Surat ul Qamar

Surah: 54

Verse: 51

سورة القمر

وَ لَقَدۡ اَہۡلَکۡنَاۤ اَشۡیَاعَکُمۡ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿۵۱﴾

And We have already destroyed your kinds, so is there any who will remember?

اور ہم نے تم جیسے بہتیروں کو ہلاک کر دیا ہے پس کوئی ہے نصیحت لینے والا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا أَشْيَاعَكُمْ ... And indeed, We have destroyed your likes, i.e. the earlier nations who denied their Messengers, ... فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ then is there any that will remember! meaning, is there any that will receive admonition by remembering the humiliation and torment that Allah decreed for them? وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَـعِهِم مِّن قَبْلُ And a barrier will be set between them and that which they desire, as was done in the past with the people of their kind. (34:54) Allah's statement, وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوهُ فِي الزُّبُرِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

51۔ 1 یعنی گذشتہ امتوں کے کافروں کو، جو کفر میں تمہارے ہی جیسے تھے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٦] اشیاع کا لغوی مفہوم :۔ اشیاع شیعہ کی جمع ہے اور شیعہ کے معنی پارٹی، دھڑا، سیاسی فرقہ ہے یعنی وہ لوگ جن سے انسان قوت حاصل کرتا ہے اور وہ اس کے ارد گرد پھیلے رہتے ہیں۔ یعنی کسی شخص کے پیروکار اور مددگار۔ ایسی پارٹی یا دھڑے کی بنیاد عموماً عقیدہ کا اختلاف ہوتا ہے۔ اور شیعہ کی جمع شیعا بھی آتی ہے اور وہ انہی معنوں میں آتی ہے اور اشیاع بھی آتی ہے اور اس سے مراد ایک ہی جیسی عادات واطوار رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ خواہ وہ پہلے گزر چکے ہوں یا موجود ہوں۔ ہم جنس لوگ۔ اس آیت میں یہ لفظ انہیں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ اَہْلَکْنَـآ اَشْیَاعَکُمْ ۔۔۔۔۔: قیامت پر قادر ہونے کا ایک نمونہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ قسم ہے کہ ہم نے تمہارے جیسی کئی جماعتوں مثلاً عاد وثمود وغیرہ کو ہلاک کر ڈالا ۔ وہ بھی یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ ان پر عذاب آسکتا ہے ، مگر جب عذاب آیا تو اچانک آیا ۔ ایسے ہی قیامت بھی اچانک آئے گی ، تو کیا ہے کوئی جو اپنے جیسے ان گروہوں سے عبرت حاصل کرے اور قیامت کی ت تیاری کرے ؟ یہاں پھر التفاف ہے ، یعنی مشرکین کو مخاطب فرما لیا ہے ، کیونکہ مقصود ڈانٹنا ہے ۔ ” اشیاع “ ” شیعۃ “ کی جمع ہے ، ایک جیسا عقیدہ رکھنے والی جماعت کے لوگ جو ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوں ۔ یہاں ” اشیاعکم “ کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ بھی کفر و شرک میں تمہارے جیسے تھے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ اَہْلَكْنَآ اَشْـيَاعَكُمْ فَہَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۝ ٥١ هلك الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه : افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] - وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام . والثالث : الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار : وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] . ( ھ ل ک ) الھلاک یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ایک یہ کہ کسی چیز کا اپنے پاس سے جاتے رہنا خواہ وہ دوسرے کے پاس موجود ہو جیسے فرمایا : هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] ہائے میری سلطنت خاک میں مل گئی ۔ دوسرے یہ کہ کسی چیز میں خرابی اور تغیر پیدا ہوجانا جیسا کہ طعام ( کھانا ) کے خراب ہونے پر ھلک الطعام بولا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] اور کھیتی کو بر باد اور انسانوں اور حیوانوں کی نسل کو نابود کردی ۔ موت کے معنی میں جیسے فرمایا : ۔ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] اگر کوئی ایسا مرد جائے ۔ شيع الشِّيَاعُ : الانتشار والتّقوية . يقال : شاع الخبر، أي : كثر وقوي، وشَاعَ القوم : انتشروا وکثروا، وشَيَّعْتُ النّار بالحطب : قوّيتها، والشِّيعَةُ : من يتقوّى بهم الإنسان وينتشرون عنه، ومنه قيل للشّجاع : مَشِيعٌ ، يقال : شِيعَةٌ وشِيَعٌ وأَشْيَاعٌ ، قال تعالی: وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لَإِبْراهِيمَ [ الصافات/ 83] ، هذا مِنْ شِيعَتِهِ وَهذا مِنْ عَدُوِّهِ [ القصص/ 15] ، وَجَعَلَ أَهْلَها شِيَعاً [ القصص/ 4] ، فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ [ الحجر/ 10] ، وقال تعالی: وَلَقَدْ أَهْلَكْنا أَشْياعَكُمْ [ القمر/ 51] . ( ش ی ع ) الشیاع کے معنی منتشر ہونے اور تقویت دینا کے ہیں کہا جاتا ہے شاع الخبر خبر پھیل گئی اور قوت پکڑ گئی ۔ شاع القوم : قوم منتشر اور زیادہ ہوگئی شیعت النار بالحطب : ایندھن ڈال کر آگ تیز کرنا الشیعۃ وہ لوگ جن سے انسان قوت حاصل کرتا ہے اور وہ اس کے ارد گرد پھیلے رہتے ہیں اسی سے بہادر کو مشیع کہا جاتا ہے ۔ شیعۃ کی جمع شیع واشیاع آتی ہے قرآن میں ہے وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لَإِبْراهِيمَ [ الصافات/ 83] اور ان ہی یعنی نوح (علیہ السلام) کے پیرؤں میں ابراہیم تھے هذا مِنْ شِيعَتِهِ وَهذا مِنْ عَدُوِّهِ [ القصص/ 15] ایک تو موسیٰ کی قوم کا ہے اور دوسرا اس کے دشمنوں میں سے تھا وَجَعَلَ أَهْلَها شِيَعاً [ القصص/ 4] وہاں کے باشندوں کو گروہ در گروہ کر رکھا تھا ۔ فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ [ الحجر/ 10] پہلے لوگوں میں ( بھی ) وَلَقَدْ أَهْلَكْنا أَشْياعَكُمْ [ القمر/ 51] اور ہم تمہارے ہم مذہبوں کو ہلاک کرچکے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور مکہ والو ہم تمہارے ہم مسلک لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں سو ان لوگوں کے ساتھ جو برتاؤ ہوا تو کیا اس سے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے کہ نصیحت حاصل کر کے گناہوں کو چھوڑ دے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥١ { وَلَقَدْ اَہْلَکْنَآ اَشْیَاعَکُمْ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ ۔ } ” تو (اے قریش ِمکہ) ہم نے تم جیسے بہت سے لوگوں کو ہلاک کیا ہے ‘ تو کوئی ہے اس سے سبق حاصل کرنے والا ؟ “ تمہاری تذکیر اور یاد دہانی کے لیے قرآن حکیم میں سابقہ اقوام کے انجام کی عبرت انگیز تفاصیل بار بار بیان کی گئی ہیں۔ تاریخی حوالوں سے بھی ان اقوام کے حالات سے تم لوگ اچھی طرح واقف ہو۔ اب تم لوگ چاہو تو ان کے انجام سے سبق حاصل کرسکتے ہو۔ اس کے علاوہ بیشمار آیات آفاقی و انفسی بھی تمہارے سامنے ہیں۔ اگر تم لوگ کبھی ان آیات کا مشاہدہ دل کی آنکھ سے کرو تو وہ بھی تمہاری ہدایت کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

27 That is, 'If you think that the world is not the Kingdom of a Wise and .lust God but the lawless empire of a blind ruler, in which man may behave and conduct himself as he likes, without any fear of accountability, history is proof and an eye-opener for you, which shows that the nations that adopted such a way of life, have been sent to their doom, one after the other."

سورة الْقَمَر حاشیہ نمبر :27 یعنی اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ کسی خدائے حکیم و عادل کی خدائی نہیں بلکہ کسی اندھے راجہ کی چوپٹ نگری ہے جس میں آدمی جو کچھ چاہے کرتا پھرے ، کوئی اس سے باز پرس کرنے والا نہیں ہے ، تو تمہاری آنکھیں کھولنے کے لیے انسانی تاریخ موجود ہے جس میں اسی روش پر چلنے والی قومیں پے در پے تباہ کی جاتی رہی ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(54:51) ولقد : واؤ عاطفہ، لام تاکید کا اور قد تحقیق کے لئے۔ اشیاعکم : مضاف مضاف الیہ۔ اشیاع جمع ہے۔ شیعۃ کی۔ تمہارے طریقہ والے تمہارے ساتھ والے۔ یعنی تم سے پہلے لوگ جو کفر میں تمہاری طرح تھے ہم نے ان کو غارت کردیا ۔ فہل من مدکر : سو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔ (نیز ملاحظہ ہو آیت 15 متذکرۃ الصدر)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ جو دلیل ہے اس طریقہ کے مبغوض ہونے کی اور وہی تمہارا طریقہ ہے اور یہ دلیل نہایت واضح ہے۔ 2۔ یعنی اس دلیل سے استدلال کرو مبغوضیت طریقہ کفریہ پر۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولقد ................ مستطر (45: ٣ 5) ” اور تم جیسے بہت سوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ، پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ سب دفتروں میں درج ہے اور یہ چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے۔ “ یہ ہیں مکذبین کی بربادیاں جن کی طرف اسی سورت میں اشارات موجود ہیں۔ کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ جو نصیحت حاصل کرے اور عبرت پکڑے۔ ان کی ان بربادیوں پر ہی ان کا حساب و کتاب ختم نہیں ہوگا بلکہ ایک آنے والا حساب ہے جس سے کوئی ذرہ برابر فعل بھی نہیں بچ سکتا۔ وکل ............ الزبر (45: ٢ 5) ” انہوں نے جو کچھ بھی کیا ہے دفتروں میں درج ہے۔ “ وہ دفتروں میں سطور کی شکل میں درج ہے یوم الحساب کے لئے تیار شدہ چٹھا ہے۔ وکل ................ مستطر (45: ٣ 5) ” ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے۔ “ کوئی چیز اس میں سے بھول کر نہیں رہتی۔ اب روئے سخن متقین کی طرف پھرجاتا ہے۔ یہ صفحہ بالمقابل ہے مکذبین کا۔ نہایت ہی خوشحالی کی تصویر ہے۔ ان کی ، امن و اطمینان میں اور کیف و سرور میں اور عزت و عظمت میں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَاۤ اَشْيَاعَكُمْ ﴾ اور تم سے پہلے جو تمہاری طرح کے لوگ کفر اختیار کیے ہوئے تھے ہم نے انہیں ہلاک کردیا (جن کے واقعات تم جانتے بھی ہو) ﴿ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ٠٠٥١﴾ (سو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

24:۔ ” ولقد اھلکنا۔ الایۃ “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ” اشیاعکم “ ای اشباھکم فی الکفر من الامم الخالیۃ (قرطبی ج 17 ص 149) ۔ اے مشرکین عرب ! تم سے پہلے ہم ایسی سرکش اور متمرد قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ کیا ان کے عبرتناک انجام سے بھی تم کوئی سبق نہیں سیکھتے۔ ” وکل شیء فعلوہ۔ الایۃ “ یہ کفار جو کچھ بھی کر رہے ہیں ان کی ہر بات اور ان کا ہر کام ان کے اعمالناموں میں لکھا جا رہا ہے۔ اس لیے انہیں ان کے ہر عم کی سزا ملے گی۔ ” وکل صغیر۔ الایۃ “ ہر چھوٹی اور بڑی بات لوح محفوظ میں تحریر ہے۔ اس لیے قضاء وقدر کا کوئی فیصلہ ٹل نہیں سکتا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(51) اور ہم تمہارے بہت سے ہم مسلک ، ہم مذہب، ہم طریقہ اور تم جیسے لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں تو کیا کوئی نصیحت قبول کرنے والا اور سوچنے غور کرنے والا ہے۔ یعنی کسی طبقے کو ہلاک کردینا ہمیں کچھ مشکل نہیں ہے آخر تمہارے ہم مشربوں کو بہت سوں کو ہلاک کرچکے ہیں تمہاری ہلاکت ہمیں کیا مشکل ہے کوئی تم میں نصیحت حاصل کرنے والا اور عبرت پکڑنے والا ہے آگے ایک اور شبہ کا جواب ہے۔