TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Surat ul Waqiya 56:50 – Tafaseer

The tafseer of Surat ul Waqiya, verse 50, from every tafseer on this site - read one or compare them with each other.

لَمَجۡمُوۡعُوۡنَ ۬ ۙ اِلٰی مِیۡقَاتِ یَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴿۵۰﴾
Are to be gathered together for the appointment of a known Day."
ضرور جمع کئے جائیں گے ایک مقرر دن کے وقت ۔
Bookmark
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Info

Say: "(Yes) verily, those of old, and those of later times. All will surely be gathered together for appointed meeting of a known Day." meaning, `Say, O Muhammad, that the earlier and latter generations of the Children of Adam will be gathered for the Day of Resurrection and none of them will be left out. Allah the Exalted said: ذلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ وَمَا نُوَخِّرُهُ إِلاَّ لاًّجَلٍ مَّعْدُودٍ يَوْمَ يَأْتِ لاَ تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلاَّ بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِىٌّ وَسَعِيدٌ That is a Day whereon mankind will be gathered together, and that is a Day when all will be present. And We delay it only for a term fixed. On the Day when it comes, no person shall speak except by His leave. Some among them will be wretched and (others) blessed. (11:103-105) He also said here, لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُوم All will surely be gathered together for appointed meeting of a known Day. because that time is precisely designated and will not come late, early, nor increase or decrease. Allah said, ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّالُّونَ الْمُكَذِّبُونَ

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Info

آیت ٥٠{ لَـمَجْمُوْعُوْنَ اِلٰی مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ۔ } ” لازماً جمع کیے جائیں گے ایک مقرر دن کے طے شدہ وقت پر۔ “

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Info

(56:50) لمجموعون لام تاکید کا مجموعون اسم مفعول جمع مذکر۔ جمع (باب فتح) مصدر۔ اکٹھے کئے گئے (اکٹھے کے جائیں گے) اس کا تعلق آیت 49، سے ہے : ای ان الاولین والاخرین لمجموعون۔ بیشک پہلے اور پچھلے (سب) اکٹھے کئے جائیں گے۔ الی میقات یوم معلوم : ای لوقت یوم معلوم : ایک یوم معلوم کے وقت مقررہ پر۔ الی بمعنی لام ہے۔ میقات کسی کام کے لئے مقرر شدہ وقت یا جگہ۔ مثلاً میقات احرام یعنی احرام کے شروع ہونے کی مقررہ حد (یا جگہ) کہ اس حد سے آگے بغیر احرام کے جانا جائز نہیں میقات یوم میں اضافہ بحذف من ہے۔ جیسے خاتم فضۃ (خاتم من فضۃ) چاندی کی انگوٹھی۔ یوم معلوم موصوف و صفت ہے۔ مراد قیامت کا دن ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

Info

(50) ایک مقررہ دن میں جب اس کا وقت آئے گا ضرور جمع کئے جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ وہ بعث بعدالموت کے منکر تھے اس لئے ان کو جہنم میں وہ بات یاد دلائی جائیگی اور یہاں ان کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے جواب بھی دلوایا گیا یعنی یہ امر کوئی مستبعد نہیں اس دن کا جو وقت مقرر ہے جب وہ وقت آئے گا تو سب اگلے پچھلے جمع کئے جائیں گے۔