Surat ul Waqiya

Surah: 56

Verse: 35

سورة الواقعة

اِنَّاۤ اَنۡشَاۡنٰہُنَّ اِنۡشَآءً ﴿ۙ۳۵﴾

Indeed, We have produced the women of Paradise in a [new] creation

ہم نے ان ( کی بیویوں کو ) خاص طور پر بنایا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّـآ اَنْشَاْنٰـہُنَّ اِنْشَآئً :” انشانھن “ میں ” ھن “ کی ضمیر ان عورتوں کی طرف جا رہی ہے جن کا پچھلی آیت ” وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ “ کے ضمن میں ذکر ہے ، کیونکہ جنتیوں کے بستروں میں ان کے ساتھ ان کی بیویاں بھی ہوں گی ، جیسا کہ فرمایا :(ہُمْ وَاَزْوَاجُہُمْ فِیْ ظِـلٰـلٍ عَلَی الْاَرَآئِکِ مُتَّکِئُوْنَ ) (یٰسین : ٥٦)” وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایوں میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے “۔ ” انشا ینشی انشاء “ کا معنی نیا پیدا کرنا “ ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی مومن عورتیں بوڑھی یا بد صورت جیسی بھی تھیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں نئے سرے سے جوان، کنواری ، خوبصورت اور ان اوصاف والی بنا دے گا جس کا ان آیات میں ذکر ہے۔ اس کے علاوہ ان الفاظ میں وہ ” حورعین “ بھی شامل ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ جنتیوں ہی کے لیے پیدا فرمائے گا ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

إِنَّا أَنشَأْنَاهُنَّ إِنشَاءً (Surely We have created those [ females ] a fresh creation...56:35) The word insha& means &to create&. The pronoun هُنَّ hunna refers to the women of Paradise, although there is no mention of them in the immediately preceding verses. However, they have been mentioned in connection with &the Foremost& in distantly foregoing verses [ 22-23]. If the word firash in the foregoing verse (34) refers to the women of Paradise, the antecedent of the pronoun is quite obvious. Likewise, the mention of beds, couches, thrones and other delightful items gives the pronoun the context to refer to women. The meaning of the verse is: &We have created the Paradisiacal women in a special way, that is, the houris are created without being born biologically, and the women of this world who will enter the Paradise will also be reshaped in a way that the women who were ugly, dark-coloured or old in this world will be made beautiful, young and graceful.& It is recorded in Tirmidhi and Baihaqi on the authority of Sayyidna Anas that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said in explanation of Verse 35 that the women who were old, blear eyed, with gray hair and ugly features in the world will be made beautiful and young in this new creation. Baihaqi also reports from Sayyidah ` A&ishah (رض) that an old lady asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to pray to Allah that she may enter Paradise. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said in a humorous way: لَا تَدخُلُ الجَنَّۃُ عَجُوزُ |"Old ladies will not enter Paradise.|" Hearing this the old lady got very sad, and according to some narrations, started weeping. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) then explained that she would not be old when she would enter Paradise; she would be transformed into a young beautiful woman. Then the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) recited this verse 35. [ Mazhari ]

اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً ، انشاء کے معنی پیدا کرنے کے ہیں، ہُنَّ کی ضمیر جنت کی عورتوں کی طرف راجع ہے، اگرچہ سابقہ قریبی آیات میں ان کا ذکر نہیں ہے، مگر ذرا فاصلہ سے سابقون کے بیان میں ان کا ذکر آ چکا ہے، اس لئے ضمیر ان کی طرف راجع ہو سکتی ہے اور اگر آیت مذکورہ میں فراش سے مراد جنت کی عورتیں ہیں، تو ضمیر ان کی طرف ہونا ظاہر ہے، نیز فرش و بستر وغیرہ عیش کی چیزوں کے ذکر میں خود ایک دلالت عورت کی طرف پائی جاتی ہے، اس لئے بھی ضمیر اس طرف راجع ہو سکتی ہے۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ ہم نے جنت کی عورتوں کی پیدائش و تخلیق ایک خاص انداز سے کی ہے یہ خاص انداز حوران جنت کے لئے تو اس طرح ہے کہ وہ جنت ہی میں بغیر ولادت کے پیدا کی گئی ہیں اور دنیا کی عورتیں جو جنت میں جائیں گی ان کی خاص تخلیق سے مطلب یہ ہوگا کہ جو دنیا میں بدشکل، سیاہ رنگ یا بوڑھی تھی اب اس کو حسین شکل و صورت میں جوان رعنا کردیا جائے گا، جیسا کہ ترمذی اور بیہقی حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ ) کی تفسیر میں فرمایا کہ جو عورتیں دنیا میں بوڑھی چندھی، سفید بال، بد شکل تھیں انہیں یہ نئی تخلیق حسین نوجوان بنا دے گی اور بیہقی نے حضرت صدیقہ عائشہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک روز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں تشریف لائے میرے پاس ایک بوڑھیا بیٹھی ہوئی تھی، آپ نے دریافت فرمایا یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میری رشتہ کی ایک خالہ ہے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بطور مزاح کے فرمایا لا تدخل الجنة عجوز، یعنی جنت میں کوئی بڑھیا نہ جائے گی، یہ بیچاری سخت غمگین ہوئی، بعض روایات میں ہے کہ رونے لگی، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو تسلی دی اور اپنی بات کی حقیقت یہ بیان فرمائی کہ جس وقت یہ جنت میں جائے گی تو بوڑھی نہ ہوگی بلکہ جوان ہو کر داخل ہوگی اور یہی آیت تلاوت فرمائی (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّآ اَنْشَاْنٰہُنَّ اِنْشَاۗءً۝ ٣٥ ۙ نشأ النَّشْءُ والنَّشْأَةُ : إِحداثُ الشیءِ وتربیتُهُ. قال تعالی: وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی[ الواقعة/ 62] . يقال : نَشَأَ فلان، والنَّاشِئُ يراد به الشَّابُّ ، وقوله : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] يريد القیامَ والانتصابَ للصلاة، ومنه : نَشَأَ السَّحابُ لحدوثه في الهواء، وتربیته شيئا فشيئا . قال تعالی: وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] والإنْشَاءُ : إيجادُ الشیءِ وتربیتُهُ ، وأكثرُ ما يقال ذلک في الحَيَوانِ. قال تعالی: قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [ الملک/ 23] ، وقال : هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ [ النجم/ 32] ، وقال : ثُمَّ أَنْشَأْنا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْناً آخَرِينَ [ المؤمنون/ 31] ، وقال : ثُمَّ أَنْشَأْناهُ خَلْقاً آخَرَ [ المؤمنون/ 14] ، وَنُنْشِئَكُمْ فِي ما لا تَعْلَمُونَ [ الواقعة/ 61] ، ويُنْشِئُ النَّشْأَةَالْآخِرَةَ [ العنکبوت/ 20] فهذه كلُّها في الإيجاد المختصِّ بالله، وقوله تعالی: أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَها أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِؤُنَ [ الواقعة/ 71- 72] فَلِتشبيه إيجادِ النَّارِ المستخرَجة بإيجادِ الإنسانِ ، وقوله : أَوَمَنْ يُنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ [ الزخرف/ 18] أي : يُرَبَّى تربيةً کتربيةِ النِّسَاء، وقرئ : يَنْشَأ» أي : يَتَرَبَّى. ( ن ش ء) النشا والنشاۃ کسی چیز کو پیدا کرنا اور اس کی پرورش کرنا ۔ قرآن میں ہے : وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی[ الواقعة/ 62] اور تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے ۔ نشافلان کے معنی کے بچہ کے جوان ہونے کے ہیں ۔ اور نوجوان کو ناشی کہاجاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] کچھ نہیں کہ رات کا اٹھنا دنفس بہیمی کی سخت پامال کرتا ہے ۔ میں ناشئۃ کے معنی نماز کے لئے اٹھنے کے ہیں ۔ اسی سے نشاء السحاب کا محاورہ ہے جس کے معنی فضا میں بادل کے رونما ہونے اور آہستہ آہستہ بڑھنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے َ : وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] اور بھاری بھاری بادل پیدا کرتا ہے ۔ الانشاء ۔ ( افعال ) اس کے معنی کسی چیز کی ایجاد اور تربیت کے ہیں ۔ عموما یہ لفظ زندہ چیز ۔۔ کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [ الملک/ 23] وہ خدا ہی جس نے تمہیں پیدا کیا ۔ اور تمہاری کان اور آنکھیں اور دل بنائے ۔ نیز فرمایا : هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ [ النجم/ 32] وہ تم کو خوب جانتا ہے جسب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ۔ ثُمَّ أَنْشَأْنا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْناً آخَرِينَ [ المؤمنون/ 31] پھر ان کے بعد ہم نے ایک اور جماعت پیدا کی ۔ وَنُنْشِئَكُمْ فِي ما لا تَعْلَمُونَ [ الواقعة/ 61] اور تم کو ایسے جہان میں جس کو تم نہیں جانتے پیدا کردیں ۔ ثُمَّ أَنْشَأْناهُ خَلْقاً آخَرَ [ المؤمنون/ 14] پھر اس کو نئی صورت میں بنا دیا ويُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ [ العنکبوت/ 20] پھر خدا ہی پچھلی پیدائش پیدا کرے گا ۔ ان تمام آیات میں انسشاء بمعنی ایجاد استعمال ہوا ہے جو ذات باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اور آیت کریمہ : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَها أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِؤُنَ [ الواقعة/ 71- 72] بھلا دیکھو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں ۔ میں آگ کا درخت اگانے پر بطور تشبیہ انشاء کا لفظ بولا گیا ہے اور آیت کریمہ ) أَوَمَنْ يُنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ [ الزخرف/ 18] کیا وہ جوز یور میں پرورش پائے ۔ میں ینشا کے معنی تربیت پانے کے ہیں نفی عورت جو زبور میں تربیت ۔ ایک قرآت میں ينشاء ہے یعنی پھلے پھولے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٥{ اِنَّآ اَنْشَاْنٰہُنَّ اِنْشَآئً ۔ } ” ان (کی بیویوں) کو اٹھایا ہے ہم نے بڑی اچھی اٹھان پر۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

8: قرآن کریم نے ان خواتین کا ذکر بڑے لطیف انداز میں فرمایا ہے کہ بس ضمیر سے ان کی طرف اشارہ فرمادیا ہے، صراحت کے ساتھ نام نہیں لیا، اس میں بڑی بلاغت بھی ہے اور ان خواتین کی پردہ داری بھی، بعض مفسرین نے اس سے مراد حوریں لی ہیں جو جنتیوں کے لئے خاص طور پر پیدا کی گئی ہیں یا پیدا کی جائیں گی، اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد نیک لوگوں کی وہ نیک بیویاں ہیں جو دنیا میں ان کی شریک حیات تھیں، آخرت میں ان کو نئی اٹھان دینے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں وہ کیسی ہی رہی ہوں جنت میں انہیں اپنے شوہروں کے لئے بہت خوبصورت بنا دیا جائے گا، جیسا کہ ایک حدیث میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی تصریح فرمائی ہے، اسی طرح جو خواتین دنیا میں بن بیاہی رہ گئی تھیں انہیں بھی نئی اٹھان دے کر کسی نہ کسی جنتی سے ان کا نکاح کردیا جائے گا، حدیث کی متعدد روایتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت دونوں قسم کی عورتوں کو شامل ہے، حوروں کو بھی اور دنیا کی نیک خواتین کو بھی (تفصیل کے لیے دیکھئے روح المعانی)

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(56:35) انا انشانا ھن انشائ۔ انشانا ماضی جمع متکلم انشاء (افعال) مصدر۔ بمعنی پیدا کرنا۔ پر وش کرنا۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب انشاء مفعول مطلق فعل کی تاکید کے لئے۔ ھن کی ضمیر کا مرجع کیا ہے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) قال بعض العلماء ھو راجع الیٰ قولہ : فرش مرفوعۃ، قال لان المراد بالفرش النسائ۔ والعرب تسمی المراۃ لباسا وازارا وفراشا ونعلا۔ ھن کی ضمیر کلام الٰہی فرش مرفوعۃ میں فرش کی طرف راجع ہے۔ فرش سے مراد عورتیں ہیں، عرب عورت کو لباس، ازار، فراش، نعل بھی نام دیتے ہیں۔ (2) وقال بعض العلمائ : ھو راجع الیٰ غیر مذکور۔ انہ راجع الیٰ نساء لم یذکرن ولکن ذکر الفراش دل علیہن۔ لانھن یتکئن علیہا مع ازواجھن۔ اور بعض کے نزدیک اس کا مرجع غیر مذکور ہے کہتے ہیں اس کا مرجع عورتیں ہیں جس کی طرف فرش کا ذکر دلالت کرتا ہے کیونکہ ان بچھونوں پر وہی اپنے شوہروں کے ساتھ تکیہ لگا کر بیٹھیں گی۔ (اضواء البیان) علامہ پانی پتی بھی کچھ یوں ہی لکھتے ہیں :۔ فرماتے ہیں :۔ اگر فرش سے مراد عورتیں ہوں تو ھن کی ضمیر فرش کی طرف راجع ہوگی، اگر فرش سے مراد عورتیں نہ ہوں تو مرجع مذکور نہ ہوگا۔ کیونکہ سیاق کلام سے سننے والا سمجھ جاتا ہے کہ اس سے مراد عورتیں ہی ہوسکتی ہیں۔ اقوال مذکورہ بالا کی روشنی میں عورتیں سے مراد ہے جنتیوں کی دنیا کی بیویاں جو بہشت میں ہوں گی۔ اور حوریں۔ مولنا دریا بادی (رح) لکھتے ہیں :۔ یہاں یہ بتایا کہ جنت کی عورتوں کی (اور اس میں حوریں بھی داخل ہوگئیں اور اس دنیا کی جنتی بیویاں بھی داخل ہوگئیں) بناوٹ ایک خاص قسم کی ہوگی ! مولانا فتح محمد جالندہری اس آیت کے ترجمہ میں لکھتے ہیں :۔ ہم نے ان (حوروں) کو پیدا کیا۔ اس صورت میں ھن کی ضمیر کا مرجع جنت کی حوریں ہے۔ پیر کرم شاہ صاحب اپنی تفسیر ضیاء القرآن میں اس آیت کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔ یہاں اہل جنت کی نیک بیویوں کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ یعنی جب وہ جنت میں داخل ہوں گی تو ان کی خلقت بالکل بدلی ہوئی ہوگی۔ اگرچہ دنیا میں وہ خوش شکل نہ تھیں، مرتے وقت وہ بالکل بوڑھی ہوگئی تھی لیکن جب جنت میں داخل ہوں گی تو بھرپور جوانی ہوگی۔ مجسم حسن و رعنائی ہوں گی۔ اور کنواری بنا کر انہیں جنت میں داخل کیا جائیگا۔ حدیث شریف میں اس آیت کی یہی تفسیر مذکور ہے۔ حضرت ام سلمہ (رض) کے عرض کرنے پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :۔ یا ام سلمۃ ھن اللواتی قبضن فی الدنیا ع جائز شمطا، عمشا رمصا جعلہن اللہ یعد الکبرا ترابا علی میلاد واحد فی الاستوائ۔ اے ام سلمہ : ان سے مراد وہی بیویاں ہیں اگرچہ وفات کے وقت وہ بالکل بوڑھی تھیں ان کے بال سفید تھے۔ ان کی بینائی کمزور تھی، آنکھیں میلی کچیلی رہتی تھیں۔ لیکن جب وہ جنت میں داخل ہوں گی تو ساری ہم عمر ہوں گی۔ اس صورت میں ھن کا مرجع وہ دنیاوی بیویاں ہیں جو جنت میں داخل ہوں گی۔ انشاء مصدر کو فعل کے بعد فعل کی خصوصیت کو اجاگر کرنے کے لئے تاکیدا لایا گیا ہے۔ یعنی ہم نے ان کو ایک خاص اٹھان پر اٹھایا۔ (تفسیر حقانی) ۔ ہم نے ان کی بیویوں کو حیرت انگیز طریقے سے پیدا کیا۔ (ضیاء القرآن)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انا ............ انشاء (٦ 5:5 ٣) ” ان کی بیویوں کو ہم خاص طور پر پیدا کریں گے۔ “ اگر ابتداء انہیں پیدا کیا گیا تو وہ حوریں ہیں اور اگر انہیں نئے سرے سے پیدا کیا گیا ہے تو یہ دو بیویاں ہیں جو دنیا میں تھیں اور اب جوان بنا کر اٹھالی گئی ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

بوڑھی مومنات جنت میں جوان بنا دی جائیں گی : اس کے بعد جتنی عورتوں کا تذکرہ فرمایا، وہاں جو بیویاں ملیں گی ان میں حور عین بھی ہوں گی جو مستقل مخلوق ہے اور دنیا والی عورتیں جو ایمان پر وفات پاگئیں وہ بھی اہل جنت کی بیویاں بنیں گی۔ یہ دنیا والی عورتیں وہ بھی ہوں گی جو دنیا میں بوڑھی ہوچکی تھیں اور وہ بھی ہوں گی جو شادی شدہ یا بےشادی شدہ یا چھوٹی عمر میں وفات پاگئی تھیں یہ سب جنت میں اہل ایمان کی بیویاں ہوں گی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ اہل جنت میں سے جو بھی کوئی چھوٹا یا بڑا وفات پا گیا ہوگا قیامت کے دن سب کو جنت میں تیس سال کی عمر والا بنا دیا جائے گا ان کی عمر کبھی بھی اس سے آگے نہ بڑھے گی۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٤٩٩) لہٰذا بوڑھی مومن عورتیں جنہوں نے دنیا میں وفات پائی تھی جنت میں داخل ہوں گی تو جوان ہوں گی تیس سال کی ہوں گی۔ آیت بالا میں اسی کو فرمایا ہے۔ ﴿اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ٠٠٣٥ فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ٠٠٣٦ عُرُبًا اَتْرَابًاۙ٠٠٣٧ لِّاَصْحٰبِ الْيَمِيْنِ ٢ؕ (رح) ٠٠٣٨﴾ (ہم نے ان عورتوں کو خاص طور پر بنایا ہے یعنی ہم نے ان کو ایسا بنایا کہ وہ کنواریاں ہیں محبوبہ ہیں ہم عمر ہیں، یہ سب چیزیں داہنے والوں کے لیے ہیں) جتنی عورتیں حسن و جمال والی بھی ہوں گی محبوبات بھی ہوں گی اور ہم عمر بھی ہوں گی۔ ایک بوڑھی صحابیہ عورت کا قصہ : شمائل ترمذی میں ہے کہ ایک بوڑھی عورت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا کیجیے اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل فرما دے، آپ نے فرمایا کہ اے فلاں کی ماں جنت میں بڑھیا داخل نہ ہوگی، یہ سن کر وہ بڑی بی روتی ہوئی واپس چلی گئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جاؤ اس سے کہہ دو کہ جنت میں جب وہ داخل ہوگی تو بڑھیا نہ ہوگی (یعنی جنت میں بڑھاپا باقی نہ رہے گا داخل ہونے سے پہلے ہی جوان بنا دیا جائے گا) اللہ تعالیٰ شانہ کا فرمان ہے ﴿ اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ٠٠٣٥ فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ٠٠٣٦﴾ (ہم نے ان عورتوں کو خاص طور پر بنایا ہے یعنی ہم نے ان کو ایسا بنایا کہ وہ کنواریاں ہیں) ۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے باری تعالیٰ شانہ کے فرمان ﴿ اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ٠٠٣٥﴾ کی تفسیر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جن عورتوں کو اللہ تعالیٰ نئے طور سے زندگی دیں گے ان میں وہ عورتیں بھی ہوں گی جو دنیا میں چندھی تھیں اور جن کی آنکھوں میں میل اور چپڑ بھرے رہتے تھے۔ (رواہ الترمذی فی تفسیر سورة الواقعہ) چندھی اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں پوری طرح نہ کھلیں عام طور سے آنسو بہتے رہتے ہیں۔ ﴿ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَۙ٠٠٣٩ وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَؕ٠٠٤٠﴾ (اصحاب الیمین کا ایک بڑا گروہ اگلے لوگوں میں سے ہوگا اور ایک بڑا گروہ پچھلے لوگوں میں سے ہوگا) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(35) ہم نے وہاں کی عورتوں ک وایک خاص طور پر بنایا ہے۔