Surat ul Waqiya

Surah: 56

Verse: 14

سورة الواقعة

وَ قَلِیۡلٌ مِّنَ الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿ؕ۱۴﴾

And a few of the later peoples,

اور تھوڑے سے پچھلے لوگوں میں سے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

A multitude of those (foremost) will be from the first ones. And a few of those will be from the later ones), this news became hard for the Companions of the Prophet when these Ayat, were revealed. The Prophet then said, إِنِّي لاََرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ بَلْ أَنْتُمْ نِصْفُ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَوْ شَطْرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَتُقَاسِمُونَهُمُ النِّصْفَ الثَّانِي I hope that you will comprise a quarter of the residents of Paradise, a third of the residents of Paradise. Rather, you are a half of the residents of Paradise, and will have a share in the other half. Imam Ahmad also recorded this. However, this opinion that Ibn Jarir chose is questionable, rather it is a deficient interpretation. This is because this Ummah is the best of all nations, according to the text of the Qur'an. Therefore, it is not possible that the foremost believers from earlier nations are more numerous than those of in this Ummah; the opposite is true. The latter opinion is the correct one, that, ثُلَّةٌ مِّنَ الاَْوَّلِينَ (A multitude of those will be from the first ones), refers to the earlier generations of this Ummah, while, وَقَلِيلٌ مِّنَ الاْخِرِينَ (And a few of those will be from the later ones), refers to the latter people of this Ummah. Ibn Abi Hatim recorded that As-Sari bin Yahya said that Al-Hasan recited this Ayah, وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ - أُوْلَيِكَ الْمُقَرَّبُونَ - فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ - ثُلَّةٌ مِّنَ الاَْوَّلِينَ - And those foremost will be foremost. These will be the nearest (to Allah). In the Gardens of Delight. A multitude of those will be from the first ones, Then he commented, "A multitude from the earlier generation of this Ummah." Ibn Abi Hatim also recorded that Muhammad bin Sirin commented: ثُلَّةٌ مِّنَ الاَْوَّلِينَ - وَقَلِيلٌ مِّنَ الاْخِرِينَ - A multitude of those will be from the first ones. And a few of those will be from the later ones, "They stated, or hoped that they will all be from this Ummah." Therefore, these are the statements of Al-Hasan and Ibn Sirin that those foremost in faith are all from this Ummah. There is no doubt that the earlier generations of each nation were better than the latter generations. In this pretext, this Ayah might include all previous believing nations. In this regard, it is confirmed in the authentic Hadith compilations, from more than one route, that the Messenger of Allah said; خَيْرُ الْقُرُونِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُم The best people are my generation, then the next generation, then the next generation.... He also said: لاَا تَزَالُ طَايِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لاَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ وَلاَا مَنْ خَالَفَهُمْ إِلَى قِيَامِ السَّاعَة A group of my Ummah will always remain on the truth and dominant, unharmed by those who fail to support them and those who defy them, until the Last Hour begins. In another narration: حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ تَعَالَى وَهُمْ كَذلِك ..until Allah's command comes while they are like this. This Ummah is more honored than any other Ummah. The foremost believers of this Ummah are more numerous and hold a higher rank than those of other nations, due to the status of their religion and Prophet. In a Mutawatir Hadith, the Prophet mentioned that seventy thousand of this Ummah will enter Paradise without reckoning. In another narration of this Hadith, the Prophet added, مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا With each thousand, another seventy thousand. In yet another narration, he said, مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ سَبْعُونَ أَلْفًا With every one of them is another seventy thousand. Allah's statement, عَلَى سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

14۔ 1 کہا جاتا ہے کہ اولین سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک کی امت کے لوگ ہیں اور آخرین سے امت محمدیہ کے افراد مطلب یہ ہے کہ پچھلی امتوں میں سابقین کا ایک بڑا گروہ ہے، کیونکہ ان کا زمانہ بہت لمبا ہے جس میں ہزاروں انبیاء کے سابقین شامل ہیں ان کے مقابلے میں امت محمدیہ کا زمانہ (قیامت تک) تھوڑا ہے، اس لیے ان میں سابقین بھی بہ نسبت گذشتہ امتوں کے تھوڑے ہوں گے۔ اور ایک حدیث میں آتا ہے جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ، مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کا نصف ہو گے۔ تو یہ آیت مذکورہ مفہوم کے مخالف نہیں۔ کیونکہ امت محمدیہ کے سابقین اور عام مومنین ملا کر باقی تمام امتوں سے جنت میں جانے والوں کا نصف ہوجائیں گے، اس لیے محض سابقین کی کثرت (سابقہ امتوں میں) سے حدیث میں بیان کردہ تعداد کی نفی نہیں ہوگی۔ مگر یہ قول محل نظر ہے اور بعض نے اولین و آخرین سے اسی امت محمدیہ کے افراد مراد لیے ہیں۔ یعنی اس کے پہلے لوگوں میں سابقین کی تعداد زیادہ اور پچھلے لوگوں میں تھوڑی ہوگی۔ امام ابن کثیر نے اسی دوسرے قول کو ترجیح دی ہے۔ اور یہی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔ یہ جملہ معترضہ ہے، فی جنت النعیم اور علی سرر موضونۃ کے درمیان۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨] سابقون اوّلون سے مراد ؟ ان دو آیات میں اولین اور آخرین کی تعیین میں اختلاف کی بنا پر ان آیات کے تین مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اولین سے مراد سابقہ امتوں کے لوگ لیے جائیں اور آخرین سے مراد اس امت کے۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ سابقہ انبیاء پر ایمان لانے والوں، حق کے معرکہ میں دوسروں سے آگے نکل جانے والوں اور خیر و بھلائی کے کاموں میں سبقت کرنے والوں کی تعداد اس امت کے سابقین کی تعداد سے بہت زیادہ ہوگی۔ دوسرے یہ کہ اولین اور آخرین سے مراد ہماری ہی امت مسلمہ کے لوگ ہوں۔ اس لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ اس کے اولین یعنی صحابہ کرام (رض) تابعین، تبع تابعین۔ میں سے سابقین کی تعداد آخرین سے بہت زیادہ ہوگی۔ تیسرے یہ کہ اولین اور آخرین سے مراد ہر نبی کی امت کے اولین اور آخرین لیے جائیں۔ اس لحاظ سے یہ ایک اصل بن جائے گا۔ یعنی ہر نبی کی امت کے اولین میں سے سابقین کی تعداد آخرین میں سابقین کی تعداد سے زیادہ ہوا کرتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٤{ وَقَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ ۔ } ” اور تھوڑے ہوں گے پچھلوں میں سے۔ “ بعض مفسرین کے نزدیک یہاں اَوَّلِیْنسے پہلی امتیں اور آخَرِین سے یہ امت مراد ہے ۔ لیکن اگر اس مفہوم کو درست سمجھا جائے تو اس سے الٹا یہ ثابت ہوگا کہ پہلی امتیں اس امت کے مقابلے میں بہتر اور افضل تھیں۔ اس لیے زیادہ صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس فقرے کو ہر امت کے اولین اور آخرین سے متعلق سمجھا جائے۔ یعنی ہر امت کے اَوَّلِیْن (ہر نبی کے ابتدائی پیروکاروں) میں سے مقربین کی تعداد زیادہ ہوگی ‘ جبکہ ہر امت کے آخِرِیْنَ میں سے بہت کم لوگ اس درجے تک پہنچ پائیں گے۔ اور یہی معاملہ اس امت کا بھی ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : (اِنَّ خَیْرَکُمْ قَرْنِیْ ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ) (١) (١) صحیح البخاری ‘ کتاب المناقب ‘ باب فضائل اصحاب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ و متعدد مقامات ‘ ح : ٦٤٢٨ ‘ ٦٦٩٥۔ و صحیح مسلم ‘ کتاب فضائل الصحابۃ ‘ باب فضل الصحابۃ ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم ‘ ح : ٢٥٣٥۔ واللفظ لہ۔ یعنی اس امت کا بہترین زمانہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زمانہ تھا ۔ اس دور کے لوگ کثیر تعداد میں مقربین بارگاہ کے درجے تک پہنچے ‘ کیونکہ جس قدر قربانیاں ان لوگوں نے دیں پچھلے زمانہ کے لوگوں نے نہیں دیں۔ تاہم یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ یعنی ہر دور میں لوگ صدیقین کے مقام تک بھی پہنچیں گے اور شہادتِ عظمیٰ کا درجہ بھی حاصل کریں گے ‘ لیکن ان کی تعداد بہت کم ہوگی ‘ جبکہ زیادہ تر مومنین ” صالحین “ کے درجے تک پہنچ پائیں گے۔ جیسا کہ سورة التوبہ کی اس آیت سے واضح ہے : { وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ…} (آیت ١٠٠) ” اور پہلے پہل سبقت کرنے والے مہاجرین اور انصار میں سے ‘ اور وہ جنہوں نے ان کی پیروی کی احسان کے ساتھ…“ یعنی ” سابقون الاولون “ تو آگے نکل جانے والے ہوں گے جبکہ کچھ لوگ اسی راستے پر ان کے پیچھے آنے والے بھی ہوں گے ۔ یہ عام مومنین صالحین ہوں گے جنہیں آیات زیر مطالعہ میں اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ اور اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِکے القاب سے نوازا گیا ہے۔ چناچہ ہر امت کے پہلے دور کے اہل ایمان میں سے نسبتاً زیادہ لوگ ” مقربین “ ہونے کی سعادت حاصل کریں گے جبکہ بعد کے ادوار میں بہت کم لوگ اس درجہ تک پہنچ پائیں گے۔ جیسے آج حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کی تعداد ڈیڑھ ارب کے لگ بھگ ہے لیکن ان میں مقربین آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہوں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

8 The commentators have differed as to who are implied by athe former And the latter people '`One group of them has expressed the view that the "former people" were the communities that passed away since the time of the Prophet Adam (peace be upon him) till the time of the Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings), and the °people of the latter day" those who will have lived in the world since the advent of the Holy Prophet till the Day of Resurrection. Accordingly the verse would mean: "The number of the Sabqin (the Foremost in Faith and good deeds) among the people who passed away during the thousands of years before the advent of the Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) would be greater, and the number of those who would attain to the rank of the Sabiqin among those people who have been born since the advent of the Holy Prophet, or will be born till the Day of Resurrection, will be less. " The second group says that the former and the latter in this verse imply the former and the latter people of the Holy Prophet's own Ummah itself. That is, in his Ummah the people belonging to the earliest period were the former among whom the number of the Sabiqin will be greater, and the people of the later periods are the latter among whom the number of the Sabiqin will be smaller. The third group holds the view that this- implies the former and the latter people of every Prophet's own Ummah. That is, there will be numerous Sabiqin among the earliest followers of every Prophet, but among his later followers their number will decrease. The words of the verse bear all the three meanings, and possibly aII three ate implied, for there is no contradiction between them. Besides, they give another meaning also and that too is cornet: every early period of a Prophet's following the proportion of the Sabiqin in human population would be greater and in the later period less, for the number of the workers of good and right dces not increase at the rate of increase of the human populations. They may be more numerous as against the Sabiqin of the earliest period. but on the whole their number as against the world population goes on becoming less and less.

سورة الْوَاقِعَة حاشیہ نمبر :8 مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ اولین اور آخرین یعنی اگلوں اور پچھلوں سے مراد کون ہیں ۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ آدم علیہ السلام کے وقت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تک جتنی امتیں گزری ہیں وہ اولین ہیں ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد قیامت تک کے لوگ آخرین ہیں ۔ اس لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ بعثت محمدی سے پہلے ہزارہا برس کے دوران میں جتنے انسان گزرے ہیں ان کے سابقین کی تعداد زیادہ ہو گی ، اور حضور کی بعثت کے بعد سے قیامت تک آنے والے انسانوں میں سے جو لوگ سابقین کا مرتبہ پائیں گے ان کی تعداد کم ہو گی ۔ دوسرا گروپ کہتا ہے کہ یہاں اولین و آخرین سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے اولین و آخرین ہیں جن میں سابقین کی تعداد کم ہوگی ۔ تیسرا گروہ کہتا ہے اس سے مراد ہر نبی کی امت کے اولین و آخرین ہیں ، یعنی ہر نبی کے ابتدائی پیروؤں میں سابقین بہت ہونگے اور بعد کے آنے والوں میں وہ کم پائے جائیں گے ۔ آیت کے الفاظ ان تینوں مفہوموں کے حامل ہیں اور بعید نہیں کہ یہ تینوں ہی صحیح ہوں کیونکہ درحقیقت ان میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔ ان کے علاوہ ایک اور مطلب بھی ان الفاظ سے نکلتا ہے اور وہ بھی صحیح ہوں ، کیونکہ درحقیقت ان میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔ ان کے علاوہ ایک اور مطلب بھی ان الفاظ سے نکلتا ہے اور وہ بھی صحیح ہے کہ ہر پہلے دور میں انسانی آبادی کے اندر سابقین کا تناسب زیادہ ہوگا اور بعد کے دور میں ان کا تناسب کم نکلے گا ۔ اس لیے کہ انسانی آبادی جس رفتار سے بڑھتی ہے ، سبقت فی الخیرات کرنے والوں کی تعداد اسی رفتار سے نہیں بڑھتی ۔ گنتی کے اعتبار سے یہ لوگ چاہے پہلے دور کے سابقین سے تعداد میں زیادہ ہوں ، لیکن بحیثیت مجموعی دنیا کی آبادی کے مقابلے میں ان کا تناسب گھٹتا ہی چلا جاتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

5: یعنی اس اعلی درجے کے لوگوں میں اکثریت قدیم زمانے کے انبیاء کرام وغیرہ کی ہوگی اور بعد کے زمانوں میں بھی اگرچہ اس درجے کے لوگ ہوں گے مگر کم۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور قدیم مفسرین سے یہ دونوں مقنول ہیں۔ شاہ صاحب نے بھی اپنے فوائد میں بلا ترجیح دونوں نقل کئے ہیں ایک یہ کہ پہلے تمام انبیائو کے پیروں میں سے اعلیٰ درجہ کے لوگ ملا کر لغت محمدیہ کے اعلیٰ درجہ کے لوگ سے تعداد ہیں زیادہ ہوں گ۔ دوسرا یہ کہ خود امت محمدیہ میں اعلیٰ درجہ کے لوگ پہلے بہت ہوں گے اور بعد میں کم۔ اس دوسرے مطلب کی تائید ابوبکرہ کی روایت سے ہوتی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : ھما جمیعاً من ھذہ الامتہ کہ ان دونوں سے مراد اسی امت کے لوگ ہیں مگر یہ روایت اسناد کمزور ہے اس لئے علماء تفسیر نے اس پر اعتماد نہیں کیا۔ پہلے مطلب کو ابن جریز طبری نے دوسرے مطب کو حافظ بن کثیر نے ترجیح دی ہے۔ ان کے علاوہ حافظ ابن کثیر نے ایک تیسرا مطلب بھی بیان فرمایا ہے کہ ہر امت کے پہلے طبقہ میں جتنے درجہ کے لوگ ہوئے ہیں اتنے اس کے بعد کے طبقہ میں نہیں ہوئے جیسا کہ حدیث ” خیر القرون قرنی “ سے معلوم ہوتا ہے واللہ اعلم۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(14) اور تھوڑے لوگ پچھلے لوگوں میں سے ہوں گے۔ پہلے لوگ یعنی امم سابقہ کے حضرات اور تھوڑے لوگ اس امت کے صحابہ (رض) اور اولیائ (رض) چونکہ سابقہ امتوں کی تعداد بہت زیادہ اور پیغمبروں کی تعداد بھی بہت ہے اس لئے ان مقربین زیادہ ہوں گے اور اس امت کے مقربین کم ہوں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کے متقدمین اور متاخرین مراد ہوں۔ کما قال بعض مفسرین یہ آگے بڑھنے والے بھلائیوں میں یا اسلام میں سبقت کرنے والے ہیں یا ہجرت میں آگے بڑھنے والے مراد ہیں بعض نے کہا اس سے حافظ قرآن اور عالم باعمل مراد ہیں۔ واللہ اعلم آگے ان کے آرام و آسائش اور ان کی نعمتوں کا ذکر ہے۔