Surat ul Waqiya
Surah: 56
Verse: 1
سورة الواقعة
اِذَا وَقَعَتِ الۡوَاقِعَۃُ ۙ﴿۱﴾
When the Occurrence occurs,
جب قیامت قائم ہو جائے گی ۔
اِذَا وَقَعَتِ الۡوَاقِعَۃُ ۙ﴿۱﴾
When the Occurrence occurs,
جب قیامت قائم ہو جائے گی ۔
The Horrors of the Day of Resurrection Allah says, إِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ When the Waqi`ah occurs, Al-Waqi`ah (the occurrence), is one of the names of the Day of Resurrection, because that Day is real and will surely come. Allah the Exalted said in other Ayat, فَيَوْمَيِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ Then on that Day shall the Waqi`ah occur. (69:15) Allah the Exalted said, لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ
یقینی امر: واقع قیامت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے ۔ جسے اور آیت میں ہے آیت ( فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ 15ۙ ) 69- الحاقة:15 ) اس دن ہو پڑے گی ، اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے ، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی ، جسے اور آیت میں ہے ، آیت ( اِسْتَجِيْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ 47 ) 42- الشورى:47 ) اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں اور جگہ فرمایا آیت ( سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ Ǻۙ ) 70- المعارج:1 ) سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا ۔ اور آیت میں ہے آیت ( وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ ڛ قَوْلُهُ الْحَقُّ ۭوَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ۭ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۭوَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ 73 ) 6- الانعام:73 ) جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہو جا تو ہوجائے گی ۔ وہ عالم غیب و ظاہر ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے ، قیامت کا ذبہ نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے نہ وہاں سے لوٹنا ہے نہ واپس آنا ہے ۔ ( کاذبہ ) مصدر ہے جیسے ( عاقبۃ ) اور ( عافیہ ) وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے ، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا جو دنیا میں برے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا اعلیٰ علین ہو کر جنتی ہو جائیں گے ، متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی ، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی ، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا طور و عرج زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا ، اور بےطرح ہلنے لگے گی ، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے ( اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا Ǻۙ ) 99- الزلزلة:1 ) اور جگہ ہے آیت ( يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ Ǻ ) 22- الحج:1 ) لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بری چیز ہے ۔ پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ الفاظ آیت ( يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا 14 ) 73- المزمل:14 ) آئے ہیں ، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے ( ھباء ) ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں ، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے ۔ ( منبث ) اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے ۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے ۔ لوگ اس دن تین قسموں میں منقمس ہو جائیں گے ۔ ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو حضرت آدم کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے ، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے ۔ دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو حضرت آدم کی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے ۔ یہ سب جہنمی ہیں ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے ۔ تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہوگی یہ خاص الخاص لوگ ہیں یہ اصحاب یمین سے بھی زیادہ باقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں ۔ یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول ہیں انبیاء ہیں صدیق و شہداء ہیں ۔ یہ تعداد میں بہت دائیں ہاتھ والوں کی نسبت کم ہیں ۔ پس تمام اہل محشر یہ تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے ۔ اسی طرح سورۃ ملائیکہ میں فرمایا ہے آیت ( ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ 32ۭ ) 35- فاطر:32 ) یعنی پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنا چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں ۔ پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ آیت ( وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِيْنٌ ١١٣ۧ ) 37- الصافات:113 ) کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے ، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گذر چکا ۔ حضرت ابن عباس وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں ۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی ۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں آیت ( وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ Ċ۽ ) 81- التكوير:7 ) جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں فرمایا قسم قسم کی یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم تین قسم پر ہو جاؤ گے ، یعنی اصحاب یمین اصحاب شمال اور سابقین ۔ مسند احمد میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیا بند کرلیں اور فرمایا یہ جنتی ہیں مجھے کوئی پرواہ نہیں یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ، مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے ؟ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور رسول خوب جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں قبول تو کرلیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لئے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لئے کرتے ہیں ۔ سابقون کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں ، مثلاً انبیاء اہل علین حضرت یوشع بن نون جو حضرت موسیٰ پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے وہ مومن جن کا ذکر سوۃ یاسین میں ہے جو حضرت عیسیٰ پر پہلے ایمان لائے تھے ، حضرت علی بن ابی طالب جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے ، وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی ، ہر امت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے ، وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں ، جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں ۔ یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقون ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں ، قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت ( وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ ١٣٣ۙ ) 3-آل عمران:133 ) اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے ، پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا ، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے ، اسی لئے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں ۔ ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ فرشتوں نے درگاہ اللہ میں عرض کی کہ پروردگار تو نے ابن آدم کے لئے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لئے آخرت کر دے جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی ، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ کن سے پیدا کیا ، حضرت امام دارمی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب ( الرد علی الجہمیہ ) میں وارد کیا ہے ، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جیسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا ۔
1۔ 1 واقعہ بھی قیامت کے ناموں سے ہے، کیونکہ یہ لامحالہ واقع ہونے والی ہے، اس لئے اس کا نام بھی ہے۔
اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ :” الواقعۃ “ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے ، جیسے ” الطامۃ ، الازفعۃ، ” لضاحۃ “ اور ” القارعۃ “ اس کے نام ہیں ۔ ان میں ’ ’ تائ “ مبالغہ کے لیے ہے۔ اس کا نام ” الواقعۃ “ اس کے یقینی ہونے کی وجہ سے رکھا گیا ہے ، کیونکہ وہ ہر حال میں ہو کر رہنے والی ہے۔ یعنی جب قیامت قائم ہوگی، جیسا کہ سورة ٔ حاقہ میں ہے :(فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وَّاحِدَۃً فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعۃَُ ) (الحاقۃ : ١٣ تا ١٥)” پس جب صور میں پھونکا جائے گا ، ایک بار پھونکنا ۔ اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھایا جائے گا ، پس دونوں ٹکرا دیئے جائیں گے ، ایک بار ٹکرا دینا ، تو اس دن ہونے والی ہوجائے گی “۔
Special Characteristic of Surah Al-Waqi` ah: Sayyidna ` Abdullh Ibn Masuad&s (رض) Didactic Story on his Deathbed Ibn Kathir cites a story on the authority of Ibn ` Asakir from Abu Zabyah that when Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud (رض) was lying on his deathbed, Sayyidna ` Uthman (رض) paid him a visit and the following conversation ensued. ` Uthman: (رض) : مَا تَشتَکِی ؟ |"What are you suffering from?|" Ibn Masud (رض) ! ذُنُوبِی ” from my sins.|" ` Uthman (رض) : مَا تَشتَھِی ؟ |"Do you desire anything?|" Ibn Masud (رض) رَحمَۃَ رَبِّی :|"Yes, Allah&s mercy.|" ` Uthman : (رض) : اَلَاَ آمُرُلَکَ بِطَیَّبِ ؟ |"Shall I call a doctor for you?|" Ibn Masud (رض) ! اَطَّبِیبُ اَمرَضَنِی |"It is the doctor who has given me the ailment.|" ` Uthman: (رض) اَلاَ آمُرُ لَکَ بِعَطَاءِ ؟ |"May I send you an allowance from the public treasury?|" Ibn Masud (رض) |" ! لا حَاجَۃَ لِی فِیہ |"I have no need for it.|" ` Uthman (رض) یَکُونُ لِبَنَاتِکَ مِن بَعدِک |"Accept it, [ please ]. You are leaving daughters behind you. It will help them.|" Ibn Masud (رض) أتَخشیٰ عَلٰی بَنَاتِی الفَقرَ إنِّی اَمَرتُ بَنَاتِی یَقرَأنَ کُلَّ لَیلَۃِ سُورَۃَ الوَاقِعَۃ۔ اِنِّی سَمِعتُ رَسُول اللہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ : مَن قَرأ سُورَۃَ الوَاقِعَۃ کُلَّ لَم تُصِبہُ فَاقَۃً اَبَداً ۔ (ابن کثیر 4:2 ۔ 3) |"You are worried about my daughters that they must not suffer from poverty. I have no such worry, because I have instructed them to recite Surah Al-Waqi` ah every night. I have heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say, مَن قَرأ سُورَۃَ الوَاقِعَۃ کُلَّ لَم تُصِبہُ فَاقَۃً اَبَداً &Whoever recites Surah Al-Waqi` ah every night will never suffer from poverty&.|" Ibn Kathir, after citing this story from Ibn ` Asakir, has supported it with other chains of transmitters and other sources. Horrors of the Day of Resurrection إِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ (When the Imminent Event (of Doom) will occur...56:1). Ibn Kathir says Al-waqi` ah is one of the names of the Day of Resurrection, because there is no room for doubt in its occurrence. It is real and will surely come to pass.
خلاصہ تفسیر جب قیامت آوے گی جس کے واقع ہونے میں کوئی خلاف نہیں (بلکہ اس کا واقع ہونا بالکل صحیح اور حق ہے) تو وہ (بعض کو) پست کر دے گی (اور بعض کو) بلند کر دے گی (یعنی کفار کی ذلت کا اور مومنین کی رفعت کا اس روز ظہور ہوگا) جبکہ زمین کو سخت زلزلہ آوے گا اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ ہوجاویں گے پھر وہ پراگندہ غبار ( کی طرح) ہوجاویں گے اور تم (سب آدمی جو اس وقت موجود ہو یا پہلے گزر چکے ہیں یا آئندہ آنے والے ہیں) تین قسم ہوجاؤ گے (جن کی تفصیل آگے آتی ہے، خواص مومنین اور عوام مومنین اور کفار کہ سورة رحمن میں بھی یہی تین قسمیں مذکور ہیں اور آئندہ آیات میں خواص کو مقربین اور سابقین کہا ہے اور عوام مومنین کو اصحاب الیمین اور کفار کو اصحاب الشمال اور ان آیات اذا وقعت سے ثلتہ تک میں بعض واقعات نفخہ اولیٰ یعنی پہلے صور کے وقت کے بیان فرمائے ہیں جسے رجت، جیسا شروع سورة حجر میں آیا ہے اور بست اور بعض واقعات نفخہ ثانیہ یعنی دوسرے صور کے وقت کے جیسے خافضتہ رافعتہ اور کنتم ازواجا اور بعض مشترک جیسے اذا وقعت اور لیس لوقعتہا، چونکہ نفخہ اولیٰ سے نفخہ ثانیہ تک کا تمام وقت ایک وقت کے حکم میں ہے اس لئے ہر جز وقت کو ہر واقعہ کا وقت کہا جاتا ہے، آگے ان تینوں قسموں میں تقسیم بیان کرنے کے بعد تینوں کے احکام الگ الگ ذکر کئے ہیں، اول اجمالاً پھر تفصیلاً کہ تین قسمیں جو مذکور ہیں) سو (ان میں ایک قسم یعنی) جو داہنے والے ہیں وہ داہنے والے کیسے اچھے ہیں (مراد اس سے جن کے نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے اور گویہ مفہوم مقربین میں بھی مشترک ہے، لیکن اسی صفت پر اکتفا کرنے سے اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ ان میں اصحاب الیمین سے زائد کوئی اور صفت قرب خاص کی نہیں پائی جاتی، اس طرح مراد اس سے عوام مؤمنین ہوگئے، اور اس میں اجمالاً ان کی حالت کا اچھا ہونا بتلا دیا، آگے فی سدر مخضود الخ سے اس اجمال کی تفصیل کی گئی ہے) اور (دوسری قسم یعنی) جو بائیں والے ہیں وہ بائیں والے کیسے برے ہیں (مراد اس سے جن کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جاویں گے یعنی کفار اور اس میں اجمالاً ان کی حالت کا برا ہونا بتلا دیا آگے فی سموم الخ سے اس اجمال کی تفصیل کی گئی ہے) اور (تیسری قسم یعنی) جو اعلیٰ درجہ کے ہی ہیں (اور) وہ (خدا تعالیٰ کے ساتھ) خاص قرب رکھنے والے ہیں (اس میں تمام اعلیٰ درجہ کے بندے داخل ہیں، انبیاء اور اولیاء و صدیقین اور کامل متقی اور اس میں اجمالا ان کی حالت کا عالی ہونا بتلا دیا، آگے فی جنت النعم الخ سے اس اجمال کی تفصیل کی جاتی ہے یعنی) یہ (مقرب) لوگ آرام کے باغوں میں ہوں گے (جس کی مزید تفصیل علیٰ سرر سے آتی ہے اور درمیان میں ان مقربین خاص میں بہت سی جماعتوں کا شامل ہونا بتلاتے ہیں کہ) ان (مقربین) کا ایک بڑا گروہ تو اگلے لوگوں میں سے ہوگا اور تھوڑے پچھلے لوگوں میں سے ہوں گے (اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لے کر قیامت تک، کذا فی الدر عن جابر مرفوعاً اور متقدمین میں کثرت سابقین اور متاخرین میں قلت سابقین کی وجہ یہ ہے کہ خواص ہر زمانہ میں کم ہوتے ہیں اور متقدمین یعنی آدم (علیہ السلام) سے زمانہ خاتم الانبیاء تک کا زمانہ بہت طویل ہے، بہ نسبت امت محمدیہ کے جو قرب قیامت میں پیدا ہوئی ہے، تو باقتضاء عادت زمانہ اس طویل زمانہ کے خواص بہ نسبت امت محمدیہ کے مختصر زمانے کے خواص کے زیادہ ہوں گے کیونکہ اس طویل زمانہ میں لاکھ دو لاکھ تو انبیاء ہی ہیں اور خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں کوئی اور نبی نہیں، اس لئے خواص مقربین کا بڑا گروہ متقدمین کا ہوگا اور متاخرین یعنی امت محمدیہ میں اس سے کم ہوگا، آگے مقربین خواص کے لئے جو نعمتیں مقرر ہیں ان کی تفصیل یہ ہے کہ) وہ (مقرب) لوگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے (در منثور میں حضرت ابن عباس سے لفظ موضونہ کی یہی تفسیر نقل کی ہے اور) ان کے پاس ایسے لڑکے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، یہ چیزیں لے کر آمد و رفت کیا کریں گے آبخورے اور آفتابے اور ایسا جام شراب جو بہتی ہوئی شراب سے بھرا جاوے گا (اس کی تحقیق سورة صافات میں گزر چکی ہے) نہ اس سے ان کو درد سر ہوگا اور نہ اس سے عقل میں فتور آئے گا (یہ بھی سورة صافات میں گزر چکا ہے) اور میوے جن کو وہ پسند کریں اور پرندوں کا گوشت جو ان کو مرغوب ہو اور ان کے لئے گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی (مراد حوریں ہیں جن کی رنگت ایسی صاف شفاف ہوگی) جیسے (حفاظت سے) پوشیدہ رکھا ہوا موتی، یہ ان کے اعمال کے صلہ میں ملے گا (اور) وہاں نہ بک بک سنیں گے اور نہ وہ کوئی اور بیہودہ بات (سنیں گے، یعنی شراب پی کر یا ویسے بھی ایسی چیزیں نہ پائی جاویں گے جن سے عیش مکدر ہوتی ہے) بس (ہر طرف سے) سلام ہی سلام کی آواز آوے گی (کقولہ تعالیٰ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ ، سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ، وقولہ تعالیٰ وَتَحِيَّتُھُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ جو کہ دلیل اکرام و اعزاز کی ہے، غرض روحانی و جسمانی ہر طرح کی لذت و مسرت اعلیٰ درجہ کی ہوگی، یہ اجر سابقین کا بیان کیا گیا) اور (آگے اصحاب الیمین کی جزا کی تفصیل ہے یعنی) جو داہنے والے ہیں وہ داہنے والے کیسے اچھے ہیں (اس اجمال کا اعادہ تفصیل کے قبل اس لئے کیا گیا کہ اس اجمال کو فصل ہوگیا تھا آگے ان کے اچھے ہونے کا بیان ہے کہ) وہ ان باغوں میں ہوں گے جہاں بےخار بیریاں ہوں گی اور تہہ بتہ کیلے ہوں گے اور لمبا لمبا سایہ ہوگا اور چلتا ہوا پانی ہوگا اور کثرت سے میوے ہوں گے جو نہ ختم ہوں گے (جیسے دنیا کے میوے کہ فصل تمام ہونے سے تمام ہوجاتے ہیں) اور ان کی روک ٹوک ہوگی (جیسے دنیا میں باغ والے اس کی روک تھام کرتے ہیں) اور اونچے اونچے فرش (کیونکہ جن درجوں میں وہ بچھے ہیں وہ درجے بلند) ہوں گے (اور چونکہ مقام خوش عیشی کا ہے اور خوشی عیشی بدون عورتوں کے کامل نہیں ہوتی، اس طور پر ان اسباب عیش کے ذکر ہی سے عورتوں کا ہونا معلوم ہوگیا، لہٰذا آگے بہشتی عورتوں کی طرف انشانھن کی ضمیر راجع کر کے ان کا ذکر فرمایا جاتا ہے کہ) ہم نے (وہاں کی) ان عورتوں کو (جن میں جنت کی حوریں بھی شامل ہیں اور دنیا کی عورتیں بھی، جیسا کہ روح المعانی میں ترمذی کے حوالہ سے یہ حدیث مرفوع نقل کی ہے کہ اس آیت میں جن عورتوں کی تخلیق جدید کا ذکر ہے ان سے مراد وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں بوڑھی یا بدشکل تھیں ان کے متعلق فرمایا کہ ہم نے ان عورتوں کو) خاص طور پر بنایا ہے (جن کی تفصیل آگے ہے) یعنی ہم نے ان کو ایسا بنایا کہ وہ کنواریاں ہیں (یعنی بعد مقاربت کے پھر کنواری ہوجاویں گی، جیسا کہ درمنثور میں حضرت ابو سعید خدری کی مرفوع حدیث سے ثابت ہے اور) محبوبہ ہیں (یعنی حرکات و شمائل و ناز و انداز و حسن و جمال سب چیزیں ان کی دلکش ہیں اور اہل جنت کی) ہم عمر ہیں (اس کی تحقیق سورة ص میں گزر چکی ہے) یہ سب چیزیں داہنے والوں کے لئے ہیں (آگے یہ بتلاتے ہیں کہ داہنے والے بھی مختلف قسم کے لوگ ہوں گے یعنی) ان (اصحاب الیمین) کا ایک بڑا گروہ اگلے لوگوں میں سے ہوگا اور ایک بڑا گروہ پچھلے لوگوں میں سے ہوگا (بلکہ متاخرین میں اصحاب الیمین بہ نسبت متقدمین کے تعداد میں زیادہ ہوں گے، چناچہ احادیث میں تصریح ہے کہ اس امت کے مؤمنین کا مجموعہ پچھلی تمام امتوں کے مؤمنین کے مجموعہ سے زیادہ ہوگا اور اس کی یہی صورت ہو سکتی ہے کہ اصحاب الیمین اس امت میں زیادہ ہوں کیونکہ خواص مقربین کی اکثریت تو متقدمین میں خود آیت بالا سے ثابت ہوچکی ہے اور جب اصحاب الیمین مرتبہ میں مقربین سے کم ہیں تو ان کی جزا بھی کم ہوگی سو اس کی توجیہ یہ ہے کہ مقربین کی جزا میں وہ سامان عیش زیادہ مذکور ہے جو اہل شہر کو زیادہ مرغوب ہے اور اصحاب الیمین کی جزا میں وہ سامان عیش زیادہ مذکور ہے جو دیہات و قصبات والوں کو مرغوب ہے، اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ ان دونوں میں ایسا تفاوت ہوگا جیسا اہل شہر و اہل قریہ میں ہوا کرتا ہے، (کذافی الروح) اور (آگے کفار کا اور ان کے عقاب و عذاب کا ذکر ہے، یعنی) جو بائیں والے ہیں وہ بائیں والے کیسے برے ہیں (اور اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ) وہ لوگ آگ میں ہوں گے اور کھولتے ہوئے پانی میں اور سیاہ دھویں کے سیا یہ میں جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ فرحت بخش ہوگا (یعنی سایہ سے ایک جسمانی نفع ہوتا ہے راحت برودت اور ایک روحانی نفع ہوتا ہے لذت و فرحت، وہاں دونوں نہ ہوں گے، یہ وہی دھواں ہے جس کا ذکر اوپر سورة رحمن میں بلفظ نحاس آیا ہے، آگے اس عذاب کی وجہ ارشاد ہے کہ) وہ لوگ اس کے قبل (یعنی دنیا میں) بڑی خوشحالی میں رہتے تھے اور (اس خوشحالی کے غرہ میں) بڑے بھاری گناہ (یعنی شرک و کفر) پر اصرار کیا کرتے تھے (مطلب یہ کہ ایمان نہیں لائے تھے) اور (آگے ان کے کفر کا بیان ہے جس کو زیادہ دخل ہے طلب حق نہ ہونے میں یعنی وہ) یوں کہا کرتے تھے کہ جب ہم مر گئے اور مٹی اور ہڈیاں (ہو کر) رہ گئے تو کیا (اس کے بعد) ہم دوبارہ زندہ کئے جاویں گے اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی (زندہ ہوں گے، چونکہ منکرین قیامت میں بعض کفار پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں بھی تھے اس لئے اس کے متعلق ارشاد ہے کہ) آپ کہہ دیجئے کہ سب اگلے اور پچھلے جمع کئے جاویں گے ایک معین تاریخ کے وقت پر پھر (جمع ہونے کے بعد) تم کو اے گمراہو ! جھٹلانے والو ! درخت زقوم سے کھانا ہوگا پھر اس سے پیٹ بھرنا ہوگا، پھر اس پر کھولتا ہوا پانی پینا ہوگا پھر پینا بھی پیاسے اونٹوں کا سا (غرض) ان لوگوں کی قیامت کے روز یہ مہمانی ہوگی۔ معارف و مسائل سورة واقعہ کی خصوصی فضیلت مرض وفات میں عبداللہ بن مسعود کی سبق آموز ہدایات : ابن کثیر نے بحوالہ ابن عساکر ابوظبیہ سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کے مرض وفات میں حضرت عثمان غنی عیادت کے لئے تشریف لے گئے، حضرت عثمان نے پوچھا ما تشتکی (تمہیں کیا تکلیف ہے) تو فرمایا، ذنوبی (یعنی اپنے گناہوں کی تکلیف ہے) پھر پوچھا ما تشتھی (یعنی آپ کیا چاہتے ہیں) تو فرمایا رحمة ربی (یعنی اپنے رب کی رحمت چاہتا ہوں ) ، پھر حضرت عثمان نے فرمایا کہ میں آپ کے لئے کسی طبیب (معالج) کو بلاتا ہوں تو فرمایا الطبیب امرضی (یعنی مجھے طبیب ہی نے بیمار کیا ہے) پھر حضرت عثمان نے فرمایا کہ میں آپ کے لئے بیت المال سے کوئی عطیہ بھیج دوں تو فرمایا لا حاجة لی فیھا (مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں) حضرت عثمان نے فرمایا کہ عطیہ لے لیجئے وہ آپ کے بعد آپ کی لڑکیوں کے کام آئے گا تو فرمایا کہ کیا آپ کو میری لڑکیوں کے بارے میں یہ فکر ہے کہ وہ فقروقاقہ میں مبتلا ہوجائیں گی، مگر مجھے یہ فکر اس لئے نہیں کہ میں نے اپنی لڑکیوں کو تاکید کر رکھی ہے کہ ہر رات سورة واقعہ پڑھا کریں، کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے : من قرا سورة الواقعة کل لیلة لم تصبہ فاقة ابدا (ابن کثیر) |" جو شخص ہر رات میں سورة واقعہ پڑھا کرے وہ کبھی فاقہ میں مبتلا نہیں ہوگا |"۔ ابن کثیر نے یہ روایت بسند ابن عساکر نقل کرنے کے بعد اس کی تائید دوسری سندوں اور دوسری کتابوں سے بھی پیش کی ہے۔ اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ ، ابن کثیر نے فرمایا کہ واقعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، کیونکہ اس کے وقوع میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ ١ ۙ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ وقع الوُقُوعُ : ثبوتُ الشیءِ وسقوطُهُ. يقال : وَقَعَ الطائرُ وُقُوعاً ، والوَاقِعَةُ لا تقال إلّا في الشّدّة والمکروه، وأكثر ما جاء في القرآن من لفظ «وَقَعَ» جاء في العذاب والشّدائد نحو : إِذا وَقَعَتِ الْواقِعَةُ لَيْسَ لِوَقْعَتِها كاذِبَةٌ [ الواقعة/ 1- 2] ، ( و ق ع ) الوقوع کے معنی کیس چیز کے ثابت ہونے اور نیچے گر نے کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ وقع الطیر وقوعا پر ندا نیچے گر پڑا ۔ الواقعۃ اس واقعہ کو کہتے ہیں جس میں سختی ہو اور قرآن پاک میں اس مادہ سے جس قدر مشتقات استعمال ہوئے ہیں وہ زیادہ تر عذاب اور شدائد کے واقع ہونے کے متعلق استعمال ہوئے ہیں چناچہ فرمایا ۔ إِذا وَقَعَتِ الْواقِعَةُ لَيْسَ لِوَقْعَتِها كاذِبَةٌ [ الواقعة/ 1- 2] جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے اس کے واقع ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں ۔
(١۔ ٦) جب قیامت قائم ہوگی جس کے واقع ہونے میں کوئی اختلاف اور شبہ و تردد نہیں ہے وہ بعض کو ان کے اعمال کی وجہ سے پست کر کے دوزخ میں داخل کردے گا اور بعض کو ان کے اعمال کی وجہ سے بلند کر کے جنت میں داخل کردے گا۔ اور قیامت کو واقع سخت آواز کی وجہ سے کہا گیا ہے کیونکہ اس وقت ایسی سخت ترین آواز ہوگی کہ نزدیک اور دور والے سب سن لیں گے جبکہ زمین کو سخت زلزلہ آئے گا کہ اونچی اونچی عمارتیں اور پہاڑ پارہ پارہ ہوجائیں گے۔ اور روئے زمین پر پہاڑ بادلوں کی طرح اڑنے لگیں گے یا یہ کہ اکھڑ پڑیں گے یا یہ کہ ستو اور اونٹوں کے چارہ کی طرح ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پھر وہ پراگندہ غبار کی طرح ہوجائیں گے جیسا کہ سواریوں کے پیروں سے غبار اڑتا ہے یا سورج کی کرن ہوتی ہے جو کہ دروازہ کے سوراخ یا روشن دان سے کمرہ میں داخل ہوتی ہے۔
آیت ١ { اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ ۔ } ” جب وہ ہونے والا واقعہ رونما ہوجائے گا۔ “ اس آیت کا ترجمہ یوں بھی کیا جاسکتا ہے کہ ” جب وہ وقوع پذیرہونے والی وقوع پذیر ہوجائے گی “۔ یعنی جس قیامت کی خبر تم لوگوں کو دی جا رہی ہے جب وہ آجائے گی۔
1: اس آیت میں قیامت کو واقعہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ آج تو یہ کافر لوگ اس کا انکار کررہے ہیں، لیکن جب وہ واقعہ پیش آجائے گا تو کوئی اسے جھٹلا نہیں سکے گا۔
١۔ ١٢۔ مشرکین مکہ قیامت کے منکر تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے چند سورتوں میں قیامت کا حال بیان فرما کر ان کے انکار کو توڑا ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ اب تو یہ لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں لیکن جب قیامت قائم ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سن کر یہ لوگ قبروں سے ٹڈیوں کی طرح نکل کھڑے ہوں گے اور ان کے قبروں سے نکلتے ہی ایک آگ ان پر تعینات ہوجائے گی جو ان کو محشر کے میدان تک گھیر کرلے جائے گی۔ ابوہریرہ (رض) کی حدیث میں اس آگ کا ذکر ہے اگرچہ اس حدیث کے معنی میں دو قول ہیں ایک تو یہ ہے کہ یہ آگ علامات قیامت میں سے ہے جو قیامت سے پہلے عدن سے نکلے گی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ قیامت کے دن قبروں سے اٹھنے کے وقت یہ آگ بد لوگوں کے ساتھ ہوگی۔ یہ دونوں قول اوپر بیان کئے جا چکے ہیں لیکن ابوہریرہ (رض) کی اس حدیث میں یوم القیامۃ کا لفظ موجود ہے جس سے دوسرے قول کی پوری تائید ہوتی ہے غرض اس آگ سے ان لوگوں کو میدان محشر میں اور دوزخ میں طرح طرح کی تکلیفیں پیش آئیں گی۔ اسی وقت ان کو اس انکار کی حقیقت کھل جائے گی کہ اس وقت یہ اپنی کسی تکلیف کو ٹال نہ سکیں گے قیامت کے حال میں اوتارتی چڑھاتی جو فرمایا۔ حضرت عبد ١ ؎ اللہ بن عباس کے قول کے موافق اسکا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگ جو بڑھ چڑھ کر گزران کرتے اور اپنی اس دنیا کی خوشحالی کے سبب سے عقبیٰ سے بالکل غافل تھے قیامت کے دن وہ ذلیل و خوار ہوجائیں گے اور دنیا کی جس خوشحالی نے ان کو عقبیٰ سے غافل کردیا تھا اس دن کے عذاب کے آگے وہ دنیا کی چند روزہ خوشحالی ان کو یاد بھی نہ رہے گی۔ اسی طرح جو ایماندار لوگ دنیا میں گری ہوئی حالت سے اپنی گزر کرتے تھے وہ اس دن نہایت چڑھی بڑھی حالت سے ہوجائیں گے اور دنیا کی وہ اپنی گری ہوئی حالت سے اپنی گزر کرتے تھے وہ اس دن نہایت چڑھی بڑھی حالت سے ہوجائیں گے اور دنیا کی وہ اپنی گری ہوئی حالت ان کو یاد بھی نہ رہے گی۔ صحیح ٣ ؎ مسلم کی اسی مضمون کی انس بن مالک کی حدیث اوپر گزر چکی ہے اس سے حضرت عبد اللہ بن عباس کے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے زمین کا ہلنا اور پھٹنا اور پہاڑوں کا غبار کی طرح اڑنا اگرچہ یہ پہلے صور کے وقت ہوگا لیکن یہ قیامت کے شروع ہوجانے کی باتیں ہیں اس لئے دوسرے صور کے بعد کی باتوں کے ساتھ ان کا بھی ذکر فرمایا۔ اب قیامت کے دن سب لوگوں کی تین قسمیں جو ہوں گی ان کا ذکر فرمایا۔ داہنے ہاتھ والوں کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ ١ ؎ بن عباس (رض) نے فرمایا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے روحیں نکالنے کے وقت حضرت آدم ( علیہ السلام) کی سیدھی طرف تھے اور بائیں ہاتھ والے وہ لوگ ہیں جو حضرت آدم ( علیہ السلام) کی بائیں جانب تھے۔ یہ مسلم بن یسار کی حضرت عمر (رض) والی حدیث کا مضمون ہے جس کے موافق حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) نے داہنے اور بائیں ہاتھ والوں کی تفسیر کی ہے۔ یہ حدیث موطا ترمذی ٢ ؎ اور ابو داؤود میں ہے اگرچہ بعض علما نے اس حدیث کی سند پر یہ اعتراض کیا ہے کہ مسلم بن یسار نے حضرت عمر (رض) کو نہ دیکھا نہ ان دونوں کی کبھی ملاقات ہوئی پھر یہ روایت کیونکر صحیح ہوسکتی ہے لیکن موطا مسند امام احمد اور مستدرک حاکم کی سندیں ایسی نہیں ان میں یہ اعتراض نہیں ہے اس لئے یہ حدیث معتبر ہے اور حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) نے جو تفسیر کی ہے۔ وہ صحیح ہے اس حدیث کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا تو ان کی پشت سے ان روحوں کو نکالا جو قیامت تک دنیا میں آنے والی تھیں۔ اور داہنی جانب کی روحوں کو جنتی لوگوں کی روحیں اور بائیں جانب کی روحوں کو دوزخی لوگوں کی روحیں فرمایا۔ صحیح ٣ ؎ مسلم کی ابوذر (رض) کی اس حدیث سے بھی اس حدیث کی تائید ہوتی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معراج کے وقت حضرت آدم (علیہ السلام) کے داہنے ہاتھ کی طرف اہل جنت کی اور بائیں ہاتھ کی طرف اہل دوزخ کی روحیں دیکھیں۔ بعض مفسروں نے داہنے ہاتھ والوں کی تفسیر میں لکھا ہے کہ نیک عمل لوگ اور بعضوں نے لکھا ہے کہ وہ لوگ جن کے نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے مگر حضرت عبد اللہ بن عباس کی تفسیر ان سب باتوں کو شامل اور سب پر صادق آتی ہے کیونکہ جو لوگ پیدا ہونے کے پہلے جنتی قرار پا چکے ہیں وہ ضرور دنیا میں عمل بھی نیک کریں گے اور قیامت کے دن ان کا اعمال نامہ بھی داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔ داہنے ہاتھ والوں میں سے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول کیا یا امتوں میں سے وہ لوگ جو نیک عملوں میں پیش قدمی کرتے رہے ان کو آگے والے اور مقرب فرمایا۔ مقرب وہ جن کے درجے جنت میں بڑے بڑے ہوں گے۔ (١ ؎ دیکھئے تفسیر ہذا جلد ہذا ص ٧٤۔ ) (٣ ؎ صحیح مسلم باب فی الکفار ص ٣٧٤ ج ٢۔ ) (١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٢٨٢ ج ٤ و تفسیر الدر المنثور ص ١٥٤ ج ٦۔ ) (٢ ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الاعراف ص ١٥٥ ج ٢۔ ) (٣ ؎ صحیح مسلم باب الاسراء برسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الخ ص ٩٢ ج ١۔ )
(56:1) اذا وقعت : اذا ظرفیہ ہے جس میں شرط کے معنی شامل ہیں۔ جب۔ وقعت ماضی واحد مؤنث غائب۔ وقوع (باب فتح) مصدر۔ ماضی بمعنی مستقبل ہے (جب) قائم ہوجائے گی۔ جب واقع ہوگی۔ جب بپا ہوجائے گی۔ الواقعۃ : اسمفاعل کا صیغہ واحد مؤنث وقع وقوع (باب فتح) مصدر لازمی ہونے والی۔ لازمی وقوع پذیر ہونے والی۔ بعض کے نزدیک یہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے الطامۃ (79:34) آفت۔ الصاخۃ (80:33) وہ چیخ جو کانوں کو پھوڑ دے۔ یعنی اپنی سختی کے باعث بہرا کر دے۔ الازفۃ (40:18) نزدیک آلگنے والی۔ جس کے آنے کا وقت بہت تنگ ہوگیا ہو۔ القارعۃ (101:1) کھڑکھڑانے والی۔ اذا وقعت الواقعۃ جملہ شرطیہ ہے۔ جب واقع ہونے والی وقوع پذیر ہو جائیگی۔
آیات ١ تا ٣٨۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور عرش کی دائیں جانب کھڑے کیے جائیں گے وہ کیا ہی خوش نصیب ہوں گے دوسراگروہ کفارمجرمین کا الگ کردیاجائے جن کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں ہوں گے اور عرش کے بائیں جانب کھڑے کردیے جائیں گے وہ کس قدر بدبخت لوگ ہوں گے جنہیں بائین جانب کھڑا کیا جائے گا اور تیسراگروہ وہ سبقت لے جانے والوں کا ہوگا ان کی کیا ہی بات ہوگی عرش کے سامنے اور قرب الٰہی کے عالی مقام پر کھڑے ہوں گے یہ لوگ جنت کے باغات اور اس کی نعمتوں میں بسیں گے اور اس مقام کو اولین میں سے ایک کثیر جماعت پائے گی جبکہ آخرین اور بعد میں آنے والے لوگوں میں سے اس میں تھوڑے شریک ہوں گے۔ مقربوں کیا پہلی امتوں سے ہوں گے۔ یہاں یہ معنی بھی کیا گیا ہے کہ اولین سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آپ تک کا زمانہ اور لوگ مراد ہیں مگر صاحب تفسیر مظہری نے دلائل سے یہ فرمایا ہے کہ یہ سب حالات امت محمدیہ کے بیان فرمائے جا رہے ہیں اور حق بھی یہی کہ مخاطبین قرآن یہی لوگ ہیں اور اولین میں صحابہ کرام تابعین تبع تابعین تو یقینا مقرب بندے ہیں کہ خیرالقرون کے لوگ ہیں بعد والوں سے اولیاء اللہ اور خاص خاص شہد اور صالحین شامن ہوں گے لہذا ارشاد ہوا کہ بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے اور تھوڑے لوگ بعد والوں میں سے اس میں شامل ہوں گے یہ سب جڑواں تختوں پر شان سے بیـٹھے ہوں گے آمنے سامنے تکیے لگا کر آپس میں باتین کرتے ہوں گے اور والددان یعنی وہ خادم لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے یہ خادم بھی جنت کی مخلوق ہیں جو حوروں کی طرح بغیر توالد النسل کے پیدا کیے گئے ہیں ۔ اور ہر جنتی کی خدمت میں ہزاروں ہوں گے وہ ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے آبخورے اور پیمانے صاف اور نتھری ہوئی شراب کے پیش کرتے ہوں گے جو جنت کی شراب ہے اور جس میں کیفیات ولذات ہیں دنیا کی شراب کی طرح نہ سرچکرانے والی ہے کہ ہوش گم کردے اور نہ بندہ اول فول بکنے لگے بلکہ اس سے مزید ہوش آئے گی اور لذات میں اضافہ ہوگا ان کے پسندیدہ پھل پیش کریں گے اور بھنے ہوئے پرندے کہ جو چاہیں تناول فرمائیں اور حوریں بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی جیسے کسی نے خوبصورت موتی اور لعل وجواہرات غلافوں میں چھپارکھے ہوں یہ سب ان کے ان اعمال کا صلہ ہوگا جو انہوں نے دنیا میں اللہ اور اس کے رسول کے احکام مان کر کیے تھے وہاں کوئی ناپسندیدہ بات تک نہ سنین گے کہ دنیا میں تو شاید گولی کا زخم اتنا دکھ نہ دے جتنا دکھ لوگوں کی خرافات پہنچاتی ہیں مگر وہاں وہ ان باتوں سے مامون ہوں گے اور جب بھی کوئی بات کرے گا سلامتی ہی کی کرے گا عزت واحترام اور پیاو محبت ہی سے کرے گا دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہوگا جو دائیں جانب کھڑے ہوں گے یہ بھی بہت خوش قسمت لوگ ہوں گے انہیں بھی جنت نصیب ہوگی جس کے پھلدار درختوں کا کیا ہی کہنا کہ بیری تک کے پھلوں سے لدے ہوئے درختوں پر کانٹا تک نہ ہوگا اور تہہ درتہہ کیلوں کے گچھے اور دور دور تک پھیلتے ہوئے بلند وبالا درختوں کے خوبسورت گھنے اور میٹھے سائے اور ان میں آب رواں پھل اتنے کہ قسمیں شمار نہ ہوسکیں اور دائمی بہار کہ کبھی پہل ختم ہونے میں نہ آئیں اور نہ ان پر لینے میں کوئی پابندی ہوگی اور خوبصورت بچھونے کہ آرام کرنا چا ہیں تو شاندار بچھونے اور خوبصورت خواتین کہ دنیا کی خواتین بھی جنت میں داخل ہوکربہت ہی حسین ہوجائیں گی بلکہ حوروں سے ان کا حسن بڑھ جائے گا اور جنت کی حوریں جنہیں خاص طور پر پیدا کیا گیا جو ہمیشہ کنواراپن کی حالت میں رہیں گی کہ بعد مباشرت بھی پھر ویسی ہی ہوجائیں گی اور ٹوٹ کرچاہنے والی ہوں گی اور ہمیشہ جوان اور مردوخواتین سب ہی ایک عمر کے جوان ہوں گے جیسے اکٹھے کھیل کر پلے ہوں یہ سب انعامات ان لوگوں کو نصیب ہوں گے جو اصحاب یمین ہوں گے یعنی دائیں ہاتھ والے۔
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 38 وقعت ہونے والی۔ خافضۃ نیچا کرنے والی۔ رافعۃ اونچا کرنے وال ی۔ رجت ہلا دی گئی۔ بست ریزہ ریزہ کردی گئی۔ توڑ دی گئی۔ ھبآء گرد و غبار۔ منبت پھیلا دیا گیا۔ ازواج جوڑے، قسمیں اصحاب المیمنۃ داہنے ہاتھ والے (جنتی) اصحاب المشئمۃ بائیں ہاتھ والے (دوزخی) السبقون آگے بڑھنے والے ثلۃ جماعت، گروہ۔ موضونۃ جڑائو۔ اکواب (کوب) پیالے۔ اباریق (ابریق) صراحیاں۔ کاس گلاس۔ معین صاف چشمہ کی شراب۔ لایصدعون نہ ان کے سر میں بھاری پن ہوگا۔ لاینزقون نہ وہ بہکیں گے۔ یتخیرون وہ پسند کرتے ہیں۔ سدر بیری۔ مخضود (خضد) کاٹنے کاٹ دیئے گے۔ طلع منضود کیلے اوپر تلے (تہہ در تہہ) ظل سایہ۔ ممدود پھیلائے گئے (پھیلے ہوئے) ماء مسکوب بہتا صاف پانی۔ لامقطوعۃ نہ توڑاگ یا۔ لاممنوعۃ نہ روکا گیا۔ انشانھن ہم نے ان (عورتوں کو) اچھی طرح پیدا کیا۔ ابکار کنواری۔ عرب پسندیدہ۔ اتراب ہم عمر۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 38 نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کفار مکہ کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کرتے اور اس میں قیامت آنے اور آخرت میں دوبارہ اٹھائے جانے کی باتیں ارشاد فرماتے تو وہ حیرت سے کہتے کہ ہماری عقل تسلیم نہیں کرتی کہ کائنات کا اتنا زبردست چلتا ہوا نظام زمین، آسمان، چاند، سورج، ستارے، پہاڑ اور دریا سب کے سب ایک دم ختم کردیئے جائیں گے اور جب ہماری اور ہمارے باپ دادا کی ہڈیاں بھی چورہ چورہ ہو کر بکھر جائیں گی تو ان میں زندگی کے آثار کیسے پیدا ہوجائیں گے۔ ہمیں ان باتوں پر یقین نہیں آتا یہ سب خواب و خیال کی باتیں ہیں۔ ایسے لوگوں کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب قیامت کا زبردست حاثدہ اور واقعہ اچانک آجائے گا تو وہ آنکھوں سے نظر آنے والی ایسی سچائی ہوگی جس کا کوئی شخص انکار نہ کرسکے گا۔ یہ قیامت اس قدر اچانک اور بھیانک ہوگی جو ہر چیز کو الٹ پلٹ رکھ دے گی۔ زمین زلزلوں کے جھٹکوں سے ہلا ماری جائے گی۔ یہ بلند وبالا اور مضبوط پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر بکھرے غبار کی طرح اڑتے پھریں گے۔ اس دن تمام لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہو کر بار گاہ الٰہی میں پہنچیں گے۔ جن کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ اصحاب الیمین ہوں گے اور جن کے نامہ اعمال بائیں اتھ میں دیئے جائیں گے وہ اصحاب الشمال کہلائیں گے جو نہایت بری حالت میں ہوں گے۔ ان ہی میں تیسرا گروہ ہوگا جس کی شان ہی نرلای ہوگی یہ ان لوگوں کا گروہ ہوگا جو تقویٰ ، پرہیز گاری، نیکی، حق پرستی اور بھلائی کے ہر کام میں مصلحتوں سے بالاتر ہو کر سب سے حق و صداقت کی کوئی بات پیش کی جاتی تھی تو وہ فوراً ہی اس کو قبول کرلیتے تھے۔ جب ان سے حق مانگا جاتا تھا تو وہ حق فوراً ہی ادا کردیا کرتے تھے۔ جو دوسروں کے لئے فیصلے کرتے وہی فیصلے اپنے بارے میں بھی کیا کرتے تھے۔ (مسند احمد) اللہ نے ان کو السبقون السابقون (آگے رہنے والے آگے ہی رہنے والے ہیں) کہا ہے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو عرش الٰہی کے سائے میں اللہ کے بہت قریب ہوں گے۔ یہی وہ لوگ ہوں گے جو راحت بھری جنتوں کی نعمتوں سے پوری طرح لطف اندوز ہوں گے۔ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے جڑائو تخت پر آمنے سامنے تکیہ لگائے شاہانہ انداز سے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ ان کی خدمت کیلئے ہمیشہ جوان رہنے والے نوجوان لڑکے موتیوں کی طرح بکھرے ہوئے ہوں گے جو صاف ستھری اور پاکیزہ شراب سے لبریز یالے، کو زے اور جام بھر بھر کر ان کو پلا رہے ہوں گے۔ ان کے سامنے ان کے پسندیدہ پھل، حسبخ واہش پرندوں کا مزیدار گوشت ہوگا۔ ان کی دل بستگی کے لئے خبوصورت رنگت اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی جو ایسی حسین و خوبصورت اور صاف ستھری ہوں گی جیسے سیپ میں حفاظت سے رکھے ہوئے موتی۔ وہ لوگ ان جنتوں میں سوائے سلام سلام کی آوازوں کے کوئی فضول، بےہودہ اور گناہ کا کلام نہ سنیں گے۔ یہ اللہ کے وہ مقرب بندے ہوں گے جن میں سے ایک بڑا گروہ پہلے لوگوں میں سے ہوگا اور تھوڑے لوگ بعد والے ہوں گے۔ یہ پہلے اور بعد والے گروہ کون سے ہوں گے ؟ ان سے عملاء مفسرین نے بحث کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ٭حضرت آدم سے لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری تک جتنی بھی امتیں گذری ہیں وہ اولین ہیں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد قیامت تک آنے والے نیک بندے آخرین ہیں۔ ٭ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اولین اور آخرین سے مراد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے اولین و آخرین ہیں جن میں سے مقربین و سابقین کی تعداد زیادہ ہوگی اور بعد میں آنے روالے آخرین ہیں جن کی تعداد کم ہوگی۔ بہرحال اللہ کے نزدیک مقربین وہی لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ آگے بڑھ کر اللہ کے نبیوں کے ہر حکم پر سبقت کی یعنی آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔ دوسرا گروہ اصحاب الیمین کا ہوگا یعنی وہ خوش نصیب صاحبان ایمان جن کے داہنے ہاتھ میں ان کے نامہ اعمال دیئے جائیں گے۔ ان کو بھی جنت کی راحتیں عطا کی جائیں گی لیکن سبقت کرنے والے گروہ سے ذرا کم۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ داہنے ہاتھ والے بھی کیا خوب ہوں گے۔ ان خوش نصیبوں کو ان جنتوں میں بےکانٹوں الے بیر دیئے جائیں گے یعنی دنیا کے کھٹے میٹھے بیروں کی طرح نہیں بلکہ وہ بیر اتنے لذیذ، خوشبو دار اور میٹھے ہوں گے جن کا اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ بہترین کیلے ہوں گے جو تہہ در تہہ ہوں گ۔ صاف شفاف بہتے چشموں کا پانی اور بڑی تعداد میں طرح طرح کے لذیذ ترین پھل اور میوے ہوں گے۔ یہ موسمی پھل نہ ہوں گے کہ موسم کے جاتے ہی پھل ختم ہوجاتے ہیں بلکہ سدا بہار پھل ہوں گے جن کے استعمال پر کوئی روک ٹوک نہ ہوگی۔ ان اہل جنت کے لئے اونچے اونچے بچھونے ہوں گ۔ اور ایسی پاکیزہ کنواری اور حسین ہم عمر محبوب حوریں ہوں گی جو خاص طور پر ان ہی کے لئے بنائی گئی ہوں گی۔ یہ اور اسی قسم کی ہزاروں نعمتیں ان اصحاب الیمین جنتیوں کے لئے مخصوص ہوں گی۔ ہر نیکی میں سبقت لے جانے والے اور جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال دیئے جائیں گے ان دونوں گروہوں کا ذکر فرمانے کے بعد اس کے بعد کی آیات میں ان لوگوں کے متعلق بیان کیا گیا ہے جو اصحاب الشمال (بائیں ہاتھ والے) ہیں۔
فہم القرآن ربط سورت : سورة الرّحمن کا اختتام ان الفاظ پر ہوا کہ آپ کا رب بڑی برکت والا اور ذوالجلال والاکرام ہے۔ الواقعہ کی ابتدارب ذوالجلال کی جلالت کے اظہار سے ہورہی ہے کہ قیامت کے دن اس کی جلالت کے سامنے کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی یہاں تک کہ پہاڑ بھی اس کے حکم کے سامنے نہیں ٹھہر سکیں گے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جوں ہی اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو اہل مکہ کی کوئی مجلس ایسی نہ تھی جس میں تین موضوعات میں سے کسی ایک موضوع پر بحث نہ ہوتی ہو۔ لوگ یہاں بیٹھتے اللہ کی توحید، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور قیامت کے عنوانات میں سے کسی ایک عنوان پر ضرور گفتگو کرتے۔ اس میں بالخصوص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور قیامت کے قائم ہونے کو استہزاء کا نشانہ بنایا جاتا۔ وہ کسی صورت ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ قیامت قائم ہوگی اور ہمیں رب ذوالجلال کے حضور پیش ہونا ہے۔ قرآن مجید نے انہیں ہر قسم کے دلائل سے سمجھایا ہے کہ قیامت ضرورقائم ہوگی۔ لیکن وہ کہتے تھے کہ اس زمین کا وسیع و عریض نظام کس طرح ختم کیا جاسکتا ہے اور بلندوبالا پہاڑوں کو کون ہلاسکتا ہے۔ قرآن مجید نے اس سوال کا یوں جواب دیا۔ (وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُہَا رَبِّیْ نَسْفًا۔ فَیَذَرُہَا قَاعًا صَفْصَفًا۔ لَّا تَرٰی فِیْہَاعِوَجًا وَّ لَآ اَمْتًا) (طٰہٰ : ١٠٥، ١٠٧) ” یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ یہ پہاڑکہاں چلے جائیں گے ؟ فرمادیں کہ میرا رب ان کو دھول بناکر اڑا دے گا اور زمین کو چٹیل میدان کر دے گا۔ اس میں تم کوئی اونچ نیچ نہ دیکھ پاؤ گے۔ “ سورۃ الواقعہ کی ابتدا پرجلال الفاظ سے فرمائی کہ جب قیامت کا واقعہ پیش آئے گا تو وہ اس قدرخوفناک اور ہر چیز ہلادینے والا ہوگا کہ کوئی جھٹلانے والا جھٹلا نہیں سکے گا۔ قیامت کو جھٹلانے والے اس دن زمین کو پکار پکار کہیں گے۔ ہائے ! تجھے کیا ہوگیا ہے کہ ٹھہرتی کیوں نہیں ؟ سورة الزلزال کی پہلی اور دوسری آیت میں فرمایا ہے کہ زمین کو پوری طرح ہلایا جائے گا۔ یہاں تک کہ پہاڑ ریت کے ذرّات بن کر اڑنا شروع ہوجائیں گے۔ یہاں زمین کے بارے میں فرمایا کہ ” خَافِضَۃُ رَافِعَۃٌ“ قیامت اسے اوپر نیچے کر دے گی جس سے ہر چیز تہہ بالا ہوجائے گی۔ یہاں تک کہ زمین چٹیل میدان بنادی جائے گی اور زمین و آسمانوں کو یکسر طور پر بدل دیا جائے گا۔ (یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ ) (ابراہیم : ٤٨) ” جس دن اس زمین کو دوسری زمین کے ساتھ بدل دیا جائے گا اور آسمان بھی بدل دیا جائے گا اور لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، جو اکیلا اور بڑا زبر دست ہے۔ “ (یَوْمَ یَکُوْنُ النَّاسُ کَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ وَتَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِہْنِ الْمَنْفُوْشِ ) (القارعۃ : ٤، ٥) ” اس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے۔ اور پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی طرح ہوں گے۔ “ مسائل ١۔ قیامت ہر صورت واقع ہوجائے گی۔ ٢۔ قیامت واقع ہوگی تو جھٹلانے والے اسے جھٹلا نہیں سکیں گے۔ ٣۔ زمین کی ہر چیز الٹ پلٹ کر رکھ دی جائے گی۔ ٤۔ پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن زمین اور پہاڑوں کی حالت۔ ١۔ اس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور زمین چٹیل میدان ہوگی اور ہم تمام لوگوں کو جمع کریں گے اور کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ (الکھف : ٤٧) ٢۔ اس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں گے اور پہاڑ ریت کے ٹیلوں کی طرح ہوجائیں گے۔ (المزمّل : ١٤) ٣۔ اس دن آنکھیں چندھیا جائیں گی اور چاند گہنا دیا جائے گا اور سورج چاند کو جمع کردیا جائے گا۔ (القیامہ : ٦ تا ٨) ٤۔ جب سورج لپیٹ لیا جائے گا۔ تارے بےنور ہوجائیں گے۔ پہاڑچلائے جائیں گے۔ (التکویر : ١ تا ٣)
اس پیراگراف میں ایک نہایت ہی اہم بات ایک خوفناک انداز میں بیان کی گئی ہے اور یہ اسلوب ارادة اختیار کیا گیا ہے۔ عبارت کے الفاظ اور مفہوم کے درمیان پوری طرح ہم آہنگی اور یکجہتی ہے۔ دو بار بات کا آغاز اذا شرطیہ سے ہوتا ہے دونوں بار شرط ہے اور جواب شرط نہیں ہے۔ مثلاً ۔ اذوقعت ............ رافعة (٣) (٦ 5: ١ تا ٣) ” جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا تو کوئی اس کے وقوع کو جھٹلانے والا نہ ہوگا ، وہ تہہ وبالا کردینے والی آفت ہوگی۔ “ یہاں یہ نہیں بتایا جاتا کہ جب یہ واقعہ ہوگا جو سچا ہوگا اور تہہ وبالا کردینے والا ہوگا لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ پھر اس وقت کیا ہوگا۔ ایک دوسری بات شروع کردی جاتی ہے کہ۔
قیامت پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہے اس سورت میں وقوع قیامت اور قیامت واقع ہونے کے بعد جو فیصلے ہوں گے اور ان کے بعد جو اہل ایمان کو انعامات ملیں گے اور اہل کفر جو عذاب میں مبتلا ہوں گے اس کی کچھ تفصیلات بیان کی گئی ہیں، درمیان میں اللہ تعالیٰ نے دینی اور دنیاوی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ آیات بالا میں ارشاد فرمایا کہ جب قیامت قائم ہوگی تو اس کا کوئی جھٹلانے والا نہ ہوگا آج تو دنیا میں بہت بڑی تعداد میں لوگ اس کے وقوع کے منکر ہیں جب وہ آہی جائے گی جس کی خبر اللہ تعالیٰ کی کتابوں اور رسولوں نے دی ہے اسے نظر سے دیکھ لیں گے اور جھٹلانے والے پریشان حال مبتلائے عذاب ہوں گے، اس دن مان لیں گے اور ﴿رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا ﴾ کہیں گے، قیامت کی یہ خاص صفت ہوگی کہ وہ خٓافضة بھی ہوگی اور رافعۃ بھی، یعنی پست کرنے والی بھی اور بلند کرنے والی ہوگی، بہت سے لوگ جو دنیا میں اونچے تھے بادشاہ تھے امیر تھے وزیر تھے قوموں کے سردار تھے مال کی ریل پیل کی وجہ سے اہل دنیا انہیں بڑا سمجھتے تھے لیکن کافر مشرک منافق یا کم از کم فاسق تھے یہ لوگ قیامت کے دن برے حال میں ہوں گے، اس دن کی گرفت دنیا والی ساری بڑائی کو ملیامیٹ کرکے رکھ دے گی، اور بہت سے وہ لوگ جو دنیا میں حقیر اور کمزور سمجھے جاتے تھے اصحاب دنیا کے نزدیک ان کی کوئی حیثیت نہ تھی لیکن ایمان والے تھے متقی اور پرہیزگار تھے اعمال صالحہ سے مزین اور متصف تھے قیامت انہیں بلند کر دے گی بہت بڑی تعداد میں تو یہ لوگ بلاحساب جنت میں چلے جائیں گے اور بہت سوں سے آسان حساب ہوگا اور بہت سوں سے تھوڑا بہت حساب ہو کر چھٹکارہ ہوجائے گا۔ حضرات انبیائے عظام اور شہداء کرام اور علماء اصحاب احترام کی سفارشیں کام دے جائیں گی۔
ٖف 2:۔ ” اذا وقعت۔ تا۔ ھباء منبثا “ یہ تینوں جماعتوں کے احوال کی تمہید ہے یعنی جب لوگ تین جماعتوں میں منقسم ہوں گے اس وقت کیا سماں ہوگا۔ حاصل یہ ہے کہ جب قیامت قائم ہوگی اور حشر بپا ہوگا اس وقت سب لوگ تین جماعتوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ ” الواقعۃ “ سے قیامت مراد ہے۔ ” کاذبۃ “ فاعل بمعنی مصدر ہے یہ جملہ معترضہ ہے برائے تاکید جملہ اولی یعنی اس کا وقوع جھوٹ نہیں بلکہ حق ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں۔ ویجوز جعل الکاذبۃ بمعنی الکذب علی معنی لیس للوقعۃ کذب بلھی وقعۃ صادقۃ او علی معنی لیسھی فی وقوت وقوعہا کذب لانہ حق لا شبۃ فیہ (روح ج 27 ص 130) ۔