Surat ul Qamar

Surah: 54

Verse: 34

سورة القمر

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ؕ نَجَّیۡنٰہُمۡ بِسَحَرٍ ﴿ۙ۳۴﴾

Indeed, We sent upon them a storm of stones, except the family of Lot - We saved them before dawn

بیشک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ہوا بھیجی سوائے لوط ( علیہ السلام ) کے گھر والوں کے ، انہیں ہم نے سحر کے وقت نجات دے دی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Verily, We sent against them Hasib (a violent storm of stones) except the family of Lut, them We saved in the last hour of the night. They left the city in the last part of the night and were saved from the torment that struck their people, none of whom believed in Lut. And even Lut's wife suffered the same end as her people. Allah's Prophet Lut left Sodom with his daughters in safety, unharmed.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

34۔ 1 یعنی ایسی ہوا بھیجی جو ان کو کنکریاں مارتی تھی، یعنی ان کی بستیوں کو ان پر الٹا کردیا گیا، اس طرح کہ ان کا اوپر والا حصہ نیچے اور نیچے والا حصہ اوپر، اس کے بعد ان پر کھنگر پتھروں کی بارش ہوئی جیسا کہ سورة ہود وغیرہ میں تفصیل گزری۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٥] قوم لوط پر عذاب :۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) کو پہلے مطلع کردیا گیا تھا کہ صبح کے وقت تمہاری قوم پر خوفناک عذاب آنے والا ہے۔ لہذا راتوں رات ہی تم اپنے پیروکاروں کو ساتھ لے کر اس بستی سے نکل جاؤ تمہاری بیوی تمہارے ساتھ نہیں جائے گی۔ پیچھے ہی رہے گی اور سزا پانے والوں میں شامل ہوگی۔ اور جب تم نکلو تو خود سب سے پیچھے رہنا۔ اور تم میں سے کوئی پلٹ کر نہ دیکھے۔ ایسا نہ ہو کہ && کسی کے دل میں یہ خیال آجائے کہ دیکھوں تو سہی کہ اس قوم پر کیسا عذاب آتا ہے۔ ورنہ وہ بھی عذاب کی لپیٹ میں آجائے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّـآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ حَاصِبًا : قوم لوط کی بستیاں الٹانے کے بعد ان پر پتھروں کی جو بارش ہوئی وہ مراد ہے ۔ مزید دیکھئے سورة ٔ ہود (٨٣) ۔ ٢۔ ئاِلَّآ اٰلَ لُوْطٍ ط ۔ لوط (علیہ السلام) پر ان کی قوم میں سے ایک آدمی بھی ایمان نہیں لایا ، حتیٰ کہ ان کی بیوی بھی کافر ہی رہی ۔ ( دیکھئے ذاریات : ٣٦۔ ہود : ٨١) اس لیے یہاں ” آل لوط “ سے مراد صرف ان کی اولاد ہے ، جن کے ساتھ وہ خود بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے کافر کو پیغمبر کی آل اور اہل تسلیم نہیں کیا خواہ بیوی ہو ، جیسے لوط (علیہ السلام) کی بیوی ، یا بیٹا ہو ، جیسے نوح (علیہ السلام) کا بیٹا ، اس کے بارے میں فرمایا :(اِنَّـہٗ لَیْسَ مِنْ اَھْلِک َج ) (ھود : ٤٦)” بیشک وہ تیرے گھر والوں سے نہیں “۔ ٣۔ نَجَّیْنٰـہُمْ بِسَحَرٍ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ ہود (٨١) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَيْہِمْ حَاصِبًا اِلَّآ اٰلَ لُوْطٍ۝ ٠ ۭ نَجَّيْنٰہُمْ بِسَحَرٍ۝ ٣٤ ۙ حاصبا : بادسنگ بار۔ پتھروں کا مینہ۔ ، منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے۔ حاصب اس ہوا کو کہتے ہیں جو چھوٹے سنگریزوں کا اٹھا کرلے جاتی ہے اور برساتی ہے ۔ حصباء چھوٹے سنگریزوں کو کہتے ہیں۔ حاصب پتھر پھینکنے والے کو بھی کہتے ہیں ۔ نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو ہم نے نجات دی ۔ سحر والسِّحْرُ يقال علی معان : الأوّل : الخداع وتخييلات لا حقیقة لها، نحو ما يفعله المشعبذ بصرف الأبصار عمّا يفعله لخفّة يد، وما يفعله النمّام بقول مزخرف عائق للأسماع، وعلی ذلک قوله تعالی: سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ [ الأعراف/ 116] والثاني : استجلاب معاونة الشّيطان بضرب من التّقرّب إليه، کقوله تعالی: هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّياطِينُ تَنَزَّلُ عَلى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الشعراء/ 221- 222] ، والثالث : ما يذهب إليه الأغتام «1» ، وهو اسم لفعل يزعمون أنه من قوّته يغيّر الصّور والطّبائع، فيجعل الإنسان حمارا، ولا حقیقة لذلک عند المحصّلين . وقد تصوّر من السّحر تارة حسنه، فقیل : «إنّ من البیان لسحرا» «2» ، وتارة دقّة فعله حتی قالت الأطباء : الطّبيعية ساحرة، وسمّوا الغذاء سِحْراً من حيث إنه يدقّ ويلطف تأثيره، قال تعالی: بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَسْحُورُونَ [ الحجر/ 15] ، ( س ح ر) السحر اور سحر کا لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے اول دھوکا اور بےحقیقت تخیلات پر بولاجاتا ہے جیسا کہ شعبدہ باز اپنے ہاتھ کی صفائی سے نظرون کو حقیقت سے پھیر دیتا ہے یانمام ملمع سازی کی باتین کرکے کانو کو صحیح بات سننے سے روک دیتا ہے چناچہ آیات :۔ سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ [ الأعراف/ 116] تو انہوں نے جادو کے زور سے لوگوں کی نظر بندی کردی اور ان سب کو دہشت میں ڈال دیا ۔ دوم شیطان سے کسی طرح کا تقرب حاصل کرکے اس سے مدد چاہنا جیسا کہ قرآن میں ہے : هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّياطِينُ تَنَزَّلُ عَلى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الشعراء/ 221- 222] ( کہ ) کیا تمہیں بتاؤں گس پر شیطان اترا کرتے ہیں ( ہاں تو وہ اترا کرتے ہیں ہر جھوٹے بدکردار پر ۔ اور اس کے تیسرے معنی وہ ہیں جو عوام مراد لیتے ہیں یعنی سحر وہ علم ہے جس کی قوت سے صور اور طبائع کو بدلا جاسکتا ہے ( مثلا ) انسان کو گدھا بنا دیا جاتا ہے ۔ لیکن حقیقت شناس علماء کے نزدیک ایسے علم کی کچھ حقیقت نہیں ہے ۔ پھر کسی چیز کو سحر کہنے سے کبھی اس شے کی تعریف مقصود ہوتی ہے جیسے کہا گیا ہے (174) ان من البیان لسحرا ( کہ بعض بیان جادو اثر ہوتا ہے ) اور کبھی اس کے عمل کی لطافت مراد ہوتی ہے چناچہ اطباء طبیعت کو ، ، ساحرۃ کہتے ہیں اور غذا کو سحر سے موسوم کرتے ہیں کیونکہ اس کی تاثیر نہایت ہی لطیف ادرباریک ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے : بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَسْحُورُونَ [ الحجر/ 15]( یا ) یہ تو نہیں کہ ہم پر کسی نے جادو کردیا ہے ۔ یعنی سحر کے ذریعہ ہمیں اس کی معرفت سے پھیر دیا گیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٤ { اِنَّـآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ حَاصِبًا اِلَّآ اٰلَ لُوْطٍ ط نَجَّیْنٰـہُمْ بِسَحَرٍ ۔ } ” ہم نے ان پر بھیج دی ایک ایسی تیز آندھی جس میں پتھر تھے ‘ سوائے لوط کے گھر والوں کے ۔ ان کو ہم نے نجات دے دی صبح کے وقت۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(54:34) انا ارسلنا علیہم : ہم نے ان پر بھیجے۔ یعنی ہم نے ان پر برسائے۔ حاصبا : بادسنگ بار۔ پتھروں کا مینہ۔ ، منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے۔ حاصب اس ہوا کو کہتے ہیں جو چھوٹے سنگریزوں کا اٹھا کرلے جاتی ہے اور برساتی ہے ۔ حصباء چھوٹے سنگریزوں کو کہتے ہیں۔ حاصب پتھر پھینکنے والے کو بھی کہتے ہیں ۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ ہم نے ان پر پتھر برسانے والے کو بھیجا۔ نجینھم : ماضی جمع متکلم۔ تنجیۃ (تفعیل) مصدر۔ ہم نے نجات دی۔ ہم نے بچا لیا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع ال لوط ہے۔ بسحر۔ ب بمعنی فی۔ یعنی سحر کے وقت۔ اخیر شب میں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انا ارسلنا ............ من شکر (45:5 ٣) ” اور ہم نے اس پر پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی۔ صرف لوط کے گھر والے اس سے محفوظ رہے۔ ان کو ہم نے اپنے فضل سے رات کے پچھلے پہر بچا کر نکال لیا۔ یہ جزا دیتے ہیں ہم ہر اس شخص کو جو شکرگزار ہوتا ہے۔ “ الحاصب وہ ہوا جو پتھروں کو اڑا کر پھینک دیتی ہو اور دوسری جگہ آیا ہے کہ ان پر مٹی کے پتھر پھینکے گئے تھے۔ لفظ حاصب کی آواز ہی ایسی ہے جس سے پتھر پھینکے جانے کی آواز آتی ہے۔ اس میں شدت اور سختی ہے جو اس وقت منظر اور فضا کے مناسب ہے۔ اس عذاب سے صرف لوط (علیہ السلام) کے خاندان کے لوگ بچے۔ ماسوائے ان کی اہلیہ کے اور بچنے والے اس لئے بچے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے اور اللہ شکر کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتا ہے۔ ان کو اللہ عذاب سے نجات دیتا ہے اور وہ خوفناک حادثات کے درمیان سے بھی بچ کر نکل آتے ہیں۔ قرآن نے یہاں تک اس قصے کے دو اطراف بیان کردیئے۔ ان کی طرف سے جھٹلانا اور اللہ کی طرف سے عذاب شدید ، یہ یہاں اصل مقصد تھا۔ اب قصے کے دونوں اطراف کے درمیان کی بعض ضروری تفصیلات۔ قرآن کریم کا یہ بھی ایک خاص انداز بیان ہے۔ اس انداز سے قرآن کریم بعض اشارات دیتا ہے اور تفصیلات یہ ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(34) ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ہوا کو بھیجا مگر ہاں لوط (علیہ السلام) کے متعلقین کو ہم نے اخیر شب میں۔