Surat ul Waqiya

The Inevitable

Surah: 56

Verses: 96

Ruku: 3

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

ایک مرتبہ حضرت ابو بکر صدیق نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ بوڑھے ہو گئے آپ نے فرمایا ہاں مجھے سورہ ہود سورہ واقعہ سورہ والمرسلات سورہ نباء سورہ اذا الشمس کورت نے بوڑھا کر دیا اس حدیث کو امام ترمذی لائے ہیں اور اسے حسن غریب کہتے ہیں ۔ حافظ ابن عساکر حضرت عبداللہ بن مسعود کے واقعات میں ایک روایت لائے ہیں کہ جب حضرت عبداللہ بیمار ہوئے جس بیماری سے آپ جاں بر نہ ہوئے اس بیماری میں حضرت عثمان بن عفان ان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے پوچھا آپ کو کیا شکوہ ہے ؟ فرمایا اپنے گناہوں کا ، دریافت کیا خواہش کیا ہے ؟ فرمایا اپنے رب کی رحمت کی ، پوچھا کسی طبیب کو بھیج دوں ؟ فرمایا طبیب نے ہی تو بیمار ڈالا ہے ۔ پوچھا کچھ مال بھیج دوں ؟ فرمایا مال کی کوئی حاجت نہیں ، کہا آپ کے بچوں کے کام آئے گا فرمایا کیا میری بچیوں کی نسبت آپ کو فقیری کا ڈر ہے ؟ سنئے میں نے اپنی سب لڑکیوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ ہر رات کو سورہ واقعہ پڑھ لیا کریں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص سورہ واقعہ کو ہر روز پڑھ لیا کرے اس کو ہرگز ہرگز فاقہ نہ پہنچے گا ۔ اس واقعہ کے راوی حضرت ابو ظبیہ بھی اس سورت کو بلاناغہ پڑھا کرتے تھے ۔ مسند احمد میں ہے حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں اسی طرح پڑھتے تھے جس طرح تم آج پڑھتے ہو لیکن آپ کی نماز تخفیف والی ہوتی تھے ۔ فجر کی نماز میں آپ سورہ واقعہ اور اسی جیسی سورتیں تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة الْوَاقِعَة نام : پہلی ہی آیت کے لفظ اَلْواقِعَہ کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے ۔ زمانہ نزول : حضرت عبداللہ بن عباس نے سورتوں کی جو ترتیب نزول بیان کی ہے اس میں وہ فرما رہے ہیں کہ پہلے سورہ طٰہٰ نازل ہوئی ، پھر الواقعہ اور اس کے بعد الشعراء ( الاتْقان للسُّیوطی ) ۔ یہی ترتیب عکرمہ نے بھی بیان کی ہے ( بیہقی ، دلائل النبوۃ ) ۔ اس کی تائید اس قصہ سے بھی ہوتی ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کے بارے میں ابن ہشام نے ابن اسحاق سے نقل کیا ہے ۔ اس میں یہ ذکر آتا ہے کہ جب حضرت عمر اپنی بہن کے گھر میں داخل ہوئے تو سورہ طٰہٰ پڑھی جا رہی تھی ۔ ان کی آہٹ سن کر ان لوگوں نے قرآن کے اوراق چھپا دیے ۔ حضرت عمر پہلے تو بہنوئی پر پِل پڑے اور جب بہن ان کو بچانے آئیں تو ان کو بھی مارا یہاں تک کہ ان کا سر پھٹ گیا ۔ بہن کا خون بہتے دیکھ کر حضرت عمر کو سخت ندامت ہوئی ، اور انہوں نے کہا ، اچھا مجھے وہ صحیفہ دکھاؤ جسے تم نے چھپا لیا ہے ۔ دیکھوں تو سہی اس میں کیا لکھا ہے ۔ بہن نے کہا آپ اپنے شرک کی وجہ سے نجس ہیں ، وانہ لا یمسھا الا الطاھر ، اس صحیفے کو صرف طاہر آدمی ہی ہاتھ لگا سکتا ہے ۔ چنانچہ حضرت عمر نے اٹھ کر غسل کیا اور پھر اس صحیفے کو لے کر پڑھا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت سورہ واقعہ نازل ہو چکی تھی ، کیونکہ اسی میں آیت لا یمسہ الا المطھرون وارد ہوئی ہے ۔ اور یہ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ حضرت عمر ہجرت حبشہ کے بعد 5 نبوی میں ایمان لائے ہیں ۔ موضوع اور مضمون : اس کا موضوع آخرت ، توحید اور قرآن کے متعلق کفار مکہ کے شبہات کی تردید ہے ۔ وہ سب سے زیادہ جس چیز کو ناقابل یقین قرار دیتے تھے وہ یہ تھی کہ کبھی قیامت برپا ہوگی جو میں زمین و آسمان کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور پھر تمام مرے ہوئے انسان دوبارہ جِلا اٹھائے جائیں گے اور ان کا محاسبہ ہوگا اور نیک انسان جنت کے باغوں میں رکھے جائیں گے اور گناہ گار انسان دوزخ میں ڈالے جائیں گے ۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ یہ سب خیالی باتیں ہیں جن کا عالم واقعہ میں پیش آنا غیر ممکن ہے ۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ جب وہ واقعہ پیش آ جائے گا اس وقت کوئی یہ جھوٹ بولنے والا نہ ہو گا کہ وہ پیش نہیں آیا ہے ، نہ کسی کی یہ طاقت ہو گی کہ اسے آتے آتے روک دے ، یا واقعہ سے غیر واقعہ بنا دے ۔ اس وقت لازماً تمام انسان تین طبقات میں تقسیم ہو جائیں گے ۔ ایک ، سابقین ۔ دوسرے ، عام صالحین ، تیسرے وہ لوگ جو آخرت کے منکر رہے اور مرتے دم تک کفر و شرک اور گناہ کبیرہ پر جمے رہے ۔ ان تینوں طبقات کے ساتھ جو معاملہ ہو گا اسے تفصیل کے ساتھ آیت 7 سے 56 تک بیان کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد آیت 57 سے آیت 74 تک اسلام کے ان دونوں بنیادی عقائد کی صداقت پر پے درپے دلائل دیے گئے ہیں جن کو ماننے سے کفار انکار کر رہے تھے ، یعنی توحید اور آخرت ۔ ان دلائل میں زمین و آسمان کی دوسری تمام چیزوں کو چھوڑ کر انسان کو خود اس کے اپنے وجود کی طرف اور اس غذا کی طرف جسے وہ کھاتا ہے اور اس پانی کی طرف جسے وہ پیتا ہے اور اس آگ کی طرف جس سے وہ اپنا کھانا پکاتا ہے ، توجہ دلائی گئی ہے ۔ اور اسے اس سوال پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے کہ تو جس خدا کے بنانے سے بنا ہے اور جس کے دیے ہوئے سامان زیست پر پل رہا ہے اس کے مقابلے میں خود مختار ہونے ، یا اس کے سوا کسی اور کی بندگی بجا لانے کا آخر تجھے حق کیا ہے؟ اور اس کے متعلق تو نے یہ کیسے گمان کر لیا کہ وہ ایک دفعہ تجھے وجود میں لے آنے کے بعد ایسا عاجز و درماندہ ہو جاتا ہے کہ دوبارہ تجھ کو وجود میں لانا چاہے بھی تو نہیں لا سکتا ؟ پھر آیت 75 سے 82 تک قرآن کے بارے میں ان کے شکوک کی تردید کی گئی ہے اور ان کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ بد نصیبو ، یہ عظیم الشان نعمت تمہارے پاس آئی ہے اور تم نے اپنا حصہ اس نعمت میں یہ رکھا ہے کہ اسے جھٹلاتے ہو اور اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے الٹی بے اعتنائی برتتے ہو ۔ قرآن کی صداقت پر دو مختصر سے فقروں میں یہ بے نظیر دلیل پیش کی گئی ہے کہ اس پر کوئی غور کرے تو اس کے اندر ویسا ہی محکم نظام پائے گا جیسا کائنات کے تاروں اور سیاروں کا نظام محکم ہے ، اور یہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا مصنف وہی ہے جس نے کائنات کا یہ نظام بنایا ہے ۔ پھر کفار سے کہا گیا ہے کہ یہ کتاب اس نوشتہ تقدیر میں ثبت ہے جو مخلوقات کی دسترس سے باہر ہے ۔ تم سمجھتے ہو کہ اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شیاطین لاتے ہیں ، حالانکہ لوح محفوظ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک جس ذریعہ سے یہ پہنچتی ہے اس میں پاک نفس فرشتوں کے سوا کسی کا ذرہ برابر بھی کوئی دخل نہیں ہے ۔ آخر میں انسان کو بتایا گیا ہے کہ تو کتنی ہی لن ترانیاں ہانکے اور اپنی خود مختاری کے گھمنڈ میں کتنا ہی حقائق کی طرف سے اندھا ہو جائے ، مگر موت کا وقت تیری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے ۔ اس وقت تو بالکل بے بس ہوتا ہے ۔ اپنے ماں باپ کو نہیں بچا سکتا ۔ اپنی اولاد کو نہیں بچا سکتا ۔ اپنے پیروں اور پیشواؤں اور محبوب ترین لیڈروں کو نہیں بچا سکتا ۔ سب تیری آنکھوں کے سامنے مرتے ہیں اور تو دیکھتا رہ جاتا ہے ۔ اگر کوئی بالا تر طاقت تیرے اوپر فرمانروا نہیں ہے اور تیرا یہ زعم درست ہے کہ دنیا میں بس تو ہی تو ہے ، کوئی خدا نہیں ہے ، تو کسی مرنے والے کی نکلتی ہوئی جان کو پلٹا کیوں نہیں لاتا ؟ جس طرح تو اس معاملہ میں بے بس ہے اسی طرح خدا کے محاسبے اور اس کی جزا و سزا کو بھی روک دینا تیرے اختیار میں نہیں ہے ۔ تو خواہ مانے یا نہ مانے ، موت کے بعد ہر مرنے والا اپنا انجام دیکھ کر رہے گا ۔ مقربین میں سے ہو تو مقربین کا انجام دیکھے گا ۔ صالحین میں سے ہو تو صالحین کا انجام دیکھے گا ۔ اور جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہو تو وہ انجام دیکھے گا جو ایسے مجرموں کے لیے مقدر ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

تعارف سورۃ الواقعہ یہ سورت مکی زندگی کے ابتدائی دور کی سورتوں میں سے ہے، اور اس میں معجزانہ فصاحت وبلاغت کے ساتھ پہلے تو قیامت کے حالات بیان فرمائے گئے ہیں، اور بتایا گیا ہے کہ آخرت میں تمام انسان اپنے انجام کے لحاظ سے تین مختلف گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے، ایک گروہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کا ہوگا جو ایمان اور عمل صالح کے لحاظ سے اعلی ترین مرتبے کے حامل ہیں، دوسرا گروہ ان عام مسلمانوں کا ہوگا جنہیں ان کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے، اور تیسرا گروہ ان کافروں کا ہوگا جن کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے، پھر ان تینوں گروہوں کو جن حالات سے سابقہ پیش آئے گا اسکی ایک جھلک بڑے مؤثر انداز میں دکھائی گئی ہے، اس کے بعد انسان کو خود اس کے اپنے وجود اور ان نعمتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اسی کا شکر بجالاکر اسکی وحدانیت کا اعتراف کرے، اور توحید پر ایمان لائے، پھر آخری رکوع میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان فرماتے ہوئے انسان کو اس کی موت کا وقت یاد دلایا گیا ہے کہ اس وقت وہ کتنا ہی بڑا آدمی سمجھا جاتا ہو، نہ تو خود اپنی موت سے چھٹکارا پاسکتا ہے نہ اپنے کسی محبوب کو موت سے بچاسکتا ہے، لہذا جو پروردگار موت اور زندگی کا مالک ہے وہی مرنے کے بعد بھی انسان کے انجام کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتا ہے، اور انسان کا کام یہ ہے کہ اس کی عظمت کے آگے سر بسجود ہو۔ سورت کی پہلی ہی آیت میں واقعہ کا لفظ آیا ہے جس سے مراد قیامت کا واقعہ ہے اور اسی کے نام پر اس سورت کو سورۂ واقعہ کہا جاتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اس سورة میں قیامت، آخرت، توحید، قرآن کریم کی عظمت اور اس کے متعلق کفار و مشرکین کے شبہات کو دور کیا گیا ہے۔ فرمایا کہ قیامت کا آنا یقینی ہے وہ دن کسی کو بلند اور سکی کو ذلیل و رسوا کر دے گا اور کوئی اس کو جھٹلانہ سکے گا۔ زلزلوں سے زمین ہلا دی جائے گی۔ یہ بڑے بڑے پہاڑے، ریزہ ریزہ اور غبار بن کر فضاؤں میں بکھر جائیں گے۔ فرمایا کہ اس وقت تین گروہوں میں تقسیم ہو جائو گے۔ ١۔ داہنے ہاتھ والے جن کی خوش نصیبی کا کیا کہنا۔ ٢۔ بائیں ہاتھ والے جن کی بدنصیبی کا کیا ٹھکانا۔ ٣- اور آگے والے تو آگے ہی رہیں گے۔ وہ اللہ کے مقرب بندے نعمتیں بھری جنت میں ہوں گے۔ اگلوں میں سے بہت اور پچھلے والوں میں سے کم ہوں گے۔ وہ حسین ترین جڑائو تخت پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ان کو خدمت کے لئے ہمیشہ جوان رہنے والے لڑکے شراب کے چشموں سے لبریز گلاس، برتن اور ساغر لیے دوڑتے ہوں گے۔ یہ وہ شراب ہوگی جسے پینے کے بعد نہ تو سرد درد ہوگا اور نہ وہ بہکیں گے۔ ان کے سامنے قسم قسم کے پھل اور مزیدار چیزیں ہوں گی وہ جس چیز کو چاہیں گے ان کو دی جائے گی۔ پرندوں کا گوشت ہوگا اور جس پرندے کے کھانے میں جیسے چاہیں گے استعمال کریں گے۔ ان کے لئے خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی وہ ایسی خوبصورت ہوں گی جیسے چھپا کر رکھے گئے قیمتی موتی۔ یہ سب کچھ ان کے اعمال کے اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ یہ قرآن جسے حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیش کر رہے ہیں یہ اللہ رب العالمین کا نازل کیا ہوا قرآن ہے۔ اس کی عظمت یہ ہے کہ اللہ نے اس کو ایک لوح میں محفوظ کردیا ہے جسے صرف پاکزیہ فرشتے ہی ہاتھ لگا سکتے ہیں فرمایا ہے کہ یہ قرآن جسے حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیش کر رہے ہیں یہ اللہ رب العالمین کا نازل کیا ہوا قرآن ہے۔ اس کی عظمت یہ ہے کہ اللہ نے اس کو ایک لوح میں محفوظ کردیا ہے جسے صرف پاکیزہ فرشتے ہی ہاتھ لگا سکتے ہیں۔ فرمایا کہ قرآن کریم اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت و ہے لیکن کیا نعمت کے حق ادا کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ تم اس سے نعمت منہ پھیر رہے ہو۔ فرمایا کہ ہر شخص کو ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہے لیکن اگر اس دنیا سے جانے والا اللہ کا مقرب بندہ ہے تو اس کے لئے راحت بھری جنتیں اور بہترین رزق ہے اگر وہ داہنے ہاتھ والوں میں سے ہے تو اس کے لئے اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہی سلامتی ہے لیکن اگر وہ بائیں ہاتھ والوں میں سے ہے تو سچائیوں کو جھٹلانے والے کا بدترین انجام یہ ہے کہ اس کو کھولتا ہوا پانی پینے کیلئے دیا جائے گا اور اس کو جہنم میں جھوک دیا جائے گا۔ لہٰذا اس دنیا سے رخصت ہونے کے لئے بہتر انجام کی جدوجہد کی جائے ورنہ برے انجام سے اس کو بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ بدلے میں دیا جائے گا جو وہ دنیا میں کرتے تھے۔ اس جنت میں کوئی فضول، بےہودہ اور گناہ کی بات نہ سنائی دے گی۔ جو بات بھی ہوگی وہ ایک دوسرے کی سلامتی کی بات ہوگی۔ اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کو بھی بیشمار نعمتیں عطا کی جائیں گی۔ بغیر کاٹنے کی مزیدار بیریاں، تہہ در تہہ چڑھے ہوئے کیلے، گھنی چھاؤں، ہر وقت پینے کیلئے صاف شفاف پانی، کبھی نہ ختم ہونے والے اور بغیر کسی روک ٹوک کے کثرت سے ملنے والے پھل، اونچی اونچی نشستیں، ان کی بیویوں کو دوبارہ جوان اور کنواری بنا دیا جائے گا جو اپنے شوہروں سے محبت کرنے والی ہم عمر بیویاں ہوں گی۔ ان داہنے ہاتھ والوں کا ایک بڑا گروہ اگلے لوگوں میں ہوگا اور ایک بڑا گروہ پچھلے لوگوں میں سے ہوگا۔ فرمایا بائیں ہاتھ والے جو اپنے بدترین انجام سے دوچار ہوں گے۔ جھلسا دینے والی گرم ہوائیں، کھولتا ہوا پانی، دھوئیں کے کالے بادل، کھانے کے لئے زقوم اور طرح طرح کے عذاب ہوں گے۔ ان پر کالے دھوئیں کے ایسے سائے ہوں گے جن میں نہ ٹھنڈک ہوگی اور نہ آرام و سکون۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں بڑے عیش و آرام سے رہا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گی اور ہماری ہڈیاں بھی چورہ چورہ ہوجائیں گی کیا ہم دوبارہ پیدا کئے جائیں گے ؟ اور کیا ہمارے وہ باپ دادا (جو ہزاروں سال پہلے گزرے ہیں) بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں گے ؟ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان شکی مزاج لوگوں سے کہہ دیجیے کہ ہاں سب اگلے پچھلے لوگ زندہ کر کے اس متعین و مقرر دن جمع کئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے گمراہو ! اور جھٹلانے والو ! تم زقوم کا درخت ضرور کھائو گے۔ تمہیں اس سے پیٹ بھرنا ہوگا۔ اس پر اوپر سے کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا اور اس دن تم پیاس کی شدت سے اس قدر بےحال ہو گے کہ اس طرح پانی پیو گے جیسے پیاسا اونٹ پانی پیتا ہے۔ یہ ہے ان ظالموں کی مہمان داری جو اس دن کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے تمہیں پیدا کیا۔ (جاننے کے باوجود) پھر بھی تم اس سچائی کو تسلیم نہیں کرتے۔ اچھا یہ بتائو نطفہ جسے تم ڈالتے ہو اس سے جیتا جاگتا آدمی ہم بناتے ہیں کہ تم بناتے ہو ؟ تم ایک بیج بوتے ہو اور ہم اس سے کھیت اگاتے ہیں، زراعت تم کرتے ہو یا ہم کرتے ہیں ؟ تم جس پانی کو استعمال کرتے ہو اس کا بادل ہم اٹھا کر تم پر برساتے ہیں جو میٹھا پانی ہوتا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اس کو کھارا اور کڑوا بنا ڈالیں۔ تم جس آگ کو سلگاتے ہو اس کا درخت ہم نے پیدا کیا ہے یا تم نے پیدا کیا ہے۔ فرمایا کہ یقینا تمہاری پیدائش، کھیتوں کا اگنا، بارش کا برسنا اور آگ کا جلنا یہ سب اللہ کی قدرت کے نشانات ہیں اگر وہ چاہے تو ان میں سے ہر چیز کی تاثیر کو بدل کر رکھ دے مگر اس کا کرم ہے کہ اس نے ہر چیز کو اپنے بندوں کیلئے بنایا ہے پھر بھی وہ شکر ادا نہیں کرتے۔ آخر میں اللہ نے ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ یہ قرآن کریم جسے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیش فرما رہے ہیں یہ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود گھڑا ہے نہ کسی شیطان نے اس کو نازل کیا ہے بلکہ یہ تو وہ قرآن کریم ہے جسے اللہ نے ایک محفوظ مقام (لوح محفوظ) میں رکھا ہوا ہے اس کو پاکیزہ فرشتوں کے سوا کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا اور اس کو رب العالمین نے نازل فرمایا ہے لیکن تم پھر بھی اس سے منہ پھیر رہے ہو کیا نعمت کے حق ادا کرنے کا یہی طریقہ ہے ؟ کہ تم اس کو جھٹلا رہے ہو۔ فرمایا کہ یہ سب کچھ اللہ کی قدرت سے ہے۔ فرمایا کہ تم دیکھتے ہو کہ جب کوئی شخص مر رہا ہے اور اس کی جان حلق تک پہنچ گئی ہے تم اس اپنے عزیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ وہ رخصت ہو رہا ہے۔ اپنی سی پوری کوشش کرتے ہو کہ اس کی جان بچا لو مگر تم اس وقت بالکل بےبس نظر آتے ہو۔ وہ تم سے دور جا رہا ہوتا ہے لیکن ہم اس کے بہت قریب ہوتے ہیں مگر تمہاری نظریں ہمیں دیکھ نہیں سکتیں۔ اگر وہ مرنے والا مقربین میں سے ہے تو اس کے لئے راحت بھیر جنتیں اور بہترین رزق ہوتا ہے اور اگر وہ داہنے والوں میں سے ہے تو اس پر سلامتی بھیجی جاتی ہے اگر وہ بائیں اہتھ والوں میں سے ہے، سچائیوں کو جھٹلان والا اور گمراہ ہے تو اس کو کھولتا ہوا پانی دے کر جہنم میں داخل کردیا جائے گا اور یہ سب کچھ روز روشن کی طرح کھلی حقیقت ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا ہے کہ ہر شخص کا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے وہی جزا یا سزا دے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے مقصد کیلئے جدوجہد کرتے رہیے اور اپنے عظیم پروردگار کی حمد و ثنا کرتے رہیے۔ یہی کامیابی اور نجات کا راستہ ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

سورة الواقعہ کا تعارف یہ سورت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی۔ اس کے تین رکوع اور چھیانوے (٩٦) آیات ہیں۔ قرآن مجید نے قیامت کے مختلف مراحل کا ذکر کیا ہے اور ان مراحل کی جلالت وہیبت کا منظر پیش کرتے ہوئے انہیں مختلف نام دئیے ہیں۔ قیامت کا دن زمین و آسمان پر بھاری ہوگا اور یہ اسرافیل کے صور سے یک دم واقع ہوجائے گا۔ قیامت اپنی ہیبت اور شدت کے اعتبار سے انتہائی خوفناک ہوگی اس لیے اسے الواقعہ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کے انکار کرنے سے قیامت ٹل نہیں سکتی۔ اس نے ہر صورت برپا ہو کر رہنا ہے اس لیے اسے الواقعہ کہا گیا ہے یعنی جس کے واقعہ ہونے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ اہل مکہ کی غالب اکثریت قیامت کی منکر تھی اس لیے وہ مختلف قسم کی باتیں اور بہانے پیش کرتے تھے۔ ایک موقع پر انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ قیامت ہر چیز تہس نہس کر دے گی۔ کیا پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہل سکتا ہے ؟ قرآن مجید نے اس کا جواب دیا کہ آپ سے پہاڑوں کے بارے میں استفسار کرتے ہیں انہیں بتلائیں کہ ہاں پہاڑوں کو اس طرح ریزہ ریزہ کردیا جائے گا کہ یہ مٹی کے ساتھ مٹی بن جائیں گے اور پوری زمین چٹیل میدان بنا دی جائے گی۔ دیکھنے والا اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھے گا۔ (وَّکُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَۃً فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ مَا اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ وَاَصْحٰبُ الْمَشْءَمَۃِ مَا اَصْحٰبُ الْمَشْءَمَۃ) (الواقعہ ٧ تا ٩) اور تم اس دن تین گروہوں میں تقسیم ہو گے۔ دائیں جانب والے ان کا کیا کہنا یہ نعمتوں والی جنت میں رہیں گے۔ اس میں ہر نبی کی امت کے آخری حصہ کے لوگ کم ہوں گے۔ دائیں جانب والے مرصّعتکیوں پر ٹیک لگا کر ایک دوسرے کے سامنے جلوہ فروز ہوں گے۔ ان کی خدمت کرنے کے لیے نو عمر بچے ہوں گے جو ان کے سامنے شراب کے جام پیش کریں گے اس شراب میں کسی قسم کا نشہ نہیں ہوگا۔ انہیں ہر قسم کا پھل اور پرندوں کا گوشت پیش کیا جائے گا اور چھپائے ہوئے موتیوں کی مانند حوریں پیش کی جائیں گی اور جنتیوں کو ہر طرف سے سلامتی کی صدائیں آئیں گی۔ مقربوں اور السّابقون کے بعد دوسرے درجے کے جنتیوں کو بھی السّابقون جیسی نعمتیں دی جائیں گی ان کے مقابلے میں بائیں جانب والے ہوں گے وہ جلتی ہوئی آگ، کھولتے ہوئے پانی اور کالے دھویں سے دوچار ہوں گے، نہ ان کے لیے ٹھنڈا پانی ہوگا اور نہ ہی انہیں آرام میسر ہوگا۔ ان کا سب سے بڑا قصور یہ ہوگا کہ وہ قیامت کو جھٹلایا کرتے تھے انہیں کھانے کے لیے زقوم کا درخت دیا جائے گا۔ جس سے ان کی بھوک ختم نہیں ہوگی اور یہ کھولتا ہوا پانی پیاسے ہونٹ کی طرح پینے کی کوشش کریں گے۔ الواقعہ کے آخر میں یہ بیان ہوا ہے کہ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں انہیں اپنی موت یاد کرنی چاہیے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة الواقعہ ایک نظر میں واقعہ سورة کا نام بھی ہے اور اس سورة کا موضوع بھی ہے ۔ اس مکی سورة کا مرکزی مضمون اور محور ہی بعث بعد الموت ہے۔ قرآن کی تکذیب کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے اس میں شک کرتے ہوئے یہ کہتے تھے۔ اء ذا…………الاولون (48:86) ” کیا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے اور ہڈیاں ہوگئے کیا ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور ہمارے پہلے اباء بھی “۔ یہی وجہ ہے کہ سورة کا آغاز ہی صفت قیامت سے ہوتا ہے اور اس کی صفت ایسے لفظ سے بیان کی گئی ہے جو ہر قسم کی بات کو ختم کردیتا ہے اور ہر قسم کے شک کو ختم کردیتا ہے اور اس کے اندر مستحکم یقین پیدا کردیتا ہے۔ قرآن اسے (الواقعہ) کہتا ہے۔ اذا وقعت…………کاذبۃ (2:56) ” جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آئے گا تو کوئی اس کے وقوع کو جھٹلانے والا نہ ہوگا “۔ پھر اس دن کے واقعات ایسے بیان کئے جاتے ہیں جو اسے تمام دوسرے دنوں سے ممتاز کردیتے ہیں۔ جہاں لوگوں کی قدریں بدل جائیں گی۔ حالات زمین بدل جائیں گے اور ہولناکیاں اس زمین کی شکل ہی بدل دیں گی۔ جس طرح قدریں بدل جائیں گی اسی طرح زمین بھی بدل جائے گی۔ خافضۃ……………ازوجا ثلثۃ (7:56) ” وہ تہہ وبالا کردینے والی آفت ہوگی۔ زمین اس وقت یکبارگی ہلا ماری جائے گی اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے۔ تم لوگ اس وقت تین گروہوں میں تقسیم ہوجائو گے “۔ اس کے بعد ان تین گروہوں کی تفصیلات ہیں یعنی السابقون الاولون ، اصحاب السمینہ اور اصحاب المشمہ۔ اور ان تینوں کا جو انجام ہوگا وہ بڑی تفصیل سے دیا گیا ہے۔ احساس میں یہ بات اس طرح بیٹھ جاتی ہے کہ گویا یہ واقعہ ہوگیا ہے۔ اس میں اب شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور یہ ہیں اس واقعہ کی تفصیلات جو تمہارے سامنے بیان ہورہی ہیں۔ مکذبین جس چیز کی تکذیب کررہے تھے اسے انہوں نے آنکھوں سے دیکھ لیا اور اپنا انجام بھی اور اہل ایمان کا انجام وہاں عذاب الیم کی تفصیلات دینے کے بعد ان کے بارے میں یہ اعلان ہوگا۔ انھم کانوا……………الاولون (45:56 تا 48) ” یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس انجام کو پہنچنے سے پہلے خوشحال تھے اور گناہ عظیم پر اصرار کرتے تھے۔ کہتے تھے ” کیا جب ہم مرکر خاک ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائے گا تو پھر اٹھا کھڑے کئے جائیں گے ؟ اور کیا ہمارے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں۔ “ اس وقت تو عذاب حاضر ہوگا اور یہ دنیا قصہ پارینہ ہوگی۔ وہاں ان کی یہ تلخ یادیں ان کو زیادہ ذلیل کرنے کے لئے یاد کرائی جائیں گی اور یہ بتایا جائے گا کہ تم نے دنیا میں یہ ذلت اختیار کررکھی تھی کہ تم محض خوشحالی کی وجہ سے تکذیب پر اصرار کررہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی سورة کا پہلا دور ختم ہوتا ہے اور دوسرا دور اسلامی نظریہ حیات کے متعلق ہے اور اس میں زیادہ زور عقیدہ حشرونشر پر ہے کیونکہ اس سورة کا اصل موضوع ہی قیامت ہے۔ یہ دوسرا موضوع نہایت ہی موثر انداز میں ہے اور اس دوسرے دور کاموادبھی ایسی چیزوں سے لیا گیا ہے جو لوگوں کے زیر مشاہدہ تھیں۔ ایسے مشاہدات اور تجربات جن سے ہر انسان گزرتا ہے۔ چاہے وہ جس سوسائٹی اور جس سطح کا ہے اور علمی اعتبار سے ان کا جو درجہ بھی ہے ، مثلاً ان کی پیدائش کا نظام ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے کہ وہ منی کے ایک ایسے قطرے کے ذریعے پیدا ہوتے ہیں جو رحم مادر میں گرتا ہے پھر ان کی موت اور ان کی جگہ دوسروں کی پیدائش اور اس سے یہ استدلال کہ اسی طرح تمہیں دوسری بار پیدا کیا جائے گا اور یہ دوسری پیدائش بھی اسی طرح ہوگی جس طرح پہلی پیدائش ہوتی ہے۔ پھر ان کے مشاہدے کے لئے کھیتی باڑی کے مشاہدات پیش کئے جاتے ہیں۔ یہ بھی زندگی کی ایک تصویر ہے اور نباتات کی تخلیق ، اللہ کی قدرتوں میں سے ایک اہم نمونہ ہے۔ اگر اللہ نہ چاہتا تو نہ یہ نباتات پیدا ہوتے اور نہ ان کے اندر دانے پیدا ہوتے۔ پھر وہ میٹھا پانی جس کے ذریعے پوری زندگی انسانوں ، حیوانوں اور نباتات کی پروان چڑھتی ہے۔ یہ پانی اللہ کے حکم اور اللہ کی قدرت پر موقوف ہے۔ اگر اللہ نہ چاہے تو بادلوں سے یہ پانی برسے ہی نہیں ۔ اگر اللہ چاہتا تو اسے کھاری بنا دیتا ، نہ اس سے نباتات اگتے اور نہ یہ زندگی کے لئے مفید ہوتا۔ پھر ذرا آگ کو دیکھو ، جسے تم جلاتے ہو ، اس کی ذرا اصلیت پر نگاہ ڈالو۔ یہ درختوں کے ذریعے جلتی ہے اور اس آگ کو دیکھ لو یہی ہے نمونہ نار جہنم۔ یہ تمام مشاہدات انسانوں کے روز مرہ مشاہدات ہیں لیکن انسان ان پر غور نہیں کرتا۔ قرآن کریم ان کے بارے میں انسان کے احساسات جگاتا ہے۔ اس دور میں مسئلہ قرآن اور کلام الٰہی بھی زیر بحث لایا جاتا ہے ۔ جو اس واقعہ کا بیان کررہا ہے اور ڈرارہا ہے۔ چناچہ مقامات ستارہ گان کی قسم کھا کر کہا جاتا ہے کہ قرآن کریم ایک عظیم امر ہے ، یہ ایک نہایت بلند پایہ کتاب ہے اور اس کو وہی لوگ چھو سکتے ہیں جو پاک ہوں اور یہ رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے۔ اس کے بعد ایک نہایت ہی حساس مشاہدہ ان کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ یہ نہایت ہی جذباتی مشاہدہ ہوتا ہے۔ انسانی روح حلق تک آپہنچتی ہے اور تمہارا کوئی محبوب اس دنیا کے اس کنارے کھڑا ہوتا ہے اور اس کے تمام محبان ہاتھ بندھے ہوئے بےبس اس کے اردگرد کھڑے ہوتے ہیں۔ کچھ کرنے سے لاچار ہوتے ہیں۔ ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے اردگرد کیا ہورہا ہے۔ اس کے جسم میں کیا ہورہا ہے اور تمام معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ اس کی جان کنی ہوتی ہے اور وہ اگلے سفر کی بارے میں دیکھ رہا ہوتا ہے لیکن وہ کچھ کہہ نہیں سکتا۔ اشارہ بھی نہیں کرسکتا۔ سورة کا خاتمہ ایک سچی خبر سے ہوتا ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ کی تسبیح کرو۔ ان ھذا…………العظیم (96:56) ” یہ سب کچھ قطعی حق ہے ، پس اے نبی ، اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔ “ یوں سورة کا آغاز اور انجام ایک ہوجاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi