Surat ul Waqiya

Surah: 56

Verse: 20

سورة الواقعة

وَ فَاکِہَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوۡنَ ﴿ۙ۲۰﴾

And fruit of what they select

اور ایسے میوے لئے ہوئے جو ان کی پسند کے ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَ فَاکِہَۃٍ مِّمَّا یَتََََخَیَّرُوْنَ ” فَاکِہَۃٍ “ کا عطف ” باکواب “ پر ہے ، یعنی سونے سے بنے ہوئے تختوں پر آمنے سامنے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے جنتوں پر ” والدین مخلدون “ شراب کے جام اور ان کے پسند کردہ پھل اور ان کی خواہش کے مطابق پرندوں کا گوشت لے کر چکر لگا رہے ہوں گے ۔ خدمت گاروں کے پھل لا کر پیش کرنے میں جو لطف ہے وہ بھی انہیں حاصل ہوگا اور اپنے ہاتھوں سے توڑ کر کھانا چاہیں گے تو وہ بھی انہیں ہر وقت میسر ہوگا، جیسا کہ فرمایا :(وجنا الجنتین دان) ( الرحمن : ٥٤)” اور دونوں باغوں کا پھل قریب ہے “۔ اور فرمایا (قطوفھا دانیۃ) ( الحاقۃ : ١٢٣)” جس کے میوے قریب ہوں گے “۔” فاکھۃ “ کے معنی کے لیے دیکھئے سورة ٔ صافات (٤٢)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَفَاكِہَۃٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُوْنَ۝ ٢٠ ۙ فكه الفَاكِهَةُ قيل : هي الثّمار کلها، وقیل : بل هي الثّمار ما عدا العنب والرّمّان . وقائل هذا كأنه نظر إلى اختصاصهما بالذّكر، وعطفهما علی الفاکهة . قال تعالی: وَفاكِهَةٍ مِمَّا يَتَخَيَّرُونَ [ الواقعة/ 20] ، وَفاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ [ الواقعة/ 32] ، وَفاكِهَةً وَأَبًّا [ عبس/ 31] ، فَواكِهُ وَهُمْ مُكْرَمُونَ [ الصافات/ 42] ، وَفَواكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ المرسلات/ 42] ، والفُكَاهَةُ : حدیث ذوي الأنس، وقوله : فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ«1» قيل : تتعاطون الفُكَاهَةَ ، وقیل : تتناولون الْفَاكِهَةَ. وکذلک قوله : فاكِهِينَ بِما آتاهُمْ رَبُّهُمْ [ الطور/ 18] . ( ف ک ہ ) الفاکھۃ ۔ بعض نے کہا ہے کہ فاکھۃ کا لفظ ہر قسم کے میوہ جات پر بولا جاتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ انگور اور انار کے علاوہ باقی میوہ جات کو فاکھۃ کہاجاتا ہے ۔ اور انہوں نے ان دونوں کو اس لئے مستثنی ٰ کیا ہے کہ ( قرآن پاک میں ) ان دونوں کی فاکہیہ پر عطف کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فاکہہ کے غیر ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے وَفاكِهَةٍ مِمَّا يَتَخَيَّرُونَ [ الواقعة/ 20] اور میوے جس طرح کے ان کو پسند ہوں ۔ وَفاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ [ الواقعة/اور میوہ ہائے کثیر ( کے باغوں ) میں ۔ وَفاكِهَةً وَأَبًّا [ عبس/ 31] اور میوے اور چارہ ۔ فَواكِهُ وَهُمْ مُكْرَمُونَ [ الصافات/ 42] ( یعنی میوے اور ان اعزاز کیا جائیگا ۔ وَفَواكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ المرسلات/ 42] اور میووں میں جوان کو مرغوب ہوں ۔ الفکاھۃ خوش طبعی کی باتیں خوش گئی ۔ اور آیت کریمہ : فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ«1»اور تم باتیں بناتے رہ جاؤ گے ۔ میں بعض نے تفکھونکے معنی خوش طبعی کی باتیں بنانا لکھے ہیں اور بعض نے فروٹ تناول کرنا ۔ اسی طرح آیت کریمہ : فاكِهِينَ بِما آتاهُمْ رَبُّهُمْ [ الطور/ 18] جو کچھ ان کے پروردگار نے ان کو بخشا اس کی وجہ سے خوش حال ۔۔۔ میں فاکھین کی تفسیر میں بھی دونوں قول منقول ہیں ۔ یتخیرون : مضارع جمع مذکر غائب، تخیر ( تفعل) مصدر سے پسند کرنا ۔ انتخاب کرلینا۔ خار یخیر ( باب ضرب) سے مصدر خیرۃ وخیر اختیار کرنا۔ اگر دوسرے مفعول پر علی ہو تو فضیلت دینے کے معنی ہوں گے۔ مثلاً خار الرجل علی غیرہ۔ اس نے اس آدمی کو دوسروں پر فضیلت دی۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٠{ وَفَاکِہَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ ۔ } ” اور میوے جو وہ پسند کریں گے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(56:20) وفاکہۃ : واؤ عاطفہ۔ فاکھۃ اس کا عطف اکواب پر ہے اور وہ غلمان جنتیوں کی پسند کے میوے لئے ان کی خدمت میں گردش کر رہے ہوں گے۔ مما : مرکب ہے من تبعیضیہ اور ما موصولہ سے۔ یتخیرون : مضارع جمع مذکر غائب، تخیر (تفعل) مصدر سے پسند کرنا ۔ انتخاب کرلینا۔ خار یخیر (باب ضرب) سے مصدر خیرۃ وخیر اختیار کرنا۔ اگر دوسرے مفعول پر علی ہو تو فضیلت دینے کے معنی ہوں گے۔ مثلاً خار الرجل علی غیرہ۔ اس نے اس آدمی کو دوسروں پر فضیلت دی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وفاکھة ............ یشتھون (٦ 5: ١٢) ” اور وہ ان کے سامنے طرح طرح کے لذیذ پھل پیش کریں گے جسے چاہیں چن لیں اور پرندوں کے گوشت پیش کریں گے جس پرندے کا چاہیں۔ “ وہاں تو کوئی چیز نہ ممنوع ہوگی اور نہ کوئی ایسی چیز وہاں ہوگی جسے اہل جنت پسند نہ کریں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

10:۔ ” وفاکہۃ “ فاکہۃ اور لحم دونوں اکواب پر معطوف ہیں۔ وہ غلمان جنت میں سابقین کی خدمت میں ان کی مرضی اور پسند کے میوے پیش کریں گے اور ان کی خواہش کے مطابق پرندوں کا گوشت حاضر کریں گے۔ ” وحور الخ “ یہ ولدان پر معطوف ہے یا یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔ ای لھم حور کا مثال اللؤلؤ الخ، یہ حور کی صفت ہے یا اس سے حال ہے (روح) حوروں کی سچے موتیوں سے تشبیہ چہرے کی چمک دمک اور صفاء بشرہ میں ہے۔ جنت میں ان کے لیے ایسی عورتیں ہوں گی جن کی آنکھیں سیاہ اور موٹی ہوں گی اور وہ حسن و جمال اور چہرے کی چمک دمک میں ان سچے موتیوں کی مانند ہوں گی جن کو گرد و غبار سے بچا کر بحفاظت رکھا گیا ہو۔ ” جزاء بما کانوا یعملون “ جزاء فعل مقدر کا مفعول لہ یا مفعول مطلق ہے۔ مفعول لہ ای یفعل بھم ذلک کلہ لجزاء اعمالہم او مصدر ای یجزون جزاء (مدارک ج 4 ص 163) ۔ یہ سارے انعامات ان کے اعمال صالحہ کا صلہ ہوں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(20) اور نیز وہ میوے جن میووں کو یہ لوگ پسند کریں۔