Surat ul Waqiya
Surah: 56
Verse: 76
سورة الواقعة
وَ اِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۷۶﴾
And indeed, it is an oath - if you could know - [most] great.
اور اگر تمہیں علم ہو تو یہ بہت بڑی قسم ہے ۔
وَ اِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۷۶﴾
And indeed, it is an oath - if you could know - [most] great.
اور اگر تمہیں علم ہو تو یہ بہت بڑی قسم ہے ۔
And verily that is indeed a great oath, if you but know. meaning, `this is a great vow that I -- Allah -- am making; if you knew the greatness of this vow, you will know the greatness of the subject of the vow,' إِنَّهُ لَقُرْانٌ كَرِيمٌ
وَاِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِيْمٌ ٧٦ ۙ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا عظیم وعَظُمَ الشیء أصله : كبر عظمه، ثم استعیر لكلّ كبير، فأجري مجراه محسوسا کان أو معقولا، عينا کان أو معنی. قال : عَذابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ [ الزمر/ 13] ، قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ [ ص/ 67] ، ( ع ظ م ) العظم عظم الشئی کے اصل معنی کسی چیز کی ہڈی کے بڑا ہونے کے ہیں مجازا ہر چیز کے بڑا ہونے پر بولا جاتا ہے خواہ اس کا تعلق حس سے یو یا عقل سے اور عام اس سے کہ وہ مادی چیز ہو یا معنو ی قرآن میں ہے : ۔ عَذابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ [ الزمر/ 13] بڑے سخت دن کا عذاب ) تھا ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ [ ص/ 67] کہہ دو کہ وہ ایک سخت حادثہ ہے ۔
آیت ٧٦{ وَاِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ} ” اور یقینا یہ بہت بڑی قسم ہے اگر تم جانو ! “ یعنی ابھی تم مَوٰقِعِ النُّجُوْم کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ایک وقت آئے گا جب تمہیں ان کی حقیقت سے متعلق معلومات حاصل ہوجائیں گی ‘ پھر تمہیں احساس ہوگا کہ ہم نے تمہارے سامنے یہ کس قدر عظیم قسم پیش کی ہے۔
22: بیچ میں یہ جملہ معترضہ ہے جس میں ستاروں کے گرنے کی قسم کھانے کی اہمیت کی طرف متوجہ فرمایا گیا ہے۔ ایک تو اس قسم سے یہ جتایا جا رہا ہے کہ ستارے گرنے کے یہ مقامات خود بتا رہے ہیں کہ کوئی کاہن یہ کلام بنا کر نہیں لایا، دوسرے جس طرح ان ستاروں کا نظام انتہائی مستحکم نظام ہے جس میں کوئی خلل نہیں دال سکتا، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ کلام بھی نہایت محکم اور ناقابل شکست نظام کے تحت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا گیا ہے۔
(56:76) وانہ لقسم لو تعلمون عظیم : ان حرف مشبہ بالفعل ہ ضمیر شان لام تاکید کا قسم موصوف ۔ عظیم صفت ۔ مل کر انہ کی خبر، لو تعلمون جملہ معترضہ ہے۔ اور اگر تم سمجھو تو بیشک یہ ایک بہت بڑی قسم ہے۔ وانہ لقسم لو تعلمون عظیم واؤ عاطفہ، انہ میں ان حرف مشبہ بالفعل ہ ضمیر واحد مذکر غائب (ضمیر شان) لام تاکید کے لئے لو حرف شرط۔ لو تعلمون جملہ شرطیہ انہ لقسم عظیم جواب شرط۔ یہاں کلام یوں ہوگا : فلا اقسم بمواقع النجوم انہ لقران کریم میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ ایک بہت ہی بابرکت قرآن ہے
وانہ ................ عظیم (٦ 5: ٦٧) ” اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے ۔ “ لیکن آج ہم کس قدر جانتے ہیں کہ یہ کس قدر عظیم قسم ہے۔ ہمارا علم مخاطین اول کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے۔ اگرچہ ہمارا موجود علم بھی بہت قلیل ہے اور ہم مواقع النجوم کی عظمت کا پورا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ستاروں کے مواقع کے بارے میں جو قلیل علم حاصل ہوا ہے یہ ہماری نہایت ہی چھوٹی چھوٹی رصد گاہوں کے ذریعہ حاصل ہوا ہے۔ جن کی نظر کی حدود بہت ہی محدود ہیں۔ ان رصد گاہوں کے ذریعے جو معلومات حاصل ہوئی ہیں وہ یہ ہیں کہ ستاروں کے دوسرے مجموعے کتنے ہیں ان کی تعداد معلوم نہیں ہے اور ان کی حدود کا تعین نہیں ہے۔ ” سائنس دان کہتے ہیں کہ ستارے اور سیارے جن کی تعداد کئی بلین ستاروں سے زیادہ ہے ، ان کو صرف سادہ نظر سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ ان کو صرف دور بینوں اور رصدگاہوں کے ذریعے دیکھاجاسکتا ہے اور ان کو دیکھے بغیر یہ مشینیں اور آلات بھی ان کو محسوس نہیں کرسکتے۔ یہ سب اس تاریک اور نامعلوم فضائے آسمانی میں تیر رہے ہیں اور کوئی احتمال اس بات کا نہیں ہے کہ کسی ایک ستارے کے مقناطیسی دائرے کے اندر دوسرا ستارہ آجائے یا کسی دوسرے ستارے کے ساتھ متصادم ہوجائے جس طرح اس بات کا احتمال نہیں ہے کہ بحربیض میں چلنے والی کشتی بحر مردار میں چلنے والی کشتی کے ساتھ متصادم ہوجائے جبکہ وہ دونوں ایک ہی سمت میں ایک ہی سرعت کے ساتھ چل رہی ہوں۔ جس طرح یہ احتمال بعید ہے اسی طرح دو ستاروں کا ٹکرانا محال ہے۔ (اللہ اور سائنس۔ ص ٣٣) ہر ستارے کو اپنے قریبی ستارے سے اس فاصلے پر رکھا گیا ہے اور اس حکمت اور تدبیر سے رکھا گیا ہے اور ان تمام ستاروں کی کشش کو اس طرح متوازن رکھا گیا ہے کہ وہ اس لامتناہی فضا میں پھرنے اور تیرے والے کھربوں ستاروں کے ساتھ متوازن ہے۔ یہ تو ہے ایک پہلو عظمت محل وقوع ستارگان کا۔ لیکن اگرچہ عظمت کا ہمارا تصور اس وقت کے مخاطین قرآن سے بہت زیادہ ہے لیکن اگلی نسلوں کا جو تصور ہوگا وہ ہمارے اس وسیع تصور کو بھی محدود سمجھیں گی۔ وانہ ................ عظیم (٦ 5: ٦٧) ” اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے۔ “ قسم کی طرف یہ اشارہ اور پھر قسم نہ کھانا ایک اسلوب ہے۔ ایک زیادہ موثر اور دل نشین انداز اور اس سے بات زیادہ پختگی سے ذہن میں بیٹھ جاتی ہے کیونکہ اس پر قسم کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔
﴿وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِيْمٌۙ٠٠٧٦﴾ یہ جملہ معترضہ ہے جو قسم اور جواب قسم کے درمیان واقع ہوا ہے، مطلب یہ ہے کہ مواقع النجوم کی قسم عظیم قسم ہے اگر تم صاحب علم ہوتے تو اس کی عظمت کو جان لیتے۔ پھر جواب قسم فرمایا کہ ﴿ اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌۙ٠٠٧٧﴾ مواقع نجوم کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ کتاب جو تم پڑھتے ہو قرآن کریم ہے ﴿ فِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍۙ٠٠٧٨﴾ جو کتاب محفوظ میں لکھا ہوا ہے اس سے لوح محفوظ مراد ہے جیسا کہ سورة البروج میں فرمایا ہے : ﴿بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌۙ٠٠٢١ فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ (رح) ٠٠٢٢﴾ اس لوح تک شیاطین نہیں پہنچ سکتے اور تغیر اور تبدل سے محفوظ ہے۔
27:۔ ” وانہ لقسم “ یہ قسم اور جواب قسم کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ برائے بیان عظمت قسم یعنی اگر تمہیں اس کی حقیقت کا علم ہو تو یہ ایک نہایت عظیم الشان قسم اور شاہد ہے۔ ” انہ لقران الخ “ یہ جواب قسم ہے یہ قرآن نہایت اعلی اور احسن کتاب ہے جو دینی اور دنیوی منافع کا بیش بہا خزینہ ہے۔ فی کتاب مکنون، وہ لوح محفوظ میں محفوظ اور ہر قسم کے تغیر و تبدل سے مامون و مصئون ہے۔ ” لا یمسہ الا المطہرون “ جملہ کتاب مکنون کی صفت ہے۔ اور ” المطہرون “ سے مراد فرشتے ہیں جو ہر قسم کے گناہوں اور نجاستوں سے پاک ہیں۔ اور ” مس “ کنایہ ہے لوح محفوظ کے علوم پر اطلاع سے حاصل یہ ہوا کہ لوح محفوظ کے علوم پر فرشتوں کے سوا کوئی مطلع نہیں ہوسکتا۔ ونفی مسہ کنایۃ عن لازمہ وھو نفی الاطلاع علیہ وعلی ما فیہ (روح ج 27 ص 154) ۔ یا یہ ” قران “ کی صفت ہے اور المطہرون سے وہ لوگ مراد ہیں جو حدث اصغر اور حدث اکبر سے پاک ہوں اور نفی بمعنی نہی ہے اور مراد یہ ہے قرآن مجید کو صرف وہی لوگ ہاتھ لگائیں جو باوضو ہوں۔ المراد بالمطہرون، المطہرون عن الحدث الاصغر والحدث الاکبر والمعنی لا ینبغی ان یمس القران الا من ھو علی طہارۃ من الناس فالنفی بمعنی النھی بل ابلغ من النہی الصریح (روح ملخصاً ) ۔ اسی بناء پر جمہور فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ بےوضو آدمی قرآن مجید کو ہاتھ نہ لگائے امام بخاری (رح) اس کی اجازت دیتے ہیں۔
(76) اور اگر تم سمجھو تو یہ قسم بہت بڑی قسم ہے حضرت حق جل مجدہ کی قسم واقعی بہت عظیم اور بڑی عظمت والی ہے تاروں کا ڈوبنا یعنی رات کا پچھلا حصہ جو تاروں کے غروب ہونے کا وقت اور تہجد گزاروں کی نماز کا وقت ہے اور رحمت الٰہی اور رضائے الٰہی کے نزول کا وقت ہے چونکہ اوپر قیامت اور اللہ تعالیٰ کی توحید کے لئے عقلی دلائل مذکور تھے اب نقلی دلائل کے سلسلے میں قرآن کا ذکر فرماتے ہیں کہ قرآن جیسی باعظمت اور مکرم کتاب بھی اس امور کا وقوع یقینی بتاتی ہے اور چونکہ یہ ایک مکرم اور آسمانی کتاب ہے اس لئے جو چیز دلائل عقلیہ سے ثابت تھی وہ نقلی دلائل سے بھی ثابت ہے۔ لہٰذا تم کو بھی توحید اور بعث بعدالموت پر ایمان لانا چاہیے بعض لوگوں نے کہا تاروں کے ٹوٹنے کی قسم اور بعض نے کہا کہ قرآن کے اترنے اور پیغمبر کے قلب پر نازل ہونے کی قسم ہے۔ بہرحال آگے قسم کا جواب ہے اور جس پر قسم کھائی ہے وہ آگے مذکور ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک معنی یہ ہے کہ آیتیں اترنے کی پیغمبر کے دل میں۔ خلاصہ : یہ کہ نجوم سے مراد قرآن کی آیتیں ہیں جو پیغمبر کے دل میں اترتی ہیں۔