساتھ امتحان لیا سب پوری کردکھائیں۔ (دیکھئے بقرہ : ١٢٤)” الذی وفی “ ( جس نے پورا کیا) پر مفسر ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں : ” میرے خیال میں ” الذی “ موصول دونوں میں سے ہر ایک کی صفت ہے۔ ( واللہ اعلم) ” ای کل واحد منھما “ یعنی ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) میں سے ہر ایک نے عہد پورا کیا ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ وَإِبْرَ‌اهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ (Has he not been told of what was [ revealed ] in the scriptures of Musa and of Ibrahim who fulfilled [ his covenant ]?... 53:36- 37) In verse [ 37], the Prophet Ibrahim I has been described by the expression waffa which is derived from the root word wafa& and it means to fulfill faithfully the covenant one has made with someone. Special Characteristic of Ibrahim (علیہ السلام) : fulfillment of Covenant Holy Prophet Ibrahim (علیہ السلام) had a covenant with Allah that he will obey Him and convey His Message to all the people. He fulfilled faithfully the covenant: He obeyed Allah and delivered His Message to His creatures. As a result, he was made to pass through severe trials and tribulations. This is the interpretation placed upon the expression waffa (fulfilled) by Ibn Jarir, Ibn Kathir and others. Several narratives describe particular works of Holy Prophet Ibrahim (علیہ السلام) as a purport of the expression waffa, but the two versions are not contradictory, because fulfillment of covenant is general. It comprehends acting upon all the Divine injunctions, obeying Allah in all actions, fulfilling the duties of Prophet-hood and messenger-ship and reforming the creation of Allah. Let us consider the narrative which Ibn Abi Hatim has reported on the authority of Sayyidna Abu &Umamah (رض) that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) recited the verse 37, and asked: Do you know what is the meaning of waffa (fulfilled)? Sayyidna Abu &Umamah (رض) replied: Allah and His Rasul know best. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: وَفّٰی عَمَلَ یَومِیہٖ بِاَربَعِ رَکعَاتِ فِی اَوَّلِ النَّھَارِ ۔ (ابن کثیر) |"He fulfilled the day&s work by starting it with the performance of four rak&at [ that is, salat-ul-ishraq ].|" This is supported by the Tradition recorded in Tirmidhi on the authority of Sayyidna Abu Dharr (رض) ، according to whom the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: اِبنَ آدَم ارکَع لِی اَربَعَ رَکعَاتِ مَّن اَوَّلِ النَّھَار اَکفِکَ اٰخِرَہ، (ابن کثیر) |"0 Son of &Adam! Perform four rak’ at of prayer in the early part of the day, I shall take of you in all your affairs till the end of the day.|" Ibn Abi Hatim reports another Tradition from Sayyidna Muadh Ibn Anas (رض) that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: |"Do you know why Allah gave Ibrahim علیہ السلام the title of al-ladhi waffa (the one who fulfilled)? Then, he said, &Because he used to recite the following dhikr every morning and evening: فَسُبْحَانَ اللَّـهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُ‌ونَ (ابن کثیر)

اَمْ لَمْ يُنَبَّاْ بِمَا فِيْ صُحُفِ مُوْسٰى وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّيٰٓ ، اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک خاص صفت وَفّٰی بیان فرمائی گئی، وفا کے معنی کسی وعدہ یا معاہدے کو پورا کردینے کے آتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خاص صفت ایفائے عہد کی کچھ تفصیل : مراد یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے جو اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں گے اور اس کا پیغام مخلوق کو پہنچا دیں گے، انہوں نے اس معاہدہ کو ہر حیثیت سے پورا کر دکھایا، جس میں ان کو بہت سخت آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑا، وفی کی یہی تفسیر ابن جریر، ابن کثیر وغیرہ نے اختیار کی ہے۔ بعض روایات حدیث میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خاص خاص اعمال کو لفظ وفی کا سبب بنایا گیا ہے وہ اس کے منافی نہیں، کیونکہ اصل وفاء عہد عام ہے، تمام احکام الٰہیہ کی تعمیل و اطاعت جس میں اپنے اعمال بھی داخل ہیں، اور فرائض رسالت و نبوت کے ذریعہ عام خلق اللہ کی اصلاح بھی، انہیں اعمال میں یہ عمل بھی ہیں جن کا ذکر ان روایات حدیث میں ہے۔ مثلاً ابن ابی حاتم نے حضرت ابو امامہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی (وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّيٰٓ ) اور پھر ان سے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ و فی کا مطلب کیا ہے ؟ ابوامامہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، تو آپ نے فرمایا کہ مراد یہ ہے کہ :۔ وفی عمل یومہ باربع رکعات فی اول النھار (ابن کثیر) |" یعنی انہوں نے اپنے دن کے اعمال کی تکمیل اس طرح کردی کہ شروع دن میں چار رکعت (نماز اشراق کی) پڑھ لیں |"۔ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو ترمذی نے حضرت ابوذر سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :۔ ابن ادم ارکع لی اربع رکعات من اول النھار اکفک اخرہ (ابن کیثر) |" یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے آدم کے بیٹے ! تو شروع دن میں میرے لئے چار رکعتیں پڑھ لیا کر تو میں آخر دن تک تیرے سب کاموں کی کفالت کروں گا |"۔ اور ابن ابی حاتم ہی نے ایک روایت حضرت معاذ بن انس سے یہ نقل کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں تمہیں بتلاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو الذی و فی کا خطاب کیوں دیا، پھر فرمایا کہ وجہ یہ ہے کہ وہ روزانہ صبح شام ہونے کے وقت یہ پڑھا کرتے تھے (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ ، وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ ) ابن کثیر

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَمْ لَمْ يُنَبَّاْ بِمَا فِيْ صُحُفِ مُوْسٰى۝ ٣٦ ۙ أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔ «لَمْ» وَ «لَمْ» نفي للماضي وإن کان يدخل علی الفعل المستقبل، ويدخل عليه ألف الاستفهام للتّقریر . نحو : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] ، أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی [ الضحی/ 6] . ( لم ( حرف ) لم ۔ کے بعد اگرچہ فعل مستقبل آتا ہے لیکن معنوی اعتبار سے وہ اسے ماضی منفی بنادیتا ہے ۔ اور اس پر ہمزہ استفہام تقریر کے لئے آنا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] کیا ہم نے لڑکپن میں تمہاری پرورش نہیں کی تھی ۔ نبأ خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ، ( ن ب ء ) النبا ء کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں موجود نہ ہوں ۔ یعنی نہایت مفید ہونا اور اس سے علم یا غلبہ ظن کا حاصل ہونا اور نبا صرف اس خبر کو کہا جاتا ہے جس میں کذب کا احتمال نہ ہو ۔ جیسے خبر متواتر خبر الہیٰ اور خبر نبوی جیسے فرمایا : ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] کہہ دو کہ یہ ایک بڑی ( ہولناک چیز کی ) خبر ہے جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے صحف الصَّحِيفَةُ : المبسوط من الشیء، کصحیفة الوجه، والصَّحِيفَةُ : التي يكتب فيها، وجمعها : صَحَائِفُ وصُحُفٌ. قال تعالی: صُحُفِ إِبْراهِيمَ وَمُوسی [ الأعلی/ 19] ، يَتْلُوا صُحُفاً مُطَهَّرَةً فِيها كُتُبٌ قَيِّمَةٌ [ البینة/ 2- 3] ، قيل : أريد بها القرآن، وجعله صحفا فيها كتب من أجل تضمّنه لزیادة ما في كتب اللہ المتقدّمة . والْمُصْحَفُ : ما جعل جامعا لِلصُّحُفِ المکتوبة، وجمعه : مَصَاحِفُ ، والتَّصْحِيفُ : قراءة المصحف وروایته علی غير ما هو لاشتباه حروفه، والصَّحْفَةُ مثل قصعة عریضة . ( ص ح ف ) الصحیفۃ کے معنی پھیلی ہوئی چیز کے ہیں جیسے صحیفۃ الوجہ ( چہرے کا پھیلاؤ ) اور وہ چیز جس میں کچھ لکھا جاتا ہے اسے بھی صحیفہ کہتے ہیں ۔ اس کی جمع صحائف وصحف آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ صُحُفِ إِبْراهِيمَ وَمُوسی [ الأعلی/ 19] یعنی ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ يَتْلُوا صُحُفاً مُطَهَّرَةً فِيها كُتُبٌ قَيِّمَةٌ [ البینة/ 2- 3] پاک اوراق پڑھتے ہیں جس میں مستحکم ( آیتیں ) لکھی ہوئی ہیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ صحف سے قرآن پاک مراد ہے اور اس کو صحفا اور فیھا کتب اس لئے کہا ہے کہ قرآن میں کتب سابقہ کی بنسبت بہت سے زائد احکام اور نصوص پر مشتمل ہے ۔ المصحف متعدد صحیفوں کا مجموعہ اس کی جمع مصاحف آتی ہے اور التصحیف کے معنی اشتباہ حروف کی وجہ سے کسی صحیفہ کی قرآت یا روایت میں غلطی کرنے کے ہیں ۔ اور صحفۃ ( چوڑی رکابی ) چوڑے پیالے کی طرح کا ایک برتن ۔ موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته .

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٦۔ ٣٧) کیا اس کو بذریعہ قرآن حکیم اس مضمون کی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ کے صحیفوں اور نیز ابراہیم کے صحیفوں میں تھی جنہوں نے احکام کی پوری تعمیل کی اور رسالت کامل طور پر پہنچا دی یا یہ کہ جو خواب میں نے دیکھا تھا اس کی پوری بجا آوری کی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٦{ اَمْ لَمْ یُـنَـبَّـاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰی ۔ } ” کیا اسے خبر نہیں پہنچی اس بارے میں جو کچھ موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں تھا ؟ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(53:36) ام لہم ینبا : ام بمعنی ہمزہ استفہامیہ ہے ای الم ینبا۔ لم ینبا مضارع مجہول نفی جحد بلم۔ صیغہ واحد مذکر غائب۔ تنبئۃ (تفعیل) مصدر ن ب ء مادہ۔ خبر دینا۔ کیا اس کو خبر نہیں دی گئی۔ بما : میں ب تعدیہ کا ہے۔ ما موصولہ ہے۔ صحف : صحیفے، کتابیں۔ اور اق، صحیفۃ کی جمع ہے۔ یہ جمع نادر ہے کیونکہ فعلیہ بروزن فعل نہیں آتی۔ ندرت اور قیاس میں اس کی مثال۔ سفینۃ (واحد) کی جمع سفن ہے۔ ترجمہ : کیا اس کو ان باتوں کی خبر نہیں پہنچی جو (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ام لم ............ الذی وفی (٣٥ : ٧٣) ” کیا اسے ان باتوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ کے صحیفوں اور اس ابراہیم کے صحیفوں میں بیان ہوئی جس نے وفا کا حق ادا کردیا۔ “ یہ سیدھا دین وہ ہے جو تمام پیغمبروں کے ہاں ایک ہی رہا ہے اور اس کے اصول اور بنیادیں ایک ہی رہی ہیں۔ تمام رسولوں کی کتابیں اور دعوتیں ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں۔ اگرچہ زمانہ ومکان کا اختلاف ہے۔ یہی اصول صحف موسیٰ میں تھے۔ یہی ملت ابراہیمی کے اصول تھے۔ حضرت ابراہیم وہ تھے جنہوں نے بہت بڑی وفاداری کا ثبوت دیا۔ ہر چیز کو پوراپورا ادا کیا۔ مطلقا وفادار تھے۔ یہاں وفا کا ذکر اکدی کے مقابلے میں ہوا۔ اکدی انقطاع کو کہتے ہیں۔ اس کے مقابلے وفی کا لفظ تشدید سے آیا ہے تاکہ قافیہ اور ترنم میں فرق نہ آئے۔ سوال یہ ہے کہ صحف ابراہیم میں کیا تھا ؟

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

23:۔ ” ام لم ینبا۔ تا۔ ما غشی “ یہ دلیل نقلی ہے۔ ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) کے صحیفوں سے ” ان لاتزر وازرۃ “ سے لے کر ” اظلم وا طغی “ تک دونوں صحیفوں کا مشترکہ بیان ہے اور والمؤتفکۃ۔ الایۃ۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں میں نہیں کیونکہ یہ قوم لوط کی بستیاں ہیں جو صحف ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد تباہ ہوئیں۔ ” الذی وفی “ وہ ابراہیم جس نے اللہ کے احکام کو پورا کیا اور ان تمام عہود و مواعید سے عہد برآ ہوئے جو اللہ نے ان سے لیے تھے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(36) کیا اس کو ان مضامین کی خبر نہیں پہنچی جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں مذکور ہیں۔