The Delight of the Righteous in Paradise The foregoing verses spoke of the horrible punishments to be faced by the disbelievers. In the current set of verses we are told about the rewards and bounties reserved for the righteous believers. The verse 46 speaks of two Gardens that are exclusively reserved &for those who are fearful of having to stand before their Lord&. This phrase refers to those fortunate believers who are, at all times, concerned about reckoning on the Day of Judgment and, as a result, keep away from all sorts of sins under all circumstances. Obviously, these are the people who enjoy special nearness to Allah. In verse [ 62] below we read: وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ (And lesser than these two, there are two other gardens... 55:62) This verse does not specify the class of righteous believers who will receive these gardens. However, the phrase مِن دُونِهِمَا min dunihima (&and lesser than these two& ) indicates that the Gardens mentioned in verse [ 62] are for the general body of believers who are lesser in their spiritual attainment than the foremost believers who are granted special nearness to Allah. The Qur&anic exegetes have explained the two sets of pairs of Gardens in other ways as well. Here we have adopted the most plausible and preferable explanation: that is, the first two Gardens are reserved exclusively for the foremost believers who are granted special nearness to Allah; and the second two Gardens are reserved for the general body of believers. That the two Gardens mentioned in Verse 62 are inferior to the first two is supported by authentic Traditions. Bayan-ul-Qur&an cites the Prophetic Tradition from Ad-Durr-ul-Manthur to the effect that while interpreting verses [ 46] and [ 62] the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: جَنَّتَانِ مِن ذَھَبِ لِلمُقَرَّبِینَ وَ جَنَّتَانِ مِن وَرَقِ لِاَصحٰبِ الیَمِینِ |"There are two Gardens made of gold for believers who are granted special nearness to Allah; and there are two Gardens made of silver for the People of the Right [ that is, for general body of righteous believers ].|" Also, it is recorded in Ad-Durr-ul-Manthur that Sayyidna Bara& Ibn ` Azib (رض) said, اَلعَینَانِ الَّتِی تَجرِیَان ٰخَیرُ مِّنَ النَّضَّخَتَین . The two springs that are flowing freely [ in the first two Gardens ] are better than the two other springs that are mentioned as &gushing forth& (in the second two gardens). In verse [ 50] springs (in the first two gardens) promised to the believers have been described as flowing freely and ceaselessly تَجرِیَان [ tajriyan ] while in verse [ 66] the springs (in the second two gardens) are described as &gushing forth& نَّضَّخَتَین [ nadakhatan ]. The quality of &gushing forth& is the characteristic of all springs, but the quality of &flowing& is an additional characteristic of specific springs. This is the concise description of all four springs that the inmates of Paradise will be given. Related Considerations In Verse 46, the phrase, وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ (for the one who is fearful of having to stand before his Lord...55:46) refers, according to most exegetes of the Qur&an, to standing before Allah on the Day of Resurrection to give the account of one&s deeds. The word &fearful& signifies that he is mindful under all conditions, whether in public or in private, that one day he has to appear in the Court of Allah to give an account of his deeds. Evidently such a person will never go near the sinful acts. Other exegetes, like Qurtubi and others, interpret this to mean: &the one who is fearful of the Station of His Lord&. That is, he is mindful of the High Station of Allah whereby He is watchful and keeps guard over his words and deeds, overt or covert. All his movements and activities are known to Him. This explanation is close to the previous explanation, in that Allah&s keeping guard over him will keep him away from sins.
خلاصہ تفسیر (ان آیتوں میں دو باغوں کا ذکر وَلِمَنْ خَافَ سے شروع ہوا ہے اور دو باغوں کا ذکر وَمِنْ دُوْنِهِمَا سے پہلے دو باغ خواص مقربین کے ہیں اور پچھلے دو باغ عامہ مومنین کے لئے، دلائل اس تعیین و تقسیم کے آگے لکھ دیئے جاویں گے، یہاں صرف تفسیر لکھی جاتی ہے، پچھلی آیات میں مجرمین کی سزاؤں کا ذکر تھا، یہاں سے مومنین صالحین کی جزا کا ذکر شروع ہوتا ہے) اور (اہل جنت کا حال یہ ہے کہ ان میں دو قسم ہیں، خواص اور عوام پس) جو شخص (خواص میں سے ہو اور) اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے (ہر وقت) ڈرتا رہتا ہو (اور ڈر کر شہوات و معاصی سے مجتنب رہتا ہو اور یہ شان خواص ہی کی ہے، کیونکہ عوام پر تو گاہ گاہ خوف طاری ہوجاتا ہے اور کبھی ان سے معاصی بھی سر زد ہوجاتے ہیں گو توبہ کرلیں، غرض جو شخص ایسا متقی ہو) اس کے لئے (جنت میں) دو باغ ہوں گے (یعنی ہر متقی کے لئے دو باغ اور غالباً اس تعدد میں حکمت ان کے تکرم اور تنعم کا اظہار ہوگا جس طرح دنیا میں اہل تنعم کے پاس اکثر چیزیں منقولات و غیر منقولات میں سے متعدد ہوتی ہیں) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور وہ) دونوں باغ کثیر شاخوں والے ہوں گے (اس میں سایہ کی گنجانی اور ثمرات کی کثرت کی طرف اشارہ ہے) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور) ان دونوں باغوں میں دو چشمے ہوں گے کہ (دور تک) بہتے چلے جاویں گے سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور) ان دو باغوں میں ہر میوہ کی دو قسمیں ہوں گی (کہ اس میں زیادہ تلذذ ہے، کبھی ایک قسم کا مزہ لے لیا کبھی دوسری قسم کا) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور) وہ لوگ تکیہ لگائے ایسے فرشوں پر بیٹھے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے (اور قاعدہ ہے کہ اوپر کا کپڑا بہ نسبت استر کے زیادہ نفیس ہوتا ہے، پس جب استر استبرق ہوگا تو اوپر کا کیسا کچھ ہوگا) اور ان دونوں باغوں کا پھل بہت نزدیک ہوگا (کہ کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر طرح بلا مشقت ہاتھ آسکتا ہے) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور) ان (باغوں کے مکانات اور محلات) میں نیچی نگاہ والیاں (یعنی حوریں) ہوں گی کہ ان (جنتی) لوگوں سے پہلے ان پر نہ تو کسی آدمی نے تصرف کیا ہوگا اور نہ کسی جن نے (یعنی بالکل محفوظ و غیر مستعمل ہوں گی) سو اے جن وانس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور رنگت اس قدر صاف و شفاف ہوگی کہ) گویا وہ یا قوت اور مرجان ہیں (اور ممکن ہے کہ تشبیہ سرخی میں بھی ہو اور تعدد مشبہ بہ کا غالباً اہتمام کیلئے ہے) سو اے جن وانس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (آگے مضمون مذکور کی تقریر و تاکید ہے کہ) بھلا غایت اطاعت کا بدلہ بجز غایت عنایت کے کچھ اور بھی ہوسکتا ہے (انہوں نے غایت اطاعت کی، اس لئے صلہ میں غایت عنایت کے مورد ہوئے) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (یہ تو خواص کے باغوں کی صفت مذکور ہوئی) اور (آگے عامہ مؤمنین کے باغوں کا ذکر ہے یعنی) ان (مذکورہ) دونوں باغوں سے کم درجہ میں دو باغ اور ہیں (جو عامہ مؤمنین کے لئے ہیں اور ہر ایک کو دو دو ملیں گے) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور آگے ان باغوں کی صفت ہے کہ) وہ دونوں باغ گہرے سبز ہوں گے سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے، ان دونوں باغوں میں دو چشمے ہوں گے کہ جوش مارتے ہوں گے سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (جوش مارنا بوجہ اس کے کہ چشمہ کے لوازم میں سے ہے اوپر کے چشموں میں بھی یہ صفت مشترک ہے اور وہاں تجرین بھی ہے اور یہاں نہیں پس یہ قرینہ ہے اس کا کہ یہ چشمے صفت جریان میں پہلے دو چشموں سے کم ہیں اور یہ باغ ان باغوں سے کم ہیں اور) ان دونوں باغوں میں میوے اور کجھوریں اور انار ہوں گے سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (یہاں مطلق فاکہہ اور پھر تفصیل میں نخل ورمان پر اکتفا فرمانا اور وہاں لفظ کل سے ہر قسم کے فواکہ کی تصریح اور پھر لفظ زوجان سے ان کے متعدد ہونے کا ذکر جس سے فواکہ کی کثرت معلوم ہوتی ہے، یہ سب قرائن اس کے ہیں کہ جنتین اولین ان اخریین سے افضل و اعلے ہیں اور) ان (باغوں کے مکانات) میں خوب سیرت خوب صورت عورتیں ہوں گی (یعنی حوریں) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے، وہ عورتیں گوری رنگت والی ہوں گی (اور) خیموں میں محفوظ ہوں گی سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور) ان (جنتی) لوگوں سے پہلے ان پر نہ تو کسی آدمی نے تصرف کیا ہوگا اور نہ کسی جن نے (یعنی غیر مستعمل ہوں گی) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (وہاں یا قوت و مرجان سے تشبیہ دینا جو کہ مفید مبالغہ ہے اور یہاں صرف حسان پر اکتفا فرمانا نیز قرینہ ہے کہ پہلے دو باغ دوسرے دو باغوں سے افضل ہیں اور یہاں کے سب صفات وہاں صراحۃً یا اشارةً مذکور ہیں مثلاً خوش سیرت ہونا، قصرت الطرف سے مفہوم ہوتا ہے، حور ہونا قرینہ مقام سے معلوم ہوتا ہے مقصورات سے زیادہ عصمت و عفت پر لفظ قصرت الطرف دلالت کرتا ہے، کہ جو ایسی ہوں گی وہ ضرور ہی گھر میں رہیں گی اور) وہ لوگ سبز مشجر اور عجیب خوبصورت کپڑوں (کے فرشوں) پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے، سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دو باغوں کے فرش بہ نسبت پہلے دو باغوں کے کم درجہ کے ہوں گے، کیونکہ وہاں تصریح ہے ریشمی ہونے کی، پھر دوہرے ہونے کی اور یہاں نہیں ہے آگے خاتمہ میں حق تعالیٰ کی ثنا و صفت ہے جس میں ان تمام مضامین کی جو سورة رحمن میں مفصل بیان ہوئے ہیں تائید و تاکید ہے کہ) بڑا بابرکت نام ہے آپ کے رب کا جو عظمت والا اور احسان والا ہے (نام سے مراد صفات ہیں جو کہ ذات کے غیر نہیں، پس حاصل جملہ کا ثنا ہوئی کمال ذات وصفات کے ساتھ اور شاید لفظ اسم بڑھانے سے مقصود مبالغہ ہو کہ مسمی تو کیسا کامل اور بابرکت ہوگا اس کا تو اسم بھی مبارک اور کامل ہے ) معارف و مسائل جس طرح سابقہ آیات میں مجرمین کی سخت سزاؤں کا ذکر تھا ان آیات میں ان کے بالمقابل مؤمنین صالحین کی عمدہ جزاؤں اور نعمتوں کا بیان ہے جن میں اہل جنت کے پہلے دو باغوں کا ذکر اور ان میں جو نعمتیں ہیں ان کا بیان ہے، اس کے بعد دوسرے دو باغوں کا اور ان میں مہیا کی ہوئی نعمتوں کا ذکر ہے۔ پہلے دو باغ جن حضرات کے لئے مخصوص ہیں ان کو تو متعین کر کے بتلا دیا ہے (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ ) یعنی ان دو باغوں کے مستحق وہ لوگ ہیں جو ہر وقت ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے قیامت کے روز کی پیشی اور حساب و کتاب سے ڈرتے رہتے ہیں جس کے نتیجہ میں وہ کسی گناہ کے پاس نہیں جاتے، ظاہر ہے کہ ایسے لوگ سابقین اور مقربین خاص ہی ہو سکتے ہیں۔ دوسرے دو باغوں کے مستحق کون ہوں گے اس کی تصریح آیات مذکورہ میں نہیں کی گئی، مگر یہ بتلا دیا گیا ہے کہ یہ دونوں باغ پہلے دو باغوں کی نسبت کم درجہ کے ہوں گے (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ ) یعنی پہلے دو باغوں سے کمتر اور دو باغ ہیں، اس سے بقرینہ مقام معلوم ہوگیا کہ ان دو باغوں کے مستحق عام مؤمنین ہوں گے جو مقربین خاص سے درجہ میں کم ہیں۔ پہلے اور دوسرے دو باغوں کی تفسیر میں حضرات مفسرین نے اور بھی توجیہات بیان فرمائی ہیں، یہاں جو تفسیر اختیار کی گئی ہے کہ پہلے دو باغ سابقین اولین اور مقربین خاص کے لئے ہیں اور دوسرے دو باغ عامہ مؤمنین کے لئے اور یہ کہ یہ دوسرے دو باغ پہلے دو باغوں سے درجہ میں کم ہیں، روایات حدیث سے یہی تفسیر راجح معلوم ہوتی ہے جیسا کہ بیان القرآن میں بحوالہ در منثور یہ حدیث مرفوع نقل کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آیت وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ اور وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ کی تفسیر میں فرمایا جنتان من ذھب للمقربین و جنتان من ورق لاصحب الیمین |" یعنی دو باغ سونے کے بنے ہوئے ہیں مقربین کے لئے اور دو باغ چاندی کے اصحاب الیمین یعنی عام مؤمنین صالحین کے لئے |" نیز در منثور میں حضرت براء بن عازب سے موقوفاً یہ روایت کیا ہے العینان التی تجریان خیر من النضاختن، یعنی پہلے دو باغوں کے دو چشمے جن کے بارے میں تجریان فرمایا ہے وہ بہتر ہیں دوسرے دو باغوں کے چشموں سے جن کے متعلق نضاختان فرمایا ہے، کیونکہ نضاختان کے معنی ہیں ابلنے والے دو چشمے، تو یہ صفت ہر چشمہ میں ہوتی ہے لیکن جن کو تجریان کے عنوان سے بیان کیا ہے، ان میں ابلنے کے علاوہ دور تک سطح زمین پر جاری رہنے کی صفت مزید ہے۔ یہ اجمالی بیان تھا ان چار چشموں کا جو اہل جنت کو ملیں گے، اب الفاظ آیات کے ساتھ ان کے معانی کو دیکھئے۔ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ ، مقام رب سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک قیامت کے روز حق تعالیٰ کے سامنے حساب کے لئے پیشی ہے اور اس سے خوف کے معنی یہ ہیں کہ جلوت و خلوت میں اور ظاہر و باطن کے تمام احوال میں اس کو یہ مراقبہ دائمی رہتا ہو کہ مجھے ایک روز حق تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا اور اعمال کا حساب دینا ہے اور ظاہر ہے جس کو ایسا مراقبہ ہمیشہ رہتا ہو وہ گناہ کے پاس نہیں جائے گا۔ اور قرطبی وغیرہ بعض حضرات مفسرین نے مقام ربہ کی یہ تفسیر بھی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ہر قول و فعل اور خفیہ و علانیہ عمل پر نگراں اور قائم ہے، ہماری ہر حرکت اس کے سامنے ہے، حاصل اس کا بھی وہی ہوگا کہ حق تعالیٰ کا یہ مراقبہ اس کو گناہوں سے بچا دے گا۔