Surat ur Rehman
Surah: 55
Verse: 3
سورة الرحمن
خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ ۙ﴿۳﴾
Created man,
اسی نے انسان کو پیدا کیا ۔
خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ ۙ﴿۳﴾
Created man,
اسی نے انسان کو پیدا کیا ۔
3۔ 2 یعنی یہ بندر وغیرہ جانوروں سے ترقی کرتے کرتے انسان نہیں بن گئے۔ جیسا کہ ڈارون کا فلسفہ ارتقا ہے۔ بلکہ انسان کو اسی شکل و صورت میں اللہ نے پیدا فرمایا ہے جو جانوروں سے الگ ایک مستقل مخلوق ہے۔ انسان کا لفظ بطور جنس کے ہے۔
[٢] ہر مالک کا اپنے مملوک کو بتانا ضروری ہے کہ وہ اس سے کتنا کام لینا چاہتا ہے لہذا قرآن اتارا گیا :۔ اللہ ہی نے انسان کو پیدا کیا تو انسان کی ہدایت بھی اللہ کے ذمہ تھی۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن نازل فرما کر اس ذمہ داری کو پورا کردیا۔ قرآن کا اتارنا اس کی رحمت کا بھی تقاضا تھا اور اس کی خا لقیت کا بھی۔ پھر وہ خالق ہونے کے ساتھ ساتھ مالک بھی ہے اور ہر چیز بشمول انسان اس کی مملوک ہے۔ اور ہر مالک کا اپنے مملوک کو یہ بتانا ضروری ہوتا ہے کہ اس سے وہ کیا کام لینا چاہتا ہے اور کس مقصد کے لیے اسے بنایا گیا ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ کو بھی انسانوں کو یہ بتانا ضروری تھا کہ ان کا مقصد حیات کیا ہے ؟ اور یہ ضرورت قرآن اتار کر پوری کردی گئی۔
خَلَقَ الْاِنْسَانَ : یہ بھی ” الرحمن “ کی خبر ہے اور اسے فعل کی صورت میں لانے سے تخصیص کا فائدہ حاصل ہو رہا ہے ، چناچہ اس آیت میں بھی دو باتیں بیان ہوئی ہیں ، ایک یہ کہ رحمان ہی نے انسان کو پیدا کیا ہے ، سو عبادت بھی اس اکیلے کی ہے۔ دوسری انسان کو پیدا ہے۔ زمین و آسمان میں موجود دوسری تمام نعمتوں کا ذکر اس کے بعد فرمایا ہے ، کیونکہ وہ سب انسان کی پیدائش کے بعد ہیں ، اگر وہ موجود ہی نہ ہو تو کسی نعمت کا اسے کیا فائدہ ۔ البتہ تعلیم قرآن کی نعمت کا ذکر اس کی اہمیت کی طرف توجہ دلانے کے لیے اس سے پہلے فرما دیا ۔ ” رحمن ہی نے انسان کو پیدا فرمایا “ یہ ایسی بات نہیں جسے مشرکین نہ مانتے ہوں ، مگر اسے صریح لفظوں میں کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین فی الحقیقت یہ بات نہیں مانتے ، کیونکہ اگر مانتے ہوتے تو کسی غیر کی پرستش کیوں کرتے ؟۔
خَلَقَ الْإِنسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ (He has created man. He has taught him [ how ] to express himself...55:4) Man&s creation itself is a great boon of Allah and in the natural order of things he is first and foremost, so much so that even imparting the knowledge of the Qur&an, which is mentioned first, can only take place after his creation. However, the bounty of Qur&anic knowledge is mentioned first, and the creation of man later, because the fundamental object of man&s creation is to impart to him the knowledge of the Holy Qur&an, and for him to follow its guidance as stated elsewhere in the Qur&an: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (And I did not create the Jinns and the human beings except that they should worship Me.) [ 51:56] Surely, worship without Divine guidance is not possible. The source of the Divine guidance is the Holy Qur&an. Thus Qur&anic knowledge is mentioned before man&s creation. Having created man, uncountable bounties are bestowed upon him. Of them, imparting the knowledge of expression has been mentioned especially, because the bounties necessary for man&s growth and development, and his existence and survival like his food and water, his protection against cold and heat, his dwelling arrangements and so on are bounties in which all creatures are equal partners. Among the bounties that are peculiar to human beings Knowledge of the Qur&an has been mentioned first, and it was followed by the knowledge of expressions, because deriving benefit from the Qur&an, and imparting it to others, is dependent on the knowledge of expression. The word bayan (&how to express himself) comprehends all the means of communication created by Allah, like speech, writing etc. There are various languages and dialects of various nations in various regions of the world. All these are constituent parts of linguistic knowledge which is the practical interpretation or application of the verse عَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا (And He taught Adam (علیہ السلام) the names, all of them) [ 2:31] فَتَبَارَكَ اللَّـهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ
خَلَقَ الْاِنْسَانَ ، عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ، انسان کی تخلیق خود حق تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے، اور ترتیب طبعی کے اعتبار سے وہی سب سے مقدم ہے، یہاں تک کہ تعلیم قرآن جس کو پہلے ذکر کیا گیا ہے وہ بھی ظاہر ہے کہ تخلیق کے بعد ہی ہو سکتی ہے، مگر قرآن حکیم نے نعمت تعلیم قرآن کو مقدم اور تخلیق انسان کو موخر کر کے اس طرف اشارہ کردیا کہ تخلیق انسان کا اصل مقصد ہی تعلیم قرآن اور اس کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنا ہے، جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد ہے، وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ |" یعنی میں نے جن وانس کو صرف اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کیا کریں |" اور ظاہر ہے کہ عبادت بغیر تعلیم الٰہی کے نہیں ہو سکتی، اسی کا ذریعہ قرآن ہے، اس لئے اس حیثیت میں تعلیم قرآن تخلیق انسان سے مقدم ہوگئی۔ تخلیق انسان کے بعد جو نعمتیں انسان کو عطا ہوئیں وہ بیشمار ہیں، ان میں خاص طور پر تعلیم بیان کو یہاں ذکر فرمانے کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ جن نعمتوں کا تعلق انسان کے نشوونما اور وجود و بقا سے ہے مثلاً کھانا پینا، سردی گرمی سے بچنے کے سامان، رہنے بسنے کا انتظام وغیرہ ان نعمتوں میں تو ہر جان دار انسان اور حیوان شریک ہے، وہ نعمتیں جو انسان کے ساتھ مخصوص ہیں ان میں سے پہلے تو تعلیم قرآن کا ذکر فرمایا اس کے بعد تعلیم بیان کا، کیونکہ تعلیم قرآن کا افادہ استفادہ بیان پر موقوف ہے۔ اور بیان میں زبانی بیان بھی داخل ہے، تحریر و خط اور افہام و تفہیم کے جتنے ذرائع حق تعالیٰ نے پیدا فرمائے ہیں وہ بیان کے مفہوم میں شامل ہیں اور پھر مختلف خطوں، مختلف قوموں کی مختلف زبانیں اور ان کے محاورات سب اسی تعلیم بیان کے اجزاء ہیں جو وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاۗءَ كُلَّهَا کی عملی تفسیر ہے، فتبرک اللہ احسن الخلقین۔
خَلَقَ الْاِنْسَانَ ٣ ۙ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے إنس الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب «1» ، وإنسيّ القوس : للجانب الذي يقبل علی الرامي . والإنسيّ من کل شيء : ما يلي الإنسان، والوحشيّ : ما يلي الجانب الآخر له . وجمع الإنس أَناسيُّ ، قال اللہ تعالی: وَأَناسِيَّ كَثِيراً [ الفرقان/ 49] . وقیل ابن إنسک للنفس «2» ، وقوله عزّ وجل : فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْداً [ النساء/ 6] أي : أبصرتم أنسا بهم، وآنَسْتُ ناراً [ طه/ 10] ، وقوله : حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا[ النور/ 27] أي : تجدوا إيناسا . والإِنسان قيل : سمّي بذلک لأنه خلق خلقة لا قوام له إلا بإنس بعضهم ببعض، ولهذا قيل : الإنسان مدنيّ بالطبع، من حيث لا قوام لبعضهم إلا ببعض، ولا يمكنه أن يقوم بجمیع أسبابه، وقیل : سمّي بذلک لأنه يأنس بكلّ ما يألفه «3» ، وقیل : هو إفعلان، وأصله : إنسیان، سمّي بذلک لأنه عهد اللہ إليه فنسي . ( ان س ) الانس یہ جن کی ضد ہے اور انس ( بضمہ الہمزہ ) نفور کی ضد ہے اور انسی ۔ انس کی طرف منسوب ہے اور انسی اسے کہا جاتا ہے ۔ جو بہت زیادہ مانوس ہو اور ہر وہ چیز جس سے انس کیا جائے اسے بھی انسی کہدیتے ہیں اور جانور یا کمان کی وہ جانب جو سوار یا کمانچی کی طرف ہو اسے انسی کہا جاتا ہے اور اس کے بالمقابل دوسری جانب کو وحشی کہتے ہیں انس کی جمع اناسی ہے قرآن میں ہے :۔ { وَأَنَاسِيَّ كَثِيرًا } ( سورة الفرقان 49) بہت سے ( چوریاں ) اور آدمیوں کو ۔ اور نفس انسانی کو ابن انسک کہا جاتا ہے ۔ انس ( افعال ) کے معنی کسی چیز سے انس پانا یا دیکھتا ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ { فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا } ( سورة النساء 6) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو ۔ انست نارا (27 ۔ 7) میں نے آگ دیکھی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا } ( سورة النور 27) کا مطلب یہ ہے کہ جب تک تم ان سے اجازت لے کر انس پیدا نہ کرلو ۔ الانسان ۔ انسان چونکہ فطرۃ ہی کچھ اس قسم کا واقع ہوا ہے کہ اس کی زندگی کا مزاج باہم انس اور میل جول کے بغیر نہیں بن سکتا اس لئے اسے انسان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اسی بنا پر یہ کہا گیا ہے کہ انسان طبعی طور پر متمدن واقع ہوا ہے ۔ کیونکہ وہ آپس میں بیل جوں کے بغیر نہیں رہ سکتا اور نہ ہی اکیلا ضروریات زندگی کا انتظام کرسکتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اسے جس چیز سے محبت ہوتی ہے اسی سے مانوس ہوجاتا ہے ۔ اس لئے اسے انسان کہا جاتا ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ انسان اصل میں انسیان پر وزن افعلان ہے اور ( انسان ) چونکہ اپنے عہد کو بھول گیا تھا اس لئے اسے انسان کہا گیا ہے ۔
آیت ٣ { خَلَقَ الْاِنْسَانَ ۔ } ” اسی نے انسان کو بنایا۔ “ اس سلسلے کا تیسرا اہم نکتہ یہ نوٹ کرلیں کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی معراج (climax) انسان ہے۔ انسان کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ نے عالم ِامر اور عالم خلق (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : سورة النحل ‘ آیت ٤٠ کی تشریح) دونوں کو جمع فرما دیا ہے ۔ اسی لیے انسان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا : { خَلَقْتُ بِیَدَیَّ } (ص : ٧٥) کہ میں نے اسے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے۔
2 In other words, as Allah is the Creator of man, and it is the Creator's responsibility to provide guidance to His creation and show it the way by following which it may fulfil the object of its erection, the revelation of this Qur'anic teaching from Allah is not only the demand of Allah's mercifulness but also the necessary and natural demand of His being the Creator. Who else would provide guidance to the creation if not the Creator ? And if the Creator did not provide guidance, who else could? And what greater defect could there be for a creator that he should not teach his creation the method of fulfilling the object, for which it has been created? Thus, in fact, the arrangement and' provision of the teaching for tnan by Allah is not anything strange; it would be strange if no such arrangement had been made at all, Allah has not just left alone whatever He has created in the Universe, but has given it the most appropriate structure by which it may play its role in the system of nature and has taught it the method of playing that role effectively and successfully. Thus, each single hair and each single cell of man's own body has been born with the knowledge of how it has to carry out the task in the human body for which it has been created, Then, after aII how could man himself remain deprived and independent of his Creator's teaching and guidance? This theme has been presented in the Qur'an at different places in different ways, In Surah Al-lail; 12, it has been said; "Indeed, it is for Us to toll the Way" in surah An-Nahl: 9, it is said Allah has taken upon Himself to show the Right Way, when there exist erooked ways too:12 In surah Ta Ha (vv: 47-50) it has been stated that when the Pharaoh heard the prophetic message from the Prophet Moses and asked who was his Lord who had sent him as a Messenger to him, the Prophet replied: "Our Lord is He Who has given a distinctive form to everything and then guided it aright. " That is, He has taught it the method by which it could carry out and fulfil the object of its creation in the system of existence. This is the reasoning by which an unbiased mind is satisfied that the coming of the Prophets and the Books from AIIah for the instruction of man is the very demand of nature.
سورة الرَّحْمٰن حاشیہ نمبر :2 بالفاظ دیگر ، چونکہ اللہ تعالیٰ انسان کا خالق ہے ، اور خالق ہی کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنی مخلوق کی رہنمائی کرے اور اسے وہ راستہ بتائے جس سے وہ اپنا مقصد وجود پورا کر سکے ، اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کی اس تعلیم کا نازل ہونا محض اس کی رحمانیت ہی کا تقاضا نہیں ہے ، بلکہ اس کے خالق ہونے کا بھی لازمی اور فطری تقاضا ہے ۔ خالق اپنی مخلوق کی رہنمائی نہ کرے گا تو اور کون کرے گا ؟ اور خالق ہی رہنمائی نہ کرے تو اور کون کر سکتا ہے؟ اور خالق کے لیے اس سے بڑا عیب اور کیا ہو سکتا ہے کہ جس چیز کو وہ وجود میں لائے اسے اپنے وجود کا مقصد پورا کرنے کا طریقہ نہ سکھائے؟ پس در حقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کی تعلیم کا انتظام ہونا عجیب بات نہیں ہے ، بلکہ یہ انتظام اگر اس کی طرف سے نہ ہوتا تو قابل تعجب ہوتا پوری کائنات میں جو چیز بھی اس نے بنائی ہے اس کو محض پیدا کر کے نہیں چھوڑ دیا ہے ، بلکہ اس کو وہ موزوں ترین ساخت دی ہے جس سے وہ نظام فطرت میں اپنے حصے کا کام کرنے کے قابل ہو سکے ، اور اس کام کو انجام دینے کا طریقہ اسے سکھایا ہے ، خود انسان کے اپنے جسم کا ایک ایک رونگٹا اور ایک ایک خلیہ ( Cell ) وہ کام سیکھ کر پیدا ہوا ہے جو اسے انسانی جسم میں انجام دینا ہے ۔ پھر آخر انسان بجائے خود اپنے خالق کی تعلیم و رہنمائی سے بے نیاز یا محروم کیسے ہو سکتا تھا ؟ قرآن مجید میں اس مضمون کو مختلف مقامات پر مختلف طریقوں سے سمجھایا گیا ہے ۔ سورہ لَیل ( آیت 12 ) میں فرمایا اِنَّ عَلَیْنَا لَلْھُدیٰ ۔ رہنمائی کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔ سورہ نحل ( آیت 9 ) میں ارشاد ہوا وَعَلَی اللہِ قَصْدُ السَّبِیلِ وَمِنْھَا جَآئِرٌ ۔ یہ اللہ کے ذمہ ہے کہ سیدھا راستہ بتائے اور ٹیڑھے راستے بہت سے ہیں ۔ سورہ طٰہٰ ( آیات 47 ۔ 50 ) میں ذکر آتا ہے کہ جب فرعون نے حضرت موسیٰ کی زبان سے پیغام رسالت سن کر حیرت سے پوچھا کہ آخر وہ تمہارا رب کونسا ہے جو میرے پاس رسول بھیجتا ہے ، تو حضرت موسیٰ نے جواب دیا کہ رَبُّنَا الَّذِیْٓ اَعْطیٰ کُلَّ شَیْءٍ خَلْقَہ ثُمَّ ھَدیٰ ۔ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی مخصوص ساخت عطا کی اور پھر اس کی رہنمائی کی ، یعنی وہ طریقہ سکھایا جس سے وہ نظام وجود میں اپنے حصے کا کام کر سکے ۔ یہی وہ دلیل ہے جس سے ایک غیر متعصب ذہن اس بات پر مطمئن ہو جاتا ہے کہ انسان کی تعلیم کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسولوں اور کتابوں کا آنا عین تقاضائے فطرت ہے ۔
(55:3) خلق الانسان : بعض کے نزدیک الانسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ اللہ نے حضرت آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھا دئیے تھے۔ بعض نے الانسان سے جنس انسان مراد لی ہے۔ یعنی اللہ نے حضرت انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا ، لکھنا، سمجھنا، سمجھانا۔ اور فہم و ادراک عطا کیا کہ دوسرے جانوروں سے ممتاز ہوگیا۔ اور وحی کو برداشت کرنے اور حامل قرآن بننے کے قابل ہوگیا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الانسان سے مراد حضرت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوں اور البیان سے مراد قرآن مجید ہو۔ قرآن تمام لوگوں کیلئے راہنما اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی واضح دلیل ہے۔ اس میں ازل سے ابد تک تمام چیزوں کا بیان ہے۔ ابن کیسان نے کہا ہے کہ اس صورت میں آخری دونوں جملے پہلے جملہ کی تفصیل اور بیان قرار پائیں گے ۔۔ اسی لئے حرف عطف دونوں کے درمیان نہیں لایا گیا۔ اور یہ تمام جملے الرحمن کے اخبار مترادفہ ہوں گے۔
فہم القرآن ربط کلام : الرّحمن نے ہی انسان کو پیدا کیا اور اسی نے اسے بولنا سکھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف پیدا ہی نہیں کیا بلکہ پیدا کرنے سے پہلے اس کے لیے آسمان کو چھت بنایا اور زمین کو فرش بنا کر اس کی ضروریات کا بندوبست فرمایا اور پھر اسے بولنے کا سلیقہ سمجھایا۔ قرآن مجید نے انسان کی تخلیق کا بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ پہلے الانسان حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مختلف مراحل سے گزار کر نہ صرف کامل اور اکمل انسان بنایا بلکہ مسجود ملائکہ کا اعزاز دے کر زمین پر خلافت کے منصب پر فائز کیا اور چار قسمیں اٹھا کر ارشاد فرمایا کہ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ (التین : ١ تا ٥) جہاں تک انسان کی قوت گویائی کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے نہ صرف اسے بولنا سکھلایا ہے بلکہ اس کے دماغ میں ایسی صلاحیتیں رکھ دی ہیں کہ جن کی بنیاد پر ہر قسم کی معلومات اخذ کرتا ہے اور پھر اس کی زبان اسے الفاظ کا جامہ پہناتی ہے۔ غور فرمائیں کہ زمین اور آب وہوا یہاں تک کہ خوراک ایک ہوتی ہے لیکن لوگوں کی قدوقامت، رنگت اور زبانوں میں اتنا فرق ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسرے کی زبان نہیں سمجھ سکتا ہے۔ ایک ہی ملک میں رہنے والے لاکھوں، کروڑوں انسان ایک ہی جیسی زبان (Language) اور آب وہوا رکھتے ہیں مگر بولیاں الگ الگ ہیں۔ اب تک بین الاقوامی ریکارڈ کے مطابق دنیا میں تقریباً 6900 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو براہ راست علم سکھلایا۔ ان میں سرفہرست حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور اس کے بعد انبیائے کرام (علیہ السلام) کی مقدس جماعت ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے علم سے سرفراز فرمایا۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا فرمایا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے ہی انسان کو تعلیم سے آراستہ کیا اور اسی نے انسان کو قوت گویائی عطا فرمائی۔ تفسیر بالقرآن حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے مختلف مراحل : ١۔ حضرت آدم کی تخلیق کا اعلان۔ (البقرۃ : ٣٠) ٢۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جس مٹی سے پیدا کیے گئے وہ کھڑ کھڑاتی تھی۔ (الحجر : ٢٦) (النساء : ١) ٣۔ آدم کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا۔ (الرحمن : ١٤) ٤۔ حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔ (نوح : ١٧)
خلق الانسان (55: ٣) علمہ البیان (55:4) (انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا) ہم یہاں انسان کی تخلیق کی نعمت پر کلام نہیں کرتے۔ جلد ہی سورة میں یہ بیان آئے گا۔ یہاں اصل مقصود تعلیم بیان ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان بات کرتا ہے۔ مافی الضمیر کی تعبیر کرتا ہے۔ بیان کرتا ہے ایک دوسرے کی بات سمجھتا ہے اور پھر انسان باہم تعاون کرتے ہیں۔ یہ کام چونکہ ہر وقت ہمارے درمیان ہوتا رہتا ہے اس لئے اللہ کی اس نعمت عظمیٰ کو ہم نے بھلا دیا ہے ورنہ ذرا بھی غور کیا جائے تو یہ ایک عجوبہ ہے۔ قرآن ایسی کئی نعمتوں کی یاد دہانی کراتا ہے ہمیں جگاتا ہے۔ انسان کیا چیز ہے ؟ اس کی اصلیت کیا ہے ؟ اسے یہ بیان کس طرح سکھا دیا جاتا ہے ؟ انسان کی حیثیت تو یہ ہے کہ یہ ایک خلیہ ہے جو باپ کے مادہ منویہ میں ہوتا ہے۔ یہ رحم مادر میں ایک نہایت ہی سادہ شکل میں زندگی کا آغاز کرتا ہے۔ یہ بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے ، کمزور ہوتا ہے۔ یہ اس قدر چھوٹا ہوتا ہے کہ یہ صرف آلات کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے ، نہ یہ نظر آتا ہے اور نہ یہ اظہار کرسکتا ہے۔ یہ خلیہ جلد ہی جنین کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس جنین میں خلیوں کی تعداد پھر کئی ملین ہوجاتی ہے۔ ہڈی کے خلیے ، نرم ہڈیوں کے خلیے ، عضلات کے خلیے ، اعصاب کے خلیے اور جلد کے خلیے۔ پھر اعضا بنتے ہیں اور ان اعضاء کے حیران کن کام اور صلاحیتیں سننا ، دیکھنا ، چکھنا ، سونگھنا اور چھونا اور پھر شعور اور الہام۔ یہ سب خلیے اور یہ سب خواص اس ایک خلیے سے بن گئے جو ایک سادہ خلیہ تھا ، نہایت چھوٹا جو نہ نظر آتا تھا اور نہ اظہار کرسکتا تھا۔ یہ کیسے ہوا ؟ کہ اسے آیا ؟ یہ رحمان سے آیا ہے ، یہ رحمان کی مصنوعات میں سے ایک ہے۔ ذرا غور کیجئے کہ اس مخلوق کو اللہ نے کس طرح بین سکھایا۔ واللہ ............ ولافئدة (٦١ : ٨٧) (اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا اس حال میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے۔ اس نے تمہیں کان دیئے ، آنکھیں دیں اور سوچنے والے دل دیئے اس لئے کہ تم شکر گزار ہو) حقیقت یہ ہے کہ بات کرنے کے اعضا ہی وہ عجوبہ ہیں جن کے عجائبات ختم نہیں ہوسکتے۔ زبان ، ہونٹ ، چہرے ، دانت ، ہوا کی نالی ، حنجرہ اور پھپھٹرے سب اس میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ تمام اعضاء آواز نکالنے میں شریک ہوتے ہیں اور اعضا کا یہ فعل بیان کی بنیاد بنتا ہے۔ اس پیچیدہ عمل میں یہ اعضاء ایک میکان کی پہلو دکھاتے ہیں۔ اس کے بعد پھر ان اعضاء کا رابطہ دماغ ، قوت سماعت اور پورے اعصابی نظام سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد عقل سے اس کا تعلق ہوتا ہے اور عقل کیا چیز ہے ، اس کے بارے میں ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ اس کا نام ” عقل “ ہے۔ اس کی ماہیت اور حقیقت کا ہمیں علم نہیں ہے بلکہ یہ عقل کس طرح کام کرتی ہے ہم اس کے بارے میں بھی نہیں جانتے۔ ایک بات کرنے والا جب ایک لفظ بولتا ہے تو کس طرح بولتا ہے ؟ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے کئی مراحل ، کئی درجے اور کئی آلات ہیں اور بعض چیزیں ابھی تک معلوم نہیں۔ پہلے یہ شعور سامنے آتا ہے کہ اس مقصد کے لئے یہ لفظ بولنا چاہئے۔ یہ شعور عقل ، قوت مدرکہ یا روح سے حسی آلات کی طرف آتا ہے۔ یہ کس طرح آتا ہے اس کا ہمیں علم نہیں۔ دماغ کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اعصاب کے ذریعے یہ حکم دیتا ہے مذکورہ بالا آلات کو کہ اس لفظ کا تلفظ کیا جائے۔ یہ لفظ بذات خود کیا چیز ہے۔ یہ وہ آواز ہے جو اللہ نے ہر انسان کو سکھائی اور اس کے معنی سکھائے۔ اب یہاں پھیپھڑے ہوا کی ایک مقدار ایک نالی کے ذریعہ ہوائی نالی کی طرف منتقل کرتے ہیں۔ پھر یہ ہوا گلے کی طرف آتی ہے۔ یہاں تاروں کا وہ نظام ہے جو آواز پیدا کرتا ہے۔ یہ نظام انسانوں کے بنائے ہوئے صوتی آلات کے تاروں سے بہت ہی مختلف اور پیچیدہ ہے۔ نہ اس نظام کے ساتھ انسان کے بنائے ہوئے آلات مشابہت کرسکتے ہیں جو آواز پیدا کرتے ہیں۔ اس کے بعد حنجرہ میں آواز پیدا ہوتی ہے اور اس کے بعد جس طرح عقل چاہتی ہے اس آواز کی تشکیل ہوتی ہے۔ اونچی آواز ، نرم آواز ، دھیمی آواز ، تیز آواز ، موٹی آواز ، سخت آواز ، نرم آواز ، پتلی آواز ، غرض قسم قسم کی آواز بھی۔ پھر حنجرہ کے ساتھ زبان ، ہونٹ ، جبڑے اور دانت کام کرتے ہیں۔ مختلف اطراف کے دباؤ کے نتیجے میں پھر حروف بنتے ہیں اور جہاں سے وہ نکلتے ہیں وہ ان کا مخرج ہوتا ہے۔ زبان کے اندر یہ کمال ہے کہ وہ ہر حرف کو زبان کے ایک حصے سے نکالتی ہے جس کا خاص اثر ہوتا ہے۔ زبان دباؤ کو اس حصے پر مرکوز کردیتی ہے۔ اسی طرح حروف کی آواز میں ایک خاص ترنم پیدا ہوتا ہے۔ یہ تمام آلات صرف ایک لفظ کی ادائیگی کا انتظام کرتے ہیں۔ اس کے بعد پھر عبارت موضوع ، افکار ، احساسات ، سابقہ اور نئے ، غرض یہ نظام ، ” نظام بیان “ بذات خود ایک معجزہ ہے۔ یہ بیان انسانی جسم کے اندر رکھ دیا گیا ہے۔ یہ رحمان کی صفت ہے اور رحمان کا فضل ہے۔
بیان کرنے کی نعمت ﴿خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ٠٠٣ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ٠٠٤﴾ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا اسے بڑی بڑی نعمتیں عطا فرمائیں انہی نعمتوں میں سے یہ بھی ہے کہ ا سے علم دیا، بولنے کی صفت سے نوازا، بات کرنے کا طریقہ بتایا، بیان کرنے کی صفت عطا فرمائی، اظہار مافی الضمیر پر قدرت دی، فصاحت اور بلاغت سکھائی اسالیب کلام کا القاء فرمایا قرآن کریم کے الفاظ اور معانی اور احکام و مسائل بیان کرنے اور دوسروں کو اس کے مفاہیم بتانے اور قرآن مجید کے علاوہ بھی ایک دوسرے سے بولنے اور بات کرنے اور لکھنے اور سمجھانے پر قدرت عطا فرمائی۔ پھر ایک ہی زبان نہیں اسے بہت سی زبانیں سکھائیں اور طرق ادا بتائے، ایک زبان کا دوسری زبان میں ترجمہ کرنے کی قوت بخشی فسبحانہ ما اعظم شانہ