Surat ul Hadeed

Surah: 57

Verse: 1

سورة الحديد

سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱﴾

Whatever is in the heavens and earth exalts Allah , and He is the Exalted in Might, the Wise.

آسمانوں اور زمین میں جو ہے ( سب ) اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں وہ زبردست با حکمت ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Everything that exists glorifies Allah and mentioning some of His Attributes Allah states, سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ Whatever is in the heavens and the earth glorifies Allah -- and He is the Almighty, All-Wise. In this Ayah, Allah states that everything that exists in the heavens and earth praises and glorifies Him, including creatures and plants. Allah said in another Ayah, تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَـوَتُ السَّبْعُ وَالاٌّرْضُ وَمَن فِيهِنَّ وَإِن مِّن شَىْءٍ إِلاَّ يُسَبِّحُ بِحَمْدَهِ وَلَـكِن لاَّ تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا The seven heavens and the earth and all that is therein, glorify Him and there is not a thing but glorifies His praise. But you understand not their glorification. Truly, He is Ever Forbearing, Oft-Forgiving. (17:44) And His saying: وَهُوَ الْعَزِيزُ and He is the Almighty, meaning the One to Whom all things submit humility, الْحَكِيمُ All-Wise, in His creating, commanding and legislating,

کل کائنات ثناء خواں ہے تمام حیوانات ، سب نباتات اس کی پاکی بیان کرتے ہیں ، ساتواں آسمان ، زمینیں ، ان کی مخلوق اور ہر ایک چیز اس کی ستائش کرنے میں مشغول ہے گو تم ان کی تسبیح نہ سمجھ سکو اللہ حلیم و غفور ہے ۔ اس کے سامنے ہر کوئی پست و عاجز و لاچار ہے ، اس کی مقرر کردہ شریعت اور اس کے احکام حکمت سے پر ہیں ۔ حقیقی بادشاہ جس کی ملکیت میں آسمان و زمین ہیں وہی ہے ، خلق میں متصرف وہی ہے ، زندگی موت اسی کے قبضے میں ہے ، وہی فنا کرتا ہے ، وہی پیدا کرتا ہے ۔ جسے جو چاہے عنایت فرماتا ہے ، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ، جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے ، جو نہ چاہے نہیں ہو سکتا ۔ اس کے بعد کی آیت ( هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ Ǽ۝ ) 57- الحديد:3 ) وہ آیت ہے جس کی بابت اوپر کی حدیث میں گذرا کہ ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے ۔ حضرت ابو زمیل حضرت ابن عباس سے کہتے ہیں کہ میرے دل میں ایک کھٹکا ہے لیکن زبان پر لانے کو جی نہیں چاہتا اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مسکرا کر فرمایا شاید کچھ شک ہو گا جس سے کوئی نہیں بچا یہاں تک کہ قرآن میں ہے آیت ( فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَاۗءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ 94۝ۙ ) 10- یونس:94 ) ، یعنی اگر تو جو کچھ تیری طرف نازل کیا گیا ہے اس میں شک میں ہو تو تجھ سے پہلے جو کتاب پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لے ۔ پھر فرمایا جب تیرے دل میں کوئی شک ہو تو اس آیت کو پڑھ لیا کر ( هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ Ǽ۝ ) 57- الحديد:3 ) اس آیت کی تفسیر میں دس سے اوپر اوپر اقوال ہیں ۔ بخاری فرماتے ہیں یحییٰ کا قول ہے کہ ظاہر باطن سے مراد از روئے علم ہر چیز پر ظاہر اور پوشیدہ ہونا ہے ۔ یہ یحییٰ زیاد فراء کے لڑکے ہیں ان کی ایک تصنیف ہے جس کا نام معانی القرآن ہے ۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے ۔ اے اللہ اے ساتوں آسمانوں کے اور عرش عظیم کے رب ، اے ہمارے اور ہر چیز کے رب! اے تورات و انجیل کے اتارنے والے! اے دانوں اور گٹھلیوں کو اگانے والے تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں میں تیری پناہ میں آتا ہوں ہر اس چیز کی برائی سے کہ اس کی چوٹی تیرے ہاتھ میں ہے تو اول ہے تجھ سے پہلے کچھ نہ تھا تو ہی آخر ہے تیرے بعد کچھ نہیں تو ظاہر ہے تجھ سے اونچی کوئی چیز نہیں تو باطن ہے تجھ سے چھپی کوئی چیز نہیں ہمارے قرض ادا کرا دے اور ہمیں فقیری سے غنا دے ۔ حضرت ابو صالح اپنے متعلقین کو یہ دعا سکھاتے اور فرماتے سوتے وقت داہنی کروٹ پر لیٹ کر یہ دعا پڑھ لیا کرو ، الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے ۔ ملاحظہ ہو مسلم ۔ ابو یعلی میں ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آپ کا بسترہ قبلہ رخ بچھایا جاتا آپ آ کر اپنے داہنے ہاتھ پر تکیہ لگا کر آرام فرماتے ، پھر آہستہ آہستہ کچھ پڑھتے رہتے لیکن آخر رات میں با آواز بلند یہ دعا پڑھتے ( جو اوپر بیان ہوئی ) الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے ۔ اس آیت کی تفسیر میں جامع ترمذی میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سمیت تشریف فرما تھے کہ ایک بادل سر پر آ گیا آپ نے فرمایا جانتے ہو یہ کیا ہے؟ صحابہ نے با ادب جواب دیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں ۔ فرمایا اسے عنان کہتے ہیں یہ زمین کو سیراب کرنے والے ہیں ان لوگوں پر بھی یہ برسائے جاتے ہیں جو نہ اللہ کے شکر گزار ہیں نہ اللہ کے پکارنے والے پھر پوچھا معلوم ہے تمہارے اوپر کیا ہے انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ باخبر ہے ، فرمایا بلند محفوظ چھت اور لپٹی ہوئی موج ، جانتے ہو تم میں اس میں کس قدر فاصلہ ہے وہی جواب ملا ، فرمایا پانچ سو سال کا راستہ ۔ پھر پوچھا جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے؟ صحابہ نے پھر اپنی لاعلمی ان ہی الفاظ میں ظاہر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے اوپر پھر دوسرا آسمان ہے اور ان دونوں آسمانوں میں بھی پانچ سو سال کا فاصلہ ہے اسی طرح آپ نے سات آسمان گنوائے اور ہر دو میں اتنی ہی دوری بیان فرمائی ۔ پھر سوال کر کے جواب سن کر فرمایا اس ساتویں کے اوپر اتنے ہی فاصلہ سے عرش ہے ، پھر پوچھا جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے اور جواب وہی سن کر فرمایا دوسری زمین ہے ، پھر سوال جواب کے بعد فرمایا اس کے نیچے دوسری زمین ہے اور دونوں زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے ، اسی طرح سات زمینیں اسی فاصلہ کے ساتھ ایک دوسرے کے نیچے بتائیں ، پھر فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر تم کوئی رسی سب سے نیچے کی زمین کی طرف لٹکاؤ تو وہ بھی اللہ کے پاس پہنچے گی پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی ، لیکن یہ حدیث غریب ہے اس کے راوی حسن کا ایوب یونس اور علی بن زید محدثین کا قول ہے ۔ بعض اہل علم نے اس حدیث کی شرح میں کہا ہے کہ اس سے مراد رسی کا اللہ تعالیٰ کے علم قدرت اور غلبے تک پہنچنا ہے ( نہ کہ ذات باری تعالیٰ ) اللہ تعالیٰ کا علم اس کی قدرت اور اس کا غلبہ اور سلطنت بیشک ہر جگہ ہے لیکن وہ اپنی ذات سے عرش پر ہے جیسے کہ اس نے اپنا یہ وصف اپنی کتاب میں خود بیان فرمایا ہے ۔ مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں دو دو زمینوں کے درمیان کا فاصلہ سات سو سال کا بیان ہوا ۔ ابن ابی حاتم اور بزار میں بھی یہ حدیث ہے لیکن ابن ابی حاتم میں رسی لٹکانے کا جملہ نہیں اور ہر دو زمین کے درمیان کی دوری اس میں بھی پانچ سو سال کی بیان ہوئی ہے ۔ امام بزار نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس روایت کا راوی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر حضرت ابو ہریرہ کے اور کوئی نہیں ۔ ابن جریر میں یہ حدیث مرسلاً مروی ہے یعنی قتادہ فرماتے ہیں ہم سے یوں ذکر کیا گیا ہے پھر حدیث بیان کرتے ہیں صحابی کا نام نہیں لیتے ۔ ممکن ہے یہی ٹھیک ہو ، واللہ اعلم ، حضرت ابو ذر غفاری سے مسند بزار اور کتاب الاسماء و الصفات بیہقی میں یہ حدیث مروی ہے لیکن اس کی اسناد میں نظر ہے اور متن میں غربت و نکارت ہے واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم ۔ امام ابن جریر آیت ( وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنّ 12۝ۧ ) 65- الطلاق:12 ) کی تفسیر میں حضرت قتادہ کا قول لائے ہیں کہ آسمان و زمین کے درمیان چار فرشتوں کی ملاقات ہوئی ۔ آپس میں پوچھا کہ تم کہاں سے آ رہے ہو؟ تو ایک نے کہا ساتویں آسمان سے مجھے اللہ عزوجل نے بھیجا ہے اور میں نے اللہ کو وہیں چھوڑا ہے ۔ دوسرے نے کہا ساتویں زمین سے مجھے اللہ نے بھیجا تھا اور اللہ وہیں تھا ، تیسرے نے کہا میرے رب نے مجھے مشرق سے بھیجا ہے جہاں وہ تھا چوتھے نے کہا مجھے مغرب سے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اور میں اسے وہیں چھوڑ کر آ رہا ہوں ۔ لیکن یہ روایت بھی غریب ہے بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت قتادہ والی اوپر کی روایت جو مرسلاً بیان ہوئی ہے ممکن ہے وہ بھی حضرت قتادہ کا اپنا قول ہو جیسے یہ قول خود قتادہ کا اپنا ۔ واللہ اعلم

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

13یہ تسبیح زبان حال سے نہیں، بلکہ زبان کی بات چیت سے ہے اسی لئے فرمایا گیا ' کہ تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے ساتھ پہاڑ بھی تسبیح کرتے تھے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١] ہر چیز کی تسبیح کا مفہوم :۔ اللہ تعالیٰ کی تسبیح زبان حال سے بھی ہوسکتی ہے اور قال سے بھی۔ زبان حال سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح یہ ہے کہ کائنات کی ایک ایک چیز خواہ وہ جمادات سے تعلق رکھتی ہو یا نباتات سے یا حیوانات سے اپنی تخلیق اور طریق کار سے واضح طور پر یہ ثبوت فراہم کر رہی ہے کہ اس کا خالق ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہے اور اس نے جو چیز بھی پیدا کی اور بنائی کمال حکمت سے بنائی اور جس مقصد کے لیے بنائی گئی وہ اپنا مقصد پورا کر رہی ہے اور جو تسبیح یہ چیزیں زبان قال سے کر رہی ہیں وہ ہم سمجھ نہیں سکتے۔ (١٧: ٤٤) [٢] چونکہ وہ ہر چیز کا خالق ہے۔ لہذا اس پر پورا پورا تصرف اور اختیار بھی رکھتا ہے اور ہر چیز کو جس مقصد کے لیے اس نے بنایا ہے اس سے وہ کام لے رہا ہے۔ اس قدر بےپناہ اور ہمہ گیر قوت اور غلبہ کے باوجود اس نے کبھی اس قوت کا غلط استعمال نہیں کیا بلکہ جو چیز بھی بنائی اس میں کئی حکمتیں مضمر ہوتی ہیں۔ خواہ وہ انسان کے علم میں آچکی ہوں یا نہ آئی ہوں اور وہ ہمیشہ اپنی تخلیق کا مقصد پورا کرتی اور مثبت نتائج پیدا کرتی ہے اور یہی بات اللہ تعالیٰ کی کمال حکمت پر دلیل ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ سَبَّحَ ِﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج : یعنی زمین و آسمان کی ہر چیز نے اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کا خالق ومالک اللہ عزوجل ہر عیب اور کمی سے پاک ہے ، اس کی ذات وصفات ، افعال و احکام غرض ہر چیز کسی بھی طرح کے عیب اور نقص سے پاک ہے ۔ اس سورت میں اور سورة ٔ صف اور سورة ٔ حشر کے شروع میں ” سبح “ ( ماضی) آیا ہے ، سورة ٔ جمعہ اور سورة ٔ تغابن میں ” یسبح “ ( مضارع) آیا ہے ، جس میں حال و استقبال دونوں شامل ہیں اور سورة ٔ بنی اسرائیل میں ” سبحن “ ( مصدر) آیا ہے ، جس میں دوام پایا جاتا ہے ۔ یعنی کائنات کا ذرہ ذرعہ ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کا ہر عیب سے پاک ہوتا بیان کرتا چلا آتا ہے ، اب بھی کر رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا ۔ سورة ٔ اعلیٰ میں ” سبح “ امر کے ساتھ بھی آیا ہے۔ ٢۔ اس میں مشرکین پر چوٹ ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ہر عیب سے پاک ہونے کا اعلان کر رہی ہے اور تم ہو کہ اس کے لیے شریک اور اس کے لیے اولاد بنا کر اس پر اتنا بڑا عیب لگا رہے ہو جس سے بڑا عیب اور جس سے بڑی گالی اس کے لیے ہو ہی نہیں سکتی ۔ تمہیں پیدا اس نے کیا ، تمہاری پرورش وہ کر رہا ہے اور تمہاری ہر ضرورت پوری وہ کرتا ہے ، تمہاری موت و حیات اس کے ہاتھ میں ہے ، مگر تم اس کے بےبس بندوں میں سے کسی کو داتا کہتے ہو ، کسی کو دستگیر ، کسی کو مشکل کشا اور کسی کو گنج بخش ، کسی کو تم نے اولاد دینے والا بنا رکھا ہے تو کسی کو حکومت دینے والا ، کسی کو خزانے بخشنے والا تو کسی کو شفاء دینے والا ، کسی کے متعلق کہتے ہو کہ وہ اللہ کی تقدیر کا رخ پھیر دیتا ہے اور کسی کے بارے میں کہتے ہو کہ وہ کمان سے نکلا ہوا تیر راستے سے واپس لے آتا ہے۔ اب آسمان و زمین کی ہر چیز کی گواہی کو دیکھو اور اپنے طرز عمل کو دیکھو ۔ عبد اللہ بن عباس (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں :(قال اللہ کذبنیی ابن آدم ولم یکن لہٗ ذلک وشتمنی ولم یکن لہ ذلک ، فاماتکذمیہ ایای فزعم انی لا اقدر ان اعیدہ کما کان واما شتمہ ایای فقولہ لی ولد ، فسبحانی ان اتخذ صاحبۃ او ولدا) (بخاری ، التفسیر ، سورة البقرۃ ، باب :( وقالوا اتخذ اللہ ولدا سبحانہ): ٤٤٨٢)” اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، ابن آدم نے جھٹلا دیا ، حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تھا اور اس نے مجھے گالی دی ، حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تھا۔ اس کا مجھے جھٹلانا تو یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ میں اسے دوبارہ بنانے پر قادر نہیں ہوں اور اس کا مجھے گالی دینا اس کا یہ کہنا ہے کہ میری کوئی اولاد ہے، حالانکہ میں اس سے پاک ہوں کہ میں کوئی بیوی یا اولاد بناؤں “۔ اس سورت میں اور مذکورہ بالا دوسری سورتوں کی آیات میں ” تسبیح “ کے لفظ اور اس حدیث میں ’ سبحانی “ کے لفظ پر غور فرمائیں تو تسبیح کا مفہوم کافی حد تک واضح ہوجائے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تسبیح کے ذکر کے بعد اپنی دس سے زیادہ صفات بیان فرمائیں اور سب کے بعد کفر و شرک چھوڑ کر ایمان لانے کی دعوت دی ، فرمایا :(اٰمِنُوْا بِ اللہ ِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَکُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْہِ ط ) ( الحدید : ٧) ” اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن میں اس نے تمہیں ( پہلوں کا) جانشنی بنایا ہے “۔ ٣۔ تسبیح کا لغوی معنی کیا ہے ، قرآن آیات میں اس کا مفہوم کیا ہے ، یہ تسبیح زبان حال سے ہے یا قول کے ساتھ ؟ ان سب باتوں کے لیے دیکھئے سورة ٔ بنی اسرائیل (٤٣، ٤٤) کی تفسیر۔ ٤۔ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ :” العزیز “ ” عز یعز “ (ض) سے مبالغے کا صیغہ ہے ، سب پر غالب ہے ، کوئی کام ایسا نہیں جو وہ کرنا چاہے اور نہ کرسکے اور کوئی ہستی ایسی نہیں جو اسے کسی کام سے روک سکے۔” الحکیم “ کمال حکمت والا ۔ اس کا ہر کا محکم ہے اور دانائی پر مشتمل ہے ، اس لیے کہ وہ ماضی ، حال اور مستقبل کا کامل عامل رکھتا ہے۔ اس کے کسی کام میں کوئی غلطی نہیں ، وہ عزیز ہے تو حکیم بھی ہے ، اس کا غلبہ اندھے کی لاٹھی نہیں ، بلکہ اس کے ساتھ کمال حکمت بھی شامل ہے۔” العزیز الحکیم “ خبر پر الف لام سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا کہ عزیز و حکیم صرف وہ ہے ، کوئی اور نہیں ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Some of the Merits of Surah Al-Hadid It is recorded in Abu Dawud, Tirmidhi and Nasa&i that Sayyidna ` Irbad Ibn Sariyah (رض) said that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to recite Al-Musabbihat before he went to sleep and said: |"In them there is a verse that is more meritorious than a thousand verses.|" The collective name of the series Al-Musabbihat refers to the following five Surahs: [ 1] Al-Hadid; [ 2] Al-Hashar; [ 3] As-Saff; [ 4] Jumu&ah; and [ 5] At-Taghabun. Having cited this Hadith, Ibn Kathir says that the best verse referred to in Surah Al-Hadid is verse [ 3] هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ‌ وَالظَّاهِرُ‌ وَالْبَاطِنُ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (He is the First and the Last, and the Manifest and the Hidden, and He is All-Knowing about everything....57:3] Among the five Surahs, the first three, namely Al-Hadid, Al-Hashr and As-Saff commence with the past perfect tense &sabbaha& [ purity has been proclaimed ] whilst the last two, namely Al-Jumu` ah and Al-Taghabun commence with the imperfect tense yusabbihu [ purity is proclaimed ]. This implies that the purity of Allah should be declared at all times, the past, the present and the future. [ Mazhari ]

خلاصہ تفسیر اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں سب جو کچھ آسمانوں اور زمین میں (مخلوقات) ہیں (زبان قال سے یا زبان حال سے) اور وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے اسی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی وہی حیات دیتا ہے اور (وہی) موت دیتا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے وہی (سب مخلوق سے) پہلے ہے اور وہی (سب کے فناء ذاتی یا صفاتی سے) پیچھے (بھی رہے گا، یعنی اس پر نہ پہلے کبھی عدم طاری ہوا اور نہ آئندہ کسی درجہ میں اس پر عدم طاری ہونے کا امکان ہے، اس لئے سب سے آخر میں وہی ہے) اور وہی (مطلق وجود کے اعتبار سے ازروئے دلائل نہایت) ظاہر ہے اور وہی (کنہ ذات کے اعتبار سے نہایت) مخفی ہے (یعنی کوئی اس کی ذات کا ادراک نہیں کرسکتا) اور (گو وہ خود تو ایسا ہے کہ مخلوق کو ایک حیثیت سے معلوم ہے اور ایک حیثیت سے غیر معلوم لیکن مخلوق سب من کل الوجوہ اس کو معلوم ہے اور) وہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے (اور) وہ ایسا (قادر) ہے کہ اس نے آسمان اور زمین کو چھ روز (کی مقدار زمانہ) میں پیدا کیا پھر عرش پر (جو کہ مشابہ ہے تخت سلطنت کے اس طرح) قائم (اور جلوہ فرما) ہوا (جو اس کی شان کے لائق ہے اور) وہ سب کچھ جانتا ہے جو چیز زمین کے اندر داخل ہوتی ہے (مثلاً بارش) اور جو چیز اس میں سے نکلتی ہے (مثلاً نباتات) اور جو چیز آسمان سے اترتی ہے اور جو چیز اس میں چڑھتی ہے (مثلاً ملائکہ کہ نزول و عروج کرتے ہیں اور مثلاً احکام جن کا نزول ہوتا ہے اور اعمال عباد جن کا صعود ہوتا ہے) اور (جس طرح ان چیزوں کا اس کو علم ہے اسی طرح تمہارے تمام احوال کا بھی اس کو علم ہے چنانچہ) وہ (علم و اطلاع کے اعتبار سے) تمہارے سب اعمال کو بھی دیکھتا ہے اسی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی اور اللہ ہی کی طرف سب امور ( جو ہریہ و عرضیہ) لوٹ جاویں گے (یعنی قیامت میں پیش ہوجاویں گے، اسی میں توحید کے ساتھ ضمناً قیامت کا بھی اثبات ہوگیا) وہی رات (کے اجزاء) کو دن میں داخل کرتا ہے (جس سے دن بڑا ہوجاتا ہے) اور وہی دن (کے اجزاء) کو رات میں داخل کرتا ہے (جس سے رات بڑی ہوجاتی ہے) اور (اس قدرت کے ساتھ اس کا علم ایسا ہے کہ) وہ دل کی باتوں (تک) کو جانتا ہے۔ معارف و مسائل سورة حدید کی بعض خصوصیات : پانچ سورتوں کو حدیث میں مسبحات سے تعبیر کیا گیا ہے، جن کے شروع میں سَبَّحَ یا یُسَبِّحُ آیا ہے، ان میں سے پہلی یہ سورت حدید ہے، دوسری حشر، تیسری صف، چوتھی جمعہ، پانچویں تغابن، ابوداؤد، ترمذی، نسائی میں حضرت عرباض بن ساریہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو سونے سے پہلے یہ مسبحات پڑھا کرتے تھے اور آپ نے ارشاد فرمایا کہ ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے افضل ہے، ابن کثیر نے یہ روایت نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ افضل آیت سورة حدید کی یہ آیت ہے، (هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ) ان پانچ سورتوں میں سے تین یعنی حدید، حشر، صف میں تو لفظ سبح بصیغہ ماضی آیا ہے اور آخری دو یعنی جمعہ اور تغابن میں یسبح بصیغہ مضارع، اس میں اشارہ اس طرف ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور ذکر ہر زمانے ہر وقت ماضی و مستقبل اور حال میں جاری رہنا چاہئے (مظہری )

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

سَبَّحَ لِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝ ١ سبح السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو فعلا، أو نيّة، قال : فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] ، ( س ب ح ) السبح اس کے اصل منعی پانی یا ہوا میں تیز رفتار ری سے گزر جانے کے ہیں سبح ( ف ) سبحا وسباحۃ وہ تیز رفتاری سے چلا پھر استعارہ یہ لفظ فلک میں نجوم کی گردش اور تیز رفتاری کے لئے استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] سب ( اپنے اپنے ) فلک یعنی دوائر میں تیز ی کے ساتھ چل رہے ہیں ۔ اور گھوڑے کی تیز رفتار پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] اور فرشتوں کی قسم جو آسمان و زمین کے درمیان ) تیر تے پھرتے ہیں ۔ اور کسی کام کو سرعت کے ساتھ کر گزرنے پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] اور دن کے وقت کو تم بہت مشغول کا رہے ہو ۔ التسبیح کے معنی تنزیہ الہیٰ بیان کرنے کے ہیں اصل میں اس کے معنی عبادت الہی میں تیزی کرنا کے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پھر اس کا استعمال ہر فعل خیر پر ہونے لگا ہے جیسا کہ ابعاد کا لفظ شر پر بولا جاتا ہے کہا جاتا ہے ابعد اللہ خدا سے ہلاک کرے پس تسبیح کا لفظ قولی ۔ فعلی اور قلبی ہر قسم کی عبادت پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] قو اگر یونس (علیہ السلام) اس وقت ( خدا کی تسبیح ( و تقدیس کرنے والوں میں نہ ہوتے ۔ یہاں بعض نے مستحین کے معنی مصلین کئے ہیں لیکن انسب یہ ہے کہ اسے تینوں قسم کی عبادت پر محمول کیا جائے الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله» وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها «2» ، وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر «5» ، مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حی ھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة «1» . الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي «3» . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزیز العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ ) حكيم والحِكْمَةُ : إصابة الحق بالعلم والعقل، فالحکمة من اللہ تعالی: معرفة الأشياء وإيجادها علی غاية الإحكام، ومن الإنسان : معرفة الموجودات وفعل الخیرات . وهذا هو الذي وصف به لقمان في قوله عزّ وجلّ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] ، ونبّه علی جملتها بما وصفه بها، فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم «2» ، فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره، ومن هذا الوجه قال اللہ تعالی: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، وإذا وصف به القرآن فلتضمنه الحکمة، نحو : الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] ( ح ک م ) الحکمتہ کے معنی علم وعقل کے ذریعہ حق بات دریافت کرلینے کے ہیں ۔ لہذا حکمت الہی کے معنی اشیاء کی معرفت اور پھر نہایت احکام کے ساتھ انکو موجود کرتا ہیں اور انسانی حکمت موجودات کی معرفت اور اچھے کو موں کو سرانجام دینے کا نام ہے چناچہ آیت کریمہ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی ۔ میں حکمت کے یہی معنی مراد ہیں جو کہ حضرت لقمان کو عطا کی گئی تھی ۔ لهذا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اللہ کی پاکی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں جو کچھ آسمانوں اور زمین میں مخلوقات ہیں اور وہ کافر کو سزا دینے میں زبردست اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے اس نے اس بات کا حکم دیا کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کی جائے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١ { سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ” تسبیح کرتی ہے اللہ کی ہر وہ شے جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے۔ “ ان سورتوں (المُسَبِّحات) کا یہ مضمون بہت اہم ہے۔ آگے چل کر سورة الحشر اور سورة الصف میں یہ آیت ” مَا فِیْ “ کے اضافے کے ساتھ اس طرح آئے گی : { سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِج } اور پھر سورة الجمعہ اور سورة التغابن میں مزید ُ پرزور انداز میں فعل مضارع کے ساتھ یوں آئے گا : { یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ }۔ کائنات کی ہرچیز کس طرح اللہ کی تسبیح کرتی ہے ؟ اس کی ایک صورت تو ” تسبیح حالی “ کی ہے جو ہماری سمجھ میں آتی ہے کہ ہرچیز اپنی زبان حال سے اللہ کی تسبیح کر رہی ہے۔ اس کی مثال ایک تصویر ہے جو اپنے مصور کے کمال فن یا عدم مہارت پر دلالت کرتی ہے ۔ چناچہ جس طرح ایک خوبصورت تصویر زبان حال سے اپنے مصور کی تعریف کرتی نظر آتی ہے اسی طرح اس کائنات کا ذرّہ ذرّہ اپنے وجود سے گواہی دے رہا ہے کہ میرا پیدا کرنے والا ‘ میرا صانع ‘ میرا خالق ‘ میرا مصور ہر عیب سے پاک ‘ ہر نقص سے بالا اور ہر لحاظ سے کامل و اکمل ہے ‘ اس کے علم ‘ اس کی قدرت اور اس کی حکمت میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں ہے۔ دوسری صورت ” زبانی تسبیح “ کی ہے جو کہ خود قرآن مجید سے ثابت ہے۔ سورة حٰمٓ السَّجدۃ کی آیات ٢٠ اور ٢١ میں قیامت کے اس منظر کا ذکر ہے جب انسانوں کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دے رہے ہوں گے۔ اس پر وہ لوگ حیرت سے اپنی کھالوں سے پوچھیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ؟ جواب میں ان کی کھالیں کہیں گی : { اَنْقَطَنَا اللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْطَقَ کُلَّ شَیْئٍ } (آیت ٢١) کہ آج اس اللہ نے ہمیں بھی زبان دے دی ہے جس نے ہر شے کو زبان دی ہے۔ اس کے علاوہ سورة بنی اسرائیل کی اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کو اپنی تسبیح کے لیے ایک طریقہ تفویض کر رکھا ہے : { تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْہِنَّ وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰکِنْ لاَّ تَفْقَہُوْنَ تَسْبِیْحَہُمْ } (آیت ٤٤) ” اسی کی تسبیح میں لگے ہوئے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور (وہ تمام مخلوق بھی ) جو ان میں ہے۔ اور کوئی چیز نہیں مگر یہ کہ وہ تسبیح کرتی ہے اس کی حمد کے ساتھ ‘ لیکن تم نہیں سمجھ سکتے ان کی تسبیح کو۔ “ بہرحال کائنات کی ہرچیز اپنی زبان حال سے بھی اللہ کی تسبیح کر رہی ہے اور اللہ کی عطا کردہ اپنی مخصوص زبان سے بھی اس کی تعریف و توصیف میں مشغول و مصروف ہے۔ اس کے علاوہ اس کی تسبیح کی اور صورتیں بھی ہوسکتی ہیں جو کہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہیں۔ { وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ } ” اور وہ بہت زبردست ہے ‘ کمال حکمت والا۔ “ ان سورتوں میں اللہ تعالیٰ کے یہ دو اسماء اکٹھے ایک ساتھ بہت تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔ اسمائے حسنیٰ کا یہ جوڑا معنوی اعتبار سے بہت اہم ہے ۔ العزیز وہ ہستی ہے جس کا اختیار مطلق ہو ۔ ہم جانتے ہیں کہ انسانی سطح پر مطلق العنانیت کا تجربہ ہمیشہ بہت تلخ رہا ہے۔ عملی طور پر ہمارے ہاں ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ جہاں مطلق العنانیت آتی ہے ‘ وہاں اختیارات کا ناجائز استعمال ضرور ہوتا ہے۔ بلکہ پولیٹیکل سائنس کا تو اس حوالے سے آزمودہ فارمولا یہ ہے : |" Authority tends to corrupt and absolute authority corrupts absolutely.|" چنانچہ جب کسی ملک کا آئین بنایا جاتا ہے اور معاشرے کے لیے قوانین وضع کیے جاتے ہیں تو متعلقہ ماہرین کی ساری کوشش اختیارات کو مشروط کرنے اور ان میں توازن قائم کرنے پر مرکوز ہوتی ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ ایسی صاحب اختیار ہستی ہے جس کے اختیارات کی نہ تو کوئی حد ہے اور نہ ہی اس کے اختیارات کسی شرط سے مشروط ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ” الحکیم “ بھی ہے۔ وہ اپنے مطلق اختیارات میں خود ہی اپنی حکمت سے توازن قائم رکھتا ہے۔ چناچہ ہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ زبردست ہے ‘ وہ اپنی تمام مخلوقات پر غالب ہے ‘ اس کے اختیارات مطلق ہیں ‘ لیکن اس کا کوئی کام ‘ اس کا کوئی عمل اور اس کا کوئی فیصلہ حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 'That is, "It has always been so that everything in the universe has proclaimed the truth that its Creator and Sustainer is free from every blemish and defect, every weakness, error and evil. He is glorified in His essence, He is glorified in His attributes, He is glorified in His works as well as His commands whether they relate to the creation, or to the religious law for mankind. Here sabbaha has been used in the past tense; at other places yusabbihu has been used which includes both the present and the future tenses. This would signify that every particle in the universe has always been extolling the glory of its Creator and Sustainer in the past, is doing 60 at present and will continue to do the same in the future for ever and ever." 2 That is, not only is He All-Mighty and All-Wist, but the truth is that He afoot is AII-Mighty and All-Wise. The word 'Aziz signifies a mighty and powerful Being Whose decrees cannot be prevented by any power in the world from being enforced, Whom no one can oppose and resist, Who has to be obeyed by every one whether one likes it or not, Whose rebel cannot escape His accountability and punishment in any way; and Hakim signifies that whatever He does He does it wisely. His creation, His administration and rule, His commands and guidance, all are based on wisdom. None of His works is tarnished by any tract of folly or ignorance. There is another fine point here, which one should fully understand. Seldom in the Qur'an has Allah's attribute of `Aziz (AII-Mighty) been accompanied by His attributes of being Qawi (Strong), Mugtadir(Powerful), Jabber (Omnipotent), Dhuntiqam (Avenger) and the like, which only signify His absolute power, and this has been so only in places where the context demanded that the wicked and disobedient be warned of Allah's relentless punishment. Apart from such few places, wherever the word 'Aziz has been used for Allah, it has everywhere been accompanied by one Or other of His attributes of being Hakim (Wise), Alim (Knower), Rahim (Merciful), Ghafur (Forgiving), Wahhab (Generous) and Hamid (Praiseworthy). The reason is that if a being who wields un-limited power is at the same time foolish, ignorant, un-forgiving as well as stingy and devoid of character, its power and authority cannot but lead to injustice and wickedness Thus, wherever injustice and wickedness is being committed in the world, it is only because the one who wields authority over Others, is either using his power un-wisely and foolishly, or he is merciless and hardhearted, or evil-minded and wicked. Wherever power is coupled with these evil traits of character, no good can be expected to result. That is why in the Holy Qur'an Allah's attribute of `Aziz has necessarily been accompanied by His attributes of being All-Wise and Knowing, Compassionate and Forgiving, Praiseworthy and Generous, so that man may know that the God Who is ruling this universe has, on the' one hand, such absolute power that no one, from the earth to the heavens, can prevent His decrees from being enforced, but, on the other, He is also AlI-Wise: His each decision is based on perfect wisdom; He is also AII-Knowing whatever decision He makes, it precisely according to knowledge; He is also Compassionate: He does not use infinite power mercilessly; He is Forgiving as well: He does not punish His creatures for trifling faults, but overlooks their errors; He is also Generous: He does not treat His subjects stingily, but liberally and benevolently; and He is also Praiseworthy: He combines in Himself all praiseworthy virtues and excellences. The full importance of this statement of the Qur'an can be better understood by those people who are aware of the discussions of the philosophy of politics and law on the question of sovereignty. Sovereignty connotes that the one who possesses it should wield un-limited power: there should be no internal and external power to change or modify his decision or prevent it from being enforced, and none should have any alternative but to obey him. At the mere concept of this infinite and un-limited power, man's common-sense necessarily demands that whoever attains to such power, should be faultless and perfect in knowledge and wisdom, for if the one holding this power is ignorant, merciless and evil, his sovereignty will inevitably lead to wickedness and corurption. That is why the philosophers who regarded a single man, or a man-made institution, or an assembly of men as the holder of this power, have had to presume that he or it would be infallible. But obviously, neither can un limited sovereignty be actually attained by a human power, nor is it possible for a king, or a parliament, or a nation, or a party that it may use the sovereignty attained by it in a limited circle faultlessly and harmlessly. The reason is that the wisdom that is wholly free of every trace of folly, and the knowledge that fully comprehends all the related truths, is not at all possessed even by entire mankind, not to speak of its being attain d by an individual, or an institution, or a nation. Likewise, as long as man is man, his being wholly free of and above selfishness, sensuality, fear, greed, desires, prejudice and sentimental love, anger and hate is also not possible. If a person ponders over these truths, he will realize that the Qur'an is indeed presenting here a correct and perfect view of sovereignty. It says that no one except Allah in this universe is possessor of absolute power, and with this unlimited power He alone is faultless, All-Wise and All-Knowing, Compassionate and Forgiving, and Praiseworthy and Generous in His dealings with Hid subjects.

سورة الْحَدِیْد حاشیہ نمبر :1 یعنی ہمیشہ کائنات کی ہر چیز نے اس حقیقت کا اظہار و اعلان کیا ہے کہ اس کا خالق و پروردگار ہر عیب اور نقص اور کمزوری اور خطا اور برائی سے پاک ہے ۔ اس کی ذات پاک ہے ، اس کی صفات پاک ہیں ، اس کے افعال پاک ہیں ، اور اس کے احکام بھی ، خواہ وہ تکوینی احکام ہوں یا شرعی ، سراسر پاک ہیں ۔ یہاں سَبَّحَ صیغہ ماضی استعمال کیا گیا ہے ، اور بعض دوسرے مقامات پر یُسَبِّحُ صیغہ مضارع استعمال ہو ا ہے جس میں حال اور مستقبل دونوں کا مفہوم شامل ہے ۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ ہمیشہ اپنے خالق و رب کی پاکی بیان کرتا رہا ہے ، آج بھی کر رہا ہے ، اور ہمیشہ کرتا رہے گا ۔ سورة الْحَدِیْد حاشیہ نمبر :2 اصل الفاظ ہیں ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ لفظ ھُوَ کو پہلے لانے سے خود بخود حصر کا مفہوم پیدا ہوتا ہے ، یعنی بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ وہ عزیز اور حکیم ہے ، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہی ایسی ہستی ہے جو عزیز بھی ہے اور حکیم بھی ۔ عزیز کے معنی ہیں ایسا زبردست اور قادر و قاہر جس کے فیصلے کو نافذ ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی ، جس کی مزاحمت کسی کے بس میں نہیں ہے ، جس کی اطاعت ہر ایک کو کرنی ہی پڑتی ہے خواہ کوئی چاہے یا نہ چاہے ، جس کی نافرمانی کرنے والا اس کی پکڑ سے کسی طرح بچ ہی نہیں سکتا ۔ اور حکیم کے معنی یہ ہیں کہ وہ جو کچھ بھی کرتا ہے حکمت اور دانائی کے ساتھ کرتا ہے ۔ اس کی تخلیق ، اس کی تدبیر ، اس کی فرمانروائی ، اس کے احکام ، اس کی ہدایات ، سب حکمت پر مبنی ہیں ۔ اس کے کسی کام میں نادانی اور حماقت و جہالت کا شائبہ تک نہیں ہے ۔ اس مقام پر ایک لطیف نکتہ اور بھی ہے جسے اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے ۔ قرآن مجید میں کم ہی مقامات ایسے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز کے ساتھ قوی ، مقتدر ، جبار اور ذو انتقام جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن سے محض اس کے اقتدار مطلق کا اظہار ہوتا ہے ، اور یہ صرف ان مواقع پر ہوا ہے جہاں سلسلہ کلام اس بات کا متقاضی تھا کہ ظالموں اور نافرمانوں کو اللہ کی پکڑ سے ڈرایا جائے ۔ اس طرح کے چند مقامات کو چھوڑ کر باقی جہاں بھی اللہ تعالیٰ کے لیے عزیز کا لفاظ استعمال کیا گیا ہے ، وہاں اس کے ساتھ حکیم ، علیم ، رحیم ، غفور ، وہاب اور حمید میں سے کوئی لفظ ضرور لایا گیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی ہستی ایسی ہو جسے بے پناہ طاقت حاصل ہو مگر اس کے ساتھ وہ نادان ہو ، جاہل ہو ، بے رحم ہو ، در گزر اور معاف کرنا جانتی ہی نہ ہو ، بخیل ہو ، اور بدسیرت ہو تو اس کے اقتدار کا نتیجہ ظلم کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا ۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی ظلم ہو رہا ہے اس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ جس شخص کو دوسروں پر بالاتری حاصل ہے وہ یا تو اپنی طاقت کو نادانی اور جہالت کے ساتھ استعمال کر رہا ہے ، یا وہ بے رحم اور سنگدل ہے ، یا بخیل اور تنگ دل ہے ، یا بد خو اور بد کردار ہے ، طاقت کے ساتھ ان بری صفات کا اجتماع جہاں بھی ہو وہاں کسی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔ اسی لیے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز کے ساتھ اس کے حکیم و علیم اور رحیم و غفور اور حمید و وہاب ہونے کا ذکر لازماً کیا گیا ہے تاکہ انسان یہ جان لے کہ جو خدا اس کائنات پر فرمانروائی کر رہا ہے وہ ایک طرف تو ایسا کامل اقتدار رکھتا ہے کہ زمین سے لے کر آسمانوں تک کوئی اس کے فیصلوں کو نافذ ہونے سے روک نہیں سکتا ، مگر دوسری طرف وہ حکیم بھی ہے ، اس کا ہر فیصلہ سراسر دانائی پر مبنی ہوتا ہے ۔ علیم بھی ہے ، جو فیصلہ بھی کرتا ہے ٹھیک ٹھیک علم کے مطابق کرتا ہے ۔ رحیم بھی ہے ، اپنے بے پناہ اقتدا کو بے رحمی کے ساتھ استعمال نہیں کرتا ۔ غفور بھی ہے ، اپنے زیر دستوں کے ساتھ خردہ گیری کا نہیں بلکہ چشم پوشی و درگزر کا معاملہ کرتا ہے ۔ وہاب بھی ہے ، اپنی رعیت کے ساتھ بخیلی کا نہیں بلکہ بے انتہا فیاضی کا برتاؤ کر رہا ہے ۔ اور حمید بھی ہے ، تمام قابل تعریف صفات و کمالات اس کی ذات میں جمع ہیں ۔ قرآن کے اس بیان کی پوری اہمیت وہ لوگ زیادہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جو حاکمیت ( Sovereignty ) کے مسئلے پر فلسفہ سیاست اور فلسفہ قانون کی بحثوں سے واقف ہیں ۔ حاکمیت نام ہی اس چیز کا ہے کہ صاحب حاکمیت غیر محدود اقتدار کا مالک ہو ، کوئی داخلی و خارجی طاقت اس کے حکم اور فیصلے کو نفاذ سے روکنے ، یا اس کو بدلنے ، یا اس پر نظر ثانی کرنے والی نہ ہو ، اور کسی کے لیے اس کی اطاعت کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو ۔ اس غیر محدود اقتدار کا تصور کرتے ہی انسانی عقل لازماً یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ایسا اقتدار جس کو بھی حاصل ہو اسے بے عیب اور علم و حکمت میں کامل ہونا چاہیے ۔ کیونکہ اگر اس اقتدار کا حامل نادان ، جاہل ، بے رحم ، اور بدخو ہو تو اس کی حاکمیت سراسر ظلم و فساد ہو گی ۔ اسی لیے جن فلسفیوں نے کسی انسان ، یا انسانی ادارے ، یا انسانوں کے مجموعے کو حاکمیت کا حامل قرار دیا ہے ان کو یہ فرض کرنا پڑا ہے کہ وہ غلطی سے مبرا ہو گا ۔ مگر ظاہر ہے کہ نہ تو غیر محدود حاکمیت فی الواقع کسی انسانی اقتدار کو حاصل ہو سکتی ہے ، اور نہ یہی ممکن ہے کہ کسی بادشاہ ، یا پارلیمنٹ ، یا قوم ، یا پارٹی کو ایک محدود دائرے میں جو حاکمیت حاصل ہو اسے وہ بے عیب اور بے خطا طریقے سے استعمال کر سکے ۔ اس لیے کہ ایسی حکمت جس میں نادانی کا شائبہ نہ ہو اور ایسا علم جو تمام متعلقہ حقائق پر حاوی ہو ، سرے سے پوری نوع انسانی ہی کو حاصل نہیں ہے کجا کہ وہ انسانوں میں سے کسی شخص یا ادارے یا قوم کو نصیب ہو جائے ۔ اور اسی طرح انسان جب تک انسان ہے اس کا خود غرضی ، نفسانیت ، خوف ، لالچ ، خواہشات ، تعصب ، اور جذباتی رضا و غضب اور محبت و نفرت سے بالکل پاک اور بالاتر ہونا بھی ممکن نہیں ہے ۔ ان حقائق کو اگر کوئی شخص نگاہ میں رکھ کر غور کرے تو اسے محسوس ہو گا کہ قرآن اپنے اس بیان میں درحقیقت حاکمیت کا بالکل صحیح اور مکمل تصور پیش کر رہا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ عزیز یعنی اقتدار مطلق کا حامل اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ہے ، اور اس غیر محدود اقتدار کے ساتھ وہی ایک ہستی ایسی ہے جو بے عیب ہے ، حکیم و علیم ہے ، رحیم و غفور ہے اور حمید و وہاب ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

1: دیکھئے سورۃ بنی اسرائیل : 44

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١۔ ٣۔ یہ تسبیح کی سورتیں بعض تو سبح کے لفظ سے شروع ہوتی ہیں اور بعض یسبح کے لفظ سے۔ جس سے یہ مطلب کہ زمین و آسمان کی کل چیزیں ہر زمانہ میں ہر وقت اللہ کو یاد کرتی اور اس کے نام کی تسبیح پڑھتی ہیں۔ سورة بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے کہ پہاڑ ‘ پیڑ ‘ ان سب بیجان چیزوں کی ایک طرح کی خاص تسبیح ہے جو انسان کی سمجھ سے باہر ہے اس میں متاخرین مفسروں نے جو کچھ لکھا ہے وہ اس تفسیر میں لکھا جاسکتا کیونکہ یہ تفسیر بالکل سلف کے اقوال کے تابع ہے۔ عزیز کے معنی یہ ہیں کہ اس کی قدرت کے آگے کوئی چیز مشکل نہیں۔ حکیم کے یہ معنی ہیں کہ اس کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے لہ ملک السموت والارض کا مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے وہ بھی اس کا محتاج ہے اور اس کے حکم کا تابع ہے۔ یحییٰ و یمیت کا مطلب یہ ہے کہ ایک دفعہ اس نے انسان کو پیدا کیا اور وقت مقررہ پر اس کی قبض روح کرے گا اور نیک و بد کے حساب و کتاب کے لئے پھر وہ انسان کو زندہ کرے گا۔ وھو علی کلی شیء قدیر کا یہ مطلب ہے کہ یہ سب باتیں اس کی قدرت میں ہیں کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔ سورة حدید ‘ سورة حشر ‘ سورة صف ‘ سورة جمعہ اور سورة تغابن۔ ان سورتوں کو مسبحات کہتے ہیں۔ مسند امام احمد ترمذی ١ ؎‘ نسائی وغیرہ میں عرباض بن ساریہ سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سونے سے پہلے ان سورتوں کو پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ ان سورتوں میں ایک آیت ہزار آیتوں سے بہتر ہے ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے اگرچہ اس حدیث کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ضعیف ہے لیکن اس کی روایت مقبول ہے۔ حافظ ابن ٢ ؎ کثیر نے لکھا ہے جس آیت کا ذکر اس حدیث میں ہے وہ آیت ھو الاول والاخر والظاہر و الباطن ہے۔ صحیح مسلم ٣ ؎‘ ترمذی ‘ بیہقی وغیرہ میں ابوہریرہ (رض) سے جو روایت ہے اس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے الاول کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کی ذات سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی۔ الاخر کے معنی یہ ہیں کہ تمام مخلوقات فنا ہوجانے کے بعد اسی کی ذات باقی رہے گی الظاہر کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کا حکم سب پر غالب ہے اور سب اس کے زیر حکم ہیں۔ الباطن کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے دل کا حال جانتا ہے۔ وھو بکل شیء علیم کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک چیز اسی کی پیدا کی ہوئی ہے اس لئے کسی چیز کا ظاہرباطن کوئی حال اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔ (١ ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فیمن یقراء من القران عند المنام ص ١٩٩ ج ٢۔ ) (٢ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٣٠٢۔ ) (٣ ؎ صحیح مسلم باب الدعاء عندالنوم ص ٣٤٨ و جامع ترمذی ابواب الدعوات ص ١٩٨ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(57:1) سبح للہ ما فی السموت والارض : سبح ماضی واحد مذکر غائب تسبیح (تفعیل) مصدر۔ اس نے پاکی بیان کی۔ اس نے تسبیح کی۔ علامہ ثناء اللہ پانی پتی (رح) اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔ اس جگہ (یعنی سورة الحدید) اور سورة حشر اور سورة صف میں سبح بصیغہ ماضٰ اور سورة جمعہ میں اور سورة تغابن میں یسبح بصیغہ مضارع ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ مخلوق کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی پاکی کا اظہار ہمہ وقت ہے۔ (ماضی و مضارع کے صیغوں میں ماضٰ ، حال، مستقبل تمام زمانوں کا ذکر آگیا ہے) حالات اور اوقات کی تبدیلی سے اس میں اختلاف نہیں ہوتا۔ سورة بنی اسرائیل میں بصورت مصدر ذکر کرنا اس ہمہ وقت تسبیح پر واضح طور پر دلالت کرتا ہے (کیونکہ مصدر کی کسی زمانے کے ساتھ خصوصیت نہیں ہوتی۔ مصدر سے حدث استمراری معلوم ہوتا ہے۔ فعل یسبح خود ہی متعدی ہے کیونکہ تسبیح کا لغوی معنی ہے کسی چیز کو برائی سے دور کرنا اور پاک کرنا ہے۔ سبح کا معنی ہے دور ہوگیا۔ چلا گیا۔ کبھی اس کے مفعول پر لام بھی آجاتا ہے جیسے نصحۃ اور نصحت لہ دونوں طرح سے مستعمل ہے۔ مفعول پر اس جگہ لام لانے سے اس طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ مخلوق کی تسبیح خالص اللہ کے لئے ہے۔ (للہ) ۔ مافی السموت والارض یعنی ساری مخلوق عقل والی ہو یا محروم از عقل (گویا اس جگہ ما کا لفظ ذوی العقول کو بھی شامل ہے بعض نے کہا ہے کہ ما سے مراد ہر وہ چیز ہے جس سے تسبیح کا صدور ہوسکتا ہو۔ اور بعض اہل علم کے نزدیک جمادات وغیرہ (جو تسبیح کلامی و قولی سے فطرتاً محروم ہیں) کی تسبیح حالی مراد ہے۔ یعنی یہ ساری چیزیں دلالت کر رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر برائی (اور نقص و عجز) سے پاک ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ (جماد ہو یا نامی باشعور ہو یا بےشعور ہو ذی عقل ہو یا محروم از عقل تمام موجودات میں اس کی نوع کے مناسب زندگی اور علم موجود ہے جیسا کہ ہم نے سورة بقرۃ کی آیت وان منھا لما یھبط من خشیۃ اللہ (2:74) کی تفسیر میں وضاحت کردی ہے پس ہر چیز کی تسبیح مقامی ہے گوہم اس کلام کو نہ سمجھیں۔ اللہ تعالیٰ فرمایا ہے :۔ وان من شیء الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقھون تسبیحھم (17:44) وھو العزیز الحکیم : جملہ حالیہ ہے اور وہ زبردست اور حکمت والا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 بعض زبان قال سے اور بعض زبان حال سے گواہی دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ١ تا ١٠۔ اسرار ومعارف۔ زمینوں اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے زبان حال سے بھی اور ہر شے کی اپنی زبان سے جس سے وہ اپنے رب سے مخاطب ہوسکے لہذا اپنے انداز میں زبان قال سے بھی کہ یہی اس کے وجود کا سبب ہے جس شے سے بھی ذکر الٰہی چھوٹ جائے وہ باقی نہیں رہتی سوائے مکلف مخلوق کے کہ اسے اطاعت وعدم اطاعت میں ایک وقت تک کے لیے اختیار بخشا گیا ہے اور اللہ زبردست ہے ہر شے پہ ہر حال میں غالب ہے اور یہ اس کی حکمت بالغہ ہے کہ ہر ایک کو جداگانہ اوصاف عطا فرما کر کائنات کو بسانے کا سامان فرمایا ہے ارض وسماء میں اس کی ریاست و حکومت ہے وہی حیات بانٹنتا ہے اور وہی موت دیتا ہے کہ وہ ہر شے پر قادر ہے وہی ایک ذات ہے جو سب سے اول ہے کہ اسی نے سب مخلوقات کو پیدا فرمای اور نہ اس کی ذات تھی اور کچھ نہ تھ اور سب مخلوق فنا کی زد میں ہے جیسے قیامت کو ہر شے فنا ہوگی یا اس کی فنا واقع نہ ہو جیسے جنت دوزخ کہ وہ اپنے باسیوں سمیت ہمیشہ رہیں گی مگر ان کے فنا کا امکان تو بہرحال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے باقی رکھنے سے رہیں گی ورنہ اپنی ذات میں تودائمی نہیں ہیں جبکہ ذات باری تعالیٰ اس سے بہت وراء ہے کہ اس پر کبھی عدم وفنا کا گمان بھی کیا جاسکے لہذا وہی سب سے آخر بھی اور اپنے ظہور میں بھی سب سے بڑھ کر ہے کہ اس کی حکمت وقدرت ہر ذرہ سے عیاں ہے اور اپنی ذات اور کنہ کے اعتبار سے باطن ہے کہ اس کی حقیقت تک کسی عقل و خیال کی رسائی ممکن نہیں مگر ہر شے اور ساری مخلوق کو ہر اعتبار سے خوب جانتا ہے اس سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ۔ آیہ مبارکہ کی فضیلت۔ ان پانچ سورتوں کو جو مسبحات کہا گیا گیا ہے روایت ہے کہ نبی کریم سونے سے قبل پڑھا کرتے تھے وہ یہی سورة حدید ، حشر ، صف ، جمعہ اور تغابن اور فرمایا کہ ان میں میں یہ مذکورہ آیت سب پر بھاری ہیں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ وساوس شیطانی کا علاج ہے کہ یہ آیت آہستہ سے پڑھ لی جائے جن خوش نصیبوں کو اس کامراقبہ نصیب ہے ان پر اللہ کا بہت احسان ہے انہیں اس کے ذریعہ وساوس کا مقابلہ کرنا چاہیے یہ حفاظت الٰہی کا حصار ہے ۔ وہ ایسا قادر ہے کہ اپنی حکمت بالغہ سے اور قدرت کاملہ سے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدافرما کر ہر ہرشے ان میں درست فرمادی اور پھر عرش جو مانند تخت ہے اس شان سے جو اس کو سزاوار ہے جلوہ افروز ہوا ہراس شے کو جانتا ہے جو زمین کے اندر داخل ہوتی ہے قطرہ آب وبارش ہو یا کوئی بیج یا گرمی سردی کا اثر اور ہر اس شے سے واقف ہے جو زمین سے نکلتی ہے ہر ذرہ ہرایٹم اور اس سے بھی کمتر وجود اس کی نگاہ اور علم میں ہے جو کچھ آسمانوں سے نازل ہوتا ہے فرشے یا احکام سب کچھ جانتا ہے یا جو آسمانوں پر چڑھتا ہے جیسے بندوں کے اعمال وغیرہ اسے بھی جانتا ہے اور تمہارے تمام احوال سے واقف ہے غرض تم جہاں کہین اور جس حال میں ہو وہ تمہارے ساتھ ہے معیت باری کی حقیقت کیا ہے یہ مخلوق کے احاطہ علم سے بالاتر ہے مگر اس کا وجود یقینی ہے لہذا تمہارے ہر عمل کو دیکھتا ہے آسمانوں اور زمینوں یعنی کائنات میں حکومت اور سلطنت حقیقتا اسی کی ہے اور تمام امور جو ہریہ اور عرضیہ سب اسی کی بارگاہ میں پیش ہوں گے وہ رات کو دن میں داخل فرمادیتا ہے اور کبھی دن کو رات میں یعنی یہ شب وروز کا بڑھنا گھٹنا موسموں کی تبدیلی اور اس کا جہاں کی آبادی کا باعث بننا سب اسی کی قدرت کے کرشمے ہیں اور وہ دل میں گزرنے والے خیالات تک کو جانتا ہے لوگو اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول برحق کی رسالت کا اقرار کہ ایمان لانے کے اسباب اور داعی تو موجود ہے نیز اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرو کہ یہ مال کل تمہیں وراثت میں ملا تھا پھر تم نہ رہو گے تو اسی طرح دوسروں کے پاس چلاجائے گا پھر بھلامال کی محبت میں اللہ کی نافرمانی یاناجائز ذرائعے سے مال کا حصول یا مال کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔ لہذا تم میں سے جن لوگوں نے ایمان قبول کرلیا اور اپنی محنت و کوشش نیز اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے ۔ بھلاتم ایمان کیوں نہیں لاتے کہ دوہی تو سبب ہوسکتے ہیں اول تاریکی ہو کوئی راستہ بتانے والا نہ ہو اور ایسا نہیں کہ بلکہ اللہ کا رسول تمہیں اس بات کی طرف بلارہا ہے کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ اور رسول اللہ کی صداقت و دلائل انسانی نے اقرار عبدیت کیا اس کا اثر بھی فطرتا ہر انسان کے اندر موجود نیز اگر تمہارا دعوی ہے کہ تم خود ایماندار ہوتوہر پہلی کتاب میں بھی یہ وعدہ لیا گیا ہے کہ آپ کی بعثت پر آپ پر ایمان لاؤ گے تو تمہارے پاس ایمان نہ لانے کی کوئی بھی وجہ نہیں اللہ ہی وہ کریم ہے جو اپنے محبوب بندے اور رسول اللہ پر روشن اور واضح آیات نازل فرماتا ہے کہ وہ تمہیں ظلمت اور تاریکی سے روشنی میں لائے۔ منصب نبوت اور فیض وبرکات شیخ۔ قرآن حکیم کو سمجھانا اور اس سے ہدایت کا نصیب ہونا یہ منصب نبوت و رسالت ہے کہ محض لغت اور زبان دانی کا سہارا لے کر کوئی سمجھ نہیں سکتا نبی (علیہ السلام) کے سمجھانے سے بات بنتی ہے اور نبی پر ایمان کی برکت یہ ہیے کہ انسان کے عقیدہ وعمل کا سفر ظلمت سے نور کی طرف اور غلطی سے اصلاح کی طرف شروع ہوجاتا ہے یہی برکات نبوی شیخ کی وساطت سے نصیب ہوتی ہیں اور پیری مریدی کا حاصل یہی ہے کہ عملا گناہ کی زندگی سے واپسی نصیب ہوجائے۔ یہ سب اللہ کا کرم و احسان ہے اور اس کا عفو درگزر کہ گمراہوں کو ہادی عطا کردیا کہ وہ بہت رحم کرنے والا ہے اگر تم مال کی محبت میں دیوانے ہو اور جانتے ہو کہ ایمان لانے سے مال خرچ کرنا پڑے گایاسود وغیرہ ناجائز ذرائع سے جمع نہ کرسکیں گے تو بھلایہ مال تمہارے پاس بچے گا کب یہ تو تم سے چھن جائے گا تم مرجاؤ گے اور یہ اوروں کا ہوجائے گا اور درحقیقت تو اس ارض وسما میں جو کچھ ہے وہ اللہ ہی کا ہے کہ بالا آخر سب کو عارضی ملکیت بھی چھوڑ کر چلے جانا ہے ۔ عظمت صحابہ۔ اوریاد رکھو وقت طریق اور خلوص وجاں نثاری اعمال کے درجات میں فرق پیدا کردیتی ہے جیسے فتح مکہ سے پہلے جن کو آپ کی رفاقت نصیب ہوئی اور انہوں نے اپنے سارے وسائل اللہ کی راہ میں صرف کیے ان کا درجہ ان لوگوں سے بہت بلند ہے جنہوں نے فتح کے بعد یہ سعادت حاصل کی تھی کہ فتح مکہ سے قبل تو دعوی ایمان جان دینے کے برابر تھا اور بظاہر اسلام کی کامیابی کے اسباب نہ ہونے کے برابر تھے انسان مزاج ہے کہ وہ اسباب پر نظر رکھتا ہے اور اگر کسی تحریک کی کامیابی کے آثار نہ ہوں تو قریب نہیں جاتا مگر جو محض حق کا طالب ہو اور اسے حق نظر آئے تو وہ اسباب کی پرواہ نہیں کرتا یہ حال مکی عہد کا تھا اور فتح مکہ کے بعد تو اسلام کی ریاست وجود میں آگئی تب بھی جو لوگ آپ کی غلامی میں آگئے اور ان کے درجات بہت عالی وبلند ہیں مگر ان لوگوں کے مقامات ان سے بلند تر ہیں جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے مال خرچ کیے اور اپنی جانیں نذرانہ دیں اور جہاد کیے ہاں آپ پر ایمان لانے والے اور آپ کے لائے ہوئے دین کی سربلندی کے لیے جہاد کرنے والے تمام لوگوں سے اللہ کے کرم و احسان کا وعدہ ہے یعنی سب کے سب نجات یافتہ ہیں جس کے مثالی مسلمان صحابہ کرام ہیں اسی بنیاد پر اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ ، الصحابہ کلھم عدول۔ کہ صحابہ سب کے سب عادل ہیں اور رضی اللہ عنھم ورضوعنہ ، اللہ کی رضامندی کا اعلان ہے کہ باقی سب کو میدان حشر میں پتہ چلے گا کہ جبکہ ان کے حق میں قرآن نے دنیا میں اعلان کردیالہذا اگر کسی سے بتقاضائے بشریت خطا ہوئی تو اسے توبہ نصیب ہوگئی ڈیڑھ لاکھ میں سے بمشکل چند مثالیں ملتی ہیں ان کی بھی توبہ مثالی ہے کہ کسی نے خود کو ستون سے باندھ لیا جب تک توبہ کی قبولیت کا بذریعہ وحی پتہ نہ چلا اور کسی نے خود کو سنگسار کرالیا یہ بھی تعلیم امت کا ایک انداز جہاں کہیں احادیث مبارکہ میں برزخ میں کسی کے ساتھ سختی یا عذاب کا ذکر ہے تو اگر کوئی کمی رہ گئی تو وہ اسے دور کرنے کی تدبیر ہے کہ انہیں اس طرح پاک کردیا گیا جو بہت ہی کم ہے ان کے آپس کے معاملات میں لب کشائی درست نہیں اور کسی کو الزام دیناجائز نہیں نیز ان کی عظمت کا معیار قرآن وحدیث ہے تاریخ سے حوالے سے لے کر صحابہ کرام پر اعتراض کرنے والوں کو ٹھوکر لگی کہ تاریخ کا مصدر تو لوگوں کی زبانیں ہوتی ہیں جس کے باعث اس میں رب ویابس جمع ہوسکتا ہے جبکہ ان کی عظمت کا بیان اللہ کا کلام اور نبی (علیہ السلام) کی حدیث میں ہے جو سب وحی ہے اور یاد رکھو اللہ تمہارے تمام اعمال کو ملاحظہ فرمارہا ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن۔ آیت نمبر 1 تا 6 ۔ یلج۔ اندر داخل ہوتا ہے۔ یعرج۔ چڑھتا ہے۔ بلند ہوتا ہے۔ ینزل۔ اترتا ہے۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اور ہر مخلوق اس کی حمدو ثنا میں لگی ہوئی ہے ہر ایک اس کی تسبیح میں مشغول ہے لیکن تم نہیں جانتے کہ وہ کس طرح تسبیح اور حمدو ثنا کر رہے ہیں۔ زمین و آسمان، چاند، سورج، ستارے، فرشتے، انسان اور زمین و آسمان کے درمیان جتنی بھی مخلوق ہے وہ اس کی زبان حال سے تعریف و توصیف میں لگی ہوئی ہے۔ زندگی اور موت اسی کے ہاتھ میں ہے کائنات میں کیا کیا انقلابات آرہے ہیں کون سی چیز زمین کے اندر داخل ہو رہی ہے کون سی کونپل زمین سے نکل کر پودا اور درخت بن رہی ہے ایک ایک کونپل اور پتی جو زمین سے پھوٹ کر نکل رہی ہے اور ہر ایک قطرہ اور دانہ جو زمین کے اندر داخل ہو رہا ہے۔ انسانوں کے اعمال جو آسمان کی طر چڑھ رہے ہیں اور جو احکامات اور فیصلے زمین اور کائنات کی مخلوقات کی طرف آرہے ہیں اس کو ہر بات کا پوری طرح علم ہے اور ہر چیز پر اس کو کامل قدرت حاصل ہے۔ نہ کوئی چیز اس کے علم سے باہر ہے اور نہ قدرت سے کیونکہ اسی خالق، مالک اور قادر نے اس کائنات کو چھ دنوں میں بنایا ہے اور دنیا بنانے کے بعد وہ اس سے بےتعلق نہیں ہوگیا بلکہ اس کا انتظام اس نے اپنے ہاتھوں میں لے رکھا ہے۔ اس کی شان یہ ہے کہ وہ تمام موجودات اور کائنات کے ذرے ذرے کے ووجد سے پہلے ہے اس سے پہلے کچھ نہین ہے سب کچھ اس کے بعد ہے۔ اللہ کی ذات کے سوا ہر چیز کو فنا ہے۔ (کل شئی ھالک الا وجھہ) ۔ لہٰذا اس کائنات میں وہی اول ہے اور وہی آخر ہے۔ اس کی ذات اپنے ظاہر ہونے میں کسی چیز کی محتاج نہیں ہے وہ ہر چیز سے بلندو برتر ہے۔ اس کی حقیقت تک انسانی عقل اور خیال کا پہنچنا ممکن ہی نہین ہے۔ لہٰذا وہی ظاہر ہے، وہی باطن ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس بات پر گواہ ہے کہ وہی ایک ذات ہے جو اول بھی ہے آخر بھی ہے، ظاہر بھی ہے اور باطن و مخفی بھی ہے اور ہر چیز کا پوری طرح علم ہے تو صرف اللہ کو حاصل ہے۔ انسان کا خیال، اس کی عقل، اس کی فہم و فراست کی رسائی بھی اس تک نہیں ہے لیکن اس کی ذات کی یہ عظمت ہے کہ وہ دلوں کے چھپے ہوئے رازوں اور انسانوں کی نیت تک سے واقف ہے۔ انسان کہیں بھی جائے، کسی بھی حالت میں ہو وہ اللہ کی قائم کی ہوئی حدود سے باہر نہیں نکل سکتا وہ ہر جگہ اس کے ساتھ ہے۔ وہی دن کی روشنی کو نکالتا ہے اور اسی کے حکم سے اندھیرا چھا جاتا ہے۔ ” ھو الاول والاخرو والظاہر والباطن ‘ ‘ اس آیت کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ یہ آیت ہزار آیتوں سے افضل ہے۔ بلکہ حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) نے یہاں تک فرمایا کہ اگر تمہارے دل میں اللہ تعالیٰ اور دین حق کے بارے میں شیطان وسوسہ ڈالنے کی کوشش کرے تو اس آیت کو آہستہ سے پڑھ لیا کرو۔ (ابن کثیر) ۔ سورة الحدید، حشر، صف، جمعہ اور تغابن جن کو مسبحات کہا جاتا ہے ان کر سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو سوتے وقت پڑھ کرتے تھے۔ (ابو دائود۔ ترمذی) ۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط سورت : سورة الواقعہ کے آخر میں حکم ہوا کہ اپنے عظیم رب کی تسبیح پڑھا کریں۔ الحدید کی ابتدا میں یہ ارشادہوا ہے کہ زمین و آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ ” اللہ “ کی تسبیح پڑھتے ہیں کیونکہ ” اللہ “ ہر اعتبار سے غالب اور اس کے ہر کام میں حکمت پائی جاتی ہے۔ سورۃ الحدید ان تین سورتوں میں سے ہے جن کی ابتدا ” سَبَّحَ لِلّٰہِ “ کے پیارے الفاظ سے ہورہی ہے۔ ان پانچ سورتوں کو اہل علم مسبِّحات کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ جن میں سورة الحدید، الحشر اور الصّف ” سَبَّحَ “ کے لفظ سے، سورة الجمعہ اور التغابن ” یُسَبِّحُ “ کے لفظ سے شروع ہوتی ہیں ان الفاظ میں یہ بات بتلائی اور سمجھائی گئی ہے کہ اے انسان جب تیرا وجود نہیں تھا تو اس وقت بھی زمین و آسمان کی ہر چیز اپنے رب کی حمد و ستائش بیان کرتی تھی اور اب بھی کر رہی ہے اور مستقبل میں بھی بیان کرتی رہے گی۔ یاد رہے کہ ” سَبَّحَ “ ماضی کے لیے آتا ہے اور ” یُسَبِّحُ “ حال اور مستقبل کا احاطہ کرتا ہے۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اس بات کا اقرار اور اظہار کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ذرّے ذرّے پر اقتدار اور اختیار رکھتا ہے بےمثال اور لازوال اقتدار اور اختیار رکھنے کے باوجود اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ اس فرمان میں پہلا سبق یہ ہے کہ اے انسان ! جس دھرتی کے ا وپر تیرا بسیرا اور جس آسمان کے نیچے تیرا ڈیرا ہے اور جن فضاؤں میں تو سانس لیتا ہے وہ ماضی، حال اور مستقبل میں اپنے رب کے ثناء خواں ہیں اور رہیں گے۔ تجھے چاہیے کہ تو بھی اپنے رب کی حمد وثناء کرے اور ہر حال میں اپنے آپ پر ” اللہ “ غالب سمجھے۔ اس یقین کے ساتھ اس کے حکم کی تعمیل کر کہ جس بات کا اس نے حکم دیا اور جس کام سے اس نے منع کیا ہے۔ اس میں میری خیرخواہی پائی جاتی ہے۔ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا۔ وَّ سَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّ اَصِیْلًا) (الاحزاب : ٤١، ٤٢) ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرو اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہو۔ “ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِيِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَال اللّٰہُ تَعَالٰی أَنَا مَعَ عَبْدِيْ حَیْثُمَا ذَکَرَنِيْ وَتَحَرَّکَتْ بِيْ شَفَتَاہُ ) (رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ لاتحرک بہ لسانک الخ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں، وہ جہاں بھی میرا ذکر کرے اور جب بھی اس کے ہونٹ میرے ذکر میں حرکت کریں۔ “ رسول گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاذ بن جبل (رض) کو یہ دعا سکھلائی کہ اسے ہر نماز کے بعد پڑھا کرو۔ (أَللّٰھُمَّ أَعِنِّيْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ ) (رواہ أبوداوٗد : باب فی الإستغفار) ” الٰہی ! اپنے ذکر، شکر اور بہترین طریقے سے عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ (عَنْ اَبِیْ مَالِکِ الْاَشْعَرِیِّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اَلطُّھُوْرُ شَطْرُ الْاِےْمَانِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَاُ الْمِےْزَانَ وَسُبْحَان اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَاٰنِ اَوْ تَمْلَأُ مَا بَےْنَ السَّمٰوٰتِ وَالاْرَضِ ) (رواہ مسلم : باب فَضْلِ الْوُضُوءِ ) حضرت ابومالک اشعری (رض) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ذکر کرتے ہیں کہ پاکیزگی ایمان کا حصہ ہے، ” اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ “ میزان کو بھر دیتے ہیں۔ ” سُبْحَان اللّٰہِ “ اور ” اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ “ دونوں کلمے زمین و آسمان کو بھر دیتے ہیں۔ (اَلْإِیْمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُوْنَ شُعْبَۃً فَأَفْضَلُھَا قَوْلُ لَاإِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَدْنَاھَا إِمَاطَۃُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ وَالْحَیَاءُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْإِیْمَانِ ) (رواہ مسلم : کتاب الإیمان) ” ایمان کے ستر سے کچھ اوپر اجزاء ہیں۔ ان میں افضل ترین لا الہ الا اللہ کا اقرار ہے اور سب سے ادنیٰ تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان میں شامل ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کی تعریف ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے اور حال اور مستقبل میں بھی ہوتی رہے گی۔ ٢۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کی ثناء خواں ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غالب ہے اور اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ تفسیر بالقرآن ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے : ١۔ رعد اس کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ (الرعد : ١٢) ٢۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ (الحدید : ١) ٣۔ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں۔ (نبی اسرائیل : ٤٤) ٤۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں اور مومنوں کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ (الشوریٰ : ٥) ٥۔ مومن ” اللہ “ کی حمد اور تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ (السجدۃ : ١٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ ایک طے شدہ اور نہایت ہی اشاراتی مطلع اور آغاز کلام ہے جو براہ راست دلوں کو اپنی گرفت میں لیتا ہے اور انہیں خوب جھنجھوڑتا ہے ، خوب دباتا ہے اور ان کو لے کر ہر طرف گھماتا ہے۔ اس کائنات کی سیر کراتا ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ہر طرف اللہ ہی اللہ ہے۔ یہ دل اللہ ہی کو محسوس کرتے ہیں۔ اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ ان کی نظر نہیں آتی۔ اللہ کے سوا کوئی جائے فرار نظر نہیں آتی۔ اللہ کے دائرہ علم سے وہ نہیں نکل سکتے۔ اللہ کی طرف رجوع کے سوا کوئی جائے فرار نہیں ہے اور جہاں بھی وہ جاتے ہیں اللہ کا وجہ کریم نظر آتا ہے۔ اس مطلع میں خصائص ربوبیت پر بحث کی گئی ہے جو اس کائنات میں فعال ، موثر اور اس کی خالق ہے۔ ہر چیز کو اپنے احاطے میں لئے ہوئے ہے۔ ہر چیز پر وہ محیط ہے۔ ہر چیز کی علیم ہے۔ یہ ذات اس پوری کائنات کی پدیا کرنے والی ہے۔ انسان کے دلوں کے رازوں کو جاننے والی ہے۔ دلوں کے خفیہ رازوں کو جانتی ہے اور وہ اس پوری کائنات اور پوری انسانیت کی نگران ہے۔ اس سورة کا آغاز یوں تعریف ذات باری سے ہوتا ہے اور یہ پوری کائنات اللہ کی تسبیح کرنے لگتی ہے۔ زمین و آسمان کی ہر چیز گنگنارہی ہے اہر ہر دل جو ہدایت کے لئے کھلا ہے ، وہ اسے خودسن رہا ہے۔ اگر اس پر حجاب پڑا ہوا نہ ہو۔ اس آیت کو اپنے ظاہر مفہوم سے بدلنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ کا فرمان ایسا ہی ہے اور ہم اس کائنات کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ، اس لئے اللہ جو کچھ فرماتا ہے اس کائنات کے خصائص بعینہ ویسے ہیں جس طرح ہمیں اللہ نے بتائے ہیں۔ سبح للہ ............ والارض (٧٥ : ٠) تو اس کے معنی یہی ہیں کہ ” اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اس چیز نے جو زمین اور آسمانوں میں ہے “ اس لئے اس میں کوئی تبدیلی اور تغیر نہیں ہے۔ لہٰذا ہمیں یقین کرلینا چاہئے کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے اس کی ایک روح ہے اور یہ روح کائنات اپنے خالق کی تسبیح کرتی ہے اور یہی وہ مفہوم ہے جس کی تصدیق صحیح آثار و احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ جیسا کہ بعض اہل دل کے تجربات بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں جس وقت یہ دل اپنی صفائی اور اشراق کی حالت میں ہوتے ہیں اور وہ اس حقیقت سے متصل اور مربوط ہوجاتے ہیں جو اشیاء میں چھپی ہوتی ہے جو ان تمام چیزوں اور ان کی شکلوں کے پیچھے ہے یعنی روح کائنات۔ قرآن کریم میں ہے۔ یا جبال ............ والطیرلہٰذا پہاڑ اور پرندے حضرت داؤد کے لئے یکساں تھے اور حدیث میں آیا ہے امام مسلم نے جابر ابن سمرہ کی روایت نقل فرمائی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان بم کہ حجراکان لیسلم علی لیالی بعثت وانی لاعرفہ الان ” مکہ میں ایک پتھر ہے جو مجھ پر ان دنوں سلام کہتا تھا جب مجھے نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور وہ مجھے اب بھی معلوم ہے۔ “ امام ترمذی نے اپنی سند سے ، حضرت علی ابن ابوطالب سے روایت کی ہے ” میں رسول اللہ کے ساتھ مکہ میں تھا ، ہم مکہ کے اطراف میں سے ایک طرف میں نکل گئے۔ رسول اللہ کے سامنے جو درخت اور پتھر پہاڑ بھی آیا اس نے کہا السلام علیک یا رسول اللہ “ کہا اور امام بخاری نے اپنی سند کے ساتھ حضرت انس ابن مالک سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ایک کھجور کے تنے کے پہلو میں خطبہ دیا کرتے تھے۔ جب انہوں نے حضور کے لئے منبر بنا لیا اور حضور نے اس پر کھڑے ہوکر خطبہ دیا تو کھجور کے تنے نے اس طرح فریاد کی جس طرح اونٹنی فریاد کرتی ہے۔ رسول اللہ منبر سے اترے اور اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہوگیا۔ اس حقیقت کے اظہار میں خود قرآن کی آیات صریح ہیں۔ الم تران ............ وتسبیحہ (٤٢ : ١٤) ” کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کررہے ہیں وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ، اور وہ پرندے جو پر پھیلائے اڑ رہے ہیں ؟ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے۔ “ اور دوسری جگہ ہے۔ الم تران اللہ ............ من الناس (٢٢ : ٨١) ” کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے سر بسجود ہیں وہ سب جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں ، سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان۔ “ وان من ................ تسبیحھم ” کوئی چیز ایسی نہیں ہے اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کررہی ہو مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو۔ “ لہٰذا اس قسم کی نصوص کی تاویل کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ خصوصاً اس مقصد کے لئے کہ ہم ان آیات کو ایسے اصول موضوعہ کے ساتھ موافق کردیں جو قرآن سے ماخوذ نہیں ہیں۔ اس لئے کہ اس دنیا کے تمام موضوعات کو اس قرآن کے ساتھ مطابق ہونا چاہئے جو یقینا خالق کی طرف نازل ہوا ہے اور ہمارے بنائے ہوئے اصول شکی ہیں اور ہمارے بنائے ہوئے ہیں۔ وھو ............ الحکیم (٧٥ : ١) ( اور وہی زبردست اور دانا ہے۔ ) زمین و آسمان کی مخلوقات اس کی تسبیح اس لئے کرتی ہے کہ وہ زبردست اور دانا ہے اور اس کی حکمت انتہائی حکمت ہے فائنل ہے وہ اپنی قوت قاہرہ کے ذریعہ تمام اشیاء پر حاوی ہے اور اس نے ہر چیز کو اپنی حکمت کے مطابق تخلیق کیا ہے۔ ابھی اس افتتاحی آیت کا فیض عام جاری تھا اور ہم پوری کائنات کے ساتھ جشن تسبیح میں مصروف تھے کہ سیاق کلام میں کائنات بالا کا ایک نیا سفر شروع ہوگیا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے، آسمانوں میں اسی کی سلطنت ہے وہ سب کے اعمال سے باخبر ہے یہاں سے سورة الحدید شروع ہو رہی ہے اوپر چھ آیات کا ترجمہ لکھا گیا ہے۔ ان میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی صفات جلیلہ عظیمہ بیان فرمائی ہیں۔ ارشاد فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کا ملک اسی کے لیے ہے وہ زندہ بھی کرتا ہے اور موت بھی دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے وہ اول بھی ہے اپنی مخلوق سے پہلے بھی تھا اور آخر بھی ہے یعنی جب مخلوق فنا ہوجائے گی تب بھی باقی رہے گا یعنی اس پر نہ عدم سابق طاری ہوا نہ عدم لاحق طاری ہوگا اور وہ ظاہر بھی ہے کہ دلائل قاہرہ سے اسے پہچانا جاتا ہے اور باطن بھی ہے کہ اس کی ذات کا ادراک نہیں کیا جاسکتا اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ دن میں پیدا فرمایا پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔ جو چیزیں زمین میں داخل ہوتی ہیں اور جو چیزیں اس سے نکلتی ہیں اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ آسمان میں چڑھتا ہے وہ ان سب کو جانتا ہے اور اپنے علم کے اعتبار سے تم سے دور نہیں ہے، تم جہاں کہیں بھی ہو، وہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

2:۔ ” سبح للہ۔ الایۃ “ اس آیت میں مسئلہ توحید کا بیان ہے جس کی خاطر مال خرچ کرنے اور جہاد کرنے کا حکم آگے آرہا ہے۔ ” مافی السماوات والارض “ زمین و آسمان کی ساری مخلوق اور پورا نظام کائنات ہر قسم کے شرک سے اللہ تعالیٰ کے تنزہ و تقدس پر شاہد ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ زبان حال اور زبان قال سے گواہی دے رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے۔ علم وقدرت میں، حکمت وصنعت میں، اختیار و تصرف میں اور تمام صفات کارسازی میں کوئی اس کا شریک نہیں اس کے بعد توحید کے تین مراتب کا ذکر ہے۔ دو کا صراحۃً اور ایک کا تبعاً ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(1) اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے جو مخلوقات آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور وہ کمال قوت اور کمال علم و حکمت کا مالک ہے۔ پاکی بیان کرنا یعنی ہر قسم کے نقص سے تنزیہہ و تقدیس عرب کہا کرتے ہیں سبحتہ بعدتہ عن السوء یعنی میں نے اس کو پاک ظاہر کیا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہر برائی کو اس سے دور کیا اور ہر برائی سے اس کی پاکی بیان کی ۔ تمام مخلوقات کا یہی حال ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تنزیہہ کرتی ہے خواہ زبان حال سے یا زبان قال سے بڑی قوت کا مالک یعنی ہر ایک منکر سے بدلا سے سکتا ہے اور بڑی حکمت والا یعنی ہر مطیع و فرمانبردار کو اپنی حکمت اور اپنے علم کے موافق صلہ دیتا ہے۔