أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ (Has he not been told of what was [ revealed ] in the scriptures of Musa and of Ibrahim who fulfilled [ his covenant ]?... 53:36- 37) In verse [ 37], the Prophet Ibrahim I has been described by the expression waffa which is derived from the root word wafa& and it means to fulfill faithfully the covenant one has made with someone. Special Characteristic of Ibrahim (علیہ السلام) : fulfillment of Covenant Holy Prophet Ibrahim (علیہ السلام) had a covenant with Allah that he will obey Him and convey His Message to all the people. He fulfilled faithfully the covenant: He obeyed Allah and delivered His Message to His creatures. As a result, he was made to pass through severe trials and tribulations. This is the interpretation placed upon the expression waffa (fulfilled) by Ibn Jarir, Ibn Kathir and others. Several narratives describe particular works of Holy Prophet Ibrahim (علیہ السلام) as a purport of the expression waffa, but the two versions are not contradictory, because fulfillment of covenant is general. It comprehends acting upon all the Divine injunctions, obeying Allah in all actions, fulfilling the duties of Prophet-hood and messenger-ship and reforming the creation of Allah. Let us consider the narrative which Ibn Abi Hatim has reported on the authority of Sayyidna Abu &Umamah (رض) that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) recited the verse 37, and asked: Do you know what is the meaning of waffa (fulfilled)? Sayyidna Abu &Umamah (رض) replied: Allah and His Rasul know best. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: وَفّٰی عَمَلَ یَومِیہٖ بِاَربَعِ رَکعَاتِ فِی اَوَّلِ النَّھَارِ ۔ (ابن کثیر) |"He fulfilled the day&s work by starting it with the performance of four rak&at [ that is, salat-ul-ishraq ].|" This is supported by the Tradition recorded in Tirmidhi on the authority of Sayyidna Abu Dharr (رض) ، according to whom the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: اِبنَ آدَم ارکَع لِی اَربَعَ رَکعَاتِ مَّن اَوَّلِ النَّھَار اَکفِکَ اٰخِرَہ، (ابن کثیر) |"0 Son of &Adam! Perform four rak’ at of prayer in the early part of the day, I shall take of you in all your affairs till the end of the day.|" Ibn Abi Hatim reports another Tradition from Sayyidna Muadh Ibn Anas (رض) that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: |"Do you know why Allah gave Ibrahim علیہ السلام the title of al-ladhi waffa (the one who fulfilled)? Then, he said, &Because he used to recite the following dhikr every morning and evening: فَسُبْحَانَ اللَّـهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ (ابن کثیر)
اَمْ لَمْ يُنَبَّاْ بِمَا فِيْ صُحُفِ مُوْسٰى وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّيٰٓ ، اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک خاص صفت وَفّٰی بیان فرمائی گئی، وفا کے معنی کسی وعدہ یا معاہدے کو پورا کردینے کے آتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خاص صفت ایفائے عہد کی کچھ تفصیل : مراد یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے جو اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں گے اور اس کا پیغام مخلوق کو پہنچا دیں گے، انہوں نے اس معاہدہ کو ہر حیثیت سے پورا کر دکھایا، جس میں ان کو بہت سخت آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑا، وفی کی یہی تفسیر ابن جریر، ابن کثیر وغیرہ نے اختیار کی ہے۔ بعض روایات حدیث میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خاص خاص اعمال کو لفظ وفی کا سبب بنایا گیا ہے وہ اس کے منافی نہیں، کیونکہ اصل وفاء عہد عام ہے، تمام احکام الٰہیہ کی تعمیل و اطاعت جس میں اپنے اعمال بھی داخل ہیں، اور فرائض رسالت و نبوت کے ذریعہ عام خلق اللہ کی اصلاح بھی، انہیں اعمال میں یہ عمل بھی ہیں جن کا ذکر ان روایات حدیث میں ہے۔ مثلاً ابن ابی حاتم نے حضرت ابو امامہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی (وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّيٰٓ ) اور پھر ان سے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ و فی کا مطلب کیا ہے ؟ ابوامامہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، تو آپ نے فرمایا کہ مراد یہ ہے کہ :۔ وفی عمل یومہ باربع رکعات فی اول النھار (ابن کثیر) |" یعنی انہوں نے اپنے دن کے اعمال کی تکمیل اس طرح کردی کہ شروع دن میں چار رکعت (نماز اشراق کی) پڑھ لیں |"۔ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو ترمذی نے حضرت ابوذر سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :۔ ابن ادم ارکع لی اربع رکعات من اول النھار اکفک اخرہ (ابن کیثر) |" یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے آدم کے بیٹے ! تو شروع دن میں میرے لئے چار رکعتیں پڑھ لیا کر تو میں آخر دن تک تیرے سب کاموں کی کفالت کروں گا |"۔ اور ابن ابی حاتم ہی نے ایک روایت حضرت معاذ بن انس سے یہ نقل کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں تمہیں بتلاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو الذی و فی کا خطاب کیوں دیا، پھر فرمایا کہ وجہ یہ ہے کہ وہ روزانہ صبح شام ہونے کے وقت یہ پڑھا کرتے تھے (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ ، وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ ) ابن کثیر