Surat ul Qamar

Surah: 54

Verse: 4

سورة القمر

وَ لَقَدۡ جَآءَہُمۡ مِّنَ الۡاَنۡۢبَآءِ مَا فِیۡہِ مُزۡدَجَرٌ ۙ﴿۴﴾

And there has already come to them of information that in which there is deterrence -

یقیناً ان کے پاس وہ خبریں آچکی ہیں جن میں ڈانٹ ڈپٹ ( کی نصیحت ) ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلَقَدْ جَاءهُم مِّنَ الاَْنبَاء ... And indeed there has come to them news; in this Qur'an, there has come to them the news of the earlier nations that disbelieved in their Messengers and the torment, punishment and affliction that befell them, ... مَا فِيهِ مُزْدَجَرٌ wherein there is Muzdajar, wherein there are warnings and lessons to stop them from idolatry and persisting in denial,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

4۔ 1 یعنی گذشتہ امتوں کی ہلاکت کی، جب انہوں نے جھٹلایا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ جَآئَ ھُمْ مِّنَ اْلاَ نْبَآئِ ۔۔۔:” نبائ “ کسی اہم خبر کو کہتے ہیں ، ” الانبائ “ اس کی جمع ہے۔ ” مزدجر “” زجر یز جز زجرا “ ( ن) روکنا ، منع کرنا ، ڈانٹنا) سے بات افتعال کا مصدر میمی ہے ، جس کا معنی ” باز آنا “ ہے۔ کہا جاتا ہے :” زجرتہ فازدجر “ میں نے اسے منع کیا تو وہ باز آگیا ۔ “ یہ اصل میں ” مزتجر “ ( بروزن مفتعل) تھا ، ” زائ “ کی وجہ سے باب افتعال کی ” تائ “ کو دال سے بدل دیا تو ’ ’ مزدجر “ ہوگیا ۔ تنوین اس میں تعظیم کے لیے ہے۔ یعنی قرآن کی صورت میں ان کے پاس رسولوں کو جھٹلانے والی اقوام کی خبروں میں سے ایسی اہم خبریں یقینا پہنچی ہیں جن میں آدمی کے لیے ہوائے نفس کی پیرو ی اور رسولوں کی تکذیب سے باز آنے کا مکمل سامان موجود ہے۔ اگلی آیات میں ان میں سے چند خبروں کا ذکر فرمایا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ جَاۗءَہُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَاۗءِ مَا فِيْہِ مُزْدَجَرٌ۝ ٤ ۙ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] ، فإنّ ذلک متناول للمرض في المعنی، كما أنّ النّفي في قولک : ما علم اللہ زيدا يخرج، هو للخروج، وتقدیر ذلک : قد يمرضون فيما علم الله، وما يخرج زيد فيما علم الله، وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) «2» يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء : قَدْ زيدا، وجعل ذلک مقیسا علی ما سمع من قولهم : قدني وقدک، والصحیح أنّ ذلک لا يستعمل مع الظاهر، وإنما جاء عنهم في المضمر . ( قد ) یہ حرف تحقیق ہے اور فعل کے ساتھ مخصوص ہے علماء نحو کے نزدیک یہ حرف توقع ہے اور اصل میں جب یہ فعل ماضی پر آئے تو تجدد اور حدوث کے معنی دیتا ہے جیسے فرمایا : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے ۔ قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] تمہارے لئے دوگرہوں میں ۔۔۔۔ ( قدرت خدا کی عظیم الشان ) نشانی تھی ۔ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] خدا نے ۔۔ سن لی ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ( اے پیغمبر ) ۔۔۔۔۔ تو خدا ان سے خوش ہوا ۔ لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی ۔ اور چونکہ یہ فعل ماضی پر تجدد کے لئے آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے اوصاف ذاتیہ کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا ۔ لہذا عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] کہنا صحیح نہیں ہے اور آیت : اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں ۔ میں قد لفظا اگر چہ علم پر داخل ہوا ہے لیکن معنوی طور پر اس کا تعلق مرض کے ساتھ ہے جیسا کہ ، ، میں نفی کا تعلق خروج کے ساتھ ہے ۔ اور اس کی تقدریروں ہے اگر ، ، قد فعل مستقل پر داخل ہو تو تقلیل کا فائدہ دیتا ہے یعنی کبھی وہ فعل واقع ہوتا ہے اور کبھی واقع نہیں ہوتا اور آیت کریمہ : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں ۔ کی تقدیریوں ہے قد یتسللون احیانا فیما علم اللہ ( تو یہ بہت آیت بھی ماسبق کی طرح موؤل ہوگی اور قد کا تعلق تسلل کے ساتھ ہوگا ۔ قدوقط یہ دونوں اسم فعل بمعنی حسب کے آتے ہیں جیسے محاورہ ہے قد فی کذا اوقطنی کذا اور قدی ( بدون نون وقایہ ا کا محاورہ بھی حکایت کیا گیا ہے فراء نے قدنی اور قدک پر قیاس کرکے قدر زید ا بھی حکایت کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ قد ( قسم فعل اسم ظاہر کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف اسم مضمر کے ساتھ آتا ہے ۔ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ نبأ خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ، ( ن ب ء ) النبا ء کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں موجود نہ ہوں ۔ یعنی نہایت مفید ہونا اور اس سے علم یا غلبہ ظن کا حاصل ہونا اور نبا صرف اس خبر کو کہا جاتا ہے جس میں کذب کا احتمال نہ ہو ۔ جیسے خبر متواتر خبر الہیٰ اور خبر نبوی جیسے فرمایا : ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] کہہ دو کہ یہ ایک بڑی ( ہولناک چیز کی ) خبر ہے جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے زجر الزَّجْرُ : طرد بصوت، يقال : زَجَرْتُهُ فَانْزَجَرَ ، قال : فَإِنَّما هِيَ زَجْرَةٌ واحِدَةٌ [ النازعات/ 13] ، ثمّ يستعمل في الطّرد تارة، وفي الصّوت أخری. وقوله : فَالزَّاجِراتِ زَجْراً [ الصافات/ 2] ، أي : الملائكة التي تَزْجُرُ السّحاب، وقوله : ما فِيهِ مُزْدَجَرٌ [ القمر/ 4] ، أي : طرد ومنع عن ارتکاب المآثم . وقال : وَقالُوا مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ [ القمر/ 9] ، أي : طرد، واستعمال الزّجر فيه لصیاحهم بالمطرود، نحو أن يقال : اعزب وتنحّ ووراءک . ( زج ر ) الزجر ۔ اصل میں آواز کے ساتھ دھتکارنے کو کہتے ہیں زجرتہ میں نے اسے جھڑکا ، روکا ۔ انزجر ( جھڑکنے پر ) کسی کام سے رک جانا ۔ یہ زجر کا مطاوع بن کر استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے :۔ فَإِنَّما هِيَ زَجْرَةٌ واحِدَةٌ [ النازعات/ 13] اور قیامت تو ایک ڈانٹ ہے ۔ پھر کبھی یہ صرف دھتکار دینا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی آواز کیلئے اور آیت کریمہ : فَالزَّاجِراتِ زَجْراً [ الصافات/ 2] سے مراد وہ فرشتے ہیں جو بادلوں کو ڈانٹ کر چلاتے ہیں اور آیت :۔ ما فِيهِ مُزْدَجَرٌ [ القمر/ 4] جس میں ( کافی ) تنبیہ ہے ۔ میں مزدجر سے ایسی باتیں مراد ہیں جو ارتکاب معاصی سے روکتی اور سختی سے منع کرتی ہیں اور آیت ؛۔ وَازْدُجِرَ [ القمر/ 9] اور اسے جھڑکیاں دی گئیں ۔ کے معنی ہیں ڈانٹ کر نکال دیا گیا یہاں زجر کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ مار بھگانے کے وقت تہدید آمیز کلمات استعمال کئے جاتے ہیں ۔ جیسے جا چلا جا دور ہوجا وغیرہ ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤۔ ٥) اور ان کہ والوں کے پاس قرآن کریم کے ذریعے گزشتہ قوموں کی خبریں پہنچ چکی ہیں کہ جھٹلانے پر وہ کس طرح ہلاک ہوئے جن میں کافی تنبیہ اور ممانعت ہے اور قرآن کریم اللہ کی طرف سے حکمت سے بھروپور ہے جس سے کافی دانش مندی حاصل ہوسکتی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤ { وَلَقَدْ جَآئَ ہُمْ مِّنَ الْاَنْبَـآئِ مَا فِیْہِ مُزْدَجَرٌ ۔ } ” اور ان کے پاس وہ خبریں آچکی ہیں جن میں تنبیہہ ہے۔ “ گزشتہ اقوام کے اپنے پیغمبروں کو جھٹلانے اور پھر اس کے نتیجے میں عذاب الٰہی کے ذریعے تباہ ہوجانے کی خبریں (انباء الرسل) ان لوگوں کو تفصیل سے بتائی جا چکی ہیں۔ ان خبروں میں مشرکین مکہ کے لیے یقینا کافی تنبیہہ و تہدید اور سامانِ عبرت موجود ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(54:4) ولقد : واؤ عاطفہ لام تاکید کا۔ اور قد ماضی سے قبل آنے پر تحقیق کا فائدہ دیتا ہے جارہم : ای الیٰ اہل مکۃ۔ اہل مکہ کے پاس پہنچ چکی ہیں۔ الانبائ۔ خبریں۔ حقیقتیں۔ بنا کی جمع ہے جس سے بڑا فائدہ اور یقین یا ظن غالب حاصل ہو۔ اسے نبا کہتے ہیں۔ جس خبر میں یہ باتیں موجود نہ ہوں اس کو بنأ نہیں بولتے کیونکہ کوئی خبر اس وقت تک نبا کہلانے کی مستحق نہیں جب تک کہ وہ شائبہ کذب سے پاک نہ ہو۔ جیسے وہ خبر جو تواتر سے ثابت ہو۔ یا جس کو اللہ اور رسول نے بیان کیا ہو۔ یہاں الاانباء سے مراد وہ خبریں ہیں جو قرآن مجید میں بیان ہوئیں۔ الانباء سے قبل من تبعیضیہ بھی ہوسکتا ہے اور بیانیہ بھی۔ ولقد جاء ھم من الانبای : ای ولقد جاء فی القران الی اہل مکۃ اخبار القرون الخالیۃ او اخبار الاخرۃ۔ تحقیق قرآن میں اہل مکہ کے پاس سابقہ امتوں کی خبریں کہ کس طرح ان کے کفر و شرک کے اصرار پر ان پر تباہی اور بربادی نازل کردی گئی اور آخرت کے متعلق خبریں کہ اہل کفر و شرک کس کس عذاب الیم میں دھرے جائیں گے ۔ پہنچ چکی ہیں۔ ما فیہ مزدجر : ما موصولہ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ما موصولہ ہے (ایسی خبریں) کہ جب میں ۔۔ مزدجع : مصدر میمی یا اسم ظرف مکان ہے ازدجار مصدر۔ (باب افتعال) زجر مادہ۔ جھڑکی یا جھڑکنے کا اور روکنے کا مقام۔ یہ لفظ اصل میں مزتجر تھا تاء کو دال سے بدل دیا گیا۔ ازدجر کا معنی ہے طردہ صائحا بہ۔ بلند آواز سے کسی کو کسی کام سے روکنا۔ باز رکھنا۔ جھڑکنا۔ یعنی یہ واقعات انہیں سختی سے منع کر ہے تھے کہ تم گمراہی کی یہ روش چھوڑ دو ۔ باب افتعال سے ازدجار لازم بھی ہے یعنی رک جانا اور باز رہنا۔ اور متعدی بھی بمعنی روک دینا۔ باز رکھنا۔ لیکن باب انفعال سے انزجار لازم آتا ہے بمعنی رک جانا۔ ٹھہر جانا۔ مافیہ مزدجر۔ جن میں کافی عبرت ہے۔ کافی تنبیہ ہے۔ آیت کا مطلب : ان لوگوں (اہل مکہ) کے پاس (گزشتہ اقوام کی یا آخرت میں ان کے ساتھ سلوک کی) خبریں اتنی پہنچ چکی ہیں (قرآن مجید کے ذریعہ) جن میں کافی (اور زوردار) تنبیہ موجود ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولقد ............ مزدجر (54:4) ” ان لوگوں کے سامنے وہ حالات آچکے ہیں جن میں سرکشی سے باز رکھنے کے لئے کافی سامان عبرت ہے۔ “ ان کے پاس اس کائنات کی آیات کے بارے میں قرآن نے کافی خبریں پھیر پھیر کر بیان کی ہیں۔ ان کے پاس اہم سابقہ کے مکذبین کی خبریں بھی آچکی ہیں۔ ان کے پاس مناظر قیامت کی شکل میں آخرت کی خبریں بھی آچکی ہیں۔ ان سب امور میں عبرت آموزی ، رکاوٹ ، خطرے کی علامات موجود ہیں اور ان کے اندر ایسی حکیمانہ باتیں بھی ہیں جو سیدھی دل میں اترنے والی ہیں اور اچھی ہدایات ہیں لیکن جو دل اندھے ہوچکے ہیں وہ آیات کو نہیں دیکھ پاتے اور ان خبروں سے فائدہ نہیں اٹھائے نہ خبروں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور نہ ڈراوے سے وہ ڈرتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

5:۔ ” ولقد جاءھم “ مزدجر، رک جانے کا مقام اور جائے عبرت۔ ” حکمۃ بالغۃ یہ ما سے بدل ہے یا مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ بدل من ما او علی ھو حکمۃ (مدارک ج 4 ص 103) ۔ یعنی ان معاندین کے پاس قرآن میں گذشتہ سرکش قوموں کے عبرتناک انجام کے اس قدرت واقعت آچکے ہیں کہ ان میں کافی سامانِ عبرت ہے اور جو شخص اخلاص کے ساتھ سرکشی اور عناد سے باز آنا چاہے اس کے لیے ان واقعات میں زجر و تہدید کا کافی مواد موجود ہے اور وہ سراپا حکمت و دانش ہے اور اس کی ہر بات حکمت زجر کی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ یعنی القران حکمۃ تامۃ قد بلغت الغایۃ فی الزجر (معالم و خازن ج 6 ص 274) ۔ ” فما تغن النذر “ مصدر ہے۔ بمعنی الانذار۔ یعنی جو لوگ ایسے عظیم معجزات دیکھتے اور قرآن ایسی حکمت سے لبریز کتاب سننے اور گذشتہ سرکش قوموں کا عبرتناک انجام جاننے کے باوجود ایمان نہیں لاتے اب ان کو تبلیغ وانذار سے کچھ بھی فائدہ نہیں ہوگا۔ ” فتول عنہم “ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلیہ ہے یعنی آپ نے تبلیغ و انذار کا حق ادا کردیا ہے اور مشرکین پر حجت خداوندی قائم فرما دی ہے اب مزید وعظ و نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوگا کیونکہ ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے اس لیے اب آپ ان سے اعراض کریں یعنی ای شیء تگنی النذر عمن کتب اللہ علیہ الشقاوۃ وکتم علی قلبہ (ابن کثیر ج 4 ص 263) ۔ فتول عنہم لعلمک ان الانذار یغنی فیہم (مدارک ج 4 ص 103) ۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ” فاعرض عمن تولی عن ذکرنا “ (النجم رکوع 2) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(4) اور بلا شبہ سابقہ واقعات میں سے ان کے پاس اس قدر خبریں پہنچ چکی ہیں کہ ان میں ان کے لئے کافی نصیحت اور عبرت اور ڈانٹ ہوسکتی ہے۔ قادہ ہے کہ افتعال کی تاکودال مشدد یا ڈال سے یا زا سے بدل لیا کرتے ہیں۔ ازدجار کسی کو جھڑک کر کسی بات سے روکنا اور منع کرنا مطلب یہ ہے کہ امم سابقہ کی تعذیب کے جو واقعات ان تک آئے ہیں اور جو خبریں ان تک پہنچی ہیں ان خبروں میں کافی جھڑکی اور منع ہے یہاں بھی کہا کرتے ہیں خبردارایسا نہ کرنا کبھی چیخ کر کہتے ہیں کبھی تیز آواز سے منع کرتے ہیں اسی کو فرمایا کہ وہ واقعات خود اس قسم کی جھڑکی اور روک ہیں یا ان میں سے اس قدر جھڑکی اور ڈانٹ ہے کہ ایک سمجھ دار آدمی کو انہیں سن کر گناہوں سے بچ جانا چاہیے۔