Surat ul Qamar

Surah: 54

Verse: 27

سورة القمر

اِنَّا مُرۡسِلُوا النَّاقَۃِ فِتۡنَۃً لَّہُمۡ فَارۡتَقِبۡہُمۡ وَ اصۡطَبِرۡ ﴿۫۲۷﴾

Indeed, We are sending the she-camel as trial for them, so watch them and be patient.

بیشک ہم ان کی آزمائش کے لئے اونٹنی بھیجیں گے پس ( اے صالح ) تو ان کا منتظر رہ اور صبر کر ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّا مُرْسِلُو النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ ... Verily, We are sending the she-camel as a test for them. To test and try the people of Thamud, Allah sent to them a superb, pregnant female camel that emerged from solid rock, according to their request, so that it would become a proof against them from Allah, the Exalted. Thereafter, they were supposed to believe in what was brought to them by Salih, peace be upon him. Allah ordered His servant and Messenger Salih, ... فَارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ So watch them, and be patient! Allah commanded, `await, O Salih, and see what will become of them and be patient; verily the better end will be yours and you will have success in this life and the Hereafter,'

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

27۔ 1 کہ یہ ایمان لاتے ہیں یا نہیں وہی اونٹنی ہے جو اللہ نے خود ان کے کہنے پر پتھر کی ایک چٹان ظاہر فرمائی تھی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَۃِ فِتْنَۃً لَّھُمْ ۔۔۔۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ ہود ( ٦٤) اور سورة ٔ شعراء (١٥٥) کی تفسیر۔ ” فازتقبھم “” رقب یرقب “ (ن) سے باب افتعال ہے۔ ” واصطبر “ ” صبر یصبر صبرا “ (ض) سے بال افتعال ہے ، ” تائ “ کو ” طائ “ سے بدل دیا ۔ حروف کے اضافے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوگیا ہے ، ان کا حوصلے سے انتظار کرو اور اچھی طرح صبر کر ۔ یعنی اس آزمائش میں یہ لوگ کیا طرز عمل اختیار کرتے ہیں حوصلے کے ساتھ اس کا انتاظر کر اور بہت اچھے طریقے سے صبر کر ۔ آزمائش اس لیے تھی کہ ان کا امتحان مقصود تھا کہ اس نشانی کو دیکھ کر وہ پیغمبر پر ایمان لاتے ہیں یا اسے نقصان پہنچا کر عذاب کے مستحق بنتے ہیں ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَۃِ فِتْنَۃً لَّہُمْ فَارْتَقِبْہُمْ وَاصْطَبِرْ۝ ٢٧ ۡ رسل ( ارسال) والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو قوله : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83] ، والْإِرْسَالُ يقابل الإمساک . قال تعالی: ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ [ فاطر/ 2] ( ر س ل ) الرسل الارسال ( افعال ) کے معنی بھیجنے کے ہیں اور اس کا اطلاق انسان پر بھی ہوتا ہے اور دوسری محبوب یا مکروہ چیزوں کے لئے بھی آتا ہے ۔ کبھی ( 1) یہ تسخیر کے طور پر استعمال ہوتا ہے جیسے ہوا بارش وغیرہ کا بھیجنا ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] اور ( اوپر سے ) ان پر موسلادھار مینہ برسایا ۔ اور کبھی ( 2) کسی بااختیار وار وہ شخص کے بھیجنے پر بولا جاتا ہے جیسے پیغمبر بھیجنا چناچہ قرآن میں ہے : وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] اور تم لوگوں پر نگہبان ( فرشتے ) تعنیات رکھتا ہے ۔ فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] اس پر فرعون نے ( لوگوں کی بھیڑ ) جمع کرنے کے لئے شہروں میں ہر کارے دوڑائے ۔ اور کبھی ( 3) یہ لفظ کسی کو اس کی اپنی حالت پر چھوڑے دینے اور اس سے کسی قسم کا تعرض نہ کرنے پر بولاجاتا ہے ہے جیسے فرمایا : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83]( اے پیغمبر ) کیا تم نے ( اس باٹ پر ) غور نہیں کیا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ وہ انہیں انگینت کر کے اکساتے رہتے ہیں ۔ اور کبھی ( 4) یہ لفظ امساک ( روکنا ) کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ [ فاطر/ 2] تو اللہ جو اپنی رحمت دے لنگر لوگوں کے لئے ) کھول دے تو کوئی اس کا بند کرنے والا نہیں اور بندے کرے تو اس کے ( بند کئے ) پیچھے کوئی اس کا جاری کرنے والا نہیں ۔ فتن أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] ( ف ت ن ) الفتن دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا ۔ رقیب والرَّقِيبُ : الحافظ، وذلک إمّا لمراعاته رقبة المحفوظ، وإما لرفعه رقبته، قال تعالی: وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ [هود/ 93] ( ر ق ب ) الرقبۃ اسی سے نگران کو رقیب کہا جاتا ہے یا تو اس لئے کہ وہ شخص کی گردن پر نظر رکھتا ہے جس کی نگرانی منظو رہوتی ہے اور یا اس لئے ک وہ نگرانی کے لئے بار بار اپنی گردن اٹھا کر دیکھتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ [هود/ 93] تم بھی منتظر رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں ۔ واصطبر : واؤ عاطفہ۔ اصطبر فعل امر واحد مذکر حاضر تو صبر کر۔ اصطبار ( افتعال) یہ اصل میں اصتبار تھا۔ ت کو ط سے بدل دیا گیا۔ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ضبط نفس کی ایک قسم ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا «صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ماه رمضان اور ہر ماہ میں تین روزے سینہ سے بغض کو نکال ڈالتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

چناچہ اللہ تعالیٰ نے صالح سے فرمایا کہ ہم پتھر میں سے اونٹنی کو نکالنے والے ہیں آپ اپنی قوم کی آزمائش کے لیے اونٹنی کے نکلنے کا انتظار کیجیے اور ان کی تکالیف پہنچانے اور اونٹنی کے قتل کرنے پر صبر سے بیٹھے رہنا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٧{ اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَۃِ فِتْنَۃً لَّـہُمْ فَارْتَقِبْہُمْ وَاصْطَبِرْ ۔ } ” ہم بھیجے دیتے ہیں اونٹنی کو ان کی آزمائش کے لیے ‘ تو آپ (علیہ السلام) انتظار کیجیے ان کے بارے میں اور صبر کیجیے۔ “ یہ خطاب حضرت صالح (علیہ السلام) سے ہے کہ ہم ان کے مطالبے کے مطابق اونٹنی بطور معجزہ ان کے سامنے لا رہے ہیں ‘ جو ان کے لیے بہت بڑی آزمائش بن جائے گی۔ لیکن ابھی چونکہ ان کی مہلت باقی ہے اس لیے آپ (علیہ السلام) صبر کے ساتھ ان کے بارے میں اللہ کے فیصلے کا انتظار کیجیے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(54:27) انا مرسلوا الناقۃ۔ مضاف مضاف الیہ ، اونٹنی برآمد کرنے والے۔ اونٹنی بھیجنے والے۔ مرسلوا اصل میں مرسلون تھا۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اضافت کی وجہ سے ن ساقط کردیا گیا ہے۔ الناقۃ۔ اونٹنی۔ فتنۃ : مفعول لہ بہ امتحانا : بطور امتحان ۔ بطور آزمائش۔ لہم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب ثمود کی طرف راجع ہے۔ فارتقبھم : ارتقب ، فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ارتقاب (افتعال) مصدر سے بمعنی انتظار کرنا ۔ راہ دیکھنا۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ پس تو ان (کے انجام) کا انتظار کر۔ واصطبر : واؤ عاطفہ۔ اصطبر فعل امر واحد مذکر حاضر تو صبر کر۔ اصطبار (افتعال) یہ اصل میں اصتبار تھا۔ ت کو ط سے بدل دیا گیا۔ فائدہ : قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا کہ اگر پتھر کی چٹان کے اندر سے ایک دس ماہ کی گابھن سرخ رنگ کی اونٹنی برآمد کردو تو ہم تمہاری پیروی کرلیں گے۔ خداوند تعالیٰ نے ان کے مطالبہ کے مطابق ویسی ہی اونٹنی برآمد کردی۔ لیکن ان کے امتحان کی خاطر چند شرائط عائد کردیں۔ کہ اونٹنی اللہ کی زمین پر کھلی جہاں چاہے پھرتی رہے گی۔ کوئی آدمی اس کی مزاحمت نہیں کرے گا۔ اور یہ کہ جہاں سے قوم ثمود کے افراد اور ان کے مویشی وغیرہ پانی پیتے تھے وہاں پانی کی وارہ بندی کردی گئی۔ کہ ایک دن اونٹنی وہاں پانی پیا کرے گی اور ایک دن قوم ثمود اور ان کے مویشی وغیرہ۔ کوئی ایک دوسرے کی باری میں گڈمڈ نہیں کرے گا۔ ان شرائط کے خلاف اقدام کرنے پر قوم پر سخت عذاب نازل کیا جائے گا۔ کچھ مدت تک یہ صورت حال جاری رہی اور قوم کے کسی شخص کو خلاف ورزی کی ہمت نہیں ہوئی ۔ آخرکار اپنی قوم کے ایک من چلے سردار قزار بن سالف کو انہوں نے انگیخت دی جس پر شیخی میں آکر اس نے تنبیہات الٰہی کو پس پشت ڈال کر اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا : کہ تمہارے لئے تین دن کی مہلت ہے اس کے بعد تم مورد عذاب ہوگے۔ چناچہ وعدہ کے روز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ایک خوفناک چنگھاڑ نے آلیا۔ اور وہ روندی ہوئی باڑ کی طرح بھس ہوکر رہ گئے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی یہ آزمان یکے لئے کہ ہماری واضح نشانی دیکھ لینے کے بعد بھی اپنی سرکشی سے باز آتے ہیں کہ نہیں ؟

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انا مرسلوا ............ محتضر (45: ٨٢) ” ہم اپنی اونٹنی کو ان کے لئے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں۔ اب ذرا صبر کے ساتھ دیکھ کر ان کا کیا انجام ہوتا ہے۔ ان کو جتا دے کہ پانی ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہوگا اور ہر ایک اپنی باری کے دن پانی پر آئے گا۔ “ اب پڑھنے والے انتظار میں ہیں کہ ہوتا کیا ہے۔ ناقہ بھیج دی جاتی ہے۔ یہ ان کے لئے آزمائش ہے اور ان کے لئے امتحان ہے کہ کون کامیاب ہوتا ہے اور کون ناکام اور رسول وقت بھی انتظار میں ہے کہ کیا ہوتا ہے اور اللہ کے حکم کے مطابق وہ صبر کرتا ہے۔ اس وقت تک کہ امتحان کا نتیجہ سامنے آجائے۔ نبی کو یہ ہدایت دے دی جاتی ہے کہ پانی ان کے اور ناقہ کے درمیان تقسیم ہے۔ یہ ناقہ لازماً مخصوص ناقہ تھی۔ تقسیم یوں تھی کہ ایک دن کا پورا پانی ناقہ کے لئے تھا اور دوسرے دن کا ان کے لئے۔ ناقہ اپنے دن آئے گی اور یہ لوگ اپنے دن آئیں گے۔ وہ اپنے دن پئے گی اور یہ لوگ اپنے دن پانی لیں گے۔ اب سیاق کلام پھر حکایتی اور قصے کا انداز لے لیتا ہے اور اس کے بعد یہ واقعات یوں آتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

14:۔ ” انا مرسلوا الناقۃ “ ہم اونٹنی کو ان کے ابتلاء و امتحان کے لیے بھیجنے والے ہیں، آپ انتظار کریں اور ان کی ایذاؤں پر صبر کریں اور دیکھیں وہ اونٹنی سے کیا سلوک کرتے ہیں۔ ” ونبئہم ان الماء۔ الایۃ “ ، ” شرب “ پانی کا حصہ یا پانی پینے کی باری۔ اور آپ ان کو مطلع کردیں کہ کنوئیں کے پانی پر اب باری مقرر ہوگی اور ہر فریق اپنی نوبت میں حاضر ہو کر پانی حاصل کرے گا۔ ایک دن اونٹنی پانی پیے گی اور اس کی باری کے دن تم لوگ اپنے مویشیوں کو پانی نہیں پلاؤ گے اور تمہاری نوبت کے دن میں اونٹنی پانی نہیں پیے گی۔ ” فنادوا صاحبہم۔ الایۃ “ لیکن زیادہ عرصہ تک وہ اس پر قائم نہ رہ سکے اور اونٹنی کو قتل کرنے کا پروگرام بنایا اور ایک جوان کو بلا کر اس کام پر آمادہ کیا چناچہ اس نے اس کام کو اپنے ہاتھ میں لیا اور اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ کر اس کو قتل کردیا۔ فتعاطی فاجترا علی تعاطی الامر العظیم غیر مکترث او فتعاطی الناقۃ فعقرھا او فتعاطی السیف (مدارک ج 4 ص 100) ۔ فکیف کان عذابی ونذر۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(27) اے صالح (علیہ السلام) ہم ان کو آزمائش کے لئے ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں تو ہوشیاری سے ان کو دیکھ بھال رکھ اور صبر سے کام لے۔