حضرت زر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا قرآن میں جو لفظ ( من ماء غیر اسن ) ہے یہ ( اسن ) لفظ ہے یا ( اسن ) تو آپ نے فرمایا گویا تو نے باقی کا سارا قرآن سمجھ لیا ہے؟ اس نے کہا میں مفصل کی تمام سورتوں کو ایک رکعت میں پڑھ لیا کرتا ہوں آپ نے فرمایا پھر تو جیسے شعر جلدی جلدی پڑھے جاتے ہیں اسی طرح تو قرآن کو بھی جلدی جلدی پڑھتا ہو گا افسوس مجھے خوب یاد ہے کہ مفصل کی سب سے پہلی سورتوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ملایا کرتے تھے ۔ ابن مسعود کی قرأت میں مفصل کی سب سے پہلی سورت یہی سورہ الرحمن ہے ( مسند احمد ) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے مجمع میں ایک روز تشریف لائے اور سورہ رحمن کی اول سے آخرت تک تلاوت فرمائی صحابہ کرام چپ چاپ سنتے رہے آپ نے فرمایا تم سے تو جنات ہی جواب دینے میں اچھے رہے میں نے جب ان کے سامنے اس سورت کی تلاوت کی تو جب کبھی آیت ( فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ 13 ) 55- الرحمن:13 ) پڑھتا تو وہ کہتے ( لا بشئی من نعمک ربنا نکذب فلک الحمد ) یعنی اے ہمارے پروردگار ہم تیری نعمتوں میں سے کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے تیرے لئے ہی تمام تعریفیں سزاوار ہیں ( ترمذی ) یہ حدیث غریب ہے اور یہی روایت ابن جریر میں بھی مروی ہے اس میں ہے کہ یا تو آپ نے یہ سورت پڑھی یا آپ کے سامنے تلاوت کی گئی اس وقت صحابہ کی خاموشی پر آپ نے یہ فرمایا اور جواب کے الفاظ یہ ہیں ( لا بشئی من نعم ربنا نکذب ) ۔
سورة الرَّحْمٰن نام : پہلے ہی لفظ کو اس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سورۃ ہے جو لفظ الرحمٰن سے شروع ہوتی ہے ۔ تاہم اس نام کو سورۃ کے مضمون سے بھی گہری مناسبت ہے ، کیونکہ اس میں شروع سے آخر تک اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت کے مظاہر و ثمرات کا ذکر فرمایا گیا ہے ۔ زمانۂ نزول : علمائے تفسیر بالعموم اس سورۃ کو مکی قرار دیتے ہیں ۔ اگرچہ بعض روایات میں حضرت عبداللہ بن عباس اور عکرمہ اور قتادہ سے یہ قول منقول ہے کہ یہ سورۃ مدنی ہے ، لیکن اول تو انہی بزرگوں سے بعض روایات اس کے خلاف بھی منقول ہوئی ہیں ، دوسرے اس کا مضمون مدنی سورتوں کی بہ نسبت مکی سورتوں سے زیادہ مشابہ ہے ، بلکہ اپنے مضمون کے لحاظ سے یہ مکہ کے بھی ابتدائی دور کی معلوم ہوتی ہے ۔ اور مزید براں متعدد معتبر روایات سے اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ یہ مکہ معظمہ ہی میں ہجرت سے کئی سال قبل نازل ہوئی تھی ۔ مسند احمد میں حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ ’‘میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حرم میں خانہ کعبہ کے اس گوشے کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے دیکھا جس میں حجر اسود نصب ہے ۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جبکہ ابھی فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرْ ( جس چیز کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے اسے ہانکے پکارے کہہ دو ) کا فرمان الٰہی نازل نہیں ہوا تھا ۔ کہ مشرکین اس نماز میں آپ کی زبان سے فَبِاَئِ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ کے الفاظ سن رہے تھے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ سورۃ سورہ الحجر سے پہلے نازل ہو چکی تھی ۔ البزار ، ابن جریر ، ابن المنذر ، دار قظنی ( فی الافراد ) ، ابن مردویہ ، اور الخطیب ( فی التاریخ ) نے حضرت عبداللہ بن عمر سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ رحمٰن خود تلاوت فرمائی ، یا آپ کے سامنے یہ سورۃ پڑھی گئی ۔ پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ کیا وجہ ہے کہ میں تم سے ویسا اچھا جواب نہیں سن رہا ہوں جیسا جِنوں نے اپنے رب کو دیا تھا ؟ لوگوں نے عرض کیا وہ کیا جواب تھا ؟ آپ نے فرمایا کہ جب میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ پڑھتا تو جن اس کے جواب میں کہتے جاتے تھے کہ لَآ بِشَیءٍ مِّنْ نِعْمَۃِ رَبِّنَا نُکَذِّبُ ، رب کی کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے ۔ اسی سے ملتا جلتا مضمون ترمذی ، حاکم اور حافظ ابوبکر بزار نے حضرت جابر بن عبداللہ سے نقل کیا ہے ۔ ان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جب لوگ سورہ رحمٰن کو سن کر خاموش رہے تو حضور نے فرمایا لقد قرأتھا علی الجن لیلۃ الجن فکانوا احسن مردوداً منکم ، کنت کلما اتیت علیٰ قولہ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ قالوا لا بِشَیْءٍ مِنْ نِعَمِکَ رَبَّنَا نکذب فلک الحمد ۔ یعنی میں نے یہ سورۃ جِنوں کو سنائی تھی جس میں وہ قرآن سننے کے لیے جمع ہوئے تھے ۔ وہ اس کا جواب تم سے بہتر دے رہے تھے ۔ جب میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر پہنچتا تھا کہ اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ، تو وہ اس کے جواب میں کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ، ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے ، حمد تیرے ہی لیے ہے ۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ سورہ احقاف ( آیات 29 ۔ 32 ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے جنوں کے قرآن سننے کا جو واقعہ بیان کیا گیا ہے ، اس موقع پر حضور نماز میں سورہ رحمٰن تلاوت فرما رہے تھے ۔ یہ 10 نبوی کا واقعہ ہے جب آپ سفر طائف سے واپسی پر نخلہ میں کچھ مدت ٹھہرے تھے ۔ اگرچہ بعض دوسری روایات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم نہ تھا کہ جن آپ سے قرآن سن رہے ہیں بلکہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی کہ وہ آپ کی تلاوت سن رہے تھے ، لیکن یہ بات بعید از قیاس نہیں ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضور کو جِنوں کی سماعت قرآن پر مطلع فرمایا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ ہی نے آپ کو یہ اطلاع بھی دے دی ہو کہ سورہ رحمٰن سنتے وقت وہ اس کا کیا جواب دیتے جا رہے تھے ۔ ان روایات سے تو صرف اسی قدر معلوم ہوتا ہے کہ رحمٰن سور حجر اور سورہ احقاف سے پہلے نازل ہو چکی تھی ۔ اس کے بعد ایک اور روایت ہمارے سامنے آتی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مکہ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے ۔ ابن اسحاق حضرت عروہ بن زبیر سے یہ واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک روز صحابہ کرام نے آپس میں کہا کہ قریش نے کبھی کسی کو علانیہ بآواز بلند قرآن پڑھتے نہیں سنا ہے ، ہم میں کون ہے جو ایک دفعہ ان کو یہ کلام پاک سنا ڈالے؟ حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا میں یہ کام کرتا ہوں ۔ صحابہ نے کہا ہمیں ڈر ہے کہ وہ تم پر زیادتی کریں گے ۔ ہمارے خیال میں کسی ایسے شخص کو یہ کام کرنا چاہیے جس کا خاندان زبردست ہو ، تاکہ اگر قریش کے لوگ اس پر دست درازی کریں تو اس کے خاندان والے اس کی حمایت پر اٹھ کھڑے ہوں ۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا مجھے یہ کام کر ڈالنے دو ، میرا محافظ اللہ ہے ۔ پھر وہ دن چڑھے حرم میں پہنچے جبکہ قریش کے سردار وہاں اپنی اپنی مجلسوں میں بیٹھے تھے ۔ حضرت عبداللہ نے مقام ابراہیم پر پہنچ کر پورے زور سے سورہ رحمٰن کی تلاوت شروع کر دی ۔ قریش کے لوگ پہلے تو سوچتے رہے کہ عبداللہ کیا کہہ رہے ہیں ۔ پھر جب انہیں پتہ چلا کہ یہ وہ کلام ہے جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے کلام کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں تو وہ ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کے منہ پر تھپڑ مارنے لگے ۔ مگر حضرت عبداللہ نے پروا نہ کی ۔ پٹتے جاتے تھے اور پڑھتے جاتے تھے ۔ جب تک ان کے دم میں دم رہا قرآن سنائے چلے گئے ۔ آخر کار جب وہ اپنا سوجا ہوا منہ لے کر پلٹے تو ساتھیوں نے کہا ہمیں اسی چیز کا ڈر تھا ۔ انہوں نے جواب دیا ۔ آج سے بڑھ کر یہ خدا کے دشمن میرے لیے کبھی ہلکے نہ تھے ، تم کہو تو کل پھر انہیں قرآن سناؤں ۔ سب نے کہا ، بس اتنا ہی کافی ہے ۔ جو کچھ وہ نہیں سننا چاہتے تھے وہ تم نے انہیں سنا دیا ( سیرۃ ابن ہشام ، جلد اول ، ص 336 ) ۔ موضوع اور مضمون : قرآن مجید کی یہ ایک ہی سورۃ ہے جس میں انسان کے ساتھ زمین کی دوسری با اختیار مخلوق ، جنوں کو بھی براہ راست خطاب کیا گیا ہے ، اور دونوں کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کمالات ، اس کے بے حد و حساب احسانات ، اس کے مقابلہ مین ان کی عاجزی و بے بسی اور اس کے حضور ان کی جوابدہی کا احساس دلا کر اس کی نافرمانی کے انجام بد سے ڈرایا گیا ہے اور فرمانبرداری کے بہترین نتائج سے آگاہ کیا گیا ہے ۔ اگرچہ قرآن پاک میں متعدد مقامات پر ایسی تصریحات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کی طرح جن بھی ایک ذی اختیار اور جواب دہ مخلوق ہیں جنہیں کفر و ایمان اور طاعت و عصیان کی آزادی بخشی گئی ہے ، اور ان میں بھی انسانوں ہی کی طرح کافر و مومن اور مطیع و سرکش پائے جاتے ہیں ، اور ان کے اندر بھی ایسے گروہ موجود ہیں جو انبیاء علیہم السلام اور کتب آسمانی پر ایمان لائے ہیں ، لیکن یہ سورۃ اس امر کی قطعی صراحت کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی دعوت جن اور انس دونوں کے لیے ہے اور حضور کی رسالت صرف انسانوں تک محدود نہیں ہے ۔ سورۃ کے آغاز میں تو خطاب کا رخ انسانوں کی طرف ہی ہے ، کیونکہ زمین کی خلافت ان ہی کو حاصل ہے ، خدا کے رسول ان ہی میں سے آئے ہیں ، اور خدا کی کتابیں ان ہی زبانوں میں نازل کی گئی ہیں ، لیکن آگے چل کر آیت 13 سے انسان اور جن دونوں کو یکساں مخاطب کیا گیا ہے ، اور ایک ہی دعوت دونوں کے سامنے پیش کی گئی ہے ۔ سورۃ کے مضامین چھوٹے چھوٹے فقروں میں ایک خاص ترتیب سے ارشاد ہوئے ہیں : آیت 1 سے 4 تک یہ مضمون بیان فرمایا گیا ہے کہ اس قرآن کی تعلیم سے نوع انسانی کی ہدایت کا سامان کرے ، کیونکہ انسان کو ایک ذی عقل و شعور مخلوق کی حیثیت سے اسی نے پیدا کیا ہے ۔ آیت 5 ۔ 6 میں بتایا گیا ہے کہ کائنات کا سارا نظام اللہ تعالیٰ کی فرمانروائی میں چل رہا ہے اور زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی تابع فرمان ہے ۔ یہاں کوئی دوسرا نہیں ہے جس کی خدائی چل رہی ہو ۔ آیت 7 ۔ 9 میں ایک دوسری اہم حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کے اس پورے نظام کو ٹھیک ٹھیک تَوازن کے ساتھ عدل پر قائم کیا ہے اور اس نظام کی فطرت یہ چاہتی ہے کہ اس میں رہنے والے اپنے حدود اختیار میں بھی عدل ہی پر قائم ہوں اور تَوازن نہ بگاڑیں ۔ آیت 10 سے 25 تک اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عجائب و کمالات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ان نعمتوں کی طرف اشارے گئے ہیں جن سے انسان اور جن متمتع ہو رہے ہیں ۔ آیت 26 سے 30 تک انسان اور جن دونوں کو یہ حقیقت یاد دلائی گئی ہے کہ اس کائنات میں ایک خدا کے سوا کوئی غیر فانی اور لازوال نہیں ، اور چھوٹے سے بڑے تک کوئی موجود ایسا نہیں جو اپنے وجود اور ضروریات وجود کے لیے خدا کا محتاج نہ ہو ۔ زمین سے لے کر آسمانوں تک شب و روز جو کچھ بھی ہو رہا ہے اسی کی کار فرمائی سے ہو رہا ہے ۔ آیت 31 سے 36 تک ان دونوں گروہوں کو خبر دار کیا گیا ہے کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب تم سے باز پرس کی جائے گی ۔ اس باز پرس سے بچ کر تم کہیں نہیں جا سکتے ۔ خدا کی خدائی تمہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے ۔ اس سے نکل کر بھاگ جانا تمہارے بس میں نہیں ہے ۔ اگر تم اس گھمنڈ میں مبتلا ہو کہ اس سے بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو ۔ آیات 37 ۔ 38 میں بتا گیا ہے کہ یہ باز پرس قیامت کے روز ہونے والی ہے ۔ آیت 39 سے 45 تک ان مجرم انسانوں اور جنوں کا انجام بتایا گیا ہے جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے رہے ہیں ۔ اور آیت 46 سے آخر سورت تک تفصیل کے ساتھ وہ انعامات بیان کیے گئے ہیں جو آخرت میں ان نیک انسانوں اور جنوں کو عطا کیے جائیں گے جنہوں نے دنیا میں خدا ترسی کی زندگی بسر کی ہے اور یہ سمجھتے ہوئے کام کیا ہے کہ ہمیں ایک روز اپنے رب کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے ۔ یہ پوری تقریر خطابت کی زبان میں ہے ۔ ایک پر جوش اور نہایت بلیغ خطبہ ہے جس کے دوران میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ایک ایک عجوبے ، اور اس کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک ایک نعمت ، اور اس کی سلطانی و قہاری کے مظاہر میں سے ایک ایک مظہر ، اور اس کی جزاء و سزا کی تفصیلات میں سے ایک ایک چیز کو بیان کر کے بار بار جن و انس سے سوال کیا گیا ہے کہ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ۔ آگے چل کر ہم اس کی وضاحت کریں گے کہ آلاء ایک وسیع المعنی لفظ ہے جس کو اس خطبے میں مختلف معنوں میں استعمال کیا گیا ہے ، اور جن و انس سے یہ سوال ہر جگہ موقع و محل کے لحاظ سے اپنا ایک خاص مفہوم رکھتا ہے ۔
تعارف سورۃ الرّحمٰن یہ سورت وہ واحد سورت ہے جس میں بیک وقت انسانوں اور جنات دونوں کو صراحت کے ساتھ مخاطب فرمایا گیا ہے، دونوں کو اللہ تعالیٰ کی وہ بیشمار نعمتیں یاد دلائی گئی ہیں جو اس کائنات میں پھیلی پڑی ہیں، اور بار بار یہ فقرہ دہرایا گیا ہے کہ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟ اپنے اسلوب اور فصاحت وبلاغت کے اعتبار سے بھی یہ ایک منفرد سورت ہے، جس کی تأ ثیر کو کسی اور زبان میں ترجمہ کرکے منتقل نہیں کیا جاسکتا، اس بارے میں روایات مختلف ہیں کہ یہ سورت مکی ہے یا مدنی، عام طور سے قرآن کریم کے نسخوں میں اس کو مدنی قرار دیا گیا ہے، لیکن علامہ قرطبی نے کئی روایتوں کی بنا پر یہ رجحان ظاہر کیا ہے کہ یہ مکی سورت ہے، واللہ اعلم۔
٭… جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی صفت ” رحمن “ کا ذکر فرماتے تو کفار مکہ یہ کہتے تھے کہ کون رحمٰن ؟ ہم نہیں جانتے کہ رحمٰن کون ہے اور یہ کیا بات ہوئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی تو کہتے ہیں کہ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہ کرو اور کبھی رحمٰن کا ذکر کرتے ہیں۔ کیا ہم اسی کو سجدہ کریں گے جس کے متعلق تم بیان کرتے رہو گے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورة رحمٰن کو نازل فرمایا اور بتایا کہ اللہ اور رحمٰن دو نہیں بلکہ لفظ اللہ اس کا اسم ذات ہے اور رحمٰن اس کا صفاتی نام ہے جس کے معنی نہایت رحم کرنے والے کے آتے ہیں۔ فرمایا رحمٰن وہ ہے جس نے قرآن کریم کی تعلیم دی۔ اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسی نے اس کو بولنے کی صلاحیت اور طاقت عطا فرمائی ہے۔ اسی نے چاند اور سورج کو ایک خاص نظام کے تحت حساب اور تو ازن سے قائم کر رکھا ہے۔ ستارے ہوں یا درخت ہر ایک اسی رحمٰن کے سامنے سجدہ کر رہے ہیں۔ اسی نے آسمان کو بلند کر کے اس میں ایک تو ازن پیدا کیا۔ اللہ نے فرمایا کہ اے لوگو ! تم بھی اس میزان میں خلل نہ ڈالو۔ تم اعم زندگی کے لین دین میں ٹھیک ٹھیک تولو اور ماپ تول میں کسی طرح کی کمی نہ کرو۔ اس رحمٰن نے زمین کو ساری مخلوق کے لئے بنایا ہے۔ آدمی کے لئے غلافوں میں لپٹے ہوئے پھل اور کھجوریں پیدا کیں۔ طرح طرح کے غلے پیدا کیں۔ طرح طرح کے غلے پیدا کئے اور اسی میں جانوروں کی غذا بھوسہ بھی پیدا فرمایا۔ اسی رحمٰن نے دو دریاؤں کو اس طرح بنایا کہ وہ آپس میں ملے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن ان دونوں کے درمیان ایک پردہ اور آڑ بنا دی جس سے وہ آپس میں نہیں ملتے۔ اسی نے سمندر سے اور دریاؤں سے متوی اور مونگے نکالے۔ اسی رحمٰن کے اختیار میں وہ اونچے اونچے جہاز ہیں جو پہاڑوں کی طرح سمندر میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اس دنیا میں سوائے ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة رحمن کی تلاوت فرمائی تو صحابہ نے نہایت ادب اور خاموشی سے اس سورة کو سنا۔ آپ نے فرمایا کہ تم سے اچھے تو جنات ہی رے جب میں نے ان کے سامنے اس سورة کی تلاوت کی اور جب یہ آیت آتی ” فبای الائ “ ربکما تکذبان ‘ ذ تو وہ کہتے ” لابشیء من نعمک ربنا تکذب فلک الحمد “ علماء نے فرمایا ہے کہ سنت یہ ہے کہ جب بھی سورة رحمٰن میں یہ آیت آئے تو اس پر اسی طرح اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے جس طرح جنات نے ادا کیا تھا۔ اس سورة میں شروع سے آخر تک اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے فضل و کرم اور ہر طرح کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے اور اکتیس مرتبہ ایک ہی آیت فبای الاء ربکما تکذبان کو دہرایا گیا ہے جس میں اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر جو بیشمار نعمتیں نازل کی ہیں ان کی قدر کر کے ہر آن اس کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے۔ اللہ نعمتوں میں اور اضافہ فرما دیتا ہے۔ اللہ رب العالمین کی کریم ذات کے اور کسی چیز کو بقا حاصل نہیں ہے۔ ہر چیز کو ایک دن فنا ہونا ہے۔ زمین و آسمان میں جتنی بھی مخلوقات ہیں اپنی حاجتیں اور ضرورتیں پوری ہونے کے لئے اسی کے آگے سوالی ہیں اسی سے مانگ رہے ہیں۔ اس کی ذات بھی ہر آن کسی نئی شان سے جلوہ گر ہے۔ فرمایا کہ اے انسانوں اور جنتا ہم بہت جلد تم سے حساب لینے ہی والے ہیں۔ اے انسانو ! اور جنات کے گروہو ! اگر تم زمین و آسمان کے کناروں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ کر دیکھ لو۔ اس کے لئے بڑی طاقت و قوت کی ضرورت ہے (جو تمہارے اندر موجود نیں ہے۔ ) فرمایا کہ ہم نے یہ انتظام کر رکھا ہے کہ اگر تم بھاگنے کی کوشش بھی کرو گے تو تمہارے اوپر اس شعلے اور دھوئیں کو چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کرسکو گے۔ فرمایا اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب (اللہ کے خوف سے) آسمان پھٹ کر لال چمڑے کی طرح ہوجائے گا۔ یہ وہ دن ہوگا جس میں کسی انسان یا جن سے اس کے گناہ کے متعلق پوچھنے کی ضرورت ہی نہ ہوگی کیونکہ اس دن وہ اپنی پیشانیوں اور پریشان چہروں سے پہچان لئے جائیں گے۔ اگر وہ ادھر ادھر بھاگنے کی کوشش کریں گے تو اللہ کے فرشتے ان کو پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے آئیں گے۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جس کو تم زندگی بھر جھٹلاتے رہے۔ وہ جہنم والے اس دن کھولتے ہوئے گرم پانی کے چکر کاٹ رہے ہوں گے۔ اس دن وہ خوش نصیب لوگ بھی ہوں گے جو زندگی بھر اللہ کا خوف رکھتے ہوئے اپنے اعمال سر انجام دیتے تھے۔ ان کے لئے دو باغ ہوں گے۔ ہرے بھرے خوبصورت اور ان باغوں میں دو ایسے چشمے ہوں گے جو بہہ رہے ہوں گے۔ ان میں ہر طرح کے پھل اور میوے ہوں گے اور وہ بھی دو قسم کے یعنی طرح طرح کے پھل ہوں گے۔ اہل جنت ایسے فرشوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور باغوں کی ڈالیاں ان پر جھکی پڑ رہی ہوں گی۔ ان ہی نعمتوں کے درمیان وہ خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں والی شرمیلی حوریں ہوں گی جنہیں کبھی کسی انسان یا جن نے ہاتھ تک نہ لگایا ہوگا۔ ان ہی نعمتوں کے درمیان وہ خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں والی شرمیلی حوریں ہوں گی جنہیں کبھی کسی انسان یا جن نے ہاتھ تک نہ لگایا ہوگا۔ ایسی حسین و جمیل جیسے ہیرے موتی، ان نیکو کاروں کا بدلہ تو یہی ہو سکتا ہے۔ فرمایا کہ ان دو باغوں کے علاوہ دو باغ اور بھی ہوں گے گھنے سرسبز و شاداب، ان جنتوں میں ابلتے ہئوے فوارے کی طرح پانی کے دو چشمے ہوں گے۔ کثرت سے پھل، کھجوریں اور انار ہوں گے۔ خوبصورت اور خوب سیرت بیویاں ہوں گی، خیموں میں ٹھہرائی ہوئی حوریں جنہیں کسی انسان یا جن نے اس سے پہلے ہاتھ تک نہ لگایا ہوگا۔ وہ جنتی سبز قالینوں اور حسین و جمیل فرشوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ بلاشک و شبہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے پروردگار کا نام بڑی برکت والا ہے جو بڑی عظمتوں والا اور کرم کرنے والا ہے۔ اس سورة میں شروع سے آخر تک اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کے فضل و کرم اور ہر طرح کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے اور ایک ہی آیت کو اکتیس مرتبہ دہرا کر پوچھا ہے کہ انسانو ! اور جنات تم پر اللہ کی اتنی زیادہ نعمتیں ہیں کہ تم ان کا شکر ادا کرنا تو بڑی بات ہے تم ان کو شمار بھی نہیں کرسکتے کیا تم اس کی نعمتوں کا انکار کرسکتے ہو۔ ہر انصاف پسند شخص کی زبان سے یہی الفاظ ادا ہوں گے الٰہی ! ہم آپ کی کسی نعمت کا بھی انکار نہیں کرسکتے۔ حضرت جابر سے رویات ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن سورة رحمٰن کی تلاوت فرمائی تو صحابہ کرام جو ادب و احترام کا پیکر تھے وہ اس سورة کو بڑے احترام سے سنتے رہے اور خاموش رہے۔ اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم سے تو جنات ہی اچھے رہے۔ جب ان کے سامنے میں نے سورة رحمٰن کی تلاوت کی اور یہ آیت آئی ” فبای الاء ربکما تکذبان “ تو وہ جنتا کہتے جاتے تھے کہ ” لا بشیء من نعمک ربنا تکذب فلک الحمد “ یعنی اے ہمارے رب ہم آپ کی نعمتوں میں سے کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں۔ علماء نے فرمایا کہ جب بھی آدمی اس سورة کو پڑھے یا (نماز با جماعت کے علاوہ ) کسی سے سنے تو اس وقت اس دعا کو پڑھنا سنت ہے۔
سورة الرّحمان کا تعارف سورۃ الرّحمان کا نام اس کے پہلے لفظ کی بنا پر رکھا گیا ہے۔ اس کے تین رکوع اور اٹھہتر (٧٨) آیات ہیں۔ یہ سورت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی۔ قرآن مجید کی یہ واحد سورت ہے جس میں بار بار جنوں اور انسانوں کو بیک وقت مخاطب کیا گیا ہے۔ اس کی ابتداء اللہ تعالیٰ کے محبوب نام الرحمان سے کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس قدر الرّحمان ہے کہ اس نے لوگوں کی راہنمائی کے لیے قرآن مجید جیسی عظیم کتاب نازل فرمائی ہے۔ اسی نے انسان کو پیدا فرمایا اور وہی انسان کو بولنے کا طریقہ اور سلیقہ سکھلاتا ہے۔ وہ اس قدر بلندوبالا ہے کہ اس کے سامنے چاند اور سورج، ستارے اور درخت سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اس کی قدرت کا عالم یہ ہے کہ اس نے آسمان کو بغیر کسی سہارے کے فضاء میں کھڑا کر رکھا ہے۔ اس نے ایک میزان نازل کیا ہے اور جن وانس کو حکم فرمایا ہے کہ وہ اس میزان کے تقاضوں کا خیال رکھیں۔ اس سورت میں اکیس مرتبہ یہ آیت مبارکہ آئی ہے۔” کہ اے جن و انسانوں تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ “ اکثر مفسرین نے ” اٰلآءِ “ کا معنی نعمت کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سورت میں یہ لفظ کئی بار نعمت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے لیکن امام رازی اور امام ابن جریر نے ” اٰلآءِ “ کا معنی قدرت بھی کیا ہے اور عرب شعرا نے ” اٰلآءِ “ کے لفظ کو صفت اور خوبی کے طور پر بھی استعمال کیا کرتے تھے۔ ہم الملوک وابناء الملوک لہم فضلٌ علی الناس فی الاٰکَاء والنِعَم وہ بادشاہ اور شاہزادے ہیں انہیں لوگوں پر اپنی خوبیوں اور نعمتوں کی وجہ سے برتریہے الحزم والعزم کانا من طبائعہٖ ما کل اٰلَاۂٖ یا قوم احصیہا حَزم اور عزم اس کے اوصاف میں سے تھے لوگو ! میں اس کی تمام خوبیاں شمار نہیں کر تا اللہ تعالیٰ کی کس کس قدرت، نعمت اور خوبی کو جھٹلاؤ گے۔ آج تم اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہو اور اس کے اوصاف حمیدہ کا انکار کرتے ہو اور اس کی بےپناہ قدرتوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے لیکن تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایک وقت ضرور آئے گا کہ جب تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے فلاں فلاں گناہ کیوں کیا تھا۔ کیونکہ اس سے پہلے حساب و کتاب کے بارے میں ہر قسم کی حجت پوری کردی جائے گی۔ مجرم اپنے چہروں سے پہچانے جائیں گے اور انہیں پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ جہنم میں پھینک کر کہا جائے گا کہ یہ وہی جہنم ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا اعتراف کیا ہے اور اس سے ڈر کر زندگی بسر کی انہیں ایسی جنتوں میں داخل کیا جائے گا کہ جس میں انہیں بڑی بڑی نعمتوں کے ساتھ نہایت پاکباز اور خوبصورت حوریں دی جائیں گی اور وہ سبز قالینوں اور نادر قسم کے فرشوں پر جلوہ افروز ہوں گے۔ یہ انعامات انہیں اس لیے عطاء کیے جائیں گے کہ آپ کا رب بڑی برکت ولا اور بڑے جمال و کمال کا مالک ہے۔
سورة رحمن ایک نظر میں یہ مکی سورة ہے اور اس کا طرز تعبیر بھی بالکل ممتاز ہے ۔ اس کا موضوع پوری کائنات ہے ، خصوصاً کائنات کے اندر اللہ کی پیدا کردہ نعمتیں اور سہولیات حیات۔ اللہ کی پیدا کردہ خوبصورت اشیائ، انوکھی اشیاء اور انسان کے لئے فراہم کردہ نعمتیں۔ پھر اس کائنات کا انتظام وانصرام نیز لوگوں کو ذات باری کی طرف متوجہ کرنا ، اس کا اصل ہدف ہے۔ اس سورة میں خطاب جن وانس کو ہے اور دونوں کے خلاف اس پوری کائنات کو بطور شہادت پیش کیا گیا کہ تم اس کائنات کی کس کس شہادت کا انکار کرسکتے ہو۔ یہ موجودات تمہارے سامنے ہیں۔ بار بار چیلنج دیا جاتا ہے کہ تم اس کائنات کی کس چیز اور کس نعمت کے پہلوئے شہادت کا انکار کرسکتے ہو۔ یوں اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کی اہم چیزوں کو اس نمائش گاہ میں لاتا ہے اور اس سے آخرت پر استدلال فرماتا ہے۔ یہ سورة ایک اعلان اور فرمان ہے۔ اس اعلان کی آواز بازگشت اور اس کا نغمہ جاتی پہلو ، اس کی آیات کا قافیہ ، غرض ان تمام امور پر پوری سورة کے اندر زمزمہ سرا ہیں جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ، ان کی آواز بلند اور دور تک جانے والی ہے۔ سورة کا مطلع ایک آیت ہے اور یہ آیت ایک لفظ ہے لیکن اس پہلے لفظ کے تلفظ ہی سے آنے والی باتوں کا انتظار ہونے لگتا ہے۔ الرحمن (1:55) ییہ ایک لفظ مبتدا ہے۔ نہایت مہربان۔ اس لفظ ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اعلان اور فرمان آنے والا ہے اور مقصد اس کے بعد اللہ کی نعمتوں اور مہربانیوں کا بیان شروع ہوتا ہے۔ یہ پوری سورة ایک نمائش ہے۔ اللہ کی رحمتوں کی یہ نمائش تعلیم القرآن سے شروع ہوتی ہے کہ تعلیم قرآن انسان پر اللہ کے احسانات میں سے ایک بڑا احسان ہے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ انسان کی تخلیق اور انسان کو بیان کرنے کی صلاحیت عطا کرنا عنایات الٰہیہ میں سے بہت بڑی عنایت ہے۔ اس کے بعد وہ عنایات الٰہیہ آتی ہیں جو بزبان حال بتاتی ہیں کہ اللہ کی عنایت کیا کیا ہیں۔ الشمس …………والشجر (6:55) سب عنایات ہیں۔ اونچی چھت والا آسمان اور حق و باطل کا فیصلہ کرنے والی میزان ، زمین اور اس کے اندر مختلف قسم کے پھل اور حیوانات ، انگورو کھجور اور دانہ بھی اور بھوسہ بھی۔ جن وانس ، مشرقین ومغربین ، دو دریا اور ان کے درمیان پردے اور ان کے اندر چلنے والی مخلوق اور کشتیاں اور ان سے نکلنے والے سامان اور جب یہ تمام قابل ذکر چیزیں دکھادیں گئیں تو پھر ان کے فنا کا منظر بھی دکھایا جاتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ پوری مخلوق کو فنا کردیا جاتا ہے اور صرف اللہ ذوالجلال والاکرام باقی رہتا ہے کیونکہ تمام مخلوق اس کے تصرف میں ہے اور تمام امور اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔ اف فنائے مطلق اور بقائے مطلق کے سایہ میں جن وانس کو ایک زبردست چیلنج دیا جاتا ہے۔ نہایت ہی خوفناک۔ سنفرغ لکم…………ربکما تکذبن (31:55 تا 36) ” (اے زمین کے بوجھو ، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لئے فارغ ہوئے جاتے ہیں تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاتے ہو۔ اے گرہ جن وانس اگر تم زمین و آسمان سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو ، نہیں بھاگ سکتے۔ اس کے لئے بڑا زور چاہئے۔ اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلائو گے ؟ تم پر آگ کا شعلہ چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کرسکوں گے۔ اے جن وانس ، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کا انکار کرو گے ؟ ) اس وجہ سے پھر انجام بھی بتادیا جاتا ہے کہ جب تم بھاگ نہیں سکتے تو پھر انجام کے لئے تیار ہوجائو کہ جب قیامت برپا ہوگی تو آسمان سرخ ہوجائے گا۔ مجرموں کو عذاب دیا جائے گا اور متقین کا بہترین انجام ہوگا اور اس اچھے انجام کی پوری تفصیلات اور اس نمائش گاہ عالم کا انجام اس فقرے پر۔ تبرک اسم……………والاکرام (78:55) (بڑی برکت والا ہے تیرے رب جلیل وکریم کا نام) آکر ختم ہوتا ہے۔ سورة کا آغاز ہوتا ہے۔ الرحمن (55: ١) یہ مطلع ہے اس کا لفظ اور معنی دونوں مقصود ہیں۔ اس لفظ کا ترنم اور اس کی موسیقی سب مطلوب ہیں۔ الرحمن (55: ١) یہ گنگناتی ، ترنم ، بےقید آواز اطراف کائنات میں گونج اٹھی ہے ! ! پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ الرحمن (55: ١) آواز تھی اور پھر خاموشی۔ ایت ختم ، پوری فضاخاموش ، ہمہ تن گوش کہ کیا ہے خبر کیا ہے اگلا حکم۔ اس عظیم گونج کے بعد کیا ہوگا فرمان شاہی ! ؟ اور اس کے بعد جو خبر آئی ہے تو تمام کائنات کا دل دھڑکنے لگتا ہے۔ کس قدر عظیم فرمان ہے یہ !