Surat ul Qamar

Surah: 54

Verse: 42

سورة القمر

کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا کُلِّہَا فَاَخَذۡنٰہُمۡ اَخۡذَ عَزِیۡزٍ مُّقۡتَدِرٍ ﴿۴۲﴾

They denied Our signs, all of them, so We seized them with a seizure of one Exalted in Might and Perfect in Ability.

انہوں نے ہماری تمام نشانیاں جھٹلائیں پس ہم نے انہیں بڑے غالب قوی پکڑنے والے کی طرح پکڑ لیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And indeed, warnings came to the people of Fir`awn. (They) denied all Our signs, so We seized them with a punishment of the Almighty, All-Capable. A Messenger came to them from Allah, Musa supported by his brother Harun. Their Messengers delivered good news if they believe, and a warning if they rejected the Message. Allah supported Musa and Harun with tremendous miracles and great signs, but Fir`awn and his people rejected all of them. Allah took them the way the All-Mighty, the All-Capable would; He destroyed them all leaving none surviving to tell the story of what happened to them. Advising and Threatening the Quraysh Allah said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

42۔ 1 وہ نشانیاں، جن کے ذریعے سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور فرعونیوں کو ڈرایا، یہ نشانیاں تھیں جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٩] فرعون کی خدائی اور فرعونیوں کا حشر :۔ فرعون بھی اپنے ملک میں خدا بنا بیٹھا تھا۔ سیدنا موسیٰ اور سیدنا ہارون (علیہما السلام) اس کے پاس ایسے واضح معجزات لے کر آئے تھے جن سے انہیں یقین ہوگیا تھا کہ یہ واقعی اللہ کے پیغمبر ہیں۔ مگر وہ اپنی فرمانروائی اور خدائی سے دستبردار ہونے کو قطعاً تیار نہ تھا لہذا پیغمبروں کو جھٹلا دیا اور ان پر ایمان لانے کی بجائے ظلم و ستم ڈھانے لگا اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردینے کے منصوبے سوچنے لگا۔ اس وقت ہم نے اسے ایسی سزادی جس سے بچ نکلنے کے لیے اس کے پاس کوئی راہ نہ تھی۔ ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو عین سمندر کے درمیان لاکر سمندر کے پانی کو روانی کا حکم دیا۔ اس طرح اسے اس کے لشکروں سمیت سمندر میں غرق کردیا۔ اس وقت نہ اس کی خدائی کام آئی اور نہ اس کے لشکر۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

کَذَّبُوْا بِاٰ یٰـتِنَا کُلِّہَا فَاَخَذْنٰـہُمْ ۔۔۔۔:” عزیز “ سب پر غالب ، جو کرنا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا ۔ ” مقتدر “ ” قدر یقدر “ (ض) سے باب افتعال ہے ، حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے ” مقتدر “ میں ” قادر “ اور ” قدیر “ کی بہ نسبت قدرت کا معنی زیادہ ہے ، یعنی جو کرنا چاہے اس کی پوری قدرت رکھتا ہے ، کسی طرح عاجز نہیں ۔ آل فرعون پر آنے والی گرفت کی شدت اور ہولناکی کا بیان مقصود ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ ہود (١٠٢)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا كُلِّہَا فَاَخَذْنٰہُمْ اَخْذَ عَزِيْزٍ مُّقْتَدِرٍ۝ ٤٢ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزیز العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ ) مقتدر : اسم فاعل واحد مذکر، اقتدار ( افتعال) مصدر ہر طرح کی قدرت والا صاحب اقتدار۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٢ { کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا کُلِّہَا } ” انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا “ سورة بنی اسرائیل کی آیت ١٠١ میں ان نشانیوں کی تعداد نو (٩) بتائی گئی ہے : { وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی تِسْعَ اٰیٰتٍم بَـیِّنٰتٍ } ” اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں “۔ ان میں دو نشانیاں تو آپ (علیہ السلام) کو ابتدا میں عطا ہوئی تھیں یعنی عصا کا اژدھا بن جانا اور ہاتھ کا چمکدار ہوجانا۔ جبکہ سات نشانیاں وہ تھیں جن کا ذکر سورة الاعراف کے سولہویں رکوع میں آیا ہے ۔ یہ نشانیاں قوم فرعون پر وقتاً فوقتاً عذاب کی صورت میں نازل ہوتی رہیں ۔ { فَاَخَذْنٰــہُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ ۔ } ” پھر ہم نے انہیں پکڑا ‘ ایک زبردست ‘ صاحب قدرت کا پکڑنا۔ “ یعنی یہ کوئی معمولی اور کمزور پکڑ نہیں تھی کہ اس سے کوئی نکل بھاگتا ‘ بلکہ اس اللہ کی پکڑ تھی جو زبردست طاقت کا مالک ہے اور کائنات کے ہر معاملے میں اسے پوری قدرت حاصل ہے۔ ان پیغمبروں اور ان کی نافرمان قوموں کے انجام کا ذکر کرنے کے بعد اب روئے سخن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور کفارِ مکہ کی طرف پھیرا جا رہا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(54:42) کذبوا : میں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب آل عمران کے لئے ہے۔ بایتنا کلہا۔ ب حرف جار۔ ایتنا مضاف مضاف الیہ مل کر موصوف کلہا مضاف مضاف الیہ مل کر صفت اپنے صوف کی ، ہماری تمام آیات کو۔ فائدہ : آیات سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل شدہ نو احکام ہیں وہ یہ ہیں :۔ (1) کسی کو اللہ کا شریک قرار نہ دو ۔ (2) چوری نہ کرو۔ (3) زنا نہ کرو۔ (4) جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہے اس کو ناحق قتل نہ کرو۔ (5) کسی بےقصور کو حاکم کے پاس قتل کرانے کے لئے نہ لے جاؤ۔ (6) جادو نہ کرو۔ (7) سود نہ کھاؤ۔ (8) کسی پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت نہ لگاؤ۔ (8) جہاد کے معرکہ سے پشت نہ پھیرو۔ اور ایک خاص حکم یہودیوں کے لئے یہ تھا کہ ہفتہ کے دن (کی حرمت) میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ (یعنی ہفتہ کے دن کی حرمت قائم رکھو۔ اس دن دنیاوی کا روبار نہ کرو۔ (تفسیر المظہری) فاخذنہم ف سببیہ اخذنا ماضی جمع متکلم۔ اخذ (باب نصر) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ پس اس تکذیب کے سبب ہم نے ان کو پکڑا۔ اخذ۔ مفعول مطلق۔ (سخت) پکڑ۔ اخذ مصدر سے کبھی لینے کے معنی آتے ہیں اور کبھی پکڑنے کے۔ یہاں دوسرا معنی مراد ہے۔ اور اخذ مضاف ہے اور عزیز مقتدر مضاف الیہ۔ عزیز مقتدر موصوف صفت۔ عزیز غالب۔ زبردست وقوی ۔ مشتاق، دشوار شاہ مصدر واسکندریہ کا لقب۔ عزۃ (باب ضرب) مصدر سے فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے اخذ کا مضاف الیہ ہے۔ مقتدر : اسم فاعل واحد مذکر، اقتدار (افتعال) مصدر ہر طرح کی قدرت والا صاحب اقتدار۔ فاخذنھم اخذ عریز مقتدر : پھر ہم نے ان کو ایک زبردست صاحب اقتدار کی پکڑ پکڑا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یا ” تنبی ہیں آچکیں “

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی ان کے مدلول و متقضی کو کہ نبوت موسویہ و توحید الہی ہے جھٹلایا، ورنہ واقعات کے وقوع کی تکذیب تو ہو نہیں سکتی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(42) کہ انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کی تکذیب کی اور ہماری سب نشانیوں کو جھٹلایا پھر ہم نے ان کی ایسی گرفت کی اور ایسا کی اور ایسا پکڑا جیسے ایک زبردست زور آور صاحب اقتدار کی گرفت اور پکڑنا ہوتا ہے۔ نشانات کی تکذیب کا یہ مطلب کہ ان کو جادو بتایا اللہ تعالیٰ کی نشانی ہونے کا انکار کیا اور نشانہائے خداوندی پر جو نتیجہ مرتب ہوتا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لاتے اور دین برحق کے مطیع ہوجاتے وہ نہیں کیا بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلاتے رہے۔ عزیر مقتدر یعنی جس طرح زبردست اور قوی اور بااختیار اور ذی اقتدار بادشاہ پکڑا کرتے ہیں اور سزا دیتے ہیں اسی طرح ہم نے ان کی گرفت کی اور سزا دی۔