Surat ur Rehman

Surah: 55

Verse: 46

سورة الرحمن

وَ لِمَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ﴿ۚ۴۶﴾

But for he who has feared the position of his Lord are two gardens -

اور اس شخص کے لئے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Delight of Those Who have Taqwa in Paradise Allah the Exalted said, وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ But for him who fears the standing before his Lord, there will be two Gardens. on the Day of Resurrection, وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى And restrained himself from the desires. (79:40, and does not indulge nor prefer this worldly life. He who knows that the Hereafter is better and more lasting, so he fulfills what his Lord ordered him and stays away from His prohibitions, then he will earn two gardens from his Lord on the Day of Resurrection. Al-Bukhari recorded that Abdullah bin Qays said that the Messenger of Allah said, جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ انِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ انِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ إِلاَّ رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْن There are two gardens made of silver -- their vessels and all that they contain. And there are two gardens made of gold -- their vessels and all that they contain. And nothing stands between the people in the `Adn Garden and looking at their Lord, the Exalted and Most Honored, but the covering of pride before His Face. The Group, with the exception of Abu Dawud, collected this via the Hadith of Abdul-Aziz. This Ayah is general and applies to both humans and Jinns, providing proof that those among the Jinns who believe and have Taqwa will enter Paradise, for Allah is reminding the Ath-Thaqalayn of this favor, as He says; وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ فَبِأَيِّ الاَء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

فکر آخرت اور انسان ابن شوذب اور عطا خراسانی فرماتے ہیں آیت ( وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ 46۝ۚ ) 55- الرحمن:46 ) حضرت صدیق اکبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، حضرت عطیہ بن قیس فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا ۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے حضرت ابن عباس وغیرہ کا قول بھی یہی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے بچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا زندگانی دنیا کے پیچھے پڑ کر آخرت سے غفلت نہیں کرتا بلکہ آخرت کی فکر زیادہ کرتا ہے اور اسے بہتر اور پائدار سمجھتا ہے فرائض بجا لاتا ہے محرمات سے رکتا ہے قیامت کے دن اسے ایک چھوڑ دو دو جنتیں ملیں گی ۔ صحیح بخاری میں ہے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ دو جنتیں چاندی کی ہوں گی اور ان کا تمام سامان بھی چاندی کا ہی ہو گا اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سب سونے کا ہوگا ان جنتیوں میں اور دیدار باری میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی سوائے اس کبریائی کے پردے کے جو اللہ عزوجل کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے یہ حدیث صحاح کی اور کتابوں میں بھی ہے بجز ابو داؤد کے راوی حدیث حضرت حماد فرماتے ہیں میرے خیال میں تو یہ حدیث مرفوع ہے ۔ تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان آیت ( وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ 46۝ۚ ) 55- الرحمن:46 ) اور آیت ( وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62۝ۚ ) 55- الرحمن:62 ) کی ۔ سونے کی دو جنتیں مقربین کے لئے اور چاندی کی دو جنتیں یمین کے لئے ۔ حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس آیت کی تلاوت کی تو میں نے کہا اگرچہ زنا اور چوری بھی اس سے ہو گئی ہو آپ نے پھر اسی آیت کی تلاوت کی میں نے پھر یہی کہا آپ نے پھر یہی آیت پڑھی میں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اگرچہ ابو الدرداء کی ناک خاک آلود ہو جائے ۔ نسائی بعض سند سے یہ روایت موقوف بھی مروی ہے اور حضرت ابو الدرداء سے یہ بھی مروی ہے کہ جس دل میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہو گا ناممکن ہے کہ اس سے زنا ہو یا وہ چوری کرے یہ آیت عام ہے انسانوں اور جنات دونوں کو شامل ہے اور اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ جنوں میں بھی جو ایمان لائیں اور تقویٰ کریں وہ جنت میں جائیں گے اسی لئے جن وانس کو اس کے بعد خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے ؟ پھر ان دونوں جنتوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ یہ نہایت ہی سرسبز و شاداب ہیں بہترین اعلیٰ خوش ذائقہ عمدہ اور تیار پھل ہر قسم کے ان میں موجود ہیں ۔ تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اپنے پروردگار کی کسی نعمت کا انکار کرو ۔ ( افنان ) شاخوں اور ڈالیوں کو کہتے ہیں یہ اپنی کثرت سے ایک دوسری سے ملی جلی ہوئی ہوں گی اور سایہ دار ہوں گی جن کا سایہ دیواروں پر بھی چڑھا ہوا ہو گا ، عکرمہ یہی معنی بیان کرتے ہیں اور عربی کے شعر کو اس پر دلیل میں وارد کرتے ہیں یہ شاخیں سیدھی اور پھیلی ہوئی رنگ برنگ کی ہوں گی ۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان میں طرح طرح کے میوے ہوں گے کشادہ اور گھنے سایہ والی ہوں گی ۔ یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ان میں کوئی منافاۃ نہیں یہ تمام اوصاف ان شاخوں میں ہوں گے حضرت اسماء سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اس کی شاخوں کا سایہ اس قدر دراز ہے کہ سوار سو سال تک اس میں چلا جائے ۔ یا فرمایا کہ سو سوار اس کے تلے سایہ حاصل کرلیں ۔ سونے کی ٹڈیاں اس پر چھائی ہوئی تھیں اس کے پھل بڑے بڑے منکوں اور بڑی گول جتنے تھے ( ترمذی ) پھر ان میں نہریں بہہ رہی ہیں تاکہ ان درختوں اور شاخوں کو سیراب کرتی رہیں اور بکثرت اور عمدہ پھل لائیں ۔ اب تو تمہیں اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیے ایک کا نام تسنیم ہے دوسری کا سلسبیل ہے یہ دونوں نہریں پوری روانی کے ساتھ بہہ رہی ہیں ۔ ایک ستھرے پانی کی دوسری لذت والے بےنشے کے شراب کی ان میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے بھی موجود ہیں اور پھل بھی وہ جن سے تم صورت شناس تو ہو لیکن لذت شناس نہیں ہو کیونکہ وہاں کی نعمتیں کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں نہ کسی دماغ میں آسکتی ہیں تمہیں رب کی نعمتوں کی ناشکری سے رک جانا چاہیے ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں دنیا میں جتنے بھی کڑوے میٹھے پھل ہیں وہ سب جنت میں ہوں گے یہاں تک کہ حنظل یعنی اندرائن بھی ۔ ہاں دنیا کی ان چیزوں اور جنت کی ان چیزوں کے نام تو ملتے جلتے ہیں حقیقت اور لذت بالکل ہی جدا گانہ ہے یہاں تو صرف نام ہیں اصلیت تو جنت میں ہے اس فضیلت کا فرق وہاں جانے کے بعد ہی معلوم ہو سکتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

46۔ 1 جیسے حدیث میں آتا ہے ' دو باغ چاندی کے ہیں، جن میں برتن اور جو کچھ ان میں ہے، سب چاندی کے ہونگے۔ دو باغ سونے کے ہیں اور ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سونے کے ہی ہونگے ' ( صحیح بخاری تفسیر رحمن) بعض آثار میں ہے کہ سونے کے باغ خواص مومنین مقربین اور چاندی کے باغ عام مومنین اصحاب الیمین کے لیے ہوں گے۔ (ابن کثیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣١] اس سورة کی اکثر آیات میں دو دو چیزوں کا ذکر آرہا ہے لہذا یہاں بھی دو باغات کا ذکر فرمایا : حالانکہ ہر جنتی کو کئی باغات ملیں گے۔ جیسا کہ بعض دوسری آیات سے واضح ہے۔ پھر تمام اہل جنت کے سارے باغوں کے مجموعہ کا نام بھی الجنۃ ہے۔ یعنی باغات کا مخصوص مقام۔ بہشت۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّـتٰنِ :” مقام “” قام یقوم قیاماً “ ( ن) سے ظرف بھی ہوسکتا ہے ،” کھڑا ہونے کی جگہ یا وقت “ اور مصدر میمی بھی ہوسکتا ہے ۔ ” کھڑا ہونا “ ۔ جہنم اور اہل جہنم کے تذکرے کے بعد اہل جنت کا ذکر فرمایا۔ ” مقام ربہ “ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور دونوں قرآن مجید کی آیات میں ملتے ہیں ، ایک یہ کہ جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے دو باغ ہیں ۔ اس صورت میں ” مقام ربہ “ سے مراد بندے کا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اس کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے ، فرمایا :( یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰـلَمِیْنَ ) ( المطففین : ٦)” جس دن لوگ رب العالمین کے لیے کھڑے ہوں گے “۔ دوسرا یہ کہ جو شخص اپنے رب کے ( اپنے اوپر ہر وقت ) قائم ( نگران ) ہونے سے ڈر گیا ۔ اس معنی کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے ، فرمایا :(اَفَمَنْ ہُوَ قَآئِمٌ عَلٰی کُلِّ نَفْسٍم بِمَا کَسَبَتْ ج ) ( الرعد : ٣٣)” تو کیا وہ جو ہر جان پر اس کا نگران ہے جو اس نے کمایا ( کوئی دوسرا اس کے برابر ہوسکتا ہے) ؟ “ آیت سے دونوں معنی بیک وقت مراد ہوسکتے ہیں اور یہ بھی قرآن مجید کا ایک کمال ہے کہ اس کا ایک ایک لفظ متعدد معانی کا حامل ہے۔ یعنی جو شخص اس بات سے ڈر گیا کہ اس نے قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور اس بات سے بھی ڈرتا رہا کہ اس کا رب اس کی ہر چھوٹی بڑی حرکت کو دیکھ رہا ہے ، تو اس کے لیے دو باغ ہیں ۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہو رہی ہے کہ جنت کی وارثت کی بنیاد اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے ، کیونکہ یہی وہ جوہر ہے جو انسان کو صراط مستقیم پر قائم رکھتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچاتا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو موقع میسر ہونے پر انسان کو کوئی بھی چیز کسی بھی جرم کے ارتکاب سے نہیں روک سکتی اور جب یہ موجود ہو تو آدمی کے قدم مشکل سے مشکل مقام پر نہیں ڈگمگاتے۔ صحیح بخاری ( ٦٦٠) میں قیامت کے دن جن سات آدمیوں کو عرش کا سایہ ملنے کی بشارت دی گئی ہے ان سب کے اعمال میں اصل اللہ تعالیٰ کا ڈر ہی ہے اور اس کفن چور کی مغفرت کا باعث بھی اللہ کا ڈر تھا جس نے وصیت کی تھی کہ مجھے جلا کر میری کچھ راکھ کو ہوا میں اڑا دیا جائے اور کچھ کو پانی میں بہا دیا جائے۔ ( دیکھئے بخاری : ٣٤٥٢)” مقام ربہ “ کے لفظ میں خوف کے ساتھ محبت کا پہلو بھی نمایاں ہے کہ وہ کسی اجنبی یا ظالم سے نہیں ڈر رہا ، بلکہ اپنے مالک سے ڈر رہا ہے جس نے اسے پیدا کیا ، پھر ہر لمحے اس کی پرورش کر رہا ہے اور اس کی ہر ضرورت پوری کر رہا ہے۔ ٢۔ جنتن :” جنۃ “ کا اصل معنی باغ ہے۔ قرآن مجید میں کہیں یہ لفظ مفرد آیا ہے اور تمام اہل ایمان کے ایک ہی جنت میں داخلے کا ذکر ہے ، جیسا کہ فرمایا :(مَنْ عَمِلَ سَیِّئَۃً فَـلَا یُجْزٰٓی اِلَّا مِثْلَہَاج وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰـٓئِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ یُرْزَقُوْنَ فِیْہَا بِغَیْرِ حِسَابٍ ) ( المومن : ٤٠)” اور جس نے کوئی نیک عمل کیا ، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہوا تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے ، اس میں بےحساب رزق دیئے جائیں گے “۔ اور کہیں جمع آیا ہے ، جیسا کہ فرمایا :(وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰـرُ ط) ( البقرہ : ٢٥)” اور ان لوگوں کو خوش خبری دے دے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے کہ ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے تلے نہریں بہتی ہیں ۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ اس بڑے باغ میں بیشمار باغات ہیں ، جن میں سے ہر مومن کو دو دو باغ عطاء کیے جائیں گے ، جن کا وہ مالک ہوگا ( لام تملیک کے لیے ہے) اور جن میں وہ سب کچھ ہوگا جس کا آگے ذکر ہو رہا ہے۔ ٣۔ ان آیات میں ہر اس شخص کو دو دو باغ ملنے کا ذکر ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا ۔ چند آیات کے بعد اور دو باغوں کا ذکر ہے ، فرمایا :(ومن دونھما جنتن) جس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان دونوں کے علاوہ بھی دو باغ ہیں اور یہ بھی کہ ان دونوں سے کم درجے والے بھی دو باغ ہیں ۔ دونوں آیات کو ملائیں تو مطلب یہ ہے کہ ان دونوں کے علاوہ دو اور باغ ہیں جو پہلے باغوں سے کم درجے کے ہیں ۔ تحقیق یہی ہے کہ پہلے دو باغ اعلیٰ ہیں جو مقربین کے لیے ہیں اور دوسرے دو باغ ان سے کم درجے والے ہیں جو اصحاب الیمین کے لیے ہیں ۔ سورة ٔ واقعہ میں بھی سابقین کو مقربین قرار دے کر انہیں ملنے والی نعمتوں کا پہلے الگ ذکر فرمایا ہے ، اس کے بعد اصحاب الیمین کا ذکر کر کے انہیں ملنے والی نعمتوں کا الگ ذکر فرمایا ، یہاں بھی ایسے ہی ہے ، تقریباً ہر نعمت میں دونوں کا فرق نمایاں ہے ، تفسیر میں اس فرق کی طرف اشارہ آرہا ہے۔ امام بخاری (رح) تعالیٰ نے صحیح بخاری میں یہ حدیث ذکر فرمائی ہے کہ عبد اللہ بن قیس ( ابو موسیٰ اشعری (رض) ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(جنتان من فضۃ ، انیتھما وما فیھما ، وجنتان من ذھب انیتھما وما فیھما وما بین القوم و بین ان ینظروا الی ربھم الا رداء الکبر علی وجھہ فی جنۃ عدن) (بخاری التفسیر ، باب قولہ، ( ومن دونھما جنتان): ٤٨٧٨) ” دو باغ ایسے ہیں جن کے برتن اور جو کچھ ان دونوں میں ہے چاندی کا ہے اور دو باغ ایسے ہیں جن کے برتن اور جو کچھ ان میں سے ہے سونے کا ہے۔ اور جنت عدن میں جنتیوں کے درمیان اور ان کے اپنے رب کو دیکھنے کے درمیان کبریائی کی چادر کے سوا کوئی رکاوٹ نہیں جو اس کے چہرے پر ہے “۔ صحیح بخاری میں اس کی سند اس طرح ہے :” حدثنا عبد اللہ بن ابی الاسود ، حدثنا عبد العزیز بن عبد الصمد العمی ، حدثنا ابو عمران الحونی عن ابی بکر بن عبد اللہ بن قیس عن ابیہ ان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قال ۔۔۔۔ “ فتح الباری (٨/٦٢٤) میں ہے کہ اسی حدیث کو ابن مردویہ نے ( عبد العزیز کے بجائے) ” حماد عن ابی عمران “ بیان کیا ہے ، اس میں یہ لفظ ہیں (من ذھب للسابقین و من فضۃ للنابعین) یعنی سابقین کے لیے سونے والے اور تابعین کے لیے چاندی والے باغ ہوں گے۔ اور ابوبکر سے ثابت کی روایت میں یہ الفاظ ہیں :(من ذھب للمقربین ومن فتۃ لاصحاب الیمین) یعنی سونے والے باغ مقربین کے لیے اور چاندی والے اصحاب الیمین کے لیے ہیں ۔ اس حدیث کے طرق سے واضح ہے کہ پہلے دو باغ مقربین کے لیے ہیں اور دوسرے دو باغ اصحاب الیمین کے لیے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Delight of the Righteous in Paradise The foregoing verses spoke of the horrible punishments to be faced by the disbelievers. In the current set of verses we are told about the rewards and bounties reserved for the righteous believers. The verse 46 speaks of two Gardens that are exclusively reserved &for those who are fearful of having to stand before their Lord&. This phrase refers to those fortunate believers who are, at all times, concerned about reckoning on the Day of Judgment and, as a result, keep away from all sorts of sins under all circumstances. Obviously, these are the people who enjoy special nearness to Allah. In verse [ 62] below we read: وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ (And lesser than these two, there are two other gardens... 55:62) This verse does not specify the class of righteous believers who will receive these gardens. However, the phrase مِن دُونِهِمَا min dunihima (&and lesser than these two& ) indicates that the Gardens mentioned in verse [ 62] are for the general body of believers who are lesser in their spiritual attainment than the foremost believers who are granted special nearness to Allah. The Qur&anic exegetes have explained the two sets of pairs of Gardens in other ways as well. Here we have adopted the most plausible and preferable explanation: that is, the first two Gardens are reserved exclusively for the foremost believers who are granted special nearness to Allah; and the second two Gardens are reserved for the general body of believers. That the two Gardens mentioned in Verse 62 are inferior to the first two is supported by authentic Traditions. Bayan-ul-Qur&an cites the Prophetic Tradition from Ad-Durr-ul-Manthur to the effect that while interpreting verses [ 46] and [ 62] the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: جَنَّتَانِ مِن ذَھَبِ لِلمُقَرَّبِینَ وَ جَنَّتَانِ مِن وَرَقِ لِاَصحٰبِ الیَمِینِ |"There are two Gardens made of gold for believers who are granted special nearness to Allah; and there are two Gardens made of silver for the People of the Right [ that is, for general body of righteous believers ].|" Also, it is recorded in Ad-Durr-ul-Manthur that Sayyidna Bara& Ibn ` Azib (رض) said, اَلعَینَانِ الَّتِی تَجرِیَان ٰخَیرُ مِّنَ النَّضَّخَتَین . The two springs that are flowing freely [ in the first two Gardens ] are better than the two other springs that are mentioned as &gushing forth& (in the second two gardens). In verse [ 50] springs (in the first two gardens) promised to the believers have been described as flowing freely and ceaselessly تَجرِیَان [ tajriyan ] while in verse [ 66] the springs (in the second two gardens) are described as &gushing forth& نَّضَّخَتَین [ nadakhatan ]. The quality of &gushing forth& is the characteristic of all springs, but the quality of &flowing& is an additional characteristic of specific springs. This is the concise description of all four springs that the inmates of Paradise will be given. Related Considerations In Verse 46, the phrase, وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَ‌بِّهِ (for the one who is fearful of having to stand before his Lord...55:46) refers, according to most exegetes of the Qur&an, to standing before Allah on the Day of Resurrection to give the account of one&s deeds. The word &fearful& signifies that he is mindful under all conditions, whether in public or in private, that one day he has to appear in the Court of Allah to give an account of his deeds. Evidently such a person will never go near the sinful acts. Other exegetes, like Qurtubi and others, interpret this to mean: &the one who is fearful of the Station of His Lord&. That is, he is mindful of the High Station of Allah whereby He is watchful and keeps guard over his words and deeds, overt or covert. All his movements and activities are known to Him. This explanation is close to the previous explanation, in that Allah&s keeping guard over him will keep him away from sins.

خلاصہ تفسیر (ان آیتوں میں دو باغوں کا ذکر وَلِمَنْ خَافَ سے شروع ہوا ہے اور دو باغوں کا ذکر وَمِنْ دُوْنِهِمَا سے پہلے دو باغ خواص مقربین کے ہیں اور پچھلے دو باغ عامہ مومنین کے لئے، دلائل اس تعیین و تقسیم کے آگے لکھ دیئے جاویں گے، یہاں صرف تفسیر لکھی جاتی ہے، پچھلی آیات میں مجرمین کی سزاؤں کا ذکر تھا، یہاں سے مومنین صالحین کی جزا کا ذکر شروع ہوتا ہے) اور (اہل جنت کا حال یہ ہے کہ ان میں دو قسم ہیں، خواص اور عوام پس) جو شخص (خواص میں سے ہو اور) اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے (ہر وقت) ڈرتا رہتا ہو (اور ڈر کر شہوات و معاصی سے مجتنب رہتا ہو اور یہ شان خواص ہی کی ہے، کیونکہ عوام پر تو گاہ گاہ خوف طاری ہوجاتا ہے اور کبھی ان سے معاصی بھی سر زد ہوجاتے ہیں گو توبہ کرلیں، غرض جو شخص ایسا متقی ہو) اس کے لئے (جنت میں) دو باغ ہوں گے (یعنی ہر متقی کے لئے دو باغ اور غالباً اس تعدد میں حکمت ان کے تکرم اور تنعم کا اظہار ہوگا جس طرح دنیا میں اہل تنعم کے پاس اکثر چیزیں منقولات و غیر منقولات میں سے متعدد ہوتی ہیں) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور وہ) دونوں باغ کثیر شاخوں والے ہوں گے (اس میں سایہ کی گنجانی اور ثمرات کی کثرت کی طرف اشارہ ہے) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور) ان دونوں باغوں میں دو چشمے ہوں گے کہ (دور تک) بہتے چلے جاویں گے سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور) ان دو باغوں میں ہر میوہ کی دو قسمیں ہوں گی (کہ اس میں زیادہ تلذذ ہے، کبھی ایک قسم کا مزہ لے لیا کبھی دوسری قسم کا) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور) وہ لوگ تکیہ لگائے ایسے فرشوں پر بیٹھے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے (اور قاعدہ ہے کہ اوپر کا کپڑا بہ نسبت استر کے زیادہ نفیس ہوتا ہے، پس جب استر استبرق ہوگا تو اوپر کا کیسا کچھ ہوگا) اور ان دونوں باغوں کا پھل بہت نزدیک ہوگا (کہ کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر طرح بلا مشقت ہاتھ آسکتا ہے) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور) ان (باغوں کے مکانات اور محلات) میں نیچی نگاہ والیاں (یعنی حوریں) ہوں گی کہ ان (جنتی) لوگوں سے پہلے ان پر نہ تو کسی آدمی نے تصرف کیا ہوگا اور نہ کسی جن نے (یعنی بالکل محفوظ و غیر مستعمل ہوں گی) سو اے جن وانس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور رنگت اس قدر صاف و شفاف ہوگی کہ) گویا وہ یا قوت اور مرجان ہیں (اور ممکن ہے کہ تشبیہ سرخی میں بھی ہو اور تعدد مشبہ بہ کا غالباً اہتمام کیلئے ہے) سو اے جن وانس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (آگے مضمون مذکور کی تقریر و تاکید ہے کہ) بھلا غایت اطاعت کا بدلہ بجز غایت عنایت کے کچھ اور بھی ہوسکتا ہے (انہوں نے غایت اطاعت کی، اس لئے صلہ میں غایت عنایت کے مورد ہوئے) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (یہ تو خواص کے باغوں کی صفت مذکور ہوئی) اور (آگے عامہ مؤمنین کے باغوں کا ذکر ہے یعنی) ان (مذکورہ) دونوں باغوں سے کم درجہ میں دو باغ اور ہیں (جو عامہ مؤمنین کے لئے ہیں اور ہر ایک کو دو دو ملیں گے) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور آگے ان باغوں کی صفت ہے کہ) وہ دونوں باغ گہرے سبز ہوں گے سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے، ان دونوں باغوں میں دو چشمے ہوں گے کہ جوش مارتے ہوں گے سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (جوش مارنا بوجہ اس کے کہ چشمہ کے لوازم میں سے ہے اوپر کے چشموں میں بھی یہ صفت مشترک ہے اور وہاں تجرین بھی ہے اور یہاں نہیں پس یہ قرینہ ہے اس کا کہ یہ چشمے صفت جریان میں پہلے دو چشموں سے کم ہیں اور یہ باغ ان باغوں سے کم ہیں اور) ان دونوں باغوں میں میوے اور کجھوریں اور انار ہوں گے سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (یہاں مطلق فاکہہ اور پھر تفصیل میں نخل ورمان پر اکتفا فرمانا اور وہاں لفظ کل سے ہر قسم کے فواکہ کی تصریح اور پھر لفظ زوجان سے ان کے متعدد ہونے کا ذکر جس سے فواکہ کی کثرت معلوم ہوتی ہے، یہ سب قرائن اس کے ہیں کہ جنتین اولین ان اخریین سے افضل و اعلے ہیں اور) ان (باغوں کے مکانات) میں خوب سیرت خوب صورت عورتیں ہوں گی (یعنی حوریں) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے، وہ عورتیں گوری رنگت والی ہوں گی (اور) خیموں میں محفوظ ہوں گی سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور) ان (جنتی) لوگوں سے پہلے ان پر نہ تو کسی آدمی نے تصرف کیا ہوگا اور نہ کسی جن نے (یعنی غیر مستعمل ہوں گی) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (وہاں یا قوت و مرجان سے تشبیہ دینا جو کہ مفید مبالغہ ہے اور یہاں صرف حسان پر اکتفا فرمانا نیز قرینہ ہے کہ پہلے دو باغ دوسرے دو باغوں سے افضل ہیں اور یہاں کے سب صفات وہاں صراحۃً یا اشارةً مذکور ہیں مثلاً خوش سیرت ہونا، قصرت الطرف سے مفہوم ہوتا ہے، حور ہونا قرینہ مقام سے معلوم ہوتا ہے مقصورات سے زیادہ عصمت و عفت پر لفظ قصرت الطرف دلالت کرتا ہے، کہ جو ایسی ہوں گی وہ ضرور ہی گھر میں رہیں گی اور) وہ لوگ سبز مشجر اور عجیب خوبصورت کپڑوں (کے فرشوں) پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے، سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دو باغوں کے فرش بہ نسبت پہلے دو باغوں کے کم درجہ کے ہوں گے، کیونکہ وہاں تصریح ہے ریشمی ہونے کی، پھر دوہرے ہونے کی اور یہاں نہیں ہے آگے خاتمہ میں حق تعالیٰ کی ثنا و صفت ہے جس میں ان تمام مضامین کی جو سورة رحمن میں مفصل بیان ہوئے ہیں تائید و تاکید ہے کہ) بڑا بابرکت نام ہے آپ کے رب کا جو عظمت والا اور احسان والا ہے (نام سے مراد صفات ہیں جو کہ ذات کے غیر نہیں، پس حاصل جملہ کا ثنا ہوئی کمال ذات وصفات کے ساتھ اور شاید لفظ اسم بڑھانے سے مقصود مبالغہ ہو کہ مسمی تو کیسا کامل اور بابرکت ہوگا اس کا تو اسم بھی مبارک اور کامل ہے ) معارف و مسائل جس طرح سابقہ آیات میں مجرمین کی سخت سزاؤں کا ذکر تھا ان آیات میں ان کے بالمقابل مؤمنین صالحین کی عمدہ جزاؤں اور نعمتوں کا بیان ہے جن میں اہل جنت کے پہلے دو باغوں کا ذکر اور ان میں جو نعمتیں ہیں ان کا بیان ہے، اس کے بعد دوسرے دو باغوں کا اور ان میں مہیا کی ہوئی نعمتوں کا ذکر ہے۔ پہلے دو باغ جن حضرات کے لئے مخصوص ہیں ان کو تو متعین کر کے بتلا دیا ہے (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ ) یعنی ان دو باغوں کے مستحق وہ لوگ ہیں جو ہر وقت ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے قیامت کے روز کی پیشی اور حساب و کتاب سے ڈرتے رہتے ہیں جس کے نتیجہ میں وہ کسی گناہ کے پاس نہیں جاتے، ظاہر ہے کہ ایسے لوگ سابقین اور مقربین خاص ہی ہو سکتے ہیں۔ دوسرے دو باغوں کے مستحق کون ہوں گے اس کی تصریح آیات مذکورہ میں نہیں کی گئی، مگر یہ بتلا دیا گیا ہے کہ یہ دونوں باغ پہلے دو باغوں کی نسبت کم درجہ کے ہوں گے (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ ) یعنی پہلے دو باغوں سے کمتر اور دو باغ ہیں، اس سے بقرینہ مقام معلوم ہوگیا کہ ان دو باغوں کے مستحق عام مؤمنین ہوں گے جو مقربین خاص سے درجہ میں کم ہیں۔ پہلے اور دوسرے دو باغوں کی تفسیر میں حضرات مفسرین نے اور بھی توجیہات بیان فرمائی ہیں، یہاں جو تفسیر اختیار کی گئی ہے کہ پہلے دو باغ سابقین اولین اور مقربین خاص کے لئے ہیں اور دوسرے دو باغ عامہ مؤمنین کے لئے اور یہ کہ یہ دوسرے دو باغ پہلے دو باغوں سے درجہ میں کم ہیں، روایات حدیث سے یہی تفسیر راجح معلوم ہوتی ہے جیسا کہ بیان القرآن میں بحوالہ در منثور یہ حدیث مرفوع نقل کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آیت وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ اور وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ کی تفسیر میں فرمایا جنتان من ذھب للمقربین و جنتان من ورق لاصحب الیمین |" یعنی دو باغ سونے کے بنے ہوئے ہیں مقربین کے لئے اور دو باغ چاندی کے اصحاب الیمین یعنی عام مؤمنین صالحین کے لئے |" نیز در منثور میں حضرت براء بن عازب سے موقوفاً یہ روایت کیا ہے العینان التی تجریان خیر من النضاختن، یعنی پہلے دو باغوں کے دو چشمے جن کے بارے میں تجریان فرمایا ہے وہ بہتر ہیں دوسرے دو باغوں کے چشموں سے جن کے متعلق نضاختان فرمایا ہے، کیونکہ نضاختان کے معنی ہیں ابلنے والے دو چشمے، تو یہ صفت ہر چشمہ میں ہوتی ہے لیکن جن کو تجریان کے عنوان سے بیان کیا ہے، ان میں ابلنے کے علاوہ دور تک سطح زمین پر جاری رہنے کی صفت مزید ہے۔ یہ اجمالی بیان تھا ان چار چشموں کا جو اہل جنت کو ملیں گے، اب الفاظ آیات کے ساتھ ان کے معانی کو دیکھئے۔ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ ، مقام رب سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک قیامت کے روز حق تعالیٰ کے سامنے حساب کے لئے پیشی ہے اور اس سے خوف کے معنی یہ ہیں کہ جلوت و خلوت میں اور ظاہر و باطن کے تمام احوال میں اس کو یہ مراقبہ دائمی رہتا ہو کہ مجھے ایک روز حق تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا اور اعمال کا حساب دینا ہے اور ظاہر ہے جس کو ایسا مراقبہ ہمیشہ رہتا ہو وہ گناہ کے پاس نہیں جائے گا۔ اور قرطبی وغیرہ بعض حضرات مفسرین نے مقام ربہ کی یہ تفسیر بھی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ہر قول و فعل اور خفیہ و علانیہ عمل پر نگراں اور قائم ہے، ہماری ہر حرکت اس کے سامنے ہے، حاصل اس کا بھی وہی ہوگا کہ حق تعالیٰ کا یہ مراقبہ اس کو گناہوں سے بچا دے گا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ۝ ٤٦ خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ مَقامُ والمَقامُ يكون مصدرا، واسم مکان القیام، وزمانه . نحو : إِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقامِي وَتَذْكِيرِي [يونس/ 71] ، ذلِكَ لِمَنْ خافَ مَقامِي وَخافَ وَعِيدِ [إبراهيم/ 14] ، وَلِمَنْ خافَ مَقامَ رَبِّهِ [ الرحمن/ 46] ، وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقامِ إِبْراهِيمَ مُصَلًّى [ البقرة/ 125] ، فِيهِ آياتٌ بَيِّناتٌ مَقامُ إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 97] ، وقوله : وَزُرُوعٍ وَمَقامٍ كَرِيمٍ [ الدخان/ 26] ، إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقامٍ أَمِينٍ [ الدخان/ 51] ، خَيْرٌ مَقاماً وَأَحْسَنُ نَدِيًّا [ مریم/ 73] ، وقال : وَما مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقامٌ مَعْلُومٌ [ الصافات/ 164] ، وقال : أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقامِكَ [ النمل/ 39] قال الأخفش : في قوله قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقامِكَ [ النمل/ 39] : إنّ المَقَامَ المقعد، فهذا إن أراد أنّ المقام والمقعد بالذّات شيء واحد، وإنما يختلفان بنسبته إلى الفاعل کالصّعود والحدور فصحیح، وإن أراد أنّ معنی المقام معنی المقعد فذلک بعید، فإنه يسمی المکان الواحد مرّة مقاما إذا اعتبر بقیامه، ومقعدا إذا اعتبر بقعوده، وقیل : المَقَامَةُ : الجماعة، قال الشاعر : 379- وفيهم مَقَامَاتٌ حسان وجوههم «1» وإنما ذلک في الحقیقة اسم للمکان وإن جعل اسما لأصحابه . نحو قول الشاعر : 380- واستبّ بعدک يا كليب المجلس فسمّى المستبّين المجلس . المقام یہ قیام سے کبھی بطور مصدر میمی اور کبھی بطور ظرف مکان اور ظرف زمان کے استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقامِي وَتَذْكِيرِي [يونس/ 71] اگر تم کو میرا رہنا اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نصیحت کرنا ناگوار ہو ۔ ذلِكَ لِمَنْ خافَ مَقامِي وَخافَ وَعِيدِ [إبراهيم/ 14] اس شخص کے لئے ہے جو قیامت کے روز میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے ۔ وَلِمَنْ خافَ مَقامَ رَبِّهِ [ الرحمن/ 46] اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا ۔ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقامِ إِبْراهِيمَ مُصَلًّى [ البقرة/ 125] کی جگہ بنا لو ۔ فِيهِ آياتٌ بَيِّناتٌ مَقامُ إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 97] اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جن میں سے ایک ابراھیم (علیہ السلام) کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے ۔ وَزُرُوعٍ وَمَقامٍ كَرِيمٍ [ الدخان/ 26] اور کھیتیاں اور نفیس مکان ۔ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقامٍ أَمِينٍ [ الدخان/ 51] بیشک پرہیزگار لوگ امن کے مقام میں ہوں گے ۔ خَيْرٌ مَقاماً وَأَحْسَنُ نَدِيًّا [ مریم/ 73] مکان کس کے اچھے اور مجلس کس کی بہتر ہیں ۔ وَما مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقامٌ مَعْلُومٌ [ الصافات/ 164] ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقرر مقام ہے اور آیت کریمہ : ۔ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقامِكَ [ النمل/ 39] قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس حاضر کرتا ہوں ۔ کی تفسیر میں اخفش نے کہا ہے کہ یہاں مقام بمعنی مقعد یعنی نشستگاہ کے ہیں اگر اخفش کا مقصد اس سے یہ ہے کہ مقام اور مقصد بالزات ایک ہی چیز کے دو نام ہیں صرف نسبت ( لی ) الفاعل کے لحاظ سے دونوں میں فرق پایا جاتا ( یعنی ایک ہی جگہ کو کسی شخص کے ہاں اور بیٹھنے کے اعتبار سے مقعد کہا جاتا ہے جس طرح کہ صعود اور حدور کے الفاظ ہیں ( کہ ایک ہی جگہ کو اوپر چڑھنے کے لحاظ سے صعود اور اس سے نیچے اترنے کے لحاظ سے حدود کہا جاتا ہے ) تو بجا ہے اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ لغت میں مقام بمعنی نے المقامتہ کے معنی جماعت بھی کئے ہیں ۔ چناچہ شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) ( 322 ) ونیھم مقامات حسان وجوھم اور ان میں خوڈ لوگوں کی جماعتیں ہیں مگر یہ بھی دراصل ظرف مکان ہے اگرچہ ( مجازا ) اصھاب مقام مراد ہیں جس طرح کہ ا ( الکامل ) ؎( 327 ) واستب بعدک یاکلیب المجلس اے کلیب تیرے بعد لوگ ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگے ہیں ۔ میں مجلس سے اہل مجلس مراد ہیں ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور جو شخص ہر وقت اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا رہتا ہو اور نافرمانیوں اور گناہوں سے اجتناب کرتا ہو اس کے لیے جنت میں دو باغ ہوں گے ایک جنت العدن اور دوسری جنت الفردوس۔ شان نزول : وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ (الخ) ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے کتاب العظہ میں عطاء سے روایت کیا ہے کہ ایک روز حضرت ابوبکر صدیق نے قیامت، میزان، عمل اور جنت و دوزخ کا ذکر کیا پھر فرمایا کہ میری تمنا اور خواہش تو یہ ہے کہ میں ان سبزیوں میں سے کوئی سبزی ہوتا۔ جانور آتا اور مجھے کھا جاتا تو پیدا ہی نہ کیا گیا ہوتا اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٦{ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ۔ } ” اور جو کوئی اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔ “ اہل جنت کی صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں اپنے رب کے حضور پیشی سے لرزاں و ترساں رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا جادئہ مستقیم پر قائم رکھنے والی واحد چیز یہی اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی کا خوف ہے۔ دو جنتوں کے بارے میں مفسرین نے مختلف آراء نقل کی ہیں ‘ تاہم دو جنتوں کی توجیہہ جو میری سمجھ میں آئی ہے اور مجھے اپنی اس رائے پر اطمینان اور انشراح ہے کہ یہ انسانوں اور جنوں کے لیے الگ الگ جنتوں کا بیان ہے۔ چونکہ اس سورت میں خطاب بھی مسلسل ان دونوں سے ہے اور جہنم کی وعید بھی دونوں گروہوں کو دی گئی ہے ‘ اس لیے جنت کی نوید بھی دونوں کے لیے ہونی چاہیے تھی۔ اب چونکہ انسانوں اور جنوں کا مادئہ تخلیق اور ان کی فطرتیں الگ الگ ہونے کی وجہ سے ان کی ضرورتیں ‘ پسند و ناپسند ‘ رنج و غم کے معیار ‘ راحت و سکون کے پیمانے اور کیف و سرور کے انداز ‘ سب کچھ ہی ایک دوسرے سے مختلف اور جدا ہیں ‘ اس لیے ظاہر ہے جنت میں بھی ان کے لیے الگ الگ ماحول کی ضرورت تھی۔ چناچہ میرے خیال میں یہی وجہ ہے کہ یہاں ان دونوں گروہوں کے لیے الگ الگ جنتوں کا ذکر ہوا ہے۔ اس حوالے سے یہ نکتہ بھی مدنظر رہے کہ آیت زیر مطالعہ میں جن دو جنتوں کا ذکر ہوا ہے وہ نچلے درجے کی جنتیں ہیں ‘ جبکہ آگے چل کر آیت ٦٢ میں جن دو جنتوں کا ذکر ہوا ہے وہ اونچے درجے کی جنتیں ہیں۔ گویا اس سورت میں کل چار جنتوں کا ذکر ہوا ہے ۔ ہر گروہ کے لیے دو جنتیں ہوں گی ‘ ان میں سے ایک جنت نچلے درجے میں ہوگی اور دوسری نسبتاً برتر درجے میں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

40 'Who dreads... Lord": who fears God in whatever he dces in the world, and dreads his accountability before Him in the Hereafter. Whoever holds this belief will inevitably avoid serving the lusts of his self, will avoid following every path blindly, will distinguish between the truth and falsehood, justice and injustice, pure and impure, and the lawful and the unlawful, and will not turn away deliberately from following the Commands of God. This is the real ground for the reward that is being mentioned below. 41 Jannat actually means a garden. At sane places in the Qur'an the entire world in which the righteous people will be kept, has boon called Jannat, as though the whole of it WAS a garden. And at others it has been said that they will have Jannat (Gardens) under which canals will be flowing. This means that that big Garden will comprise countless other gardens; and here precisely it has been stated that every pious man will be given two gardens in that big Garden, which will be particularly meant for him; it will have his own palaces in which he will live with his family and attendants like a king, and in it he will be provided with aII that is being mentioned below.

سورة الرَّحْمٰن حاشیہ نمبر :40 یعنی جس نے دنیا میں خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کی ہو ، جسے ہمیشہ یہ احساس رہا ہو کہ میں دنیا میں شتر بے مہار بنا کر نہیں چھوڑ دیا گیا ہوں ، بلکہ ایک روز مجھے اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے ۔ یہ عقیدہ جس شخص کا ہو وہ لامحالہ خواہشات نفس کی بندگی سے بچے گا اندھا دھند ہر راستے پر نہ چل کھڑا ہو گا ۔ حق و باطل ، ظلم و انصاف ، پاک و ناپاک اور حلال و حرام میں تمیز کرے گا ۔ اور جان بوجھ کر خدا کے احکام کی پیروی سے منہ نہ موڑے گا ۔ یہی اس جزا کی اصل علّت ہے جو آگے بیان کی جا رہی ہے ۔ سورة الرَّحْمٰن حاشیہ نمبر :41 جنت کے اصل معنی باغ کے ہیں ۔ قرآن مجید میں کہیں تو اس پورے عالم کو جس میں نیک لوگ رکھے جائیں گے جنت کہا گیا ہے ، گویا کہ وہ پورا کا پورا ایک باغ ہے ۔ اور کہیں فرمایا گیا ہے کہ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس بڑے باغ میں بے شمار باغات ہوں گے ۔ اور یہاں تعین کے ساتھ ارشاد ہوا ہے کہ ہر نیک شخص کو اس بڑی جنت میں دو دو جنتیں دی جائیں گی جو اسی کے لیے مخصوص ہوں گی ، جن میں اس کے اپنے قصر ہوں گے ، جن میں وہ اپنے متعلقین اور خدام کے ساتھ شاہانہ ٹھاٹھ کے ساتھ رہے گا ، جن میں اس کے لیے وہ کچھ سرو سامان فراہم ہوگا جس کا ذکر آگے آ رہا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٦۔ ٥٣۔ جن لوگوں کے دل میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے اور حساب و کتاب کا خوف ہے اور وہ لوگ اس خوف کے سبب سے فرض اور نفل عبادت کے بجا لانے اور گناہوں سے بچنے میں احکام شرع کے پابند ہیں ‘ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کی بڑی عزت فرمائے گا چناچہ صحیح بخاری ٤ ؎ و مسلم وغیرہ میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس میں حشر کی گرمی اور پسینے کے وقت سات شخصوں کو عرش کے سایہ میں جگہ ملنے کی عزت کا ذکر ہے ان سات شخصوں میں ایک شخص وہ ہے جس کو کوئی مالدار حسین عورت بدکاری کا پیغام دے اور وہ شخص اللہ کے خوف سے بدکاری نہ کرے۔ اس بات میں اور بھی حدیثیں ہیں ان آیتوں میں بھی ایسے لوگوں کی عزت کا یہ ذکر ہے کہ ایک جنت ان کے نیک عمل کے بدلے میں اور ایک ان کے خوف کے بدلے میں اس طرح ان کو دو جنتیں ملیں گی۔ بعض مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ فقط آیتوں کے قافیہ کے لئے جنتان فرمایا تاکہ قرآن میں تکذبان وغیرہ کا قافیہ مل جائے ورنہ جنت سب کو ایک ہی ملے گی اس قول کو اور علماء نے چند طرح سے غلط ٹھہرایا ہے۔ جن پیڑوں میں ٹہنیاں زیادہ ہوں گی ان کا سایہ بھی بہت ہوگا اور ٹہنیوں میں میوہ زیادہ ہوگا اس لئے ان پیڑوں کی ٹہنیوں کا ذکر فرمایا۔ درختوں کی پرورش پانی سے ہوتی ہے اس لئے چشموں کا ذکر فرمایا۔ سلف کا بیان ہے کہ ان دو چشموں میں سے ایک پانی کا ہوگا اور ایک شراب کا۔ جس سے یہ میوے نہایت مزہ دار ہوجایں گے قسم قسم کے میوہ کا یہ مطلب ہے کہ خشک و تر جس طرح کے میوے کو جی چاہے وہ ان پیڑوں میں لگا ہوا ہوگا۔ بہقی کی ١ ؎ روایت سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی صحیح حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ جنت کی چیزوں کے دنیا میں فقط نام ہی نام ہیں اس لئے جنت کے میووں کو دنیا کے میووں سے تشبیہ دے کر کچھ زیادہ تفسیر نہیں کی جاسکتی اسی لحاظ سے صحیح بخاری ٢ ؎ و مسند امام احمد کی ابوہریرہ (رض) کی روایتوں میں ہے کہ جتنی جگہ میں گھوڑے کا کوڑا رکھا جاتا ہے جنت کی اتنی جگہ تمام دنیا سے بہتر ہے۔ (٤ ؎ صحیح بخاری باب الصدقۃ بالیمین ص ١٩١ ج ١ و صحیح مسلم باب فضل اخفاء الصدقۃ ص ٣٣١ ج ١۔ ) (١ ؎ الرتغیب والترہیب۔ فصل فی ان اعلی مایخطر علی الہال الخ ص ١٠٣٩ ج ٤۔ ) (٢ ؎ صحیح بخاری باب صفۃ الجنۃ والنار ص ٩٧٢ ج ٢ و ص ٤٦١ ج ١۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(55:46) ولمن خاف۔ واؤ عاطفہ لام استحقاق کا ہے۔ من موصولہ ۔ اور اس کے لئے ہے جو ڈرا۔ مقام مصدر میمی بمعنی کھڑا ہونا۔ اس صورت میں اس کے دو مفہوم ہوں گے۔:۔ (1) یہ کہ جو لوگ ہر وقت اس بات سے خوف زدہ رہتے ہیں کہ ان کا رب ان کی نگرانی کر رہا ہے وہ ان کے افعال و اقوال سے پوری طرح باخبر ہے وہ ڈرتے ہیں کہ کوئی ایسی بھول نہ ہوجائے جس کے باعث ان کا رب ان سے ناراض ہوجائے۔ (2) یہ کہ وہ لوگ جو اپنے رب کی جناب میں کھڑے ہونے سے ہر وقت ڈرتے رہتے ہیں۔ اگر مقام اسم ظرف لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ :۔ وہ لوگ جو اس جگہ سے ہر وقت خائف ولرزاں رہتے ہیں جہاں کھڑا کرکے ان سے حساب لیا جائے گا۔ جنتان : دو جنتیں اور یہ مبتدا ہے لمن خاف اس کی خبر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی اس نے خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کی اور اس بنا پر گناہوں سے بچتا رہا۔ 3 ایک جنت عدن اور دوسری جنت نعیم یا ایک بلند اور دوسر اپائیں باغ یا ایک روحانی اور دوسرا جسمانی باغ یا ایک مردانہ اور دوسرا زنانہ باغ یا ایک اطاعت کے بدلہ میں اور دوسرا ترک معصیت کے بدلہ میں یا ایک باغ صحت عقید ہ کے بدلہ میں اور دوسرا نیک عمل کے بدلہ میں دو باغوں کے مفسرین نے یہ سب معنی بیان کئے ہیں۔ واللہ اعلم شوکانی

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٤٦ تا ٤٨۔ اسرار ومعارف۔ جو کوئی اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوکرجوابدہی سے ڈرتا ہے اور یوں اس کی نافرمانی نہیں کرتا یہ وصف اللہ کے خاص بندوں اور اہل اللہ کا ہے جنہیں آخرت مستحضر رہتی ہے یعنی ہر حال میں اللہ کے سامنے پیش ہونے کامراقبہ دائمی رہتا ہے توخلوص دل سے اطاعت کا سبب بن جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے ہر ایک کے واسطے دو باغ ہیں دودوجنتیں ہیں بھلاکس کس انعام کا شکر ادا نہ کرو گے دونوں بہت گھنے اور بہت آباد ہوں گے تو کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے جبکہ ان باغات میں ابلتے چشموں کا پانی جاری ہوگا ، حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ آب رواں کو جنتی جدھر کو کہے گا ادھر چلنا شروع کردے گا تم کس کس نعمت کا انکار کیے جاؤ گے ان باغات میں ہر ہر پھل کی دودواقسام ہوں گی کہ لذت میں بڑھ چڑھ کر ہوں گے بھلا کس کس انعام کا انکار کرو گے وہ لوگ ایسے تخت پوشوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے جن کے بچھونوں کے استر تک بہترین اور قیمتی ریشم سے بنے ہوں گے اور ان پر باغات کے پھلوں سے لدی ہوئی ڈالیاں جھکی پڑی رہی ہوں گی ۔ پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے۔ اور ان باغات کے پھلوں سے لدی ہوئی ڈالیاں جھکی پڑی رہی ہوں گی پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے اور ان باغات میں ان اہل جنت کے لیے حسین ترین اور جھکی نگاہوں والی باحیا حوریں ہوں گی جو صرف ان کے لیے ہوں گی ان سے پہلے کسی انسان یا کسی جن نے چھوا تک نہ ہوگا۔ جنات اور جنت کا داخلہ۔ جن حضرات نے جنات کے لیے جنت کا داخلہ مانا ہے وہ یہاں سے دلیل حاصل کرتے ہیں مگر اس میں وزن نہیں کہ علماء جو اس کے قائل نہیں فرماتے ہیں یہ عرفا فرمایا گیا ہے جیسے دنیا میں کسی خاتون کو جن کا سایہ ہوجاتا ہے وہاں ایسا بھی کوئی خطرہ نہیں۔ رہی بات جنات کے جنت میں داخلے کی تو قرآن کریم نے جہاں ان کو کفر پر عذاب کی وعیدسنائی ہے انسانوں کی طرح انہیں ایمان اور عمل صالح پر جنت کا وعدہ نہیں دیا بلکہ فرمایا دردناک عذاب سے بچ جاؤ گے لہذا جنات دوزخ سے بچ کر ختم ہوجائیں گے۔ اور دوزخی اپنی سزا پوری کرکے یا جیسے اللہ چاہے گا واللہ علم۔ بھلا پروردگار کی نعمتوں کا کیسے انکار کروگے بھلا نیکی اور خلوص کے ساتھ اطاعت کا بدلہ احسان اور کرم نوازی کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے مگر تم اپنے رب کی کتنی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ۔ ان کے علاوہ وہ بھی عامۃ المومنین کے لیے ہر ایک کی خاطر دودو باغ ہوں گے کہ خواص پر توہروقت ایک حال غالب رہتا تھا اور اسی لیے اہل اللہ کو صاحب حال بھی کہا جاتا ہے مگر عوام کہ کبھی خوف خدا غالب آگیا کبھی غفلت ہوگئی اور کوئی لغزش سرزد ہوگئی بلکہ محض غفلت بجائے خود لغزش ہے تو انہیں بھی دو جنتیں عطا ہوں گی پہلی والی جنتوں سے درجہ میں کم سہی مگر اپنی جگہ پر جنتیں ہوں گی تو تم اللہ کے کس کس انعام کا انکار کرو گے وہ بھی اتنی سرسبز ہوں گی کہ کثرت سبزہ سیاہی مائل دکھائی دینے لگے بھلا اللہ کے احسانات کا کس طرح انکار کرو گے ان میں بھی دودوچشمے ابل رہے ہوں گے تو پروردگار کے کس کس احسان کو جھٹلاؤ گے ان باغات میں پھلوں کی کثرت ہوگی اور کھجوریں اور انار تک ہوں گے اپنے پالنے والے کی نعمتوں کوکب کب تک جھٹلاؤ گے ان سب باغوں میں بھی حسین وخوبصورت اور خوب سیرت حوریں ہوں گی بھلا اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کونہ مانو گے وہ حوریں پاک دامن اور باعفت ہوں گی خیموں میں محفوظ بھلا اپنے رب کی نعمتوں کا کب تک انکار کرو گے ان کو بھی ان ہل جنت سے قبل کسی انسان یا جن نے چھوا تک نہ ہوگا تو پروردگار کی نعمتوں کا انکار کب تک۔ یہ لوگ ہی خوبصورت سبز بچھونوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے جن پر نفیس قیمتی بچھونے سجے ہوں گے بھلا اپنے رب کی کس کس بخشش کا اقرار نہ کرو گے اور آپ کے پروردگار کا تونام ہی بہت برکت والا ہے کہ وہی جلال و عظمت کا مالک اور صاحب اکرام ہے جس قدر چاہے اپنی شان کے مطابق نعمتوں میں اور ان کی لذت میں اضافہ ہی فرمائے گا کبھی کمی نہ ہوگی۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 78 ذواتا افنان بہت شاخوں والے۔ بطائن (بطن) استر، پیٹ۔ استبرق سبز ریشم دان قریب قریب۔ قصرت روکنے والیاں۔ لم یطمت ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔ مدھآ متن دو گہرے سبز۔ نضاختن دو چشمے جوش مارتے ہوئے۔ رمان انار ۔ خیرات بہت عمدہ۔ حسان خوبصورت و حسین۔ الخیام خیمے۔ رفرق مسند، مسہریاں۔ عبقری قیمتی۔ تبرک برکت والا۔ الاکرام بہت بزرگی اور عظمت والا۔ تشریح : آیت نمبر 46 تا 79 اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تقویٰ ، پرہیز گاریوں اور نیکیوں کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ چناچہ کفار و مشرکین اور گناہگار مجرموں کی سزا کو بیان کرنے کے بعد ان صالح مومنین کے لئے اجر عظیم کا وعدہ کیا جا رہا ہے جنہوں نے زندگی بھر اللہ کی رضا و خوشنودی کے سامنے زندگی کی تمام لذتوں اور آسائشوں کو چھوڑ کر حق و صداقت کیلئے ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں۔ جنت میں ان کا سب سے بڑا اعزازو اکرام یہ ہوگا کہ ان کو دو ایسے باغ دیئے جائیں گے جن کی خوبصورتی اور حسن و جمال کا تصور ناممکن ہے۔ خوبصورت ہرے بھرے باغات جن کے درختوں کا گھنا سایہ، کثرت سے طرح طرح کے پھل، صاف شفاف پانی کے ایسے دو چشمے جو دور تک بہتے چلے جائیں گے۔ لذت اور مٹھاس کے اعتبار سے ان کے پھلوں کی بھی دو قسمیں ہوں گی تاکہ یہ ہر طرح کے پھلوں کی مٹھاس اور لذت سے اچھی طرح لطف اندوز ہو سکیں ۔ یہ لوگ ان باغوں میں تکیہ لگائے ایسے فرشوں پر بیٹھے ہوں گے جن کی ظاہری خوبصورتی تو اپنی جگہ اس کے استر بھی دبیز ریشم کے ہوں گے۔ درختوں پر لگے ہوئے پھلوں کی شاخیں اتنے قریب کردی جائیں گی کہ کسی بھی پھل کو کھانے میں کسی طرح کی مشقت نہ اٹھانی پڑے گی۔ شرم و حیا کی پیکر، شرمیلی نیچے نظریں رکھنے والی کنواری حوریں ہوں گی جنہیں جنات انسانوں میں کسی نے ہاتھ تک نہ لگایا ہوگا۔ وہ حوریں حسن و جمال، صفائی ستھرائی اور چمک دمک میں یاقوت کی طرح اور سرخی و سفیدی میں مرجان موتی کی طرح ہوں گی۔ اہل تقویٰ کی نیکیوں اور بہترین اعمال کا بدلہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا۔ یہ اجر و مقام تو ان لوگوں کے لئے ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے اور حساب کتاب کے ڈر سے لرزتے کا نپتے ہوں گے وہ اللہ کے خاص بندے ہیں لیکن عام مومنین صالحین کے بھی دو باغ ہوں گے جو اگرچہ ان کے اعمال کے لحاظ سے پہلے والے باغوں کی طرح نہیں ہوں گے لیکن اعزازو اکرام اور جنت کی کیفیات، لذت اور حسن و جمال میں ان کے قریب قریب ہی ہوں گے۔ وہ دونوں باغ بھی سرسبز و شاداب ایسے گہرے سبز رنگ کے ہوں گی جن میں ہلکی سی سیاہی جھلکتی ہوگی۔ ان کیلئے جوش مارتے ابلتے ہوئے دو چشمے ہوں گے جو غالباً سلسبیل اور تسنیم کے ہوں گے۔ اتنے لذیذ اور عمدہ میوے، کھجوریں اور انار ہوں گے جن کے مزے اور لذت کا اس دنیا میں تصور بھی ممکن نہیں ہے ایسی نیک سیرت، حسین و خوبصورت کنواری حوریں ہوں گی جو خیموں میں محفوظ ہوں گی جنہیں کسی جن یا انسان نے ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔ یہ اہل جنت خوبصورت سبز رنگ کے تکیے لگائے شاہانہ اندازے بیٹھے ہوں گے اور یہ سب کچھ اس پروردگار کی طرف سے تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی گذارنے والوں کا انعام ہوگا جس پر پروردگار کا نام ہی برکت والا ہے۔ وہی صاحت عظمت اور صاحب کرم ہے۔ اللہ نے ان چیزوں کو نعمت قرار دے کر باربار ایک ہی سوال کیا ہے کہ اے انسانوں اور جنات یہ اللہ کی عظیم نعمتیں ہیں ان میں سے تم کس کس نعمت کا انکار کرو گے ؟ واخر دعوانا ان الحمد للہ ورب العالمین

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

8۔ یہ شان خواص کی ہے کیونکہ عوام پر تو گاہ گاہ خوف طاری ہوجاتا ہے اور ان سے معاصی بھی سرزد ہوجاتے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں جنتیوں کا مقام اور انعام۔ جو شخص قیامت کے دن سے پہلے اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے جنت میں دو باغ ہوں گے۔ اللہ کا خوف اور قیامت کا ڈر ایسا عمل ہے جو انسان کو صراط مستقیم پر گامزن رکھتا ہے، انسان حرام و حلال کی تمیز کرتا ہے، ظلم سے بچتا ہے اور ہر حال میں عدل پر قائم رہتا ہے۔ وہ نیکی کرنے کے باوجود اس پر اتراتا نہیں بلکہ ہر وقت اپنے رب سے لرزاں رہتا ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جس بنا پر سیدنا ابوبکر صدیق (رض) نے ایک تنکا پکڑ کر کہا تھا کہ کاش ! میں انسان کی بجائے ایک تنکا ہوتا تاکہ قیامت کے دن کے حساب و کتاب سے بچ جاتا۔ (سیرت ابوبکر (رض) جس نے اپنے لیے آخرت کی فکر پیدا کرلی اس پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہوا کیونکہ آخرت کی فکر اور اللہ کے فضل کے بغیر کوئی شخص جنت میں نہیں جاسکتا۔ آخرت کی فکر کی بنا پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (عَنِ ابْنِ عَبَّاس (رض) قَالَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ (رض) یَا رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَدْ شِبْتَ قَالَ شَیَّبَتْنِی ہُودٌ وَالْوَاقِعَۃُ وَالْمُرْسَلاَتُ وَ (عَمَّ یَتَسَاءَ لُونَ ) وَ (إِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ ) قَالَ أَبُو عیسَی ہَذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ غَرِیبٌ لاَ نَعْرِفُہُ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) إِلاَّ مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ وَرَوَی عَلِیُّ بْنُ صَالِحٍ ہَذَا الْحَدِیثَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی جُحَیْفَۃَ نَحْوَ ہَذَا وَرُوِیَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی مَیْسَرَۃَ شَیْءٌ مِنْ ہَذَا مُرْسَلاً ) (رواہ الترمذی : باب ومن سورة الواقعۃ) ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں ابوبکر (رض) نے کہا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ بوڑھے ہوگئے ہیں آپ نے فرمایا سورة ہود، واقعہ، مرسلات، عم یتسالون اور سورة تکویر نے مجھے بوڑھا کردیا ہے۔ “ (عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَاءِ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تَفْرَغُوْا مِنْ ہَمُوْمِ الدُّنِیَا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَاِنَّہٗ مَنْ کَانَتِ الدُّنِیَا اَکْبَرُ ہَمَّہٗ اَفْشَی اللّٰہُ ضَیِّعَتَہٗ وَجَعْلَ فَقْرَہٗ بَیْنَ عَیْنَیْہِ وَمَنْ کَانَتِ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ ہَمَّہٗ جَمَعَ اللّٰہُ لَہٗ اَمُوْرَہٗ وَجَعَلَ غِنَاہُ فِیْ قَلْبِہٖ وَمَا اَقْبَلَ عَبْدٌ بِقَلْبِہٖ إِلَی اللّٰہِ إِلاَّ جَعَلَ اللّٰہُ قُلُوْبَ الْمُؤْمِنِیْنَ تَفِدُّ إِلَیْہِ بالْوَدِّ وَالرَّحْمَۃِ وَکَان اللّٰہُ إِلَیْہِ بِکُلِّ خَیْرٍ اَسْرَعُ ) (معجم الاوسط : باب من اسمہ محمد قال البزار لیس بہ باس) ” حضرت ابو درداء (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جہاں تک ہو سکے تم دنیا کے غموں سے چھٹکارا حاصل کرلو جس نے دنیا کی فکر کو بڑ اجان لیا اللہ تعالیٰ اس پر دنیا تنگ کردیں گے، محتاجی اس کی آنکھوں سے ٹپک رہی ہوگی۔ جس نے اپنے لیے آخرت کو بڑی فکر بنا لیا۔ اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو سنوار دے گا۔ اس کے دل میں غنا پیدا کردے گا۔ جو انسان اللہ تعالیٰ کی طرف سچے دل سے متوجہ ہوجائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے مومنوں کے دلوں میں محبت اور رحمت پیدا فرما دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر بھلائی میں جلدی فرماتا ہے۔ “ (اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّکْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بالْغَیْبِ فَبَشِّرْہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَّ اَجْرٍ کَرِیْمٍ ) (یٰس : ١١) ” آپ اسی شخص کو خبردار کرسکتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرتا اور بغیر دیکھے رحمٰن سے ڈرتا ہے، اسے مغفرت اور اجر کریم کی بشارت دے دیں۔ “ مسائل ١۔ آخرت کی فکر کرنے والے کو جنت میں دو باغ دیئے جائیں گے۔ ٢۔ جن اور انسان اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلائیں گے۔ تفسیر بالقرآن اللہ سے ڈرنے کے فوائد : ١۔ صبر کرو متقین کا انجام بہتر ہے۔ (ہود : ٤٩) ٢۔ متقین کے لیے کامیابی ہے۔ (النبا : ٣١ تا ٣٣ ) ٣۔ متقی کے کام آسان اور اس کی سب خطائیں معاف اور ان کے لیے بڑا اجر ہوگا۔ (الطلاق : ٤ تا ٥) ٤۔ قیامت کے دن متقین کے چہرے ہشاش بشاش ہوں گے۔ (یونس : ٢٦) ٥۔ متقین اولیاء اللہ ہیں جو بےخوف ہوں گے۔ ( یونس : ٦٢) ٦۔ متقین کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنت ہے۔ (القلم : ٣٤) ٧۔ اللہ تعالیٰ نے متقین کے ساتھ جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور کافروں کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔ (الرعد : ٣٥) ٨۔ یقیناً متقین باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ (الذاریات : ١٥) ٩۔ یقیناً متقی نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ (الطور : ١٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قرآن کی جس قدر سورتیں اب تک گزری ہیں ان میں پہلی بار دو باغوں کا ذکر ہے اور یہ دو باغ بھی جنت کے اندر ہی ہوں گے جو بہت ہی وسیع اور بڑی جگہ ہوگی لیکن یہاں دو باغوں کا خصوصی ذکر محض ان کے عالیشان ہونے کے ناطے سے ہے۔ سورة واقعہ میں یہ بات آنے والی ہے کہ اہل جنت کے دو فریق ہوں گے۔ پہلے السابقون المقربون ہوں گے اور اصحاب الیمین ہوں گے۔ دونوں فریقوں کے لئے نعمتیں ہوں گی۔ یہ دو باغ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو اعلیٰ مرتبے کے لوگوں کے لئے ہوں گے اور یہ وہی لوگ ہیں جن کو السابقون الاولون کہا گیا ہے اور ان دو باغات سے کم درجے کے بھی دو اور باغ ہوں گے اور یہ باغ شاید السابقون اولون کے بعد کے لوگوں کے لئے ہوں گے اور یہ شاید اصحاب الیمین میں سے ہوں گے۔ بہرحال ہمیں ان دو باغوں کی طرف دیکھنا چاہئے اور ان میں کچھ دیر کے لئے رہنا چاہئے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل تقویٰ کی دو جنتیں اور اس کی صفات ان آیات میں اہل جنت کے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا اور ہر نعمت بیان کرنے کے بعد ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا ہے کہ اے انس و جن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے، پہلے رکوع میں دنیاوی جنتوں کا تذکرہ فرمایا اور تیسرے رکوع میں آخرتک جنت کا تذکرہ کیا اور دوسرے رکوع میں جنات اور انسانوں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا جس میں قیامت کے دن اور اس کے بعد دوزخ میں مجرمین مبتلا ہوں گے۔ مذکورہ بالا آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ جو شخص اپنے رب کے حضور میں کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو باغ ہوں گے، جنت خود بہت بڑا باغ ہے پھر اس باغ میں الگ الگ باغ ہوں گے جو حسب اعمال جنتیوں کو دیئے جائیں گے۔ جو حضرات گناہوں سے بچتے ہیں آخرت کے دن کے حساب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے خوشخبری ہے کہ ان میں سے ہر شخص کو دو باغ ملیں گے آخرت کا خوف انسان سے گناہوں کو چھڑا دیتا ہے اور طاعات اور عبادات پر لگائے رکھتا ہے سورة النازعات میں فرمایا : ﴿وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى ۙ٠٠٤٠ فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَاْوٰى ؕ٠٠٤١﴾ (اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہشوں سے روکا سو اس کا ٹھکانہ جنت ہوگا) ۔ حضرت ابوموسیٰ (رض) نے آیت کریمہ ﴿ وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ٠٠٤٦﴾ تلاوت کی پھر فرمایا کہ دو جنتیں سونے کی ہیں جو سابقین کے لیے ہیں اور دو جنتیں چاندی کی ہیں جو ان لوگوں کی ہوں گی جو ان کے تابع ہوں گے۔ (رواہ الحاکم فی المستدرک لہ والذھبی فی التلخیص (م) ای ہو علی شرط مسلم) مذکورہ بالا دونوں جنتوں کی تین صفات بیان فرمائیں : اول یہ کہ ان میں جو درخت ہوں گے انکی شاخیں خوب زیادہ ہوں گی جو ہری بھری ہوں گی دیکھنے میں خوب اچھی اور پھیلی ہوں گی ظاہر ہے کہ جب شاخیں اور ٹہنیاں خوب زیادہ ہوں گی تو پھل بھی خوب زیادہ ہوں گے، دوسری صفت یہ بتائی کہ ان دونوں باغوں میں دو چشمے جاری ہوں گے، یہ چشمے روانی کے ساتھ بہتے ہوں گے، دیکھنے سے آنکھیں لطف اندوز ہوں گی، اہل جنت کے چشموں کا ذکر سورة الدھر اور سورة التطفیف میں بھی فرمایا ہے سورة الدھر میں ایک چشمہ کا نام سلسبیل بتایا ہے اور سورة التطفیف میں ایک چشمہ کا نام تسنیم بتایا ہے، سورة الدھر میں یہ بھی فرمایا ہے ﴿اِنَّ الْاَبْرَارَ يَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ٠٠٥ عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا عِبَاد اللّٰهِ يُفَجِّرُوْنَهَا۠ تَفْجِيْرًا ٠٠٦﴾ (جو نیک ہیں وہ ایسے جام شراب سے پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی یعنی ایسے چشمہ سے جس سے اللہ کے خاص بندے پئیں گے جس کو وہ بہا کرلے جائیں گے) ۔ متقیوں کے دونوں باغوں کی تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ ان میں ہر میوہ کی دو دو قسمیں ہوں گی ایک قسم معروف یعنی جانی پہچانی ہوگی جسے دنیا میں دیکھا اور دوسری قسم نادر ہوگی جسے پہلے نہیں جانتے تھے، بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ایک قسم رطبا یعنی تازہ اور دوسری قسم یا بس یعنی خشک ہوگی اور لذت میں دونوں برابر ہوں گی اور حضرت ابن عباس (رض) سے منقتول ہے کہ دنیا میں جتنے بھی پھل ہیں میٹھے اور کڑوے سب جنت میں موجود ہوں گے حتیٰ کہ حنظل بھی ہوگا اور جو پھل یہاں کڑوا تھا وہاں میٹھا ہوگا۔ (روح المعانی صفحہ ١١٧: ج ٢٧)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

18:۔ ” ولمن خاف “ یہ ماننے والوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے مقام سے قیامت کے دن حساب کتاب کے لیے بارگاہ خداوندی میں کھڑے ہونے کی جگہ مراد ہے۔ ظاہر ہے جس کو حساب کتاب کا ڈر ہوگا وہ اپنی کتاب اعمال کو برائیوں سے پاک رکھنے کی کوشش کرے گا۔ موقفہ الذی یقف فیہ العباد للحساب یوم القیامۃ فترک المعاصی (مدارک ج 4 ص 160) ۔ جنتٰن سے دو باغ مراد نہیں بلکہ تثنیہ تکرار کے لیے ہے یعنی قسم قسم کے باغات (رضی) ۔ اور ضمائر کا تثنیہ باعتبار لفظ ہے۔ جو شخص آخرت کے حساب کتاب سے ڈر کر اللہ کی اطاعت کو اپنا دستور زندگی بنا لے قیامت کے دن اس کو کوئی باغات ملیں گے جن میں ہر قسم کی نعمتیں موجود ہوں گے۔ ذواتا افنان، یہ فن کی جمع ہے جس کے معنی نوع اور قسم کے ہیں۔ یا یہ فنن بمعنی شاخ (ٹہنی) کی جمع ہے۔ یعنی ان باغوں میں مختلف انواع و اقسام کے میوہ دار درخت ہوں گے۔ یا مطلب یہ ہے کہ جنت کے درخت لمبی لمبی شاخوں والے ہوں گے جس کی وجہ سے سایہ پھل بکثرت ہوگا۔ ای ذواتا انواع من الاشجار والثمار۔ وتفسیرہ بالاغضان علی انہ جمع فنن روی عن ابن عباس ایضا (روح ج 7 ص 117) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(46) اور جو شخص اپنے پروردگار کے روبرو کھڑے ہونے سے ڈرتا رہتا ہے اس کے لئے بہت بڑھیا دو باغ ہیں۔ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہونے سے ڈرتا ہے اس کے لئے بہت بڑھیا دو باغ ہوں گے اوپر مجرموں اور گناہگاروں کا ذکر تھا یہاں سے مومنین کا ذکر شروع فرمایا مومنین میں ایک وہ ہیں جو مقربان خاص ہیں دوسرے وہ ہیں جن کو عامہ مومنین کہا جاتا ہے۔