Surat ul Qamar

Surah: 54

Verse: 48

سورة القمر

یَوۡمَ یُسۡحَبُوۡنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوۡہِہِمۡ ؕ ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ ﴿۴۸﴾

The Day they are dragged into the Fire on their faces [it will be said], "Taste the touch of Saqar."

جس دن وہ اپنے منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے ( اور ان سے کہا جائے گا ) دوزخ کی آگ لگنے کے مزے چکھو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ... The Day they will be dragged on their faces into the Fire, meaning, just as they were consumed in doubt, suspicion and hesitation, they ended up in the Fire. And just as they were misguided, they will end up being dragged on their faces, unaware of where they will be taken. They will be admonished and criticized, ... ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ "Taste you the touch of Hell!" Everything was created with Qadar Allah's statement, إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

48۔ 1 سَقَرً بھی جہنم کا نام ہے یعنی اس کی حرارت اور شدت عذاب کا مزہ چکھو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ ۔۔۔۔۔:” سقر “ جہنم کا علم ( نام) ہے اور مؤنث سماعی ہے ، اس لیے غیر منصرف ہے اور اس پر تنوین نہیں آتی ۔ اشتقاق اس کا ” ستقرتہ النار “ ( آگ نے اسے جھلس دیا) سے ہے ، یعنی ان پر ان کی ضلالت اور دیوانگی اس دن واضح ہوگی جب انہیں ان کے چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا اور کہا جائے گا کہ جہنم کے چھونے کا مزہ چکھو۔ مزید دیکھئے سورة ٔ فرقان (٣٤)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْہِہِمْ۝ ٠ ۭ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ۝ ٤٨ سحب أصل السَّحْبِ : الجرّ کسحب الذّيل، والإنسان علی الوجه، ومنه : السَّحَابُ ، إمّا لجرّ الرّيح له، أو لجرّه الماء، أو لانجراره في مرّه، قال تعالی: يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] ، وقال تعالی: يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ [ غافر/ 71] ، وقیل : فلان يَتَسَحَّبُ علی فلان، کقولک : ينجرّ ، وذلک إذا تجرّأ عليه، والسَّحَابُ : الغیم فيها ماء أو لم يكن، ولهذا يقال : سحاب جهام «4» ، قال تعالی: أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزْجِي سَحاباً [ النور/ 43] ، حَتَّى إِذا أَقَلَّتْ سَحاباً [ الأعراف/ 57] ، وقال : وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] ، وقد يذكر لفظه ويراد به الظّلّ والظّلمة، علی طریق التّشبيه، قال تعالی: أَوْ كَظُلُماتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍّ يَغْشاهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحابٌ ظُلُماتٌ بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ [ النور/ 40] . ( س ح ب ) السحب اس کے اصل معنی کھینچنے کے ہیں ۔ چناچہ دامن زمین پر گھسیٹ کر چلنے یا کسی انسان کو منہ کے بل گھسیٹنے پر سحب کا لفظ بولا جاتا ہے اسی سے بادل کو سحاب کہا جاتا ہے یا تو اس لئے کہ ہوا اسے کھینچ کرلے چلتی ہے اور یا اس بنا پر کہ وہ چلنے میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گھسٹتا ہوا چل رہا ہے قرآن میں ہے :۔ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] جس دن ان کو انکے منہ کے بل ( دوزخ کی ) آگ میں گھسیٹا جائیگا ۔ اور فرمایا : يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ [ غافر/ 71] انہیں دوزخ میں کھینچا جائے گا ۔ محاورہ ہے :۔ فلان یتسحب علی فلان : کہ فلاں اس پر جرات کرتا ہے ۔ جیسا کہ یتجرء علیہ کہا جاتا ہے ۔ السحاب ۔ ابر کو کہتے ہیں خواہ وہ پانی سے پر ہو یا خالی اس لئے خالی بادل کو سحاب جھام کہا جاتا ہے قرآن میں ہے :۔ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزْجِي سَحاباً [ النور/ 43] کیا تو نے غور نہیں کیا کہ اللہ بادل کو چلاتا ہے ۔ حَتَّى إِذا أَقَلَّتْ سَحاباً [ الأعراف/ 57] حتی کہ جب وہ بھاری بادل کو اٹھا لاتی ہیں ۔ وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] اور وہ بھاری بادل اٹھاتا ہے ۔ اور کبھی لفظ سحاب بول کر بطور تشبیہ کے اس سے سایہ اور تاریکی مراد لی جاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : أَوْ كَظُلُماتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍّ يَغْشاهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحابٌ ظُلُماتٌ بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ [ النور/ 40] یا ( ان کے اعمال کی مثال ) بڑے گہرے دریا کے اندورنی اندھیروں کی سی ہے کہ دریا کو لہر نے ڈھانپ رکھا ہے اور ( لہر بھی ایک نہیں بلکہ ) لہر کے اوپر لہر ان کے اوپر بادل ( کی تاریکی غرض اندھیرے ہیں ایک کے اوپر ایک ۔ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ وجه أصل الوجه الجارحة . قال تعالی: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] ( و ج ہ ) الوجہ کے اصل معنی چہرہ کے ہیں ۔ جمع وجوہ جیسے فرمایا : ۔ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] تو اپنے منہ اور ہاتھ دھو لیا کرو ۔ ذوق الذّوق : وجود الطعم بالفم، وأصله فيما يقلّ تناوله دون ما يكثر، فإنّ ما يكثر منه يقال له : الأكل، واختیر في القرآن لفظ الذّوق في العذاب، لأنّ ذلك۔ وإن کان في التّعارف للقلیل۔ فهو مستصلح للکثير، فخصّه بالذّكر ليعمّ الأمرین، وکثر استعماله في العذاب، نحو : لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56] ( ذ و ق ) الذاق ( ن ) کے معنی سیکھنے کے ہیں ۔ اصل میں ذوق کے معنی تھوڑی چیز کھانے کے ہیں ۔ کیونکہ کسی چیز کو مقدار میں کھانے پر اکل کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن نے عذاب کے متعلق ذوق کا لفظ اختیار کیا ہے اس لئے کہ عرف میں اگرچہ یہ قلیل چیز کھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر لغوی معنی کے اعتبار سے اس میں معنی کثرت کی صلاحیت موجود ہے ۔ لہذا معنی عموم کثرت کی صلاحیت موجود ہے ۔ لہذا منعی عموم کے پیش نظر عذاب کے لئے یہ لفظ اختیار کیا ہے ۔ تاکہ قلیل وکثیر ہر قسم کے عذاب کو شامل ہوجائے قرآن میں بالعموم یہ لفظ عذاب کے ساتھ آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56] تاکہ ( ہمیشہ ) عذاب کا مزہ چکھتے رہیں ۔ مسس المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ، ( م س س ) المس کے معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔ اور مس کا لفظ ہر اس تکلیف کے لئے بول دیا جاتا ہے جو انسان تو پہنچے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] اور کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ۔۔ چھوہی نہیں سکے گی سقر من سَقَرَتْهُ الشمسُ وقیل : صقرته، أي : لوّحته وأذابته، وجُعل سَقَرُ اسم علم لجهنّم قال تعالی: ما سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ [ المدثر/ 42] ، وقال تعالی: ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ [ القمر/ 48] ، ولمّا کان السَّقْرُ يقتضي التّلویح في الأصل نبّه بقوله : وَما أَدْراكَ ما سَقَرُ لا تُبْقِي وَلا تَذَرُ لَوَّاحَةٌ لِلْبَشَرِ [ المدثر/ 27- 29] ، أنّ ذلک مخالف لما نعرفه من أحوال السّقر في الشاهد . ( س ق ر ) سقر ۔ ( جہنم ) اصل میں سقرتہ الشمس وصقرتہ سے مشتق ہے ۔ جس کے معنی ہیں اسے دھوپ نے جھلس دیا اور پگھلا دیا ۔ پھر جہنم کا علم بن گیا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ ما سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ [ المدثر/ 42] کہ تم دوزخ میں کیوں پڑے ۔ اور نیز فرمایا : ۔ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ [ القمر/ 48] اب آگ کا مزہ چکھو ۔ پھر چونکہ سقر اپنے اصل کے لحاظ سے جھلس دینے کے معنی کو مقتضی ہے اس لئے آیات : ۔ وَما أَدْراكَ ما سَقَرُ ۔ لا تُبْقِي وَلا تَذَرُ ۔ لَوَّاحَةٌ لِلْبَشَرِ [ المدثر/ 27- 29] اور تم کیا سمجھے کہ سقر کیا ہے ؟ ( وہ آگ ہے کہ ) نہ باقی رکھے گی اور نہ چھوڑے گی اور بدن کو جھلس کر سیاہ کر دے گی ۔ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ سقر کے جو احوال تم مشاہدہ سے جانتے ہو اس کا معاملہ اس سے بالکل جدا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

قیامت کے دن جبکہ فرشتے ان لوگوں کو جہنم میں ان کے مونہوں کے بل گھسیٹ کرلے جائیں گے تو ان سے فرشتے کہیں گے کہ دوزخ کی آگ کا مزہ چکھو۔ شان نزول : اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ فِيْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ (الخ) امام مسلم اور ترمذی نے ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ مشرکین مکہ نے آکر رسول اکرم سے تقدیر کے بارے میں مباحثہ کرنا شروع کردیا ان المجرمین سے خلقناہ بقدر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٨ { یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ ط } ” جس دن یہ گھسیٹے جائیں گے آگ میں اپنے چہروں کے بل۔ “ { ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ ۔ } ” (ان سے کہا جائے گا : ) اب چکھوآگ کی لپٹ کا مزا ! “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(54:48) یوم : فعل محذوف کا مفعول ای اذکر یوم۔ یاد کرو وہ دن کہ جس روز۔ یسحبون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ سحب (باب فتح) مصدر۔ وہ گھسیٹے جائیں گے۔ علی وجوہہم۔ اپنے منہ کا بل۔ وجوہ جمع وجہ کی بمعنی منہ۔ ذوقوا۔ اس سے قبل عبارت یقال لہم مقدر ہے۔ ان سے کہا جائے گا (آگ لگنے کا) مزہ چکھو۔ ذوقوا فعل امر۔ جمع مذکر حاضر، ذوق (باب نصر) مصدر۔ تم چکھو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ ١ؕ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ ٠٠٤٨﴾ (جس دن یہ لوگ چہروں کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ دوزخ کے چھونے کو چکھ لو) دنیا کی آگ کا جلانا دوزخ کی آگ کے جلانے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے، وہاں کی آگ کیسی ہوگی اس کا اندازہ کرلیا جائے اس آگ کو چھونا ہی بہت سخت عذاب کا سبب ہوگا۔ پھر اس میں جلنا کیسا عذاب ہوگا ہر مجرم کو یہ سوچنا چاہئے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

22:۔ ” یوم یسحبون۔ الایۃ “ اس سے پہلے ” یقال لہم “ مقدر ہے۔ قیامت کے دن جب مجرمین کو مونہوں کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈالا جائیگا اس وقت ان سے کہا جائیگا دنیا میں عیش و آرام کے مزے لیتے رہے آج بھڑکتی آگ کے درد والم کا مزہ بھی چکھو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(48) وہ دن قابل ذکر ہے جس دن یہ لوگ اپنے منھوں کے بل جہنم میں گھسیٹتے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ دوزخ کی آگ کے لپٹنے کا مزہ چکھو۔ ارتباط آیت سابقہ سے بھی ہوسکتا ہے اور استیناب بھی ہوسکتا ہے اس لئے ہم نے ترجمے اور تیسیر میں دونوں رعایتیں رکھی ہیں۔ سقر دوزخ کے درکات میں سے ایک درک کا ناک ہے بلکہ منہ کے بل گھسیٹ کرلے جائیں گے اور کہیں گے اس جہنم کے عذاب کے لپٹنے کا مزہ چکھو آگے عذاب جلدی طلب کرنے والوں کا جواب ہے۔