Surat ur Rehman
Surah: 55
Verse: 1
سورة الرحمن
اَلرَّحۡمٰنُ ۙ﴿۱﴾
The Most Merciful
رحمٰن نے ۔
اَلرَّحۡمٰنُ ۙ﴿۱﴾
The Most Merciful
رحمٰن نے ۔
Ar-Rahman revealed and taught the Qur'an Allah informs of His favors and His mercy for His creatures, for He revealed the Qur'an to His servants, He made memorizing and understanding of it easy for those on whom He has bestowed His mercy, الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْانَ
انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کر دیا اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا ۔ قتادہ وغیرہ کہتے ہیں بیان سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے ۔ حضرت حسن کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے خواہ حلق سے نکلتا ہو خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف ، مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھا دی ، سورج اور چاند ایک دوسرے کے پیچھے اپنے اپنے مقررہ حساب کے مطابق گردش میں ہیں نہ ان میں اختلاف ہو نہ اضطراب نہ یہ آگے بڑھے نہ وہ اس پر غالب آئے ہر ایک اپنی اپنی جگہ تیرتا پھرتا ہے اور جگہ فرمایا ہے آیت ( فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ۚ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ۭذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ 96 ) 6- الانعام:96 ) ، اللہ صبح کو نکالنے والا ہے اور اسی نے رات کو تمہارے لئے آرام کا وقت بنایا ہے اور سورج چاند کو حساب پر رکھا ہے یہ مقررہ محور غالب و دانا اللہ کا طے کردہ ہے ۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں تمام انسانوں ، جنات ، چوپایوں ، پرندوں کی آنکھوں کی بصارت ایک ہی شخص کی آنکھوں میں سمو دی جائے پھر بھی سورج کے سامنے جو ستر پردے ہیں ان میں سے ایک پردہ ہٹا دیا جائے تو ناممکن ہے کہ یہ شخص پھر بھی اس کی طرف دیکھ سکے باوجودیکہ سورج کا نور اللہ کی کرسی کے نور کا سترواں حصہ ہے اور کرسی کا نور عرش کے نور کا سترواں حصہ ہے اور عرش کے نور کے جو پردے اللہ کے سامنے ہیں اس کے ایک پردے کے نور کا سترواں حصہ ہے پس خیال کر لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جنتی بندوں کی آنکھوں میں کس قدر نور دے رکھا ہو گا کہ وہ اپنے تبارک و تعالیٰ کے چہرے کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے بےروک دیکھیں گے ( ابن ابی حاتم ) اس پر تو مفسرین کا اتفاق ہے کہ شجر اس درخت کو کہتے ہیں جو تنے والا ہو لیکن نجم کے معنی کئی ایک ہیں بعض تو کہتے ہیں نجم سے مراد بیلیں ہیں جن کا تنہ نہیں ہوتا اور زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہیں ۔ بعض کہتے ہیں مراد اس سے ستارے ہیں جو آسمان میں ہیں ۔ یہی قول زیادہ ظاہر ہے گو اول قول امام ابن جریر کا اختیار کردہ ہے واللہ اعلم ، قرآن کریم کی یہ آیت بھی اس دوسرے قول کی تائید کرتی ہے ۔ فرمان ہے آیت ( اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَاۗبُّ وَكَثِيْرٌ مِّنَ النَّاسِ ۭ وَكَثِيْرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ ۭ وَمَنْ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاۗءُ 18ڍ{السجدہ} ) 22- الحج:18 ) ، کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ کے لئے آسمان زمین کی تمام مخلوقات اور سورج ، چاند ، ستارے ، پہاڑ ، درخت ، چوپائے ، جانور اور اکثر لوگ سجدہ کرتے ہیں ۔ پھر فرماتا ہے آسمان کو اسی نے بلند کیا ہے اور اسی میں میزان قائم کی ہے یعنی عدل جیسے اور آیت میں ہے آیت ( لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ 25ۧ ) 57- الحديد:25 ) یعنی یقینا ہم نے اپنے رسولوں کو دلیلوں کے ساتھ اور ترازو کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ لوگ عدل پر قائم ہو جائیں یہاں بھی اس کے ساتھ ہی فرمایا تاکہ تم ترازو میں حد سے نہ گذر جاؤ یعنی اس اللہ نے آسمان و زمین کو حق اور عدل کے ساتھ پیدا کیا تاکہ تمام چیزیں حق و عدل کے ساتھ ہو جائیں ، پس فرماتا ہے جب وزن کرو تو سیدھی ترازو سے عدل و حق کے ساتھ وزن کرو کمی زیادتی نہ کرو کہ لیتے وقت بڑھتی تول لیا اور دیتے وقت کم دے دیا اور جگہ ارشاد ہے آیت ( وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ ١٨٢ۚ ) 26- الشعراء:182 ) صحت کے ساتھ کھرے پن سے تول کیا کرو ، آسمان کو تو اس نے بلند و بالا کیا اور زمین کو اس نے نیچی اور پست کر کے بچھا دیا اور اس میں مضبوط پہاڑ مثل میخ کے گاڑ دئیے تاکہ وہ ہلے جلے نہیں اور اس پر جو مخلوق بستی ہے وہ باآرام رہے پھر زمین کی مخلوق کی دیکھو ان کی مختلف قسموں مختلف شکلوں مختلف رنگوں مختلف زبانوں مختلف عادات واطوار پر نظر ڈال کر اللہ کی قدرت کاملہ کا اندازہ کرو ۔ ساتھ ہی زمین کی پیداوار کو دیکھو کہ رنگ برنگ کے کھٹے میٹھے پھیکے سلونے طرح طرح کی خو شبوؤں والے میوے پھل فروٹ اور خاصۃً کھجور کے درخت جو نفع دینے والا اور لگنے کے وقت سے خشک ہو جانے تک اور اس کے بعد بھی کھانے کے کام میں آنے والا عام میوہ ہے ، اس پر خوشے ہوتے ہیں جنہیں چیر کر یہ باہر آتا ہے پھر گدلا ہو جاتا ہے پھر تر ہو جاتا ہے پھر پک کر ٹھیک ہو جاتا ہے بہت نافع ہے ، ساتھ ہی اس کا درخت بالکل سیدھا اور بےضرر ہوتا ہے ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ قیصر نے امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب کو لکھا کہ میرے قاصد جو آپ کے پاس سے واپس آئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں ایک درخت ہوتا ہے جس کی سی خو خصلت کسی اور میں نہیں ، وہ جانور کے کان کی طرح زمین سے نکلتا ہے پھر کھل کر موتی کی طرح ہو جاتا ہے پھر سبز ہو کر زمرد کی طرح ہو جاتا ہے پھر سرخ ہو کر یاقوت جیسا بن جاتا ہے ، پھر یکتا ہے اور تیار ہو کر بہترین فالودے کے مزے کا ہو جاتا ہے پھر خشک ہو کر مقیم لوگوں کے بچاؤ کی اور مسافروں کے توشے بھتے کی چیز بن جاتا ہے پس اگر میرے قاصد کی یہ روایت صحیح ہے تو میرے خیال سے تو یہ درخت جنتی درخت ہے اس کے جواب میں شاہ اسلام حضرت فاروق اعظم نے لکھا کہ یہ خط ہے اللہ کے غلام مسلمانوں کے بادشاہ عمر کی طرف سے شاہ روم قیصر کے نام آپ کے قاصدوں نے جو خبر آپ کو دی ہے وہ سچ ہے اس قسم کے درخت ملک عرب میں بکثرت ہیں یہی وہ درخت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مریم کے پاس اگایا تھا جبکہ ان کے لڑکے حضرت عیسیٰ کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت آدم جیسی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہو جا پس وہ ہوگئے اللہ کی طرف سے سچی اور حق بات یہی ہے تجھے چاہیے کہ شک و شبہ کرنے والوں میں نہ رہے اکمام کے معنی لیف کے بھی کئے گئے ہیں جو درخت کھجور کی گردن پر پوست کی طرح ہوتا ہے اور اس نے زمین میں بھوسی اور اناج پیدا کیا عصف کے معنی کھیتی کے سبز پتے مطلب یہ ہے کہ گیہوں جو وغیرہ کے وہ دانے جو خوشہ میں بھوسی سمیت ہوتے ہیں اور جو پتے ان کے درختوں پر لپٹے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھیتی سے پہلے ہی اگے ہوئے پتوں کو تو عصف کہتے ہیں اور جب دانے نکل آئیں بالیں پیدا ہو جائیں تو انہیں ریحان کہتے ہیں جیسے کہ زید بن عمرو بن نفیل کے مشہور قصیدے میں ہے ۔ پھر فرماتا ہے اے جنو اور انسانو تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے یعنی تم اس کی نعمتوں کے سر سے پیر تک ڈوبے ہوئے ہو اور مالا مال ہو رہے ہو ناممکن ہے کہ حقیقی طور پر تم کسی نعمت کا انکار کر سکو اور اسے جھوٹ بتا سکو ایک دو نعمتیں ہوں تو خیر یہاں تو سر تاپا اس کی نعمتوں سے تم دبے ہوئے ہو اسی لئے مومن جنوں نے اسے سن کر جھٹ سے جواب دیا ( اللھم ولا بشئی من الائک ربنا نکذب فلک الحمد ) حضرت ابن عباس اس کے جواب میں فرمایا کرتے تھے ( لا فایھا یارب ) یعنی خدایا ہم ان میں سے کسی نعمت کا انکار نہیں کر سکتے ۔ حضرت ابو بکر صدیق کی صاحبزادی حضرت اسماء فرماتی ہیں کہ شروع شروع رسالت کے زمانہ میں ابھی امر اسلام کا پوری طرح اعلان نہ ہوا تھا میں نے رسول اللہ کو بیت اللہ میں دکن کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ اس نماز میں اس سورت کی تلاوت فرما رہے تھے اور مشرکین بھی سن رہے تھے ۔
١۔ اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ : اس سورت کا آغاز اللہ کے مبارک نام ” الرحمن “ کے ساتھ ہوا ہے اور پوری سورت اس کی بےحد و بےحساب رحمت کی تفصیل ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ہر ہر نعمت کا ذکر کر کے بار بار اپنا احسان یاد دلایا ہے ۔ ان نعمتوں میں وہ نعمتیں بھی ہیں جو دنیا میں تمام لوگوں پر کی گئی ہیں اور وہ بھی جو صرف ایمان والوں پر ہیں ۔ ان میں سے سب سے بڑی نعمت دین کا ذکر سب سے پہلے فرمایا ہے، کیونکہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی اسی پر موقوف ہے اور دین کا مدار قرآن مجید پر ہے ، اس لیے فرمایا ( اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ )” اس بےحد رحم والے نے یہ قرآن سکھایا۔ “ ٢۔” اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ “ میں نعمت کے بیان کے ساتھ کفار کے اس بہتان کا رد بھی ہے کہ ( انما یعلمہ بر) ( النحل : ١٠٣) یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی بشر ہی سکھاتا ہے۔ فرمایا ، آپ کو سکھانے والا کوئی بشر یا کوئی اور ہستی نہیں ، بلکہ دورحمن ہی ہے جس نے آپ کو قرآن سکھایا ۔ ابن عاشور نے اس کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے کہ مسند کو فعل کی صورت میں مسند الیہ کے بعد تخصیص کا فائدہ دینے کے لیے لایا گیا ہے ۔ کیونکہ کفار کا کہنا تھا کہ قرآن کسی اور نے آپ کو سکھایا ہے ، گویا وہ یہ مان گئے کہ یہ آپ نے خود نہیں بنایا بلکہ کسی اور نے آپ کو سکھایا ہے ، مگر وہ یہ نہیں مانتے تھے کہ آپ کو قرآن سکھانے والا اللہ تعالیٰ ہے ، اس لیے فرمایا :” اس رحمان ہی نے ( آپ کو) یہ قرآن سکھایا ہے۔ “” علم القرآن “” الرحمن “ مبتداء کی پہلی خبر ہے ، اس کے بعد مسلسل تین خبریں ہیں جو حرف عطف کے بغیر لائی گئی ہیں ۔ ان نعمتوں کے اس اندازے میں ذکر کرنے سے جہاں ان نعمتوں کا اظہار ہو رہا ہے وہاں یہ بات بھی واضح ہو رہی ہے کہ یہ نعمتیں رحمان ہی نے عطاء کی ہیں ، انہیں عطاء کرنے میں کسی اور کا نہ کوئی دخل ہے نہ کسی قسم کی شرکت ہے۔ مشرکین یہاں تک تو مانتے تھے ، مگر اس سے لازم آنے والی بات ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ جب یہ سب نعمتیں رحمان ہی کی ہیں تو عبادت بھی اسی کی ہے۔ گویا نعمتوں کے شمار کرنے میں مشرکین کو ان کی غلطی پر تنبیہ اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔ ٣۔” عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ “ میں ’ ’ علم “ کا ایک مفعول ” القرآن “ ذکر فرمایا ہے کہ اس رحمن نے یہ قرآن سکھایا ، دوسرا مفعول ذکر نہیں فرمایا کہ کسے سکھایا ؟ یہ حذف فرما دیا ہے ، تا کہ عام رہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا، اس محذوف سے مراد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی ہیں ، مگر بہتر ہے کہ اسے عام رکھا جائے ۔ اس میں شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن کی تعلیم دی ، مگر ظاہر ہے کہ آپ کے واسطے سے اور بعد میں قرآن کے معلمین کے واسطے سے تمام لوگوں کو قرآن کی تعلیم دینے والی اصل ذات گرامی اللہ تعالیٰ کی ہے ، وہ تعلیم نہ دے تو نہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تعلیم دے سکتے ہیں ، نہ صحابہ اور نہ ہی بعد کا کوئی معلم ۔ اس لیے تعلیم قرآن کو خاص اللہ تعالیٰ کی نعمت کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔ ٤۔ اکثر مفسرین نے چونکہ یہاں ” القرآن ‘ ‘ سے مراد رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل شدہ قرآن کریم لیا ہے ، اس لیے اوپر تفسیر اس کے مطابق کی گئی ہے۔ آیت کے الفاظ میں ایک اور تفسیر کی بھی گنجائش ہے ، وہ یہ کہ ” القرآن “ کا لفظی معنی ” قراۃ “ ( پڑھنا ) ہے ، جیسا کہ سورة ٔ قیامہ میں فرمایا (فَاِذَا قَرَاْنٰـہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ )” تو جب ہم اسے پڑھیں تو تو اس کے پڑھنے کی پیروی کر “۔ اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ انسان کو پڑھنے کی تعلیم کی نعمت یاددلا رہے ہیں ، یعنی ” اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ “ کا معنی ہے :” اس رحمن ہی نے پڑھنا سکھایا “۔ یاد رہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہونے والی سب سے پہلی وحی میں لکھنے کی تعلیم کی نعمت کا ذکر خاص طور پر فرمایا تھا، فرمایا :(اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ) ( العلق : ٣، ٤) ” پڑھ اور تیرا رب ہی سب سے زیادہ کرم والا ہے۔ وہ جس نے قلم کے ساتھ سکھایا “۔ تو سورة ٔ رحمن میں پڑھنے کی تعلیم کی نعمت کا ذکر فرمایا۔ اس تفسیر کے مطابق یہ نعمت مزید عام ہوجاتی ہے ، جس میں قرآن کا پڑھنا بھی شامل ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ لکھنا ، پڑھنا اور بیان تینوں انسان پر اللہ تعالیٰ کی ان عظیم نعمتوں میں سے ہیں جو اسے جانوروں سے ممتاز کرتی ہیں ۔ انہی کے ذریعے سے وہ دور و نزدیک دوسرے انسانوں سے رابطہ کرتا ہے، وحی الٰہی سے حاصل ہونے والے علوم کو اور انسانی عقل اور تجربے سے حاصل ہونے والے علوم و فنون کو سیکھتا سکھاتا ہے ، لکھ کر محفوظ کرتا ہے اور آنے والی نسلوں کو پہنچاتا ہے۔
Linkage of the Surah and the Wisdom of Repeating the words, &Which of the bounties of your Lord will you deny?& The preceding Surah Al-Qamar was mainly concerned with some of the rebellious nations of antiquity who were punished for rejecting the Divine Message. The description of every punishment was followed by the sentence: فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ (Then how was My torment and My warnings? ...54:16). This sentence was repeated many times in order to warn people against similar Divine punishment. Another verse that was repeated as a refrain at telling intervals is وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ “ And indeed We have made the Qur&an easy for seeking advice. So, is there one to seek advice?...54:17). This verse urges people to accept the Qur&anic Message, believe in it and follow its right guidance. Surah Ar-Rahman, on the other hand, mainly describes the boons and bounties of Allah, of this world as well as of the Hereafter. Thus when a particular bounty of Allah is described, the verse: فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ fa-bi-ayyi& ala&i Rabbikuma tukadhdhiban (So, which of the bounties of your Lord will you deny?) is used deliberately as a refrain in order to awaken the people and urge them to give thanks to Allah for His favours. This verse is repeated thirty-one times in the Surah. According to the rules of stylish usage, repetition of an expression serves the deliberate purpose of &emphasis&. Especially, the repetition in these two Surahs of the Qur&an is repetition only in apparent form. In reality, the repeated sentence is each time related to a new subject, and having its own significance, cannot be taken as redundant. In Surah Al-Qamar, the فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ (Then how was My torment 54:16) has followed the description of each new torment. Likewise, in Surah Ar-Rahman, after the description of every new bounty the verse فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ (So, (0 mankind and Jinn,) which of the bounties of your Lord will you deny?) is repeated, which being related to a new subject is not redundant. ` Allamah Suyati (رح) terms this device of repetition as At-tardid. Arab masters of eloquence, regard this device as aesthetically beautiful, polished, effective, moving, forceful and persuasive use of language. The device is used both in prose as well as in poetry. It is used not only in Arabic but [ almost in all the languages of the world, as for instance ] the most accomplished and consummate poets of Persian and Urdu have used them. This is no occasion to collect samples of their compositions here. Tafsir Rah-ul-Ma` ani has collected its several examples on this occasion. Was Surah Ar-Rahman Revealed in Makkah or Madinah? On the basis of a few narratives Imam Qurtubi concluded that this Surah was revealed in Makkah, and he prefers this view. Tirmidhi records from Sayyidna Jabir (رض) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) recited this Surah before some people who remained silent. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: |"I recited this Surah to the Jinns, on the night of Jinn, and their receptive response was better than yours! Whenever I recited Allah&s statements فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ (So, (0 mankind and Jinn,) which of the bounties of your Lord will you deny?) They said: لَا بِشیءِ مِّن نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الحَمد &None of your bounties do we deny, our Lord! All praise is due to You&. This narrative indicates that this Surah was revealed in Makkah, because &the night of the Jinn& refers to the night when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) met the Jinns to convey to them the Message of the Qur&an and impart knowledge to them. This incident took place in Makkah. Likewise, Imam Qurtubi refers to a few more narratives which indicate that this Surah was revealed in Makkah. The opening word of the first verse of the Surah is Ar-Rahman (The All-Merciful). One of the reasons for beginning the Surah with this name of Allah is presumably that the infidels of Makkah were unaware of this name of Allah. They used to say, وَمَا الرَّحْمَـٰنُ |"What is Ar-Rahman? |" [ as mentioned in 25:60] This name has been selected here to let them know it. The second reason could be to indicate that teaching the Qur&an, which has been mentioned in the next verse as Allah&s act, was a sheer gift flowing from Allah&s beneficence, and not because this or any other act is obligatory on Allah for which He could be held responsible, nor because He is in need of anyone. In the entire Surah, Allah&s bounties - worldly as well spiritual - are continuously recounted. The greatest of all bounties is the knowledge of the Holy Qur&an, because it is an all-comprehensive Book directing man in temporal and spiritual matters and in matters relating to this world and the next. Those who heeded the Holy Qur&an and fulfilled its right, like the blessed Companions, Allah raised their status in the Hereafter and blessed them with inconceivable bounties and favours. In this world too they are promoted to such high stations as the greatest of kings were not able to attain.
ربط سورت اور جملہ فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا کے تکرار کی حکمت : اس سے پہلی سورت القمر میں زیادہ تر مضامین سرکش قوموں پر عذاب الٰہی آنے کے متعلق تھے اسی لئے ہر ایک عذاب کے بعد لوگوں کو متنبہ کرنے کے لئے ایک خاص جملہ بار بار استعمال فرمایا ہے، یعنی فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَنُذُرِ ، اور اس کے متصل ایمان و اطاعت کی ترغیب کے لئے دوسرا جملہ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ بار بار لایا گیا ہے۔ سورة الرحمن میں اس کے مقابل بیشتر مضامین حق تعالیٰ کی دنیوی اور اخروی نعمتوں کے بیان میں ہیں اسی لئے جب کسی خاص نعمت کا ذکر فرمایا تو ایک جملہ لوگوں کو متنبہ کرنے اور شکر نعمت کی ترغیب دینے کے لئے فرمایا فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ، اور پوری سورت میں یہ جملہ اکتیس مرتبہ لایا گیا ہے، جو بظاہر تکرار معلوم ہوتا ہے اور کسی لفظ یا جملے کا تکرار بھی تاکید کا فائدہ دیتا ہے، اس لئے وہ بھی فصاحت و بلاغت کے خلاف نہیں خصوصاً قرآن کریم کی ان دونوں سورتوں میں جس جملے کا تکرار ہوا ہے وہ تو صورت کے اعتبار سے تکرار ہے، حقیقت کے اعتبار سے ہر ایک جملہ ایک نئے مضمون سے متعلق ہونے کی وجہ سے مکرر محض نہیں ہے، کیونکہ سورة قمر میں ہر نئے عذاب کے بعد اس کے متعلق (فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ ) آیا ہے، اسی طرح سورة رحمن میں ہر نئی نعمت کے بیان کے بعد (فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ ) کا تکرار کیا گیا ہے جو ایک نئے مضمون کے متعلق ہونے کے سبب تکرار محض نہیں، علامہ سیوطی نے اس قسم کے تکرار کا نام تردید بتلایا ہے، وہ فصحاء و بلغاء عرب کے کلام میں مستحسن اور شیریں سمجھا گیا، نثر اور نظم دونوں میں استعمال ہوتا ہے، اور صرف عربی نہیں، فارسی، اردو وغیرہ زبانوں کے مسلم شعراء کے کلام میں بھی اس کی نظائر پائی جاتی ہیں، یہ موقع ان کو جمع کرنے کا نہیں، تفسیر روح المعانی وغیرہ میں اس جگہ متعدد نظائر بھی نقل کئے ہیں۔ خلاصہ تفسیر رحمن (کی بیشمار نعمتیں ہیں ان میں سے ایک روحانی نعمت یہ ہے کہ اسی) نے (اپنے بندوں کو احکام) قرآن کی تعلیم دی (یعنی قرآن نازل کیا کہ اس کے بندے اس کے اوپر ایمان لائیں اور اس کا علم حاصل کر کے اس پر عمل کریں تاکہ دائمی عیش و راحت کا سامان حاصل ہو اور اس کی ایک نعمت جسمانی ہے وہ یہ کہ) اسی نے انسان کو پیدا کیا (پھر) اس کو گویائی سکھلائی (جس پر ہزاروں منافع مرتب ہوتے ہیں، منجملہ ان کے قرآن کا دوسرے کی زبان سے پہنچنا اور دوسروں کو پہنچانا ہے اور ایک نعمت جسمانی آفاقی یہ ہے کہ اس کے حکم سے) سورج اور چاند حساب کے ساتھ (چلتے) ہیں اور بےتنہ کے درخت اور تنہ دار درخت دونوں (اللہ کے) مطیع ہیں (سورج چاند کا چلنا تو اس لئے نعمت ہے کہ اس پر لیل و نہار سردی گرمی، ماہ و سال کا حساب مرتب ہوتا ہے اور ان کے منافع ظاہر ہیں اور درختوں کا سجدہ اس لئے نعمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں انسان کے لئے بیشمار منافع کی تخلیق فرمائی ہے) اور (ایک نعمت یہ ہے کہ) اسی نے آسمان کو اونچا کیا (جس سے علاوہ دوسرے منافع متعلقہ بالسماء کے بڑی منفعت یہ ہے کہ اس کو دیکھ کر انسان اس کے بنانے والے کی عظمت شان پر استدلال کرے، کما قال تعالیٰ يَتَفَكَّرُوْنَ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ الخ) اور (ایک نعمت یہ ہے کہ) اسی نے (دنیا میں) ترازو رکھ دی تاکہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو اور (جب یہ ایسی بڑی منفعت کے لئے موضوع ہے کہ یہ آلہ ہے حقوق کے لین دین کو پورا کرنے کا، جس سے ہزاروں مفاسد ظاہری و باطنی دور ہوجاتے ہیں، تو تم اس نعمت کا خصوصیت کے ساتھ شکر کرو اور اس شکریہ میں سے یہ بھی ہے کہ) انصاف (اور حق رسانی) کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول کو گھٹاؤ مت اور (ایک نعمت یہ ہے کہ) اسی نے خلقت کے (فائدہ کے) واسطے زمین کو (اس کی جگہ) رکھ دیا کہ اس میں میوے ہیں اور کجھور کے درخت ہیں جن (کے پھل) پر غلاف (چڑھا) ہوتا ہے اور (اس میں) غلہ ہے جس میں بھوسہ (بھی) ہوتا ہے اور (اس میں) اور غذا کی چیز (بھی ہے) (جیسے بہت سی ترکاریاں وغیرہ) سو اے جن وانس (باوجود نعمتوں کی اس کثرت و عظمت کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤں گے (یعنی منکر ہونا بڑی ہٹ دھرمی اور بدیہیات بلکہ محسوسات کا انکار ہے اور ایک نعمت یہ ہے کہ) اسی نے انسان (کی اصل اول یعنی آدم (علیہ السلام) کو ایسی مٹی سے جو ٹھیکرے کی طرح (کھن کھن) بجتی تھی پیدا کیا (جس کا اجمالا چند آیت میں اوپر ذکر کر آیا ہے) اور جناب (کی اصل اول) کو خالص آگ سے (جس میں دھواں نہ تھا) پیدا کیا (اور پھر دونوں نوع میں توالد و تناسل کے ذریعہ سے نسل چلی، شرح اس کو سورة حجر کے رکوع دوم میں آ چکی ہے) سو اے جن وانس (باوجود نعمتوں کی کثرت و عظمت کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (مراد اس کی اوپر گزری ہے اور) وہ دونوں مشرق اور دونوں مغرب کا مالک (حقیقی) ہے (مراد اس سے سورج اور چاند کے طلوع و غروب کا افق ہے اس میں بھی وجہ نعمت ظاہر ہے کہ لیل و نہار کے افتتاح و اختتام کے ساتھ بہت سے اغراض متعلق ہیں) سو اے جن و انس (باوجود نعمتوں کی اس کثرت و عظمت کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور ایک نعمت یہ ہے کہ) اسی نے دو دریاؤں کو (صورةً ) ملایا کہ (ظاہر میں) باہم ملے ہوئے ہیں (اور حقیقۃ) ان دونوں کے درمیان میں ایک حجاب (قدرتی) ہے کہ (اس کی وجہ سے) دونوں (اپنے اپنے موقع سے) بڑھ نہیں سکتے (جس کی شرح سورة فرقان کے ختم سے ڈیڑھ رکوع قبل گزری ہے اور آب شور و آب شیریں کے منافع بھی ظاہر ہیں اور دونوں کے ملنے میں نعمت استدلال بھی ہے) سو اے جن وانس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور بحرین کے متعلق ایک یہ نعمت ہے کہ) ان دونوں سے موتی اور مونگا برآمد ہوتا ہے (موتی ہوں گے کے منافع اور وجوہ نعمت ہونا ظاہر ہے) سو اے جن وانس (باوجود نعمتوں کی اس کثرت و عظمت کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے اور (ایک نعمت یہ ہے کہ) اسی کے (اختیار اور ملک میں) ہیں جہاز جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے (نظر آتے) ہیں (ان کی منفعت بھی ظاہر بلکہ اظہر ہے) سو اے جن و انس (باوجود نعمتوں کی اس کثرت و عظمت کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ معارف و مسائل سورة رحمن کے مکی یا مدنی ہونے میں اختلاف ہے، امام قرطبی نے چند روایات حدیث کی وجہ سے مکی ہونے کو ترجیح دی ہے، ترمذی میں حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ لوگوں کے سامنے سورة رحمن پوری تلاوت فرمائی، یہ لوگ سن کر خاموش رہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں نے لیلتہ الجن میں جنات کے سامنے یہ سورت تلاوت کی تو اثر قبول کرنے کے اعتبار سے وہ تم سے بہتر رہے، کیونکہ جب میں قرآن کے اس جملے پر پہنچتا تھا (فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ) تو جنات سب کے سب بول اٹھتے تھے (لا بشی من نعمک ربنا نکذب فلک الحمد) |" یعنی اے ہمارے پروردگار ! ہم آپ کی کسی بھی نعمت کی تکذیب و ناشکری نہ کریں گے، آپ ہی کے لئے حمد ہے |" اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ سورت مکی ہے، کیونکہ لیلتہ الجن وہ رات جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جناب کو تبلیغ وتعلیم فرمائی مکہ مکرمہ میں ہوئی ہے۔ اسی طرح کی اور بھی چند روایات قرطبی نے نقل کی ہیں جن سے اس سورت کا مکی ہونا معلوم ہوتا ہے اس سورت کو لفظ رحمن سے شروع کیا گیا اس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ کفار مکہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے رحمن سے واقف نہ تھے، اسی لئے کہتے تھے وما الرحمن کہ رحمن کیا چیز ہے، ان لوگوں کو واقف کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے یہاں رحمن کا انتخاب کیا گیا۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ آگے جو کام رحمن کا ذکر کیا گیا ہے، یعنی تعلیم قرآن، اس میں یہ بھی بتلا دیا گیا کہ اس تعلیم قرآن کا مقتضی اور سبب داعی صرف اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، ورنہ اس کے ذمہ کوئی کام واجب و ضروری نہیں، جس کا اس سے سوال کیا جاسکے اور نہ وہ کسی کا محتاج ہے۔
اَلرَّحْمٰنُ ١ ۙ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے )
(١۔ ٣) کہ رحمن نے بذریعہ جبریل امین رسول اکرم اور بذریعہ حضور آپ کی امت کو قرآن کریم کی تعلیم دی، یعنی جبریل امین کے ذریعے سے رسول اکرم پر قرآن کریم نازل کیا اور آپ کو قرآن حکیم دے کر آپ کی امت کی طرف مبعوث فرمایا اور اسی نے انسان یعنی آدم کو پیدا کیا اور پھر ان کو گویائی دی اور تمام ان چیزوں کے جو کہ روئے زمین پر ہیں نام سکھائے۔
1: مشرکینِ مکہ اﷲ تعالیٰ کے نام ’’رحمن‘‘ کو نہیں مانتے تھے، وہ کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے رحمن کیا ہوتا ہے؟ جیسا کہ سورۂ فرقان (۲۵:۶۰) میں گزرا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رحمن کے نام سے ان لوگوں کو چڑ تھی، وہ اس لئے کہ اگر ہر طرح کی رحمت اﷲ تعالیٰ ہی کے ساتھ خاص مان لی جائے تو پھر اُن من گھڑت خداوں کے حصے میں کچھ نہیں آتا جن سے یہ لوگ اپنی مرادیں مانگا کرتے تھے، اور اس طرح اﷲ تعالیٰ کو رحمن مان لینے سے خود بخود ان کے شرک کی نفی ہوجاتی ہے۔ اس سورت میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ رحمن اسی اﷲ تعالیٰ کا نام ہے جس کی رحمتوں سے یہ ساری کائنات بھری ہوئی ہے۔ اُس کے سوا کوئی نہیں ہے جو تمہیں رزق، اولاد یا کوئی اور نعمت دے سکے۔ اس لئے عبادت کا حق دار صرف وہی ہے، کوئی اور نہیں۔
١۔ ١٣۔ اگرچہ سورة نحل میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس قدر احسان کئے ہیں کہ ان احسانات اور اس کی نعمتوں کا شکریہ کرنا تو درکنار اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کا ہر ایک شخص اگر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کی نعمت کی گنتی بھی کرنی چاہے تو یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی طاقت سے باہر ہے لیکن جن و انسان کے فقط یاد دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں اکتیس قسم کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور ہر ایک قسم کی نعمت کے ذکر کے بعد جن و انسان سے تنبیہ کے طور پر یہ پوچھا ہے کہ تم دونوں اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔ مطلب یہ ہے کہ جس اللہ نے انسان کو ‘ انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا اس کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کیا جاسکتا کیونکہ کسی دوسرے کو اس کی عبادت میں شریک ہونے کا حق نہیں ہے۔ ترمذی ٢ ؎ اور مستدرک حاکم میں حضرت جابر (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن صحابہ (رض) کے رو برو یہ سورة پڑھی۔ صحابہ (رض) اس سورة کو سن کر چپکے بیٹھے رہے۔ اس پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ (رض) سے فرمایا کہ بہ نسبت تم لوگوں کے جن لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے زیادہ قدر دان ہیں کیونکہ جنات کے رو برو میں نے ایک رات یہ سورة پڑھی تھی تو انہوں نے ہر دفعہ آیت فبای الاء ربکما تکذبن کے بعد یہ کہا تھا کہ ولابشیء من نعمتک ربنا تکذب فلک الحمد۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ اس حدیث کی بناء پر علما نے لکھا ہے کہ ہر دفعہ اس آیت کے بعد یہ دعا پڑھنی سنت ہے کیونکہ جنات نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رو برو یہ دعا پڑھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو پسند کیا۔ اسی کا نام تقریری حدیث ہے علماء نے لکھا ہے کہ اس سورة کے شروع سے آٹھ آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عجائبات قدرت کو ذکر فرمایا ہے پھر سات آیتوں میں دوزخ کا ذکر فرمایا ہے پھر پندرہ آیتوں میں جنت کا ذکر فرمایا ہے اس صورت میں دوزخ کا ذکر نعمتوں میں اس طرح سے شامل ہوا کہ جو شخص پہلی کی آٹھ آیتوں پر یوں عمل کرے گا کہ دنیا کی عجائبات قدرت سے خدا کو پہچانے گا اور اللہ کے کلام اور اللہ کی مرضی کے موافق نیک کام کرے گا وہ دوزخ کی آفتوں کی بچنے کی نعمت اور جنت کے حاصل ہونے کی نعمت کو پائے گا۔ غرض یہ ہے کہ بعض مفسروں نے یہ جو اعتراض کیا ہے کہ دوزخ کا ذکر نعمتوں میں کیونکر شامل ہوسکتا ہے اس اعتراض کا جواب اس تفسیر سے جو اوپر بیان کی گئی ہے اچھی طرح نکل سکتا ہے۔ سورة نحل میں گزر ١ ؎ چکا ہے کہ مشرکین مکہ ایک شخص غلام کا نام لیتے تھے کہ وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ باتیں سکھاتا ہے اس کا ایک جواب تو اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں دیا ہے اور دوسرے جواب سے یہاں مشرکین کو جھٹلایا ہے کہ یہ قرآن اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی بشر نے نہیں سکھایا بلکہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا سکھایا ہوا ہے جس کا نام رحمان بھی ہے یہ نام اس لئے فرمایا ہے کہ مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کے اس نام کے منکر تھے۔ چناچہ اس کا ذکر سورة فرقان میں گزر چکا ہے۔ قرآن کے سکھانے کا ذکر انسان کی پیدائش کے ذکر سے پہلے فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ انسان کا پیدا کرنا علم دین سیکھنے اور اس کے موافق عمل کرنے کے لئے ہے۔ آیت وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون گویا اس آیت کی تفسیر ہے۔ بیان سے مقصود بات چیت اور زبان کی گویائی ہے جس کے سبب سے انسان قرآن کی تلاوت اور اس کے یاد کرنے کے قابل ہوا۔ سورج چاند اپنے برجوں اور منزلوں کو حساب سے طے کرتے ہیں جس کے سبب سے دن و رات پیدا ہو کر سال اور مہینہ معلوم ہوتا ہے جس پر لوگوں کے ہزاروں کام منحصر ہیں نجم کے معنی وہ پیڑ جو بیل کی طرح زمین پر ہی بڑھتے ہیں ‘ زمین سے اونچے نہیں ہوتے۔ سورة نحل میں گزر چکا ہے کہ ان چیزوں کا سجدہ ان کے سایہ کا ڈھلنا ہے۔ اوپر گزرچکا ہے کہ اللہ کے گناہ جیسے مثلاً نماز نہ پڑھنا یہ حق اللہ کہلاتے ہیں اور یہ خالص دل کی توبہ سے معاف ہوجاتے ہیں اور بندوں کے گناہ جیسے کسی کا مال چرا لینا یہ حق العباد کہلاتے ہیں۔ فقط توبہ سے یہ گناہ معاف نہیں ہوتے جب تک صاحب حق سے اس کے حق کی معافی یا کچھ تلافی نہ ہوجائے۔ کم تولنا یا کم ناپنا بھی حق العباد میں ہے۔ اس لئے پورا تولنے کی تاکید فرمائی۔ زیادہ تفصیل اس کی ویل للمطففین میں آئے گی مگر حق العباد سے ڈرنے کے لئے صحیح ١ ؎ مسلم کی ابوہریرہ (رض) کی وہ حدیث کافی ہے جو اوپر گزر چکی ہے کہ حق العباد میں لوگوں کی نیکیاں ہر صاحب حق کو اس کے بدلے میں مل جائیں گی اور یہ لوگ نیکیوں کے ثواب سے محروم ہو کر سیدھے جہنم کو چلے جائیں گے۔ کھجور عرب کا ایک خاص میوہ ہے اس لئے میووں کے عام ذکر کے بعد اس کا ذکر علیحدہ فرمایا۔ اکمام وہ خلاف ہیں جن میں کھجور کا خوشہ پھوٹنے کے وقت چھپا ہوا تھا ہے حب کے معنی ہر طرح کے اناج کا بیج ‘ علی بن طلحہ کی روایت ٢ ؎ سے حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ عصف کے معنی گھانس کے ہیں ریحان کے معنی خوشبودار درخت کے ہیں۔ (٢ ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الرحمن ص ١٨٤ ج ٢۔ ) (١ ؎ تفسیر ہذا جلد ٣ ص ٣٧٠۔ ) (١ ؎ صحیح مسلم۔ باب تحریم الظلم ص ٣٢٠ ج ٢۔ ) (٢ ؎ تفسیرابن کثیر ص ٢٧١ ج ٤۔ )
(55:1) الرحمن : رحمت سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت رحمت کرنے والا بڑا بخشش کرنے والا۔ بڑا مہربان (نیز سورة الفاتحہ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کی تشریح میں ملاحظہ ہو۔
آیات ١ تا ٢٥۔ اسرار ومعارف۔ وہ ذات بیحد و حساب رحم کرنے والی ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے قرآن سکھلایا اپنے نبی پر نازل فرما کر ان خوش نصیبوں کو جنہوں نے آپ سے سیکھا اور ان کے واسطے سے اگلوں کو سکھایا یوں تعلیم قرآن کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری فرمایا کہ بنی آدم میں سے جو چاہے اس چشمہ رحمت سے سیراب ہو۔ آخر یہ بھی تو اسی کی رحمت عامہ ہے کہ انسان کو پیدا فرمایا اور اسے زبان دانی بات کرنے کا فن ودیعت فرمایا کہ وہ علم قرآن حاصل کرسکنے کے قابل ہوا۔ قوت گویائی کا اصل مصرف۔ گویاقوت گویائی اور بات کرنے کی صلاحیت کا اصل مصرف علوم قرآن کا حصول اور اس کا آگے پہنچانا ہے باقی سارے فوائد دوسرے درجے میں ہیں پھر انسان کے رہنے بسنے کی فضاساز گار بنائی۔ رات دن گرمی سردی غذا خوراک پھل پھول اور پودے اس سارے نظام کو سورج اور چاند کی روشنی اور گرمی و ٹھنڈک ان کے طلوع و غروب سے متعلق فرما کر شمس وقمر کو ایک باقاعدہ طے شدہ اور صحیح ترین حساب سے چلا دیا کہ کبھی ان کی رفتار یاکارگردی میں رائی برابر نقص یاکمی بیشی پیدا نہیں ہوتی اور ہر بیل ہو یا پودا کامل طریقے سے اللہ کی اطاعت کر رہے ہیں کہ جس کو جس خدمت کے لیے پیدا فرمایا گیا وہ پورے طور پر بجالارہا ہے۔ اسی نے آسمان کو بلندی اور رفعت دی جو بظاہر بھی ہے اور یہ مفہوم بھی ہے کہ آسمانی نعمتیں انسان کی رسائی سے بالاتررکھیں۔ سورج چاند اور بادل ہوا وغیرہ سے حاصل ہونے والی نعمتوں پر کسی انسان کی اجارہ داری نہیں ہوسکتی اور جو نعمتیں انسانی رشتوں اور واسطوں سے متعلق فرمائیں ان میں ترازو یعنی ہر ایک کے ساتھ عدل کا حکم فرمایا اور انسانوں کو متنبہ فرمایا کہ خبردار لین دین اور معاملات میں انصاف اور برابری کو ہاتھ سے مت جانے دو اور کسی کے ساتھ بھی زیادہ نہ کرو برابر وزن کرو کہ اگر زیادتی نہ ہوتوکمی بھی نہ ہو کہ انسان مدنی الطبع پیدا فرمایا گیا ہے یعنی مل جل کر رہنے والا۔ لہذا سب کو ایک دوسرے سے لین دین تو ضرور ہوگا لہذایہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے لین دین میں پورا پورا انصاف کا حکم دیا۔ اسی کی رحمت کہ زمین کو وہ خصوصیات عطا فرمائیں کہ وہ مخلوق کے رہنے کے قابل ہوئی اور زندگی کو جن ضروریات کا محتاج بنایازمین میں ان کے خزانے بھردیے کہ کئی قسم کے پھل اور میوے اور کھجوریں کہ خوبصورت غلافوں میں بند شیریں ذائقہ غذا بھی ہے دوا بھی ہے اور ایک ایک دانے کو خوشبودار پھولوں سے سجا کر اور غلاف میں لپیٹ کر جس کی بھس بنتی ہے پیدا فرمایا۔ تو اے گروہ جن وانس ! تم دونوں بھلاکس کس نعمت باری کو فراموش کرو گے اس کریم نے انسان اول اور آدم (علیہ السلام) کو کھنکھاتی مٹی سے پیدا فرمایا اور جنات کو آگ کے ایسے تیز شعلوں سے جن میں دھواں تک نہ تھا یعنی بظاہر انسان تو ان دونوں سے کہ مٹی سوکھ کر کھنکھانے لگے یاشعلہ لپٹیں لے رہا ہو تو اس سے کچھ بھی بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتا جبکہ اس قادر وکریم نے انہیں سے مخلوق پیدا فرمادی تو جن وانس بھلا اس کے کتنے احسانات کو یاد نہ کرسکیں گے وہ ہی پروردگا رہے ہر دومشارق کا بھی ہر دومغارب کا بھی کہ گرمیوں سردیوں کے علیحدہ طلوع و غروب ہیں اور اسی نظام شمسی کے تابع نظام حیات ہے اس سب کا بنانے والا اور چلانے والاوہ رب کریم ہے بھلاتم دونوں گروہ اس کا کون کون سا احسان جھٹلاؤ گے ۔ وہ ایساقادر ہے کہ اس نے دو طرح پانی جاری کردیا جو ایک زمین میں موجود ہے ایک جگہ کھاری ہے اور دوسری جگہ شیریں۔ چند فٹ کے فاصلے پر کھاری نکل آتا ہے جبکہ ساتھ میٹھا چشمہ ہوتا ہے ایک ہی جگہ ایک وقت دونوں آپس میں ملتے نہیں قدرت باری کا پردہ درمیان ہے دریائے شورکھاری ہے اس سے بخارات اٹھا کر میٹھے پانی کی برساتا ہے تو اس کے کتنے احسانات کی ناشکری کرو گے اس نے زیرآب بھی خزانے پیدا فرمائے اور دریاؤں سمندروں میں سے موتی مونگے نکل کر حیات انسانی کی بہار کا باعث بن رہے ہیں بھلا اس کے کتنے انعامات کو بھول سکو گے ۔ بحری تجارت کے وسائل اور بڑے بڑے بحری بیڑے ، زیرآب بھی نعمتیں ہیں اور سطح آب پر بھی تمہارے لیے چلنا اور تجارت کے لیے سفر آسان کردیا یہ سب اسی کی دین ہے پھر تم کس کس نعمت کا انکار کرسکو گے۔
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 25 علم اس نے سکھایا۔ البیان بولنا بحسبان ایک حساب سے، ایک طریقے سے۔ النجم بےتنے کے درخت، پودے۔ وضع اس نے رکھا ۔ اس نے بنایا ۔ الاتطفوا یہ کہ تم نہ گھٹائو۔ انام مخلوق۔ الاکمام (کم) غلام، چھلکا ۔ العصف بھوسہ (جانوروں کی غذا) الریحان خوشبودار ۔ الاء (الی) نعمتیں صلصال خشک مٹی جو کھن کھن بجتی ہو۔ الفخار ٹھیکرا۔ الجان جن ، ابو الجنات ۔ مارج شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج (خوب بہتا ہے) جاری کیا البحرین دوریا، دو سمندر۔ برزخ پردہ، رکاوٹ۔ لا یبغین دونوں کو ملنے نہیں دیتا اللولو موتی۔ المرجان مونگا، سفید موتی۔ المنشئت بلند کئے ہوئے۔ الاغلام (ملم) پہاڑ، جھنڈا اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے انسان کو ایسی ان گنت نعمتوں سے نوازا ہے جن کو شمار کرنا ممکن نہیں ہے طرح طرح کی بیشمار نعمتیں اس کے وجود کے اندر اور اس کے اردگرد بکھری ہوئی ہیں لیکن انسن کو ان نعمتوں کی اس وقت تک قدر نہیں ہوتی جب تک وہ اس کے ہاتھ سے نکل نہیں جاتیں۔ زوال نعمت کے بعد نعمتوں کی قدر بڑھ جاتی ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے سورة رحمٰن میں بار بار ایک ہی آیت کو ھدرایا ہے اور اس کائنات کی دو صاحب اقتدار اور دار مخلوقات جنات اور انسانوں سے خطاب کرتے ہئے فرمایا ” فبای ربکما تکذبان “ (اے جن و انس ) تم دونوں اللہ کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے ؟ ایک ہی آیت کو 68 آیات میں اکتیس مرتبہ دھرانا اس بات کی علامت ہے کہ جب تک اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا جایئے اس وقت تک انسان اور جنات کی تخلیق کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ” اگر تم اللہ کی نعمتوں پر شکر کرو گے تو (ہمارا یہ وعدہ ہے کہ ) ہم ان نعمتوں کو بڑھاتے ہی چلے جائیں گے۔ “ اور اس کے ساتھ ہی فرما دیا کہ ” اگر تم نے ناشکری (کا طریقہ اختیار) کیا تو (ناشکری پر) میرا عذاب بھی شدید تر ہے۔ “ اس سورت کی ابتدا ” رحمٰن “ سے کی گئی ہے جس کے معنی ہیں ” بہت رحم کرنے والا “ یہ ال لہ کا صفاتی نام ہے۔ لیکن کفار مکہ کے لئے رحمٰن کا لفظ بالکل نیا تھا بلکہ وہ یہ سمجھے کہ اللہ اور رحمٰن وہ الگ الگ معبود ہیں اسی لئے وہ کہنے لگے کہ ہم رحمٰن کو نہیں جانتے اور یہ کیا بات ہوئی کبھی تم کہتے ہو کہ اللہ کی عبادت کرو اور کبھی کہتے ہو رحمٰن کی قدر پہنچانو اور اس کو سجدہ کرو۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ بس جسم کو تم کہہ دو وہی معبود ہے اور اسی کی عبادت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کی احمقانہ اور جاہلانہ بات کا جواب دینے کے بجائے پوری سورة رحمٰن نازل کر کے بتا دیا کہ اللہ اور رحمٰن دو معبود نہیں بلکہ ایک ہی معبود ہے۔ اللہ ہی رحمٰن ہے جس نے قرآن جیسی با عظمت کتاب کی تعلیم دی۔ انسان کو وجود بخشا، اپنے دلی جذبات کے اظہار کے لئے اس کو بولنے اور کلام کرنے کی صلاحیتوں سے نوازا اور پوری کائنات کو اس طرح کی خدمت پر لگا دیا ، چاند سورج اور ستاروں کے راستے مقرر کردیئے جو ایک خاص حساب گھوم رہے ہیں اور فضا میں تیر رہے ہیں ۔ اس نے بیلوں ، پودوں ، بڑے بڑے سائے دار گھنٹے درختوں کو اس کے رزق کا ذریعہ بنا دیا۔ اسی نے نظام کائنات کو عدل و انصاف اور ایک خاص تو ازن اور ایک خاص تو ازن سے خوبصورتی عطا فرمائی اور لوگوں کے ہاتھوں میں ترازوئے عدل دے کر حکم دیا کہ وہ اس کائنات میں اپن عمل کردار اور تجارتی بد دیائیوں سے اس تو ازن اور اعتدال کو ضائع نہ کریں اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتنے ہوئے معاملات زندگی کو حسین تر بنائیں۔ اس نے زمین کو اس پر بسنے اور آباد رہنے والی مخلوق کے فائدوں کے لئے بنایا ہے۔ خوشبو اور چیزیں طرح طرح کے لذیذ پھل سبزیاں، ترکاریاں اور غلہ پیدا کیا۔ اسی غلہ میں جانوروں کی غذا بھوسے کو پیدا کر کے انسان ہاتھوں کو جانوروں تک رزق پہنچانے کا ذریعہ بنا دیا۔ اسی نے انسان کو کھٹکھٹاتی مٹی سے اور جنات کو آگ سے پیدا کیا اور آگے بھی ایسی کہ جس میں دھواں نہ تھا۔ انسان اور جنات کو کائنات میں با اختیار بھی بنایا اور ذمہ دار مخلوق بھی اور ان کو پیدا کر کے ان کو ایسے ہی نہیں چھوڑ دیا گیا بلکہ ان کی رہنمائی کے تمام اسباب بھی پیدا کئے تاکہ جب بھی وہ سیدھی ڈگر سے ہٹ کر غلط راستوں پر چل پڑیں تو ان کو صراط مستقیم پر چلنے کی تلقین کی جائے۔ اسی رحمٰن نے سورج کے نکلنے، ڈوبنے اور مختلف منزلوں سے گذرنے کے قاعدے طریقے اور قانون بنائے تاکہ دنوں، تاریخوں اور ماہ وسال کے حساب کو متعین کیا جاسکے اور مختلف موسم آتے جاتے رہیں تاکہ موسم کی یکسانیت سے انسان اکتا نہ جائے۔ زمین سے چاند اور سورج کا فاصلہ اس حساب سے رکھا گیا کہ اس میں فرق نہ آنے پائے کیونکہ اگر یہ فاصلہ ذرا بھی گھٹ جائے یا بڑھ جائے تو اس زمین پر انسان کو زندگی گذارنا مشکل ہوجائے فرمایا کہ وہ ہر مشرق اور مغرب کا پروردگار ہے اسی نے سمندر اور دریا پیدا کئے جن میں سے بعض تو ایسے دریا اور سمندر ہیں کہ دو دریا اور سمندر مل رہے ہیں مگر ہر پانی کا رنگ اور مزہ بالکل مختلف ہے آدمی دور سے دیکھ کر اس فرق کو صاف محسوس کرسکتا ہے۔ اسی رحمٰن نے ایک ہی زمین میں کھارے اور میٹھے پانی کے چشمے جاری کردیئے۔ اسی میں میٹھا اور کھارا پانی نکل رہا ہے، اسی سے تیل اور گیس نکل رہا ہے لیکن سب الگ الگ وہ ایک دوسرے میں ملتے نہیں ہیں۔ یہ بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ سمندر اور دریاؤں کے پانیوں سے قیمتی موتی اور مونگے نکلتے ہیں جن سے زیور بھی بنتے ہیں اور تجارت کے کام بھی آتے ہیں۔ سمندر کی چھاتی پر پہاڑوں کی طرح کھڑے ہوئے اور لچتے ہوئے جہاز جن کی سمندر میں ایک تنکے سے زیادہ حیثیت نہیں ہوتی ان کے لئے اللہ موافق ہوا چلا کر ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس نے انسان کے رزق کا اور آنے جانے کا راستہ ہموار کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ سب اس اللہ رحمٰن و رحیم کا کرم ہے جس نے انسانوں اور جنات کو ان نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ فرمایا کہ اے جن و انس تم اللہ کی کس کس نعمت کا انکار کرسکتے ہو ؟ یہ ہر نعمت اسی کی عطا کی ہوئی ہے۔ ان آیات سے متعلق چند باتیں (1) ان آیات میں پہلے تعلیم قرآن کا اور پھر انسان کی پیدئاش کا ذکر کیا گیا ہے۔ کلام کی اس ترتیب سے یہ سمجھا گیا ہے کہ اللہ کی سب سے بڑی نعمت قرآن کریم اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا ہے۔ اگر ایک شخص اللہ کے پاک کلام کی پوری طرح اتباع کرتا ہے تو وہ نہ صرف اپنے مقصد تخلیق کی تکمیل کرتا ہے بلکہ دنیا اور آخرت کی ہر بھلائیا ور خیر کا اپنے آپ کو مستحق بنا لیتا ہے۔ 2) اس نے بولنا اور کلام کرنا سکھایا۔ اصل میں اللہ تعالیٰ نے عقل و شعور، سمجھ، دانائی و فراست کی دولت سے انسان کو نوازا ہے۔ انسان سوچتا ہے ، سمجھتا ہے، تجربے کر کے نئی سے نئی بات پیدا کرتا ہے اور اپنے دل کی ہر بات اور اپنے دماغ اور تجربات کی ہر سوچ اور عمل کو الفاظ کے سانچوں میں ڈھال کر بیان کردیتا ہے۔ دلی جذبات کا زبان سے اظہار اتنی بڑی نعمت ہے جو اس کائنات میں کسی اور مخلوق کو حاصل نہیں ہے۔ اس جگہ اس کی تعلیم دی گئی ہے کہ انس ان کی ہر سوچ اور فکر ضروری نہیں ہے کہ اس کو منزل تک پہنچا دے اگر اس کی سوچ اور فکر کو قرآن کریم کی روشنی اور ہدایت نصیب ہوجائے اور سنت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جلا ملا جائے تو پھر اس سے انساین ذہن و فکر میں وہ انقلاب برپا ہو اجتا ہے جو اس کو دنیا اور آخرت میں کامیاب و بامراد کردیتا ہے۔ صحابہ کرام کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت اور تعلیم و تربیت کی برکت سے جب اپنے جذبات کے اظہار کے لئے قرآن کریم کی زبان مل گئی تو انہوں نے زبان وبیان سے ساری دنیا میں بےمثال انقلاب برپا کر کے ساری دنیا کے اندھیروں کو دور کردیا تھا۔ 3) تجارتی بد دیانتی بھی کفر و شرک کی طرح ایک بدترین عادت ہے۔ حضرت شعیب کی قوم کو تجارت میں بد دیانتی کی وجہ سے تباہ و برباد کیا گیا۔ ان کے لئے پیمانے اور ہوتے تھے اور دینے کے کچھ اور فرمایا کہ اللہ نے کائنات میں جس تو ازن کو قائم کیا ہے اور ہر چیز سے عدل و انصاف کیا ہے تم بھی ان اصولوں کا خیال رکھو۔ جن لوگوں کے حقوق تمہارے ہاتھوں میں سونپے گئے ہیں اگر تم نے ان میں بےاعتدالی، بےانصافی اور ظلم و زیادتی کو رواج دیا تو نہ صرف قانون فطرت سے بغاوت ہوگی بلکہ عذاب اور سزا کا سبب بھی ہو سکتی ہے۔
فہم القرآن ربط سورت : جنتیوں کا جنت میں اعلیٰ مقام پانا رب رحمن کے رحم کا نتیجہ ہوگا کیونکہ اس کی مہربانی کے بغیر کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ سورة القمر کے بعد سورة الرّحمان کو اس لیے یہاں رکھا گیا کیونکہ اس کی ابتدا ہی الرّحمن کے عظیم اور شفیق نام سے ہوتی ہے۔ الرحمن کی مہربانی کے بغیر انسان کوئی اچھا کام سرانجام نہیں دے سکتا اور نہ ہی جنت میں داخل ہوسکتا ہے۔ ذات کبریا کے ذاتی نام ” اللہ “ کے بعد صفاتی اسمائے گرامی میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے نام الرحمن اور الرحیم ہیں۔ قرآن مجید میں یہی نام سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد کے مطابق ” اللہ “ کی رحمت اس قدر وسیع و عریض ہے جیسے بحر بیکراں۔ کائنات کے تمام جن وانس کی حاجات کو پورا کردیا جائے تو بھی ” اللہ “ کی رحمت کے سمندر میں سوئی ڈبو کر باہر نکالنے کے برابر بھی کمی واقع نہیں ہوتی۔ (رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ و الآداب، باب تحریم الظلم) اہل مکہ کی غالب اکثریت الرّحمن کے لفظ سے ناواقف تھی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب اللہ تعالیٰ کو الرّحمن اور الرّحیم کے نام سے پکارنا شروع کیا اور لوگوں کو اس مشفق نام سے متعارف کروایا تو اہل مکہ نے کہا۔ ہمیں کہا جاتا ہے صرف ایک ” اللہ “ کو پکارو اور خود دو ” الٰہ “ بنا رکھے ہیں لہٰذا ہم کسی رحمن کو نہیں جانتے کہ وہ کون ہوتا ہے۔ کفار کی یا وہ گوئی کا پہلا جواب یہ دیا گیا۔ ” وہی ہے جس نے چھ دنوں میں زمین و آسمانوں اور تمام چیزوں کو پیدا کیا جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں پھر خود عرش پر جلوہ افروز ہوا۔ الرحمن کی شان جاننے والے سے پوچھو۔ جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ الرّحمان کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں الرّحمان کون ہوتا ہے ؟ کہتے ہیں کہ کیا جسے تو کہہ اسی کو ہم سجدہ کریں ؟ الرّحمان کی طرف بلایاجائے تو ان کی نفرت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ “ (الفرقان : ٥٩، ٦٠) اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں اپنی بڑی بڑی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ہے اور باربار انسان کو اس بات کا احساس دلایا ہے کہ اے انسان ! تو میری کس کس نعمت کی تکذیب اور ناشکری کرے گا۔” اللہ “ کے الرحمن ہونے کا تقاضا ہے کہ اس نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تاکہ لوگوں کی بروقت اور صحیح راہنمائی ہوسکے۔ لوگوں کی ہدایت کا آخری انتظام قرآن مجید کی صورت میں کیا گیا ہے، قرآن مجید ایسی جامع اور عظیم کتاب ہے جو افراد اوراقوام کی کامل اور اکمل راہنمائی کرتی ہے۔ قرآن مجید کے ذریعے ہی انسان اپنے رب کو پہنچاتا ہے اور زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ سیکھ سکتا ہے۔ ” عَلَّمَہٗ القرآنَ “ کے الفاظ استعمال فرما کر بالواسطہ طور پر کفار کے اس الزام کی نفی کی گئی ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی اور سے سیکھ کر یا اپنی طرف سے قرآن نہیں بنالیتے یہ تو رب رحمن کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ ” اللہ “ کی رحمت ہر چیز پر غالب ہے : (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَمَّا قَضَی اللَّہُ الْخَلْقَ کَتَبَ عِنْدَہُ فَوْقَ عَرْشِہِ ، إِنَّ رَحْمَتِی سَبَقَتْ غَضَبِی) (رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ تَعَالَی (وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِینَ ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس وقت اللہ کے عرش پر لکھا ہوا تھا بیشک میری رحمت میرے غضب سے سبقت لے جا چکی ہے۔ “ قرآن کا لغوی معنٰی ہے بار بار پڑھی جانے والی کتاب کیونکہ قرآن مجید کو بار بار تلاوت کیا جاتا ہے اس لیے اس کو قرآن کہتے ہیں۔ ” حضرت عمربن خطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کتاب کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بہت سی قوموں کو جو اس پر عمل کریں گی بام عروج پر پہنچائے گا اور بہت سی قوموں کو جو اس کو چھوڑ دیں گی انہیں ذلیل کر دے گا۔ “ (رواہ مسلم : کتاب الصلوٰۃ، باب فضل من یقوم بالقراٰن ) مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر نہایت ہی مہربان ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن کی تعلیم سے سرفراز فرمایا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے ذریعے لوگوں کی راہنمائی فرمائی۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کی عظمت و فضیلت کی ایک جھلک : ١۔ قرآن ایسی کتاب ہے جس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے۔ ( البقرۃ : ٢) ٢۔ قرآن مجید کو اللہ نے نازل فرمایا ہے اور وہی اس کا محافظ ہے۔ (الحجر : ٩) ٣۔ جن و انس مل کر بھی اس قرآن کی مثل نہیں لاسکتے۔ (بنی اسرائیل : ٨٨) ٤۔ قرآن مجید میں کوئی کجی نہیں ہے۔ (الکہف : ١) (بنی اسرائیل : ٨٢) ٥۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے باعث نصیحت اور مومنوں کے لیے باعث ہدایت اور رحمت ہے۔ (یونس : ٥٧)
رحمان کے انعامات کے بیان میں یہ پہلا پیرگراف ہے اور اس اعلان عام کی یہ پہلی خبر ہے اور پہلی نعمت : علم القرآن (اس نے قرآن کی تعلیم دی) اور قرآن کی تعلیم کی شکل میں اللہ نے اپنے بندوں پر عظیم رحمت فرمائی۔ قرآن جو نوایس فطرت کا ترجمان ہے۔ یہ اہل زمین کے لئے آسمان کا منہاج ہے اور یہ منہاج اہالیان زمین کو ناموں فطرت سے ملاتا ہے اور یہ ان کے عقائد ، ان کے تصورات ، ان کے پیمانوں ، ان کی قدروں ، ان کے اداروں ، ان کے حالات کو نہایت ہی مضبوط بنیادوں پر استوار کرتا ہے۔ انہی بنیادوں پر جن پر یہ پوری کائنات قائم ہے ، یہ دستور ان کی سہولتیں اطمینان اور ناموس فطرت کے ساتھ مفاہمت اور ہم آہنگی عطا کرتا ہے۔ قرآن انسانوں کے حواس اور ان کے شعور کو اس پوری کائنات کے لئے کھولتا ہے کہ دیکھو کیا ہی خوبصورت ہے یہ کائنات اور قرآن ان کو اس کا مشاہدہ یوں کراتا ہے کہ گویا انسانیت نے کائنات کو پہلی مرتبہ دیکھا ہے۔ وہ دیکھتے رہے تھے لیکن یہ ایک نیا مطالعہ ہے۔ انہوں نے خود اپنی ذات کا بھی از سر نو مطالعہ کیا۔ انہوں نے اپنے ارد گرد کائنات کو پڑھنا شروع کیا بلکہ قرآن نے اس پورے کائناتی ماحول کو ایک زندگی عطا کردی اور یہ ماحول انسان کے ساتھ ساتھ چلنا شروع ہوگیا ہے۔ اب انسان اس کائنات کے مظاہر کا دوست بن گیا۔ ساتھی بن گیا اور وہ ہمقدم ہوکر چل رہے ہیں اور اس زمین پر انسان کا یہ سفر نہایت خوشگواری سے چلنے لگا۔ اس قرآن نے انسان کے ذہن نشین کرایا کہ انسانو ! تم اس کائنات میں اللہ کے خلفاء ہو۔ رحمان کے خلفاء ہو۔ اللہ کے نزدیک تم بہت مکرم ہو۔ تمہیں اللہ نے یہ قرآن ایک عظیم امانت دی ہے۔ وہ امانت کہ زمین و آسمانوں اور پہاڑوں نے اس کے اٹھانے سے معذرت کرلی تھی۔ قرآن تمہیں جو اعلیٰ انسانیت عطا کرتا ہے اس کی قدروقیمت کو سمجھو اور یہ فہم وادراک صرف قرآن کے ، ذریعہ ممکن ہے۔ ایمان کی راہ سے ممکن ہے۔ ایمان ہی تمہاری روح میں یہ جذبہ ، یہ ہدایت پھونک سکتا ہے اور صرف قرآن کے ذریعے سے تم اللہ کی عظیم نعمت حاصل کرسکتے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور اسے وجود بخشنے کی نعمتوں سے بھی پہلے تعلیم کا ذکر کیا کیونکہ علم قرآن کے ذریعہ ہی انسان انسان بن سکتا ہے۔
رحمٰن نے قرآن کی تعلیم دی، انسان کو بیان سکھایا، چاندوسورج، آسمان و زمین اسی کی مخلوق ہیں، اس نے انصاف کا حکم دیا غذائیں پیدا فرمائیں، تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے یہاں سے سورة الرحمٰن شروع ہو رہی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی دنیاوی اور اخروی نعمتیں اور مظاہر قدرت اور وعیدیں بیان فرمائی ہیں اس میں اکتیس بار ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ آیا ہے اس آیت کے تکرار سے ایک بہت بڑا لفظی اور معنوی حسن پیدا ہوگیا ہے۔ فضائل قرآن : مذکورہ بالا آیات میں چند نعمتوں کا تذکرہ فرمایا جو ایمانی، روحانی اور جسمانی غذاؤں پر مشتمل ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ رحمن جل مجدہ نے قرآن سکھایا۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے جو مومنین کو عطا فرمائی، پھر اس کے الفاظ بھی سکھائے اور معانی بھی بتائے اس کی فصاحت و بلاغت بھی سمجھائی اس کا سمجھنا اور حفظ کرنا بھی آسان فرمایا، یہ زمین پر رہنے والے عاجز بندے جن کے اندر خون ہی خون بھرا ہوا ہے انہیں یہ شرف عطا فرمایا، کہ اللہ کا کلام ان کے دلوں میں محفوظ ہے اور زبانوں پر جاری رہتا ہے، اس کے الفاظ اور کلمات اور معانی کے بیان کے سلسلے میں سینکڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور الحمدللہ یہ سلسلہ برابر جاری ہے، قرآن اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اور اپنے بندوں کو سکھایا پھر اس کے سکھانے کا شرف بھی عطا فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے حفظ قرآن کی نعمت دی پھر اس نے کسی دوسری نعمت کی وجہ سے کسی کے بارے میں یہ سمجھا کہ اس کو جو نعمت دی گئی ہے وہ اس نعمت سے افضل ہے جو مجھے دی گئی تو اس نے سب سے بڑی نعمت کی ناقدری کی۔ (السراج المنیر شرح الجامع الصغیر صفحہ ٢٧٠: ج ٤) حضرت عثمان (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ( خیر کم من تعلم القران وعلمہ) کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے (رواہ البخاری صفحہ ٧٥٢: ج ٢) اور حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ( اشراف امتی حملة القران واصحاب اللیل) یعنی میری امت میں سب سے زیادہ شریف وہ ہیں جو قرآن کے حاملین ہیں اور راتوں کو بیدار رہنے والے ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ١١٠) قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی کتاب بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کا کلام بھی ہے یہ مسلمانوں کی کتنی بڑی سعادت ہے کہ ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور ان کی زبانوں پر جاری ہے چھوٹے چھوٹے بچے بےتکلف روانی کے ساتھ پڑھتے ہیں متشابہات تک یاد ہیں جنہیں قرآن مجید حفظ یاد ہے، سوتے میں بھی تلاوت کرتے چلے جاتے ہیں تقرنہ نائما ویقظان (رواہ مسلم کمافی المشکوٰۃ صفحہ ٤٦٠) جس دل میں قرآن نہیں ہے وہ بہت بڑا محروم ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ( ان الذی لیس فی جو فہ شیء من القران کالبیت الخرب) (بلاشبہ جس دل میں قرآن کا کچھ حصہ بھی نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔ ) (رواہ الترمذی والد ارمی وقال الترمذی حدیث صحیح کمافی مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ١٨٦: ج ١)
2:۔ ” الرحمٰن۔ تا۔ والریحان “ اللہ کی وحدانیت کا بیان ہے جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا اور یہ ساری نعمتیں عطاء کیں وہی کارساز اور برکات دہندہ ہے۔ یہ صفت اللہ تعالیٰ کی رحمت عامہ پر دلالت کرتی ہے۔ ایسی رحمت عامہ جس میں مومن و کافر اور دشمن و دوست کے درمیان کوئی امتیاز نہ ہو چناچہ الرحمن کے بعد جن انعامات کا ذکر ہے وہ سب کیلئے مشترک ہیں اور ان کے ذکر میں ایک خاص ترتیب ملحوظ ہے۔ تمام علویات و سفلیات کا خالق ومالک وہی ہے اور یہ سارے انعامات بھی اسی کی طرف سے ہیں اس لیے دونوں کو ساتھ ساتھ یکے بعد دیگرے ذکر فرمایا۔ ” الرحمن، علم القران “ یہ توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ اس بادشاہ نے جو بڑا ہی مہربان ہے اوپر سے قرآن نازل فرمایا اور اپنے پیغمبر کو اس کی تعلیم دی اور آپ کی وساطت سے تمام انسانوں تک پہنچایا جو بنی آدم کے لیے اس کا سب سے بڑا انعام و احسان ہے اور جس پر دینی و دنیوی سعادت کا مدار ہے ای علمہ نبیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حتی اداہ الی جمیع الناس (قرطبی ج 17 ص 102) ۔ ” خلق الانسان، علمہ البیان “ یہ توحید کی دوسری عقلی دلیل ہے۔ نیچے زمین پر انسان کو پیدا کیا اور اپنے دل کی بات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے اس کو بیان کا ملکہ اور سلیقہ عطا فرمایا تاکہ جس طرح اس نے خود قرآن کو سمجھا ہے اسی طرح دوسروں کو بھی سمجھا سکے لان البیان ھو الذی بہ یتمکن عادۃ من تعلم القران و تعلیمہ (روح ج 27 ص ص 99) ۔