Surat ul Qamar

Surah: 54

Verse: 36

سورة القمر

وَ لَقَدۡ اَنۡذَرَہُمۡ بَطۡشَتَنَا فَتَمَارَوۡا بِالنُّذُرِ ﴿۳۶﴾

And he had already warned them of Our assault, but they disputed the warning.

یقیناً ( لوط علیہ السلام ) نے انہیں ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا لیکن انہوں نے ڈرانے والوں کے بارے میں ( شک و شبہ اور ) جھگڑا کیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلَقَدْ أَنذَرَهُم بَطْشَتَنَا ... Thus do We reward him who gives thanks. And he indeed had warned them of Our punishment, meaning, before the torment struck his people, he warned them of Allah's torment and punishment. They did not heed the warning, nor listen to Lut, ... فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ but they doubted the warnings! i.e. but instead doubted and disputed the warning.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

36۔ 1 یعنی عذاب آنے سے پہلے سخت گرفت سے ڈرایا تھا۔ 36۔ 2 لیکن انہوں نے اس کی پروا نہ کی بلکہ شک کیا اور ڈرانے والوں سے جھگڑتے رہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٦] سیدنا لوط کو قوم کی دھمکیاں :۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) نے قوم کو ڈرایا تو تھا مگر یہ بدبخت قوم بھلا ان کی نصیحت کو بلکہ خود ان کو بھی کیا سمجھتی تھی۔ وہ الٹا لوط (علیہ السلام) کو دھمکیاں دینے لگی۔ اگر تم اتنے ہی پاکباز ہو تو ہماری اس گندی بستی سے نکل جاؤ۔ ورنہ ہم خود تمہیں یہاں سے نکال دیں گے۔ نیز انہوں نے سیدنا لوط (علیہ السلام) پر یہ پابندی بھی لگا رکھی تھی کہ باہر سے آنے والے مسافروں اور مہمانوں کو اپنے ہاں پناہ نہ دیا کرو۔ ورنہ اس کے نتائج کے ذمہ دار تم خود ہوگے۔ اور جو بات لوط (علیہ السلام) انہیں سمجھانا چاہتے تھے اور انہیں ان کے انجام سے مطلع کرکے انہیں اللہ کے حضور جوابدہی سے ڈرانا چاہتے تھے اس کو بھلا یہ لاتوں کے بھوت کب ماننے والے تھے بس الٹی سیدھی باتیں بنا کر جھگڑے کی راہ پیدا کرلیتے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ اَنْذَرَہُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ :” تمہاری یتماری تماریا “ ( تفاعل) شک کرنا ، جھگڑنا ، ” لام ‘ اور ” قد “ کے ساتھ تاکید قسم کے مفہوم کی قوت رکھتی ہے ، یعنی قسم ہے کہ لوط (علیہ السلام) نے انہیں ہماری گرفت سے ڈرایا تھا، مگر انہوں نے اس ڈرانے پر یقین نہیں کیا ، بلکہ شک میں پڑے رہے اور اس کے متعلق بحث اور جھگڑا ہی کرتے رہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ اَنْذَرَہُمْ بَطْشَتَنَا فَتَـمَارَوْا بِالنُّذُرِ۝ ٣٦ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] ، فإنّ ذلک متناول للمرض في المعنی، كما أنّ النّفي في قولک : ما علم اللہ زيدا يخرج، هو للخروج، وتقدیر ذلک : قد يمرضون فيما علم الله، وما يخرج زيد فيما علم الله، وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) «2» يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء : قَدْ زيدا، وجعل ذلک مقیسا علی ما سمع من قولهم : قدني وقدک، والصحیح أنّ ذلک لا يستعمل مع الظاهر، وإنما جاء عنهم في المضمر . ( قد ) یہ حرف تحقیق ہے اور فعل کے ساتھ مخصوص ہے علماء نحو کے نزدیک یہ حرف توقع ہے اور اصل میں جب یہ فعل ماضی پر آئے تو تجدد اور حدوث کے معنی دیتا ہے جیسے فرمایا : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے ۔ قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] تمہارے لئے دوگرہوں میں ۔۔۔۔ ( قدرت خدا کی عظیم الشان ) نشانی تھی ۔ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] خدا نے ۔۔ سن لی ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ( اے پیغمبر ) ۔۔۔۔۔ تو خدا ان سے خوش ہوا ۔ لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی ۔ اور چونکہ یہ فعل ماضی پر تجدد کے لئے آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے اوصاف ذاتیہ کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا ۔ لہذا عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] کہنا صحیح نہیں ہے اور آیت : اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں ۔ میں قد لفظا اگر چہ علم پر داخل ہوا ہے لیکن معنوی طور پر اس کا تعلق مرض کے ساتھ ہے جیسا کہ ، ، میں نفی کا تعلق خروج کے ساتھ ہے ۔ اور اس کی تقدریروں ہے اگر ، ، قد فعل مستقل پر داخل ہو تو تقلیل کا فائدہ دیتا ہے یعنی کبھی وہ فعل واقع ہوتا ہے اور کبھی واقع نہیں ہوتا اور آیت کریمہ : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں ۔ کی تقدیریوں ہے قد یتسللون احیانا فیما علم اللہ ( تو یہ بہت آیت بھی ماسبق کی طرح موؤل ہوگی اور قد کا تعلق تسلل کے ساتھ ہوگا ۔ قدوقط یہ دونوں اسم فعل بمعنی حسب کے آتے ہیں جیسے محاورہ ہے قد فی کذا اوقطنی کذا اور قدی ( بدون نون وقایہ ا کا محاورہ بھی حکایت کیا گیا ہے فراء نے قدنی اور قدک پر قیاس کرکے قدر زید ا بھی حکایت کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ قد ( قسم فعل اسم ظاہر کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف اسم مضمر کے ساتھ آتا ہے ۔ نذر وَالإِنْذارُ : إخبارٌ فيه تخویف، كما أنّ التّبشیر إخبار فيه سرور . قال تعالی: فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2] ( ن ذ ر ) النذر الا نذار کے معنی کسی خوفناک چیز سے آگاہ کرنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل تبشیر کے معنی کسی اچھی بات کی خوشخبری سنا نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے متنبہ کردیا ۔ النذ یر کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں خوف پایا جائے خواہ وہ انسان ہو یا کوئی اور چیز چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ [ الأحقاف/ 9] اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے ۔ بطش البَطْشُ : تناول الشیء بصولة، قال تعالی: وَإِذا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ [ الشعراء/ 130] ، يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرى[ الدخان/ 16] ، وَلَقَدْ أَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنا [ القمر/ 36] ، إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ [ البروج/ 12] . يقال : يد بَاطِشَة . ( ب ط ش ) البطش کے معنی کوئی چیز زبردستی لے لینا کے ہیں قرآن میں : { وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ } ( سورة الشعراء 130) اور جب کسی کو پکڑتے تو ظالمانہ پکڑتے ہو ۔ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرى[ الدخان/ 16] جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے ۔ وَلَقَدْ أَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنا [ القمر/ 36] اور لوط نے ان کو ہماری گرفت سے ڈرایا ۔ إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ [ البروج/ 12] بیشک تمہاری پروردگار کی گرفت بڑی سخت ہے ید کا طشۃ سخت گیر ہاتھ ۔ مری المِرْيَةُ : التّردّد في الأمر، وهو أخصّ من الشّكّ. قال تعالی: وَلا يَزالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ [ الحج/ 55] ، فَلا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِمَّا يَعْبُدُ هؤُلاءِ [هود/ 109] ، فَلا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقائِهِ [ السجدة/ 23] ، أَلا إِنَّهُمْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقاءِ رَبِّهِمْ [ فصلت/ 54] والامتراء والممَارَاة : المحاجّة فيما فيه مرية . قال تعالی: قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ [ مریم/ 34] ، بِما کانُوا فِيهِ يَمْتَرُونَ [ الحجر/ 63] ، أَفَتُمارُونَهُ عَلى ما يَرى[ النجم/ 12] ، فَلا تُمارِ فِيهِمْ إِلَّا مِراءً ظاهِراً [ الكهف/ 22] وأصله من : مَرَيْتُ النّاقةَ : إذا مسحت ضرعها للحلب . ( م ر ی) المریۃ کے معنی کسی معاملہ میں تردد ہوتا ہے ۔ کے ہیں اور یہ شک سے خاص قرآن میں ہے : وَلا يَزالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ [ الحج/ 55] اور کافر لوگ ہمیشہ اس سے شک میں رہیں گے۔ الامتراء والمماراۃ کے معنی ایسے کام میں جھگڑا کرنا کے ہیں ۔ جس کے تسلیم کرنے میں تردد ہو ۔ چناچہ قرآن میں ہے : قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ [ مریم/ 34] یہ سچی بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں بما کانوا فِيهِ يَمْتَرُونَ [ الحجر/ 63] جس میں لوگ شک کرتے تھے ۔ أَفَتُمارُونَهُ عَلى ما يَرى[ النجم/ 12] کیا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں تم اس میں ان سے جھگڑتے ہو ۔ فَلا تُمارِ فِيهِمْ إِلَّا مِراءً ظاهِراً [ الكهف/ 22] تو تم ان کے معاملے میں گفتگو نہ کرنا ۔ مگر سرسری سی گفتگو ۔ دراصل مریت الناقۃ سے ماخوذ ہے ۔ جس کے معنی ہیں اونٹنی کے تھنوں کو سہلانا تاکہ دودھ دے دے ۔ ( مریم ) علیماالسلام ۔ یہ عجمی لفظ ہے اور حضرت عیسیٰ اعلیہ السلام کی والدہ کا نام ( قرآن نے مریم بتایا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور لوط نے ان کو ہمارے عذاب سے ڈرایا تھا سو انہوں نے رسولوں کا انکار کیا یعنی لوط جس چیز سے ان کو ڈرا رہے تھے اس کی انہوں نے تکذیب کی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٦ { وَلَقَدْ اَنْذَرَہُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ ۔ } ” اور لوط (علیہ السلام) نے ان کو خبردار کردیا تھا ہماری پکڑ سے ‘ لیکن انہوں نے شک کیا ان چیزوں پر جن کے بارے میں انہیں خبردار کیا گیا تھا۔ “ وہ ہماری تنبیہات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(54:36) ولقد : واؤ عاطفہ لام تاکید کا۔ قد ماضی سے قبل تحقیق کا فائدہ دیتا ہے اور ماضی قریب کے زمانہ کو ظاہر کرتا ہے۔ انذرھم بطشتنا : انذر ماضی واحد مذکر غائب انذار (افعال) مصدر بمعنی ڈرانا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب جس کا مرجع قول لوط ہے۔ بطشتنا : مضاف مضاف الیہ۔ بطش (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی سختی سے پکڑنا اور اس سے قبل (عذاب آنے سے پہلے) وہ (حضرت لوط علیہ السلام) ان کو (قوم لوط کو) ہماری پکڑ سے ڈرا چکا تھا۔ پکڑ سے مراد عذاب ہے۔ فتماروا : ماضی جمع مذکر غائب۔ تماری (تفاعل) مصدر جس کے معنی شک کرنے اور باہم جھگڑنے کے ہیں۔ انہوں نے جھگڑا کیا۔ انہوں نے شک کیا۔ بالنذر۔ یہاں نذر بطور مصدر بمعنی ڈر اوا مستعمل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو جھوٹا قرار دیا۔ اور عذاب کا جو خوف انہوں نے دلایا تھا اس میں شک کرنے لگے اور جھگڑنے لگے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی حضرت لوط کی سب تنبیوں کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا اور باتوں میں اڑاتے رہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولقد ............ مستقر (45: ٨٣) ” لوط نے اپنی قوم کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا مگر وہ ساری تنبہیات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے۔ پھر انہوں نے اسے اپنے مہمانوں کی حفاظت سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ آخرکار ہم نے ان کی آنکھیں موند دیں کہ چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبہیات کا مزہ۔ صبح سویرے ایک اٹل عذاب نے ان کو آلیا۔ “ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں کو اس منکر سے ایک طویل عرصے تک منع کیا لیکن انہوں نے یقین نہ کیا۔ ہمیشہ شک میں مبتلا رہے اور ایک دوسرے کی طرف شک ہی کو منتقل کرتے رہے اور ایک دوسرے سے شک ہی اخذ کرتے رہے اور نبی کے ساتھ جھگڑتے ہی رہے اور ان کی بدتمیزی اس حدتک پہنچ گئی کہ خود لوط (علیہ السلام) کے ہاں جب مہمان ، فرشتے آئے تو انہوں نے ان کو ان کا دفاع کرنے سے روک دیا۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ خوش شکل لڑکے ہیں تو ان کے گندے جذبات جوش میں آگئے۔ انہوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو گھیر لیا اور مقصد یہ تھا کہ اس کے مہمانوں کے ساتھ بدتمیزی کریں۔ انہوں نے سنجیدگی اور شرم وحیا کے جامے تار تار کردیئے اور انہوں نے اپنے نبی کی عزت کا بھی خیال نہ رکھا حالانکہ انہوں نے ان کو بار بار اس فعل بد کے انجام بد سے ڈرایا تھا۔ اس مقام پر اب دست قدرت مداخلت کرتی ہے۔ فرشتے اس عذاب کے برپا کرنے کے لئے حرکت میں آتے ہیں جس کے لئے انہیں بھیجا گیا تھا۔ فطمسنا اعینھم (45: ٧٣) ” ہم نے ان کی آنکھیں موند دیں “ اور وہ اس طرح ہوگئے کہ نہ کسی چیز کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ انسانوں کو۔ اب نہ وہ لوط کو گھیر سکتے ہیں نہ مہمانوں کو پکڑ سکتے ہیں۔ یہ کہ قوم لوط کو اندھا کردیا گیا تھا۔ اس کا ذکر صرف یہاں آیا ہے۔ پوری وضاحت کے ساتھ دوسری جگہ یہ ہے۔ قالوا ............ الیک ” لوط ، ہم تیرے رب کے فرستادہ ہیں یہ لوگ تیری طرف نہیں پہنچ سکتے۔ “ یہاں پر تفصیل دے دی کہ وہ فرشتوں اور لوط (علیہ السلام) تک اس لئے نہ پہنچ سکتے تھے کہ ان کو اندھا کردیا گیا تھا۔ اب تک تو بات بطور حکایت ہورہی تھی ، اچانک آنکھوں کے سامنے ایک منظر آتا ہے اور جن پر عذاب آیا ہے ان سے مخاطب ہورہا ہے۔ فذوقوا عذابی ونذر (45: ٧٣) ” چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزہ “ یہ ہے وہ عذاب جس سے تمہیں ڈرایا جارہا تھا اور یہ ہیں وہ تنبیہات جن میں تم شک کررہے تھے۔ ان کی آنکھیں شام کو موند دی گئیں اور صبح تک وہ یونہی رہے کیونکہ اللہ نے ان کے لئے عذاب صبح کے وقت مقرر کیا ہوا تھا۔ ولقد ............ مستقر (45: ٨٣) ” صبح سویرے ہی ایک اٹل عذاب نے ان کو آلیا “ اور یہ وہی عذاب تھا جس کا جلد سے تذکرہ اوپر کردیا گیا۔ یہ وہ سخت ہوا تھی جس نے مٹی کے پتھروں کی بارش ان پر کردی تھی اور اس نے زمین کو اس گندگی اور فساد سے پاک کردیا۔ اب پھر انداز بیان میں فرق آتا ہے۔ منظر کو یوں پیش کیا جاتا ہے کہ گویا ابھی کا واقعہ ہے اور جن کو عذاب دیا گیا ان سے خطاب شروع ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(36) اور بلا شبہ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو ہماری گرفت اور ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا سو انہوں نے اس ڈرانے میں جھگڑے نکال کھڑے کئے اور جھگڑے پیدا کیئے اور مکابرہ کیا۔ یعنی اس کی بات کو غلط ثابت کرنیل گے اور ٹکرانے لگے۔