Surat ur Rehman

Surah: 55

Verse: 7

سورة الرحمن

وَ السَّمَآءَ رَفَعَہَا وَ وَضَعَ الۡمِیۡزَانَ ۙ﴿۷﴾

And the heaven He raised and imposed the balance

اسی نے آسمان کو بلند کیا اور اسی نے ترازو رکھی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And the heaven He has raised high, and He has set up the balance. meaning the justice, as He said in another Ayah, لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَـتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَـبَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ Indeed, We have sent Our Messengers with clear proofs, and sent down with them the Book and the balance that mankind may keep up equity. (57:25) Allah said here, أَلاَّ تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

7۔ 1 یعنی زمین میں انصاف رکھا، جس کا اس نے لوگوں کو حکم دیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦] میزان کا مفہوم :۔ اس آیت میں میزان سے اکثر مفسرین نے میزان عدل مراد لی ہے۔ جس کے سہارے یہ زمین و آسمان قائم ہیں جیسا کہ احادیث میں بھی مذکور ہے۔ اس صورت میں ان کے عدل سے مراد وہ توازن و تناسب ہے۔ جو ہر سیارے میں قوت جاذبہ یعنی کشش ثقل اور مرکز گریز قوت کے درمیان رکھ دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ہر سیارے کا درمیانی فاصلہ، ان کی رفتار اور ان میں باہمی تعلق بھی شامل ہے اور یہ اتنا لطیف اور خفیف تعلق ہے جو انسان کی سمجھ سے باہر ہے اور اس توازن و تناسب کو میزان کے لفظ سے اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ انسان کو سمجھانے کے لیے اس لفظ کے مفہوم کے قریب تر کوئی لفظ نہ تھا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ وَالسَّمَآئَ رَفَعَھَا : یہاں بھی ” رفع السمائ “ کے بجائے ” والسماء رفعھا “ میں آسمان کو پہلے لا کر اس کی اہمیت کی طرف اور اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اسے بلند کرنا اس اکیلے کا کام ہے ، کسی اور کا اس میں کوئی دخل نہیں ، پھر کسی اور کی پرستش کیوں ہو ؟ آسمان کو اونچا اٹھانے میں اس کے پیدا کرنے کا ذکر خود بخود آگیا ۔ اونچا اٹھانے کا ذکر خاص طورپر اس لیے فرمایا کہ اتنے بڑے آسمان کو اس طرح ستونوں کے بغیر پیدا کرنا اور اسے اتنا بلند بنایا بےحد تعجب انگیز ہے کہ اس کے نیچے سورج، چاند اور ان سے ہزاروں گنا بڑے ستیاروں پر مشتمل کہکشائیں محو گردش ہیں ، نہ انہیں راستے میں کسی ستون کی رکاوٹ پیش آتی ہے ، نہ ہزاروں نوری سالوں کے فاصلے سے ان کی روشنی زمین پر آنے کے درمیان کوئی چیز حائل ہوتی ہے۔ ٢۔ وَوَضَعَ الْمِیْزَانَ :” المیزان “ ” وزن “ سے ” مفعال “ کے وزن پر ہے جو اصل میں ” موزان “ ہے ، وزن کا آلہ ۔” وزن “ چیزوں کے ایک دوسرے کے مقابلے میں برابر کم و بیش ہونے کے اندازے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے انسان کی ہر چیز کی مقدار معلوم کرنے کے لیے میزان کا طریقہ سکھایا ۔ اس میزان میں ہر قسم کے پیمانے آجاتے ہیں ، وزن ، کیل ، مساحت ، حرارت ، برودت ، دباؤ ، نمی ، غرض ہزارہا قسم کے پیمانے بنانے کا سلیقہ عطاء فرمایا ، جن سے وہ اپنے معاملات درست اور بہتر سے بہتر طریقے کے ساتھ چلاتا ہے۔ اس کے بغیر کوئی کام بھی درست انجام نہیں پاسکتا، پھر انہی پیمانوں کے ساتھ وہ ایک دوسرے سے لین دین کرتا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتے تو دلی اطمینان کے ساتھ باہمی لین دین ممکن نہیں تھا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَالسَّمَاءَ رَ‌فَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ (And He raised the sky high, and has placed the scale....55:7) The verbs rafa&a and wada` a are antonyms: rafa&a means &to raise up& and wada&a means &to put down&. The verse first describes that Allah has raised the heavens. This could have its obvious or outer meaning referring to the physical height of the sky, and it could also have its metaphorical meaning, referring to the high status of the heaven: In relation to the earth, the heaven occupies a higher position. Normally, the earth is understood to be the opposite of the heaven. From this point of view, the heaven and the earth are treated as opposites and mentioned throughout the Holy Qur&an in that way. Having described the high position of the heaven, the Qur&an goes on to describe that Allah has set the balance, but &placing the scale& vis-a-vis &raising the heaven& does not seem to form a suitable pair according to the linguistic norm. As a matter of fact, a closer analysis of the context indicates that the verse is describing the &placing of the earth&. Three verses later, verse (10) reads وَالْأَرْ‌ضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ (And the earth is placed by Him for creatures...55:10) Thus the Qur&an is actually describing the heaven and the earth as opposites. In between the two, a third factor [ that of placing the scale ] is inserted for a sage reason. The wisdom in this seems to lie in the fact that the verses that follow lay stress on observing justice and fairness. They do not allow violation of rights and practice of injustice. Following the verses referring to &raising the heaven& and &placing the earth& are verses that describe the scale and enjoin the correct use of it. This implies that the ultimate purpose of creating the heaven and the earth was to establish justice, peace and harmony. Peace, safety, security and harmony cannot prevail on earth without establishing justice. Without justice, chaos, disorder, mischief and corruption will hold sway in the land. Allah, the Pure and the Most High, knows best! The word مِيزَانَ mizan has been interpreted variously. In the current verse, scholars like Mujahid, Qatadah, Suddi رحمۃ اللہ علیہم and others interpret it in the sense of &justice&, because that is the purpose of mizan [ scale ]. Other scholars have taken the word in its obvious sense of a piece of equipment used to determine the weights of people or things. This equipment could be a pair of scales, consisting of a bar with a pan or a dish at each end or it may be some modern equipment used for the purpose of measuring and weighing. The ultimate sense of this interpretation in any case is maintaining rights and establishing justice and fair play.

وَالسَّمَاۗءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ ، رفع اور وضع دو متقابل لفظ ہیں، رفع کے معنی اونچا اور بلند کرنے کے ہیں اور وضع کے معنی نیچے رکھنے اور پست کرنے کے آتے ہیں، اس آیت میں اول آسمان کو بلند کرنے اور رفعت دینے کا ذکر ہے، جس میں ظاہری بلندی بھی داخل ہے اور معنوی یعنی درجہ اور رتبہ کی بلندی بھی کہ آسمان کا درجہ زمین کی نسبت بالا و برتر ہے، آسمان کا مقابل زمین سمجھی جاتی ہے اور پورے قرآن میں اسی تقابل کے ساتھ آسمان و زمین کا ذکر کیا گیا ہے اس آیت میں رفع سماء کا ذکر کرنے کے بعد وضع میزان کا ذکر کیا گیا ہے جو آسمان سے تقابل میں نہیں آتا، غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی درحقیقت آسمان کے تقابل میں زمین کو لایا گیا ہے جیسا کہ تین آیتوں کے بعد (وَالْاَرْضَ وَضَعَهَا لِلْاَنَامِ ) آیا ہے، تو دراصل تقابل رفع سماء اور وضع ارض ہی کا ہے، مگر ان دونوں کے درمیان ایک تیسری چیز یعنی وضع میزان کا ذکر کسی خاص حکمت سے کیا گیا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکمت اس میں یہ ہے کہ وضع میزان اور پھر اس کے بعد میزان کے صحیح صحیح استعمال کا حکم جو بعد کی تین آیتوں میں آیا ہے اس سب کا خلاصہ عدل و انصاف کا قائم کرنا ہے اور کسی کی حق تلفی اور ظلم وجور سے بچانا ہے، یہاں رفع سماء اور وضع ارض کے درمیان آیات میزان کے ذکر میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ آسمان و زمین کی تخلیق کی اصلی غایت و مقصود بھی عالم میں عدل و انصاف کا قیام ہے اور زمین میں امن وامان بھی عدل و انصاف ہی کے ساتھ قائم رہ سکتا ہے، ورنہ فساد ہی فساد ہوگا، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ لفظ میزان کی تفسیر اس آیت میں حضرت قتادہ، مجاہد، سدی وغیرہ نے عدل سے کی ہے، کیونکہ میزان کا اصل مقصد عدل ہی ہے اور بعض حضرات مفسرین نے یہاں میزان کو اپنے معروف معنی میں لیا ہے اور حاصل اس کا بھی وہی ہے کہ حقوق میں عدل و انصاف سے کام لیا جائے اور میزان کے معنی میں ہر وہ آلہ داخل ہے جس سے کسی چیز کی مقدار معین کی جائے، خواہ وہ دو پلے والی ترازو ہو یا کوئی جدید آلہ پیمائش۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالسَّمَاۗءَ رَفَعَہَا وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ۝ ٧ ۙ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ رفع الرَّفْعُ في الأجسام الموضوعة إذا أعلیتها عن مقرّها، نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] ، قال تعالی: اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] ( ر ف ع ) الرفع ( ف ) کے معنی اٹھانے اور بلند کرنے کے ہیں یہ مادی چیز جو اپنی جگہ پر پڑی ہوئی ہو اسے اس کی جگہ سے اٹھا کر بلند کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] اور ہم نے طو ر پہاڑ کو تمہارے اوپر لاکر کھڑا کیا ۔ اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] وہ قادر مطلق ہے جس نے آسمان کو بدوں کسی سہارے کے اونچا بناکر کھڑا کیا ۔ وضع الوَضْعُ أعمّ من الحطّ ، ومنه : المَوْضِعُ. قال تعالی: يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَواضِعِهِ [ النساء/ 46] ويقال ذلک في الحمل والحمل، ويقال : وَضَعَتِ الحملَ فهو مَوْضُوعٌ. قال تعالی: وَأَكْوابٌ مَوْضُوعَةٌ [ الغاشية/ 14] ، وَالْأَرْضَ وَضَعَها لِلْأَنامِ [ الرحمن/ 10] فهذا الوَضْعُ عبارة عن الإيجاد والخلق، ووَضَعَتِ المرأةُ الحمل وَضْعاً. قال تعالی: فَلَمَّا وَضَعَتْها قالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُها أُنْثى وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِما وَضَعَتْ [ آل عمران/ 36] فأما الوُضْعُ والتُّضْعُ فأن تحمل في آخر طهرها في مقبل الحیض . ووَضْعُ البیتِ : بناؤُهُ. قال اللہ تعالی: إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 96] ، وَوُضِعَ الْكِتابُ [ الكهف/ 49] هو إبراز أعمال العباد نحو قوله : وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ كِتاباً يَلْقاهُ مَنْشُوراً [ الإسراء/ 13] ووَضَعَتِ الدابَّةُ تَضَعُ في سيرها وَضْعاً : أسرعت، ودابّة حسنةُ المَوْضُوعِ ، وأَوْضَعْتُهَا : حملتها علی الإسراع . قال اللہ عزّ وجلّ : وَلَأَوْضَعُوا خِلالَكُمْ [ التوبة/ 47] والوَضْعُ في السیر استعارة کقولهم : ألقی باعه وثقله، ونحو ذلك، والوَضِيعَةُ : الحطیطةُ من رأس المال، وقد وُضِعَ الرّجلُ في تجارته يُوضَعُ : إذا خسر، ورجل وَضِيعٌ بيّن الضعَةِ في مقابلة رفیع بيّن الرّفعة . ( و ض ع ) الواضع ( نیچے رکھ دینا ) یہ حطه سے عام ہے ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَأَكْوابٌ مَوْضُوعَةٌ [ الغاشية/ 14] اور آبخورے ( قرینے سے ) رکھے ہوئے ۔ اور اسی سے موضع ہے جس کی جمع مواضع آتی ہے جس کے معنی ہیں جگہیں یا موقعے جیسے فرمایا : ۔ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَواضِعِهِ [ النساء/ 46] یہ لوگ کلمات ( کتاب ) کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ۔ اور وضع کا لفظ وضع حمل اور بوجھ اتارنے کے معنی میں آتا ہے چناچہ محاورہ ہے وضعت لمرءۃ الحمل وضعا عورت نے بچہ جنا ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَلَمَّا وَضَعَتْها قالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُها أُنْثى وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِما وَضَعَتْ [ آل عمران/ 36] جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور جو کچھ ان کے ہاں پیدا ہوا تھا خدا کو خوب معلوم تھا تو کہنے لگیں کہ پروردگار میرے تو لڑکی ہوئی ہے ۔ لیکن الوضع والتضع کے معنی عورت کے آخر طہر میں حاملہ ہونے کے ہیں ۔ وضعت الحمل میں نے بوجھ اتار دیا اور اتارے ہوئے بوجھ کو موضوع کہا جاتا ہے اور آیت : ۔ وَالْأَرْضَ وَضَعَها لِلْأَنامِ [ الرحمن/ 10] اور اسی نے خلقت کے لئے زمین بچھائی ۔ میں وضع سے مراد خلق وایجا د ( یعنی پیدا کرنا ) ہے اور وضع البیت کے معنی مکان بنانے کے آتے ہیں چناچہ قرآن پا ک میں ہے : ۔ إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 96] پہلا گھر جو لوگوں کے عبادت کرنے کیلئے بنایا کیا گیا تھا ۔ اور آیت کریمہ : وَوُضِعَ الْكِتابُ [ الكهف/ 49] اور عملوں کی کتاب کھول کر رکھی جائے گی ۔ میں وضع کتاب سے قیامت کے دن اعمال کے دفتر کھولنا اور ان کی جزا دینا مراد ہے ۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : ۔ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ كِتاباً يَلْقاهُ مَنْشُوراً [ الإسراء/ 13] اور قیامت کے دن وہ کتاب اسے نکال دکھائیں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھے گا ۔ وضعت ( ف ) الدابۃ فی سیر ھا : سواری تیز رفتاری سے چلی اور تیز رفتار سواری کو حسنتہ المواضع ( وحسن المواضع کہا جاتا ہے ۔ اوضع تھا میں نے اسے دوڑایا قرآن پاک میں ہے : ۔ وَلَأَوْضَعُوا خِلالَكُمْ [ التوبة/ 47] اور تم میں ( فساد دلوانے کی غرض ) سے دوڑے دوڑے پھرتے ۔ اور وضع کا لفظ سیر یعنی چلنے کے معنی میں بطور استعارہ استعمال ہوتا ہے جیسا کہ القی باعہ وثقلہ : میں قیام کرنے سے کنایہ ہوتا ہے ۔ الوضیعۃ :( رعایت ) کمی جو اصل قمیت میں کی جائے اس نے تجارت میں نقصان اٹھایا رجل وضیع : نہایت خسیس آدمی ( باب کرم ) یہ رفیع کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے جس کے معنی بلند قدر کے ہیں ۔ ميز المَيْزُ والتَّمْيِيزُ : الفصل بين المتشابهات، يقال : مَازَهُ يَمِيزُهُ مَيْزاً ، ومَيَّزَهُ تَمْيِيزاً ، قال تعالی: لِيَمِيزَ اللَّهُ [ الأنفال/ 37] ، وقرئ : لِيَمِيزَ اللَّهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ والتَّمْيِيزُ يقال تارة للفصل، وتارة للقوّة التي في الدّماغ، وبها تستنبط المعاني، ومنه يقال : فلان لا تمييز له، ويقال : انْمَازَ وامْتَازَ ، قال : وَامْتازُوا الْيَوْمَ [يس/ 59] وتَمَيَّزَ كذا مطاوعُ مَازَ. أي : انْفَصَلَ وانْقَطَعَ ، قال تعالی: تَكادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ [ الملک/ 8] . ( م ی ز ) المیر والتمیز کے معنی متشابہ اشیاء کو ایک دوسری سے الگ کرنے کے ہیں ۔ اور مازہ یمیزہ میزا ومیزاہ یمیزا دونوں ہم معنی ہیں چناچہ فرمایا ۔ لِيَمِيزَ اللَّهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ تاکہ خدا ناپاک کو پاک سے الگ کر دے اور ایک قراءت میں لیمیز اللہ الخبیث ہے ۔ التمیز کے معنی الگ کرنا بھی آتے ہیں اور اس ذہنی قوت پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے فلان لا تمیز لہ فلاں میں قوت تمیز نہیں ہے ۔ انما ز اور امتاز کے معنی الگ ہونے کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے :۔ وَامْتازُوا الْيَوْمَ [يس/ 59] اور آج الگ ہوجاؤ اور تمیز کذا ( تفعل ) ماز کا مطاوع آتا ہے اور اس کے معنی الگ اور منقطع ہونے کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ تَكادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ [ الملک/ 8] گو یا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور اسی نے آسمان کو سب سے اونچا کیا ہے کہ اس تک کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی اور اسی نے زمین میں عدل و انصاف کے قائم رکھنے کے لیے ترازو رکھ دی تاکہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧{ وَالسَّمَآئَ رَفَعَہَا وَوَضَعَ الْمِیْزَانَ ۔ } ” اور آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کی۔ “ یہاں میزان سے مراد کائناتی نظام کے اندر پایا جانے والا مربوط اور خوبصورت توازن (cosmic balance) ہے جس کی وجہ سے یہ کائنات قائم ہے۔ یہ توازن تمام اجرامِ سماویہ کے اندر موجود کشش ثقل (gravitational force) کی وجہ سے قائم ہے۔ تمام اجرامِ فلکی اس کشش کی وجہ سے آپس میں بندھے ہوئے ہیں۔ قدرت کی طرف سے ہر ُ کرے ّکا دوسرے کرے سے فاصلہ ‘ اس کی کشش کی طاقت کی نسبت سے رکھا گیا ہے۔ اگر کہیں یہ فاصلہ ایک طرف سے معمولی سا کم ہوجائے اور دوسری طرف سے معمولی سا بڑھ جائے تو یہ سارا نظام تلپٹ ہوجائے اور تمام کرے آپس میں ٹکرا جائیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی تمام چیزوں میں ایک توازن قائم کر رکھا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

7 Almost aII the commentators have interpreted mizan (balance) to mean justice, and '...set the balance" to imply that AIIah has established the entire system of the Universe on justice. Had there been no harmony and balance and justice established among the countless stars and planets moving in space, and the mighty forces working in this Universe, and the innumerable creatures and things found here, this life on earth would not have functioned even for a moment. Look at the creatures existing in the air and water and on land for millions and millions of years on this earth. They continue to exist only because full justice and balance has been established in the means and factors conducive to life; in case there occurs a slight imbalance of any kind, every tract of lift would become extinct.

سورة الرَّحْمٰن حاشیہ نمبر :7 قریب قریب تمام مفسرین نے یہاں میزان ( ترازو ) سے مراد عدل لیا ہے ، اور میزان قائم کرنے کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کے اس پورے نظام کو عدل پر قائم کیا ہے ۔ یہ بے حد و حساب تارے اور سیارے جو فضا میں گھوم رہے ہیں ، یہ عظیم الشان قوتیں جو اس عالم میں کام کر رہی ہیں ، اور یہ لا تعداد مخلوقات اور اشیاء جو اس جہاں میں پائی جاتی ہیں ، ان سب کے درمیان اگر کمال درجہ کا عدل و توازن نہ قائم کیا گیا ہوتا تو یہ کارگاہ ہستی ایک لمحہ کے لیے بھی نہ چل سکتی تھی ۔ خود اس زمین پر کروڑوں برس سے ہوا اور پانی اور خشکی میں جو مخلوقات موجود ہیں ان ہی کو دیکھ لیجیے ۔ ان کی زندگی اسی لیے تو برقرار ہے کہ ان کے اسباب حیات میں پورا پورا عدل اور توازن پایا جاتا ہے ، ورنہ ان اسباب میں ذرہ برابر بھی بے اعتدالی پیدا ہو جائے تو یہاں زندگی کا نام و نشان تک باقی نہ رہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(55:7) والسماء رفعھا : ای خلق السماء ورفعھا۔ آسمان کو پیدا کیا اور اسے بلند کیا (الی الارض) زمین کے اوپر۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پہلے نیچے تھا پھر اسے بلند کردیا۔ بلکہ اسے پیدا ہی ایسا کیا۔ یا رفع السماء آسمان کو بلند کیا یعنی بلندیوں پر قائم کیا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع السماء ہے اور السماء بوجہ مفعول منصوب ہے۔ وضع واحد مذکر غائب وضع (باب فتح) مصدر اس نے قائم کیا۔ اس نے رکھا۔ المیزان۔ اسم مصدر۔ تول۔ اسم آلہ۔ ترازو۔ مجازی معنی عدل و انصاف، قانون عدل ، قواعد عدل۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں :۔ ای شرع العدل وامر بہ۔ اللہ تعالیٰ نے عدل کا قانون بنایا اور اس پر عمل کرنے کا حکم فرمایا۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : بالعدل قامت السموت والارض زمین و آسمان عدل پر قائم ہیں ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور اس میں آباد ہر چیز کو اس طرح آباد کیا جیسے اس کی بقاء اور نشو و نما کے لئے مناسب تھا۔ علماہ مودودی المیزان کی تشریح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :۔ قریب قریب تمام مفسرین نے یہاں میزان (ترازو) سے عدل مراد لیا ہے اور میزان قائم کرنے کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کے اس پورے نظام کو عدل پر قائم کیا ہے۔ یہ بےحدوحساب تارے اور سیارے جو فضا میں گھوم رہے ہیں، یہ عظیم الشان قوتیں جو اس عالم میں کام کر رہی ہیں اور یہ لاتعداد مخلوقات اور اشیاء جو اس جہان میں پائی جاتی ہیں۔ ان سب کے درمیان اگر کمال درجہ کا عدل و ازن قائم نہ کیا گیا ہوتا تو یہ کارگاہ ہستی ایک لمحہ کے لئے بھی نہ چل سکتی تھی۔ خود اس زمین پر کروڑوں برس سے ہوا اور پانی اور خشکی میں جو مخلوقات موجود ہیں ان ہی کو دیکھ لیجئے۔ ان کی زندگی اسی لئے تو برقرار ہے کہ ان کے اسباب حیات میں پورا پورا عدل اور توازن پایا جاتا ہے ورنہ ان اسباب میں ذرا سی بھی بےاعتدالی پیدا ہوجائے تو یہاں زندگی کا نام و نشان تک باقی نہ رہے۔ (تفہیم القرآن)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یعنی کم نہ تو لو … کم تولنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر تباہی آنے کا ایک سبب یہی تھا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : آسمان بھی اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کا مظہر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے فضا میں چھت کے طور پر ٹھہرا رکھا ہے۔ ” اللہ “ کی قدرت کی نشانیوں میں آسمان بھی اس کی عظیم قدرت کا ترجمان ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے صرف ایک آسمان کا ذکر کیا ہے اس لیے کہ انسان کی نگاہیں صرف پہلے آسمان کو دیکھتی ہیں۔ قرآن مجید نے اکثر مقامات پر ایک آسمان کی بجائے سات آسمانوں کا ذکر کیا ہے اور حدیث میں ساتوں آسمانوں کی موٹائی اور ان کے درمیان فاصلے کی تفصیل موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں بیشمار ملائکہ کی ڈیوٹی لگا رکھی ہے جو اپنے اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں۔ ملائکہ اور مخلوق کے بارے میں ارشاد ہے کہ آپ کے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (المدثر : ٣١) آسمانوں کے بارے میں یہ بھی بتلایا ہے۔ ” اس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے، تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کی بےربطی نہیں پاؤ گے۔ پھر پلٹ کر دیکھو کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے ؟ بار بار نظر دوڑاؤ تمہاری نظر تھک کر پلٹ آئے گی۔ “ (الملک : ٣، ٤) آسمانوں میں سب سے زیادہ ذکر پہلے آسمان کا کیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے ستاروں سے اسے مزین کردیا ہے۔ (الحجر : ١٧، ١٨) ” ہم نے آسمان دنیا کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے۔ “ (الملک : ٥) اگلی آیات کی تفسیر میں ترازو کے بارے میں ملاحظہ فرمائیں۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو فضا میں بلند کر رکھا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ترازو قائم فرمایا دیا ہے۔ تفسیر بالقرآن آسمانوں کے بارے میں قرآنی معلومات : ١۔ ” اللہ “ نے آسمانوں کو بغیر ستون کے قائم کیا ہے۔ (الرعد : ٢) ٢۔ اللہ نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا ہے۔ (الانبیاء : ٣٢) ٣۔ آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے ” اللہ “ نے انہیں الگ الگ کیا۔ (الانبیاء : ٣٠) ٤۔ اللہ نے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا ہے۔ (البقرۃ : ٢٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

والسمائ ........................ المیزان (55: ٩) (آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کردی ۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو ، انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو) یہاں آسمان کی طرف اشارہ ہے ، قرآن کے دوسرے اشارات کی طرح یہ بھی غافل دلوں کو جگانے کے لئے ہے اور اس کو اس طرف متوجہ کرنا مطلوب ہے کہ آسمان کو رات اور دن تم دیکھتے ہو تم اس کی اہمیت نہ کھو دو ۔ اس پر غور کرو ، اس کی عظمت اس کے جمال اور اس کی صفت میزانیت پر غور کرو کہ اس کے مدار اور رفتار میں بال برابر فرق نہیں آتا اور اس کے ذریعہ قدرت والے کی قدرتوں کو دیکھو۔ آسمان سے مراد جو بھی ہو ، یہاں حکم دیا جاتا ہے کہ ذرا اوپر کو دیکھو ، تمہارے اوپر ایک ہولناک فضا ہے۔ بہت بلند بہت دور ، بلا حدود وقیود ، اس فضا کے اندر ہزار ہا ملین عظیم الجثہ اجرام فلکی تیر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی دو آپس میں نہیں ملتے۔ ان کا کوئی مجموعہ دوسر مجموعات سے متصادم نہیں ہوتا۔ ان مجموعات کی تعداد میں ایک ایک مجموعے کی تعداد بعض اوقات ایک ہزار ملین تاروں تک پہنچ جاتی ہے۔ ہمارے نظام شمسی کو جس مجموعے کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اس میں ہمارے سورج جیسے اجرام بھی ہیں اور اس سے ہزار ہا گنا بڑے بھی ہیں۔ فقط ہمارے سورج کا قطر ٢١۔ املین کلومیٹر ہے اور یہ سب ستارے اور یہ سب کا مجموعے اس کائنات کے اندر نہایت ہی خوفناک تیزی کے ساتھ حرکت پذیر ہیں لیکن یہ سب اس عظیم اور محیرالعقول وسیع فضائے کائنات میں اس طرح ہیں جس طرح زمین کی فضا میں ذرات تیرر رہے ہیں جو ایک دوسرے سے دور دور چلتے ہیں اور ان کے اندر کوئی تصادم نہیں ہوتا۔ (اور اگر ہوجائے تو ؟ ) اللہ نے اس آسمان کو جس طرح بلند کیا ہے اور ہولناک حد تک وسیع کیا ہے اور اس کے لئے ایک فطری میزان تجویز کیا ہے اسی طرح تمعہارے لئے بھی ایک میزان حق تجویز کیا ہے۔ یہ ثابت ، مضبوط اور جماہوا ہے اور یہ میزان قدروں کی پیمائش اور وزن کے لئے ہے۔ افراد کی قدر ، واقعات کی قدر ، اشیاء کی قدر تاکہ ہر کسی کا وزن اور قدر متعین ہوجائے اور ان میں خلل واقع نہ ہو اور لوگ جہالت ، عناد اور خواہشات کے مطابق اچھے برے کا فیصلہ نہ کرتے پھریں۔ اس میزان کو فطرت کے اندر بھی رکھا ہوا ہے اور دعوت اسلامی کے اندر بھی رکھا ہوا ہے جسے تمام رسول لے کر آئے ہیں اور آخر میں یہ قرآن کی شکل میں آیا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آسمان کی رفعت اور بلندی : ﴿وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا ﴾ (اور اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بلند فرمایا) شمس وقمر کے بعد آسمان کی بلندی کا تذکرہ فرمایا اور یہ بتایا کہ آسمان کی جو بلندی ہے یہ اسے اس کے خالق جل مجدہ نے عطا فرمائی ہے، جب آسمان کی بلندی اس کے خالق تعالیٰ شانہ کی دی ہوئی ہے تو دوسرے مخلوق کے بارے میں سمجھ لینا چاہیے کہ جس کسی کو جو کسی قسم کی رفعت ملی ہے یا مل سکتی ہے وہ خالق تعالیٰ شانہ ہی کیطرف سے ہے اور ہوسکتی ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

4:۔ ” والسماء “ علویات کا ذکر۔ اوپر آسمان کو بلند کیا اور اس کی بلندی کا ایک اناز مقرر کیا۔ المیزان سے عدل و انصاف مراد ہے۔ عن مجاھد وقتادۃ والسدی ای وضع فی الارض العدل الذی امر بہ (قرطبی ج 17 ص 104) ۔ یعنی اس نے ھکم دیا ہے کہ ہر کام میں عدل و انصاف سے کام لو اس صورت میں عدل کا معیار قرآن ہوگا کیونکہ اس معاملے میں قرآن ہی میزان اور معیار ہوسکتا ہے علی ھذا المیزان القران لان فیہ بیان ما یحتاج الیہ وھو قول الحسین بن الفضل (قرطبی) اس صورت میں ان آیتوں کا حاصل یہ ہوگا کہ دنیا میں قرآن میزانِ عدل ہے ہر بات کو اس کی روشنی میں جانچو اور اس میزان کو نظر انداز نہ کرو اور اس میزان کے فیصلے سے تجاوز نہ کرو۔ واقیموا الوزن۔ الایۃ، ہر چیز کو نیک نیتی سے اس میزان پر ٹھیک ٹھیک تولو اور اس میں کمی نہ کرو۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ” المیزان “ سے مراد عقل ہے اور یہ ایک تمثیل ہے۔ انسان تولنے میں تین طریقوں سے نقصان کرتا ہے۔ اول یہ کہ میزان یعنی تروازو ہی میں کوئی نقص ڈالتا ہے۔ دوم یہ کہ ترازو تو درست ہوتا ہے لیکن ہاتھ سے ترازو کا یک طرف جھکا دیتا ہے۔ سوم یہ کہ ہاتھ سے جھٹکا بھی نہیں دیتا لیکن کسی اور تدبیر سے کم تولتا ہے، یہاں ان تینوں طریقوں سے منع فرمایا۔ حاصل تمثیل یہ ہے کہ جس طرح ترازو اس لیے ہے کہ اس سے ہر چیز کو عدل و انصاف سے تولا جائے اسی طرح عقل و انصاف کے تروازو سے ان تمام امور کو تولو اور فیصلہ کرو جس ذات پاک کے صفات و افعال وہ ہو جو یہاں مذکور ہیں کیا اس کے سوا کوئی اور برکات دہندہ ہوسکتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(7) اور اسی نے آسمان کو اونچا بلند کیا اور اسی نے ترازو رکھی۔