Surat ul Qamar

Surah: 54

Verse: 25

سورة القمر

ءَاُلۡقِیَ الذِّکۡرُ عَلَیۡہِ مِنۡۢ بَیۡنِنَا بَلۡ ہُوَ کَذَّابٌ اَشِرٌ ﴿۲۵﴾

Has the message been sent down upon him from among us? Rather, he is an insolent liar."

کیا ہمارے سب کے درمیان صرف اسی پر وحی اتاری گئی؟ نہیں بلکہ وہ جھوٹا شیخی خور ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

أَوُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا ... "Is it that the Reminder is sent to him alone from among us? ... بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ Nay, he is an insolent liar! means, he has trespassed the limits in his lies. Allah the Exalted responded, سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الاَْشِرُ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

25۔ 1 یعنی اس نے جھوٹ بھی بولا تو بہت بڑا۔ کہ مجھ پر وحی آتی ہے۔ بھلا ہم میں سے صرف اسی پر وحی آنی تھی ؟ یا اس کے ذریعے سے ہم پر اپنی بڑائی جتانا اس کا مقصد تھا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٠] قوم ثمود کے سیدنا صالح کو جھٹلانے کی تین وجوہ :۔ یعنی قوم ثمود نے تین وجوہ کی بنا پر سیدنا صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا ایک یہ کہ وہ ہم ہی جیسا ایک انسان ہے۔ کھاتا ہے، پیتا ہے، بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ کوئی مافوق الفطرت بات اس میں ہم نہیں دیکھتے۔ دوسری یہ کہ وہ اکیلا ہے اس کے ساتھ نہ کوئی جتھا ہے نہ فوج نہ یارو مددگار اور نہ جاہ و حشم، پھر آخر ہم کس بنا پر اس کی اطاعت کرسکتے ہیں۔ اور اگر ہم اس کی اطاعت کرنے لگیں تو ہم جیسا احمق اور پاگل کون ہوگا۔ اور تیسری وجہ یہ کہ اگر اللہ کو اپنا کوئی رسول بنانا ہی تھا تو کیا اسے یہی شخص پسند آیا تھا ؟ جس کے پاس نہ مال و دولت ہے اور نہ جاہ و حشم، پھر آخرت ہم کس بنا پر اس کی اطاعت کرسکتے ہیں۔ اور اگر ہم اس کی اطاعت کرنے لگیں تو ہم جیسا احمق اور پاگل کون ہوگا۔ بلکہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ اس نے اللہ کی طرف سے رسالت کا محض ایک ڈھونگ رچا رکھا ہے۔ اور حقیقتاً یہ کوئی بڑا آدمی یا لیڈر بننا چاہتا ہے۔ اور یہ بالکل اسی قسم کے اعتراضات تھے جو قریش مکہ رسول اللہ پر کر رہے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ءَ اُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْہِ مِنْۢ بَيْنِنَا بَلْ ہُوَكَذَّابٌ اَشِرٌ۝ ٢٥ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] تو جادو گروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں ۔ موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے أشر الأَشَرُ : شدّة البطر، وقد أَشِرَ يَأْشَرُ أَشَراً ، قال تعالی: سَيَعْلَمُونَ غَداً مَنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ [ القمر/ 26] ، فالأشر أبلغ من البطر، والبطر أبلغ من الفرح، فإنّ الفرح۔ وإن کان في أغلب أحواله مذموما لقوله تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ [ القصص/ 76]- فقد يحمد تارة إذا کان علی قدر ما يجب، وفي الموضع الذي يجب، كما قال تعالی: فَبِذلِكَ فَلْيَفْرَحُوا [يونس/ 58] وذلک أنّ الفرح قد يكون من سرور بحسب قضية العقل، والأَشَرُ لا يكون إلا فرحا بحسب قضية الهوى، ويقال : ناقة مِئْشِيرأي : نشیطة علی طریق التشبيه، أو ضامر من قولهم : أشرت الخشبة ( ا ش ر ) الاشر بہت زیادہ اترانا اشریا شر اشرا ( س) ( الاشر بہت زیادہ اترانے والا ) قرآن میں ہے : { سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ } ( سورة القمر 26) ان کو کل ہی معلوم ہوجائیگا کہ کون جھوٹا خود پسند ہے ۔ بس اشر ۔ بطر سے ابلغ ہے اور بطر میں فرح سے زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے اور فرح اگر چہ عام حالات میں مذموم ہوتا ہے جس طرح کہ قرآن میں ہے : { إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ } ( سورة القصص 76) کہ خدا اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ لیکن ایسے موقع پر جب خوشی کا اظہار ضروری ہو اور وہ اظہار بھی جب ضرورت ہو تو فرحت ممدوح ہوجاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ { فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا } ( سورة يونس 58) تو چاہیے کہ لوگ اس سے خوش ہوں ۔ کیونکہ کبھی سرور کی وجہ سے فرحت کا حصول تقاضائے عقل کے مطابق ہوتا ہے مگر اشر اس فرحت کو کہتے ہیں جو مبنی پر ہوائے نفس ہو اور اسی سے بطور تشبیہ ناقۃ مئشیر کا محاورہ ہے جس کی معنی چست اونٹنی کے ہیں ۔ اور اس کے معنی دبلی اونٹنی بھی آتے ہیں اس صورت میں یہ اشرت الخشیۃ سے ماخوذ ہوگا جسکے معنی لکڑی چیرنا کے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٥۔ ٢٦) کیا ہم سب میں سے اسی شخص کو نبوت کے لیے منتخب کیا گیا ہے حالانکہ ہم اس سے زیادہ شریف اور بزرگ ہیں بلکہ یہ یعنی صالح معاز اللہ بڑا جھوٹا اور شیخی باز ہے یہ سن کر صالح نے فرمایا کہ قیامت کے دن تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا اور شیخی باز کون ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٥{ ئَ اُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ مِنْ م بَیْنِنَا } ” کیا یہ ذکر ہمارے مابین اسی پر القا کیا گیا ہے ؟ “ اگر ہم مان بھی لیں کہ یہ سچ کہہ رہے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے وحی کے لیے آخر اسی شخص کا انتخاب کیوں کیا ؟ اس منصب کے لیے اس کی نظر ہمارے کسی بڑے سردار پر کیوں نہیں پڑی ؟ { بَلْ ہُوَ کَذَّابٌ اَشِرٌ ۔ } ” بلکہ یہ انتہائی جھوٹا اور شیخی خورا ہے۔ “ لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے اور صرف اپنی بڑائی جتلانے اور شیخی بگھارنے کے لیے اس نے یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

18 The word ashir of the original means a conceited, insolent person given to bragging of his own superiority over others.

سورة الْقَمَر حاشیہ نمبر :18 اصل میں لفظ اَشِر استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ایسا خود پسند اور بر خود غلط شخص جس کے دماغ میں اپنی بڑائی کا سودا سما گیا ہو اور اس بنا پر وہ ڈینگیں مارتا ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(54:25) ء القی : ء استفہامیہ انکاریہ ہے ، القی القاء سے مصدر (باب افعال) ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے وہ ڈالا گیا۔ نازل کیا گیا۔ القی علیہ القول کسی کو کوئی قول املاء کرنا۔ الذکر۔ وحی۔ ترجمہ آیت :۔ کیا ہم سب میں سے وحی صرف اسی پر ہی اتاری گئی (یعنی یہ نہیں ہوسکتا) بل : حرف اضراب ہے یہاں ما قبل کے ابطال اور مابعد کی تصدیق کے لئے آیا ہے یعنی یہ صحیح کہ ہم میں سے وحی صرف اسی پر نازل ہوئی ہو بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ شخص کذاب اور شیخی خور ہے۔ کذاب اشر : کذاب کذب (باب ضرب) مصدر سے مبالغہ کا صیغہ ہے بہت بڑا جھوٹا۔ اشر اشر (باب سمع) مصدر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے بڑائی مارنے والا۔ بہت اترانے والا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 ” حالانکہ ہم میں اس سے بہتر لوگ موجود ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

بل ھو کذاب اشر (45:5 ٢) ” بلکہ وہ جھوٹ اور لالچی ہے “ کذاب جھوٹا ، اشر شدید لالچی اور اس تبلیغ سے وہ اقتدار اور مرتبہ چاہتا ہے۔ ہر داعی پر ہمیشہ یہی الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے بہانے مفادات کے حصول کے لئے جدوجہد کرتا ہے اور یہ ان اندھوں کا موقف ہوتا ہے جو نیک لوگوں کے جذبات اور ان کے قلبی محرکات سے واقف نہیں ہوتے۔ بات ابھی تک حکایتی اور قصے کے انداز سے چلتی ہے کہ اچانک معاملہ خطاب کا آجاتا ہے۔ اور یوں نظر آتا ہے کہ گویا واقعات ابھی جاری ہیں۔ اس لئے بتایا جاتا ہے کہ عنقریب کیا ہونے والا ہے اور ان کا مستقبل میں ہونے والے واقعات کی دھمکی دی جاتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

ٖف 13:۔” ء القی الذکر “ اپنی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کیا یہ صالح ہی رہ گیا تھا کہ اس پر وحی بھیجی جاتی حالانکہ ہم میں بہت سے بڑے لوگ موجود ہیں جو صالح (علیہ السلام) کے مقابلے میں مہبط وحی بننے کے زیادہ مستحق ہیں اس لیے وہ العیاذ باللہ۔ غلط بیانی کر رہا ہے اور ہم پر بڑائی چاہتا ہے۔ وہ کند ذہن دنیوی دولت اور شان و شوکت کو استحقاق نبوت کی دلیل سمجھتے تھے ” سیعلمون غدا۔ الایۃ “ اس سے پہلے قیل مقدر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے فرمایا، کل جب ان پر عذاب آئیگا تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کذاب اور متکبر کون ہے۔ حکایۃ لما قالہ سبحانہ وتعالیی لصالح (علیہ السلام) وعدا لہ ووعیدہ لقومہ (روح ج 27 ص 88) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(25) کیا ہم سب میں سے اسی پر وحی نازل کی گئی اور اسی پر نصیحت کی بات اتاری گئی یہ بات نہیں ہے بلکہ وہ شخص بڑا جھوٹا اور خود پسند اور بڑائی مارنے والا ہے۔ یعنی ہم سب میں سے پیغمبری کے لئے اسی کو منتخب کیا ہے نہیں بلکہ یہ بڑا جھوٹ اور شیخی خورہ ہے بڑائی اور سرداری چاہتا ہے آگے حضرت حق تعالیٰ کا جواب ہے۔